سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
172. بَابُ مَا تَجْتَنِبُهُ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا فِي عِدَّتِهَا
باب: وہ امور جن سے شوہر کی وفات کے بعد عدت گزارنے والی عورت کو پرہیز کرنا لازم ہے۔
ترقیم دار السلفیہ: 2135 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3312
نا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، وَحَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ فِي الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجهَا:" إِنَّهَا لا تَمَسُّ خِضَابًا، وَلا تَكْتَحِلُ بِكُحْلٍ، وَلا تَلْبَسُ مَصْبُوغًا، وَلا تَمَسُّ مِنَ الطِّيبِ إِلا نُبَذًا مِنْ قُسْطٍ وَأَظْفَارٍ عِنْدَ طُهْرِهَا" .
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: ”بیوہ عورت خوشبو اور رنگین کپڑے سے بچے، قسط اور اظفار کی خوشبو سے غسل کے وقت تھوڑا استعمال کر سکتی ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3312]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 313، 1279، 5340، 5341، 5342، 5343، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 938، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4305، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3536، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2302، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2087، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2135، وأحمد فى «مسنده» برقم: 21126، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19303، 19632»
وضاحت: وضاحت: «ما تجتنبه المتوفى عنها زوجها فى عدتها» یعنی: "وہ امور جن سے شوہر کی وفات کے بعد عدت گزارنے والی عورت اجتناب کرے" کا تسلسل ہے، اور یہ روایت صحابیہ سیدہ اُم عطیہ رضی اللہ عنہا کی فقہی وضاحت پر مشتمل ہے، جو عدتِ وفات میں عورت کے لیے زینت سے اجتناب کی تفصیل بیان کرتی ہیں۔
فائدہ: ستنباطی قاعدہ: عدتِ وفات کی اصل روح "إحداد" (سوگ) ہے، اور اس میں ہر وہ چیز ممنوع ہے جو زینت یا خوشنمائی پر دلالت کرے، سوائے شرعی ضرورت یا نظافت کے۔ ✅ خلاصہ: یہ حدیث سنداً صحیح اور متعدد صحابیہ و تابعین کی سند سے مضبوط ہے اور اس سے عدتِ وفات کے دوران عورت کی زینت، لباس، مہندی، سرمہ اور خوشبو کے متعلق تفصیلی فقہی ضوابط واضح ہوتے ہیں ساتھ ہی ساتھ یہ حدیث نظافت اور فطری طہارت کو بھی نظرانداز نہیں کرتی، اس لیے تھوڑی مقدار میں قسط اور اظفار جیسی خوشبو اجازت دی گئی ہے — عبادت اور طہارت کے وقت۔
فائدہ: ستنباطی قاعدہ: عدتِ وفات کی اصل روح "إحداد" (سوگ) ہے، اور اس میں ہر وہ چیز ممنوع ہے جو زینت یا خوشنمائی پر دلالت کرے، سوائے شرعی ضرورت یا نظافت کے۔ ✅ خلاصہ: یہ حدیث سنداً صحیح اور متعدد صحابیہ و تابعین کی سند سے مضبوط ہے اور اس سے عدتِ وفات کے دوران عورت کی زینت، لباس، مہندی، سرمہ اور خوشبو کے متعلق تفصیلی فقہی ضوابط واضح ہوتے ہیں ساتھ ہی ساتھ یہ حدیث نظافت اور فطری طہارت کو بھی نظرانداز نہیں کرتی، اس لیے تھوڑی مقدار میں قسط اور اظفار جیسی خوشبو اجازت دی گئی ہے — عبادت اور طہارت کے وقت۔
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
ترقیم دار السلفیہ: 2136 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3313
نا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ لَمَّا جَاءَهَا نَعْيُ أَبِي سُفْيَانَ دَعَتْ بِصُفْرَةٍ بَعْدَ الثَّالِثِ، فَمَسَحَتْ بِهَا عَارِضَيْهَا وَذِرَاعَيْهَا، وَقَالَتْ: إِنِّي كُنْتُ غَنِيَّةً عَنْ هَذَا لَوْلا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لا يَحِلُّ لامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ إِلا عَلَى زَوْجٍ، فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا" .
سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے وفات کے بعد تیسرے دن خوشبو لگائی اور کہا: ”اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہ سنا ہوتا تو یہ نہ کرتی۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3313]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1280، 1281، 5334، 5335، 5336، 5338، 5339، 5345، 5706، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1486، ومالك فى «الموطأ» برقم: 2215، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4304، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3500، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1195، 1196، 1197، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2330، 2331، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2084، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2133، 2136، وأحمد فى «مسنده» برقم: 27144، والحميدي فى «مسنده» برقم: 306، 308، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19630»
وضاحت: فائدہ: یہ حدیث سنداً صحیح، متفق علیہ اصولی قاعدہ پر مشتمل ہے جس سے درج ذیل امور ثابت ہوتے ہیں: سوگ صرف شوہر کی وفات پر چار ماہ دس دن تک جائز ہے دوسرے رشتہ داروں پر صرف تین دن کی اجازت ہے عدتِ وفات مکمل ہونے کے بعد عورت خوشبو استعمال کر سکتی ہے نص شرعی کی پابندی ہی ایمان کا تقاضا ہے سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کا عمل اتباع سنت کا اعلیٰ نمونہ ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
ترقیم دار السلفیہ: 2137 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3314
نا هُشَيْمٌ، أنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ فِي الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا:" إِنَّهَا لا تَمَسُّ خِضَابًا، وَلا طِيبًا، وَلا كُحْلا، وَلا ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلا ثَوْبَ عَصْبٍ تَجَلْبَبُ بِهِ، وَلا تَبِيتُ عَنْ بَيْتِهَا حَتَّى تَنْقَضِي عِدَّتُهَا" .
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”بیوہ عورت خوشبو، زینتی سرمہ اور رنگین کپڑے استعمال نہ کرے، صرف سادہ کپڑے اوڑھے اور اپنے گھر میں رہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3314]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 2197، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2137، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15600، 15609، 15610، 15634، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12039، 12061، 12062، 12063، 12115، 12116، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19170، 19306، 19308، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 4584، 4587، 4588، 4593»
وضاحت: وضاحت: یہ اثر اگرچہ سنداً ضعیف ہے (ابن أبی لیلیٰ کی وجہ سے)، مگر متن صحیح روایات (2133–2136) کے عین مطابق ہے، اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا فقہی اجتہاد ہونے کے ناطے قابلِ عمل و معتبر ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
ترقیم دار السلفیہ: 2138 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3315
نا نا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ صَفِيَّةَ امْرَأَةَ عَبْدِ اللَّهِ، لَمَّا مَاتَ عَنْهَا عَبْدُ اللَّهِ اشْتَكَتْ عَيْنَيْهَا،" فَكَانَتْ تَقْطُرُ فِيهَا الصَّبِرَ" .
نافع رحمہ اللہ نے بیان کیا: ”صفیہ زوجہ عبداللہ نے شوہر کی وفات پر آنکھوں میں صبر کا قطرہ ڈالا۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3315]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 2225، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2138، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12125، 12126، 12127، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19305»
وضاحت: وضاحت: یہ روایت سنداً صحیح اور فقہی عمل کے لحاظ سے قوی ہے اور اس سے درج ذیل اصول اخذ ہوتے ہیں: عدتِ وفات میں عورت زینت سے پرہیز کرے لیکن اگر طبی ضرورت ہو تو غیر زینتی دوا کا استعمال جائز ہے سیدہ صفیہ بنت عبد اللہ کا عمل سلف صالحین کی فقہی بصیرت کی عملی مثال ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
ترقیم دار السلفیہ: 2139 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3316
نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ قَالَ فِي الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا:" لا تَكْتَحِلُ بِكُحْلِ زِينَةٍ إِلا بِصَبِرٍ أَوْ ذَرُورٍ، وَلا تَبِيتُ عَنْ بَيْتِهَا، وَلا تَخْرُجُ فِي حَقِّ عِيَادَةٍ أَوْ ذِي قَرَابَةٍ، وَالْمُطَلَّقَةُ ثَلاثًا مِثْلُ ذَلِكَ" .
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: ”بیوہ عورت زینتی سرمہ نہ لگائے، صرف صبر یا ذرور استعمال کرے اور نہ گھر سے نکلے مگر مجبوری میں۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3316]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1346، 1347، 2139، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19163، 19195، 19282، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 4595»
ترقیم دار السلفیہ: 2140 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3317
نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ: كَانَ عُرْوَةُ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ فِي الإِحْدَادِ، لَقَدْ سَأَلَتْهُ امْرَأَةٌ تَلْبَسُ خِمَارًا بِبَقَّمٍ وَهِيَ حَادَّةٌ؟ فَقَالَ: لا، فَقَالَتْ: لا وَاللَّهِ مَا لِي غَيْرُهُ، فَقَالَ:" اصْبَغِيهِ إِذًا بِسَوَادٍ"، وَقَالَ عُرْوَةُ: " السُّنَّةُ فِي الإِحْدَادِ أَنَّ الْمَرْأَةَ لا يَحِلُّ لَهَا أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلاثٍ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الرَّابِعِ أُمِرَتْ أَنْ يَمَسَّ دِرْعَهَا الصُّفْرَةُ أَوِ الزَّعْفَرَانُ، إِنِ الْمَرْأَةُ حَادَّةٌ عَلَى زَوْجِهَا فَإِنَّهَا لا تَمَسُّ شَيْئًا حَتَّى يَنْقَضِيَ أَجَلُهَا" .
حضرت عروہ رحمہ اللہ نے کہا: ”حداد عورت پر سختی ہے، رنگین خمار جائز نہیں، سیاہ خمار استعمال کرے اور بیوہ عورت عدت پوری کرے۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3317]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2140، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12133»
وضاحت: فائدہ: «الحداد على غير الزوج لا يجوز فوق ثلاث، أما على الزوج فيكون أربعة أشهر وعشراً» یعنی: غیر شوہر پر سوگ صرف تین دن تک جائز ہے، اور شوہر پر سوگ مکمل عدت (4 ماہ 10 دن) تک فرض ہے ✅ خلاصہ: یہ اثر: سنداً حسن تابعی فقیہ کا قول اور فقہی اصول کی وضاحت ہے اس میں: زینت سے اجتناب کی حدیں سوگ کی مدت رنگ و لباس کی کیفیت سب کچھ نہایت متوازن اور سادہ انداز میں بیان ہوا ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
ترقیم دار السلفیہ: 2141 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3318
نا هُشَيْمٌ، أنا سَيَّارٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، فَعَفَا وَلِيُّهَا عَنْ نِصْفِ الصَّدَاقِ فَخَاصَمَتْ زَوْجَهَا إِلَى شُرَيْحٍ، فَقَالَ:" قَدْ عَفَا وَلِيُّكِ"، ثُمَّ رَجَعَ عَنْ ذَلِكَ بَعْدُ، فَجَعَلَ " الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ الزَّوْجَ" .
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے کہا: ”عورت نے نصف مہر پر ولی کے معاف کرنے کے باوجود شوہر سے جھگڑا کیا، شریح نے پہلے ولی کے معاف کرنے کا اعتبار کیا، پھر رجوع کر کے شوہر کو نکاح کا اصل مالک قرار دیا۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3318]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 385، 390، 2141، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14561، 14563، 14564، 14566، 14570، والدارقطني فى «سننه» برقم: 3724، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 10859، 10886، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 17252، 17255، 17260، 17267، 17268»
ترقیم دار السلفیہ: 2142 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3319
نا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ:" هُوَ الْوَلِيُّ"، وَكَانَ شُرَيْحٌ يَقُولُ:" هُوَ الزَّوْجُ".
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ سے علقمہ رحمہ اللہ نے نقل کیا: ”ولی عقد نکاح کا مالک ہے۔“ اور شریح رحمہ اللہ کا قول تھا: ”شوہر مالک ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3319]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 386، 2142، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14570، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 10856، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 17274»
173. بَابُ مَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ مِنِ امْرَأَتِهِ إِذَا كَانَتْ حَائِضًا
باب: حائضہ عورت کے ساتھ تعلقات کا جواز
ترقیم دار السلفیہ: 2143 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3320
نا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَجَلِيِّ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: خَرَجَ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَسَأَلَهُمْ:" مِنْ أَيْنَ أَنْتُمْ؟" فَقَالُوا: مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ، فَقَالَ:" أَبِإِذْنِي جِئْتُمْ؟" قَالُوا: نَعَمْ، فَسَأَلُوهُ مَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ مِنِ امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ، وَعَنْ غُسْلِ الْجَنَابَةِ، وَعَنْ صَلاةِ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ، فَقَالَ لَهُمْ:" أَسَحَرَةٌ أَنْتُمْ؟" فَقَالُوا: لا وَاللَّهِ، وَمَا نَحْنُ بِسَحَرَةٍ، فَقَالَ:" لَقَدْ سَأَلْتُمُونِي عَنْ خِصَالٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُنَّ جَمِيعًا بَعْدَ إِذْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُكُمْ، أَمَّا " مَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ مِنِ امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ فَمَا فَوْقَ الإِزَارِ، وَأَمَّا صَلاةُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ فَنُورٌ، فَنَوِّرُوا بُيُوتَكُمْ، وَأَمَّا الْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ فَتَوَضَّأْ وُضُوءَ الصَّلاةِ، ثُمَّ اغْسِلْ رَأْسَكَ ثَلاثًا، ثُمَّ أَفِضْ عَلَى سَائِرِ جَسَدِكَ" .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مرد حائضہ عورت سے صرف ازار کے اوپر مباشرت کرے، گھر میں نماز پڑھنا روشنی ہے، غسل جنابت میں وضو کرے پھر سر اور پورے جسم پر پانی بہائے۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3320]
تخریج الحدیث: «إسناده مرسل، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 260، 261، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1375، 1375 م، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2143، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 1523، وأحمد فى «مسنده» برقم: 87، والطيالسي فى «مسنده» برقم: 49، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 168، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 987، 988، 1238، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 699، 704، 6521، 17103، وأخرجه الطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 4377، 4378، 4379، 4380»
وضاحت: وضاحت: اثر عاصم بن عمرو سنداً ضعیف ہے، لیکن اس کا متن متواتر صحیح احادیث سے تقویت یافتہ ہے، اس لیے فقہی استنباط اور تعلیم و فہم کے لیے قابلِ قبول اور مفید ہے، خود سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اسلوب و حکمت بھی اس میں نمایاں ہے
فائدہ: سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا ایک فقہی و تربیتی مجلسی بیان ہے۔ اس میں متعدد عبادات اور احکامِ طہارت سے متعلق سوالات کا جواب دیا گیا، اور ساتھ ہی اس کے انداز سے تعلیم، فہم اور ادبِ سوال کی روح بھی جھلکتی ہے۔ یہ اثر صحابہ کے تعلیمی اسلوب، فقیہی اجتہاد، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی علم کی روایت کا عملی مظہر ہے۔ اضافی نکتہ: جب عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: "أسحرة أنتم؟" (کیا تم لوگ جادوگر ہو؟) تو یہ طنز نہیں بلکہ حیرت اور تعجب کا اظہار تھا کہ: "تم نے وہ سوال کیے جنہیں آج تک کسی نے ایک ساتھ نہیں پوچھا" یہ سوال کرنے والوں کی علمی طلب کی تعریف بھی ہے اور علم کی حرمت کا اظہار بھی۔
✅ نتیجہ: یہ اثر: سنداً حسن کے درجہ کے قریب ہے (روایات کے مجموعے میں) اور صحابی جلیل کا جامع علمی بیان ہے اس میں طہارت، حیض، اور نماز کے احکام نہایت جامع، مختصر اور اصولی انداز میں سکھائے گئے ہیں ساتھ ہی تعلیم کا ادب، سوال کا اسلوب، اور سنتِ نبوی کی پیروی کا ایک خوبصورت نمونہ بھی پیش کیا گیا ہے۔
فائدہ: سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا ایک فقہی و تربیتی مجلسی بیان ہے۔ اس میں متعدد عبادات اور احکامِ طہارت سے متعلق سوالات کا جواب دیا گیا، اور ساتھ ہی اس کے انداز سے تعلیم، فہم اور ادبِ سوال کی روح بھی جھلکتی ہے۔ یہ اثر صحابہ کے تعلیمی اسلوب، فقیہی اجتہاد، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی علم کی روایت کا عملی مظہر ہے۔ اضافی نکتہ: جب عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: "أسحرة أنتم؟" (کیا تم لوگ جادوگر ہو؟) تو یہ طنز نہیں بلکہ حیرت اور تعجب کا اظہار تھا کہ: "تم نے وہ سوال کیے جنہیں آج تک کسی نے ایک ساتھ نہیں پوچھا" یہ سوال کرنے والوں کی علمی طلب کی تعریف بھی ہے اور علم کی حرمت کا اظہار بھی۔
✅ نتیجہ: یہ اثر: سنداً حسن کے درجہ کے قریب ہے (روایات کے مجموعے میں) اور صحابی جلیل کا جامع علمی بیان ہے اس میں طہارت، حیض، اور نماز کے احکام نہایت جامع، مختصر اور اصولی انداز میں سکھائے گئے ہیں ساتھ ہی تعلیم کا ادب، سوال کا اسلوب، اور سنتِ نبوی کی پیروی کا ایک خوبصورت نمونہ بھی پیش کیا گیا ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده مرسل
ترقیم دار السلفیہ: 2144 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3321
نا نا هُشَيْمٌ، نا لَيْثٌ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا سُئِلَتْ" مَا لِلرَّجُلِ مِنِ امْرَأَتِهِ إِذَا حَاضَتْ؟ قَالَتْ: مَا فَوْقَ الإِزَارِ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”حائضہ عورت سے شوہر کو ازار کے اوپر مباشرت کی اجازت ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3321]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارمي فى «مسنده» برقم: 1078، 1079، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2144، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 17089، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 1424، 9243»
ليث بن أبي سليم: ضعيف
ليث بن أبي سليم: ضعيف
وضاحت: فائدہ: اثر سنداً ضعیف ہے (لیث بن ابی سلیم کی وجہ سے) لیکن متناً صحیح حدیث کا خلاصہ ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ فتویٰ سنتِ نبوی کی تفسیر ہے اور فقہی اصول کی حیثیت رکھتا ہے کہ: "حائضہ عورت سے دخول حرام ہے، مگر ازار کے اوپر مباشرت جائز ہے"
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف