سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
226. باب فِي وَقْتِ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1086
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ:" كُنَّا نَقِيلُ وَنَتَغَدَّى بَعْدَ الْجُمُعَةِ".
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم جمعہ کے بعد قیلولہ کرتے تھے اور دوپہر کا کھانا کھاتے تھے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1086]
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ”ہم لوگ جمعہ کے بعد ہی کھانا کھاتے اور قیلولہ کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1086]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «والاستئذان 39 (6279)، (تحفة الأشراف: 4683)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجمعة 9 (859)، سنن الترمذی/الصلاة 261 (الجمعة 26) (525)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 84 (1099) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (939) صحيح مسلم (859)
227. باب النِّدَاءِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے دن اذان دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1087
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ،" أَنَّ الْأَذَانَ كَانَ أَوَّلُهُ حِينَ يَجْلِسُ الْإِمَامُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا" فَلَمَّا كَانَ خِلَافَةُ عُثْمَانَ وَكَثُرَ النَّاسُ أَمَرَ عُثْمَانُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِالْأَذَانِ الثَّالِثِ، فَأُذِّنَ بِهِ عَلَى الزَّوْرَاءِ، فَثَبَتَ الْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ".
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں جمعہ کے دن پہلی اذان اس وقت ہوتی تھی جب امام منبر پر بیٹھ جاتا تھا، پھر جب عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت ہوئی، اور لوگوں کی تعداد بڑھ گئی تو جمعہ کے دن انہوں نے تیسری اذان کا حکم دیا، چنانچہ زوراء ۱؎ پر اذان دی گئی پھر معاملہ اسی پر قائم رہا ۲؎۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1087]
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”جمعہ کے روز (جمعہ کی) پہلی اذان امام کے منبر پر بیٹھنے کے وقت کہی جاتی تھی۔ عہدِ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم ، خلافتِ ابی بکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ میں یہی معمول رہا۔ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت آئی اور لوگ بھی بہت ہو گئے، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے روز تیسری اذان کا حکم دیا جو کہ زوراء مقام پر دی جاتی تھی اور معاملہ اسی پر قائم رہا۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1087]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجمعة 21 (912)، 22 (913)، 24 (915)، 25 (916)، سنن الترمذی/الصلاة 255 (الجمعة 20) (516)، سنن النسائی/الجمعة 15 (1393)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 97 (1135)، (تحفة الأشراف: 3799)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/450449) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: زوراء مدینہ کے بازار میں ایک جگہ کا نام۔
۲؎: تکبیر کو شامل کرکے یہ تیسری اذان ہوئی، یہ ترتیب میں پہلی اذان ہے جو خلیفہ راشد عثمان رضی اللہ عنہ کی سنت ہے، دوسری اذان اس وقت ہوگی جب امام خطبہ دینے کے لئے منبر پر بیٹھے گا، اور تیسری اذان تکبیر ہے اگر کوئی صرف اذان اور تکبیر پر اکتفا کرے تواس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی سنت کی اتباع کی۔
۲؎: تکبیر کو شامل کرکے یہ تیسری اذان ہوئی، یہ ترتیب میں پہلی اذان ہے جو خلیفہ راشد عثمان رضی اللہ عنہ کی سنت ہے، دوسری اذان اس وقت ہوگی جب امام خطبہ دینے کے لئے منبر پر بیٹھے گا، اور تیسری اذان تکبیر ہے اگر کوئی صرف اذان اور تکبیر پر اکتفا کرے تواس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی سنت کی اتباع کی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (916)
حدیث نمبر: 1088
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ،عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ:" كَانَ يُؤَذَّنُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ،وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ" ثُمَّ سَاقَ نَحْوَ حَدِيثِ يُونُسَ.
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جمعہ کے روز جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھ جاتے تو آپ کے سامنے مسجد کے دروازے پر اذان دی جاتی تھی اسی طرح ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے دور میں بھی مسجد کے دروازے پر اذان دی جاتی۔ پھر راوی نے یونس کی حدیث کی طرح روایت بیان کی۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1088]
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”جمعہ کے روز جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھ جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مسجد کے دروازے کے پاس اذان کہی جاتی تھی اور سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے دور میں بھی ایسے ہی ہوتا تھا۔“ اور (گزشتہ) حدیث یونس کی مانند بیان کیا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1088]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 3799) (منکر)» (زہری سے اس حدیث کو سات آدمیوں نے روایت کی ہے مگر کسی کے یہاں «بین یدی» کا لفظ نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن إسحاق عنعن وفي حديث الطبراني (الكبير146/7) في رواية سليمان التيمي: ’’ عند المنبر‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 49
إسناده ضعيف
ابن إسحاق عنعن وفي حديث الطبراني (الكبير146/7) في رواية سليمان التيمي: ’’ عند المنبر‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 49
حدیث نمبر: 1089
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ السَّائِبِ، قَالَ:" لَمْ يَكُنْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مُؤَذِّنٌ وَاحِدٌ بِلَالٌ" ثُمَّ ذَكَرَ مَعْنَاهُ.
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سوائے ایک مؤذن بلال رضی اللہ عنہ کے کوئی اور مؤذن نہیں تھا ۱؎۔ پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1089]
سیدنا سائب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ہی مؤذن تھا، یعنی بلال“ اور (ابن اسحاق نے) سابقہ حدیث کے ہم معنی بیان کیا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1089]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1087، (تحفة الأشراف: 3799) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جہاں تک اس اعتراض کا تعلق ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بلال، ابن ام مکتوم، ابومحذورہ اور سعد القرط رضی اللہ عنھم پر مشتمل مؤذنین کی ایک جماعت تھی، پھر یہ کہنا کیسے صحیح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بلال رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی اور مؤذن نہیں تھا؟ تواس کا جواب یہ ہے کہ مسجد نبوی میں جمعہ کی نماز کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بلال رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی اور مؤذن نہیں تھا، کیونکہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے سلسلے میں یہ منقول نہیں ہے کہ وہ جمعہ کی اذان دیتے تھے، اور ابومحذورہ رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ کے مؤذن تھے اورسعد القرط رضی اللہ عنہ قبا کے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (1088)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 49
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (1088)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 49
حدیث نمبر: 1090
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ،حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ابْنَ أُخْتِ نَمِرٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ:" وَلَمْ يَكُنْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ مُؤَذِّنٍ وَاحِدٍ"، وَسَاقَ هَذَا الْحَدِيثَ وَلَيْسَ بِتَمَامِهِ.
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مؤذن کے علاوہ اور کوئی مؤذن نہیں تھا۔ اور راوی نے یہی حدیث بیان کی لیکن پوری نہیں۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1090]
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ہی مؤذن تھا۔“ صالح نے یہ حدیث بیان کی، مگر کامل نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1090]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1087، (تحفة الأشراف: 3799) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
انظر الحديث السابق (1087)
انظر الحديث السابق (1087)
228. باب الإِمَامِ يُكَلِّمُ الرَّجُلَ فِي خُطْبَتِهِ
باب: امام کا خطبہ کے دوران کسی آدمی سے بات کرنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 1091
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ كَعْبٍ الْأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: لَمَّا اسْتَوَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، قَالَ:" اجْلِسُوا" فَسَمِعَ ذَلِكَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَجَلَسَ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" تَعَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ". قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا يُعْرَفُ مُرْسَلًا، إِنَّمَا رَوَاهُ النَّاسُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَخْلَدٌ هُوَ شَيْخٌ.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن جب منبر پر اچھی طرح سے بیٹھ گئے تو آپ نے لوگوں سے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ“، تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے (جو اس وقت مسجد کے دروازے پر تھے) اسے سنا تو وہ مسجد کے دروازے ہی پر بیٹھ گئے، تو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو فرمایا: ”عبداللہ بن مسعود! تم آ جاؤ“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث مرسلاً معروف ہے کیونکہ اسے لوگوں نے عطاء سے، عطاء نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اور مخلد شیخ ہیں، (یعنی مراتب تعدیل کے پانچویں درجہ پر ہیں جن کی روایتیں ”حسن“ سے نیچے ہی ہوتی ہیں، الا یہ کہ ان کا کوئی متابع موافق ہو) [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1091]
جناب عطاء بن ابی رباح، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ (ایک بار) جمعہ کے روز جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (منبر پر) برابر (تشریف فرما) ہو گئے تو فرمایا: ”بیٹھ جاؤ!“ اسے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے سنا تو مسجد کے دروازے ہی پر بیٹھ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھا تو فرمایا: ”اے عبداللہ بن مسعود! آگے آ جاؤ۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس حدیث کا مرسل ہونا معروف ہے۔ محدثین کی ایک جماعت اسے عطاء (تابعی) سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ (یعنی درمیان میں صحابی کا واسطہ متروک ہے) اور مخلد ”شیخ“ ہے۔ (یعنی اس کی حدیث لکھی جاتی ہے۔)“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1091]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2464) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1418)
أخرجه الحاكم (1/283، 284 وسنده قوي) ابن جريج عن عطاء بن أبي رباح محمولة علي السماع
مشكوة المصابيح (1418)
أخرجه الحاكم (1/283، 284 وسنده قوي) ابن جريج عن عطاء بن أبي رباح محمولة علي السماع
229. باب الْجُلُوسِ إِذَا صَعِدَ الْمِنْبَرَ
باب: امام جب منبر پر چڑھے تو پہلے اس پر بیٹھے۔
حدیث نمبر: 1092
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ، عَنْ الْعُمَرِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ خُطْبَتَيْنِ كَانَ يَجْلِسُ إِذَا صَعِدَ الْمِنْبَرَ حَتَّى يَفْرَغَ أُرَاهُ قَالَ الْمُؤَذِّنُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ، ثُمَّ يَجْلِسُ فَلَا يَتَكَلَّمُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (جمعہ کے دن) دو خطبہ دیتے تھے وہ اس طرح کہ آپ منبر پر چڑھنے کے بعد بیٹھتے تھے یہاں تک کہ مؤذن فارغ ہو جاتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور خطبہ دیتے، پھر (تھوڑی دیر) خاموش بیٹھتے پھر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1092]
نافع سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو خطبے ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب منبر پر تشریف لاتے تو بیٹھ جاتے، حتیٰ کہ مؤذن اذان سے فارغ ہو جاتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور خطبہ دیتے، پھر بیٹھ جاتے اور کلام نہ کرتے، پھر کھڑے ہوتے اور (دوسرا) خطبہ دیتے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1092]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7725)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة 30 (928)، صحیح مسلم/الجمعة 10 (861)، سنن الترمذی/الصلاة 246 (الجمعة 11) (506)، سنن النسائی/الجمعة 33 (1417)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 85 (1103)، مسند احمد 2/98، سنن الدارمی/الصلاة 200 (1599) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث الآتي (1133 ب)
عبدالوهاب بن عطاء مدلس(طبقات المدلسين 3/85) وعنعن
وحديث البخاري (928) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 49
إسناده ضعيف
انظر الحديث الآتي (1133 ب)
عبدالوهاب بن عطاء مدلس(طبقات المدلسين 3/85) وعنعن
وحديث البخاري (928) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 49
230. باب الْخُطْبَةِ قَائِمًا
باب: کھڑے ہو کر خطبہ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1093
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَخْطُبُ قَائِمًا، ثُمَّ يَجْلِسُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ قَائِمًا، فَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ كَانَ يَخْطُبُ جَالِسًا فَقَدْ كَذَبَ، فَقَالَ: فَقَدْ وَاللَّهِ صَلَّيْتُ مَعَهُ أَكْثَرَ مِنْ أَلْفَيْ صَلَاةٍ".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (جمعہ کے دن) کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، پھر (تھوڑی دیر) بیٹھ جاتے، پھر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے، لہٰذا جو تم سے یہ بیان کرے کہ آپ بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے تو وہ غلط گو ہے، پھر انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں آپ کے ساتھ دو ہزار سے زیادہ نمازیں پڑھ چکا ہوں ۱؎۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1093]
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیا کرتے تھے (یعنی پہلا خطبہ)، پھر بیٹھ جاتے، پھر (دوسرے کے لیے) کھڑے ہوتے اور کھڑے ہو کر ہی خطبہ دیتے تھے، اور جو شخص تمہیں یہ بتائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے اس نے جھوٹ کہا، اللہ کی قسم! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو ہزار سے زیادہ نمازیں پڑھی ہیں۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1093]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجمعة 10 (862)، (تحفة الأشراف: 2156)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الجمعة 32 (1416)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 85 (1105)، مسند احمد (5/89، 90، 91، 92، 93، 94، 95، 97، 98، 99، 100، 101، 102، 107)، سنن الدارمی/الصلاة 199(1598) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ان میں (۵۰) جمعے بھی میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھے ہیں، یہ مراد نہیں کہ میں نے دو ہزار جمعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھے ہیں، کیونکہ دو ہزار جمعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے وقت سے لے کر وفات تک بھی نہیں ہوتے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (862)
حدیث نمبر: 1094
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَى، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ:" كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَتَانِ كَانَ يَجْلِسُ بَيْنَهُمَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيُذَكِّرُ النَّاسَ".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں (جمعہ کے دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو خطبے ہوتے تھے، ان دونوں خطبوں کے درمیان آپ (تھوڑی دیر) بیٹھتے تھے، (خطبہ میں) آپ قرآن پڑھتے اور لوگوں کو نصیحت کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1094]
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو خطبے ہوا کرتے تھے۔ آپ ان دونوں کے درمیان میں بیٹھا کرتے تھے۔ آپ قرآن پڑھتے اور لوگوں کو وعظ و نصیحت فرمایا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1094]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجمعة 10 (862)، (تحفة الأشراف: 2169) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (862)
حدیث نمبر: 1095
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ،عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَخْطُبُ قَائِمًا، ثُمَّ يَقْعُدُ قَعْدَةً لَا يَتَكَلَّمُ" وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے دیکھا پھر آپ تھوڑی دیر خاموش بیٹھتے تھے، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1095]
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے، پھر مختصر سا بیٹھ جاتے اور اس دوران میں کوئی گفتگو نہ کرتے تھے“ اور حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1095]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی الکبری/ الصلاة العیدین 23 (1788)، (تحفة الأشراف: 2197) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح