سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
216. باب التَّخَلُّفِ عَنِ الْجَمَاعَةِ، فِي اللَّيْلَةِ الْبَارِدَةِ
باب: سرد رات یا بارش والی رات میں جماعت میں حاضر نہ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1066
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ صَاحِبُ الزِّيَادِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ابْنِ عَمِّ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ لِمُؤَذِّنِهِ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ:" إِذَا قُلْتُ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَلَا تَقُلْ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، قُلْ: صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ"، فَكَأَنَّ النَّاسَ اسْتَنْكَرُوا ذَلِكَ، فَقَالَ: قَدْ فَعَلَ ذَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي، إِنَّ الْجُمُعَةَ عَزْمَةٌ، وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أُخْرِجَكُمْ فَتَمْشُونَ فِي الطِّينِ وَالْمَطَرِ.
محمد بن سیرین کے چچا زاد بھائی عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بارش کے دن اپنے مؤذن سے کہا: جب تم «أشهد أن محمدا رسول الله» کہنا تو اس کے بعد «حي على الصلاة» نہ کہنا بلکہ اس کی جگہ «صلوا في بيوتكم» ”لوگو! اپنے اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو“ کہنا، لوگوں نے اسے برا جانا تو انہوں نے کہا: ایسا اس ذات نے کیا ہے جو مجھ سے بہتر تھی (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے)، بیشک جمعہ واجب ہے، لیکن مجھے یہ بات گوارہ نہ ہوئی کہ میں تم کو کیچڑ اور پانی میں (جمعہ کے لیے) آنے کی زحمت دوں۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1066]
جناب عبداللہ بن حارث، محمد بن سیرین کے چچیرے بھائی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے ایک بارش والے دن میں اپنے مؤذن سے کہا: ”جب تم «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ» کہہ لو تو پھر «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» نہ کہنا، بلکہ «صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ» ”اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو۔“ کہنا۔“ لوگوں نے اس عمل کو کچھ عجیب جانا تو انہوں نے کہا: ”یہ کام اس ذات صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے جو مجھ سے افضل تھی، بلاشبہ جمعہ واجب ہے، مگر مجھے یہ بات ناپسند ہے کہ میں تمہیں مشقت میں ڈالوں اور تم کیچڑ اور بارش میں چل کر آؤ۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1066]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 10 (616)، 41(668)، والجمعة 14 (901)، صحیح مسلم/المسافرین 3 (699)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 35 (939)، (تحفة الأشراف: 5783)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/277) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (901) صحيح مسلم (699)
217. باب الْجُمُعَةِ لِلْمَمْلُوكِ وَالْمَرْأَةِ
باب: غلام اور عورت کے لیے جمعہ کا حکم کیا ہے؟
حدیث نمبر: 1067
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا هُرَيْمٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْجُمُعَةُ حَقٌّ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ فِي جَمَاعَةٍ إِلَّا أَرْبَعَةً: عَبْدٌ مَمْلُوكٌ، أَوِ امْرَأَةٌ، أَوْ صَبِيٌّ، أَوْ مَرِيضٌ". قَالَ أَبُو دَاوُد: طَارِقُ بْنُ شِهَابٍ قَدْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ شَيْئًا.
طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کی نماز جماعت سے ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے سوائے چار لوگوں: غلام، عورت، نابالغ بچہ، اور بیمار کے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: طارق بن شہاب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے مگر انہوں نے آپ سے کچھ سنا نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1067]
سیدنا طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ ہر مسلمان پر جماعت کے ساتھ لازماً فرض ہے، سوائے چار قسم کے لوگوں کے: غلام مملوک، عورت، بچہ اور مریض۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1067]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4981) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1377)
طارق بن شھاب: صحابي رضي الله عنه و روايته من باب مراسيل الصحابة و مراسيل الصحابة مقبولة علي الراجح
مشكوة المصابيح (1377)
طارق بن شھاب: صحابي رضي الله عنه و روايته من باب مراسيل الصحابة و مراسيل الصحابة مقبولة علي الراجح
218. باب الْجُمُعَةِ فِي الْقُرَى
باب: دیہات (گاؤں) میں جمعہ پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1068
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ لَفْظُهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: إِنَّ أَوَّلَ جُمُعَةٍ جُمِّعَتْ فِي الْإِسْلَامِ بَعْدَ جُمُعَةٍ جُمِّعَتْ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ لَجُمُعَةٌ جُمِّعَتْ بِجُوَاثَاءَ قَرْيَةٌ مِنْ قُرَى الْبَحْرَيْنِ. قَالَ عُثْمَانُ: قَرْيَةٌ مِنْ قُرَى عَبْدِ الْقَيْسِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہتے ہیں اسلام میں مسجد نبوی میں جمعہ قائم کئے جانے کے بعد پہلا جمعہ قریہ جواثاء میں قائم کیا گیا، جو علاقہ بحرین ۱؎ کا ایک گاؤں ہے، عثمان کہتے ہیں: وہ قبیلہ عبدالقیس کا ایک گاؤں ہے ۲؎۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1068]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ”اسلام میں مدینہ منورہ کی مسجد نبوی کے بعد سب سے پہلے جہاں جمعہ قائم کیا گیا وہ بحرین کی ایک بستی جواثاء تھی۔“ (استاد) عثمان بن ابی شیبہ نے وضاحت کی کہ ”یہ عبدالقیس کی بستیوں میں سے تھی۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1068]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجمعة 11 (892)، والمغازي 69 (4371)، (تحفة الأشراف: 6529) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہاں بحرین سے مراد سعودی عرب کا مشرقی علاقہ ہے، ”جواثی“ منطقہ احساء کے ہفوف نامی شہر کے ایک گاؤں میں واقع ہے۔
۲؎: اس حدیث سے اور اس کے بعد والی حدیث سے معلوم ہوا کہ جمعہ گاؤں میں پڑھنا درست ہے، اس لئے کہ جواثی اور ہزم النبیت دونوں گاؤں ہیں، بعض لوگ کہتے ہیں کہ قریہ کا اطلاق عربی میں گاؤں اور شہر دونوں پر ہوتا ہے، اس لئے یہ استدلال تام نہیں، جب کہ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ جواثی بحرین کا ایک شہر ہے اور ہزم النبیت مدینہ ہی کا ایک حصہ ہے۔ اس سلسلے میں بہتر طریق استدلال یہ ہے کہ جمعہ کی فرضیت آیت اور حدیث سے مطلق ثابت ہے اس میں شہر کی قید نہیں، لہذا اس قید کا اضافہ کرنا کتاب اللہ پر زیادتی ہے، جو حنفیہ کے نزدیک حدیث مشہور ہی سے جائز ہے، اس سلسلہ میں علی رضی اللہ عنہ کی جو روایت: «لا جمعة ولا تشريق إلا في مصر جامع» پیش کی جاتی ہے وہ دراصل موقوف روایت ہے، امام احمد نے اس کے مرفوع ہونے کی تضعیف کی ہے اس لئے اس سے خود حنفیہ کے اصول کے مطابق کتاب اللہ پر زیادتی جائز نہیں کیوں کہ وہ استدلال کے قابل نہیں۔ ابن ابی شیبہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ آپ نے بحرین والوں کو لکھا کہ تم لوگ جمعہ پڑھو جہاں بھی رہو ان کا یہ حکم شہر اور گاؤں دونوں کو عام ہے، اسی طرح بیہقی نے بھی عمر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کی ہے کہ جمعہ واجب ہے ہر گاؤں پر اگرچہ اس میں صرف چار ہی آدمی ہوں، اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اور دیگر صحابہ سے شہر اور صحراء دونوں جگہ میں جمعہ پڑھنا ثابت ہے۔
۲؎: اس حدیث سے اور اس کے بعد والی حدیث سے معلوم ہوا کہ جمعہ گاؤں میں پڑھنا درست ہے، اس لئے کہ جواثی اور ہزم النبیت دونوں گاؤں ہیں، بعض لوگ کہتے ہیں کہ قریہ کا اطلاق عربی میں گاؤں اور شہر دونوں پر ہوتا ہے، اس لئے یہ استدلال تام نہیں، جب کہ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ جواثی بحرین کا ایک شہر ہے اور ہزم النبیت مدینہ ہی کا ایک حصہ ہے۔ اس سلسلے میں بہتر طریق استدلال یہ ہے کہ جمعہ کی فرضیت آیت اور حدیث سے مطلق ثابت ہے اس میں شہر کی قید نہیں، لہذا اس قید کا اضافہ کرنا کتاب اللہ پر زیادتی ہے، جو حنفیہ کے نزدیک حدیث مشہور ہی سے جائز ہے، اس سلسلہ میں علی رضی اللہ عنہ کی جو روایت: «لا جمعة ولا تشريق إلا في مصر جامع» پیش کی جاتی ہے وہ دراصل موقوف روایت ہے، امام احمد نے اس کے مرفوع ہونے کی تضعیف کی ہے اس لئے اس سے خود حنفیہ کے اصول کے مطابق کتاب اللہ پر زیادتی جائز نہیں کیوں کہ وہ استدلال کے قابل نہیں۔ ابن ابی شیبہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ آپ نے بحرین والوں کو لکھا کہ تم لوگ جمعہ پڑھو جہاں بھی رہو ان کا یہ حکم شہر اور گاؤں دونوں کو عام ہے، اسی طرح بیہقی نے بھی عمر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کی ہے کہ جمعہ واجب ہے ہر گاؤں پر اگرچہ اس میں صرف چار ہی آدمی ہوں، اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اور دیگر صحابہ سے شہر اور صحراء دونوں جگہ میں جمعہ پڑھنا ثابت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (892)
حدیث نمبر: 1069
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، وَكَانَ قَائِدَ أَبِيهِ بَعْدَ مَا ذَهَبَ بَصَرُهُ، عَنْ أَبِيهِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ تَرَحَّمَ لِأَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، فَقُلْتُ لَهُ: إِذَا سَمِعْتَ النِّدَاءَ تَرَحَّمْتَ لِأَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، قَالَ: لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ جَمَّعَ بِنَا فِي هَزْمِ النَّبِيتِ مِنْ حَرَّةِ بَنِي بَيَاضَةَ فِي نَقِيعٍ، يُقَالُ لَهُ: نَقِيعُ الْخَضَمَاتِ، قُلْتُ: كَمْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: أَرْبَعُونَ.
عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک اپنے والد کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کی بصارت چلی جانے کے بعد وہ ان کے راہبر تھے، وہ کہتے ہیں کہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ جب جمعہ کے دن اذان سنتے تو اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے رحمت کی دعا کرتے، عبدالرحمٰن بن کعب کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ جب آپ اذان سنتے ہیں تو اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے رحمت کی دعا کرتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: میں ان کے لیے رحمت کی دعا اس لیے کرتا ہوں کہ یہی وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے ہمیں قبیلہ بنو بیاضہ کے حرہ نقیع الخضمات میں واقع (بستی، گاؤں) ھزم النبیت ۱؎ میں جمعہ کی نماز پڑھائی، میں نے پوچھا: اس دن آپ لوگ کتنے تھے؟ کہا: ہم چالیس تھے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1069]
جناب عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک رحمہ اللہ، یہ اپنے والد کے نابینا ہونے کے بعد ان کے قائد تھے، اپنے والد (کعب بن مالک رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ جمعہ کے روز جب وہ جمعہ کی اذان سنتے تو اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے رحمت کی دعا کرتے۔ میں نے ان سے کہا: ”آپ جب بھی اذان سنتے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”اس لیے کہ حرہ بنی بیاضہ میں ”ہزم النبیت“ کے اندر انہوں نے ہی سب سے پہلے ہمیں جمعہ پڑھایا تھا، ایک نقیع میں جسے ”نقیع الخضمات“ کہا جاتا تھا (یعنی نشیبی جگہ جہاں پانی جمع ہو جاتا تھا)۔“ میں نے ان سے پوچھا کہ ”آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟“ انہوں نے کہا: ”چالیس افراد۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1069]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 78 (1082)، (تحفة الأشراف: 11149) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: مدینہ سے ایک میل کے فاصلہ پر ایک بستی تھی جس کا نام ہزم النبیت تھا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
محمد بن إسحاق صرح بالسماع عند ابن خزيمة (1724 وسنده حسن)
محمد بن إسحاق صرح بالسماع عند ابن خزيمة (1724 وسنده حسن)
219. باب إِذَا وَافَقَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ يَوْمَ عِيدٍ
باب: جمعہ اور عید ایک دن پڑے تو کیا کرنا چاہئے؟
حدیث نمبر: 1070
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ أَبِي رَمْلَةَ الشَّامِيِّ، قَالَ: شَهِدْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَهُوَ يَسْأَلُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، قَالَ: أَشَهِدْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِيدَيْنِ اجْتَمَعَا فِي يَوْمٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَكَيْفَ صَنَعَ؟ قَالَ: صَلَّى الْعِيدَ، ثُمَّ رَخَّصَ فِي الْجُمُعَةِ، فَقَالَ:" مَنْ شَاءَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيُصَلِّ".
ایاس بن ابی رملۃ شامی کہتے ہیں کہ میں معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا اور وہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھ رہے تھے کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو عیدوں میں جو ایک ہی دن آ پڑی ہوں حاضر رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، معاویہ نے پوچھا: پھر آپ نے کس طرح کیا؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز پڑھی، پھر جمعہ کی رخصت دی اور فرمایا: ”جو جمعہ کی نماز پڑھنی چاہے پڑھے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1070]
جناب ایاس بن ابی رملہ شامی سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے ہاں حاضر تھا اور وہ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے دریافت کر رہے تھے کہ کیا تمہارے ہوتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں کبھی دو عیدیں (جمعہ، عید) ایک ہی دن میں اکٹھی ہوئی تھیں؟ انہوں نے کہا: ”ہاں!“ پوچھا کہ تب آپ نے کیسے کیا؟ انہوں نے کہا کہ نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز پڑھی پھر جمعہ کے بارے میں رخصت دے دی اور فرمایا: ”جو پڑھنا چاہے پڑھ لے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1070]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/العیدین 31 (1592)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 166 (1310)، (تحفة الأشراف: 3657)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/372)، سنن الدارمی/الصلاة 225 (1653) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سلسلے میں وارد تمام احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ ذاتی طور پر مسلمان کو اختیار ہے کہ عید کی نماز کے بعد چاہے تو جمعہ نہ پڑھ کر صرف ظہر پڑھ لے اسی طرح جس مسجد میں جمعہ نہیں قائم ہوتا اس میں لوگ ظہر پڑہ لیں، لیکن جس مسجد میں جمعہ قائم ہوتا ہو وہاں جمعہ قائم ہو گا، کیوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نیز عثمان رضی اللہ عنہ نے عام لوگوں کو جمعہ کی چھوٹ دے کر فرمایا: ”ہم تو جمعہ پڑھیں گے“۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه النسائي (1592 وسنده حسن) وابن ماجه (310 وسنده حسن) وصححه ابن خزيمة (1464 وسنده حسن)
أخرجه النسائي (1592 وسنده حسن) وابن ماجه (310 وسنده حسن) وصححه ابن خزيمة (1464 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 1071
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الْبَجَلِيُّ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ: صَلَّى بِنَا ابْنُ الزُّبَيْرِ فِي يَوْمِ عِيدٍ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ أَوَّلَ النَّهَارِ، ثُمَّ رُحْنَا إِلَى الْجُمُعَةِ" فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْنَا فَصَلَّيْنَا وُحْدَانًا" وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ بِالطَّائِفِ، فَلَمَّا قَدِمَ ذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: أَصَابَ السُّنَّةَ.
عطاء بن ابورباح کہتے ہیں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ہمیں جمعہ کے دن صبح سویرے عید کی نماز پڑھائی، پھر جب ہم نماز جمعہ کے لیے چلے تو وہ ہماری طرف نکلے ہی نہیں، بالآخر ہم نے تنہا تنہا نماز پڑھی ۱؎ ابن عباس رضی اللہ عنہما اس وقت طائف میں تھے، جب وہ آئے تو ہم نے ان سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے کہا: انہوں (ابن زبیر رضی اللہ عنہ) نے سنت پر عمل کیا ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1071]
عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ہمیں جمعہ کے روز عید کے دن، دن کے پہلے حصے میں نماز پڑھائی، پھر ہم جمعہ کے لیے گئے مگر وہ نہ آئے اور ہم نے اکیلے ہی نماز پڑھی۔ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما طائف میں تھے، وہ جب آئے تو ہم نے ان سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ”انہوں نے سنت پر عمل کیا ہے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1071]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/صلاة العیدین (886)، (تحفة الأشراف: 5896) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ظہر پڑھی کیونکہ جمعہ کے لئے جماعت ضروری ہے اس کے بغیر جمعہ صحیح نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (1070)
انظر الحديث السابق (1070)
حدیث نمبر: 1072
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ: اجْتَمَعَ يَوْمُ جُمُعَةٍ وَيَوْمُ فِطْرٍ عَلَى عَهْدِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ: عِيدَانِ اجْتَمَعَا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ، فَجَمَعَهُمَا جَمِيعًا فَصَلَّاهُمَا رَكْعَتَيْنِ بُكْرَةً لَمْ يَزِدْ عَلَيْهِمَا حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ.
عطاء کہتے ہیں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں جمعہ اور عید دونوں ایک ہی دن اکٹھا ہو گئے تو آپ نے کہا: ایک ہی دن میں دونوں عیدیں اکٹھا ہو گئی ہیں، پھر آپ نے دونوں کو ملا کر صبح کے وقت صرف دو رکعت پڑھ لی، اس سے زیادہ نہیں پڑھی یہاں تک کہ عصر پڑھی ۱؎۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1072]
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے دورِ خلافت میں جمعہ اور عیدِ فطر ایک ہی دن آگئے تو انہوں نے کہا: ”دو عیدیں ایک ہی دن میں اکٹھی ہو گئی ہیں۔“ پھر انہوں نے ان دونوں کو جمع کر دیا اور پہلے پہر دو رکعتیں پڑھائیں، اس پر کچھ اضافہ نہ کیا، حتیٰ کہ عصر پڑھی۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1072]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5283) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: دراصل عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما گھر سے نکلے ہی نہیں (جیسا کہ اگلی حدیث میں ہے) اس سے لوگوں نے یہ سمجھا کہ انہوں نے ظہر بھی نہیں پڑھی، حالانکہ ایسی بات نہیں، آپ نے گھر میں ظہر پڑھ لی تھی، کیونکہ عید کے دن جمعہ معاف ہے ظہر نہیں۔ یہ اسلام کا عام قاعدہ ہے کہ جس سے جمعہ کی فرضیت ساقط ہے اس کے لئے ظہر پڑھنی ضروری ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أخرجه الفريابي في العيدين (رقم: 153، نسخه أخريٰ: ص 219، وسنده صحيح) ولفظه: ’’ اجتمع يوم فطر ويوم جمعة زمن ابن الزبير فصلي ركعتين…‘‘، ابن جريج عن عطاء قوي
أخرجه الفريابي في العيدين (رقم: 153، نسخه أخريٰ: ص 219، وسنده صحيح) ولفظه: ’’ اجتمع يوم فطر ويوم جمعة زمن ابن الزبير فصلي ركعتين…‘‘، ابن جريج عن عطاء قوي
حدیث نمبر: 1073
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، وَعُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الْوَصَّابِيُّ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْمُغِيرَةِ الضَّبِّيِّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" قَدِ اجْتَمَعَ فِي يَوْمِكُمْ هَذَا عِيدَانِ، فَمَنْ شَاءَ أَجْزَأَهُ مِنَ الْجُمُعَةِ، وَإِنَّا مُجَمِّعُونَ". قَالَ عُمَرُ: عَنْ شُعْبَةَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے آج کے اس دن میں دو عیدیں اکٹھا ہو گئی ہیں، لہٰذا رخصت ہے، جو چاہے عید اسے جمعہ سے کافی ہو گی اور ہم تو جمعہ پڑھیں گے“۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1073]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے اس دن میں دو عیدیں جمع ہو گئی ہیں، تو جو چاہے اس کے لیے یہ (نماز عید) جمعہ کے بدلے کافی ہے اور ہم جمعہ پڑھیں گے۔“ عمر بن حفص کی سند میں عنعنہ ہے (یعنی اس نے ”عن شعبہ“ کہا ہے)۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1073]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 166 (1311)، (تحفة الأشراف: 12827) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
ابن ماجه (1311)
مغيرة بن مقسم مدلس(طبقات المدلسين : 3/107) وعنعن
والحديث السابق (الأصل : 1070) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 49
ضعيف
ابن ماجه (1311)
مغيرة بن مقسم مدلس(طبقات المدلسين : 3/107) وعنعن
والحديث السابق (الأصل : 1070) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 49
220. باب مَا يُقْرَأُ فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے دن فجر میں کون سی سورۃ پڑھے؟
حدیث نمبر: 1074
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُخَوَّلِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ، و هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر میں سورۃ السجدة اور «هل أتى على الإنسان حين من الدهر» پڑھتے تھے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1074]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”جمعہ کے روز فجر کی نماز میں سورۃ «الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةُ» [سورة السجدة: 1] اور ﴿هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ﴾ [سورة الإنسان: 1] پڑھا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1074]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجمعة 17 (879)، سنن الترمذی/الصلاة 258 (520)، سنن النسائی/الافتتاح 47 (956، 957)، والجمعة 38 (1422)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 6 (821)، مسند احمد (1/226، 307، 316، 328، 334، 354)، (تحفة الأشراف: 5613) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (879)
حدیث نمبر: 1075
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُخَوَّلٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ،" وَزَادَ فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ بِسُورَةِ الْجُمُعَةِ إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ.
اس طریق سے بھی مخول سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں انہوں نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ میں سورۃ الجمعہ اور «إذا جاءك المنافقون» پڑھتے تھے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1075]
شعبہ نے مخول سے مذکورہ سند اور اسی کے ہم معنی بیان کیا اور مزید یہ کہا کہ ”نماز جمعہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الجمعہ اور سورۃ منافقون پڑھا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1075]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5613) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (879)