🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. بَابُ مَا جَاءَ فِي خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11686
عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى خَبَّابٍ وَقَدِ اكْتَوَى سَبْعًا فَقَالَ لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ“ لَتَمَنَّيْتُهُ وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا أَمْلِكُ دِرْهَمًا وَإِنَّ فِي جَانِبِ بَيْتِي الْآنَ لَأَرْبَعِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ قَالَ ثُمَّ أُتِيَ بِكَفَنِهِ فَلَمَّا رَآهُ بَكَى قَالَ لَكِنَّ حَمْزَةَ لَمْ يُوجَدْ لَهُ كَفَنٌ إِلَّا بُرْدَةٌ مَلْحَاءُ إِذَا جُعِلَتْ عَلَى رَأْسِهِ قَلَصَتْ عَنْ قَدَمَيْهِ وَإِذَا جُعِلَتْ عَلَى قَدَمَيْهِ قَلَصَتْ عَنْ رَأْسِهِ حَتَّى مُدَّتْ عَلَى رَأْسِهِ وَجُعِلَ عَلَى قَدَمَيْهِ الْإِذْخِرُ
حارثہ بن مضرب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گیا، وہ ایک بیماری کے علاج کے سلسلہ میں سات داغ لگوا چکے تھے، مگر کچھ افاقہ نہ ہوا تھا، انھوں نے کہا:اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ نہ سنا ہوتا کہ تم میں سے کوئی آدمی موت کی تمنا نہ کرے۔ تو میں ضرور موت کی تمنا کرتا۔ میں نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اس حال میں دیکھا ہے کہ میرے پاس ایک بھی درہم نہیں ہوتا تھا اور اب یہ حال ہے کہ میرے گھر کے ایک کونے میں چالیس ہزار درہم موجود ہیں، اس کے بعد ان کے پاس ان کا کفن لایا گیا، وہ اسے دیکھ کر رونے لگے اور پھر کہا: ہمارے پاس ایسا کفن موجود ہے۔ لیکن سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ بھی تھے کہ ان کے کفن کے لیے محض ایک دھاری دار چادر تھی،ان کے سر پر ڈالی جاتی تو ان کے پاؤں ننگے ہو جاتے اور جب ان کے پاؤں پر ڈالی جاتی تو سر سے اتر جاتی، بالآخر اسے ان کے سر پر ڈال دیا گیا اور ان کے پاؤں پر اذخرڈال دی گئی۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11686]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح اخرجه الطبراني: 3674، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27219 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27761»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11687
عَنْ خَبَّابٍ بْنِ الْأَرَتِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَبْتَغِي وَجْهَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَوَجَبَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَمِنَّا مَنْ مَضَى لَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ فَلَمْ نَجِدْ شَيْئًا نُكَفِّنُهُ فِيهِ إِلَّا نَمِرَةً كُنَّا إِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَأْسَهُ خَرَجَتْ رِجْلَاهُ وَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ خَرَجَ رَأْسُهُ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُغَطِّيَ بِهَا رَأْسَهُ وَنَجْعَلَ عَلَى رِجْلَيْهِ إِذْخِرًا وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهُوَ يَهْدِي بِهَا يَعْنِي يَجْتَنِيهَا
سیّدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی، اس لیے اللہ تعالیٰ پر ہمارا ثواب ثابت ہو گیا(جیسا کہ اس نے وعدہ کیا ہے)۔ پھر ہم میں بعض لوگ ایسے تھے، جو اپنے عمل کا اجر کھائے بغیر اللہ کے پاس چلے گئے، ان میں سے ایک سیّدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ بھی تھے، جو احد کے دن شہید ہو گئے، ہمیں ان کے کفن کے لیے صرف ایک چادر مل سکی اور وہ بھی اس قدر مختصر تھی کہ جب ہم ان کا سر ڈھانپتے تو پاؤں ننگے ہو جاتے اور جب ان کے پاؤں کو ڈھانپا جاتا تو سر ننگا ہو جاتا۔بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ان کا سر ڈھانپ دیں اور ان کے پاؤں پر اذخر (گھاس) ڈال دیں، جبکہ ہم میں بعض ایسے بھی ہیں جن کا پھل تیار ہو چکا اور اب وہ اسے چن رہا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11687]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري:1276، 3913، 3914، 4047، ومسلم: 940، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21058 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21372»
وضاحت: فوائد: … آخری جملے کا مطلب فتوحات کے نتیجے میںملنے والی غنیمتیں اور دوسرے اسبابِ دنیا ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11688
عَنْ خَبَّابٍ قَالَ شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ فَقُلْنَا أَلَا تَسْتَنْصِرُ لَنَا اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَوْ أَلَا تَسْتَنْصِرُ لَنَا فَقَالَ ”قَدْ كَانَ الرَّجُلُ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ يُؤْخَذُ فَيُحْفَرُ لَهُ فِي الْأَرْضِ فَيُجَاءُ بِالْمِنْشَارِ عَلَى رَأْسِهِ فَيُجْعَلُ بِنِصْفَيْنِ فَمَا يَصُدُّهُ ذَلِكَ عَنْ دِينِهِ وَيُمَشَّطُ بِأَمْشَاطِ الْحَدِيدِ مَا دُونَ عَظْمِهِ مِنْ لَحْمٍ وَعَصَبٍ فَمَا يَصُدُّهُ ذَلِكَ وَاللَّهِ لَيُتِمَّنَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذَا الْأَمْرَ حَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى حَضْرَمَوْتَ لَا يَخَافُ إِلَّا اللَّهَ تَعَالَى وَالذِّئْبَ عَلَى غَنَمِهِ وَلَكِنَّكُمْ تَسْتَعْجِلُونَ“
سیدنا خباب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کفار کے مظالم کی شکایت کی، اس وقت آپ کعبہ کے سائے میں ایک چادر کو سر کے نیچے رکھے لیٹے ہوئے تھے۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: آپ اللہ تعالیٰ سے ہماری نصرت کی دعا کیوں نہیں فرماتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے والے لوگوں پر یہ حالات بھی آئے کہ ایک آدمی کو زمین میں گڑھا کھود کر اس میں کھڑا کر دیا جاتا اور پھر اس کے سر پر آرا چلا کر اس کے دو ٹکڑے کر دیئے جاتے۔ اس قدر ظلم بھی ان لوگوں کو دین سے نہ ہٹانا۔ اور ان لوگوں کے جسموں پر لوہے کی کنگھیاں چلا دی جائیں اور وہ ان کی ہڈیوں اور پٹھوں کے اوپر سے گوشت ادھیڑ کر رکھ دیتیں۔ اس کے باوجود وہ لوگ دین سے پیچھے نہ ہٹتے۔ اللہ کی قسم، اللہ تعالیٰ ضرور بالضرور اپنے دین کو اس حد تک مکمل اور غالب کرے گا کہ ایک سوار مدینہ منورہ سے روانہ ہو کر حضر موت تک کا سفر کرے گا۔ اسے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا خوف نہ ہوگا۔ حتیٰ کہ اسے اپنی بکریوں پر بھیڑیوں کے حملے کا بھی خوف نہ ہوگا۔ تم تو بہت جلدی کر رہے ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11688]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3612، 6943، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21073 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21388»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ ہمیںمعاف فرمائے، اسلام کی وجہ سے کیسی کیسی آزمائشوں میں مبتلا ہونا پڑتاہے، مکہ مکرمہ میں سیدنا خباب رضی اللہ عنہ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ وغیرہ پر کون سا ظلم نہیں ڈھایا گیا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان مظالم پر صبر کرنے اور جلدی نہ کرنے کی تلقین کی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ حُبَيْبِ الْأَنْصَارِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا خبیب انصاری رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11689
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةَ رَهْطٍ عَيْنًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتِ بْنِ أَبِي الْأَقْلَحِ جَدَّ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَانْطَلَقُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْهَدَّةِ بَيْنَ عُسْفَانَ وَمَكَّةَ ذُكِرُوا لِحَيٍّ مِنْ هُذَيْلٍ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو لِحْيَانَ فَنَفَرُوا لَهُمْ بِقَرِيبٍ مِنْ مِائَةِ رَجُلٍ رَامٍ فَاقْتَصُّوا آثَارَهُمْ حَتَّى وَجَدُوا مَأْكَلَهُمُ التَّمْرَ فِي مَنْزِلٍ نَزَلُوهُ قَالُوا نَوَى تَمْرِ يَثْرِبَ فَاتَّبَعُوا آثَارَهُمْ فَلَمَّا أُخْبِرَ بِهِمْ عَاصِمٌ وَأَصْحَابُهُ لَجَأُوا إِلَى فَدْفَدٍ فَأَحَاطَ بِهِمُ الْقَوْمُ فَقَالُوا لَهُمْ انْزِلُوا وَأَعْطُونَا بِأَيْدِيكُمْ وَلَكُمُ الْعَهْدُ وَالْمِيثَاقُ أَنْ لَا نَقْتُلَ مِنْكُمْ أَحَدًا فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ أَمِيرُ الْقَوْمِ أَمَّا أَنَا وَاللَّهِ لَا أَنْزِلُ فِي ذِمَّةِ كَافِرٍ اللَّهُمَّ أَخْبِرْ عَنَّا نَبِيَّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَمَوْهُمْ بِالنَّبْلِ فَقَتَلُوا عَاصِمًا فِي سَبْعَةٍ وَنَزَلَ إِلَيْهِمْ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ عَلَى الْعَهْدِ وَالْمِيثَاقِ مِنْهُمْ خُبَيْبٌ الْأَنْصَارِيُّ وَزَيْدُ بْنُ الدَّثِنَةِ وَرَجُلٌ آخَرُ فَلَمَّا تَمَكَّنُوا مِنْهُمْ أَطْلَقُوا أَوْتَارَ قِسِيِّهِمْ فَرَبَطُوهُمْ بِهَا فَقَالَ الرَّجُلُ الثَّالِثُ هَذَا أَوَّلُ الْغَدْرِ وَاللَّهِ لَا أَصْحَبُكُمْ إِنَّ لِي بِهَؤُلَاءِ لَأُسْوَةً يُرِيدُ الْقَتْلَ فَجَرَّرُوهُ وَعَالَجُوهُ فَأَبَى أَنْ يَصْحَبَهُمْ فَقَتَلُوهُ فَانْطَلَقُوا بِخُبَيْبٍ وَزَيْدِ بْنِ الدَّثِنَةِ حَتَّى بَاعُوهُمَا بِمَكَّةَ بَعْدَ وَقْعَةِ بَدْرٍ فَابْتَاعَ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ عَامِرِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ خُبَيْبًا وَكَانَ خُبَيْبٌ هُوَ قَتَلَ الْحَارِثَ بْنَ عَامِرِ بْنِ نَوْفَلٍ يَوْمَ بَدْرٍ فَلَبِثَ خُبَيْبٌ عِنْدَهُمْ أَسِيرًا حَتَّى أَجْمَعُوا قَتْلَهُ فَاسْتَعَارَ مِنْ بَعْضِ بَنَاتِ الْحَارِثِ مُوسَى يَسْتَحِدُّ بِهَا لِلْقَتْلِ فَأَعَارَتْهُ إِيَّاهَا فَدَرَجَ بُنَيٌّ لَهَا قَالَتْ وَأَنَا غَافِلَةٌ حَتَّى أَتَاهُ فَوَجَدْتُهُ يُجْلِسُهُ عَلَى فَخِذِهِ وَالْمُوسَى بِيَدِهِ قَالَتْ فَفَزِعْتُ فَزْعَةً عَرَفَهَا خُبَيْبٌ قَالَ أَتَخْشَيْنَ أَنِّي أَقْتُلُهُ مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَ فَقَالَتْ وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ أَسِيرًا قَطُّ خَيْرًا مِنْ خُبَيْبٍ قَالَتْ وَاللَّهِ لَقَدْ وَجَدْتُهُ يَوْمًا يَأْكُلُ قِطْفًا مِنْ عِنَبٍ فِي يَدِهِ وَإِنَّهُ لَمُوثَقٌ فِي الْحَدِيدِ وَمَا بِمَكَّةَ مِنْ ثَمَرَةٍ وَكَانَتْ تَقُولُ إِنَّهُ لَرِزْقٌ رَزَقَهُ اللَّهُ خُبَيْبًا فَلَمَّا خَرَجُوا بِهِ مِنَ الْحَرَمِ لِيَقْتُلُوهُ فِي الْحِلِّ قَالَ لَهُمْ خُبَيْبٌ دَعُونِي أَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ فَتَرَكُوهُ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ لَوْلَا أَنْ تَحْسِبُوا أَنَّ مَا بِي جَزَعًا مِنَ الْقَتْلِ لَزِدْتُ اللَّهُمَّ أَحْصِهِمْ عَدَدًا وَاقْتُلْهُمْ بَدَدًا وَلَا تُبْقِ مِنْهُمْ أَحَدًا فَلَسْتُ أُبَالِي حِينَ أُقْتَلُ مُسْلِمًا عَلَى أَيِّ جَنْبٍ كَانَ لِلَّهِ مَصْرَعِي وَذَلِكَ فِي ذَاتِ الْإِلَهِ وَإِنْ يَشَأْ يُبَارِكْ عَلَى أَوْصَالِ شِلْوٍ مُمَزَّعِ ثُمَّ قَامَ إِلَيْهِ أَبُو سِرْوَعَةَ عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ فَقَتَلَهُ وَكَانَ خُبَيْبٌ هُوَ سَنَّ لِكُلِّ مُسْلِمٍ قُتِلَ صَبْرًا الصَّلَاةَ وَاسْتَجَابَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِعَاصِمِ بْنِ ثَابِتٍ يَوْمَ أُصِيبَ فَأَخْبَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ يَوْمَ أُصِيبُوا خَبَرَهُمْ وَبَعَثَ نَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَى عَاصِمِ بْنِ ثَابِتٍ حِينَ حُدِّثُوا أَنَّهُ قُتِلَ لِيُؤْتَى بِشَيْءٍ مِنْهُ يُعْرَفُ وَكَانَ قَتَلَ رَجُلًا مِنْ عُظَمَائِهِمْ يَوْمَ بَدْرٍ فَبَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى عَاصِمٍ مِثْلَ الظُّلَّةِ مِنَ الدَّبْرِ فَحَمَتْهُ مِنْ رُسُلِهِمْ فَلَمْ يَقْدِرُوا عَلَى أَنْ يَقْطَعُوا مِنْهُ شَيْئًا
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس آدمیوں کی ایک جماعت کو اہل مکہ کی جاسوسی کے لیے روانہ فرمایااور ان پر عاصم بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے نانا سیدنا عاصم بن ثابت بن اقلح انصاری رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کیا،یہ لوگ روانہ ہوئے، جب یہ عسفان اور مکہ مکرمہ کے درمیان ہَدَّہ کے مقام پر پہنچے تو بنو ہذیل کے ایک قبیلے بنو لحیان کو ان کی خبرہو گئی۔ وہ تقریباً ایک سو تیر اندازوں کا جتھہ بن کر ان کی طرف نکل پڑے، ان کے قدموں کے نشانات پر چلتے چلتے ایک مقام پر جا پہنچے، جہاں ان لوگوں نے قیام کیا تھا،ان کے کھانے کے آثار دیکھ کر انھوں نے کہا کہ یہ تو یثرب کی کھجوروں کی گٹھلیاں ہیں، وہ ان کے آثار و علامات کے پیچھے چلتے رہے۔ جب عاصم اور ان کے ساتھیوں کو ان کفار کے بارے میں پتہ چلا تو وہ ایک بلند پہاڑی پر چڑھ گئے۔ تو کفار نے ان کا محاصرہ کر لیا۔ اور ان سے کہا کہ تم نیچے اتر آؤ اور اپنے ہاتھ ہمارے ہاتھوں میں دے دو۔ ہم تمہارے ساتھ وعدہ کرتے ہیں کہ ہم تم میں سے کسی کو بھی قتل نہیں کریں گے، امیر لشکر سیدنا عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو کسی کافر کی پناہ میں نہیں جاتا۔ یا اللہ! ہمارے ان حالات سے اپنے نبی کو مطلع کر دینا، کفار نے مسلمانوں پر تیر برسائے اور سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ سمیت سات مسلمانوں کو شہید کر دیا اور باقی تین آدمی سیدنا خبیب انصاری رضی اللہ عنہ، سیدنا زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ اور ایک تیسرا شخص ان کے عہدو میثاق کے جھانسے میں آگئے، جب کفار نے ان پر اچھی طرح قابو پالیا تو انہوں نے اپنی کمانوں کی رسیاں کھول کر ان کے ساتھ ان تینوں کو باندھ لیا، ان تین میں سے تیسرا آدمی بولا کہ یہ تمہاری پہلی بدعہدی ہے۔ اللہ کی قسم!میں تمہارے ساتھ بالکل نہیں جاؤں گا اور اس نے ان مقتولین یعنی شہداء ساتھیوں کی طرف اشارہ کرکے کہاکہ میرے لیےیہ لوگ بہترین نمونہ ہیں۔ کفار نے اسے گھسیٹا اور پورا زور لگایا مگر اس نے ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔ آخر کار کافروں نے اسے بھی قتل کر دیا او ر انہوں نے سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ کو اور سیدنا زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے جا کر مکہ میں فروخت کر دیا،یہ سارا واقعہ بدر کے بعد پیش آیا تھا، حارث بن نوفل بن عبد مناف کی اولاد نے سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ کو خرید لیا، کیونکہ سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ نے حارث بن عامر بن نوفل کو بدر والے دن قتل کیا تھا، سو وہ قیدی کی حیثیت سے ان کے ہاں رہے تاآنکہ انہوں نے ان کو قتل کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا۔ خبیب رضی اللہ عنہ نے حارث کی ایک بیٹی سے استرا طلب کیا تاکہ قتل ہونے سے پہلے غیر ضروری بال صاف کر لیں، اس نے ان کو استرا لا دیا، اس کا ایک چھوٹا سا بیٹا خبیب رضی اللہ عنہ کی طرف آگیا، ماں کو پتہ نہ چل سکا تھا، جب ماں اسے تلاش کرتے کرتے ادھر آئی تو دیکھا کہ خبیب رضی اللہ عنہ نے بچے کو اپنی ران پر بٹھایا ہوا ہے اور استرا ان کے ہاتھ میں ہے۔ اس عورت سے مروی ہے کہ میں یہ منظر دیکھ کر خوف زدہ ہوگئی، خبیب رضی اللہ عنہ میری پریشانی کو بھانپ گئے اور کہنے لگے: کیا تمہیں ڈر ہے کہ میں اسے قتل کر دوں گا، میں ہر گز ایسا نہیں کر سکتا۔ وہ کہتی ہے کہ میں نے کبھی بھی خبیب رضی اللہ عنہ سے بہتر قیدی کوئی نہیں دیکھا۔ اللہ کی قسم! میں نے ایک دن اسے دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں انگور کا گچھا تھا اور وہ اسے کھا رہے تھے، حالانکہ وہ تو زنجیروں میں بندھے ہوئے تھے اور ان دنوں مکہ میں کوئی پھل بھی دستیاب نہیں تھا، وہ کہا کرتی تھی کہ وہ رزق تھا جو اللہ تعالیٰ نے خبیب رضی اللہ عنہ کو عطا کیا تھا۔ وہ لوگ جب خبیب رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کے لیے حرم سے باہر لے چلے تو سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: مجھے دو رکعت نماز ادا کر لینے دو۔ انہوں نے اسے اجازت دے دی۔ چنانچہ انہوں نے دو رکعت نماز ادا کی۔ پھر کہا: اللہ کی قسم اگر تم یہ گمان نہ کرتے کہ مجھے قتل کا خوف لاحق ہے تو میں مزید نماز بھی ادا کرتا۔ یا اللہ! ان کی تعداد کو شمار میں رکھ۔ ان سب کو الگ الگ ہلاک کر اور ان میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑ، پھر انھوں نے کہا: میں بحالت اسلام قتل ہو رہا ہوں تو مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ میں اللہ کی راہ میں کس پہلو پر گر رہا ہوں، میرے ساتھ یہ سلوک اللہ کی راہ میں یعنی اللہ پر ایمان لانے کے نتیجہ میں ہو رہا ہے، اگر اللہ چاہے تو میرے جسم کے بکھرے ہوئے اعضاء میں بھی برکتیں ڈال دے۔اس کے بعد ابو سروعہ عقبہ بن حارث اٹھ کر ان کی طرف گیا اور انہیں شہید کر دیا۔ سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ نے ہر مسلمان کے لیےیہ طریقہ جاری کر دیا کہ جب اسے ظلماً قتل کیا جا رہا ہو تو وہ قتل ہونے سے پہلے نماز ادا کرے اور اللہ تعالیٰ نے عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کے قتل والے دن کی دعا قبول کیا ور اسی واقعہ کے روز اللہ نے اپنے رسول اور ان کے صحابہ کو ان کے واقعہ کی اطلاع کر دی۔ جب قریش کو سیدنا عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کے قتل کی خبر ہوئی تو انہوں نے مزیدیقین کے لیے لوگوں کو بھیجا تاکہ وہ ان کے جسم کے کچھ حصے کاٹ لائیں۔ سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ نے بدر کے دن رؤسائے قریش میں سے ایک بڑے سردار کو قتل کیا تھا، وہ لوگ آئے تو اللہ تعالیٰ نے بھڑوں کی فوج ادھر بھیج دی۔ وہ عاصم رضی اللہ عنہ کے جسم پر بادل کی مانند چھا گئی اور ان قریشی نمائندوں سے ان کے جسم کو بچایا اور وہ ان کے جسم کے کسی بھی حصہ کو نہ کاٹ سکے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11689]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3989، 7402، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7928 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7915»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں صحابۂ کرام کی عظمت کے ساتھ ساتھ اولیاء اللہ کی کرامتوں کا بیان بھی ہے، ہاں ہمارے معاشرے میں یہ سمجھنا انتہائی ضروری ہو گیا ہے کہ اللہ کا ولی کس کو کہتے ہیں، اس امت کے سب سے بڑے اولیا صحابۂ کرام تھے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کرنے کے لیےان کی سیرت کو اسوۂ حسنہ بنائے گا، وہ ولایت تک پہنچتا جائے گا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11690
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ وَحْدَهُ عَيْنًا إِلَى قُرَيْشٍ قَالَ جِئْتُ إِلَى خَشَبَةِ خُبَيْبٍ وَأَنَا أَتَخَوَّفُ الْعُيُونَ فَرَقِيتُ فِيهَا فَحَلَلْتُ خُبَيْبًا فَوَقَعَ إِلَى الْأَرْضِ فَانْتَبَذْتُ غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ الْتَفَتُّ فَلَمْ أَرَ خُبَيْبًا وَلَكَأَنَّمَا ابْتَلَعَتْهُ الْأَرْضُ فَلَمْ يُرَ لِخُبَيْبٍ أَثَرٌ حَتَّى السَّاعَةِ
سیدنا عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس اکیلے کو قریش کی طرف جاسوس کی حیثیت سے روانہ کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اس لکڑی کے پاس آیا، جس پر خبیب رضی اللہ عنہ کو لٹکایا گیا تھا۔ مجھے قریش کا بھی ڈر تھا کہ کہیں وہ مجھے دیکھ نہ لیں، میں اس لکڑی پر چڑھ گیا، میں نے خبیب رضی اللہ عنہ کی رسی کو کھولا، وہ زمین پر گرے۔ جب میں نے ان کی طرف دھیان کیا تو خبیب رضی اللہ عنہ کا جسم مجھے دکھائی نہیں دیا،یوں لگتا ہے زمین ان کو نگل گئی، اب تک ان کے جسم کا کوئی اثر دکھائی نہیں دیا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11690]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، فيه عدة علل: ابراهيم بن اسماعيل الانصاري ضعيف، وقد اضطرب فيه، وجعفر بن عمرو مجھول، والاسناد منقطع لان جعفر بن عمر لم يدرك عمرو بن امية اخرجه الطبراني في الكبير: 4193، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17252 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17384»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. بَابُ مَا جَاءَ فِي خُرَيْمِ الْأَسَدِى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا خریم اسدی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11691
عَنْ قَيْسِ بْنِ بِشْرٍ التَّغْلَبِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي وَكَانَ جَلِيسًا لِأَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ كَانَ بِدِمَشْقَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ وَكَانَ رَجُلًا مُتَوَحِّدًا قَلَّمَا يُجَالِسُ النَّاسَ إِنَّمَا هُوَ فِي صَلَاةٍ فَإِذَا فَرَغَ فَإِنَّمَا يُسَبِّحُ وَيُكَبِّرُ حَتَّى يَأْتِيَ أَهْلَهُ فَمَرَّ بِنَا يَوْمًا وَنَحْنُ عِنْدَ أَبِي الدَّرْدَاءِ فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ كَلِمَةً تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”نِعْمَ الرَّجُلُ خُرَيْمٌ الْأَسَدِيُّ لَوْلَا طُولُ جُمَّتِهِ وَإِسْبَالُ إِزَارِهِ“ فَبَلَغَ ذَلِكَ خُرَيْمًا فَجَعَلَ يَأْخُذُ شَفْرَةً يَقْطَعُ بِهَا شَعَرَهُ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ وَرَفَعَ إِزَارَهُ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ قَالَ فَأَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ دَخَلْتُ بَعْدَ ذَلِكَ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَإِذَا عِنْدَهُ شَيْخٌ جُمَّتُهُ فَوْقَ أُذُنَيْهِ وَرِدَاؤُهُ إِلَى سَاقَيْهِ فَسَأَلْتُ عَنْهُ فَقَالُوا هَذَا خُرَيْمٌ الْأَسَدِيُّ
بشر تغلبی سے مروی ہے کہ وہ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا کرتے تھے، انہوں نے بتلایا کہ دمشق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی تھے، ان کو ابن حنظلیہ رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا،وہ گوشتہ نشین قسم کے آدمی تھے، وہ لوگوں سے بہت کم ملتے جلتے تھے، بس نماز میں مصروف رہتے اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد گھر آنے تک اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تکبیر میں مشغول رہتے۔ ہم ایک دن سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ وہ ہمارے پاس سے گزرے۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ کوئی بات ہی ارشاد فرما دیں، ہمیں اس سے فائدہ ہو جائے گا اور آپ کا کچھ نہ جائے گا۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خریم اسدی میں دو باتیں نہ ہوں تو وہ بہت ہی اچھا آدمی ہے، ایک تو اس کے بال کاندھوں تک لمبے ہیں اور دوسرے اس کی چادر ٹخنوں سے نیچے رہتی ہے۔ دوسری روایت کے الفاظ ہیں اگر وہ اپنے بال چھوٹے اور چادر بھی چھوٹی کر لے۔ جب یہ بات سیدنا خریم رضی اللہ عنہ تک جا پہنچی تو انہوں نے چھری لے کر فوراً اپنے بال نصف کا نوں تک کاٹ دیئے اور اپنی چادر نصف پنڈلی تک اوپر اٹھا لی۔ قیس کہتے ہیں: اس واقعہ کے بعد میں ایک دفعہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گیا، ان کے ہاں ایک بزرگ تشریف فرما تھے،ان کے سر کے بال کانوں سے اوپر اور چادر نصف پنڈلی تک تھی، میں نے ان کے متعلق دریافت کیا تو کہنے والوں نے بتایا کہ یہ سیدنا خریم اسدی رضی اللہ عنہ ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11691]
تخریج الحدیث: «اسناده محتمل للتحسين اخرجه ابوداود: 4089، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17622 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17769»
وضاحت: فوائد: … یہ سیدنا خریم رضی اللہ عنہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کا جذبہ تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال کاندھوں کو مس کرتے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا خریم رضی اللہ عنہ کے لیے اتنے لمبے بال ناپسند کیے، اس کی کوئی خاص وجہ ہو گی، جیسے وہ اتنے خوبصورت لگتے ہوں کہ ان کی وجہ سے خود پسندی اور بڑائی میں مبتلا ہو جانے کا خطرہ ہو۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. بَابُ مَا جَاءَ فِي خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتِ الْأَنْصَارِي صَاحِبِ الشَّهَادَتَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
دگنی گواہی والے سیدنا خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11692
حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ خُزَيْمَةَ الْأَنْصَارِيُّ أَنَّ عَمَّهُ حَدَّثَهُ وَهُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ابْتَاعَ فَرَسًا مِنْ أَعْرَابِيٍّ فَاسْتَتْبَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِيَقْضِيَهُ ثَمَنَ فَرَسِهِ فَأَسْرَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَشْيَ وَأَبْطَأَ الْأَعْرَابِيُّ فَطَفِقَ رِجَالٌ يَعْتَرِضُونَ الْأَعْرَابِيَّ فَيُسَاوِمُونَ بِالْفَرَسِ لَا يَشْعُرُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ابْتَاعَهُ حَتَّى زَادَ بَعْضُهُمُ الْأَعْرَابِيَّ فِي السَّوْمِ عَلَى ثَمَنِ الْفَرَسِ الَّذِي ابْتَاعَهُ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَادَى الْأَعْرَابِيُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنْ كُنْتَ مُبْتَاعًا هَذَا الْفَرَسَ فَابْتَعْهُ وَإِلَّا بِعْتُهُ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَمِعَ نِدَاءَ الْأَعْرَابِيِّ فَقَالَ ”أَوَلَيْسَ قَدِ ابْتَعْتُهُ مِنْكَ“ قَالَ الْأَعْرَابِيُّ لَا وَاللَّهِ مَا بِعْتُكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”بَلَى قَدِ ابْتَعْتُهُ مِنْكَ“ فَطَفِقَ النَّاسُ يَلُوذُونَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالْأَعْرَابِيِّ وَهُمَا يَتَرَاجَعَانِ فَطَفِقَ الْأَعْرَابِيُّ يَقُولُ هَلُمَّ شَهِيدًا يَشْهَدُ أَنِّي بَايَعْتُكَ فَمَنْ جَاءَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَالَ لِلْأَعْرَابِيِّ وَيْلَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ لِيَقُولَ إِلَّا حَقًّا حَتَّى جَاءَ خُزَيْمَةُ فَاسْتَمَعَ لِمُرَاجَعَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمُرَاجَعَةِ الْأَعْرَابِيِّ فَطَفِقَ الْأَعْرَابِيُّ يَقُولُ هَلُمَّ شَهِيدًا يَشْهَدُ أَنِّي بَايَعْتُكَ قَالَ خُزَيْمَةُ أَنَا أَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَايَعْتَهُ فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى خُزَيْمَةَ فَقَالَ ”بِمَ تَشْهَدُ“ فَقَالَ بِتَصْدِيقِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَهَادَةَ خُزَيْمَةَ شَهَادَةَ رَجُلَيْنِ
عمارہ بن خزیمہ انصاری سے مروی ہے کہ ان کے چچا جو کہ صحابی تھے، نے ان کو بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بدّو سے ایک گھوڑا خریدا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: میرے ساتھ آکر گھوڑے کی قیمت وصول کر لو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیز رفتار تھے اور بدّو کی رفتار سست تھی، سو یہ بدّو پیچھے رہ گیا اور کچھ لوگ اعرابی کے پاس آئے اور اس کے ساتھ گھوڑے کا سودا کرنے لگے۔ انہیں یہ علم نہیں تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے گھوڑے کا سودا طے کر لیا ہے۔ یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس قیمت میں گھوڑا خریدا تھا۔ ایک آدمی نے گھوڑے کی قیمت اس سے زیادہ لگا دی، اعرابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پکار کر کہا: آپ یہ گھوڑا خریدنا چاہتے ہیں تو خرید لیں ورنہ میں کسی اور کے ہاتھ بیچ رہا ہوں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعرابی کی آواز سنی تو رک گئے اور فرمایا: کیایہ گھوڑا میں تم سے خرید نہیں چکا ہوں؟ اس نے کہا:اللہ کی قسم نہیں، میں نے تو آپ کے ہاتھ اسے بیچا ہی نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں، میں تو اسے تم سے خرید چکا ہوں۔ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اعرابی کے اردا گرد اکٹھے ہوگئے اور وہ ایک دوسرے سے باتیں کر رہے تھے کہ اس اعرابی نے کہا: اگر آپ سچے ہیں تو کوئی گواہ پیش کریں، جو گواہی دے کہ میں نے یہ گھوڑا آپ کے ہاتھ فروخت کیا ہے۔ اتنے میں ایک مسلمان نے آگے بڑھ کر اعرابی سے کہا: تجھ پر افسوس ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ سچ ہی کہتے ہیں، جھوٹ نہیں بولتے۔ یہاں تک کہ سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ آگئے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اور اعرابی کی باتیں سنیں، اعرابی کہہ رہا تھا کہ کوئی گواہ پیش کرو جو گواہی دے کہ میں نے یہ گھوڑا آپ کے ہاتھ فروخت کیا ہے۔ سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ بولے: میں گواہی دیتا ہوں کہ تم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ یہ گھوڑا فروخت کر دیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: تم یہ گواہی کس بنیاد پردے رہے ہو؟ انھوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ کی تصدیق کی بنیاد پر کہا، آپ ہمیشہ سچ ہی بولتے ہیں۔تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ اکیلے کی گواہی کو دو گواہوں کے برابر قرار دیا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11692]
تخریج الحدیث: «صحيح، اخرجه ابوداود: 3607، والنسائي: 7/ 301، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21883 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22228»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11693
أَبِي ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ هُوَ ابْنُ فَارِسٍ أَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ صَاحِبِ الشَّهَادَتَيْنِ عَنْ عَمِّهِ أَنَّ خُزَيْمَةَ بْنَ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ رَأَى فِي الْمَنَامِ أَنَّهُ سَجَدَ عَلَى جَبْهَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ فَاضْطَجَعَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ ”صَدِّقْ بِذَلِكَ رُؤْيَاكَ“ فَسَجَدَ عَلَى جَبْهَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
عمارہ بن خزیمہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ سیدناخزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ نے خواب میں دیکھا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی پرسجدہ کیا۔ پھر جب انہوں نے اپنا یہ خواب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے سامنے لیٹ گئے اور فرمایا: تم اپنا خواب اس طرح پورا کر لو۔ چنانچہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی پر سجدہ کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11693]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف للاختلاف الذي وقع فيه علي يونس بن يزيد وعلي الزھري، وابنُ خزيمة بن ثابت كذا وقع ھنا مبھما، وسمي في طرق ضعيفة عماره بن خزيمة اخرجه النسائي في الكبري: 7630، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21882 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22227»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11694
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ أَوْ غَيْرِهِ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ لَمَّا كُتِبَتِ الْمَصَاحِفُ فَقَدْتُ آيَةً كُنْتُ أَسْمَعُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُهَا عِنْدَ خُزَيْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ {مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا} [الأحزاب: 23] قَالَ فَكَانَ خُزَيْمَةُ يُدْعَى ذَا الشَّهَادَتَيْنِ أَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَهَادَتَهُ بِشَهَادَةِ رَجُلَيْنِ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَقُتِلَ يَوْمَ صِفِّينَ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب قرآن کریم کے مصاحف لکھے جا رہے تھے تو میں نے ایک آیت گم پائی، میں خود اس آیت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کرتا تھا، وہ مجھے کسی کے ہاں سے لکھی ہوئی نہیں مل رہی تھی، آخر کار وہ مجھے سیدنا خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے ہاں سے لکھی ہوئی ملی، وہ آیت یہ تھی:{مِنَ الْمُؤمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَاعَاہَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ فَمِنْھُمْ مَنْ قَضٰی نَحْبَہٗ وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًا۔} … اہل ایمان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اللہ کے ساتھ کئے ہوئے اپنے عہدو پیمان کو خوب پورا کیا اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جو اپنے مقصد اور منزل کو پاگئے اور بعض حصول منزل کے منتظر ہیں اور انہوں نے اپنے کئے ہوئے عہد میں تبدیلی بالکل نہیں کی۔ (سورۂ احزاب: ۲۳) سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ ذوالشھادتین یعنی دو گواہیوں والے کہلاتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان اکیلے کی گواہی کو دو گواہیوں کے برابر قرار دیا تھا۔ زہری کہتے ہیں کہ وہ صفین کے موقعہ پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی معیت میں قتل ہوئے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11694]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2807، 7191، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21652 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21991»
وضاحت: فوائد: … اس باب سے سیدنا خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کی عظمت، فضیلت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان کی پختگی واضح ہوتی ہے کہ ایک معاملے میں وہ حاضر نہ تھے، لیکن محض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق و ایمان کی بنیاد پر وہ گواہ بن گئے اور یہ نقطہ صرف ان کے ذہن میں آیا اور اللہ تعالیٰنے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے ان کو یہ اعزازبخشا کہ ان اکیلے کی گواہی کو دو گواہیوں کے برابر قرار دیا گیا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. بَابُ مَا جَاءَ فِي رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11695
قَالَ أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ أَخْبَرَتْنِي جَدَّتِي يَعْنِي امْرَأَةَ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ عَفَّانُ عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ أَبِيهِ امْرَأَةِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَّ رَافِعًا رُمِيَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ أَوْ يَوْمَ خَيْبَرَ قَالَ أَنَا أَشُكُّ بِسَهْمٍ فِي ثَنْدُوَتِهِ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ انْزِعِ السَّهْمَ قَالَ ”يَا رَافِعُ إِنْ شِئْتَ نَزَعْتُ السَّهْمَ وَالْقُطْبَةَ جَمِيعًا وَإِنْ شِئْتَ نَزَعْتُ السَّهْمَ وَتَرَكْتُ الْقُطْبَةَ وَشَهِدْتُ لَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّكَ شَهِيدٌ“ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَلْ انْزِعِ السَّهْمَ وَاتْرُكِ الْقُطْبَةَ وَاشْهَدْ لِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنِّي شَهِيدٌ قَالَ فَنَزَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ السَّهْمَ وَتَرَكَ الْقُطْبَةَ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نے بیان کیا کہ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ احدیا خیبر کے دن ایک تیر ان کے سینے میں آ کر لگا تھا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اس تیر کو باہر کھینچ دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رافع! اگر تم چاہو تو میں تیر اور اس کے پھل دونوں کو کھینچ دوں، لیکن اگر چاہو تو تیر کو باہر کھینچ لوں اور اس کے پھل کو اندر ہی رہنے دوں اور میں قیامت کے دن تمہارے حق میں گواہی دوں کہ تم اللہ کی راہ میں شہید ہو۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! تو پھر آپ تیر کھینچ لیں اور اس کے پھل کو اندر رہنے دیں اور آپ قیامت کے دن میرے حق میں گواہی دیں کہ میں اللہ کی راہ میں شہید ہوا ہوں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیر کو باہر کھینچ لیا اور اس کا پھل رہنے دیا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11695]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه الطبراني في الكبير: 4242، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27128 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27669»
وضاحت: سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نے بیان کیا کہ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ احدیا خیبر کے دن ایک تیر ان کے سینے میں آ کر لگا تھا، انہوںنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اس تیر کو باہر کھینچ دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رافع! اگر تم چاہو تو میں تیر اور اس کے پھل دونوں کو کھینچ دوں، لیکن اگر چاہو تو تیر کو باہر کھینچ لوں اور اس کے پھل کو اندر ہی رہنے دوں اور میں قیامت کے دن تمہارے حق میں گواہی دوں کہ تم اللہ کی راہ میں شہید ہو۔ انہوںنے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! تو پھر آپ تیر کھینچ لیں اور اس کے پھل کو اندر رہنے دیں اور آپ قیامت کے دن میرے حق میں گواہی دیں کہ میں اللہ کی راہ میں شہید ہوا ہوں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیر کو باہر کھینچ لیا اور اس کا پھل رہنے دیا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں