الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ أَنَّ مَنْ تَوَلَّى كِبْرَ إِيَدَائِهِ عَمُّهُ أَبُو لَهَبٍ
اس چیز کا بیان کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بڑی ایذا پہنچانے والا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چچا ابو لہب تھا
حدیث نمبر: 10514
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ الدَّيْلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ جَاهِلِيًّا أَسْلَمَ فَقَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَصَرَ عَيْنَيَّ بِسُوقِ ذِي الْمَجَازِ يَقُولُ ( (أَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تُفْلِحُوا) ) وَيَدْخُلُ فِي فِجَاجِهَا وَالنَّاسُ مُتَقَصِّفُونَ عَلَيْهِ فَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا يَقُولُ شَيْئًا وَهُوَ لَا يَسْكُتُ يَقُولُ ( (أَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تُفْلِحُوا) ) إِلَّا أَنَّ وَرَاءَهُ رَجُلًا أَحْوَلَ وَضِيءَ الْوَجْهِ ذَا غَدِيرَتَيْنِ يَقُولُ إِنَّهُ صَابِئٌ كَاذِبٌ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يَذْكُرُ النُّبُوَّةَ قُلْتُ مَنْ هَذَا الَّذِي يُكَذِّبُهُ قَالُوا عَمُّهُ أَبُو لَهَبٍ قُلْتُ إِنَّكَ كُنْتَ يَوْمَئِذٍ صَغِيرًا قَالَ لَا وَاللَّهِ إِنِّي يَوْمَئِذٍ لَأَعْقِلُ
۔ سیدنا ربیعہ بن عباد دیلی رضی اللہ عنہ، ان کا تعلق دورِ جاہلیت سے تھا، پھر یہ مسلمان ہو گئے تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا، میری آنکھ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ذو مجاز کے بازار میں دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما تے تھے: اے لوگو! لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہہ دو، کامیاب ہو جاؤ گے۔پھر آپ اس بازار کی گلیوں میں داخل ہو جاتے، جبکہ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہجوم کیا ہوا تھا، میں نے کسی کو نہیں دیکھا کہ وہ کچھ کہہ رہا ہو، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش نہیں ہو رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہتے جا رہے تھے: اے لوگو! لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہہ دو، کامیاب ہو جاؤ گے۔ البتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے پیچھے ایک آدمی تھا، وہ بھینگی آنکھ والا، خوبصورت چہرے والا اور دو چٹیوں والا تھا، وہ یہ کہہ رہا تھا: یہ بے دین اور جھوٹا شخص ہے، میں نے کہا: یہ آدمی کون ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ محمد بن عبد اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور یہ نبوت کا اعلان کر رہے ہیں، میں نے کہا: یہ ان کو جھٹلانے والا کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ ان کا چچا ابو لہب ہے، میں نے کہا: تو ان دنوں کم سن تھا؟ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! بیشک میں اس دن عقل والا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10514]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16023 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16119»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 10515
عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ الدَّيْلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ إِنِّي لَمَعَ أَبِي رَجُلٌ شَابٌّ أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتْبَعُ الْقَبَائِلَ وَوَرَاءَهُ رَجُلٌ أَحْوَلُ وَضِيءٌ ذُو جُمَّةٍ يَقِفُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقَبِيلَةِ وَيَقُولُ ( (يَا بَنِي فُلَانٍ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ آمُرُكُمْ أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَأَنْ تُصَدِّقُونِي حَتَّى أُنْفِذَ عَنِ اللَّهِ مَا بَعَثَنِي بِهِ) ) فَإِذَا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَقَالَتِهِ قَالَ الْآخَرُ مِنْ خَلْفِهِ يَا بَنِي فُلَانٍ إِنَّ هَذَا يُرِيدُكُمْ أَنْ تَسْلُخُوا اللَّاتَ وَالْعُزَّى وَحُلَفَاءَكُمْ مِنَ الْحَيِّ بَنِي مَالِكِ بْنِ أُقَيْشٍ إِلَى مَا جَاءَ بِهِ مِنَ الْبِدْعَةِ وَالضَّلَالَةِ فَلَا تَسْمَعُوا لَهُ وَلَا تَتَّبِعُوهُ فَقُلْتُ لِأَبِي مَنْ هَذَا قَالَ عَمُّهُ أَبُو لَهَبٍ
۔ (دوسری سند) سیدنا ربیعہ بن عباد دیلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نوجوان آدمی تھا اور اپنے باپ کے ساتھ چلتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبیلوں کے پاس جاتے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے بھینگی آنکھ والا خوبصورت آدمی تھا، اس کی مونڈھوں تک لٹکی ہوئی زلفیں تھیں، اللہ کے رسول ہر قبیلہ کے پاس رک کر فرماتے: اے بنی فلاں! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں، میں تم کو حکم دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ اور میری تصدیق کرو تاکہ میں اللہ تعالیٰ کا وہ پیغام پہنچا دوں، جس کے ساتھ اس نے مجھے مبعوث کیا ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بات سے فارغ ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے والا بندہ یہ کہنا شروع کر دیتا: اے بنو فلاں! اس شخص کا ارادہ یہ ہے کہ تم لات و عزی اور اپنے حلیفوں بنو مالک بن اُقیش کو چھوڑ کر اس بدعت و ضلالت کو اپنا لو، جو یہ لے کر آیا ہے، لہٰذا نہ اس کی بات سنو اور نہ اس کی پیروی کرو، میں نے اپنے باپ سے کہا: یہ شخص کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چچا ابو لہب ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10515]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16121»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16121
حدیث نمبر: 10516
عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ الدَّيْلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ بِمِنًى فِي مَنَازِلِهِمْ قَبْلَ أَنْ يُهَاجِرَ إِلَى الْمَدِينَةِ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ الْخَ الْحَدِيثَ كَمَا تَقَدَّمَ
۔ (تیسری سند) سیدنا ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا، آپ مدینہ کی طرف ہجرت کرنے سے پہلے مِنٰی میں لوگوں کے پاس ان کی رہائش گاہوں میں جاتے اور کہتے: اے لوگو! … …۔ پھر سابقہ روایت ذکر کی۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10516]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16120»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16120
حدیث نمبر: 10517
عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ الدَّيْلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ أَبَا لَهَبٍ بِعُكَاظٍ وَهُوَ يَتْبَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ هَذَا قَدْ غَوَى فَلَا يُغْوِيَنَّكُمْ عَنْ آلِهَةِ آبَائِكُمْ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَفِرُّ مِنْهُ وَهُوَ عَلَى أَثَرِهِ وَنَحْنُ نَتْبَعُهُ وَنَحْنُ غِلْمَانٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ أَحْوَلَ ذَا غَدِيرَتَيْنِ أَبْيَضَ النَّاسِ وَأَجْمَلَهُمْ
۔ (چوتھی سند) سیدنا ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ابو لہب کو عکاظ میں دیکھا، جبکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیچھا کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا: اے لوگو! یہ شخص خود بھی گمراہ ہو گیا ہے اور تم کو بھی اپنے آباء کے معبودوں سے گمراہ کرنا چاہتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے آگے کو بھاگ جاتے، لیکن وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے پہنچ جاتا، ہم لڑکے بھی اس کے ساتھ ساتھ چلتے، گویا کہ میں اب بھی ابو لہب کی طرف دیکھا رہا ہوں، وہ بھینگی آنکھ اور دو چٹیوں والا تھا اور لوگوں سے سب سے زیادہ سفید رنگ والا اور سب سے زیادہ خوبصورت تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10517]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16116»
وضاحت: فوائد: … ابو لہب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چچا تھا، اس کا نام عبدالعزیٰ بن عبدالمطلب اورکنیت ابو عتبہ تھی، اس کے چہرے کی خوبصورتی اور چمک دمک کی وجہ سے اسے ابو لہب یعنی شعلے والا کہا جاتا تھا۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16116
16. ومنهم ابو جهل
اور ان میں ایک ابو جہل تھا
حدیث نمبر: 10518
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ أَبُو جَهْلٍ لَئِنْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عِنْدَ الْكَعْبَةِ لَآتِيَنَّهُ حَتَّى أَطَأَ عَلَى عُنُقِهِ قَالَ فَقَالَ ( (لَوْ فَعَلَ لَأَخَذَتْهُ الْمَلَائِكَةُ عِيَانًا وَلَوْ أَنَّ الْيَهُودَ تَمَنَّوُا الْمَوْتَ لَمَاتُوا وَرَأَوْا مَقَاعِدَهُمْ فِي النَّارِ وَلَوْ خَرَجَ الَّذِينَ يُبَاهِلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَرَجَعُوا لَا يَجِدُونَ مَالًا وَلَا أَهْلًا) )
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابو جہل نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کعبہ کے پاس نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو اس کی گردن کو روند دوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی اس بات پر فرمایا: اگر وہ ایسا کرتا تو فرشتے اس کو لوگوں کے سامنے پکڑ لیتے، اگر یہودیوں نے موت کی تمنا کی ہوتی تو وہ واقعی مر جاتے اور جہنم میں اپنا ٹھکانہ دیکھ لیتے اور اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مباہلہ کرنے والے نکلتے تو وہ اس حال میںلوٹتے کہ ان کا مال ہوتا اور نہ اہل و عیال۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10518]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4958، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2225 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2225»
وضاحت: فوائد: … ابوجہل کا مزید ذکر اگلی حدیث میں ہے۔
یہودیوں کا موت کی تمنا کرنا، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {قُلْ اِنْ کَانَتْ لَکُمُ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ عِنْدَ اللّٰہِ خَالِصَۃً مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۔ وَلَنْ یَّتَمَنَّوْہُ اَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْھِمْ وَاللّٰہُ عَلِیْم’‘ بِالظّٰلِمِیْنَ۔} … کہہ دے اگر آخرت کا گھر اللہ کے ہاں سب لوگوں کو چھوڑ کر خاص تمھارے ہی لیے ہے تو موت کی آرزو کرو، اگر تم سچے ہو۔اور وہ ہر گز اس کی آرزو کبھی نہیں کریں گے، اس کی وجہ سے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور اللہ ظالموں کو خوب جاننے والا ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۹۴، ۹۵)
اور مباہلہ کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {فَمَنْ حَآجَّکَ فِیْہِ مِنْ بَعْدِ مَاجَآئَ کَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآئَ نَا وَاَبْنَآئَ کُمْ وَنِسَآئَ نَا وَنِسَآئَکُمْ وَاَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَھِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰہِ عَلَی الْکٰذِبِیْنَ۔} … پھر جو شخص تجھ سے اس کے بارے میں جھگڑا کرے، اس کے بعد کہ تیرے پاس علم آ چکا تو کہہ دے آؤ! ہم اپنے بیٹوں اور تمھارے بیٹوں کو بلا لیں اور اپنی عورتوں اور تمھاری عورتوں کو بھی اور اپنے آپ کو اور تمھیں بھی، پھر گڑ گڑا کر دعا کریں، پس جھوٹوں پر اللہ کی لعنت بھیجیں۔ (سورۂ آل عمران: ۶۱)
یہ آیت مباہلہ کہلاتی ہے، مباہلہ کا معنییہ ہے: دو فریق کا ایک دوسرے پر لعنت یعنی بددعا کرنا، مطلب یہ ہے کہ جب دو فریقوں میں سے کسی معاملے کے حق یا باطل ہونے میں اختلاف و نزاع ہو اور دلائل سے وہ ختم ہوتا نظر نہ آتا ہوتو دونوں بارگاہِ الہی میں یہ دعا کریںکہیا اللہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے، اس پر لعنت فرما۔
یہودیوں کا موت کی تمنا کرنا، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {قُلْ اِنْ کَانَتْ لَکُمُ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ عِنْدَ اللّٰہِ خَالِصَۃً مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۔ وَلَنْ یَّتَمَنَّوْہُ اَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْھِمْ وَاللّٰہُ عَلِیْم’‘ بِالظّٰلِمِیْنَ۔} … کہہ دے اگر آخرت کا گھر اللہ کے ہاں سب لوگوں کو چھوڑ کر خاص تمھارے ہی لیے ہے تو موت کی آرزو کرو، اگر تم سچے ہو۔اور وہ ہر گز اس کی آرزو کبھی نہیں کریں گے، اس کی وجہ سے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور اللہ ظالموں کو خوب جاننے والا ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۹۴، ۹۵)
اور مباہلہ کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {فَمَنْ حَآجَّکَ فِیْہِ مِنْ بَعْدِ مَاجَآئَ کَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآئَ نَا وَاَبْنَآئَ کُمْ وَنِسَآئَ نَا وَنِسَآئَکُمْ وَاَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَھِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰہِ عَلَی الْکٰذِبِیْنَ۔} … پھر جو شخص تجھ سے اس کے بارے میں جھگڑا کرے، اس کے بعد کہ تیرے پاس علم آ چکا تو کہہ دے آؤ! ہم اپنے بیٹوں اور تمھارے بیٹوں کو بلا لیں اور اپنی عورتوں اور تمھاری عورتوں کو بھی اور اپنے آپ کو اور تمھیں بھی، پھر گڑ گڑا کر دعا کریں، پس جھوٹوں پر اللہ کی لعنت بھیجیں۔ (سورۂ آل عمران: ۶۱)
یہ آیت مباہلہ کہلاتی ہے، مباہلہ کا معنییہ ہے: دو فریق کا ایک دوسرے پر لعنت یعنی بددعا کرنا، مطلب یہ ہے کہ جب دو فریقوں میں سے کسی معاملے کے حق یا باطل ہونے میں اختلاف و نزاع ہو اور دلائل سے وہ ختم ہوتا نظر نہ آتا ہوتو دونوں بارگاہِ الہی میں یہ دعا کریںکہیا اللہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے، اس پر لعنت فرما۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4958
حدیث نمبر: 10519
عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ أَبُو جَهْلٍ هَلْ يُعَفِّرُ مُحَمَّدٌ وَجْهَهُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ قَالَ فَقِيلَ نَعَمْ قَالَ وَاللَّاتِ وَالْعُزَّى يَمِينًا يَحْلِفُ بِهَا لَئِنْ رَأَيْتُهُ يَفْعَلُ ذَلِكَ لَأَطَأَنَّ عَلَى رَقَبَتِهِ أَوْ لَأُعَفِّرَنَّ وَجْهَهُ فِي التُّرَابِ قَالَ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي زَعَمَ لَيَطَأَ عَلَى رَقَبَتِهِ قَالَ فَمَا فَجَأَهُمْ مِنْهُ إِلَّا وَهُوَ يَنْكُصُ عَلَى عَقِبَيْهِ وَيَتَّقِي بِيَدَيْهِ قَالَ قَالُوا لَهُ مَا لَكَ قَالَ إِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَهُ لَخَنْدَقًا مِنْ نَارٍ وَهَوْلًا وَأَجْنِحَةً قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَوْ دَنَا مِنِّي لَخَطَفَتْهُ الْمَلَائِكَةُ عُضْوًا عُضْوًا) ) قَالَ فَأُنْزِلَ لَا أَدْرِي فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ أَوْ شَيْءٍ بَلَغَهُ {إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَى أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَى أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَى عَبْدًا إِذَا صَلَّى أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَى الْهُدَى أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوَى أَرَأَيْتَ إِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّى} يَعْنِي أَبَا جَهْلٍ {أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ اللَّهَ يَرَى كَلَّا لَئِنْ لَمْ يَنْتَهِ لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِيَةِ نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ} قَالَ يَدْعُو قَوْمَهُ {سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ} قَالَ يَعْنِي الْمَلَائِكَةَ {كَلَّا لَا تُطِعْهُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ}
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا: کیا تمہارے مابین محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سجدہ کرتا ہے؟ کسی نے کہا: ہاں، اس نے کہا: لات اور عزی کی قسم! اب اگر میں نے اس کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا تو اس کی گردن روند دوں گا یا اس کے چہرے کو مٹی میں لت پت کر دوں گا، پس اُدھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھنے کے لیے تشریف لے آئے، اِدھر سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گردن کو روندنے کے لیے ابوجہل بھی چل پڑا، لیکن اچانک اس نے ایڑھیوںکے بل ہٹنا شروع کر دیا اور اپنے ہاتھوں کے ذریعے اپنا بچاؤ کر رہا تھا، لوگوں نے اس سے پوچھا: تجھے کیا ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: میرے اور آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان آگ کی ایک خندق اور ہولناکی اور پَر تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگروہ میرے قریب آتا تو فرشتے اس کے ایک ایک عضو کو اچک لیتے۔ پس اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں: سچ مچ انسان تو آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔ بھلا تو نے اسے بھی دیکھا جو بندے کو روکتا ہے، جبکہ وہ نماز ادا کرتا ہے، بھلا بتلا تو سہی اگر وہ ہدایت پر ہو، یا پرہیز گاری کا حکم دیتا ہو، بھلا دیکھو اگر یہ جھٹلاتا ہو اور منہ پھیرتا ہو تو۔ اس سے ابو جہل مراد ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: کیا اس نے نہیں جانا کہ اللہ تعالیٰ اسے خوب دیکھ رہا ہے، یقینا اگر یہ باز نہ رہا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے، ایسی پیشانی جو جھوٹی خطاکار ہے، یہ اپنی مجلس والوں کو بلالے۔ یعنی وہ اپنیقوم کو بلائے، ہم بھی دوزخ کے پیادوں کو بلا لیں گے۔ یعنی فرشتوں کو، خبردار! اس کا کہنا نہ مان اور سجدہ کر اور قریب ہو جا۔راوی کہتا ہے: مجھے یہ علم نہ ہو سکا کہ ان آیات کا ذکر سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں تھا، یا کسی اور سند سے اس کا علم ہوا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10519]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2797، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8831 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8817»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2797
حدیث نمبر: 10520
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10520]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث رقم: (10518 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
وضاحت: فوائد: … ابو جہل کا نام عمرو بن ہشام تھا۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث رقم: (10518 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0
17. ومنهم عقبة بن أبي معيط
اور ان میں ایک عقبہ بن ابی معیط تھا
حدیث نمبر: 10521
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَاجِدٌ وَحَوْلَهُ نَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِذْ جَاءَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ بِسَلَا جَزُورٍ فَقَذَفَهُ عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ فَجَاءَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَخَذَتْهُ مِنْ ظَهْرِهِ وَدَعَتْ عَلَى مَنْ صَنَعَ ذَلِكَ قَالَ فَقَالَ اللَّهُمَّ عَلَيْكَ الْمَلَأَ مِنْ قُرَيْشٍ أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ وَعُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَشَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَعُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ (أَوْ أُبَيَّ بْنَ خَلَفٍ شُعْبَةُ الشَّاكُّ) قَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُمْ قُتِلُوا يَوْمَ بَدْرٍ فَأُلْقُوا فِي بِئْرٍ غَيْرَ أَنَّ أُمَيَّةَ (أَوْ أُبَيًّا) انْقَطَعَتْ أَوْصَالُهُ فَلَمْ يُلْقَ فِي الْبِئْرِ
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے کی حالت میں تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارد گرد قریشی لوگ بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں عقبہ بن ابی معیط ذبح شدہ اونٹنی کی بچہ دانی لے کر آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کمر پر پھینک دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر نہ اٹھایا، اتنے میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں اور ان کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کمر سے ہٹایا اور یہ کام کرنے والوں کے لیے بد دعا کی، اُدھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان الفاظ میں اِن پر دعا کی: اے اللہ! قریشیوں کے سرداروں ابو جہل، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، عقبہ بن ابو معیط اور امیہ بن خلف (یا ابی بن خلف) کی گرفت فرما۔ پس میں نے ان لوگوں کو دیکھا کہ بدر والے دن ان کو قتل کیا گیا اور پھر کنویں میں ڈال دیا گیا، ما سوائے امیہیا ابی کے، اس کے جوڑ اکھڑ گئے تھے، اس لیے اس کو کنویںمیں نہیں ڈالا گیا۔
حدیث میں اس جگہ سَلَاجزور کے الفاظ ہیں نسلا کا معنی وہ جھلی (بچہ دانی) ہے جس کے اندر بچہ لیٹا ہوتا ہے اور مادہ کے رحم سے بچے کی ولادت کے بعد باہر آتی ہے۔ جزور: مادہ اور نر دونوں کے لیے بولا جاتا ہے۔ بلکہ ہر ذبح کیے جانے والے جانور پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ بخاری کی ایک روایت (۵۲۰) میں یہ الفاظ ہیںیعمرانی مرثھا ودمھا وسلاھا یعنی اس کے گوبر، خون اور بچہ دانی کو لائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اوجھڑی بھی ساتھ لاکر آپ پر پھینکی گئی۔ (عبداللہ رفیق) [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10521]
حدیث میں اس جگہ سَلَاجزور کے الفاظ ہیں نسلا کا معنی وہ جھلی (بچہ دانی) ہے جس کے اندر بچہ لیٹا ہوتا ہے اور مادہ کے رحم سے بچے کی ولادت کے بعد باہر آتی ہے۔ جزور: مادہ اور نر دونوں کے لیے بولا جاتا ہے۔ بلکہ ہر ذبح کیے جانے والے جانور پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ بخاری کی ایک روایت (۵۲۰) میں یہ الفاظ ہیںیعمرانی مرثھا ودمھا وسلاھا یعنی اس کے گوبر، خون اور بچہ دانی کو لائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اوجھڑی بھی ساتھ لاکر آپ پر پھینکی گئی۔ (عبداللہ رفیق) [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10521]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3854، ومسلم: 1794، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3722 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3722»
وضاحت: فوائد: … صحیح بخاری کی بعض روایات (۵۲۰) میں ہے: جب انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ یہ کاروائی کی تو وہ ہنسنے لگے اور ایک دوسرے پر گرنے لگے، … جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اس مواد کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہٹایا تووہ ان پر متوجہ ہوئیں اور ان کو برا بھلا کہا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر بد دعا کی، جب انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بد دعا سنی تو وہ خاموش ہوگئے اور وہ ڈر گئے۔
امیہ بن خلف (یا ابی بن خلف) یہ امیہ بن خلف ہی تھا،جو غزوۂ بدر میں قتل ہوا، اس کا بھائی ابی بن خلف تو غزوۂ احد میں قتل ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بد دعا پوری ہوئی اور ان سب سرداروں کو غزوۂ بدر میں واصل جہنم ہونا پڑا۔
امیہ بن خلف (یا ابی بن خلف) یہ امیہ بن خلف ہی تھا،جو غزوۂ بدر میں قتل ہوا، اس کا بھائی ابی بن خلف تو غزوۂ احد میں قتل ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بد دعا پوری ہوئی اور ان سب سرداروں کو غزوۂ بدر میں واصل جہنم ہونا پڑا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3854
حدیث نمبر: 10522
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ ثَنَا خَلَفٌ ثَنَا إِسْرَائِيلُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ عَمْرَو بْنَ هِشَامٍ وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ وَزَادَ وَعُمَارَةَ بْنَ الْوَلِيدِ
۔ (دوسری سند) اس طریق میں راوی نے کہا: عمرو بن ہشام اور امیہ بن خلف اور عمارہ بن ولید کا نام زائد ذکر کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10522]
تخریج الحدیث: «انطر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3723»
وضاحت: فوائد: … اس روایت کو اکثر پر محمول کیا جائے گا، کیونکہ عقبہ بن ابی معیط کو قید کر کے عرق الظبیہ مقام پر قتل کیا گیا اور امیہ بن خلف کو کنویں میں نہیں پھینکا گیا، جیسا کہ پچھلی روایت سے معلوم ہو رہا ہے۔
الحكم على الحديث:
انطر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3723
حدیث نمبر: 10523
عَنْهُ أَيْضًا قَالَ اسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ فَدَعَا عَلَى نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ سَبْعَةٍ فِيهِمْ أَبُو جَهْلٍ وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ وَشَيْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ وَعُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ فَأُقْسِمُ بِاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُهُمْ صَرْعَى عَلَى بَدْرٍ وَقَدْ غَيَّرَتْهُمُ الشَّمْسُ وَكَانَ يَوْمًا حَارًّا
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ کی طرف متوجہ ہوئے اور قریش کے سات افراد پر بد دعا کی، ان میں ابو جہل، امیہ بن خلف، شیبہ بن ربیعہ اور عقبہ بن ابی معیط شامل تھے، پس تحقیق میں نے ان سب افراد کو دیکھا کہ ان کو بدر کے کنویں میں پچھاڑ دیا گیا، چونکہ وہ سخت گرمی والا دن تھا، اس لیے سورج کی وجہ سے بھی ان میں کچھ تبدیلی پیدا ہو گئی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10523]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3960، ومسلم: 1794، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3775 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3775»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3960