الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
68. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِب رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَمْ النَّبِيِّ ﷺ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11836
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ وَقَعَ فِي أَبٍ لِلْعَبَّاسِ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَطَمَهُ الْعَبَّاسُ فَجَاءَ قَوْمُهُ فَقَالُوا وَاللَّهِ لَنَلْطِمَنَّهُ كَمَا لَطَمَهُ فَلَبِسُوا السِّلَاحَ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ ”أَيُّهَا النَّاسُ أَيُّ أَهْلِ الْأَرْضِ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ“ قَالُوا أَنْتَ قَالَ ”فَإِنَّ الْعَبَّاسَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ فَلَا تَسُبُّوا مَوْتَانَا فَتُؤْذُوا أَحْيَاءَنَا“ فَجَاءَ الْقَوْمُ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِكَ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک انصاری نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے والد پر طنز کیا، وہ دورِ جاہلیت میں فوت ہو گئے تھے، عباس رضی اللہ عنہ نے (طیش میں آکر) اسے تھپڑ رسید کر دیا،انصاری کی قوم کے لوگ آگئے اور کہنے لگے: اللہ کی قسم، جس طرح اس نے تھپڑ مارا ہے، ہم بھی بدلے میں اسے ضرور تھپڑ ماریں گے، وہ لوگ اسلحہ سے مسلح ہو کر آ گئے۔ جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا: لوگو! روئے زمین کے لوگوں میں اللہ کے ہاں سب سے زیادہ معزز کون شخص ہے؟ لوگوں نے کہا: جی آپ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر عباس میرا ہے اور میں عباس کا ہوں، تم ہمارے فوت شدہ لوگوں کو برا بھلا کہہ کر ہمارے زندہ لوگوں کو ایذا نہ پہنچاؤ۔ پھر ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر معذرت کرتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ کے غصہ اور ناراضگی سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11836]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الاعلي بن عامر الثعلبي ضعّفه احمد وابوزرعة وابو حاتم والنسائي وابن معين وغيرھم أخرجه الترمذي: 3749، والنسائي: 8/ 33، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2734 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2734»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 11837
عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ دَخَلَ الْعَبَّاسُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا فَقَالَ لَهُ ”مَا يُغْضِبُكَ“ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَنَا وَلِقُرَيْشٍ إِذَا تَلَاقَوْا بَيْنَهُمْ تَلَاقَوْا بِوُجُوهٍ مُبْشِرَةٍ وَإِذَا لَقُونَا لَقُونَا بِغَيْرِ ذَلِكَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ وَحَتَّى اسْتَدَرَّ عِرْقٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَكَانَ إِذَا غَضِبَ اسْتَدَرَّ فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ ”وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ (أَوْ قَالَ) وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يَدْخُلُ قَلْبَ رَجُلٍ الْإِيمَانُ حَتَّى يُحِبَّكُمْ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلِرَسُولِهِ“ ثُمَّ قَالَ ”يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ آذَى الْعَبَّاسَ فَقَدْ آذَانِي إِنَّمَا عَمُّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ“
سیدنا عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب سے مروی ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ غصے کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: تمہیں کس بات پر غصہ آیا ہے؟ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! قریش کو ہم سے کیا عداوت ہے؟ وہ آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو بڑے خوش ہو کر ملتے ہیں اور جب ہم سے ملتے ہیں تو ان کے چہرے بدل جاتے ہیں۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر غضب ناک ہوئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی سے پسینہ بہنے لگا، ویسے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شدید غصہ آتا تھا تو پسینہ بہنے لگتا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ کیفیت زائل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کسی کے دل میں ایمان اس وقت تک داخل نہیں ہو سکتا، جب تک وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لیے تم سے محبت نہیں کرے گا۔ (دوسری روایت میں ہے: اللہ تعالیٰ کے لیے اور میری قرابت داری کی وجہ سے تم سے محبت نہیں کرے گا) پھر فرمایا: لوگو! (یاد رکھو) جس نے عباس رضی اللہ عنہ کو ایذا پہنچائی، اس نے مجھے تکلیف دی، آدمی کا چچا اس کے باپ کی ہی ایک قسم ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11837]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف يزيد بن ابي زياد،و لضعف يزيد بن عطاء اليشكري، اخرجه الترمذي: 3758، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17516 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17657»
وضاحت: فوائد: … عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب بن ہاشم صحابی ہیں، شام میں سکونت پذیر رہے، (۶۲) سن ہجری میں ان کا انتقال ہوا، بعض اہل علم نے ان کا نام مطلب ذکر کیا ہے، مسند احمد میں ان کا نام عبدالمطلب اور مستدرک حاکم میں مطلب مذکور ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف يزيد بن ابي زياد
69. بَابُ مَا جَاءَ فِي عُثْمَانَ بْنِ مَطْعُونَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11838
عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَبَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَقَالَ وَكِيعٌ قَالَتْ قَبَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ وَهُوَ مَيِّتٌ قَالَتْ فَرَأَيْتُ دُمُوعَهُ تَسِيلُ عَلَى خَدَّيْهِ يَعْنِي عُثْمَانَ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَعَيْنَاهُ تُهْرَاقَانِ
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ فوت ہوگئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی میت کو بوسہ دیا، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنسو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے رخساروں پر بہہ رہے تھے۔ اس حدیث کے ایک راوی عبدالرحمن سے مروی ہے کہ آپ کی آنکھیں آنسو بہار ہی تھیں۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11838]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله، وقد اضطرب فيه، اخرجه ابوداود: 3163، والترمذي: 989،وابن ماجه: 1456، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25712 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26231»
وضاحت: فوائد: … اس باب میں یہی روایت صحیح ہے کہ سیدنا ابو بکر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بوسہ لیا تھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میت تھے، اس بات پر ائمہ کا اتفاق ہے کہ میت کو بوسہ دینا جائز ہے۔ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ قدیم الاسلام صحابی ہیں، ابھی تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دار ارقم میں داخل نہیں ہوئے تھے کہ یہ مسلمان ہو گئے تھے، انھوں نے دو ہجرتیں کی ہیں، پہلی ہجرت حبشہ کی طرف اور دوسری مدینہ منورہ کی طرف، جب انھوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو ان کے ساتھ ان کا بیٹا سیدنا سائب اور دو بھائی سیدنا قدامہ اور سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہما بھی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے اور ابو ہیثم بن تیہان انصاری رضی اللہ عنہ کے مابین بھائی چارہ قائم کیا تھا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بدر میں شریک ہوئے اور ہجرت سے اڑھائی برس بعد وفات پاگئے، یہ مہاجرین میں سب سے پہلے فوت ہونے والے صحابی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور بقیع میں ان کو دفن کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی قبر کی سر کی جانب بطورِ علامت ایک پتھر رکھا تھا، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کی قبر کی شناخت ہو سکے۔
انھوں نے دور جاہلیت میں بھی اپنے آپ پر شراب کوحرام کر رکھا تھا۔
انھوں نے دور جاہلیت میں بھی اپنے آپ پر شراب کوحرام کر رکھا تھا۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله
حدیث نمبر: 11838
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا مَاتَتْ زَيْنَبُ (وَفِي رِوَايَةٍ رُقَيَّةُ) ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”الْحَقِي بِسَلَفِنَا الصَّالِحِ الْخَيْرِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ“
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا (یا سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا) کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیٹی سے مخاطب ہو کر فرمایا: تم جا کر ہمارے بہترین پیش رو عثمان بن مظعون سے جا ملو۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11838]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، علي بن زيد بن جدعان ضعيف، ويوسف بن مهران، قال ابن حجر: لين الحديث، اخرجه الطيالسي: 2694، والطبراني: 8317، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2127 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2127»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 11839
وَعَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ كَانَتْ أُمُّ الْعَلَاءِ الْأَنْصَارِيَّةُ تَقُولُ لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ الْمَدِينَةَ اقْتَرَعَتِ الْأَنْصَارُ عَلَى سُكْنَاهُمْ فَطَارَ لَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ فِي السُّكْنَى قَالَتْ أُمُّ الْعَلَاءِ فَاشْتَكَى عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ عِنْدَنَا فَمَرَّضْنَاهُ حَتَّى إِذَا تُوُفِّيَ أَدْرَجْنَاهُ فِي أَثْوَابِهِ فَدَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ يَا أَبَا السَّائِبِ شَهَادَتِي عَلَيْكَ لَقَدْ أَكْرَمَكَ اللَّهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”وَمَا يُدْرِيكِ أَنَّ اللَّهَ أَكْرَمَهُ“ قَالَتْ فَقُلْتُ لَا أَدْرِي بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَمَّا هُوَ فَقَدْ جَاءَهُ الْيَقِينُ مِنْ رَبِّهِ وَإِنِّي لَأَرْجُو الْخَيْرَ لَهُ وَاللَّهِ مَا أَدْرِي وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ مَا يُفْعَلُ بِي“ (قَالَ يَعْقُوبُ بِهِ) قَالَتْ وَاللَّهِ لَا أُزَكِّي أَحَدًا بَعْدَهُ أَبَدًا فَأَحْزَنَنِي ذَلِكَ فَنِمْتُ فَأُرِيتُ لِعُثْمَانَ عَيْنًا تَجْرِي فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”ذَاكَ عَمَلُهُ“
سیدنا خارجہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ ام علاء انصاریہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں کہ جب مہاجرین ہجرت کرکے مدینہ منورہ آئے تو انصار نے ان کو اپنے ہاں رہائش دینے کے لیے قرعہ اندازی کی تو سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا نام ہمارے حصہ میں نکل آیا، لیکن ہوا یوں کہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں بیمار پڑ گئے۔ ہم نے ان کا خوب علاج معالجہ کیا،، لیکن ان کا انتقال ہو گیا،ہم نے ان کو کفن کے کپڑوں میں لپیٹا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے۔ میں نے کہا: اے ابو السائب! آپ پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں، میں آپ کے بارے میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ نے آپ کو عزت و تکریم سے نوازا ہے۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آپ کو کیا علم کہ اللہ نے ان کی عزت و تکریم کی ہے۔ میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پرفدا ہوں، میں تو اس بارے میں کچھ نہیں جانتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے رب کی طرف سے موت آئی، مجھے اس کے بارے میں اللہ سے خیر کی امید ہے۔ اللہ کی قسم! میں اگرچہ اللہ کا رسول ہوں، لیکن میں بھی نہیں جانتا کہ کل کلاں میرے ساتھ اور اس کے ساتھ کیا پیش آئے گا؟ ام العلاء رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کی قسم! میں آج کے بعد کسی کی صفائی پیش نہیں کروں گی، اس بات سے مجھے غم لاحق ہوا، میں سوئی ہوئی تھی کہ خواب میں مجھے ایک بہتا چشمہ دکھایا گیا کہ یہ عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جا کر آپ کو اس کے متعلق بتلایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اس کا عمل ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11839]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3929، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27457 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28004»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3929
حدیث نمبر: 11840
عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ إِنَّ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ لَمَّا قُبِضَ قَالَتْ أُمُّ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ طِبْتَ أَبَا السَّائِبِ خَيْرُ أَيَّامِكَ الْخَيْرُ فَسَمِعَهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”مَنْ هَذِهِ“ قَالَتْ أَنَا قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”وَمَا يُدْرِيكِ“ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَجَلْ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ مَا رَأَيْنَا إِلَّا خَيْرًا وَهَذَا أَنَا رَسُولُ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا يُصْنَعُ بِي“
خارجہ بن زید اپنی والدہ سیدہ ام العلاء رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: جب سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو میں نے کہا::اے ابو السائب! تمہیں مبارک ہو، تمہارے ایام زندگی اچھے گزرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات سنی تو فرمایا: یہ بات کہنے والی کون ہے؟ سیدہ ام علاء رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: جی میں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں اس بات کا کیا علم؟‘ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے یہ بات سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ (جیسے عظیم الترتیب انسان کے بارے میں کہی ہے)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہا ں ہاں، ہم نے عثمان بن مظعون کو ہر لحاظ سے بہتر پایا،یاد رکھو کہ میں اگرچہ اللہ کا رسول ہوں، لیکن میں اپنے بارے میں یہ بھی نہیں جانتا کہ کل کلاں میرے ساتھ کیا معاملہ پیش آئے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11840]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه الطبراني في الكبير: 4879، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27459 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28006»
وضاحت: فوائد: … وحی کے بغیر کسی نیک سے نیک تر انسان کی کامیابی اور برے سے بدتر انسان کی ناکامی کی شہادت نہیں دی جا سکتی، کیونکہ نیک اور برے اعمال کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے قوانین کو کوئی نہیں سمجھ سکتا، البتہ نیک آدمی کے بارے میں حسن ظن اور اچھا گمان رکھا جا سکتا ہے۔
ام خاجہ اور ام العلاء سے ایک ہی عورت مراد ہے۔ (عبداللہ رفیق)
ام خاجہ اور ام العلاء سے ایک ہی عورت مراد ہے۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
کتاب میں حدیث موجود نہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11841]
70. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَدِي بْنِ حَاتِمِ الطَّائِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11842
عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْكَ، قَالَ: نَعَمْ، لَمَّا بَلَغَنِي خُرُوجُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَرِهْتُ خُرُوجَهُ كَرَاهَةً شَدِيدَةً، خَرَجْتُ حَتَّى وَقَعْتُ نَاحِيَةَ الرُّومِ، وَقَالَ يَعْنِي يَزِيدَ بِبَغْدَادَ: حَتَّى قَدِمْتُ عَلَى قَيْصَرَ، قَالَ: فَكَرِهْتُ مَكَانِي ذَلِكَ أَشَدَّ مِنْ كَرَاهِيَتِي لِخُرُوجِهِ، قَالَ: فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَوْلَا أَتَيْتُ هَذَا الرَّجُلَ، فَإِنْ كَانَ كَاذِبًا لَمْ يَضُرَّنِي، وَإِنْ كَانَ صَادِقًا عَلِمْتُ، قَالَ: فَقَدِمْتُ فَأَتَيْتُهُ، فَلَمَّا قَدِمْتُ قَالَ النَّاسُ: عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي: ”يَا عَدِيُّ بْنَ حَاتِمٍ أَسْلِمْ تَسْلَمْ“ ثَلَاثًا، قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي عَلَى دِينٍ، قَالَ: ”أَنَا أَعْلَمُ بِدِينِكَ مِنْكَ“، فَقُلْتُ: أَنْتَ أَعْلَمُ بِدِينِي مِنِّي؟ قَالَ: ”نَعَمْ، أَلَسْتَ مِنَ الرَّكُوسِيَّةِ، وَأَنْتَ تَأْكُلُ مِرْبَاعَ قَوْمِكَ?“، قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: ”فَإِنَّ هَذَا لَا يَحِلُّ لَكَ فِي دِينِكَ“، قَالَ: فَلَمْ يَعُدْ أَنْ قَالَهَا فَتَوَاضَعْتُ لَهَا، فَقَالَ: ”أَمَّا إِنِّي أَعْلَمُ مَا الَّذِي يَمْنَعُكَ مِنَ الْإِسْلَامِ، تَقُولُ: إِنَّمَا اتَّبَعَهُ ضَعَفَةُ النَّاسِ، وَمَنْ لَا قُوَّةَ لَهُ، وَقَدْ رَمَتْهُمُ الْعَرَبُ، أَتَعْرِفُ الْحِيرَةَ?“، قُلْتُ: لَمْ أَرَهَا وَقَدْ سَمِعْتُ بِهَا، قَالَ: ”فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُتِمَّنَّ اللَّهُ هَذَا الْأَمْرَ حَتَّى تَخْرُجَ الظَّعِينَةُ مِنَ الْحِيرَةِ حَتَّى تَطُوفَ بِالْبَيْتِ فِي غَيْرِ جِوَارِ أَحَدٍ، وَلَيَفْتَحَنَّ كُنُوزَ كِسْرَى بْنِ هُرْمُزَ“، قَالَ: قُلْتُ: كِسْرَى بْنِ هُرْمُزَ؟ قَالَ: ”نَعَمْ، كِسْرَى بْنِ هُرْمُزَ، وَلَيُبْذَلَنَّ الْمَالُ حَتَّى لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ“، قَالَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ: فَهَذِهِ الظَّعِينَةُ تَخْرُجُ مِنَ الْحِيرَةِ فَتَطُوفُ بِالْبَيْتِ فِي غَيْرِ جِوَارٍ، وَلَقَدْ كُنْتُ فِيمَنْ فَتَحَ كُنُوزَ كِسْرَى بْنِ هُرْمُزَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَكُونَنَّ الثَّالِثَةُ لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَالَهَا
ابو عبیدہ سے روایت ہے، وہ ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں، اس نے کہا: میں نے سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا کہ مجھ تک آپ کی طرف سے ایک بات پہنچی ہے، میں اسے آپ سے براہ راست سماع کرنا چاہتا ہوں، انہوں نے کہا: جی ٹھیک ہے، جب مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظہور کی اطلاع ملی تو مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ظہور اچھا نہ لگا، مجھے اس سے شدید کراہت ہوئی، میں یہاں سے بھاگ نکلا اور روم کے علاقے میں جا پہنچا، حدیث کے راوی یزید نے بغداد میں یوں بیان کیا:میں یہاں سے بھاگ کر قیصر روم کے ہاں چلا گیا، مگر مجھے پہلے سے بھی زیادہ پریشانی ہوئی، تو میں نے سوچا کہ کیوں نہ میں اسی آدمی کے ہاں چلا جاؤں، اگر وہ جھوٹا ہوا تو مجھے اس کا ضرر نہیں ہو گا اوراگر وہ سچا ہوا تو مجھے علم ہو ہی جائے گا، چنانچہ میں واپس آکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، جب میں آیا تو لوگوں نے کہا: عدی بن حاتم، عدی بن حاتم، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چلا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے تین بار فرمایا: عدی بن حاتم! دائرۂ اسلام میں داخل ہو جاؤ، سلامت رہو گے۔ عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: میں ایک دین پر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے دین کے متعلق تم سے بہتر جانتا ہوں۔ میں نے عرض کیا: کیا آپ میرے دین کے بارے میں مجھ سے بہتر جانتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ کیا تم رکوسیہ گروہ میں سے نہیں ہو؟ (یہ عیسائیوں اور صابئین کا ایک درمیانی گروہ ہے) اور تم اپنی قوم سے مال کا چوتھا حصہ لے کر کھاتے ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حالانکہ یہ چیز تمہارے دین میں تمہارے لیے حلال نہیں ہیں۔ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب یہ دونوں باتیں بیان فرمائیں تو میں نے انہیں تسلیم کر لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اسلام قبول کرنے سے کون سی چیز تمہارے لیے مانع ہے؟ تم سمجھتے ہو کہ کم زور معاشرت والے افراد نے دین اسلام کی اتباع کی ہے اور ایسے لوگوں نے دین اسلام قبول کیا ہے، جنہیں دنیوی لحاظ سے قوت یا شان و شوکت حاصل نہیں اور عربوں نے ان مسلمانوں کو دھتکار دیا ہے، کیا تم حیرہ (کوفہ کے قریب ایک) شہر سے واقف ہو؟ میں نے عرض کیا: میں نے اس شہر کو دیکھا تو نہیں، البتہ اس کے بارے سنا ضرور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اللہ تعالیٰ اس دین کو اس حد تک ضرور غالب کرے گا کہ ایک اکیلی خاتون حیرہ شہر سے کسی کی پناہ اور حفاظت کے بغیر بے خوف و خطر سفر کرتی ہوئی آکر بیت اللہ کا طواف کرے گی اور کسریٰ بن ہرمز کے خزانے ضرور بالضرور مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوں گے۔ میں عدی نے حیران ہو کر پوچھا: کیا کسریٰ بن ہرمز کے خزانے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں ہاں کسریٰ بن ہرمز کے اور مال و دولت کی اس قدر فراوانی ہو جائے گی کہ کوئی آدمی مال لینے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے کہا: (میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق ایسا پر امن دور دیکھا کہ) ایک اکیلی خاتون حیرہ سے کسی کی پناہ اور حفاظت کے بغیربے خوف و خطر سفر کرکے آکر بیت اللہ کا طواف کرتی ہے اور میں خود ان لوگوں میں شامل تھا، جنہوں نے کسریٰ بن ہر مز کے خزانوں کو فتح کیا تھا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تیسری بات بھی ضرور پوری ہو کر رہے گی، کیونکہ یہ بات اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11842]
تخریج الحدیث: «صحيح، اخرجه الحاكم: 4/ 518، وابن حبان: 6679، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18260 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18449»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عدی بن حاتم بن عبد اللہ طائی کوفی رضی اللہ عنہ صحابی ہیں، ان کے باپ سخاوت میںمشہور ہیں،یہ مذہباً عیسائی تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو انھوں نے اسلام قبول کر لیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی عزت کیا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد جب عربوں میں مختلف انداز میں ارتداد نمودار ہوا تو یہ اپنی قوم کے ساتھ اسلام پر ثابت قدم رہے اور اس وقت بھی اپنی قوم کی زکوۃ ادا کی،یہ بڑے سختی، اپنی قوم کے ہاں معززاور بزرگ سمجھے جاتے ہیں، بلا کے حاضر الجواب تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ہونے والی عراق کی فتوحات میں حاضر تھے، پھر انھوں نے کوفہ میں سکونت اختیار کر لی تھی اور جنگ جمل اور جنگ صفین میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، انھوں نے کوفہ میں (۶۹) سن ہجری میں وفات پائی، جبکہ ان کی عمر (۱۲۰) برس تھی۔
تیسری چیز کا ذکر درج ذیل روایت میں ہے،یہ عیسی علیہ السلام کے زمانے میں پوری ہو گی، بعض نے عمر بن عبد العزیز کے زمانے کا اس کو مصداق ٹھہرایا ہے۔
صحیح بخاری (۳۵۹۵)میں اس روایت کے الفاظ درج ذیل ہیں:
سیدنا عدی بن حاتم سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بَیْنَا أَنَا عِنْدَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم إِذْ أَتَاہُ رَجُلٌ فَشَکَا إِلَیْہِ الْفَاقَۃَ ثُمَّ أَتَاہُ آخَرُ فَشَکَا إِلَیْہِ قَطْعَ السَّبِیلِ فَقَالَ: ((یَا عَدِیُّ ہَلْ رَأَیْتَ الْحِیرَۃَ۔)) قُلْتُ لَمْ أَرَہَا وَقَدْ أُنْبِئْتُ عَنْہَا قَالَ: ((فَإِنْ طَالَتْ بِکَ حَیَاۃٌ لَتَرَیَنَّ الظَّعِینَۃَ تَرْتَحِلُ مِنَ الْحِیرَۃِ حَتّٰی تَطُوفَ بِالْکَعْبَۃِ لَا تَخَافُ أَحَدًا إِلَّا اللّٰہَ۔)) قُلْتُ فِیمَا بَیْنِی وَبَیْنَ نَفْسِی فَأَیْنَ دُعَّارُ طَیِّئٍ الَّذِینَ قَدْ سَعَّرُوا الْبِلَادَ ((وَلَئِنْ طَالَتْ بِکَ حَیَاۃٌ لَتُفْتَحَنَّ کُنُوزُ کِسْرٰی۔)) قُلْتُ کِسْرَی بْنِ ہُرْمُزَ؟ قَالَ: ((کِسْرَی بْنِ ہُرْمُزَ وَلَئِنْ طَالَتْ بِکَ حَیَاۃٌ لَتَرَیَنَّ الرَّجُلَ یُخْرِجُ مِلْء َ کَفِّہِ مِنْ ذَہَبٍ أَوْ فِضَّۃٍ یَطْلُبُ مَنْ یَقْبَلُہُ مِنْہُ فَلَا یَجِدُ أَحَدًا یَقْبَلُہُ مِنْہُ وَلَیَلْقَیَنَّ اللّٰہَ أَحَدُکُمْ یَوْمَیَلْقَاہُ وَلَیْسَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُ تَرْجُمَانٌ یُتَرْجِمُ لَہُ فَلَیَقُولَنَّ لَہُ أَلَمْ أَبْعَثْ إِلَیْکَ رَسُولًا فَیُبَلِّغَکَ فَیَقُولُ بَلٰی فَیَقُولُ أَلَمْ أُعْطِکَ مَالًا وَأُفْضِلْ عَلَیْکَ فَیَقُولُ بَلٰی فَیَنْظُرُ عَنْ یَمِینِہِ فَلَا یَرٰی إِلَّا جَہَنَّمَ وَیَنْظُرُ عَنْ یَسَارِہِ فَلَا یَرٰی إِلَّا جَہَنَّمَ۔)) قَالَ عَدِیٌّ سَمِعْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقُولُ: ((اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقَّۃِ تَمْرَۃٍ فَمَنْ لَمْ یَجِدْ شِقَّۃَ تَمْرَۃٍ فَبِکَلِمَۃٍ طَیِّبَۃٍ۔)) قَالَ عَدِیٌّ فَرَأَیْتُ الظَّعِینَۃَ تَرْتَحِلُ مِنَ الْحِیرَۃِ حَتّٰی تَطُوفَ بِالْکَعْبَۃِ لَا تَخَافُ إِلَّا اللّٰہَ وَکُنْتُ فِیمَنْ افْتَتَحَ کُنُوزَ کِسْرَی بْنِ ہُرْمُزَ وَلَئِنْ طَالَتْ بِکُمْ حَیَاۃٌ لَتَرَوُنَّ مَا قَالَ النَّبِیُّ أَبُو الْقَاسِمِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یُخْرِجُ مِلْء َ کَفِّہِ۔
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے کہ ایک شخص نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فاقہ کی شکایت کی دوسرے نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر ڈاکہ زنی کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عدی کیا تم نے حیرہ دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا: میں نے وہ جگہ نہیں دیکھی لیکن اس کے بارے میں مجھے بتلایا گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہاری زندگی زیادہ ہوئی تو یقینا تم دیکھ لوگے کہ ایک بڑھیا عورت حیرہ سے چل کر کعبہ کا طواف کرے گی، اللہ کے علاوہ اس کو کسی کا خوف نہیں ہوگا۔ میں نے اپنے جی میں کہا کہ اس وقت قبیلہ طے کے ڈاکو کدھر جائیں گے، جنہوں نے تمام شہروں میں آگ لگا رکھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری زندگی زیادہ ہوئی تو یقینا تم کسری کے خزانوں کو فتح کرو گے۔ میں نے دریافت کیا: کسری بن ہرمز؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں (کسری بن ہرمز) اور اگر تمہاری زندگی زیادہ ہوئی تو یقینا تم دیکھ لوگے کہ ایک شخص مٹھی بھر سونایا چاندی لے کر نکلے گا اور ایسے آدمی کو تلاش کرے گا جو اسے لے لے، لیکن اس کو کوئی نہ ملے گا جو یہ رقم لے لے۔ یقینا تم میں سے ہر شخص قیامت میں اللہ سے ملے گا (اس وقت) اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا، جو اس کی گفتگو کا ترجمہ کرے، اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کیا میں نے تیرے پاس رسول نہ بھیجا تھا جو تجھے تبلیغ کرتا؟ وہ عرض کرے گا ہاں پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا میں نے تجھ کو مال و زر اور فرزند سے نہیں نوازا تھا؟ وہ عرض کرے گا ہاں،پھر وہ اپنی داہنی جانب دیکھے گا دوزخ کے سوا کچھ نہ دیکھے گا۔ عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آگ سے بچو اگرچہ چھوہارے کا ایک ٹکڑا ہی سہییہ بھی نہ ہو سکے تو کوئی عمدہ بات کہہ کر ہی سہی۔ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے بڑھیا کو دیکھ لیا کہ حیرہ سے سفر شروع کرتی ہے اور کعبہ کا طواف کرتی ہے اور اللہ کے سوا اس کو کسی کا ڈر نہیں تھا اور میں ان لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے کسریٰ بن ہرمز کے خزانے فتح کئے تھے، اگر تم لوگوں کی زندگی زیادہ ہوئی تو جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ایک شخص مٹھی بھر سونا لے کر نکلے گا، تو تم یہ بھی دیکھ لوگے۔
تیسری چیز کا ذکر درج ذیل روایت میں ہے،یہ عیسی علیہ السلام کے زمانے میں پوری ہو گی، بعض نے عمر بن عبد العزیز کے زمانے کا اس کو مصداق ٹھہرایا ہے۔
صحیح بخاری (۳۵۹۵)میں اس روایت کے الفاظ درج ذیل ہیں:
سیدنا عدی بن حاتم سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بَیْنَا أَنَا عِنْدَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم إِذْ أَتَاہُ رَجُلٌ فَشَکَا إِلَیْہِ الْفَاقَۃَ ثُمَّ أَتَاہُ آخَرُ فَشَکَا إِلَیْہِ قَطْعَ السَّبِیلِ فَقَالَ: ((یَا عَدِیُّ ہَلْ رَأَیْتَ الْحِیرَۃَ۔)) قُلْتُ لَمْ أَرَہَا وَقَدْ أُنْبِئْتُ عَنْہَا قَالَ: ((فَإِنْ طَالَتْ بِکَ حَیَاۃٌ لَتَرَیَنَّ الظَّعِینَۃَ تَرْتَحِلُ مِنَ الْحِیرَۃِ حَتّٰی تَطُوفَ بِالْکَعْبَۃِ لَا تَخَافُ أَحَدًا إِلَّا اللّٰہَ۔)) قُلْتُ فِیمَا بَیْنِی وَبَیْنَ نَفْسِی فَأَیْنَ دُعَّارُ طَیِّئٍ الَّذِینَ قَدْ سَعَّرُوا الْبِلَادَ ((وَلَئِنْ طَالَتْ بِکَ حَیَاۃٌ لَتُفْتَحَنَّ کُنُوزُ کِسْرٰی۔)) قُلْتُ کِسْرَی بْنِ ہُرْمُزَ؟ قَالَ: ((کِسْرَی بْنِ ہُرْمُزَ وَلَئِنْ طَالَتْ بِکَ حَیَاۃٌ لَتَرَیَنَّ الرَّجُلَ یُخْرِجُ مِلْء َ کَفِّہِ مِنْ ذَہَبٍ أَوْ فِضَّۃٍ یَطْلُبُ مَنْ یَقْبَلُہُ مِنْہُ فَلَا یَجِدُ أَحَدًا یَقْبَلُہُ مِنْہُ وَلَیَلْقَیَنَّ اللّٰہَ أَحَدُکُمْ یَوْمَیَلْقَاہُ وَلَیْسَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُ تَرْجُمَانٌ یُتَرْجِمُ لَہُ فَلَیَقُولَنَّ لَہُ أَلَمْ أَبْعَثْ إِلَیْکَ رَسُولًا فَیُبَلِّغَکَ فَیَقُولُ بَلٰی فَیَقُولُ أَلَمْ أُعْطِکَ مَالًا وَأُفْضِلْ عَلَیْکَ فَیَقُولُ بَلٰی فَیَنْظُرُ عَنْ یَمِینِہِ فَلَا یَرٰی إِلَّا جَہَنَّمَ وَیَنْظُرُ عَنْ یَسَارِہِ فَلَا یَرٰی إِلَّا جَہَنَّمَ۔)) قَالَ عَدِیٌّ سَمِعْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقُولُ: ((اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقَّۃِ تَمْرَۃٍ فَمَنْ لَمْ یَجِدْ شِقَّۃَ تَمْرَۃٍ فَبِکَلِمَۃٍ طَیِّبَۃٍ۔)) قَالَ عَدِیٌّ فَرَأَیْتُ الظَّعِینَۃَ تَرْتَحِلُ مِنَ الْحِیرَۃِ حَتّٰی تَطُوفَ بِالْکَعْبَۃِ لَا تَخَافُ إِلَّا اللّٰہَ وَکُنْتُ فِیمَنْ افْتَتَحَ کُنُوزَ کِسْرَی بْنِ ہُرْمُزَ وَلَئِنْ طَالَتْ بِکُمْ حَیَاۃٌ لَتَرَوُنَّ مَا قَالَ النَّبِیُّ أَبُو الْقَاسِمِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یُخْرِجُ مِلْء َ کَفِّہِ۔
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے کہ ایک شخص نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فاقہ کی شکایت کی دوسرے نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر ڈاکہ زنی کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عدی کیا تم نے حیرہ دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا: میں نے وہ جگہ نہیں دیکھی لیکن اس کے بارے میں مجھے بتلایا گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہاری زندگی زیادہ ہوئی تو یقینا تم دیکھ لوگے کہ ایک بڑھیا عورت حیرہ سے چل کر کعبہ کا طواف کرے گی، اللہ کے علاوہ اس کو کسی کا خوف نہیں ہوگا۔ میں نے اپنے جی میں کہا کہ اس وقت قبیلہ طے کے ڈاکو کدھر جائیں گے، جنہوں نے تمام شہروں میں آگ لگا رکھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری زندگی زیادہ ہوئی تو یقینا تم کسری کے خزانوں کو فتح کرو گے۔ میں نے دریافت کیا: کسری بن ہرمز؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں (کسری بن ہرمز) اور اگر تمہاری زندگی زیادہ ہوئی تو یقینا تم دیکھ لوگے کہ ایک شخص مٹھی بھر سونایا چاندی لے کر نکلے گا اور ایسے آدمی کو تلاش کرے گا جو اسے لے لے، لیکن اس کو کوئی نہ ملے گا جو یہ رقم لے لے۔ یقینا تم میں سے ہر شخص قیامت میں اللہ سے ملے گا (اس وقت) اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا، جو اس کی گفتگو کا ترجمہ کرے، اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کیا میں نے تیرے پاس رسول نہ بھیجا تھا جو تجھے تبلیغ کرتا؟ وہ عرض کرے گا ہاں پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا میں نے تجھ کو مال و زر اور فرزند سے نہیں نوازا تھا؟ وہ عرض کرے گا ہاں،پھر وہ اپنی داہنی جانب دیکھے گا دوزخ کے سوا کچھ نہ دیکھے گا۔ عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آگ سے بچو اگرچہ چھوہارے کا ایک ٹکڑا ہی سہییہ بھی نہ ہو سکے تو کوئی عمدہ بات کہہ کر ہی سہی۔ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے بڑھیا کو دیکھ لیا کہ حیرہ سے سفر شروع کرتی ہے اور کعبہ کا طواف کرتی ہے اور اللہ کے سوا اس کو کسی کا ڈر نہیں تھا اور میں ان لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے کسریٰ بن ہرمز کے خزانے فتح کئے تھے، اگر تم لوگوں کی زندگی زیادہ ہوئی تو جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ایک شخص مٹھی بھر سونا لے کر نکلے گا، تو تم یہ بھی دیکھ لوگے۔
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 11843
حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ سِمَاكَ بْنَ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ حُبَيْشٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَتْ خَيْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ: رُسُلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِعَقْرَبٍ، فَأَخَذُوا عَمَّتِي وَنَاسًا، قَالَ: فَلَمَّا أَتَوْا بِهِمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”فَصَفُّوا لَهُ“، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! نَأْيَ الْوَافِدُ وَانْقَطَعَ الْوَلَدُ وَأَنَا عَجُوزٌ كَبِيرَةٌ مَا بِي مِنْ خِدْمَةٍ، فَمُنَّ عَلَيَّ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْكَ، قَالَ: ”مَنْ وَافِدُكِ?“، قَالَتْ: عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: ”الَّذِي فَرَّ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ?“، قَالَتْ: فَمُنَّ عَلَيَّ، قَالَتْ: فَلَمَّا رَجَعَ وَرَجُلٌ إِلَى جَنْبِهِ نَرَى أَنَّهُ عَلِيٌّ، قَالَ: سَلِيهِ حِمْلَانًا، قَالَ: فَسَأَلَتْهُ فَأَمَرَ لَهَا، قَالَتْ: فَأَتَتْنِي فَقَالَتْ: لَقَدْ فَعَلْتَ فَعْلَةً مَا كَانَ أَبُوكَ يَفْعَلُهَا، قَالَتْ: ائْتِهِ رَاغِبًا أَوْ رَاهِبًا، فَقَدْ أَتَاهُ فُلَانٌ فَأَصَابَ مِنْهُ وَأَتَاهُ فُلَانٌ فَأَصَابَ مِنْهُ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ فَإِذَا عِنْدَهُ امْرَأَةٌ وَصِبْيَانٌ أَوْ صَبِيٌّ، فَذَكَرَ قُرْبَهُمْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ لَيْسَ مُلْكُ كِسْرَى وَلَا قَيْصَرَ، فَقَالَ لِي: ”يَا عَدِيُّ بْنَ حَاتِمٍ مَا أَفَرَّكَ أَنْ يُقَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَهَلْ مِنْ إِلَهٍ إِلَّا اللَّهُ، مَا أَفَرَّكَ أَنْ يُقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ، فَهَلْ شَيْءٌ هُوَ أَكْبَرُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ?“، قَالَ: فَأَسْلَمْتُ فَرَأَيْتُ وَجْهَهُ اسْتَبْشَرَ، وَقَالَ: ”إِنَّ الْمَغْضُوبَ عَلَيْهِمْ الْيَهُودُ، وَالضَّالِّينَ النَّصَارَى“، ثُمَّ سَأَلُوهُ، فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: ”أَمَّا بَعْدُ! فَلَكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ أَنْ تَرْضَخُوا مِنَ الْفَضْلِ“، ارْتَضَخَ امْرُؤٌ بِصَاعٍ بِبَعْضِ صَاعٍ بِقَبْضَةٍ بِبَعْضِ قَبْضَةٍ، قَالَ شُعْبَةُ: وَأَكْثَرُ عِلْمِي أَنَّهُ قَالَ: ”بِتَمْرَةٍ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، إِنَّ أَحَدَكُمْ لَاقِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَقَائِلٌ: مَا أَقُولُ أَلَمْ أَجْعَلْكَ سَمِيعًا بَصِيرًا؟ أَلَمْ أَجْعَلْ لَكَ مَالًا وَوَلَدًا؟ فَمَاذَا قَدَّمْتَ؟ فَيَنْظُرُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، فَلَا يَجِدُ شَيْئًا فَمَا يَتَقِي النَّارَ إِلَّا بِوَجْهِهِ، فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوهَا فَبِكَلِمَةٍ لَيِّنَةٍ، إِنِّي لَا أَخْشَى عَلَيْكُمُ الْفَقْرَ، لَيَنْصُرَنَّكُمُ اللَّهُ تَعَالَى وَلَيُعْطِيَنَّكُمْ، أَوْ لَيَفْتَحَنَّ لَكُمْ حَتَّى تَسِيرَ الظَّعِينَةُ بَيْنَ الْحِيرَةِ وَيَثْرِبَ أَوْ أَكْثَرَ مَا تَخَافُ السَّرَقَةَ عَلَى ظَعِينَتِهَا“، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ: ثَنَاهُ شُعْبَةُ مَا لَا أُحْصِيهِ وَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک گھڑ سوار دستہ یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قاصد آئے اور انہوں نے میری پھوپھی اور (قبیلہ کے) کچھ لوگوں کو گرفتار کر لیا، میں اس وقت عقرب (ایک جگہ کا نام) میں تھا۔ وہ لوگ ان قیدیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لے گئے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے لائنوں میں کھڑے ہوئے تو میری پھوپھی نے کہا: میری پیروی کرنے والا بہت دور ہے، اولاد بھی پاس نہیں اور میں ایک عمر رسیدہ خاتون ہوں میرا کوئی خدمت گزار بھی نہیں، آپ مجھ پر احسان فرمائیں، اللہ آپ پر احسان کرے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پیروی کرنے والا کون ہے؟ اس نے کہا: عدی بن حاتم۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہی عدی جو اللہ اور اس کے رسول کے ڈر سے فرار ہو گیا ہے۔ اس نے کہا: پس آپ نے مجھ پر احسان فرمایا۔ میری پھوپھی نے بیان کیا کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک اور آدمی بھی تھا، میری پھوپھی کا خیال ہے کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔ اس نے اس سے (یعنی میری پھوپھی سے) سے کہا: رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی سواری مانگ لو۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سواری کا مطالبہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے سواری مہیا کئے جانے کا حکم صادر فرمایا۔ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میری پھوپھی نے آکر مجھ سے کہا کہ تو نے ایسا کام کیا ہے کہ تیرا باپ تو (بزدلی والا) ایسا کوئی کام نہ کرتا تھا، تو رغبت کے ساتھ یا خوف کے ساتھ ہر حال میں ان کے پاس یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں چلا جاتا، فلاں آدمی ان کی خدمت میں گیا اور فلاں بھی ان کے ہاں حاضر ہوا، انہوں نے ہر ایک کے ساتھ حسن سلوک کا مظاہرہ کیا۔ عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں آپ کی خدمت میں چلا آیا، اس وقت آپ کی خدمت میں ایک عورت اور اس کے ساتھ ایک دو بچے بھی تھے۔ صحابۂ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انتہائی قریب آزادی سے بیٹھے تھے، میں نے جان لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیصر و کسریٰ جیسے بادشاہ نہیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عدی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: عدی! کیا تم محض اس لیے فرار ہوئے کہ کلمۂ توحید لا الہ الا اللہ نہ پڑھا جائے؟ کیا اللہ کے سوا کوئی معبود ہے؟ کیا کوئی اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر بھی ہے؟ عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پس میں دائرہ ٔ اسلام میں داخل ہو گیا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر خوشی کے آثار دیکھے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن کریم میں اَلْمَغْضُوبَ عَلَیْہِمْ (وہ لوگ جن پر اللہ کا غضب ہوا) سے مراد یہودی ہیں۔ اور اَلضَّالِّینَ (گمراہ) سے مراد نصاریٰ (عیسائی) ہیں۔ اس کے بعد وہاں پر موجود فقراء نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کچھ مانگا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: لوگو! اللہ نے تمہیں جو نعمتیں دی ہیں، تم ان میں سے اللہ کی راہ میں ضرورت مندوں کو دو۔ تو کسی نے ایک صاع اور کسی نے اس سے کچھ کم، کسی نے ایک مٹھی اورکسی نے اس سے بھی کم یعنی اپنی اپنی استطاعت کے مطابق صدقہ کیا۔ حدیث کے راوی شعبہ نے کہا: میرے علم کے مطابق سماک نے یہ بھی کہا کہ کسی نے ایک کھجور اور کسی نے اس سے بھی کم مقدار میں صدقہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا: تم میں سے ہر ایک جا کر اللہ تعالیٰ سے ملاقات کر نے والا ہے، اللہ اپنے ملاقات کرنے والے بندوں سے فرمائے گا: کیا میں نے تجھے سننے والا اور دیکھنے والا نہیں بنایا تھا؟ کیا میں نے تجھے مال و اولاد سے نہیں نوازا تھا؟ تو بتا تو کیا اعمال کرکے آیا ہے؟ وہ اپنے آگے پیچھے اور دائیں بائیں دیکھے گا، وہ کوئی ایسی چیز نہیں پائے گا، جو اس کے کسی کام آسکے، وہ اپنے چہرے ہی کے ذریعے جہنم سے بچنے کی کوشش کرے گا، پس تم جہنم سے بچنے کا سامان کر لو، اگرچہ وہ کھجور کے ایک حصے کی شکل میں ہو۔ اگر تم کسی کو دینے کے لیے کھجور کا کچھ حصہ بھی نہ پاؤ تو نرم کلامی کے ساتھ ہی جہنم سے بچ جاؤ۔ مجھے تمہارے بارے میں فقر و فاقہ کا ڈر نہیں، اللہ تعالیٰ تمہاری مدد ضرور کرے گا اور ضرور تمہیں بہت کچھ دے گا اور وہ تمہیں ایسی فتح سے ہمکنار فرمائے گا کہ ایک خاتون حیرہ اوریثرب کے درمیان کا یا اس سے بھی زیادہ سفر بے خوف و خطر طے کر ے گی، زیادہ سے زیادہ اس کو اپنی سواری کے چوری ہو جانے کا خطرہ ہو گا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11843]
تخریج الحدیث: «بعضه صحيح، وفي ھذا الاسناد عباد بن حبيش لايعرف، اخرجه الترمذي: 2954، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19381 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19600»
الحكم على الحديث:
بعضه صحيح
حدیث نمبر: 11844
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي أُنَاسٍ مِنْ قَوْمِي فَجَعَلَ يَفْرِضُ لِلرَّجُلِ مِنْ طَيِّئٍ فِي أَلْفَيْنِ وَيُعْرِضُ عَنِّي، قَالَ: فَاسْتَقْبَلْتُهُ فَأَعْرَضَ عَنِّي، ثُمَّ أَتَيْتُهُ مِنْ حِيَالِ وَجْهِهِ فَأَعْرَضَ عَنِّي، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! أَتَعْرِفُنِي؟ قَالَ: فَضَحِكَ حَتَّى اسْتَلْقَى لِقَفَاهُ ثُمَّ قَالَ: نَعَمْ وَاللَّهِ! إِنِّي لَأَعْرِفُكَ، آمَنْتَ إِذْ كَفَرُوا، وَأَقْبَلْتَ إِذْ أَدْبَرُوا، وَوَفَيْتَ إِذْ غَدَرُوا، وَإِنَّ أَوَّلَ صَدَقَةٍ بَيَّضَتْ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَوُجُوهَ أَصْحَابِهِ صَدَقَةُ عَدِيٍّ جِئْتَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَخَذَ يَعْتَذِرُ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّمَا فَرَضْتُ لِقَوْمٍ أَجْحَفَتْ بِهِمُ الْفَقْرُ وَهُمْ سَادَةُ عَشَائِرِهِمْ لِمَا يَنُوبُهُمْ مِنَ الْحُقُوقِ
سیدنا عدی بن خاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اپنی قوم کے کچھ افراد کے ساتھ سیدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے بنو طی ٔ کے ہر ہر فرد کو دو دو ہزار دیئے اورمجھ سے اعراض کیا، پھر میں ان کے سامنے آیا، لیکن انھوں نے بے رخی اختیار کی، پھر میں بالکل ان کے چہرے کے سامنے آیا، تب بھی انہوں نے مجھ سے اعراض کیا، بالآخر میں نے کہا: اے امیر المومنین! کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں؟یہ بات سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس قدر ہنسے کہ گدی کی بل لیٹ گئے اور پھر کہا: جی ہاں، اللہ کی قسم! میں تمہیں پہچانتا ہوں، تم اس وقت ایمان لائے تھے جب یہ لوگ کفر پر ڈٹے ہوئے تھے، تم اس وقت اسلام کی طرف متوجہ ہوئے تھے جب ان لوگوں نے پیٹھ کی ہوئی تھی اور تم نے اس وقت وفاداری دکھائی، جب یہ لوگ غداری کر رہے تھے اور میں جانتا ہوں کہ سب سے پہلا صدقہ، جس نے نبی کریم اور صحابہ کے چہرے روشن کر دیئے تھے، وہ تو عدی کا صدقہ تھا، جو تم رسول اللہ کے پاس لے کر آئے تھے، بعد ازاں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عدی سے معذرت کی اور کہا: میں نے ان لوگوں کو اس لئے دیا ہے کہ یہ لوگ آج کل فاقوں سے دو چار ہیں، جبکہ یہ اپنے اپنے قبیلوں کے سردار بھی ہیں اور ان پر کافی ساری ذمہ داریاں ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11844]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4394، ومسلم: 2523، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 316 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 316»
وضاحت: فوائد: … کتنی قابل غور بات ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا عدی رضی اللہ عنہ کی خوبیوںکے معترف بھی ہیں اور وہ بار بار اِن کے سامنے اس مقصد سے آ رہے ہیں کہ ان کو بھی کچھ مال ودولت دے دیا جائے، لیکن ان دو چیزوں کے باوجود ان کو کچھ بھی نہیں دیا جا رہا، کیونکہ بڑی مصلحت اور منفعت اس میں تھی کہ دوسرے لوگوں میں مال تقسیم کر دیا جائے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4394