صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
234. باب الأذكار - ذكر الأمر للمرء المسلم أن يحمد الله جل وعلا على ما هداه للإسلام إذا رأى غير الإسلام أو قبره
اذکار کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ مسلمان آدمی کو اللہ جل وعلا کی حمد کرنی چاہیے کہ اس نے اسے اسلام کی ہدایت دی جب وہ غیر اسلام یا قبر دیکھے
حدیث نمبر: 847
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُرَيْجٍ النَّقَّالُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا مَرَرْتُمْ بِقُبُورِنَا وَقُبُورِكُمْ مِنْ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَخْبِرُوهُمْ أَنَّهُمْ فِي النَّارِ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَمَرَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْخَبَرِ الْمُسْلِمَ إِذَا مَرَّ بِقَبْرِ غَيْرِ الْمُسْلِمِ، أَنْ يَحْمَدَ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا عَلَى هِدَايَتِهِ إِيَّاهُ الإِسْلامَ، بِلَفْظِ الأَمْرِ بِالإِخْبَارِ إِيَّاهُ أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، إِذْ مُحَالٌ أَنْ يُخَاطَبَ مَنْ قَدْ بَلِيَ بِمَا لا يَقْبَلُ عَنِ الْمُخَاطِبِ بِمَا يُخَاطِبُهُ بِهِ.
”جب تم زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھنے والی ہماری اور اپنی یعنی (ہماری اور اپنے رشتے داروں) کی قبروں سے گزرو، تو انہیں بتا دو کہ وہ لوگ جہنم میں ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان کو یہ حکم دیا ہے کہ جب وہ کسی غیر مسلم کی قبر کے پاس سے گزرے تو اس بات پر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اسلام کی ہدایت نصیب کی ہے۔ یہاں ”امر“ کے لفظ کے ذریعے اس بات کی اطلاع دی گئی ہے کہ وہ اہل جہنم (میں سے) ہیں؛ کیونکہ یہ بات ناممکن ہے کہ ان کو مخاطب کیا جائے جو بوسیدہ ہو چکے ہیں اور مخاطب کی طرف سے خطاب کو قبول نہیں کر سکتے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 847]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: انفرد به المصنف من هذا الطريق «رقم طبعة با وزير 844»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (18)، «أحكام الجنائز» (252). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف جداً، الحارث بن سريج قال ابن معين. ليس شيء، وقال النسائي. ليس بثقة، وقال ابن عدي: ضعيف يسرق الحديث، وشيخه يحيي بن اليمان كثير الخط.
235. باب الأذكار - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من الحمد لله على عصمته إياه عما خرج إليه من حاد عنه
اذکار کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ آدمی پر لازم ہے کہ وہ اللہ کی حمد کرے کہ اس نے اسے اس سے محفوظ رکھا جو اس سے ہٹ کر نکلا
حدیث نمبر: 848
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: كَذَّبَنِي عَبْدِي وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ، وَشَتَمَنِي وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ، تَكْذِيبِي أَنْ يَقُولَ: أَنَّى يُعِيدُنَا كَمَا بَدَأْنَا، وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ أَنْ يَقُولَ: اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا. وَإِنِّي الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے مجھے جھوٹا قرار دیا حالانکہ اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا، اور اس نے مجھے برا کہا ہے، حالانکہ اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اس کا مجھے جھوٹا قرار دینا یہ ہے کہ وہ یہ کہے: اللہ تعالیٰ نے جیسے ہمیں پہلے پیدا کیا ہے دوبارہ ہمیں کیسے پیدا کرے گا؟ اس کا مجھے برا کہنا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اولاد ہے، حالانکہ اس کا یہ کہنا جبکہ میں «الصَّمَدُ» ”صمد“ ہوں، میں نے کسی کو جنم نہیں دیا، مجھے جنم نہیں دیا گیا اور میرا کوئی ہمسر نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 848]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3193، 4974، 4975، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 267، 848، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2077، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2216، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8337، 8730، 9237» «رقم طبعة با وزير 845»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (4482). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح، ابن أبي السري: - وهو محمد بن المتوكل بن عبد الرحمن بن حسان- الهاشمي مولاهم أبو عبد الله العسقلاني- صدوق له أوهام كثيرة إلا أنه قد توبع عليه، وباقي رجاله ثقات رجال الشيخين.
236. باب الأذكار - ذكر وصف التهليل الذي يعطي الله من هلله به عشر مرات ثواب عتق رقبة
اذکار کا بیان - اس تہلیل کی حالت کا ذکر کہ اللہ اس کے ذریعے اس شخص کو دس گنا غلام آزاد کرنے کا ثواب دیتا ہے جو اسے کہتا ہے
حدیث نمبر: 849
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ قَالَ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ، كَانَتْ عَدْلَ عَشْرِ رِقَابٍ، وَكُتِبَتْ لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ، وَمُحِيَتْ عَنْهُ مِائَةُ سَيِّئَةٍ، وَكَانَ لَهُ حِرْزًا مِنَ الشَّيْطَانِ يَوْمَهُ ذَلِكَ حَتَّى يُمْسِيَ، وَلَمْ يَأْتِ أَحَدٌ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ إِلا أَحَدٌ عَمِلَ عَمَلا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص یہ کلمات پڑھتا ہے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے، بادشاہی اسی کے لیے مخصوص ہے حمد اس کے لیے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے“، جو شخص روزانہ سو مرتبہ یہ کلمات پڑھ لے اسے دس غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ہو گا، ایک سو نیکیاں لکھ لی جائیں گی، ایک سو گناہ مٹا دیے جائیں گے اور یہ بات اس دن میں شام تک شیطان سے اس کے بچاؤ کا ذریعہ بن جائے گی اور اس دن میں کسی بھی شخص نے اس شخص کے عمل سے افضل کوئی عمل نہیں کیا ہو گا ماسوائے اس شخص کے جس نے اس سے زیادہ تعداد میں اس کلمے کو پڑھا ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 849]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3293، 6403، 6405، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2691، ومالك فى (الموطأ) برقم: 712، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 829، 849، 859، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1912، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 9769، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3466، 3468، 3468 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3798، 3812، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8123» «رقم طبعة با وزير 846»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين.
237. باب الأذكار - ذكر البيان بأن الله تعالى إنما يعطي المهلل له بما وصفنا ثواب رقبة لو أعتقها
اذکار کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو جو اس کی تہلیل کرتا ہے، ہمارے بیان کردہ ثواب دیتا ہے جیسے اس نے غلام آزاد کیا ہو
حدیث نمبر: 850
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ نَافِلَةُ الْحَسَنِ بْنِ عِيسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ زُبَيْدًا الإِيَامِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ قَالَ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، عَشْرَ مَرَّاتٍ، كَانَ كَعَدْلِ رَقَبَةٍ أَوْ نَسَمَةٍ" .
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص دس مرتبہ یہ کلمہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہی ایک معبود ہے، کوئی شریک نہیں ہے، بادشاہی اسی کی ہے، حمد اسی کے لیے مخصوص ہے، وہ زندگی دیتا ہے اور وہ موت دیتا ہے، وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے“ پڑھتا ہے“، راوی کو شک ہے شاید (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے) یہ الفاظ ہیں: ”غلام آزاد کرنے (یا گردن آزاد کرنے) کی مانند ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 850]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 346، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1551، 1552، 1556، 1557، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 749، 850، 2157، 2161، 5096، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1851، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 645، وأبو داود فى (سننه) برقم: 543، 664، 1468، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1957، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 997، 1342، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18788» «رقم طبعة با وزير 847»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح دون «يحيي ويميت» - «الضعيفة» تحت الحديث (3276)، «التعليق الرغيب» (2/ 241). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي، شيبان بن أبي شيبة: هو ابن فروخ الحبطي الابلي، صدوق من رجال مسلم وباقي رجاله ثقات من رجال الستة خلا عبد الرحمن بن عوسجة وهو ثقة، لكى لم يخرج له الشيخان.
238. باب الأذكار - ذكر الكلمات التي إذا قالها المرء المسلم صدقه ربه جل وعلا عليها
اذکار کا بیان - اس کلمات کا ذکر کہ اگر مسلمان آدمی انہیں کہے تو اس کا رب جل وعلا اسے ان پر صادق کرتا ہے
حدیث نمبر: 851
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وأبى هريرة ، قَالا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَالَ الْعَبْدُ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، صَدَّقَهُ رَبُّهُ، قَالَ: صَدَقَ عَبْدِي، لا إِلَهَ إِلا أَنَا، وَأَنَا أَكْبَرُ. وَإِذَا قَالَ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ، صَدَّقَهُ رَبُّهُ، قَالَ: صَدَقَ عَبْدِي، لا إِلَهَ إِلا أَنَا وَحْدِي. وَإِذَا قَالَ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ لا شَرِيكَ لَهُ، صَدَّقَهُ رَبُّهُ، قَالَ: صَدَقَ عَبْدِي، لا إِلَهَ إِلا أَنَا لا شَرِيكَ لِي. وَإِذَا قَالَ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ لَهُ الْمُلْكُ، صَدَّقَهُ رَبُّهُ، قَالَ: صَدَقَ عَبْدِي، لا إِلَهَ إِلا أَنَا، لِيَ الْمُلْكُ وَلِيَ الْحَمْدُ. وَإِذَا قَالَ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ، صَدَّقَهُ رَبُّهُ، قَالَ: صَدَقَ عَبْدِي، لا إِلَهَ إِلا أَنَا، وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِي" .
سیدنا ابوسعید خدری اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب بندہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» پڑھتا ہے، تو پروردگار اس کی تصدیق بیان کرتا ہے: ”اس نے سچ کہا، میرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور میں سب سے بڑا ہوں۔“ جب بندہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ» پڑھتا ہے، تو اس کا پروردگار اس کی تصدیق کرتے ہوئے فرماتا ہے: ”اس نے سچ کہا، میرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، صرف میں معبود ہوں۔“ اور جب بندہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ» کہتا ہے، تو اس کا پروردگار اس کی تصدیق کرتا ہے: ”میرے بندے نے سچ کہا، میرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور میرا کوئی شریک نہیں ہے۔“ جب بندہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ» پڑھتا ہے، تو اس کا پروردگار اس کی تصدیق کرتے ہوئے فرماتا ہے: ”میرے بندے نے سچ کہا، میرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، بادشاہی میرے لیے ہے اور حمد میرے لیے مخصوص ہے۔“ اور بندہ جب «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ» پڑھتا ہے، تو اس کا پروردگار اس کی تصدیق کرتے ہوئے فرماتا ہے: ”میرے بندے نے سچ کہا، میرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور میری مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 851]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 851، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 9774، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3430، 3430 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3794، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 2958، والطبراني فى (الصغير) برقم: 234» «رقم طبعة با وزير 848»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «المشكاة» (2310 / التحقيق الثاني)، «الصحيحة» (1390). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير الأغر فمن رجال مسلم.
239. باب الأذكار - ذكر ما يجب على المرء من الإحراز بذكر الله جل وعلا في أسبابه دون الاتكال على قضاء الله فيها
اذکار کا بیان - اس بات کا ذکر کہ انسان پر واجب ہے کہ وہ اپنے اسباب میں اللہ جل وعلا کے ذکر سے حفاظت کرے بغیر اس کے کہ اللہ کے فیصلے پر بھروسہ کرے-
حدیث نمبر: 852
أَخْبَرَنَا ابْنُ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي مَوْدُودٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ: بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الأَرْضِ وَلا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، ثَلاثَ مَرَّاتٍ، لَمْ تَفْجَأْهُ فَاجِئَةُ بَلاءٍ حَتَّى يُمْسِيَ، وَإِنْ قَالَهَا حِينَ يُمْسِي لَمْ تَفْجَأْهُ فَاجِئَةُ بَلاءٍ حَتَّى يُصْبِحَ" .
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص صبح کے وقت یہ پڑھ لے: «بِسْمِ اللّٰهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» ”اس اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جس کے اسم کے ہمراہ کوئی چیز زمین اور آسمان میں نقصان نہیں پہنچا سکتی اور وہ سننے والا اور علم رکھنے والا ہے“ تو شام تک اسے کوئی اچانک آزمائش درپیش نہیں ہو گی اور اگر وہ شام کے وقت انہیں پڑھ لے گا تو صبح تک اسے کوئی آزمائش درپیش نہیں ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 852]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 852، 862، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1901، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 9759، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5088،والترمذي فى (جامعه) برقم: 3388، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3869، وأحمد فى (مسنده) برقم: 453» «رقم طبعة با وزير 849»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق الرغيب» (1/ 227). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، وأبومودود هو: عبد العزيز بن أبي سليمان الهذلي، مولاهم المدني وثقه المؤلف، وابن معين، وأحمد، وأبو داود، وابن المديني، وقول الحافظ في «التقريب»: مقبول وَهْمٌ منه رحمه الله.
240. باب الأذكار - ذكر استحباب الذكر لله جل وعلا في الأحوال حذر أن يكون المواضع عليه ترة في القيامة
اذکار کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا کا ذکر ہر حالت میں مستحب ہے تاکہ وہ مقامات قیامت کے دن اس پر وبال نہ بنیں
حدیث نمبر: 853
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا لَمْ يَذْكُرُوا اللَّهَ فِيهِ إِلا كَانَ عَلَيْهِمْ تِرَةً، وَمَا مَشَى أَحَدٌ مَمْشًى لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ فِيهِ إِلا كَانَ عَلَيْهِ تِرَةً، وَمَا أَوَى أَحَدٌ إِلَى فِرَاشِهِ وَلَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ فِيهِ إِلا كَانَ عَلَيْهِ تِرَةً" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب بھی کوئی شخص کسی محفل میں اللہ کا ذکر نہیں کرتا، تو وہ اس کے لیے حسرت کا باعث ہوگی، جب کوئی شخص کسی راستے پر چلتا ہے اور وہ اس میں اللہ کا ذکر نہیں کرتا، تو وہ اس کے لیے حسرت کا باعث ہوگی اور جب کوئی شخص اپنے بستر پر جاتا ہے اور وہ اللہ کا ذکر نہیں کرتا، تو یہ اس کے لیے حسرت کا باعث ہوگی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 853]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 590، 591، 592، 853، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1814، 1815،وأبو داود فى (سننه) برقم: 4855، 4856، 5059، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3380، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9174» «رقم طبعة با وزير 850»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (78). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح، رجاله ثقات، إلا أن فيه عنعنة الوليد وهو مدلس.
241. باب الأذكار - ذكر تمثيل المصطفى الموضع الذي يذكر الله جل وعلا فيه والموضع الذي لا يذكر الله فيه
اذکار کا بیان - مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تمثیل کا ذکر کہ وہ مقام جہاں اللہ جل وعلا کا ذکر کیا جاتا ہے اور وہ مقام جہاں اللہ کا ذکر نہیں کیا جاتا
حدیث نمبر: 854
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَثَلُ الْبَيْتِ الَّذِي يُذْكَرُ اللَّهُ فِيهِ، وَالْبَيْتِ الَّذِي لا يُذْكَرُ اللَّهُ فِيهِ مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ" .
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”وہ گھر جس میں اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے اور وہ گھر جس میں اللہ کا ذکر نہیں کیا جاتا، ان کی مثال زندہ اور مردہ شخص جیسی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 854]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6407، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 779، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 854، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 7306» «رقم طبعة با وزير 851»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح الترغيب»: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين.
242. باب الأذكار - ذكر حفوف الملائكة بالقوم يجتمعون على ذكر الله مع نزول السكينة عليهم
اذکار کا بیان - اس بات کا ذکر کہ فرشتے ان لوگوں کے گرد گھیرا بناتے ہیں جو اللہ کا ذکر کرنے کے لیے جمع ہوتے ہیں اور اس وقت ان پر سکینت نازل ہوتی ہے
حدیث نمبر: 855
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الأَغَرِّ ، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " مَا جَلَسَ قَوْمٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ، إِلا حَفَّتْهُمُ الْمَلائِكَةُ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ، وَنَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ، وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ" .
اغر کہتے ہیں: میں سیدنا ابوسعید خدری اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ ان دونوں حضرات نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں گواہی دے کر یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب کچھ لوگ اللہ کا ذکر کرتے ہیں، تو فرشتے ان کو ڈھانپ لیتے ہیں اور ان پر رحمت نازل ہوتی ہے اور ان لوگوں پر سکینت نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی بارگاہ میں موجود (فرشتوں) میں ان کا تذکرہ کرتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 855]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2700، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 768، 855، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11931، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1455، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3378، 3378 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3791، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9903» «رقم طبعة با وزير 852»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (75): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، وأبو الأحوص: سلام بن سليم قديم السماع من أبي إسحاق، أخرج الشيخان من روايته عنه، وقد توبع عليه أيضاً.
243. باب الأذكار - ذكر إثبات مغفرة الله جل وعلا للقوم الذين يذكرون الله مع سؤالهم إياه الجنة وتعوذهم به من النار نعوذ بالله منها
اذکار کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا ان لوگوں کے گناہ معاف کرتا ہے جو اس کا ذکر کرتے ہیں اور اس سے جنت مانگتے ہیں اور اس سے جہنم سے پناہ مانگتے ہیں، ہم اس سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں
حدیث نمبر: 856
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِلَّهِ مَلائِكَةً فُضُلا عَنْ كُتَّابِ النَّاسِ، يَمْشُونَ فِي الطُّرُقِ، يَلْتَمِسُونَ الذِّكْرَ، فَإِذَا رَأَوْا أَقْوَامًا يَذْكُرُونَ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى تَنَادَوْا: هَلُمُّوا إِلَى حَاجَاتِكُمْ، فَيَحُفُّونَ بِأَجْنِحَتِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ، فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ جَلَّ وَعَلا، وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ، فَيَقُولُ: عِبَادِي مَا يَقُولُونَ؟ فَيَقُولُونَ: يَا رَبِّ، يُسَبِّحُونَكَ وَيَحْمَدُونَكَ، فَيَقُولُ: هَلْ رَأَوْنِي؟ فَيَقُولُونَ: لا، فَيَقُولُ: كَيْفَ لَوْ رَأَوْنِي؟ فَيَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْكَ لَكَانُوا أَشَدَّ تَسْبِيحًا وَتَمْجِيدًا وَتَكْبِيرًا وَتَحْمِيدًا، فَيَقُولُ: مَاذَا يَسْأَلُونَ؟ فَيَقُولُونَ: يَسْأَلُونَكَ يَا رَبِّ الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ لَهُمْ: هَلْ رَأَوْهَا؟ فَيَقُولُونَ: لا، فَيَقُولُ: كَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا؟ فَيَقُولُونَ: لَوْ قَدْ رَأَوْهَا كَانُوا أَشَدَّ طَلَبًا وَأَشَدَّ حِرْصًا، فَيَقُولُ: فَمِمَّ يَتَعَوَّذُونَ؟ فَيَقُولُونَ: يَتَعَوَّذُونَ بِكَ مِنَ النَّارِ، فَيَقُولُ: فَهَلْ رَأَوْهَا؟ فَيَقُولُونَ: لا، فَيَقُولُ: كَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا؟ فَيَقُولُونَ: لَوْ قَدْ رَأَوْهَا كَانُوا أَشَدَّ تَعَوُّذًا، فَيَقُولُ: فَإِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں جو لوگوں کے اعمال نوٹ کرنے والوں کے علاوہ ہیں، وہ راستوں میں چلتے پھرتے ہیں اور ذکر کو تلاش کرتے رہتے ہیں؛ جب وہ کچھ لوگوں کو دیکھتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہے ہوں، تو ایک دوسرے کو پکارتے ہیں: اپنے مقصود کی طرف آ جاؤ، پھر وہ آسمان تک اپنے پروں سے انہیں ڈھانپ لیتے ہیں۔ ان کا پروردگار ان سے دریافت کرتا ہے، حالانکہ وہ ان سے زیادہ بہتر جانتا ہے، وہ فرماتا ہے: میرے بندے کیا کہتے ہیں؟ تو فرشتے عرض کرتے ہیں: اے ہمارے پروردگار! وہ تیری تسبیح اور تیری حمد بیان کرتے ہیں۔ پروردگار دریافت کرتا ہے: کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں: جی نہیں۔ پروردگار دریافت کرتا ہے: اگر وہ مجھے دیکھ لیتے، تو کیا ہوتا؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: اگر وہ تجھے دیکھ لیتے تو وہ زیادہ شدت کے ساتھ تیری تسبیح، تیری بزرگی، تیری کبریائی اور تیری حمد بیان کرتے۔ پروردگار دریافت کرتا ہے: وہ کیا چیز مانگتے ہیں؟ فرشتے جواب دیتے ہیں: اے ہمارے پروردگار! وہ تجھ سے جنت مانگتے ہیں۔ پروردگار دریافت کرتا ہے: کیا انہوں نے اسے دیکھا ہے؟ وہ جواب دیتے ہیں: جی نہیں، پروردگار فرماتا ہے: اگر وہ اسے دیکھ لیتے، تو کیا ہوتا؟ تو فرشتے عرض کرتے ہیں: اگر وہ اسے دیکھ لیتے، تو زیادہ شدت کے ساتھ اسے طلب کرتے اور زیادہ شدت کے ساتھ اس کے حصول کے خواہش مند ہوتے۔ پروردگار دریافت کرتا ہے: وہ کس چیز سے پناہ مانگتے ہیں؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: وہ جہنم سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔ پروردگار دریافت کرتا ہے: کیا انہوں نے اسے دیکھا ہے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں: جی نہیں، پروردگار دریافت کرتا ہے: اگر وہ اسے دیکھ لیتے، تو کیا ہوتا؟ فرشتے جواب دیتے ہیں: اگر وہ اسے دیکھ لیتے، تو وہ زیادہ شدت کے ساتھ اس سے پناہ مانگتے، تو پروردگار فرماتا ہے: میں تم لوگوں کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان لوگوں کی مغفرت کر دی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 856]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6408، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 856، 857، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1827، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3600، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7542» «رقم طبعة با وزير 853»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح سنن الترمذي» (3852): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح