🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
233. باب إِقْصَارِ الْخُطَبِ
باب: خطبہ مختصر دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1106
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَاشِدٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِقْصَارِ الْخُطَبِ".
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبوں میں اختصار کرنے کا حکم دیا ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1106]
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو خطبے مختصر رکھنے کا حکم دیا۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1106]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10374)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/320) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
العلاء بن صالح: وثقه الجمهور، وأبو راشد: ذكره ابن حبان في الثقات وقال الحاكم في حديثه: ’’صحيح الإسناد‘‘ وقال الذھبي في حديثه: ’’صحيح‘‘

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1107
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، أَخْبَرَنِي شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ السُّوَائِيِّ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُطِيلُ الْمَوْعِظَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، إِنَّمَا هُنَّ كَلِمَاتٌ يَسِيرَاتٌ".
جابر بن سمرہ سوائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبے کو طول نہیں دیتے تھے، وہ بس چند ہی کلمات ہوتے تھے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1107]
سیدنا جابر بن سمرہ سوائی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے روز لمبا وعظ نہ فرمایا کرتے تھے، بلکہ چند مختصر سے کلمات ہوا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1107]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2192) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (1101)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
234. باب الدُّنُوِّ مِنَ الإِمَامِ عِنْدَ الْمَوْعِظَةِ
باب: خطبہ کے وقت امام سے قریب بیٹھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1108
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ، قَالَ قَتَادَةُ: عَنْ يَحْيَى بْنِ مَالِكٍ،عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" احْضُرُوا الذِّكْرَ، وَادْنُوا مِنَ الْإِمَامِ فَإِنَّ الرَّجُلَ لَا يَزَالُ يَتَبَاعَدُ حَتَّى يُؤَخَّرَ فِي الْجَنَّةِ وَإِنْ دَخَلَهَا".
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خطبہ میں حاضر رہا کرو اور امام سے قریب رہو کیونکہ آدمی برابر دور ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ جنت میں بھی پیچھے کر دیا جاتا ہے گرچہ وہ اس میں داخل ہوتا ہے“۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1108]
جناب معاذ بن ہشام کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کی بیاض میں ان کے ہاتھ کا لکھا ہوا پایا اور سنا نہیں کہ قتادہ نے یحییٰ بن مالک سے کہا، وہ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذکر (خطبہ اور وعظ) میں حاضر ہوا کرو اور امام کے قریب بیٹھا کرو۔ انسان (اگر خیر کے مقامات سے) پیچھے رہنے کو معمول بنا لے تو جنت میں بھی پیچھے کر دیا جائے گا، اگرچہ اس میں داخل ہو ہی جائے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1108]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 4638)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/10، 11) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 50

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
235. باب الإِمَامِ يَقْطَعُ الْخُطْبَةَ لِلأَمْرِ يَحْدُثُ
باب: کسی حادثہ کے پیش آ جانے پر امام خطبہ میں رک سکتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1109
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ حُبَابٍ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلَ الْحَسَنُ، وَالْحُسَيْنُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَعْثُرَانِ وَيَقُومَانِ، فَنَزَلَ فَأَخَذَهُمَا فَصَعِدَ بِهِمَا الْمِنْبَرَ، ثُمَّ قَالَ:" صَدَقَ اللَّهُ إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلادُكُمْ فِتْنَةٌ سورة التغابن آية 15، رَأَيْتُ هَذَيْنِ فَلَمْ أَصْبِرْ"، ثُمَّ أَخَذَ فِي الْخُطْبَةِ.
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطبہ دے رہے تھے، اتنے میں حسن اور حسین رضی اللہ عنہما دونوں لال قمیص پہنے ہوئے گرتے پڑتے آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر سے اتر پڑے، انہیں اٹھا لیا اور لے کر منبر پر چڑھ گئے پھر فرمایا: ”اللہ نے سچ فرمایا ہے: «إنما أموالكم وأولادكم فتنة» (التغابن: ۱۵) ”تمہارے مال اور اولاد آزمائش ہیں“ میں نے ان دونوں کو دیکھا تو میں صبر نہ کر سکا“، پھر آپ نے دوبارہ خطبہ دینا شروع کر دیا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1109]
جناب عبداللہ بن بریدہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطبہ دے رہے تھے کہ (اس اثناء میں) سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما سرخ قمیصیں پہنے ہوئے آئے۔ وہ گرتے تھے اور اٹھتے تھے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اتر پڑے، ان کو پکڑا اور ان دونوں کو لے کر منبر پر تشریف لائے، پھر فرمایا: ”سچ فرمایا اللہ ذوالجلال نے ﴿إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ﴾ [سورة التغابن: 15] بلاشبہ تمہارے اموال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں۔ میں نے ان دونوں کو دیکھا تو صبر نہ کر سکا۔“ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر خطبہ دینا شروع کر دیا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1109]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/المناقب 31 (3774)، سنن النسائی/الجمعة 30 (1414)، والعیدین 27 (1586)، سنن ابن ماجہ/اللباس 20 (3600)، (تحفة الأشراف: 1958)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/354) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (6168)
أخرجه الترمزي (3774 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
236. باب الاِحْتِبَاءِ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ
باب: امام خطبہ دے رہا ہو تو لوگ گوٹ مار کر نہ بیٹھیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1110
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي مَرْحُومٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الْحُبْوَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ".
معاذ بن انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن امام کے خطبہ دینے کی حالت میں حبوہ ۱؎ (گوٹ مار کر بیٹھنے سے) منع فرمایا ہے ۲؎۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1110]
سہل بن معاذ بن انس رحمہ اللہ اپنے والد سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”جمعہ کے روز جب امام خطبہ دے رہا ہو «حبوة» (بیٹھنے کی ایک صورت) سے منع فرمایا ہے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1110]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 253 (الجمعة 18) (514)، (تحفة الأشراف: 11299)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/439) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: حبوۃ (گوٹ مار کر بیٹھنے) کی صورت یہ ہے کہ دونوں پاؤں کھڑا رکھے، اور انہیں پیٹ سے ملائے رکھے، اور دونوں سرین پر بیٹھے، اور کپڑے سے دونوں پاؤں اور پیٹ باندھ لے یا ہاتھوں سے حلقہ بنا لے۔
۲؎: اس سے اس لئے منع کیا گیا ہے کہ اس طرح بیٹھنے سے نیند زیادہ آتی ہے، اور ہوا خارج ہونے کا امکان زیادہ بڑھ جاتا ہے، بسا اوقات وضو ٹوٹ جاتا ہے، اور آدمی کو اس کی خبر نہیں ہو پاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1393)
أخرجه الترمزي (514 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1111
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ حَيَّانَ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ، عَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ:"شَهِدْتُ مَعَ مُعَاوِيَةَ بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَجَمَّعَ بِنَا فَنَظَرْتُ، فَإِذَا جُلُّ مَنْ فِي الْمَسْجِدِ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَأَيْتُهُمْ مُحْتَبِينَ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ". قَالَ أَبُو دَاوُد: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَحْتَبِي وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، وَشُرَيْحٌ، وَصَعْصَعَةُ بْنُ صُوحَانَ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَإِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، وَمَكْحُولٌ،وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، وَنُعَيْمُ بْنُ سَلَامَةَ، قَالَ: لَا بَأْسَ بِهَا. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَلَمْ يَبْلُغْنِي أَنَّ أَحَدًا كَرِهَهَا إِلَّا عُبَادَةَ بْنَ نُسَيٍّ.
یعلیٰ بن شداد بن اوس کہتے ہیں میں معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیت المقدس میں حاضر ہوا تو انہوں نے ہمیں جمعہ کی نماز پڑھائی تو میں نے دیکھا کہ مسجد میں زیادہ تر لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ہیں اور میں نے انہیں امام کے خطبہ دینے کی حالت میں گوٹ مار کر بیٹھے دیکھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی امام کے خطبہ دینے کی حالت میں گوٹ مار کر بیٹھتے تھے اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ، شریح، صعصہ بن صوحان، سعید بن مسیب، ابراہیم نخعی، مکحول، اسماعیل بن محمد بن سعد اور نعیم بن سلامہ نے کہا ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میری معلومات کی حد تک عبادہ بن نسی کے علاوہ کسی اور نے اس کو مکروہ نہیں کہا ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1111]
جناب یعلیٰ بن شداد بن اوس کہتے ہیں کہ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیت المقدس میں حاضر تھا۔ انہوں نے ہمیں جمعہ پڑھایا۔ میں نے دیکھا کہ مسجد میں حاضرین کی اکثریت اصحاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی۔ میں نے انہیں دیکھا کہ امام خطبہ دے رہا تھا اور وہ احتباء کی حالت میں بیٹھے ہوئے تھے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اثنائے خطبہ میں احتباء کی حالت میں بیٹھا کرتے تھے۔“ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور شریح، صعصعہ بن صوحان، سعید بن مسیب، ابراہیم نخعی، مکحول، اسماعیل بن محمد بن سعد اور نعیم بن سلامہ رحمہم اللہ کا کہنا ہے کہ ”اس میں کوئی حرج نہیں۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”جناب عبادہ بن نسی رحمہ اللہ (تابعی) کے علاوہ مجھے کسی کے متعلق معلوم نہیں ہوا کہ انہوں نے اس طرح بیٹھنے کو مکروہ کہا ہو۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1111]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی سلیمان ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سليمان بن عبد اللّٰه بن الزبرقان : لين الحديث (تقريب التهذيب: 2578)
وأثر ابن عمر أخرجه البيهقي (35/3) بإسناد ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 50

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
237. باب الْكَلاَمِ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ
باب: امام خطبہ دے رہا ہو تو بات چیت منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1112
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا قُلْتَ أَنْصِتْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَقَدْ لَغَوْتَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نے امام کے خطبہ دینے کی حالت میں (کسی سے) کہا: چپ رہو، تو تم نے لغو کیا“۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1112]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم یہ کہو کہ خاموش ہو جاؤ اور امام خطبہ دے رہا ہو تو تم نے لغو کام کیا۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1112]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الجمعة 22 (1402، 1403)، والعیدین 21 (1576)، (تحفة الأشراف: 13240)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة 36 (394)، صحیح مسلم/الجمعة 3 (851)، سنن الترمذی/الصلاة 251 (الجمعة 16) (512)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 86 (1110)، موطا امام مالک/الجمعة 2 (6)، مسند احمد (2/244، 272، 280، 393، 396، 485، 518، 532)، سنن الدارمی/الصلاة 195 (1589) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أخرجه النسائي (1578 وسنده صحيح) ورواه البخاري (934) ومسلم (851)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1113
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَأَبُو كَامِلٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، عَنْ حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَحْضُرُ الْجُمُعَةَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ: رَجُلٌ حَضَرَهَا يَلْغُو وَهُوَ حَظُّهُ مِنْهَا، وَرَجُلٌ حَضَرَهَا يَدْعُو فَهُوَ رَجُلٌ دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِنْ شَاءَ أَعْطَاهُ وَإِنْ شَاءَ مَنَعَهُ، وَرَجُلٌ حَضَرَهَا بِإِنْصَاتٍ وَسُكُوتٍ وَلَمْ يَتَخَطَّ رَقَبَةَ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُؤْذِ أَحَدًا فَهِيَ كَفَّارَةٌ إِلَى الْجُمُعَةِ الَّتِي تَلِيهَا وَزِيَادَةِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، وَذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، يَقُولُ: مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا سورة الأنعام آية 160".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ میں تین طرح کے لوگ حاضر ہوتے ہیں: ایک آدمی وہ جو جمعہ میں حاضر ہو کر لغو و بیہودہ گفتگو کرے، اس میں سے اس کا حصہ یہی ہے ۱؎، دوسرا آدمی وہ ہے جو اس میں حاضر ہو کر اللہ سے دعا کرے تو وہ ایک ایسا آدمی ہے جس نے اللہ سے دعا کی ہے اگر وہ چاہے تو اسے دے اور چاہے تو نہ دے، تیسرا وہ آدمی ہے جو حاضر ہو کر خاموشی سے خطبہ سنے، نہ کسی مسلمان کی گردن پھاندے، نہ کسی کو تکلیف دے، تو یہ اس کے لیے اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک کے اور مزید تین دن تک کے گناہوں کا کفارہ ہو گا کیونکہ اللہ فرماتا ہے: جو نیکی کرے گا تو اسے اس کا دس گنا ثواب ملے گا“۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1113]
عمرو بن شعیب اپنے والد سے، وہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ میں تین طرح کے افراد آتے ہیں۔ ایک وہ شخص جو لغو کام کرتا ہے، اس کا یہی حصہ ہے۔ دوسرا دعا کے لیے آتا ہے، یہ دعا کرتا ہے، اللہ چاہے تو اسے عطا فرمائے اور چاہے تو محروم رکھے۔ اور تیسرا وہ شخص جو خاموشی سے سنتا اور سکوت اختیار کرتا ہے، نہ کسی مسلمان کی گردن پھلانگتا ہے اور نہ کسی کو ایذا دیتا ہے، اس آدمی کے لیے یہ جمعہ آئندہ جمعہ تک کے لیے اور مزید تین دن کے لیے کفارہ ہے، اور یہ اس لیے کہ اللہ عز و جل نے فرمایا ہے: ﴿مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا﴾ [سورة الأنعام: 160] ”جو ایک نیکی لاتا ہے اس کے لیے اس کا دس گنا (اجر) ہے۔““ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1113]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود،(تحفة الأشراف: 8668)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/181، 214) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی اسے کوئی ثواب نہیں ملے گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1396)
صححه ابن خزيمة (1813 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
238. باب اسْتِئْذَانِ الْمُحْدِثِ الإِمَامَ
باب: جس کا وضو ٹوٹ جائے وہ امام سے باہر جانے کی اجازت لے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1114
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَحْدَثَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَأْخُذْ بِأَنْفِهِ ثُمَّ لِيَنْصَرِفْ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَأَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يَذْكُرَا عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب حالت نماز میں تم میں سے کسی شخص کو حدث ہو جائے تو وہ اپنی ناک پکڑ کر چلا جائے ۱؎“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حماد بن سلمہ اور ابواسامہ نے ہشام سے ہشام نے اپنے والد عروہ سے اور عروہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، ان دونوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1114]
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جب کوئی اپنی نماز میں بے وضو ہو جائے، تو چاہیے کہ اپنی ناک پر ہاتھ رکھے اور چلا جائے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس روایت کو حماد بن سلمہ اور ابواسامہ نے «عن هشام، عن أبيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کیا ہے۔ اس میں ہے کہ ”جب کوئی آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو۔“ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا واسطہ ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1114]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17043)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 138 (1222) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ناک پکڑنے کا حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ اس سے لوگ سمجھیں گے کہ اس کی نکسیر پھوٹ گئی ہے کیوں کہ شرم کی بات (ہوا خارج ہو جانے کی بات) کو چھپانا ہی بہتر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (1007)
أخرجه ابن ماجه (1222) عمر بن علي المقدسي صرح بالسماع عند الدارقطني (1/157 ح 575)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
239. باب إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ
باب: امام خطبہ دے رہا ہو اور آدمی مسجد میں داخل ہو تو کیا کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1115
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو وَهُوَ ابْنُ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ" أَصَلَّيْتَ يَا فُلَانُ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" قُمْ فَارْكَعْ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص جمعہ کے دن (مسجد میں) آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو آپ نے فرمایا: ”اے فلاں! کیا تم نے نماز پڑھ لی ہے؟“، اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اٹھ کر نماز پڑھو ۱؎“۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1115]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جمعہ کے دن ایک شخص آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اے فلاں! کیا تم نے نماز پڑھی ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھڑے ہو جاؤ اور نماز پڑھو۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1115]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/التھجد 25 (1166)، والجمعة 32 (930)، 33 (931)، صحیح مسلم/الجمعة 14 (875)، سنن الترمذی/الصلاة 250 (الجمعة 15) (510)، سنن النسائی/الجمعة 16 (1396)، (تحفة الأشراف: 2511)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 87 (1113)، مسند احمد (3/297، 308، 369)، سنن الدارمی/الصلاة 96 (1406) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ سلیک غطفانی تھے جیسا کہ اگلی روایت میں اس کی تصریح آئی ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی امام کے خطبہ دینے کی حالت میں مسجد میں آئے تو وہ دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھ کر بیٹھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (930) صحيح مسلم (875)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں