🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
253. باب الأدعية
دعاؤں کا بیان -
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 867
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ، عَنْ أَبِي نَوْفَلِ بْنِ أَبِي عَقْرَبَ عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الْجَوَامِعُ مِنَ الدُّعَاءِ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أَبُو نَوْفَلٍ اسْمُهُ: مُعَاوِيَةُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي عَقْرَبَ، مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جامع دعائیں پسند تھیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابونوفل نامی راوی کا نام معاویہ بن مسلم بن ابوعقرب ہے، اور یہ بصرہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 867]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 867، 869، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1920، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1482، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3846، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25659» «رقم طبعة با وزير 864»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1332). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير الأسود بن شيبان، فمن رجال مسلم وأبو الوليد: هو هشام بن عبد الملك الطيالسي البصري الحافظ الحجة.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
254. باب الأدعية - ذكر ما يجب أن يكون قصد المرء في جوامع دعائه وبيان أحواله له
دعاؤں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کا اپنی جامع دعاؤں میں کیا ارادہ ہونا چاہیے اور اس کی حالتوں کی وضاحت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 868
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو زُنَيْجٌ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِرَجُلٍ: " مَا تَقُولُ فِي الصَّلاةِ؟"، فَقَالَ: أَتَشَهَّدُ، ثُمَّ أَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ. أَنَا وَاللَّهِ مَا أُحْسِنُ دَنْدَنَتَكَ وَلا دَنْدَنَةَ مُعَاذٍ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حَوْلَهَا نُدَنْدِنُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے دریافت فرمایا: ”تم نماز میں کیا پڑھتے ہو؟“ (یعنی کیا دعا مانگتے ہو) اس نے عرض کی: میں تشہد پڑھتا ہوں پھر میں یہ دعا مانگتا ہوں: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ» ”اے اللہ! میں تجھ سے جنت مانگتا ہوں اور جہنم سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ (اس شخص نے عرض کی) اللہ کی قسم! میں آپ کی طرح اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی طرح (جامع دعا) نہیں مانگتا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم بھی اسی کے آس پاس والی مانگتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 868]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 725، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 868، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 910، 3847، والبزار فى (مسنده) برقم: 9186» «رقم طبعة با وزير 865»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (757). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير محمد بن عمرو، فمن رجال مسلم وأبو صالح. هو ذكوان السمان الزيات المدني.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
255. باب الأدعية - ذكر الأمر للمرء أن يسأل ربه جل وعلا جوامع الخير ويتعوذ به من جوامع الشر
دعاؤں کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ آدمی کو اپنے رب جل وعلا سے جامع خیر مانگنا چاہیے اور جامع شر سے اس کی پناہ مانگنی چاہیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 869
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، مَا لا أُحْصِي مِنْ مَرَّةٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حمادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهَا أَنْ تَقُولَ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ عَاجِلَهُ وَآجِلَهُ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهِ عَاجِلَهُ وَآجِلَهُ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمُ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ مَا سَأَلَكَ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ مَا عَاذَ بِهِ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ، وَأَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ وَعَمَلٍ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ وَعَمَلٍ، وَأَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَ كُلَّ قَضَاءٍ قَضَيْتَهُ لِي خَيْرًا" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ تعلیم دی تھی کہ وہ یہ دعا مانگیں: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهِ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَاذَ بِهِ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَ كُلَّ قَضَاءٍ قَضَيْتَهُ لِي خَيْرًا» ”اے اللہ! میں تجھ سے ساری بھلائی کی دعا کرتا ہوں، خواہ وہ جلدی ملے یا دیر سے ملے، مجھے اس کا علم ہو یا نہ ہو، اور میں ہر قسم کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں خواہ وہ جلدی ہو یا دیر سے ہو، خواہ مجھے اس کا علم ہو یا علم نہ ہو۔ اے اللہ! میں تجھ سے ہر وہ بھلائی مانگتا ہوں جو تیرے بندے اور تیرے نبی نے تجھ سے مانگی ہے، اور ہر اس شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس سے تیرے بندے اور تیرے نبی نے پناہ مانگی ہے، اور میں تجھ سے جنت اور جنت سے قریب کر دینے والے قول [کا سوال کرتا ہوں] اور میں جہنم سے اور جہنم کے قریب کر دینے والے قول سے پناہ مانگتا ہوں، اور میں تجھ سے یہ مانگتا ہوں کہ تو نے میرے بارے میں جو بھی فیصلہ کیا ہے، اسے بہتر کر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 869]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 867، 869، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1920، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1482، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3846، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25659» «رقم طبعة با وزير 866»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1542). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله ثقات، ويغلب على الظن أن الصواب إثبات جبر بن حبيب في السند بين الجريري وأم كلثوم، لأن البخاري رواه في «الأدب المفرد» من طريق الجريري، عن جبر بن حبيب عن أم كلثوم، عن عائشة، ولأن أحمد وابن ماجه روياه من طريق حماد بن سلمة، أخبرني جبر بن حبيب، عن أم كلثوم، عن عائشة، ولأن الحاكم رواه من طريق شعبة، عن جبر بن حبيب، عن أم كلثوم، عن عائشة، ولأن كتب الرجال لم تذكر أن الجريري يروي عن أم كلثوم مباشرة، انما بواسطة جبر بن حبيب، لكن لا يستبعد أن يكون الجريري أدرك أم كلثوم، فقد ولدت في سنة 13 هـ، وتوفي الجريري سنة 144 هـ.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
256. باب الأدعية - ذكر البيان بأن دعاء المرء لله جل وعلا من أكرم الأشياء عليه
دعاؤں کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ آدمی کا اللہ جل وعلا سے دعا کرنا اس کے لیے سب سے عزت والا عمل ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 870
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ أَخِي الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَمَ عَلَى اللَّهِ مِنَ الدُّعَاءِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک دعا سے زیادہ معزز اور کوئی چیز نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 870]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 870، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1807، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3370، 3370 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3829، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8869، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 2708، والبزار فى (مسنده) برقم: 9555، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 2523، 3706» «رقم طبعة با وزير 867»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - «التعليق الرغيب» (2/ 271)، «المشكاة» (2232). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن، عمران القطان: وهو ابن داور، ويكنى أبا العوام: صدوق يهم، فهو حسن الحدث، وباقي رجاله ثقات.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
257. باب الأدعية - ذكر رجاء النجاة من الآفات لمن دام على الدعاء في أوقاته
دعاؤں کا بیان - اس امید کا ذکر کہ جو شخص اپنی دعاؤں پر دوام کرتا ہے وہ آفات سے نجات پاتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 871
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ زُهَيْرٍ الْجُرْجَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ هُوَ ابْنُ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَعْجِزُوا فِي الدُّعَاءِ، فَإِنَّهُ لَنْ يَهْلِكَ مَعَ الدُّعَاءِ أَحَدٌ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”دعا کے بارے میں سستی نہ کرو، کیونکہ کوئی بھی شخص دعا کے ہمراہ ہلاکت کا شکار نہیں ہوتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 871]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 871، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1824» «رقم طبعة با وزير 868»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف جداً - «الضعيفة» (843). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف لضعف عمر بن محمد بن صهبان كما تقدم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
258. باب الأدعية - ذكر الإخبار عما يستحب للمرء من المواظبة على الدعاء والبر
دعاؤں کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ دعا اور نیکی پر دوام کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 872
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الرَّجُلَ لَيُحْرَمُ الرِّزْقَ بِالذَّنْبِ يُصِيبُهُ، وَلا يُرَدُّ الْقَدْرُ إِلا بِالدُّعَاءِ، وَلا يَزِيدُ فِي الْعُمُرِ إِلا الْبِرُّ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْخَبَرِ لَمْ يُرِدْ بِهِ عُمُومَهُ، وَذَاكَ أَنَّ الذَّنْبَ لا يَحْرِمُ الرِّزْقَ الَّذِي رُزِقَ الْعَبْدُ، بَلْ يُكَدِّرِ عَلَيْهِ صَفَاءَهُ إِذَا فَكَرَّ فِي تَعْقِيبِ الْحَالَةِ فِيهِ. وَدَوَامُ الْمَرْءِ عَلَى الدُّعَاءِ يُطَيِّبُ لَهُ وُرُودَ الْقَضَاءِ، فَكَأَنَّهُ رَدَّهُ لِقِلَّةِ حِسِّهِ بِأَلَمِهِ، وَالْبِرُّ يُطَيِّبُ الْعَيْشَ حَتَّى كَأَنَّهُ يُزَادُ فِي عُمْرِهِ بِطِيبِ عَيْشِهِ، وَقِلَّةِ تَعَذُّرِ ذَلِكَ فِي الأَحْوَالِ.
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”(بعض اوقات) کوئی شخص کسی گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے رزق سے محروم ہو جاتا ہے اور تقدیر کو صرف دعا ٹال سکتی ہے اور عمر میں اضافہ صرف نیکی کرتی ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس حدیث میں مذکور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے مراد اس کا عموم نہیں ہے، یعنی آدمی کے نصیب میں جو رزق لکھا گیا ہے گناہ اس رزق سے محروم نہیں کرتا بلکہ اس کی پاکیزگی کو گدلا کر دیتا ہے جب وہ اس کے حاصل ہونے کے بعد کی صورتِ حال میں غور و فکر کرتا ہے، اور آدمی کا ہمیشہ دعا کرتے رہنا اس کے لیے تقدیر کے فیصلے کو قابلِ قبول بنا دیتا ہے، گویا وہ اس کی تکلیف کو کم محسوس کرتے ہوئے اس کو پرے کر دیتا ہے، اور نیکی آدمی کی زندگی کو پاکیزہ کر دیتی ہے، یہاں تک کہ اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس کی زندگی کے آرام کی وجہ سے اس کی عمر میں اضافہ ہو گیا ہے، اور عام طور پر یہ چیزیں بہت کم پائی جاتی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 872]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 872، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1820، 6092، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11775، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 90، 4022، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22821، 22848، 22874، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 30487، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 3069، والطبراني فى(الكبير) برقم: 1442» «رقم طبعة با وزير 869»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن لغيره دون أوله: «إن الرجل ... يصيبه» - «الصحيحة» (154). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث حسن، عبد الله بن أبي الجعد: ذكره المؤلف في "الثقات" 5/ 20، وروى عنه اثنان، وباقي رجاله ثقات رجال الشيخين. أبو خيثمة: هو زهير بن حرب.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
259. باب الأدعية - ذكر البيان بأن المرء إذا دعا الله جل وعلا بنية صحيحة وعمل مخلص قد يستجاب له دعاؤه وإن كان الشيء المسؤول معجزة
دعاؤں کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ اگر آدمی خالص نیت اور مخلص عمل کے ساتھ اللہ جل وعلا سے دعا کرے تو اس کی دعا قبول ہو سکتی ہے، چاہے مانگی ہوئی چیز معجزہ ہی کیوں نہ ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 873
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ صُهَيْبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كَانَ مَلِكٌ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ لَهُ سَاحِرٌ، فَلَمَّا كَبِرَ، قَالَ لِلْمَلِكِ: إِنِّي قَدْ كَبِرْتُ، فَابْعَثْ إِلَيَّ غُلامًا أُعَلِّمُهُ السِّحْرَ، فَبَعَثَ لَهُ غُلامًا يُعَلِّمُهُ، فَكَانَ فِي طَرِيقِهِ إِذَا سَلَكَ رَاهِبٌ، فَقَعَدَ إِلَيْهِ، وَسَمِعَ كَلامَهُ وَأَعْجَبَهُ، فَكَانَ إِذَا أَتَى السَّاحِرَ، ضَرَبَهُ، وَإِذَا رَجَعَ مِنْ عِنْدِ السَّاحِرِ، قَعَدَ إِلَى الرَّاهِبِ، وَسَمِعَ كَلامَهُ، فَإِذَا أَتَى أَهْلَهُ ضَرَبُوهُ، فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى الرَّاهِبِ، فَقَالَ لَهُ: إِذَا خَشِيتَ السَّاحِرَ فَقُلْ: حَبَسَنِي أَهْلِي، وَإِذَا خَشِيتَ أَهْلَكَ، فَقُلْ: حَبَسَنِي السَّاحِرُ. فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ أَتَى عَلَى دَابَّةٍ عَظِيمَةٍ قَدْ حَبَسْتِ النَّاسَ، فَقَالَ: الْيَوْمَ أَعْلَمُ: الرَّاهِبُ أَفْضَلُ أَمِ السَّاحِرُ؟ فَأَخَذَ حَجَرًا، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ أَمْرُ الرَّاهِبِ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِنْ أَمْرِ السَّاحِرِ، فَاقْتُلْ هَذِهِ الدَّابَّةَ حَتَّى يَمْضِيَ النَّاسُ، فَرَمَاهَا فَقَتَلَهَا، وَمَضَى النَّاسُ، فَأَتَى الرَّاهِبَ، فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ لَهُ الرَّاهِبُ: أَيْ بُنَيَّ، أَنْتَ الْيَوْمَ أَفْضَلُ مِنِّي، وَإِنَّكَ سَتُبْتَلَى، فَإِنِ ابْتُلِيتَ فَلا تَدُلَّ عَلَيَّ. فَكَانَ الْغُلامُ يُبْرِئُ الأَكْمَهَ وَالأَبْرَصَ، وَيُدَاوِي سَائِرَ الأَدْوَاءِ. فَسَمِعَ جَلِيسٌ لِلْمَلِكِ، كَانَ قَدْ عَمِيَ، فَأَتَى الْغُلامَ بِهَدَايَا كَثِيرَةٍ، فَقَالَ: مَا هَا هُنَا لَكَ أَجْمَعُ، إِنْ أَنْتَ شَفَيْتَنِي، قَالَ: إِنِّي لا أَشْفِي أَحَدًا إِنَّمَا يَشْفِي اللَّهُ، فإِنْ آمَنْتَ بِاللَّهِ دَعَوْتُ اللَّهَ فَشَفَاكَ، فَآمَنَ بِاللَّهِ فَشَفَاهُ اللَّهُ. فَأَتَى الْمَلِكَ يَمْشِي يَجْلِسُ إِلَيْهِ كَمَا كَانَ يَجْلِسُ، فَقَالَ الْمَلِكُ: فُلانُ! مَنْ رَدَّ عَلَيْكَ بَصَرَكَ؟ قَالَ: رَبِّي، قَالَ: وَلَكَ رَبٌّ غَيْرِي؟ قَالَ: رَبِّي وَرَبُّكَ وَاحِدٌ، فَلَمْ يَزَلْ يُعَذِّبْهُ حَتَّى دَلَّ عَلَى الْغُلامِ. فَجِيءَ بِالْغُلامِ، فَقَالَ لَهُ الْمَلِكُ: أَيْ بُنَيَّ، قَدْ بَلَغَ مِنْ سِحْرِكَ مَا تُبْرِئُ الأَكْمَهَ وَالأَبْرَصَ وَتَفْعَلُ وَتَفْعَلُ؟ قَالَ: إِنِّي لا أَشْفِي أَحَدًا، إِنَّمَا يَشْفِي اللَّهُ. فَأَخَذَهُ، فَلَمْ يَزَلْ يُعَذِّبْهُ حَتَّى دَلَّ عَلَى الرَّاهِبِ، فَجِيءَ بِالرَّاهِبِ، فَقِيلَ لَهُ: ارْجِعْ عَنْ دِينِكَ، فَأَبِي، فَدَعَا بِالْمِنْشَارِ، فَوَضَعَ الْمِنْشَارَ فِي مَفْرِقِ رَأْسِهِ، فَشُقَّ بِهِ حَتَّى وَقَعَ شِقَّاهُ. ثُمَّ جِيءَ بِجَلِيسِ الْمَلِكِ، فَقِيلَ: ارْجِعْ عَنْ دِينِكَ، فَأَبِي، فَوَضَعَ الْمِنْشَارَ فِي مَفْرِقِ رَأْسِهِ، فَشَقَّهُ بِهِ حَتَّى وَقَعَ شِقَّاهُ. ثُمَّ جِيءَ بِالْغُلامِ فَقِيلَ لَهُ: ارْجِعْ عَنْ دِينِكَ فَأَبِي، فَدَفَعَهُ إِلَى نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: اذْهَبُوا بِهِ إِلَى جَبَلِ كَذَا وَكَذَا، فَاصْعَدُوا بِهِ الْجَبَلَ، فَإِذَا بَلَغْتُمْ ذُرْوَتَهُ، فَإِنْ رَجَعَ عَنْ دِينِهِ، وَإِلا فَاطْرَحُوهُ. فَذَهَبُوا بِهِ فَصَعِدُوا بِهِ الْجَبَلَ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِمَا شِئْتَ. فَرَجَفَ بِهِمُ الْجَبَلُ، فَسَقَطُوا، وَجَاءَ يَمْشِي إِلَى الْمَلِكِ، فَقَالَ لَهُ الْمَلِكُ: مَا فَعَلَ أَصْحَابُكَ؟ قَالَ: كَفَانِيهِمُ اللَّهُ. فَدَفَعَهُ إِلَى قَوْمٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: اذْهَبُوا بِهِ، فَاحْمِلُوهُ فِي قُرْقُورٍ، فَوَسِّطُوا بِهِ الْبَحْرَ، فَلَجِّجُوا بِهِ، فَإِنْ رَجَعَ عَنْ دِينِهِ، وَإِلا فَاقْذِفُوهُ، فَذَهَبُوا بِهِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِمَا شِئْتَ. فَانْكَفَأَتْ بِهِمُ السَّفِينَةُ، وَجَاءَ يَمْشِي إِلَى الْمَلِكِ، فَقَالَ لَهُ الْمَلِكُ: مَا فَعَلَ أَصْحَابُكَ؟ قَالَ: كَفَانِيهِمُ اللَّهُ. فَقَالَ لِلْمَلِكِ: وَإِنَّكَ لَسْتَ بِقَاتِلِي حَتَّى تَفْعَلَ مَا آمُرُكَ بِهِ. قَالَ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: تَجْمَعُ النَّاسَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ، وَتَصْلُبُنِي عَلَى جِذْعٍ، ثُمَّ خُذْ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِكَ، ثُمَّ ضَعِ السَّهْمَ فِي كَبِدِ الْقَوْسِ، ثُمَّ قُلْ: بِسْمِ اللَّهِ رَبِّ الْغُلامِ، ثُمَّ ارْمِنِي، فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ قَتَلْتَنِي. فَجَمَعَ النَّاسَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ صَلَبَهُ عَلَى جِذْعٍ، ثُمَّ أَخَذَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ، ثُمَّ وَضَعَ السَّهْمَ فِي كَبِدِ قَوْسِهِ، ثُمَّ قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ رَبِّ الْغُلامِ، ثُمَّ رَمَاهُ، فَوَقَعَ السَّهْمُ فِي صُدْغِهِ، فَوَضَعَ يَدَهُ فِي مَوْضِعِ السَّهْمِ فَمَاتَ، فَقَالَ النَّاسُ: آمَنَّا بِرَبِّ الْغُلامِ، آمَنَّا بِرَبِّ الْغُلامِ، ثَلاثًا. فَأُتِيَ الْمَلِكُ، فَقِيلَ لَهُ: أَرَأَيْتَ مَا كُنْتَ تَحْذَرُ، قَدْ وَاللَّهِ نَزَلَ بِكَ حَذَرُكَ، قَدْ آمَنَ النَّاسُ. فَأَمَرَ بِالأُخْدُودِ بِأَفْوَاهِ السِّكَكِ، فَخُدَّتْ، وَأَضْرَمَ النِّيرَانَ، وَقَالَ: مَنْ لَمْ يَرْجِعْ عَنْ دِينِهِ فَأَحْمُوهُ، فَفَعَلُوا حَتَّى جَاءَتِ امْرَأَةٌ وَمَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا، فَتَقَاعَسَتْ أَنْ تَقَعَ فِيهَا، فَقَالَ لَهَا الْغُلامُ: يَا أُمَّهِ اصْبِرِي، فَإِنَّكِ عَلَى الْحَقِّ" .
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلے زمانے میں ایک بادشاہ تھا اس کا ایک جادوگر تھا۔ جب وہ عمر رسیدہ ہو گیا، تو اس نے بادشاہ سے کہا: میں بوڑھا ہو گیا ہوں تم میرے پاس کسی لڑکے کو بھیجو تاکہ میں اسے جادو کی تعلیم دوں، تو بادشاہ نے اس کے پاس ایک لڑکے کو بھیجا تاکہ وہ اسے تعلیم دینا شروع کرے۔ ابھی وہ لڑکا راستے میں جا رہا تھا کہ وہاں سے ایک راہب کا گزر ہوا وہ اس کے پاس بیٹھ گیا اور اس کی بات چیت سننے لگا، اس کو اس کی باتیں اچھی لگیں۔ جب وہ جادوگر کے پاس آیا، تو جادوگر نے اسے مارا۔ جب وہ جادوگر کے پاس سے واپس آیا، تو راہب کے پاس بیٹھ گیا اور اس کی بات چیت سننے لگا۔ جب وہ اپنے گھر آیا، تو گھر والوں نے اسے مارا، اس نے اس بات کی شکایت راہب سے کی، تو راہب نے کہا: جب تمہیں جادوگر سے اندیشہ ہو، تو تم کہنا مجھے گھر والوں نے نہیں آنے دیا تھا اور جب تمہیں گھر والوں سے اندیشہ ہو، تو تم کہنا جادوگر نے مجھے روک لیا تھا۔ اسی طرح ہوتا رہا، اسی دوران ایک مرتبہ اس لڑکے کا گزر ایک بڑے جانور کے پاس سے ہوا جس نے لوگوں کو گزرنے سے روکا ہوا تھا۔ اس لڑکے نے سوچا آج یہ بات میں جان لوں گا کہ راہب فضیلت رکھتا ہے یا جادوگر؟ اس نے ایک پتھر لیا اور پھر کہا: اے اللہ! اگر راہب کا معاملہ تیرے نزدیک جادوگر کے معاملے سے زیادہ پسندیدہ ہے، تو اس جانور کو مار دے تاکہ لوگ وہاں سے گزر جائیں، پھر اس نے وہ پتھر اس جانور کو مار کر قتل کر دیا، تو لوگ وہاں سے گزر گئے۔ وہ راہب کے پاس آیا اور اسے اس بارے میں بتایا، تو راہب نے اسے کہا: اے میرے بیٹے! آج تم مجھ سے زیادہ فضیلت رکھتے ہو، عنقریب تمہیں آزمائش میں مبتلا کیا جائے گا، اگر تمہیں آزمائش میں مبتلا کیا جائے، تو تم میری طرف کسی کی رہنمائی نہ کرنا۔ پھر وہ لڑکا پیدائشی نابینا لوگوں اور برص کے شکار لوگوں کو ٹھیک کرنے لگا۔ وہ تمام بیماریوں کی دوا دینے لگا (یعنی انہیں ٹھیک کرنے لگا)۔ بادشاہ کے ایک مصاحب کو اس کے بارے میں پتہ چلا جو نابینا ہو چکا تھا۔ وہ بہت سے تحائف کے ہمراہ اس لڑکے کے پاس آیا اور بولا: اگر تم نے مجھے شفا دے دی، تو یہ سب کچھ تمہیں مل جائے گا۔ لڑکے نے کہا: میں کسی کو شفا نہیں دیتا، شفا تو اللہ تعالیٰ دیتا ہے، اگر تم اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آؤ، تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا، وہ تمہیں شفا دے گا، تو وہ شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے شفا دے دی۔ پھر وہ بادشاہ کے پاس آیا اور اس کے ہاں پہلے کی طرح آیا۔ بادشاہ نے اس سے دریافت کیا: فلاں شخص! تمہاری بینائی کیسے واپس آئی؟ اس نے جواب دیا: میرے پروردگار نے واپس کی ہے۔ بادشاہ نے دریافت کیا: کیا میرے علاوہ بھی تمہارا کوئی پروردگار ہے؟ اس نے کہا: میرا اور تمہارا پروردگار ایک ہے۔ اس کے بعد بادشاہ اس شخص کو تکلیف پہنچاتا رہا، یہاں تک کہ اس نے اس لڑکے کے بارے میں رہنمائی کر دی۔ پھر اس لڑکے کو لایا گیا، تو بادشاہ نے اس سے کہا: اے لڑکے! اب تمہارا جادو اس مقام تک پہنچ گیا ہے کہ تم پیدائشی نابینا اور برص کے شکار اور فلاں فلاں شخص کو ٹھیک کر دیتے ہو۔ اس لڑکے نے کہا: میں کسی کو ٹھیک نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ شفا دیتا ہے۔ بادشاہ نے اس لڑکے کو پکڑا، وہ اسے مسلسل تکلیف پہنچاتا رہا، یہاں تک کہ اس نے راہب کی طرف رہنمائی کر دی۔ اس راہب کو لایا گیا، اس سے یہ کہا گیا کہ تم اپنے دین سے پھر جاؤ، اس راہب نے اس بات کو نہیں مانا، تو پھر ایک ”آرا“ لایا گیا، وہ ”آرا“ اس کے سر کے درمیان میں رکھا گیا اور اسے چیر دیا گیا، یہاں تک کہ اس کا جسم دو حصوں میں تقسیم ہو گیا، پھر بادشاہ کے مصاحب کو لایا گیا۔ اسے کہا گیا تم اپنے دین سے پھر جاؤ، لیکن اس نے یہ بات نہیں مانی، تو وہی آرا اس کے سر کے درمیان میں رکھا گیا، اسے بھی چیر کر دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ پھر اس لڑکے کو لایا گیا اور اسے کہا گیا کہ تم اپنے دین سے پھر جاؤ، اس لڑکے نے بھی اس بات کو تسلیم نہیں کیا۔ بادشاہ نے اس لڑکے کو ساتھیوں کے سپرد کیا اور کہا: اسے لے کر فلاں فلاں پہاڑ کی طرف جاؤ، اسے لے کر پہاڑ پر چڑھ جاؤ، جب تم پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ جاؤ، اگر یہ اپنے دین سے رجوع کر لے تو ٹھیک ہے، ورنہ اسے نیچے پھینک دینا۔ وہ لوگ اسے ساتھ لے کر گئے، اسے ساتھ لے کر پہاڑ پر چڑھ گئے۔ اس لڑکے نے دعا کی: «اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِمَا شِئْتَ» ”اے اللہ! تو ان لوگوں کے حوالے سے جیسے چاہے میرے لیے کافی ہو جا“، تو پہاڑ کانپنے لگا اور وہ لوگ نیچے گر گئے۔ وہ لڑکا چلتا ہوا پھر بادشاہ کے پاس آیا۔ بادشاہ نے اس سے دریافت کیا: تمہارے ساتھیوں کا کیا بنا؟ اس نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ ان کے مقابلے میں میرے لیے کافی ہے۔ بادشاہ نے اسے اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ سپرد کیا اور کہا: اسے ساتھ لے کر جاؤ، اسے کشتی میں بٹھاؤ اور اس کو لے جا کر سمندر کے درمیان میں لے جاؤ، وہاں اگر یہ اپنے دین سے رجوع کر لے تو ٹھیک ہے، ورنہ اسے دریا میں ڈال دینا۔ وہ اسے ساتھ لے کر گئے، تو لڑکے نے دعا کی: «اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِمَا شِئْتَ» ”اے اللہ! تو ان لوگوں کے مقابلے میں جیسے چاہے میرے لیے کفایت کر لے“، تو ان لوگوں کی کشتی الٹ گئی (باقی سب لوگ ڈوب گئے)، وہ لڑکا چلتا ہوا بادشاہ کے پاس آ گیا۔ بادشاہ نے اس سے دریافت کیا: تمہارے ساتھیوں کا کیا بنا؟ اس نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ ان کے مقابلے میں میرے لیے کافی ہو گیا، تو اس نے بادشاہ سے کہا: تم مجھے اس وقت تک قتل نہیں کر سکتے جب تک تم وہ کام نہیں کرو گے جس کی میں تمہیں ہدایت کروں گا۔ بادشاہ نے دریافت کیا: وہ کیا ہے؟ اس نے کہا: تم لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کرو، پھر مجھے کھجور کے درخت پر صلیب پر لٹکاؤ، پھر اپنے ترکش میں سے ایک تیر لو، پھر اس تیر کو کمان میں لگاؤ اور پھر یہ کہو: «بِاسْمِ اللَّهِ رَبِّ الْغُلَامِ» ”اس لڑکے کے پروردگار اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے (میں یہ تیر چلانے لگا ہوں)“، پھر وہ تیر مجھے مار دینا، جب تم ایسا کرو گے، تو تم مجھے قتل کر دو گے۔ بادشاہ نے لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کیا، اس لڑکے کو کھجور کے درخت پر لٹکایا، پھر اس نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر لیا، پھر اس تیر کو کمان میں رکھا اور یہ کہا: «بِاسْمِ اللَّهِ رَبِّ الْغُلَامِ» ”اس لڑکے کے پروردگار اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے (میں تیر چلانے لگا ہوں)“، پھر بادشاہ نے اسے تیر مارا، وہ تیر اس کی کنپٹی پر لگا۔ اس نے اپنا ہاتھ تیر کی جگہ رکھا اور انتقال کر گیا۔ لوگوں نے کہا: ہم اس لڑکے کے پروردگار پر ایمان لے آتے ہیں، ہم ایمان لے آتے ہیں۔ یہ بات انہوں نے تین مرتبہ کہی۔ (مصاحبین) نے بادشاہ کو آ کر بتایا کہ تم نے اس بات کو نوٹ کیا ہے کہ تم جس چیز سے بچنا چاہ رہے تھے وہی صورت حال سامنے آ گئی ہے؟ وہ ایمان لے آئے ہیں، تو بادشاہ کے حکم کے تحت مختلف جگہ پر گڑھے کھودے گئے۔ ان میں آگ جلائی گئی، بادشاہ نے حکم دیا جو شخص اپنے دین سے رجوع نہیں کرے گا تم لوگ اسے جلا دو، ان لوگوں نے ایسا ہی کیا، یہاں تک کہ ایک عورت آئی اس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا، وہ آگ میں کودنے سے ہچکچائی، تو لڑکے نے کہا: امی جان! آپ صبر سے کام لیجیے، آپ حق پر ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 873]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 3005، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 873، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11597، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3340 م، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24562، والبزار فى (مسنده) برقم: 2090، 2091، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 9751، والطبراني فى(الكبير) برقم: 7319، 7320» «رقم طبعة با وزير 870»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير حماد بن سلمة، فمن رجال مسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
260. باب الأدعية - ذكر البيان بأن دعوة المظلوم تستجاب له لا محالة وإن أتى عليها البرهة من الدهر
دعاؤں کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ مظلوم کی دعا بلا شبہ قبول ہوتی ہے، چاہے اس پر کچھ وقت گزر جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 874
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا فَرَجُ بْنُ رَوَاحَةَ الْمَنْبِجِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعْدٌ الطَّائِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْمُدِلَّةِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ تُحْمَلُ عَلَى الْغَمَامِ، وَتُفْتَحُ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاوَاتِ، وَيَقُولُ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: وَعِزَّتِي لأَنْصُرَنَّكِ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَبُو الْمُدِلَّةِ اسْمُهُ: عُبَيْدُ اللَّهِ مَدِينِيٌّ، ثِقَةٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مظلوم کی بددعا بادلوں کے اوپر اٹھائی جاتی ہے اور (اس کے لیے) آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور پروردگار یہ فرماتا ہے: مجھے اپنی عزت کی قسم ہے میں تمہاری مدد ضرور کروں گا (خواہ تھوڑی دیر بعد کروں)۔“ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابوالمدلہ کا نام عبیداللہ مدینی ہے، یہ ثقہ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 874]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2749، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1901، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 874، 3428، 7387، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7717، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2526، 3598، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2863، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1752، 4248، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6484، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8158، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1184» «رقم طبعة با وزير 871»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن لغيره - «الصحيحة» (870). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح لغيره، فرج بن رواحة المنبجي ذكره المؤلف في «الثقات» 9/ 13، وقال: مستقيم الحديث جدا، وأبو المدلة لم يوثقه غير المؤلف، ولم يرو عنه غير سعد الطائي، وقال الذهبي فى «الميزان» 4/ 571: لا يكاد يعرف.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 875
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَعْرُوفِ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ رَبَاحٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اتَّقُوا دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اتَّقُوا دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ" أَمْرٌ بِاتِّقَاءِ دَعْوَةِ الْمَظْلُومِ، مُرَادُهُ الزَّجْرَ عَمَّا تَوَلَّدَ ذَلِكَ الدُّعَاءُ مِنْهُ، وَهُوَ الظُّلْمُ، فَزَجَرَ عَنِ الشَّيْءِ بِالأَمْرِ بِمُجَانَبَةِ مَا تَوَلَّدَ مِنْهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مظلوم کی بددعا سے بچو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”مظلوم کی بددعا سے بچو“ یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مظلوم کی بددعا سے بچنے کا حکم دیا ہے، لیکن اس سے مراد اس چیز سے رکنا ہے جس کے نتیجے میں یہ بددعا سامنے آتی ہے، اور وہ چیز ظلم ہے۔ یہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چیز سے رکنے کے حکم کے ذریعے اس سے الگ رہنے کا حکم دیا ہے جس کے نتیجے میں وہ چیز سامنے آئی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 875]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 875، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8640، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 1337، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 6534» «رقم طبعة با وزير 872»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني تنبيه!! هذا الحديث تكرر في «طبعة باوزير» في موضعين الموضع الأول (872) والثاني (5068) وفي كِلا الموضعين قال الشيخ: صحيح - «الصحيحة» (870). أما في «طبعة المؤسسة» فلم يرد الحديث إلا في هذا الموضع لكن الحديث مكرر ولا فرق بينهما أبدا لا في الإسناد ولا في المتن. - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، معروف بن سويد، وثقه المؤلف، وروى عنه جمع، وباقي رجاله ثقات، ويزيد بن موهب: هو يزيد بن خالد بن يزيد بن عبد الله بن موهب الهمداني الرملي. وانظر ما قبله.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
261. باب الأدعية - ذكر الإخبار عما يستحب للمرء عند إرادة الدعاء رفع اليدين
دعاؤں کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ دعا کے وقت اپنے ہاتھ اٹھائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 876
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ الْعُصْفُرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ رَبَّكُمْ حَيِيٌّ كَرِيمٌ يَسْتَحْيِي مِنْ عَبْدِهِ إِذَا رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَيْهِ أَنْ يَرُدَّهُمَا صِفْرًا" .
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تمہارا پروردگار «حَيِيٌّ كَرِيمٌ» ”بہت حیا والا اور سخی ہے“، وہ اپنے بندے سے حیا کرتا ہے کہ جب بندہ اپنے دونوں ہاتھ اس کی بارگاہ میں بلند کرے، تو وہ انہیں خالی لوٹا دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 876]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 876، 880، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1836، 1837، 1968، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1488، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3556، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3865، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3197، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24211» «رقم طبعة با وزير 873»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1337). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں