سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
221. باب اللُّبْسِ لِلْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے لباس کا بیان۔
حدیث نمبر: 1076
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى حُلَّةً سِيَرَاءَ، يَعْنِي: تُبَاعُ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ"، ثُمَّ جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا حُلَلٌ، فَأَعْطَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْهَا حُلَّةً، فَقَالَ عُمَرُ: كَسَوْتَنِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَقَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدَ مَا قُلْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا" فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ مُشْرِكًا بِمَكَّةَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مسجد کے دروازے کے پاس ایک ریشمی جوڑا بکتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش! آپ اس کو خرید لیں اور جمعہ کے دن اور جس دن آپ کے پاس باہر کے وفود آئیں، اسے پہنا کریں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے تو صرف وہی پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسی قسم کے کچھ جوڑے آئے تو آپ نے ان میں سے ایک جوڑا عمر رضی اللہ عنہ کو دیا تو عمر نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے یہ کپڑا مجھے پہننے کو دیا ہے؟ حالانکہ عطارد کے جوڑے کے سلسلہ میں آپ ایسا ایسا کہہ چکے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں یہ جوڑا اس لیے نہیں دیا ہے کہ اسے تم پہنو“، چنانچہ عمر نے اسے اپنے ایک مشرک بھائی کو جو مکہ میں رہتا تھا پہننے کے لیے دے دیا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1076]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک ریشمی لباس دیکھا جو مسجد کے دروازے کے پاس بیچا جا رہا تھا تو انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اگر آپ اسے خرید لیں اور جمعہ کے دن زیب تن فرمایا کریں یا جب آپ کے پاس وفود آئیں تو ان کے استقبال کے لیے پہنا کریں (تو اچھا ہو گا)۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسی قسم کے مزید جوڑے آئے تو آپ نے اس میں سے ایک سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو بھی عنایت فرمایا۔ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! آپ مجھے یہ دے رہے ہیں حالانکہ عطارد کے جوڑے کے بارے میں اس سے پہلے آپ جو کچھ فرما چکے ہیں۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں یہ اس لیے نہیں دیا ہے کہ تم خود اسے پہنو۔“ چنانچہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ جوڑا اپنے بھائی کو دے دیا جو کہ مشرک تھا اور مکے میں رہتا تھا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1076]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجمعة 7 (886)، والعیدین 1 (948)، والھبة 27 (2612)، 29 (2619)، والجھاد 177 (3054)، واللباس 30 (5841)، والأدب 9 (5981)، 66 (6081)، صحیح مسلم/اللباس1 (2068)، سنن النسائی/الجمعة 11 (1383)، والعیدین 4 (1561)، والزینة 83 (5297)، 85 (5301)، (تحفة الأشراف: 8023، 83325)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/اللباس 16 (3589)، مسند احمد (2/20، 39، 49) ویأتی ہذا الحدیث فی اللباس (404) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (886) صحيح مسلم (2068)
حدیث نمبر: 1077
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: وَجَدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حُلَّةَ إِسْتَبْرَقٍ تُبَاعُ بِالسُّوقِ فَأَخَذَهَا، فَأَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ابْتَعْ هَذِهِ تَجَمَّلْ بِهَا لِلْعِيدِ وَلِلْوُفُودِ، ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ، وَالْأَوَّلُ أَتَمُّ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بازار میں ایک موٹے ریشم کا جوڑا بکتا ہوا پایا تو اسے لے کر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: آپ اسے خرید لیجئیے اور عید میں یا وفود سے ملتے وقت آپ اسے پہنا کیجئے۔ پھر راوی نے پوری حدیث اخیر تک بیان کی اور پہلی حدیث زیادہ کامل ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1077]
جناب سالم رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک ریشمی جوڑا دیکھا جو بازار میں بیچا جا رہا تھا، وہ انہوں نے لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور کہا: ”آپ اسے خرید لیں تاکہ عید اور وفود کے استقبال کے موقع پر زینت کے لیے زیب تن فرمایا کریں۔“ پھر حدیث بیان کی (تاہم) پہلی روایت زیادہ کامل ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1077]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس 1 (2068)، سنن النسائی/العیدین 4 (1561)، (تحفة الأشراف: 6895) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2068)
حدیث نمبر: 1078
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، وَعَمْرٌو، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا عَلَى أَحَدِكُمْ إِنْ وَجَدَ، أَوْ مَا عَلَى أَحَدِكُمْ إِنْ وَجَدْتُمْ، أَنْ يَتَّخِذَ ثَوْبَيْنِ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ سِوَى ثَوْبَيْ مِهْنَتِهِ". قَالَ عَمْرٌو: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ حَبَّانَ، عَنْ ابْنِ سَلَامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ ذَلِكَ عَلَى الْمِنْبَرِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيه، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَعْدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
محمد بن یحییٰ بن حبان نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میسر ہو سکے تو تمہارے لیے کوئی حرج کی بات نہیں کہ تم میں سے ہر ایک اپنے کام کاج کے کپڑوں کے علاوہ دو کپڑے جمعہ کے لیے بنا رکھے ۱؎“۔ عمرو کہتے ہیں: مجھے ابن ابوحبیب نے خبر دی ہے، انہوں نے موسیٰ بن سعد سے، موسیٰ بن سعد نے ابن حبان سے، ابن حبان نے ابن سلام سے روایت کی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے منبر پر فرماتے سنا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے وہب بن جریر نے اپنے والد سے، انہوں نے یحییٰ بن ایوب سے، یحییٰ نے یزید بن ابوحبیب سے، انہوں نے موسیٰ بن سعد سے، موسیٰ بن سعد نے یوسف بن عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1078]
جناب محمد بن یحییٰ بن حبان (تابعی) نے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر ممکن ہو تو جمعہ کے لیے اپنے کام کاج کے کپڑوں کے علاوہ دو کپڑے اور بنا رکھنے میں کیا حرج ہے؟“ عمرو نے بسند ابن ابی حبیب، ابن سلام رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا تھا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”(اس کی ایک سند یوں بھی ہے) کہ اسے وہب بن جریر اپنے والد سے، وہ یحییٰ بن ایوب سے، وہ یزید بن ابی حبیب سے، وہ موسیٰ بن سعد سے، وہ یوسف بن عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1078]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/ إقامة الصلاة 83 (1095)، (تحفة الأشراف: 5334، 11855)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجمعة 8 (17) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جمعہ کے لئے کام کاج کے کپڑوں کے علاوہ الگ کپڑے رکھنا بہتر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (1389)
أخرجه ابن ماجه (1095 وسنده حسن) وللحديث شواھد كثيرة جدًا
مشكوة المصابيح (1389)
أخرجه ابن ماجه (1095 وسنده حسن) وللحديث شواھد كثيرة جدًا
222. باب التَّحَلُّقِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَبْلَ الصَّلاَةِ
باب: جمعہ کے دن نماز سے پہلے حلقہ بنا کر بیٹھنا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 1079
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الشِّرَاءِ وَالْبَيْعِ فِي الْمَسْجِدِ، وَأَنْ تُنْشَدَ فِيهِ ضَالَّةٌ، وَأَنْ يُنْشَدَ فِيهِ شِعْرٌ، وَنَهَى عَنِ التَّحَلُّقِ قَبْلَ الصَّلَاةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں خرید و فروخت کرنے، کوئی گمشدہ چیز تلاش کرنے، شعر پڑھنے اور جمعہ کے دن نماز سے پہلے حلقہ بنا کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1079]
عمرو بن شعیب اپنے والد (شعیب) سے اور وہ اپنے دادا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”مسجد میں خرید و فروخت سے منع فرمایا اور اس سے بھی کہ گمشدہ چیز کا اس میں اعلان کیا جائے یا شعر پڑھے جائیں، اور اس سے بھی منع فرمایا ہے کہ جمعہ کے روز نماز سے پہلے حلقہ بنا کر بیٹھا جائے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1079]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 124 (322)، سنن النسائی/المساجد 23 (716)، (تحفة الأشراف: 8796)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المساجد 5 (749)، مسند احمد (2/179) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: کیوں کہ جمعہ کے دن خطبہ سننا اور خاموش رہنا ضروری ہے، اور جب لوگ حلقہ باندھ کر بیٹھیں گے تو خواہ مخواہ باتیں کریں گے ا س لئے حلقہ باندھ کر بیٹھنے سے منع کیا گیا ہے، یہ مطلب نہیں ہے کہ جمعہ سے پہلے کسی وقت بھی حلقہ باندھ کر نہیں بیٹھ سکتے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (732)
أخرجه النسائي (715 وسنده حسن) ابن عجلان صرح بالسماع عند أحمد (2/179)
مشكوة المصابيح (732)
أخرجه النسائي (715 وسنده حسن) ابن عجلان صرح بالسماع عند أحمد (2/179)
223. باب فِي اتِّخَاذِ الْمِنْبَرِ
باب: منبر بنانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1080
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيُّ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمِ بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ رِجَالًا أَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ وَقَدِ امْتَرَوْا فِي الْمِنْبَرِ مِمَّ عُودُهُ، فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْرِفُ مِمَّا هُوَ، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ أَوَّلَ يَوْمٍ وُضِعَ، وَأَوَّلَ يَوْمٍ جَلَسَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى فُلَانَةَ امْرَأَةٌ قَدْ سَمَّاهَا سَهْلٌ أَنْ مُرِي غُلَامَكِ النَّجَّارَ أَنْ يَعْمَلَ لِي أَعْوَادًا أَجْلِسُ عَلَيْهِنَّ إِذَا كَلَّمْتُ النَّاسَ" فَأَمَرَتْهُ فَعَمِلَهَا مِنْ طَرْفَاءِ الْغَابَةِ، ثُمَّ جَاءَ بِهَا فَأَرْسَلَتْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَأَمَرَ بِهَا فَوُضِعَتْ هَاهُنَا" فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى عَلَيْهَا وَكَبَّرَ عَلَيْهَا، ثُمَّ رَكَعَ وَهُوَ عَلَيْهَا، ثُمَّ نَزَلَ الْقَهْقَرَى فَسَجَدَ فِي أَصْلِ الْمِنْبَرِ، ثُمَّ عَادَ" فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا صَنَعْتُ هَذَا لِتَأْتَمُّوا بِي، وَلِتَعْلَمُوا صَلَاتِي".
ابوحازم بن دینار بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگ سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، وہ لوگ منبر کے سلسلے میں جھگڑ رہے تھے کہ کس لکڑی کا تھا؟ تو انہوں نے سہل بن سعد سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ نے کہا: قسم اللہ کی! میں جانتا ہوں کہ وہ کس لکڑی کا تھا اور میں نے اسے پہلے ہی دن دیکھا جب وہ رکھا گیا اور جب اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کے پاس- جس کا سہل نے نام لیا- یہ پیغام بھیجا کہ تم اپنے نوجوان بڑھئی کو حکم دو کہ وہ میرے لیے چند لکڑیاں ایسی بنا دے جن پر بیٹھ کر میں لوگوں کو خطبہ دیا کروں، تو اس عورت نے اسے منبر کے بنانے کا حکم دیا، اس بڑھئی نے غابہ کے جھاؤ سے منبر بنایا پھر اسے لے کر وہ عورت کے پاس آیا تو اس عورت نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (ایک جگہ) رکھنے کا حکم دیا، چنانچہ وہ منبر اسی جگہ رکھا گیا، پھر میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی اور تکبیر کہی پھر اسی پر رکوع بھی کیا، پھر آپ الٹے پاؤں اترے اور منبر کی جڑ میں سجدہ کیا، پھر منبر پر واپس چلے گئے، پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی جانب متوجہ ہو کر فرمایا: لوگو! میں نے یہ اس لیے کیا ہے تاکہ تم میری پیروی کرو اور میری نماز کو جان سکو۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1080]
جناب ابوحازم بن دینار بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگ سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور وہ منبرِ نبوی کے بارے میں بحث کر رہے تھے کہ یہ کس لکڑی سے بنا تھا؟ ان لوگوں نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ”قسم اللہ کی! میں خوب جانتا ہوں کہ وہ کس چیز سے بنا تھا اور میں نے اسے پہلے ہی دن جب وہ رکھا گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھے تھے، دیکھا تھا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں عورت کے ہاں پیغام بھیجا، سہل نے اس عورت کا نام بھی ذکر کیا، کہ ”اپنے بڑھئی غلام سے کہو کہ مجھے کچھ لکڑیاں جوڑ دے، جب میں لوگوں سے خطاب کروں تو اس پر بیٹھ جایا کروں۔“ چنانچہ اس نے اپنے غلام سے کہا تو وہ اسے «طرفاء الغابة» (جنگل کی ایک لکڑی، جھاؤ) سے بنا کر لے آیا۔ اس عورت نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اسے یہاں رکھ دیا گیا۔ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اس پر نماز پڑھی۔ اس پر کھڑے ہو کر تکبیر تحریمہ کہی، پھر رکوع کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کے اوپر تھے، پھر آپ پچھلے پاؤں نیچے اتر آئے اور منبر کی جڑ میں نیچے سجدہ کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھ گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”لوگو! میں نے یہ اس لیے کیا ہے تاکہ تم میری اقتدا کرو اور میری نماز سیکھ لو۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1080]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 18 (377)، والجمعة 26 (917)، صحیح مسلم/المساجد 10 (544)، سنن النسائی/المساجد 45 (740)، (تحفة الأشراف: 4775)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 199 (1416)، مسند احمد (5/339)، سنن الدارمی/الصلاة 45 (1293) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (917) صحيح مسلم (544)
حدیث نمبر: 1081
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَدَّنَ، قَالَ لَهُ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ: أَلَا أَتَّخِذُ لَكَ مِنْبَرًا يَا رَسُولَ اللَّهِ يَجْمَعُ، أَوْ يَحْمِلُ عِظَامَكَ؟ قَالَ:" بَلَى" فَاتَّخَذَ لَهُ مِنْبَرًا مِرْقَاتَيْنِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم (بڑھاپے کی وجہ سے) جب بھاری ہو گیا تو تمیم داری رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں آپ کے لیے ایک منبر نہ تیار کر دوں جو آپ کی ہڈیوں کو مجتمع رکھے یا اٹھائے رکھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، کیوں نہیں!“، چنانچہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دو زینوں والا ایک منبر بنا دیا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1081]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قدر بھاری ہو گئے تو جناب تمیم داری رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا میں آپ کے لیے منبر نہ بنا لاؤں، جو آپ کی ہڈیوں (وجود اطہر) کو اٹھایا کرے؟ (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر تشریف فرما ہوا کریں)“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ چنانچہ وہ دو سیڑھیوں والا منبر بنا لائے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1081]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7765) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
224. باب مَوْضِعِ الْمِنْبَرِ
باب: منبر رکھنے کی جگہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1082
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ:" كَانَ بَيْنَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْحَائِطِ كَقَدْرِ مَمَرِّ الشَّاةِ".
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر اور (قبلہ والی) دیوار کے درمیان ایک بکری کے گزرنے کے بقدر جگہ تھی۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1082]
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر اور (مسجد کی) دیوار کے درمیان اتنا فاصلہ تھا کہ اس میں سے بکری گزر جائے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1082]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلا ة 91 (497)، صحیح مسلم/الصلاة 49 (509)، (تحفة الأشراف: 4537)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/46، 54) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (497) صحيح مسلم (509)
225. باب الصَّلاَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَبْلَ الزَّوَالِ
باب: جمعہ کے دن زوال سے پہلے نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1083
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّهُ كَرِهَ الصَّلَاةَ نِصْفَ النَّهَارِ إِلَّا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَقَالَ: إِنَّ جَهَنَّمَ تُسَجَّرُ إِلَّا يَوْمَ الْجُمُعَةِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: هُوَ مُرْسَلٌ، مُجَاهِدٌ أَكْبَرُ مِنْ أَبِي الْخَلِيلِ، وَأَبُو الْخَلِيلِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي قَتَادَةَ.
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھیک دوپہر کے وقت نماز پڑھنے کو ناپسند کیا ہے سوائے جمعہ کے دن کے اور آپ نے فرمایا: جہنم سوائے جمعہ کے دن کے ہر روز بھڑکائی جاتی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث مرسل (منقطع) ہے، مجاہد عمر میں ابوالخلیل سے بڑے ہیں اور ابوالخلیل کا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1083]
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نصف النہار (زوال) کے وقت نماز پڑھنا مکروہ سمجھتے تھے، سوائے جمعہ کے دن کے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک (اس وقت) جہنم بھڑکائی جاتی ہے، سوائے جمعہ کے دن کے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ روایت مرسل ہے اور مجاہد، ابوالخلیل سے بڑے ہیں اور ابوالخلیل نے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1083]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12083) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ليث بن أبي سليم ضعيف والسند منقطع كما بينه الإمام أبو داود رحمه اللّٰه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 49
إسناده ضعيف
ليث بن أبي سليم ضعيف والسند منقطع كما بينه الإمام أبو داود رحمه اللّٰه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 49
226. باب فِي وَقْتِ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1084
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيُّ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْجُمُعَةَ إِذَا مَالَتِ الشَّمْسُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ سورج ڈھلنے کے بعد پڑھتے تھے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1084]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈھلنے پر جمعہ پڑھا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1084]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجمعة 16(904)، سنن الترمذی/الجمعة 9 (503)، (تحفة الأشراف: 1089)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/128، 150، 228) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (904)
حدیث نمبر: 1085
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ الْحَارِثِ، سَمِعْتُ إِيَاسَ بْنَ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ، ثُمَّ نَنْصَرِفُ وَلَيْسَ لِلْحِيطَانِ فَيْءٌ".
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ پڑھتے تھے پھر نماز سے فارغ ہو کر واپس آتے تھے اور دیواروں کا سایہ نہ ہوتا تھا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1085]
ایاس بن سلمہ بن اکوع اپنے والد (سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ پڑھا کرتے تھے، اس کے بعد جب واپس لوٹتے تو دیواروں کا سایہ نہ ہوتا تھا۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1085]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 25 (4168)، صحیح مسلم/الجمعة 9 (860)، سنن النسائی/الجمعة 14 (1392)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 84 (1100)، (تحفة الأشراف: 4512)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/46، 50)، سنن الدارمی/الصلاة 194(1587) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (4168) صحيح مسلم (860)