الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. بَابُ مَا جَاءَ فِي رَبِيعَةِ بْنِ كَعْبٍ الْأَسْلَمِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَادِم النَّبِيِّ ﷺ وَقِصَّةِ زِوَاجِهِ وَفِيهِ مَنْقَبَةٌ لابِي بكْرِالصديق رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خادم سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ اور ان کے نکاح کا واقعہ اور اس میں سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی منقبت کا بیان
حدیث نمبر: 11696
قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ عَنْ رَبِيعَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ كُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”يَا رَبِيعَةُ أَلَا تَزَوَّجُ“ قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أُرِيدُ أَنْ أَتَزَوَّجَ مَا عِنْدِي مَا يُقِيمُ الْمَرْأَةَ وَمَا أُحِبُّ أَنْ يَشْغَلَنِي عَنْكَ شَيْءٌ فَأَعْرَضَ عَنِّي فَخَدَمْتُهُ مَا خَدَمْتُهُ ثُمَّ قَالَ لِي الثَّانِيَةَ ”يَا رَبِيعَةُ أَلَا تَزَوَّجُ“ فَقُلْتُ مَا أُرِيدُ أَنْ أَتَزَوَّجَ مَا عِنْدِي مَا يُقِيمُ الْمَرْأَةَ وَمَا أُحِبُّ أَنْ يَشْغَلَنِي عَنْكَ شَيْءٌ فَأَعْرَضَ عَنِّي ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى نَفْسِي فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَا يُصْلِحُنِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ أَعْلَمُ مِنِّي وَاللَّهِ لَئِنْ قَالَ تَزَوَّجْ لَأَقُولَنَّ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مُرْنِي بِمَا شِئْتَ قَالَ فَقَالَ ”يَا رَبِيعَةُ أَلَا تَزَوَّجُ“ فَقُلْتُ بَلَى مُرْنِي بِمَا شِئْتَ قَالَ ”انْطَلِقْ إِلَى آلِ فُلَانٍ حَيٍّ مِنَ الْأَنْصَارِ وَكَانَ فِيهِمْ تَرَاخٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْ لَهُمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَنِي إِلَيْكُمْ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُزَوِّجُونِي فُلَانَةَ لِامْرَأَةٍ مِنْهُمْ“ فَذَهَبْتُ فَقُلْتُ لَهُمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَنِي إِلَيْكُمْ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُزَوِّجُونِي فُلَانَةَ فَقَالُوا مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللَّهِ وَبِرَسُولِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ لَا يَرْجِعُ رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا بِحَاجَتِهِ فَزَوَّجُونِي وَأَلْطَفُونِي وَمَا سَأَلُونِي الْبَيِّنَةَ فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَزِينًا فَقَالَ لِي ”مَا لَكَ يَا رَبِيعَةُ“ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَيْتُ قَوْمًا كِرَامًا فَزَوَّجُونِي وَأَكْرَمُونِي وَأَلْطَفُونِي وَمَا سَأَلُونِي بَيِّنَةً وَلَيْسَ عِنْدِي صَدَاقٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا بُرَيْدَةُ الْأَسْلَمِيُّ اجْمَعُوا لَهُ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ“ قَالَ فَجَمَعُوا لِي وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ فَأَخَذْتُ مَا جَمَعُوا لِي فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”اذْهَبْ بِهَذَا إِلَيْهِمْ فَقُلْ هَذَا صَدَاقُهَا“ فَأَتَيْتُهُمْ فَقُلْتُ هَذَا صَدَاقُهَا فَرَضُوا وَقَبِلُوهُ وَقَالُوا كَثِيرٌ طَيِّبٌ قَالَ ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَزِينًا فَقَالَ ”يَا رَبِيعَةُ مَا لَكَ حَزِينٌ“ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا رَأَيْتُ قَوْمًا أَكْرَمَ مِنْهُمْ رَضُوا بِمَا آتَيْتُهُمْ وَأَحْسَنُوا وَقَالُوا كَثِيرًا طَيِّبًا وَلَيْسَ عِنْدِي مَا أُولِمُ قَالَ ”يَا بُرَيْدَةُ اجْمَعُوا لَهُ شَاةً“ قَالَ فَجَمَعُوا لِي كَبْشًا عَظِيمًا سَمِينًا فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اذْهَبْ إِلَى عَائِشَةَ فَقُلْ لَهَا فَلْتَبْعَثْ بِالْمِكْتَلِ الَّذِي فِيهِ الطَّعَامُ“ قَالَ فَأَتَيْتُهَا فَقُلْتُ لَهَا مَا أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ هَذَا الْمِكْتَلُ فِيهِ تِسْعُ آصُعِ شَعِيرٍ لَا وَاللَّهِ إِنْ أَصْبَحَ لَنَا طَعَامٌ غَيْرُهُ خُذْهُ فَأَخَذْتُهُ فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخْبَرْتُهُ مَا قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَالَ ”اذْهَبْ بِهَذَا إِلَيْهِمْ فَقُلْ لِيُصْبِحْ هَذَا عِنْدَكُمْ خُبْزًا“ فَذَهَبْتُ إِلَيْهِمْ وَذَهَبْتُ بِالْكَبْشِ وَمَعِي أُنَاسٌ مِنْ أَسْلَمَ فَقَالَ لِيُصْبِحْ هَذَا عِنْدَكُمْ خُبْزًا وَهَذَا طَبِيخًا فَقَالُوا أَمَّا الْخُبْزُ فَسَنَكْفِيكُمُوهُ وَأَمَّا الْكَبْشُ فَاكْفُونَا أَنْتُمْ فَأَخَذْنَا الْكَبْشَ أَنَا وَأُنَاسٌ مِنْ أَسْلَمَ فَذَبَحْنَاهُ وَسَلَخْنَاهُ وَطَبَخْنَاهُ فَأَصْبَحَ عِنْدَنَا خُبْزٌ وَلَحْمٌ فَأَوْلَمْتُ وَدَعَوْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي أَرْضًا وَأَعْطَانِي أَبُو بَكْرٍ أَرْضًا وَجَاءَتِ الدُّنْيَا فَاخْتَلَفْنَا فِي عِذْقِ نَخْلَةٍ فَقُلْتُ أَنَا هِيَ فِي حَدِّي وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ هِيَ فِي حَدِّي فَكَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ أَبِي بَكْرٍ كَلَامٌ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ كَلِمَةً كَرِهَهَا وَنَدِمَ فَقَالَ لِي يَا رَبِيعَةُ رُدَّ عَلَيَّ مِثْلَهَا حَتَّى تَكُونَ قِصَاصًا قَالَ قُلْتُ لَا أَفْعَلُ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لَتَقُولَنَّ أَوْ لَأَسْتَعْدِيَنَّ عَلَيْكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ مَا أَنَا بِفَاعِلٍ قَالَ وَرَفَضَ الْأَرْضَ وَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَانْطَلَقْتُ أَتْلُوهُ فَجَاءَ نَاسٌ مِنْ أَسْلَمَ فَقَالُوا لِي رَحِمَ اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ فِي أَيِّ شَيْءٍ يَسْتَعْدِي عَلَيْكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَالَ لَكَ مَا قَالَ فَقُلْتُ أَتَدْرُونَ مَا هَذَا هَذَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ هَذَا ثَانِيَ اثْنَيْنِ وَهَذَا ذُو شَيْبَةِ الْمُسْلِمِينَ إِيَّاكُمْ لَا يَلْتَفِتُ فَيَرَاكُمْ تَنْصُرُونِي عَلَيْهِ فَيَغْضَبَ فَيَأْتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَغْضَبَ لِغَضَبِهِ فَيَغْضَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِغَضَبِهِمَا فَيُهْلِكَ رَبِيعَةَ قَالُوا مَا تَأْمُرُنَا قَالَ ارْجِعُوا قَالَ فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَتَبِعْتُهُ وَحْدِي حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَهُ الْحَدِيثَ كَمَا كَانَ فَرَفَعَ إِلَيَّ رَأْسَهُ فَقَالَ ”يَا رَبِيعَةُ مَا لَكَ وَلِلصِّدِّيقِ“ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ كَذَا كَانَ كَذَا قَالَ لِي كَلِمَةً كَرِهَهَا فَقَالَ لِي قُلْ كَمَا قُلْتُ حَتَّى يَكُونَ قِصَاصًا فَأَبَيْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَجَلْ فَلَا تَرُدَّ عَلَيْهِ وَلَكِنْ قُلْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ“ فَقُلْتُ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ قَالَ الْحَسَنُ فَوَلَّى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَبْكِي
سیدنا ربیعہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ربیعہ! تم شادی کیوں نہیں کرتے؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں شادی نہیں کرنا چاہتا، میں بیوی کی ضروریات پوری کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا، میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ کوئی چیز مجھے آپ کی طرف سے مصروف (اور غافل) کر دے۔ آپ نے اس بارے میں مجھ سے مزید کچھ نہ کہا۔ پھر جب تک اللہ کو منظور تھا، میں آپ کی خدمت بجا لاتا رہا۔ کافی عرصہ بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دفعہ پھر مجھ سے فرمایا: ربیعہ! تم شادی کیوں نہیں کرتے؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں شادی نہیں کرنا چاہتا، نہ ہی میں بیوی کی ضروریات پوری کر سکتا ہوں، میں یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ کوئی چیز مجھے آپ کی طرف سے مشغول (یا غافل) کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے مزید کچھ نہ کہا، میں نے اس کے بعد دل میں سوچاکہ اللہ کے رسول بہتر جانتے ہیں کہ کونسی چیز میرے لیے دنیا اور آخرت میں بہتر ہے۔ اللہ کی قسم! اگر اب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے نکاح کے متعلق ارشاد فرمایا تو میں کہہ دوں گا کہ اللہ کے رسو ل ٹھیک ہے، آپ جو چاہیں مجھے ارشاد فرمائیں۔ آپ نے ایک دفعہ پھر مجھ سے فرمایا: ربیعہ! تم نکاح کیوں نہیں کر لیتے؟ میں نے عرض کیا:جی ٹھیک ہے، آپ جو چاہیں مجھے حکم فرمائیں، آپ نے ایک انصاری قبیلہ کا نام لے کر فرمایا کہ تم ان کے ہاں جاؤ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں کچھ وقفہ سے آیا کرتے تھے، تم جا کر ان سے کہو کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے تمہاری طرف بھیجا ہے، وہ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم اپنے خاندان کی فلاں خاتون کا نکاح میرے ساتھ کر دو، چنانچہ میں نے ان کے ہاں جا کر ان سے کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہاری طرف بھیجا ہے اور حکم دیا ہے کہ تم فلاں خاتون کا نکاح میرے ساتھ کردو۔ وہ کہنے لگے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے نمائندے کو مرحبا (خوش آمدید)، اللہ کی قسم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بھیجا ہوا آدمی اپنی ضرورت پوری کرکے واپس جائے گا۔ چنانچہ انہوں نے میرا نکاح کر دیا اور میرے ساتھ بہت اچھا برتاؤ کیا۔ انہوں نے مجھ سے اس بات کا بھی ثبوت طلب نہ کیا کہ کیا واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بھیجا بھی ہے؟ میں غمگین سا ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں واپس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: ربیعہ! کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں بہت ہی با اخلاق لوگوں کے پاس گیا، انہوں نے میری خوب آؤ بھگت کی اور میرے ساتھ حسن سلوک کیا، انہوں نے مجھ سے اس بات کی دلیل بھی نہیں مانگی کہ کیا واقعی آپ نے مجھے ان کی طرف بھیجا ہے؟ اب مسئلہ یہ ہے کہ میں مہر ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بریدہ اسلمی! تم اس کے لیے پانچ درہم چاندی کی قیمت کے مساوی سونا جمع کرو۔ پس انہوں نے میرے لیےاتنا سونا جمع کر دیا، انہوں نے میری خاطر جو سونا جمع کیا تھا میں اسے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم یہ سونا ان یعنی اپنے سسرال کے ہاں لے جاؤ اور ان سے کہنا کہ یہ اس کا مہر ہے۔ چنانچہ میں ان لوگوں کے ہاں گیا اور میں نے ان سے کہا کہ یہ اس کا (یعنی میری بیوی کا) مہر ہے۔ وہ اس پر راضی ہوگئے اور انہوں نے اسی کو قبول کر لیا اور ساتھ ہی کہا کہ یہ بہت ہی پاکیزہ ہے۔ سیدنا ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں ایک دفعہ پھر غمگین ہو کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: ربیعہ! کیا بات ہے؟ غمگین کیوں ہو؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے ان سے بڑھ کر شریف لوگ نہیں دیکھے، میں نے ان کو جو بھی دیا وہ اسی پر راضی ہوگئے اورانہوں نے خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ بہت ہے اور پاکیزہ ہے۔اب میری تو حالت یہ ہے کہ میں ولیمہ کرنے کی بھی استطاعت نہیں رکھتا۔ آپ نے فرمایا: اے بریدہ! اس کے لیے ایک بکری کا انتظام کرو۔ چنانچہ انہوں نے میرے لیے اتنی رقم جمع کر دی کہ ایک بڑا اور موٹا تازہ مینڈھا خرید لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر ان سے کھانے والا بڑا برتن لے آؤ۔ میں ان کی خدمت میں گیا اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے جو حکم فرمایا تھا، میں نے ان سے بیان کر دیا۔ انہوں نے کہا: وہ یہ برتن ہے، اس میں نو صاع (تقریباً۲۲کلو) جو ہیں۔ اللہ کی قسم! ہمارے ہاں اس کے علاوہ کھانے کی اور کوئی چیز نہیں ہے، تم یہ لے جاؤ۔ چنانچہ میں وہ لے گیا اور لے جاکر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا۔ اور ام المومنین نے جو کچھ کہا تھا وہ بھی بیان کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم یہ خوراک ان (اپنے سسرال) کے ہاں لے جاؤ۔ اور کہو کہ یہ تمہارے ہاں روٹی کے کام آئیں گے۔ چنانچہ میں مینڈھا بھی ساتھ لے کر وہاں چلا گیا، میرے ساتھ میرے قبیلہ کے لوگ بھی تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ یہ جو روٹی کے لیے اور یہ مینڈھا سالن پکانے کے لیے ہے، وہ کہنے لگے کہ روٹی ہم تیار کرتے ہیں اور مینڈھے کو تم تیار کرو، میں نے اور قبیلہ کے کچھ لوگوں نے مینڈھے کو ذبح کرکے اس کی کھال اتار کر گوشت تیار کرکے اسے پکایا، ہمارے پاس روٹی اور گوشت کا سالن تیار تھا۔ میں نے ولیمہ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی دعوت دی۔ اس سے آگے سیدنا ربیعہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بعد مجھے اور ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو قطعۂ زمین عنایت فرمایا، ہمارے پاس دنیا کا مال آگیا، میرا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا کھجور کے ایک درخت کے بارے میں جھگڑا ہو گیا۔ میں نے دعوی کیا کہ یہ میری حد میں ہے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کہا کہ یہ میری حد میں ہے۔ میرے اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کے درمیان تو تکار ہوگئی، غصے میں ابو بکر رضی اللہ عنہ ایک سخت کلمہ کہہ گئے، وہ خود انہیں بھی اچھا نہ لگا اور وہ خود اس پر نادم ہوئے، انہوں نے مجھ سے کہا: ربیعہ! تم بھی مجھے اسی قسم کے الفاظ کہہ لو، تاکہ بدلہ پورا ہو جائے۔ میں نے کہا کہ میں تو ایسے نہیں کروں گا، ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے تمہیں ایسے الفاظ کہنے ہوں گے ورنہ میں اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکایت کر دوں گا۔ میں نے کہا: میں تو ایسا کام نہیں کر سکتا یعنی آپ کو ایسے الفاظ نہیں کہہ سکتا۔ ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے وہ متنازعہ جگہ چھوڑ دی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چل دیئے، میں بھی ان کے پیچھے پیچھے چل دیا۔ میرے قبیلے بنو اسلم کے بھی کچھ لوگ آگئے اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ اللہ تعالیٰ ابوبکر رضی اللہ عنہ پر رحم کرے، وہ کس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں تیری شکایت کریں گے؟ حالانکہ سخت اور ناگوار قسم کے الفاظ تو خود انہوں نے کہے ہیں۔ میں نے ان لوگوں سے کہا: کیا تم جانتے ہو وہ کون ہیں؟ وہ ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ ہیں،وہ ثانی اثنین ہیں۔ (یعنی جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت کی تو غار میں اللہ کے رسول کے ساتھ دوسرے فرد وہی تھے۔) تمام مسلمانوں میں سے معزز و مکرم وہی ہیں۔ خبردار! خیال کرو کہ وہ کہیں مڑ کر تمہیں نہ دیکھ لیں کہ تم ان کے خلاف میری مدد کرنے آئے ہو۔ انہوں نے دیکھ لیا تو ناراض ہو جائیں گے۔ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے تو ان کے غصہ کی بنیاد پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ناراض ہو جائیں گے اور ان دونوں کی ناراضگی کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ بھی ناراض ہو جائے گا اور ربیعہ ہلاک ہو جائے گا۔ انھوں نے کہا: تو پھر تم ہمیں کیا حکم دیتے ہو؟ اس نے کہا:تم واپس چلے جاؤ۔ چنانچہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں چلے گئے، ان کے پیچھے پیچھے میں بھی اکیلا چلا گیا۔ انہوں نے جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساری بات بتلا دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف سر اٹھا کر دریافت فرمایا: ربیعہ! تمہارے اور ابو بکر کے درمیان کیا بات ہوئی ہے؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول!بات اس طرح ہوئی تھی۔ انہوں نے مجھے ایسے الفاظ کہہ دیئے جو خود انہیں بھی اچھے نہیں لگے، انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں بھی ان کو اسی قسم کے الفاظ کہوں تاکہ قصاص ہو جائے۔ لیکن میں نے ایسے الفاظ کہنے سے انکار کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہت اچھا، تم ایسے الفاظ نہ کہنا، بلکہ تم یوں کہو ابو بکر! اللہ آپ کو معاف کرے۔ تو میں نے کہا: اے ابو بکر! اللہ آپ کو معاف کرے۔ حسن نے بیان کیا کہ اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ روتے ہوئے چلے گئے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11696]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا علي نكارة في متنه، المبارك بن فضالة يدلس ويسوي، وابو عمران الجوني البصري لم يسمع من ربيعة بن كعب اخرجه الطيالسي: 1173، والطبراني في الكبير: 4577، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16577 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16693»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 11697
عَنْ نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ كَعْبٍ قَالَ كُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَقُومُ لَهُ فِي حَوَائِجِهِ نَهَارِي أَجْمَعَ حَتَّى يُصَلِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ فَأَجْلِسَ بِبَابِهِ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ أَقُولُ لَعَلَّهَا أَنْ تَحْدُثَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَاجَةٌ فَمَا أَزَالُ أَسْمَعُهُ يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ“ حَتَّى أَمَلَّ فَأَرْجِعَ أَوْ تَغْلِبَنِي عَيْنِي فَأَرْقُدَ قَالَ فَقَالَ لِي يَوْمًا لِمَا يَرَى مِنْ خِفَّتِي لَهُ وَخِدْمَتِي إِيَّاهُ ”سَلْنِي يَا رَبِيعَةُ أُعْطِكَ“ قَالَ فَقُلْتُ أَنْظُرُ فِي أَمْرِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ أُعْلِمُكَ ذَلِكَ قَالَ فَفَكَّرْتُ فِي نَفْسِي فَعَرَفْتُ أَنَّ الدُّنْيَا مُنْقَطِعَةٌ زَائِلَةٌ وَأَنَّ لِي فِيهَا رِزْقًا سَيَكْفِينِي وَيَأْتِينِي قَالَ فَقُلْتُ أَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِآخِرَتِي فَإِنَّهُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِالْمَنْزِلِ الَّذِي هُوَ بِهِ قَالَ فَجِئْتُ فَقَالَ ”مَا فَعَلْتَ يَا رَبِيعَةُ“ قَالَ فَقُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَسْأَلُكَ أَنْ تَشْفَعَ لِي إِلَى رَبِّكَ فَيُعْتِقَنِي مِنَ النَّارِ قَالَ فَقَالَ ”مَنْ أَمَرَكَ بِهَذَا يَا رَبِيعَةُ“ قَالَ فَقُلْتُ لَا وَاللَّهِ الَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَمَرَنِي بِهِ أَحَدٌ وَلَكِنَّكَ لَمَّا قُلْتَ سَلْنِي أُعْطِكَ وَكُنْتَ مِنَ اللَّهِ بِالْمَنْزِلِ الَّذِي أَنْتَ بِهِ نَظَرْتُ فِي أَمْرِي وَعَرَفْتُ أَنَّ الدُّنْيَا مُنْقَطِعَةٌ وَزَائِلَةٌ وَأَنَّ لِي فِيهَا رِزْقًا سَيَأْتِينِي فَقُلْتُ أَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِآخِرَتِي قَالَ فَصَمَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ طَوِيلًا ثُمَّ قَالَ لِي ”إِنِّي فَاعِلٌ فَأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ“
نعیم بن مجمر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ربیعہ بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا اور سارا سارا دن آپ کی ضروریات پوری کیا کرتا تھا، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عشاء کی نمازادا فرما لیتے، نماز عشاء کے بعد آپ اپنے گھر تشریف لے جاتے تو میں آپ کے دروازے پر بیٹھ رہتا۔ میں سوچتا کہ ہو سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی ضرورت پیش آجائے، میں کافی دیر تک آپ کی آواز سنتا رہتا کہ آپ سُبْحَانَ اللّٰہِ، سُبْحَانَ اللّٰہِ، سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ کے الفاظ ادا کرتے رہتے، یہاں تک کہ میں ہی تھک کر واپس آجاتا، یا مجھ پر آنکھیں غلبہ پالیتیں اور میں سو جاتا، میں چونکہ آپ کی خدمت کے لیے ہر وقت مستعد رہتا اور خوب خدمت کیا کرتا تھا، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ربیعہ! مجھ سے کچھ مانگو، میں تمہیں دوں گا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں غور کرکے عرض کروں گا۔ میں نے دل میں کافی سوچ بچار کی، مجھے خیال آیا کہ دنیا تو منقطع ہو جانے والی چیز ہے اور میرے پاس دنیوی رزق کافی ہے، مزید بھی آتا رہے گا، میں نے سوچا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آخرت کے بارے کچھ طلب کر لوں۔ کیونکہ آپ کا اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت بلند مقام ہے، چنانچہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ربیعہ! سناؤ کیا سوچا؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے سوچ لیا ہے۔ میں آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ آپ میرے حق میں رب تعالیٰ کے ہاں سفارش کریں کہ وہ مجھے جہنم سے آزاد کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’ربیعہ! یہ دعا کرنے کا تمہیں کس نے کہا؟ میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم، اس بات کا مجھے کسی نے بھی نہیں کہا، لیکن جب آپ نے مجھ سے فرمایا کہ مجھ سے مانگو میں تمہیں دوں گا اور آپ کا اللہ کے ہاں جو مقام ہے وہ تو ہے ہی۔ تو میں نے اپنے تمام معاملات میں غور کیا تو مجھے یاد آیا کہ دنیا تو منقطع ہو جانے والی چیز ہے اور میرے پاس دنیوی رزق بہت ہے اور مزید ملتا بھی رہے گا۔ میں نے سوچا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آخرت کے بارے میں کچھ طلب کر لوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کافی دیر خاموش رہے، پھر مجھ سے فرمایا: ٹھیک ہے میں یہ کام کروں گا،لیکن تم بکثرت سجدے کرکے میری مدد کرو۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11697]
تخریج الحدیث: «حديث حسن اخرجه الطبراني في الكبير: 4576، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16579 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16695»
وضاحت: فوائد: … آپ غور کریں کہ سیدنا ربیعہ کتنی دوررسی اور دور اندیشی سے کام لیا کہ دنیا میں گزارہ کر لینے کو ترجیح دی اور آخرت میں جہنم سے بچنے کو اپنا مقصود قرار دیا، آگے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ان کو صرف اپنی سفارش پر نہیں چھوڑا، بلکہ کثرت سے سجدے کرنے کی تعلیم دی۔
الحكم على الحديث: صحیح
28. مَا جَاءَ فِي زَاهِرِ بن حَرَامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا زاہر بن حرام رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11698
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ كَانَ اسْمُهُ زَاهِرًا كَانَ يُهْدِي لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْهَدِيَّةَ مِنَ الْبَادِيَةِ فَيُجَهِّزُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ زَاهِرًا بَادِيَتُنَا وَنَحْنُ حَاضِرُوهُ“ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّهُ وَكَانَ رَجُلًا دَمِيمًا فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَهُوَ يَبِيعُ مَتَاعَهُ فَاحْتَضَنَهُ مِنْ خَلْفِهِ وَهُوَ لَا يُبْصِرُهُ فَقَالَ الرَّجُلُ أَرْسِلْنِي مَنْ هَذَا فَالْتَفَتَ فَعَرَفَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ لَا يَأْلُو مَا أَلْصَقَ ظَهْرَهُ بِصَدْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ عَرَفَهُ وَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ يَشْتَرِي الْعَبْدَ“ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذًا وَاللَّهِ تَجِدُنِي كَاسِدًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَكِنْ عِنْدَ اللَّهِ لَسْتَ بِكَاسِدٍ“ أَوْ قَالَ ”لَكِنْ عِنْدَ اللَّهِ أَنْتَ غَالٍ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی آدمی، جس کا نام زاہرتھا، وہ دیہات سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں تحائف لایا کرتا تھا، اس کی واپسی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اسے بدلے میں کوئی چیز عطا فرمایا کرتے تھے، ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زاہر ہمارا دیہاتی اور ہم اس کے شہری ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس سے بہت محبت تھی، وہ حسین نہیں تھے، وہ ایک دن اپنا سامان بیچ رہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس پہنچ گئے، وہ نہ دیکھ سکا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے پیچھے سے اسے پکڑ کر اپنے بازووں کے حصار میں لے لیا، وہ کہنے لگا: مجھے چھوڑ، کون ہے؟ اس نے مڑ کر دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہچان لیا، اب وہ کوشش کرکے اپنی پشت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینہ مبارک کے ساتھ اچھی طرح لگانے لگا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمانے لگے: اس غلام کو کون خریدے گا؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! آپ مجھے کم قیمت پائیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لیکن تم اللہ کے ہاں تو کم قیمت نہیں ہو، بلکہ اللہ کے ہاں تمہاری بہت زیادہ قیمت ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11698]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين اخرجه الترمذي في الشمائل: 239، وابن حبان: 5790، وابويعلي: 3456، والبيھقي: 6/ 169، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12648 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12676»
وضاحت: فوائد: … اگرچہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک مزاحیہ انداز تھا، لیکن دراصل اس انداز میں اس صحابی کی دلجوئی تھی۔
الحكم على الحديث: صحیح
29. بَابُ مَا جَاءَ فِي الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11699
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اشْتَدَّ الْأَمْرُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَلَا رَجُلٌ يَأْتِينَا بِخَبَرِ بَنِي قُرَيْظَةَ“ فَانْطَلَقَ الزُّبَيْرُ فَجَاءَ بِخَبَرِهِمْ ثُمَّ اشْتَدَّ الْأَمْرُ أَيْضًا فَذَكَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا وَإِنَّ الزُّبَيْرَ حَوَارِيِّي“
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خندق کے دن جب حالات سنگین ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی ہے جو جا کر بنو قریظہ کی خبر لے کر آئے۔ یہ سن کر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ گئے اور ان کے احوال معلوم کرکے آئے، جب پھر معاملہ سخت ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی طرح تین مرتبہ فرمایاکہ کون ہے جو بنو قریظہ کے احوال معلوم کرکے آئے۔ ہر بار سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اٹھ کر گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیرہے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11699]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2847، 2997،ومسلم: 2415، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14375 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14428»
وضاحت: فوائد: … خندق کا دن انتہائی خوف کا دن تھا اور تیز ہوا چل رہی تھی،لیکن سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ حکم نبوی پر اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے سے بچنا نہیں چاہتے تھے۔ حواری سے مراد خاص اور مخلص مدد گار ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11700
عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”الزُّبَيْرُ ابْنُ عَمَّتِي وَحَوَارِيِّي مِنْ أُمَّتِي“
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زبیر میرا پھوپھی زاد اور میری امت میں سے میرا حواری ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11700]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين اخرجه ابن ابي شيبة: 12/ 92، والنسائي في الكبري: 8212، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14374 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14427»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11701
حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ اسْتَأْذَنَ ابْنُ جُرْمُوزٍ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَنَا عِنْدَهُ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَشِّرْ قَاتِلَ ابْنِ صَفِيَّةَ بِالنَّارِ ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ“ سَمِعْتُ سُفْيَانَ يَقُولُ الْحَوَارِيُّ النَّاصِرُ
زربن جیش سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھا کہ ابن جرموز نے ان سے اندر آنے کی اجازت طلب کی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے بیٹےیعنی سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے قاتل کو جہنم کی بشارت دے دو۔ اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر نبی کا ایک حواری ہوتاہے اور میرا حواری زبیر ہے۔ امام سفیان نے کہا: حواری سے مراد مدگار ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11701]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه الترمذي: 3744، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 681 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 681»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11702
عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ اسْتَأْذَنَ ابْنُ جُرْمُوزٍ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ مَنْ هَذَا قَالُوا ابْنُ جَرْمُوزٍ يَسْتَأْذِنُ قَالَ ائْذَنُوا لَهُ لِيَدْخُلْ قَاتِلُ الزُّبَيْرِ النَّارَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ الْمُتَقَدِّمَ
زر بن جیش سے روایت ہے کہ ابن جرموز نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاں آنے کی اجازت طلب کی، انھوں نے دریافت کیا: کون ہے؟ لوگوں نے بتلایا کہ ابن جرموز آنے کی اجازت طلب کر رہا ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اسے آنے دو، زبیر کا قاتل ضرور بالضرور جہنم رسید ہوگا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہتے سنا، پھر سابق حدیث کی طرح کی حدیث بیان کی۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11702]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 680»
وضاحت: فوائد: … جنگ جمل میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے مخالف تھے، جب ان دونوں کی ملاقات ہوئی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو یہ حدیثیاد کرائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (اے زبیر!)خبردار! تو علی کی مخالفت میں نکلے گا اور تو اس سے لڑے گا، جبکہ تو ظالم ہو گا۔ یہ سن کر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ لڑائی سے رک گئے اور وہاں سے واپس پلٹ گئے، عمرو بن جرموز نے وادیٔ سباع میں ان کو پا لیا اور دھوکے سے قتل کر دیا، پھر ان کی تلوار اور سر لے کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا، اس سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بہت غم اور رنج ہوا تھا اور انھوں نے اس کو جہنم کی خوشخبری سنائی تھی۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11703
عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لِابْنِهِ عَبْدِ اللَّهِ يَا بُنَيَّ أَمَا وَاللَّهِ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيَجْمَعُ لِي أَبَوَيْهِ جَمِيعًا يُفْدِينِي بِهِمَا يَقُولُ ”فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي“
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے اپنے بیٹے عبداللہ سے کہا: میرے پیارے بیٹے! اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے مخاطب ہوتے ہوئے اپنے والدین کا ذکر کرکے فرمایا کرتے تھے: تجھ پر میرے والدین قربان ہوں۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11703]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3720،ومسلم: 2416، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1409 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1409»
وضاحت: فوائد: … بڑی شان ہے اس فردِ عظیم کی کہ جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوں خطاب کریں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والدین اس پر قربان ہوں، لیکن بعض دیگر صحابہ کی مثالیں بھی موجود ہیں، ان کے حق میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والدین فدا ہوں، دیکھیں حدیث نمبر (۱۱۷۱۶)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11704
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ أَنَّهُ سَمِعَ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ عِنْدِي لِلزُّبَيْرِ سَاعِدَانِ مِنْ دِيَاجٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُمَا إِيَّاهُ يُقَاتِلُ فِيهِمَا
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے غلام عبد اللہ سے مروی ہے کہ اس نے سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: میرے پاس زبیر رضی اللہ عنہ کی دو آستینیں ہیں، جو ریشم کی بنی ہوئی وہ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عنایت کی تھیں، وہ انہیں پہن کر دشمن کے مقابلے کو نکلا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11704]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابن لھيعة تفرد به، وھو ممن لا يحتمل تفرده، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26975 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27515»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11705
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَرْوَانَ وَمَا أَخَالُهُ يُتَّهَمُ عَلَيْنَا قَالَ أَصَابَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رُعَافٌ سَنَةَ الرُّعَافِ حَتَّى تَخَلَّفَ عَنِ الْحَجِّ وَأَوْصَى فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالَ اسْتَخْلِفْ قَالَ وَقَالُوهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ مَنْ هُوَ قَالَ فَسَكَتَ قَالَ ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ مَا قَالَ لَهُ الْأَوَّلُ وَرَدَّ عَلَيْهِ نَحْوَ ذَلِكَ قَالَ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالُوا الزُّبَيْرَ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنْ كَانَ لَخَيْرَهُمْ مَا عَلِمْتُ وَأَحَبَّهُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ہشام بن عروہ اپنے والد سے اور وہ مروان سے بیان کرتے ہیں،میں نہیں سمجھتا کہ وہ ہمارے نزدیک قابل تہمت ہو، ا س نے کہا کہ (۳۱) سن ہجری جو کہ سنۃ الرعاف یعنی نکسیر کا سال کہلاتا ہے، اس سال سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو نکسیر آئی اور ان کو اس قدر نکسیر آنے لگی کہ وہ حج کے لیے بھی نہ جا سکے اور انہیں موت کا اندیشہ لاحق ہوا تو انہوں نے اپنے بعد وصیت بھی کر دی، ایک قریشی آدمی ان کی خدمت میں گیا تو اس نے پوچھا: کیا آپ کے بعد کسی کو خلیفہ نام زد کر دیا گیا ہے؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کیا لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، انھوں نے پوچھا: وہ کون ہے یعنی خلیفہ کسے نامزد کیا گیاہے؟ وہ خاموش رہا، پھر ایک اور آدمی آیا اور اس نے بھی پہلے آدمی والی بات کی اور انہوں نے اسے بھی وہی جواب دیا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا لوگ زبیر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنائے جانے کا ذکر کرتے ہیں۔ اس نے کہا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میرے علم کے مطابق وہ سب سے افضل ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11705]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3717، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 455 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 455»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نکسیر کے مرض میں مبتلا ہوئے اور لوگوں میں مشہور ہو گیا کہ انہوں نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو اپنا خلیفہ نامزد کر دیا ہے، حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں ہوئی تھی، تاہم اس سے پتہ چلا کہ عوام کی نظروں میں وہ اس قابل تھے کہ ان کو خلیفہ مقرر کر دیا جاتا۔
الحكم على الحديث: صحیح