🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شرکۃ الحروف سے تلاش کل احادیث (4154)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم دار السلفیہ سے تلاش کل احادیث (2978)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
136. قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوهُمْ مِنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلا مَعْرُوفًا}
باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى» کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 581 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 581
نا هُشَيْمٌ، عَنْ عَوْفٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ , قَالَ: " كَانُوا يَرْضَخُونَ لَهُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدُهُمُ الْقِسْمَةَ" .
ابن سیرین رحمہ اللہ نے فرمایا: جب ان میں سے کوئی تقسیم کے وقت موجود ہوتا تو لوگ انہیں کچھ دیا کرتے تھے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 581]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 581، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 31539»

الحكم على الحديث:
سنده رجاله ثقات، إلا أن هشيمًا مدلس، ولم يصرح هنا بالسماع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 582 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 582
نا هُشَيْمٌ، عَنْ جُوَيْبِرٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: فَارْزُقُوهُمْ مِنْهُ سورة النساء آية 8 , قَالَ:" هِيَ مَنْسُوخَةٌ بِالْمِيرَاثِ" .
ضحاک رحمہ اللہ نے فرمایا: ﴿فَارْزُقُوهُمْ مِنْهُ﴾ یہ آیت میراث کے حکم سے منسوخ ہو چکی ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 582]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

الحكم على الحديث:
سنده ضعيف جدًّا لشدة ضعف جويبر كما في ترجمته في الحديث [٩٣].
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 583 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 583
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا مُغِيرَةُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ , قَالَ: " قَالَ رَجُلٌ: لأُحْيِيَنَّ الْيَوْمَ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَوْ مِنْ نَصِيبِي" .
شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ایک شخص نے کہا: آج میں اللہ عزوجل کی کتاب کی ایک آیت کو زندہ کروں گا، چاہے وہ میرے حصے سے ہی ہو۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 583]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

الحكم على الحديث:
سنده ضعيف؛ مغيرة بن مقسم تقدم في الحديث [٥٤] أنه ثقة متقن، إلا أنه يدلّس، ولم يصرِّح هنا بالسماع.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
137. قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعَافًا خَافُوا عَلَيْهِمْ فَلْيَتَّقُوا اللهَ وَلْيَقُولُوا قَوْلا سَدِيدًا} .
باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعَافًا» کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 584 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 584
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعَافًا خَافُوا عَلَيْهِمْ فَلْيَتَّقُوا اللَّهَ وَلْيَقُولُوا قَوْلا سَدِيدًا سورة النساء آية 9، قَالَ:" كَانَ الرَّجُلُ إِذَا حَضَرَ , فَقَالَ لَهُ: أَوْصِ لِفُلانٍ، أَوْصِ لِفُلانٍ، وَافْعَلْ كَذَا، وَافْعَلْ كَذَا، حَتَّى يَضُرَّ ذَلِكَ بِوَرَثَتِهِ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعَافًا خَافُوا عَلَيْهِمْ سورة النساء آية 9، قَالَ:" لِيَنْظُرُوا لِوَرَثَةِ هَذَا كَمَا يَنْظُرُ أَحَدُهُمْ لِوَرَثَةِ نَفْسِهِ، فَلْيَتَّقُوا اللَّهَ، وَلْيَأْمُرُوهُ بِالْعَدْلِ وَالْحَقِّ" .
مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: جب کسی شخص کی وفات کا وقت آتا تو لوگ اسے وصیت کرنے لگتے کہ فلاں کے لیے وصیت کرو، فلاں کے لیے وصیت کرو، یہ کام کرو، وہ کام کرو، یہاں تک کہ یہ اس کے وارثوں کے حق میں نقصان دہ ہو جاتا، تو اللہ عزوجل نے فرمایا: اور انہیں ڈرنا چاہیے جو اگر اپنے پیچھے کمزور بچے چھوڑ جاتے تو ان کے بارے میں خوف محسوس کرتے، یعنی انہیں مرنے والے کے وارثوں کے بارے میں اسی طرح سوچنا چاہیے جیسے وہ اپنی اولاد کے بارے میں سوچتے ہیں، پس اللہ سے ڈریں اور اسے عدل و حق کی وصیت کریں۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 584]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

الحكم على الحديث:
سنده ضعيف لأن أبا إسحاق الذي يروي عنه هشيم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 585 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 585
نا أَبُو شِهَابٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، أَنَّهُ حَضَرَ رَجُلا يُوصِي، فَأَثَرَ بَعْضَ الْوَرَثَةِ عَلَى بَعْضٍ، فَقَالَ لَهُ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَسَمَ بَيْنَكُمْ فَأَحْسِنِ الْقَسْمَ، وَإِنَّهُ مَنْ يَرْغَبْ بِرَأْيِهِ عَنْ رَأْيِ اللَّهِ تَعَالَى يَضِلَّ، فَأَوْصِ لِذِي قَرَابَةٍ مِمَّنْ لا يَرِثُ، ثُمَّ دَعِ الْمَالَ كَمَا قَسَمَهُ اللَّهُ" .
مسروق رحمہ اللہ نے فرمایا: وہ ایک شخص کے پاس موجود تھے جو اپنی وفات کے وقت وصیت کر رہا تھا اور بعض وارثوں کو دوسروں پر ترجیح دے رہا تھا، تو انہوں نے اس سے کہا: بےشک اللہ عزوجل نے تمہارے درمیان تقسیم کی ہے اور بہترین تقسیم فرمائی ہے، اور جو کوئی اللہ کے فیصلے کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دے گا وہ گمراہ ہو جائے گا، پس اس شخص کے لیے وصیت کرو جو تمہارا قریبی رشتہ دار ہو لیکن وارث نہ ہو، اور پھر مال کو اسی تقسیم پر چھوڑ دو جیسا کہ اللہ نے مقرر فرمایا ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 585]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 585، 360، 361، 362، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12708، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 31646»

الحكم على الحديث:
سنده صحيح، وانظر الحديث رقم [٣] فيما يتعلق بتدليس الأعمش.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
138. قَوْلُهُ تَعَالَى: {إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا} .
باب: اللہ تعالیٰ کے قول «إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا» کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 586 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 586
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: " لَمَّا نَزَلَتْ: إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا سورة النساء آية 10، اعْتَزَلَ النَّاسُ أَيْتَامَهُمْ، وَكَانُوا لا يُخَالِطُونَهُمْ، فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَتْ: وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ سورة البقرة آية 220، فَعَادُوا فَخَالَطُوهُمْ" .
عکرمہ رحمہ اللہ نے فرمایا: جب یہ آیت نازل ہوئی ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَىٰ ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا﴾ تو لوگوں نے اپنے یتیموں سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور ان سے میل جول نہیں رکھتے تھے، پس انہوں نے اس معاملے کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی، تو یہ آیت نازل ہوئی ﴿وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ﴾ پس وہ دوبارہ ان کے ساتھ گھل مل گئے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 586]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

الحكم على الحديث:
سنده ضعيف لإرساله، وهو صحيح إلى مُرْسِله عكرمة.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
139. قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلالَةً أَوِ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ فَإِنْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ}
باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلالَةً أَوِ امْرَأَةٌ» کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 587 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 587
نا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ: أَمَرَ عُمَرُ حَفْصَةَ أَنْ تَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الْكَلالَةِ، فَأَمْهَلَتْهُ، حَتَّى إِذَا لَبِسَ ثِيَابَهُ، سَأَلَتْهُ عَنْهَا، فَأَمْلاهَا عَلَيْهَا، وَقَالَ:" مَنْ أَمَرَكِ بِهَذَا، أَعُمَرُ؟ مَا أَظُنُّ أَنْ يَفْهَمَهَا، أَوَلَمْ تَكْفِهِ آيَةُ الصَّيْفِ؟" ، قَالَ سُفْيَانُ: وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلالَةً سورة النساء آية 12، فَلَمْ يَفْهَمْهَا، وَقَالَ: اللَّهُمَّ مَنْ فَهِمَهَا، فَإِنِّي لَمْ أَفْهَمْهَا.
طاووس رحمہ اللہ نے فرمایا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کلالہ کے بارے میں سوال کریں۔ چنانچہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کچھ دیر انتظار کیا، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے زیب تن کر لیے تو انہوں نے سوال کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر یہ حکم بیان کیا اور فرمایا: ”تمہیں اس کے بارے میں سوال کرنے کا کس نے کہا؟ کیا عمر نے؟ میں نہیں سمجھتا کہ وہ اسے سمجھ سکیں گے۔ کیا ان کے لیے آیتِ صیف یعنی کلالہ کے بارے میں نازل شدہ آیت کافی نہیں؟“ سفیان رحمہ اللہ نے کہا: وہ آیت یہ ہے ﴿وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلَالَةً﴾ لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسے نہیں سمجھ سکے اور دعا کی: ”اے اللہ! جسے تو سمجھائے، وہ سمجھ لے، کیونکہ میں تو نہیں سمجھ سکا۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 587]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 587، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 19194، 19195»

الحكم على الحديث:
رجاله ثقات، لكنه ضعيف لإرساله، فطاوس لم يشهد الحادثة، وهو صحيح لغيره كما سيأتي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 588 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 588
نَا نَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ , قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْكَلالَةِ؟، قَالَ:" هُوَ مَا عَدَا الْوَلَدَ، وَالْوَالِدَ"، فَقُلْتُ لَهُ: إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ؟ فَغَضِبَ , وَانْتَهَرَنِي .
حسن بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کلالہ کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: وہ وارث جو اولاد اور والد کے علاوہ ہو۔ میں نے ان سے مزید وضاحت کے لیے کہا: ﴿إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ﴾ ؟ تو وہ ناراض ہوئے اور مجھے جھڑک دیا۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 588]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارمي فى (مسنده) برقم: 3017، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 588، 590، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12404، 12405، 12406، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 19189، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 32256، 32260»

الحكم على الحديث:
سنده صحيح.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 589 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 589
نَا نَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلِ، عَنْ طَاوُسٍ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ , يَقُولُ: كُنْتُ آخِرَ النَّاسِ عَهْدًا بِعُمَرَ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" الْقَوْلُ مَا قُلْتَ"، فَقُلْتُ: وَمَا قُلْتُ؟، قَالَ:" الْكَلالَةُ مَنْ لا وَلَدَ لَهُ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں آخری شخص تھا جس نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی، تو میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا: ”بات وہی ہے جو تم نے کہی۔“ میں نے پوچھا: ”میں نے کیا کہا؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”کلالہ وہ ہے جس کی اولاد نہ ہو۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 589]
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى (مستدركه) برقم: 3206، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 589، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12407، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 32254»

الحكم على الحديث:
سنده صحيح.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 590 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 590
نَا نَا هُشَيْمٌ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ , يَقُولُ: " الْكَلالَةُ مَا عَدَا الْوَالِدَ وَالْوَلَدَ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کلالہ وہ وارث ہے جو والد اور اولاد کے علاوہ ہو۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 590]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارمي فى (مسنده) برقم: 3017، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 588، 590، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12404، 12405، 12406، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 19189، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 32256، 32260»

الحكم على الحديث:
سنده ضعيف لجهالة سليم بن عبد الله، وهو صحيح لغيره بالطريق المتقدم برقم [٥٨٨]
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں