صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
311. باب الأدعية - ذكر وصف الاستغفار الذي كان يستغفر صلى الله عليه وسلم بالعدد الذي ذكرناه
دعاؤں کا بیان - اس استغفار کی حالت کا ذکر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ہمارے ذکر کردہ عدد کے ساتھ مانگتے تھے
حدیث نمبر: 927
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: رُبَّمَا أَعُدُّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَجْلِسِ الْوَاحِدِ مِائَةَ مَرَّةٍ: " رَبِّ اغْفِرْ لِي وَتُبْ عَلَيَّ، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے بعض اوقات یہ بات نوٹ کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک محفل میں ایک سو مرتبہ یہ پڑھتے تھے: «رَبِّ اغْفِرْ لِي، وَتُبْ عَلَيَّ، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ» ”اے اللہ! تو میری مغفرت کر دے، تو میری توبہ قبول کر لے، بے شک تو، توبہ قبول کرنے والا ہے رحم کرنے والا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 927]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 927، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10219، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1516، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3434، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3814، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4817» «رقم طبعة با وزير 923»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (556)، «صحيح أبي داود» (1357). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير ابن أبي عمر، وهو الحافظ المسند أبو عبد الله محمد بن يحيي بن أبي عمر العدني المجاور بمكة، صنف "المسند" وَعُمِّرَ دهراً، وحج سبعين حجة، وصار شيخ الحرم في زمانه، وكان صالحاً عابداً لا يفتر عن الطواف، روى عنه مسلم والترمذي وابن ماجة، وتوفي في آخر سنة ثلاث وأربعين ومئين. ترجمه المؤلف في «الثقات» 9/ 98.
312. باب الأدعية - ذكر إباحة الاقتصار على دون ما وصفنا من الاستغفار
دعاؤں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ ہمارے بیان کردہ استغفار سے کم پر اکتفا کرنا جائز ہے
حدیث نمبر: 928
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُهَاجِرِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَكْثَرَ أَنْ يَقُولَ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كَانَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَغْفِرُ رَبَّهُ جَلَّ وَعَلا فِي الأَحْوَالِ عَلَى حَسَبِ مَا وَصَفْنَاهُ، وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ، وَلاسْتِغْفَارِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعْنَيَانِ: أَحَدُهُمَا أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا بَعَثَهُ مُعَلِّمًا لِخَلْقِهِ قَوْلا وَفِعْلا، فَكَانَ يُعَلِّمُ أُمَّتَهُ الاسْتِغْفَارَ وَالدَّوَامَ عَلَيْهِ، لِمَا عَلِمَ مِنْ مُقَارَفَتِهَا الْمَآثِمَ فِي الأَحَايِينِ بِاسْتِعْمَالِ الاسْتِغْفَارِ، وَالْمَعْنَى الثَّانِي: أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَغْفِرُ لِنَفْسِهِ عَنْ تَقْصِيرِ الطَّاعَاتِ لا الذُّنُوبِ، لأَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا عَصَمَهُ مِنْ بَيْنِ خَلْقِهِ، وَاسْتَجَابَ لَهُ دُعَاءَهُ عَلَى شَيْطَانِهِ حَتَّى أَسْلَمَ، وَذَاكَ أَنَّ مِنْ خُلُقِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَتَى بِطَاعَةٍ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ دَاوَمَ عَلَيْهَا وَلَمْ يَقْطَعْهَا، فَرُبَّمَا شُغِلَ بِطَاعَةٍ عَنْ طَاعَةٍ حَتَّى فَاتَتْهُ إِحْدَاهُمَا، كَمَا شُغِلَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ بِوَفْدِ تَمِيمٍ، حَيْثُ كَانَ يَقْسِمُ فِيهِمْ وَيَحْمِلُهُمْ حَتَّى فَاتَتْهُ الرَّكْعَتَانِ اللَّتَانِ بَعْدَ الظُّهْرِ، فَصَلاهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ، ثُمَّ دَاوَمَ عَلَيْهِمَا فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ فِيمَا بَعْدُ، فَكَانَ اسْتِغْفَارُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِتَقْصِيرِ طَاعَةٍ أَنْ أَخَّرَهَا عَنْ وَقْتِهَا مِنَ النَّوَافِلِ لاشْتِغَالِهِ بِمِثْلِهَا مِنَ الطَّاعَاتِ الَّتِي كَانَ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ أَوْلَى مِنْ تِلْكَ الَّتِي كَانَ يُوَاظِبُ عَلَيْهَا، لا أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَغْفِرُ مِنْ ذُنُوبٍ يَرْتَكِبُهَا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ (مرتبہ) کسی کو یہ کلمہ «أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ» ”میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں“ پڑھتے ہوئے نہیں سنا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مختلف احوال میں اپنے رب سے مغفرت طلب کیا کرتے تھے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مغفرت طلب کرنے کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی قوم کے لیے قول و فعل کے اعتبار سے معلم بنا کر بھیجا تھا، تو آپ اپنی امت کو مغفرت طلب کرنے اور اس پر باقاعدگی اختیار کرنے کی دعوت دیتے تھے، کیونکہ آپ یہ بات جانتے تھے کہ آپ کی امت اکثر گناہوں میں مبتلا ہوتی رہے گی، تو یوں وہ مغفرت طلب کرنے کے فعل پر عمل کرتے رہیں گے۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ذات کے لیے نیکیوں میں کمی کے حوالے سے دعائے مغفرت کرتے تھے۔ آپ گناہوں کی وجہ سے دعائے مغفرت نہیں کرتے تھے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کے درمیان آپ کو (گناہوں سے) پاک رکھا ہے، اور آپ کے ساتھ (فطری طور پر پیدا ہونے والے) شیطان کے بارے میں آپ کی دعا کو مستجاب کیا، یہاں تک کہ وہ مسلمان ہو گیا؛ تو صورت حال یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ کریمانہ میں یہ بات شامل تھی کہ آپ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے متعلق جو عمل کرتے تھے، تو باقاعدگی سے کرتے تھے۔ آپ اسے منقطع نہیں کرتے تھے، یہاں تک کہ بعض اوقات آپ کسی دوسرے نیک کام کی وجہ سے کسی ایک نیک کام کو انجام نہیں دے پاتے تھے اور وہ ایک نیک کام آپ سے رہ جاتا تھا، جس طرح آپ مصروفیت کی وجہ سے ظہر کے بعد کی دو رکعت ادا نہیں کر سکے تھے، کیونکہ بنو تمیم کا وفد آیا ہوا تھا اور آپ ان کے درمیان مال تقسیم کر رہے تھے اور انہیں سواریاں فراہم کر رہے تھے۔ اس وجہ سے ظہر کے بعد والی دو رکعت آپ سے رہ گئی تھیں، تو آپ نے عصر کے بعد ادا کی تھیں۔ پھر آپ اس کے بعد اس وقت میں ان رکعات کو باقاعدگی سے ادا کرتے رہے تھے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مغفرت طلب کرنا نیکی میں اس کمی کے حوالے سے تھا کہ آپ نے مصروفیت کی وجہ سے انہیں ان کے وقت پر ادا نہیں کیا تھا اور آپ دوسری نیکیوں میں مصروف رہے تھے جو اس وقت میں اس نیکی سے زیادہ ضروری تھیں جن کو آپ باقاعدگی سے سرانجام دیتے تھے۔ ایسا نہیں تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان گناہوں سے مغفرت طلب کرتے تھے جن کا آپ نے ارتکاب کیا ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 928]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 928، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10215، وعبد بن حميد فى "المنتخب من مسنده"، 1465» «رقم طبعة با وزير 924»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح بما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله ثقات إلا أن الوليد بن مسلم مدلس وقد عنعن ... وله شواهد كثيرة تقدم بعضها.
313. باب الأدعية - ذكر الأمر بالاستغفار لله جل وعلا للمرء عما ارتكبه من الحوبات
دعاؤں کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ آدمی کو اللہ جل وعلا سے اپنے کیے ہوئے گناہوں کے لیے استغفار مانگنا چاہیے
حدیث نمبر: 929
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَخْبَرَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَجُلا مِنْ جُهَيْنَةَ يُقَالُ لَهُ: الأَغَرُّ ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُحَدِّثُ ابْنَ عُمَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، تُوبُوا إِلَى رَبِّكُمْ، فَإِنِّي أَتُوبُ إِلَيْهِ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تُوبُوا إِلَى رَبِّكُمْ" يُرِيدُ بِهِ: اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ. وَكَذَلِكَ قَوْلُهُ:" فَإِنِّي أَتُوبُ إِلَيْهِ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ". وَكَانَ اسْتِغْفَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِتَقْصِيرِهِ فِي الطَّاعَاتِ الَّتِي وَظَّفَهَا عَلَى نَفْسِهِ، لأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِنْ أَخْلاقِهِ إِذَا عَمِلَ خَيْرًا أَنْ يُثْبِتَهُ فَيَدُومَ عَلَيْهِ، فَرُبَّمَا اشْتَغَلَ فِي بَعْضِ الأَوْقَاتِ عَنْ ذَلِكَ الْخَيْرِ الَّذِي كَانَ يُوَاظِبُ عَلَيْهِ بِخَيْرٍ آخَرَ، مِثْلُ اشْتِغَالِهِ بِوَفْدِ بَنِي تَمِيمٍ وَالْقِسْمَةِ فِيهِمْ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ كَانَ يُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الظُّهْرِ، فَلَمَّا صَلَّى الْعَصْرَ أَعَادَهُمَا، فَكَانَ اسْتِغْفَارُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلتَّقْصِيرِ فِي خَيْرٍ اشْتَغَلَ عَنْهُ بِخَيْرٍ ثَانٍ عَلَى حَسَبِ مَا وَصَفْنَا.
ابوبردہ بیان کرتے ہیں: میں نے جہینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص اغر کو بیان کرتے ہوئے سنا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ بات بتائی کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اے لوگو! تم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں توبہ کرو، کیونکہ میں روزانہ اس کی بارگاہ میں ایک سو مرتبہ توبہ کرتا ہوں“۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”کہ تم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں توبہ کرو“ اس سے مراد یہ ہے کہ تم اپنے پروردگار سے مغفرت طلب کرو۔ اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”میں اس کی بارگاہ میں روزانہ سو مرتبہ توبہ کرتا ہوں“، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ان نیکیوں میں کمی کے حوالے سے مغفرت طلب کرتے تھے جن کو آپ نے اپنے لیے باقاعدگی سے مقرر کیا ہوا تھا کہ آپ کے معمولات میں یہ بات شامل تھی کہ جب آپ کوئی نیکی کا کام کرتے تو اسے ثابت رکھتے تھے اور باقاعدگی سے کیا کرتے تھے۔ بعض اوقات آپ کسی مصروفیت کی وجہ سے اس نیکی کے کام کو سرانجام نہیں دے پاتے تھے جسے آپ باقاعدگی سے کیا کرتے تھے اور ایسا کسی دوسرے نیک کام کی وجہ سے ہوتا تھا، جس طرح آپ بنو تمیم کے وفد کے ساتھ مصروف رہے اور ان کے درمیان مال تقسیم کرنے کی وجہ سے وہ دو رکعت ادا نہیں کر سکے تھے جو آپ ظہر کے بعد ادا کیا کرتے تھے، تو جب آپ نے عصر کی نماز ادا کر لی تو ان دو رکعات کو بھی ادا کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا استغفار اس کمی کے حوالے سے ہوتا تھا جو اس نیکی میں ہوتی تھی جس نیکی کو آپ کسی دوسری نیکی میں مصروفیت کی وجہ سے سرانجام نہیں دے پاتے تھے، جیسا کہ ہم پہلے یہ بات ذکر کر چکے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 929]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2702، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 929، 931، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10201، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1515، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2765، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3816، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13470، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18127» «رقم طبعة با وزير 925»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1452): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين، أبو الوليد: هو هشام بن عبد الملك الطيالسي، وأبو بردة: هو ابن أبي موسى الأشعري.
314. باب الأدعية - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من تعقيب الاستغفار كل عثرة وإن كان المرء مشمرا في أنواع الطاعات
دعاؤں کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ آدمی پر لازم ہے کہ ہر لغزش کے بعد استغفار کرے، چاہے وہ طاعت کے مختلف اقسام میں سرگرم ہو
حدیث نمبر: 930
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ ، بِمِصْرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا أَخْطَأَ خَطِيئَةً نُكِتَ فِي قَلْبِهِ نُكْتَةٌ، فَإِنْ هُوَ نَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ وَتَابَ، صُقِلَتْ، فَإِنْ عَادَ، زِيدَ فِيهَا، فَإِنْ عَادَ، زِيدَ فِيهَا حَتَّى تَعْلُوَ فِيهِ، فَهُوَ الرَّانُ الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ كَلا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ سورة المطففين آية 14" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی بندہ غلطی کرتا ہے، تو اس کے دل میں ایک نقطہ لگ جاتا ہے، پھر اگر وہ الگ ہو کر مغفرت طلب کرے اور توبہ کرے، تو وہ صاف ہو جاتا ہے، پھر وہ دوبارہ غلطی کرے، تو اس میں اضافہ ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس پر غالب آ جاتا ہے، یہ وہی «الرَّانُ» (زنگ یا پردہ) ہے جس کا ذکر اللہ نے ان الفاظ میں کیا ہے: ﴿كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ﴾ [سورة المطففين: 14] ”خبردار! ان کے دلوں پر زنگ لگ گیا ہے، جو وہ عمل کرتے ہیں“۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 930]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 930، 2787، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6، 3930، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10179، 11594، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3334، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4244، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20820، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8067، والبزار فى (مسنده) برقم: 8934» «رقم طبعة با وزير 926»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - «التعليق الرغيب» (2/ 268 - 269). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن من أجل محمد بن عجلان.
315. باب الأدعية - ذكر لفظ لم يعرف معناه جماعة لم يحكموا صناعة العلم
دعاؤں کا بیان - اس لفظ کا ذکر جس کا معنی علم کی صنعت میں مہارت نہ رکھنے والوں کی جماعت کو معلوم نہیں
حدیث نمبر: 931
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ ، عَنِ الأَغَرِّ الْمُزَنِيِّ ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ لَيُغَانُ عَلَى قَلْبِي، وَإِنِّي لأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ لَيُغَانُ عَلَى قَلْبِي"، يُرِيدُ بِهِ: يَرِدُ عَلَيْهِ الْكَرْبُ مِنْ ضِيقِ الصَّدْرِ مِمَّا كَانَ يَتَفَكَّرُ فِيهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَمْرِ اشْتِغَالِهِ كَانَ بِطَاعَةٍ عَنْ طَاعَةٍ، أَوِ اهْتِمَامِهِ بِمَا لَمْ يَعْلَمْ مِنَ الأَحْكَامِ قَبْلَ نُزُولِهَا، كَأَنَّهُ كَانَ يَعُدُّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَدَمَ عِلْمِهِ بِمَكَّةَ بِمَا فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ، مِنَ الأَحْكَامِ، قَبْلَ إِنْزَالِ اللَّهِ إِيَّاهَا بِالْمَدِينَةِ ذَنْبًا، فَكَانَ يُغَانُ عَلَى قَلْبِهِ لِذَلِكَ، حَتَّى كَانَ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ، لا أَنَّهُ كَانَ يُغَانُ عَلَى قَلْبِهِ مِنْ ذَنْبٍ يُذْنِبُهُ، كَأُمَّتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا اغر مزنی رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: «إِنَّهُ لَيُغَانُ عَلَى قَلْبِي، وَإِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ» ”بعض اوقات میرے دل پر ایک خاص کیفیت طاری ہوتی ہے اور میں روزانہ اللہ تعالیٰ سے ایک سو مرتبہ مغفرت طلب کرتا ہوں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”میرے دل پر ایک خاص کیفیت طاری ہوتی ہے“ اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ سینے کی تنگی کے حوالے سے آپ پر تکلیف کی کیفیت طاری ہوتی ہے جب آپ کسی نیکی کی وجہ سے کوئی ایسا کام نہیں کر پاتے جو نیکی کا کام ہوتا ہے اور آپ اس بارے میں غور و فکر کرتے تھے، یا جب آپ اس چیز کا اہتمام کرتے جن احکام کا آپ کو علم نہیں ہے اور ایسا ان کے نازل ہونے سے پہلے ہوتا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گویا ﴿سورة البقرة﴾ میں موجود احکام سے مکہ میں اپنی لاعلمی کو ذنب شمار کرتے جو لاعلمی مدینہ منورہ میں سورہ نازل ہونے سے پہلے تھی، تو اس وجہ سے آپ کے دل پر مخصوص کیفیت طاری ہو جاتی، یہاں تک کہ آپ روزانہ ایک سو مرتبہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتے؛ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ آپ سے کسی گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے آپ کے دل پر پردہ آ جاتا، جس طرح کہ آپ کی امت کے ساتھ ہوتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 931]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2702، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 929، 931، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10201، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1515، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2765، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3816، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13470، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18127» «رقم طبعة با وزير 927»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1356): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير محمد بن عبُيد بن حساب، فمن رجال مسلم.
316. باب الأدعية - ذكر سيد الاستغفار الذي يستغفر المرء ربه لما قارف من المأثم
دعاؤں کا بیان - سيد الاستغفار کا ذکر کہ آدمی اپنے رب سے اس گناہ کے لیے استغفار مانگتا ہے جو اس نے کیا
حدیث نمبر: 932
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَيِّدُ الاسْتِغْفَارِ أَنْ يَقُولَ الْعَبْدُ: اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي، وَأَنَا عَبْدُكَ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، أَصْبَحْتُ عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، وَأَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَبُوءُ لَكَ بِذُنُوبِي، فَاغْفِرْ لِي، إِنَّهُ لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ" .
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”سید الاستغفار یہ ہے کہ بندہ یہ کہے: «اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَبُوءُ لَكَ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي، فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ» ”اے اللہ! تو میرا پروردگار ہے، میں تیرا بندہ ہوں، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔ تو نے مجھے پیدا کیا ہے اور میں تیرا بندہ ہوں، میں تیرے عہد اور تیرے وعدے پر جہاں تک ہو سکے گا قائم رہوں گا اور میں نے جو کچھ کیا ہے اس کے شر سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں، تو نے میرے اوپر جو نعمت کی ہے میں اس کا اعتراف کرتا ہوں، اور اپنے گناہوں کا بھی اعتراف کرتا ہوں، تو میری مغفرت کر دے۔ بے شک گناہوں کی مغفرت صرف تو ہی کر سکتا ہے۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 932]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6306، 6323، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 932، 933، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3728، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5537، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7908، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3393، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17386» «رقم طبعة با وزير 928»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1747): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، على شرط البخاري، رجاله ثقات رجال الشيخين غير بشير بن كعب، فمن رجال البخاري.
317. باب الأدعية - ذكر سيد الاستغفار الذي يدخل قائله به الجنة إذا كان على يقين منه
دعاؤں کا بیان - سيد الاستغفار کا ذکر کہ اسے کہنے والا اگر اس پر یقین رکھتا ہو تو جنت میں داخل ہوگا
حدیث نمبر: 933
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِيرِيُّ أَبُو عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَيِّدُ الاسْتِغْفَارِ أَنْ يَقُولَ الْعَبْدُ: اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَبُوءُ لَكَ بِالنِّعْمَةِ، وَأَبُوءُ لَكَ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي، إِنَّهُ لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ. فَإِنْ قَالَهَا بَعْدَمَا يُصْبِحُ مُوقِنًا بِهَا ثُمَّ مَاتَ، كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنْ قَالَهَا بَعْدَمَا يُمْسِي مُوقِنًا بِهَا، كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَسَمِعَهُ مِنْ بَشِيرِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ. فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ.
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”سید الاستغفار یہ ہے: بندہ یہ کہے: «اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَبُوءُ لَكَ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي، فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ» ”اے اللہ! تو میرا پروردگار ہے، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، تو نے مجھے پیدا کیا ہے، میں تیرا بندہ ہوں، مجھ سے جہاں تک ہو سکے گا میں تیرے عہد پر قائم رہوں گا، میں تیری نعمت کا اعتراف کرتا ہوں، اور اپنے گناہوں کا تیرے سامنے اعتراف کرتا ہوں، تو میری مغفرت کر دے، بے شک گناہوں کی مغفرت صرف تو ہی کر سکتا ہے“۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:) اگر بندہ صبح ہونے کے بعد یقین کے ساتھ یہ کلمات پڑھے اور اس کا انتقال ہو جائے، تو وہ جنتی ہو گا، اور اگر وہ شام ہونے کے بعد یقین کے ساتھ یہ کلمات پڑھے (اور پھر اس کا انتقال ہو جائے، تو وہ جنتی ہو گا)۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عبداللہ بن بریدہ نے یہ روایت اپنے والد رضی اللہ عنہ سے سنی ہے اور انہوں نے یہ روایت بشیر بن کعب کے حوالے سے سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے بھی سنی ہے، تو اس کے دونوں طریقے محفوظ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 933]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6306، 6323، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 932، 933، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3728، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5537، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7908، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3393، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17386» «رقم طبعة با وزير 829»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ، وهو مكرر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، رجاله رجال الصحيح وهو مكرر ما قبله.
318. باب الأدعية - ذكر الأمر للمرء أن يسأل حفظ الله جل وعلا إياه بالإسلام في أحواله
دعاؤں کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ آدمی کو اللہ جل وعلا سے اپنی حالتوں میں اسلام کے ساتھ حفاظت مانگنی چاہیے
حدیث نمبر: 934
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْعَلاءُ بْنُ رُؤْبَةَ التَّمِيمِيُّ هُوَ الْحِمْصِيُّ ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ، رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَكَا إِلَيْهِ ذَلِكَ، وَسَأَلَهُ أَنْ يَأْمُرَ لَهُ بِوَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ شِئْتَ أَمَرْتُ لَكَ بِوَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ، وَإِنْ شِئْتَ عَلَّمْتُكَ كَلِمَاتٍ هِيَ خَيْرٌ لَكَ؟" قَالَ: عَلِّمْنِيهُنَّ، وَمُرْ لِي بِوَسْقٍ، فَإِنِّي ذُو حَاجَةٍ إِلَيْهِ، فَقَالَ:" قُلِ: اللَّهُمَّ احْفَظْنِي بِالإِسْلامِ قَاعِدًا، وَاحْفَظْنِي بِالإِسْلامِ قَائِمًا، وَاحْفَظْنِي بِالإِسْلامِ رَاقِدًا، وَلا تُطِعْ فِي عَدُوًّا حَاسِدًا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، وَأَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ الَّذِي هُوَ بِيَدِكَ كُلِّهِ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: تُوُفِّيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَهَاشِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ابْنُ تِسْعِ سِنِينَ.
ہاشم بن عبداللہ بن زبیر بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ایک مصیبت لاحق ہو گئی۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے سامنے اس بات کی شکایت کی اور آپ سے یہ درخواست کی کہ آپ انہیں کھجوروں کا ایک وسق دینے کا حکم دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اگر تم چاہو، تو میں تمہیں کھجوروں کا ایک وسق دینے کا حکم دیتا ہوں، اور اگر تم چاہو، تو میں تمہیں کچھ کلمات کی تعلیم دیتا ہوں، جو تمہارے لیے زیادہ بہتر ہوں گے۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: آپ مجھے ان کلمات کی تعلیم دیں اور مجھے ایک وسق دینے کا بھی حکم دیں۔ مجھے اس کی شدید ضرورت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم یہ پڑھو: «اللَّهُمَّ احْفَظْنِي بِالْإِسْلَامِ قَاعِدًا، وَاحْفَظْنِي بِالْإِسْلَامِ قَائِمًا، وَاحْفَظْنِي بِالْإِسْلَامِ رَاقِدًا، وَلَا تُشْمِتْ بِي عَدُوًّا حَاسِدًا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ دَابَّةٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا، وَأَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ الَّذِي هُوَ بِيَدِكَ كُلِّهِ» ”اے اللہ! جب میں بیٹھا ہوں، تو اسلام کے حوالے سے میری حفاظت کر اور جب میں کھڑا ہوں، تو اسلام کے حوالے سے میری حفاظت کر اور جب میں سو رہا ہوں، تو اسلام کے حوالے سے میری حفاظت کر اور میرے بارے میں کسی حسد کرنے والے دشمن کی بات نہ ماننا اور میں ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس کی پیشانی کو تو نے پکڑا ہوا ہے اور میں تجھ سے بھلائی کا سوال کرتا ہوں، جو ساری کی ساری تیرے دست قدرت میں ہے۔“”(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ہاشم بن عبداللہ بن زبیر 9 سال کے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 934]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 934، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 296» «رقم طبعة با وزير 930»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «الضعيفة» (6003). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط العلاء بن رؤية، ويقال له: المعلى ترجمه الفسوي في تابعي أهل المدينة من مضر ممن روى عنهم الزهري، ولم يذكر فيه جرحاً ولا تعديلاً، وقال البخاري في «الكنى» ص 73 من (تاريخه): أبو المعلى بن رؤبة وتعقبه ابن أبي حاتم 9/ 443، فقال: كذا قال البخاري في كتْابه، وسمعت أبي يقول: إنما هو المعلى بن رؤبة وهو شامي يروي عن أبن عبد الله بن الزبير روى عنه الزهرىِ، وأرطأة بن المنذر وشيخه هاشم بن عبد الله مترجم في «الجرح والتعديل» 9/ 104، وذكره المؤلف في «الثقات» 5/ 513 وباقي رجاله ثقات.
319. باب الأدعية - ذكر الأمر باكتناز سؤال المرء ربه جل وعلا الثبات على الأمر والعزيمة على الرشد عند اكتناز الناس الدنانير والدراهم
دعاؤں کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ آدمی کو اپنے رب جل وعلا سے امر پر ثابت قدمی اور رشد کی عزیمت مانگنی چاہیے جب لوگ دینار اور درہم جمع کرتے ہیں
حدیث نمبر: 935
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى الْعَابِدُ ، بِصَيْدَا، وَلَمْ يَشْرَبِ الْمَاءَ فِي الدُّنْيَا ثَمَانَ عَشْرَةَ سَنَةً، وَيَتِّخَذُ كُلَّ لَيْلَةٍ حَسْوًا فَيَحْسُوهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدِ اللَّهِ مُسْلِمِ بْنِ مِشْكَمٍ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، فَنَزَلْنَا مَرْجَ الصُّفَّرِ، فَقَالَ: ائْتُونِي بِالسُّفْرَةِ نَعْبَثْ بِهَا، فَكَانَ الْقَوْمُ يَحْفَظُونَهَا مِنْهُ، فَقَالَ: يَا بَنِي أَخِي، لا تَحْفَظُوهَا عَنِّي، وَلَكِنِ احْفَظُوا مِنِّي مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اكْتَنَزَ النَّاسُ الدَّنَانِيرَ وَالدَّرَاهِمَ، فَاكْتَنِزُوا هَؤُلاءِ الْكَلِمَاتَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الأَمْرِ، وَالْعَزِيمَةَ عَلَى الرُّشْدِ، وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ، وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَعْلَمُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا تَعْلَمُ، إِنَّكَ أَنْتَ عَلامُ الْغُيُوبِ" .
ابوعبیداللہ مسلم بیان کرتے ہیں: میں سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کے ساتھ روانہ ہوا، ہم نے ”مرج الصفر“ کے مقام پر پڑاؤ کیا۔ انہوں نے فرمایا: ہمارا زادراہ لے کر آؤ تاکہ ہم اسے استعمال کریں۔ حاضرین ان سے اس چیز کو محفوظ کرنا چاہتے تھے، تو انہوں نے فرمایا: میرے بھتیجے! تم مجھ سے اس چیز کو محفوظ نہ کرو بلکہ مجھ سے اس چیز کو محفوظ کر لو جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:) ”جس وقت لوگ دینار اور درہموں کا خزانہ بنا رہے ہوں، تو تم ان کلمات کا خزانہ اکٹھا کرو: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الْأَمْرِ، وَالْعَزِيمَةَ عَلَى الرُّشْدِ، وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ، وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَعْلَمُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا تَعْلَمُ، إِنَّكَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ» ”اے اللہ! میں دین میں ثابت قدمی کا تجھ سے سوال کرتا ہوں، اور ہدایت میں عزیمت کا سوال کرتا ہوں، اور تیری نعمت کے شکر کا تجھ سے سوال کرتا ہوں، اور تیری اچھی طریقے سے عبادت کا تجھ سے سوال کرتا ہوں، اور میں ہر اس بھلائی کا تجھ سے سوال کرتا ہوں جسے تو جانتا ہے، اور ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جسے تو جانتا ہے اور میں تجھ سے اس چیز کی مغفرت طلب کرتا ہوں جسے تو جانتا ہے۔ بے شک تو غیوب کا بہت زیادہ علم رکھنے والا ہے۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 935]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 935، 1974، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1878، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1303، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3407، 3407 م، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17389» «رقم طبعة با وزير 931»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «الصحيحة» (3228). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف، سويد بن عبد العزيز: لين الحديث، وباقي رجاله ثقات.
320. باب الأدعية - ذكر الأمر بمسألة العبد ربه جل وعلا الحسنة في الدنيا والآخرة في دعائه
دعاؤں کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ بندہ اپنے رب جل وعلا سے دنیا اور آخرت میں حسنہ مانگے
حدیث نمبر: 936
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الزُّرَقِيُّ بِطَرَسُوسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: عَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلا قَدْ صَارَ مِثْلَ الْفَرْخِ، فَقَالَ:" مَا كُنْتَ تَدْعُو بِشَيْءٍ أَوْ تَسْأَلُ؟"، قَالَ: كُنْتُ أَقُولُ: اللَّهُمَّ مَا كُنْتَ مُعَاقِبَنِي بِهِ فِي الآخِرَةِ، فَعَجِّلْهُ فِي الدُّنْيَا، فَقَالَ:" سُبْحَانَ اللَّهِ، لا تَسْتَطِيعُهُ، أَوْ لا تُطِيقُهُ. قُلِ: اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: مَا سَمِعَ حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ إِلا ثَمَانِيَةَ عَشَرَ حَدِيثًا، وَالأُخَرُ سَمِعَهَا مِنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی عیادت کی، جو بیماری کی وجہ سے سکڑ کر پرندے کی مانند ہو گیا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم کیا دعا مانگتے ہو، یا تم کیا مانگتے ہو؟“ اس نے عرض کی: میں یہ کہتا ہوں کہ اے اللہ! تو نے آخرت میں مجھ کو جو سزا دینی ہے وہ دنیا میں ہی دے دے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے“، تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) تم اس کی طاقت نہیں رکھتے، تم یہ کہو: ﴿رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ [سورة البقرة: 201] ”اے اللہ! تو دنیا میں بھی ہمیں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کر اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے۔““ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) حمید نامی راوی نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے صرف اٹھارہ احادیث سنی ہیں، باقی روایات انہوں نے ثابت کے حوالے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سنی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 936]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2688، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 936، 941، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3487، 3487 م، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12231» «رقم طبعة با وزير 932»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1359): م، خ الدعاء فقط. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين