صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
224. باب الماء المستعمل - ذكر خبر ينفي الريب عن الخلد بالتصريح بإباحة ما ذكرناه
استعمال شدہ پانی کے احکام کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہمارے ذکر کردہ کی جواز کو واضح کر کے شک کو دور کرتی ہے
حدیث نمبر: 1267
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ عُمَرَ، فَقَالَ: إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ، فَقَالَ لا تُصَلِّ، فَقَالَ عَمَّارٌ : أَمَا تَذْكُرُ إِذْ كُنْتُ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ وَضَرَبَ بِيَدِهِ الأَرْضَ ضَرْبَةً، فَنَفَخَ فِي كَفِيهِ، وَمَسَحَ وَجْهَهُ وَكَفِيهِ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِي تَعْلِيمِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّيَمُّمَ، وَالاكْتِفَاءُ فِيهِ بِضَرْبَةٍ وَاحِدَةٍ لِلْوَجْهِ وَالْكَفِينِ أَبْيَنُ الْبَيَانِ بِأَنَّ الْمُؤَدَّى بِهِ الْفَرْضُ مَرَّةً جَائِزٌ أَنْ يُؤَدَّى بِهِ الْفَرْضُ ثَانِيًا، وَذَاكَ أَنَّ الْمُتَيَمِّمَ عَلَيْهِ الْفَرْضُ أَنْ يُيَمِّمَ وَجْهَهُ وَكَفِيهِ جَمِيعًا، فَلَمْا أَجَاز صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدَاءَ الْفَرْضِ فِي التَّيَمُّمِ لِكَفِيهِ، بِفَضْلِ مَا أَدَّى بِهِ فَرَضَ وَجْهِهِ صَحَّ، أَنَّ التُّرَابَ الْمُؤَدَّى بِهِ الْفَرْضُ بِعُضْوٍ وَاحِدٍ جَائِزٌ، أَنْ يُؤَدَّى بِهِ فَرَضُ الْعُضْوِ الثَّانِي بِهِ مَرَّةً أُخْرَى، وَلَمْا صَحَّ ذَلِكَ فِي التَّيَمُّمِ، صَحَّ ذَلِكَ فِي الْوُضُوءِ سَوَاءً.
عبدالرحمن بن ابزی بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا، اس نے کہا: میں جنابت کا شکار ہو جاتا ہوں، مجھے پانی نہیں ملتا (تو مجھے کیا کرنا چاہیے) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نماز نہ پڑھو (جب تک پانی نہیں مل جاتا) سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ کو یہ بات یاد نہیں ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں، میں اور آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنگی مہم میں شریک ہوئے تھے (تو میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گیا تھا) اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارے لیے اتنا ہی کافی تھا“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک زمین پر مارا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلیوں پر پھونک ماری اور اپنے چہرے اور دونوں بازوؤں پر مسح کر لیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تیمم کی تعلیم دیتے ہوئے چہرے اور دونوں ہاتھوں کے لیے ایک ہی ضرب پر اکتفاء کرنا اس بات کا واضح بیان ہے کہ ایک مرتبہ میں جس کے ذریعے فرض کو ادا کیا گیا ہو اس کے ذریعے دوسرے فرض کو ادا کرنا جائز ہے۔ اس کی صورت یوں ہے کہ تیمم کرنے والے شخص پر یہ بات لازم ہے کہ وہ چہرے اور دونوں ہاتھوں کا مسح کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیمم میں دونوں ہاتھوں کے لیے اس چیز کو جائز قرار دیا ہے، جو اس کی ہتھیلی پر چہرے کے فرض کو ادا کرنے کے بعد بچا رہنے والا (غبار ہے) تو یہ بات درست ہو گی کہ وہ مٹی جس کے ذریعے ایک ضرب کے فرض کو ادا کیا گیا ہے، یہ بات جائز ہے کہ اس کے ذریعے دوسری مرتبہ میں دوسرے عضو کے فرض کو ادا کیا جائے، تو جب یہ بات تیمم میں درست ہو گی تو وضو میں بھی درست ہو گی)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1267]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 338، 339، 340، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 368، وابن الجارود فى "المنتقى"، 139، 140، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 266، 267، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1267، 1303، 1306، 1308، 1309، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 311، وأبو داود فى (سننه) برقم: 322، 327، 328، والترمذي فى (جامعه) برقم: 144، والدارمي فى (مسنده) برقم: 772، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 569، والدارقطني فى (سننه) برقم: 693، 696، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18605، والحميدي فى (مسنده) برقم: 144» «رقم طبعة با وزير 1264»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (158 و 161): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين، والحكم: هو ابن عتيبة، وذر: هو ابن عبد الله المُرهبي، وابن عبد الرحمن بن أبزى اسمه: سعيد، وأبوه عبد الرحمن: صحابي صغير، وكان في عهد عمر رجلاً، وكان على خراسان لعلي رضي الله عنهم.
225. باب الماء المستعمل - ذكر إباحة التبرك بوضوء الصالحين من أهل العلم إذا كانوا متبعين لسنن المصطفى صلى الله عليه وسلم دون أهل البدع منهم
استعمال شدہ پانی کے احکام کا بیان - اس بات کا ذکر کہ صالحین علماء کے وضو کے پانی سے تبرک کرنا جائز ہے اگر وہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل کرنے والے ہوں، نہ کہ بدعتیوں میں سے
حدیث نمبر: 1268
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ، وَرَأَيْتُ بِلالا أَخْرَجَ وَضُوءَهُ، فَرَأَيْتُ النَّاسَ يَبْتَدِرُونَ وَضُوءَهُ يَتَمَسَّحُونَ، قَالَ: ثُمَّ أَخْرَجَ بِلالٌ عَنْزَةً فَرَكَزَهَا، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ سِيَرَاءَ، فَصَلَّى إِلَيْهَا وَالنَّاسُ وَالدَّوَابُّ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيْهِ" .
عون بن ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سرخ خیمے میں دیکھا، میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بچا ہوا پانی لے کر باہر آئے۔ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ وضو کے بچے ہوئے پانی کی طرف تیزی سے لپکے اور وہ اسے (اپنے جسم) پر ملنے لگے، پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ایک نیزہ لے کر باہر آئے۔ انہوں نے اسے گاڑ دیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سرخ رنگ کے سیرانی حلے میں باہر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نیزے کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی جبکہ اس کے دوسری طرف سے لوگ اور جانور گزر رہے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1268]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 187، 376، 495،ومسلم فى (صحيحه) برقم: 503، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 387، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1268، 2334، 2382، 2394، 7293، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 730، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 137، وأبو داود فى (سننه) برقم: 520، 688، والترمذي فى (جامعه) برقم: 197، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 711، 3628، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19045» «رقم طبعة با وزير 1265»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (689): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين، أبو عامر العقدي: هو عبد الملك بن عمر، وأبو جحيفة: اسمه وهب بن عبد الله السُّوائي.
226. باب الأوعية - ذكر إباحة اغتسال الجنب من الأواني التي اتخذت من خشب
برتنوں کے احکام کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جنب کے لیے جائز ہے کہ وہ لکڑی سے بنے برتنوں سے غسل کرے
حدیث نمبر: 1269
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: اغْتَسَلَ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَفْنَةٍ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ، أَوْ يَغْتَسِلُ مِنْ فَضْلِهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمَاءَ لا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ محترمہ نے ایک ٹب میں (پانی) سے غسل کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اس کے بچے ہوئے پانی سے وضو یا شاید غسل کرنے لگے، خاتون نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں جنبی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پانی کو کوئی چیز نجس نہیں کرتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1269]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 53، 54، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 91، 109، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1241، 1242، 1248، 1261، 1269، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 324، وأبو داود فى (سننه) برقم: 68، والترمذي فى (جامعه) برقم: 65، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 370، 371، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2131» «رقم طبعة با وزير 1266»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (61). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط تقدم الحديث في (1241) و (1242)، فانظر تخريجه هناك.
227. باب الأوعية - ذكر الأمر بتخمير الإناء بالليل ولو بعود يعرض عليه
برتنوں کے احکام کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ رات کو برتن کو ڈھانپ دیا جائے، خواہ ایک لکڑی کو اس پر ترچھا رکھ کر
حدیث نمبر: 1270
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الِمَنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَبَنٍ وَهُوَ بِالنَّقِيعِ غَيْرِ مُخَمَّرٍ، فَقَالَ:" أَلا خَمَّرْتَهُ وَلَوْ تَعْرِضُ عَلَيْهِ عُودًا" . قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: إِنَّمَا كُنَّا نُؤْمَرُ بِالأَسْقِيَةِ أَنْ تُوكَأَ لَيْلا وَبِالأَبْوَابِ أَنْ تُغْلَقَ لَيْلاً.
سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں دودھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جو ڈھانپا ہوا نہیں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ”نقیع“ (کے مقام) پر موجود تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم نے اسے ڈھانپ کیوں نہیں دیا؟ خواہ اس پر ایک لکڑی ہی رکھ دیتے۔“ سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہمیں برتنوں کے بارے میں اس بات کا حکم دیا گیا تھا کہ رات کے وقت ان کا منہ بند کر دیا کریں اور دروازوں کے بارے میں یہ حکم دیا تھا کہ رات کے وقت انہیں بند کر دیا کریں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1270]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2010، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 129، 130، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1270، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2177، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24097» «رقم طبعة با وزير 1267»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «الإرواء» (1/ 11 39): ق، ليس عند (خ): قال أبو حميد ... إلخ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم سوى يوسف بن سعيد، فإنه من رجال النسائي، وهو ثقة حافظ، وقد صرح ابن جريج وأبو الزبير بالتحديث عند مسلم وأحمد فانتفت شبهة تدليسهما.
228. باب الأوعية - ذكر الأمر بإغلاق الأبواب وإيكاء السقاء وإطفاء المصباح وتخمير الإناء
برتنوں کے احکام کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ دروازے بند کیے جائیں، مشکیزہ باندھا جائے، چراغ بجھایا جائے اور برتن ڈھانپ دیا جائے
حدیث نمبر: 1271
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَغْلِقُوا الأَبْوَابَ، وَأَوْكُوا السِّقَاءَ، وَخَمِّرُوا الإِنَاءَ، وَأَطْفِئُوا الْمِصْبَاحَ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لا يَفْتَحُ غَلَقًا، وَلا يَحُلُّ وِكَاءً، وَلا يَكْشِفُ إِنَاءً، وَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ عَلَى النَّاسِ بَيْتَهُمْ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”(رات کو سوتے وقت) دروازے بند کر دو، مشکیزوں کا منہ بند کر دو، برتنوں کو ڈھانپ دو، چراغ بجھا دو، کیونکہ شیطان بند دروازوں کو کھولتا نہیں ہے، بند منہ والے مشکیزوں کو کھولتا نہیں ہے، برتن پر سے چیز کو ہٹاتا نہیں ہے، اور چوہا بعض اوقات لوگوں کے گھر کو آگ لگا دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1271]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3280، 3304، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2012، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3411، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 131، 132، 133، 2559، 2560، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1271، 1272، 1273، 1274، 1275، 1276، 5225، 5517، 5518، 5551، 5553، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7307، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2604، 3731، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1812، 2766، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 360، 3268، 3410،وأحمد فى (مسنده) برقم: 14334» «رقم طبعة با وزير 1268»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «الإرواء» (1/ 80): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح، رجال ثقات.
229. باب الأوعية - ذكر البيان بأن الأمر بهذه الأشياء إنما أمر مع التسمية
برتنوں کے احکام کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ ان چیزوں کا حکم تسميہ کے ساتھ ہے
حدیث نمبر: 1272
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَغْلِقْ بَابَكَ، وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لا يَفْتَحُ بَابًا مُغْلَقًا، وَأَطْفِئْ مِصْبَاحَكَ، وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ، وَأَوْكِ سِقَاءَكَ، وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ، وَخَمِّرْ إِنَاءَكَ، وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ، وَلَوْ بِعُودٍ يُعْرَضُ عَلَيْهِ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ کا نام لے کر دروازوں کو بند کر دو، کیونکہ شیطان بند دروازوں کو کھولتا نہیں ہے۔ اللہ کا نام لے کر اپنے چراغ کو بجھا دو اور اللہ کا نام لے کر اپنے مشکیزوں کا منہ بند کر دو۔ اللہ کا نام لے کر اپنے برتن کو ڈھانپ دو خواہ اس پر کوئی لکڑی ہی رکھ دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1272]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3280، 3304، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2012، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3411، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 131، 132، 133، 2559، 2560، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1271، 1272، 1273، 1274، 1275، 1276، 5225، 5517، 5518، 5551، 5553، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7307، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2604، 3731، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1812، 2766، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 360، 3268، 3410،وأحمد فى (مسنده) برقم: 14334» «رقم طبعة با وزير 1269»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» -أيضا-: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، عطاء هو ابن أبي رباح.
230. باب الأوعية - ذكر البيان بأن هذا الأمر بهذه الأشياء إنما أمر باستعمالها ليلا لا نهارا
برتنوں کے احکام کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ ان چیزوں کا حکم رات کو استعمال کرنے کا ہے، نہ کہ دن کو
حدیث نمبر: 1273
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى عَبْدَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْبَعٍ، وَنَهَانَا عَنْ خَمْسٍ، إِذَا رَقَدْتَ فَأَغْلِقْ بَابَكَ، وَأَوْكِ سِقَاءَكَ، وَخَمِّرْ إِنَاءَكَ، وَأَطْفِئْ مِصْبَاحَكَ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لا يَفْتَحُ بَابًا، وَلا يَحُلُّ وِكَاءً، وَلا يَكْشِفُ غِطَاءً، وَإِنَّ الْفَأْرَةَ الْفُوَيْسِقَةَ تُحْرِقُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ بَيْتَهُمْ، وَلا تَأْكُلْ بِشِمَالِكَ، وَلا تَشْرَبْ بِشِمَالِكَ، وَلا تَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ، وَلا تَشْتَمِلِ الصَّمَّاءَ، وَلا تَحْتَبِ فِي الدَّارِ مُفْضِيًا" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چار باتوں کا حکم دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ باتوں سے منع کیا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا): ”جب تم سونے لگو تو اپنے دروازے کو بند کر دو، اپنے مشکیزے کا منہ بند کر دو، اپنے برتن کو ڈھانپ دو اور اپنے چراغ کو بجھا دو، کیونکہ شیطان بند دروازے کو کھولتا نہیں ہے، بند منہ والے مشکیزے کو کھولتا نہیں ہے، برتن پر پڑی ہوئی چیز کو ہٹاتا نہیں ہے، اور چوہا بعض اوقات گھر والوں سمیت گھر کو آگ لگا دیتا ہے، اور تم اپنے بائیں ہاتھ کے ذریعے نہ کھاؤ، اپنے بائیں ہاتھ کے ذریعے نہ پیو، صرف ایک جوتا پہن کر نہ چلو، «اِشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ» (کے طور پر کپڑے کو نہ پہنو) اور گھر میں «اِحْتِبَاء» کے طور پر اس طرح کپڑا نہ پہنو کہ شرم گاہ ظاہر ہوتی ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1273]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3280، 3304، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2012، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3411، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 131، 132، 133، 2559، 2560، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1271، 1272، 1273، 1274، 1275، 1276، 5225، 5517، 5518، 5551، 5553، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7307، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2604، 3731، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1812، 2766، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 360، 3268، 3410،وأحمد فى (مسنده) برقم: 14334» «رقم طبعة با وزير 1270»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «الصحيحة» (2974). * [الإزار] قال الشيخ: في الأصل، و «صبعة الرسالة»: (الدار)! فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله ثقات رجال الصحيح.
231. باب الأوعية - ذكر الخبر المصرح بأن الأمر بهذه الأشياء أمر باستعمالها بالليل دون النهار
برتنوں کے احکام کا بیان - اس خبر کا ذکر جو واضح کرتی ہے کہ ان چیزوں کا حکم رات کو استعمال کرنے کا ہے، نہ کہ دن کو
حدیث نمبر: 1274
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ مَعْقِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " أَوْكُوا الأَسْقِيَةَ، وَغَلِّقُوا الأَبْوَابَ إِذَا رَقَدْتُمْ بِاللَّيْلِ، وَخَمِّرُوا الطَّعَامَ وَالشَّرَابَ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي، فَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْبَابَ مُغْلَقًا دَخَلَ، وَإِنْ لَمْ يَجِدِ السِّقَاءَ مُوكًى شَرِبَ مِنْهُ، وَإِنْ وَجَدَ الْبَابَ مُغْلَقًا وَالسِّقَاءَ مُوكًى لَمْ يَحْلِلْ وِكَاءً وَلَمْ يَفْتَحْ بَابًا مُغْلَقًا، وَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ لإِنَائِهِ الَّذِي فِيهِ شَرَابُهُ مَا يُخَمِّرُهُ، فَلْيَعْرِضْ عَلَيْهِ عُودًا" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ ارشاد فرماتے تھے: ”مشکیزوں کا منہ بند کر دو جب تم رات کے وقت سونے لگو، اور کھانے پینے کی چیزوں کو ڈھانپ دو، کیونکہ شیطان آتا ہے، اگر اسے دروازہ بند نہیں ملتا تو وہ اندر آ جاتا ہے، اور اگر اسے مشکیزے کا منہ بند نہیں ملتا تو وہ اس میں سے پی لیتا ہے، لیکن اگر اسے دروازہ بند ملتا ہے اور مشکیزے کا منہ بند ملتا ہے، تو وہ مشکیزے کے بند منہ کو کھول نہیں سکتا اور بند دروازے کو کھول نہیں سکتا اور اگر کسی شخص کو اپنے اس برتن جس میں اس کا مشروب موجود ہے اسے ڈھانپنے کے لیے کوئی چیز نہیں ملتی، تو وہ اس پر لکڑی ہی رکھ دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1274]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3280، 3304، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2012، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3411، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 131، 132، 133، 2559، 2560، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1271، 1272، 1273، 1274، 1275، 1276، 5225، 5517، 5518، 5551، 5553، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7307، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2604، 3731، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1812، 2766، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 360، 3268، 3410،وأحمد فى (مسنده) برقم: 14334» «رقم طبعة با وزير 1271»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «التعليق على صحيح ابن خزيمة» (1/ 69). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي.
232. باب الأوعية - ذكر البيان بأن الأمر بهذه الأشياء التي وصفناها أمر باستعمالها في بعض الليل لا كله
برتنوں کے احکام کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ ان چیزوں کا حکم جو ہم نے بیان کیا، بعض رات کے وقت استعمال کرنے کا ہے، نہ کہ پوری رات
حدیث نمبر: 1275
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " غَلَّقُوا أَبْوَابَكُمْ، وَأَوْكُوا أَسْقِيَتَكُمْ، وَخَمِّرُوا آنِيَتَكُمْ، وَأَطْفِئُوا سُرُجَكُمْ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لا يَفْتَحُ غَلَقًا، وَلا يَحُلُّ وِكَاءً، وَلا يَكْشِفُ غِطَاءً، وَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ رُبَّمَا أَضْرَمَتْ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ بَيْتَهُمْ، وَكُفُّوا فَوَاشِيَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ إِلَى أَنْ تَذْهَبَ فَجْوَةُ الْعِشَاءِ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ فرمایا: ”تم اپنے دروازے بند کر دو اور اپنے مشکیزے کے منہ بند کر دو اور اپنے برتنوں کو ڈھانپ دو اور اپنے چراغوں کو بجھا دو، کیونکہ شیطان (بند دروازوں) کو کھولتا نہیں ہے، اور بند مشکیزے کو کھولتا نہیں ہے، اور ڈھانپی ہوئی چیز کو ہٹاتا نہیں ہے، اور چوہا بعض اوقات گھر والوں سمیت گھر کو آگ لگا دیتا ہے، تم اپنے مویشیوں اور گھر والوں کو سورج غروب ہونے کے قریب گھر میں روکے رکھو یہاں تک کہ رات کا ابتدائی حصہ گزر جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1275]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3280، 3304، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2012، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3411، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 131، 132، 133، 2559، 2560، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1271، 1272، 1273، 1274، 1275، 1276، 5225، 5517، 5518، 5551، 5553، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7307، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2604، 3731، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1812، 2766، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 360، 3268، 3410،وأحمد فى (مسنده) برقم: 14334» «رقم طبعة با وزير 1272»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره دون قوله: « .. مواشيكم» «الصحيحة» (3454)، «الإرواء» (1/ 80 - 81): م. * [فَوَاشِيَكُمْ] قال الشيخ: في الأصل: (مواشيكم)! والتصويب من صحيح ابن خزيمة (1/ 18 / 132)، وعنه تلقاه المؤلف. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله رجال الصحيح، جرير: هو ابن عبد الحميد.
233. باب الأوعية - ذكر العلة التي من أجلها أمر بهذا الأمر في هذا الوقت
برتنوں کے احکام کا بیان - اس وجہ کا ذکر کہ جس کی بنا پر اس وقت اس حکم کا امر کیا گیا
حدیث نمبر: 1276
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمْةَ ، عَنْ حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُفُوا فَوَاشِيَكُمْ حَتَّى تَذْهَبَ فَزْعَةُ الْعِشَاءِ، فَإِنَّهَا سَاعَةٌ يَحْتِرَقُ فِيهَا الشَّيْطَانُ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم اپنے مویشیوں کو (گھر میں) بند کر کے رکھو یہاں تک کہ رات کا ابتدائی حصہ گزر جائے، کیونکہ یہ ایک ایسی گھڑی ہے، جس میں شیطان آگ لگاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1276]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3280، 3304، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2012، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3411، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 131، 132، 133، 2559، 2560، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1271، 1272، 1273، 1274، 1275، 1276، 5225، 5517، 5518، 5551، 5553، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7307، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2604، 3731، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1812، 2766، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 360، 3268، 3410،وأحمد فى (مسنده) برقم: 14334»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح بلفظ: «صبيانكم» مكان: «مواشيكم»؛ فإنها شاذة «الصحيحة» (40 و 905). (*) قال محمود خليل: تصحف في المطبوع إلى «يحترق» وأثبتناه عن «مسند أبي يعلى»، وهو أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، وهو شيخ ابن حِبَّان فيه، وكذلك عن مصادر التخريج. ملحوظة!! هذا وقع في «طبعة المؤسسة» فقط، أما «طبعة باوزير» فهي فيه «يَخْتِرَقُ» ورقم الحديث هو (1273) آخر حديث في المجلد الثاني. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم سوى إبراهيم بن الحجاج، وهو ثقة.