🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
194. باب غسل الجمعة - ذكر البيان بأن قول عائشة فقيل لهم لو اغتسلتم أرادت أن النبي صلى الله عليه وسلم أمرهم بذلك
جمعہ کے دن کے غسل کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے قول "لو اغتسلتم کہا گیا" سے مراد یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کا حکم دیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1237
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ محمد بْنِ سلَمْ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيرْ حَدَّثَهُ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ النَّاسُ يَنْتَابُونَ الْجُمُعَةَ مِنْ مَنَازِلِهِمْ مِنَ الْعَوَالِي، فِيأْتُونَ فِي الْعَبَاءِ، وَيُصِيبُهُمُ الْغُبَارُ وَالْعَرَقُ، فِيخْرُجُ مِنْهُمُ الرِّيحُ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْسَانٌ مِنْهُمْ وَهُوَ عِنْدِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ أَنَّكُمْ تَطَهَّرْتُمْ لِيَوْمِكُمْ هَذَا" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ لوگ نواحی علاقوں سے اپنے گھروں سے جمعہ کی نماز کے لیے آیا کرتے تھے، وہ لوگ عبا پہن کر آتے تھے، انہیں غبار اور پسینہ لاحق ہوتا تھا جس کی وجہ سے ان کے جسم سے بو آتی تھی۔ ان میں سے ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں موجود تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم اپنے اس دن کے لیے اچھی طرح طہارت حاصل کر لو (یعنی غسل کر لو تو یہ مناسب ہو گا)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1237]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 902، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 847، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1754، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1237، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1055، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5661، 5748، 5749» «رقم طبعة با وزير 1234»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
195. باب غسل الكافر إذا أسلم - ذكر الأمر بالاغتسال للكافر إذا أسلم
جمعہ کے دن کے غسل کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ کافر جب اسلام لائے تو اسے غسل کرنا چاہیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1238
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمْةُ بْنُ شَبِيبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ ثُمَامَةَ الْحَنَفِي أُسِرَ، فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُ إِلَيْهِ، فِيقُولُ:" وَمَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ؟" فِيقُولُ: إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ تَمُنَّ تَمُنَّ عَلَى شَاكِرٍ، وَإِنْ تُرِدِ الْمَالَ تُعْطَ مَا شِئْتَ، قَالَ: فَكَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّونَ الْفِدَاءَ، وَيَقُولُونَ: مَا نَصْنَعُ بِقَتْلِ هَذَا، فَمَرَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَأَسْلَمْ، فَبَعَثَ بِهِ إِلَى حَائِطِ أَبِي طَلْحَةَ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَغْتَسِلَ، فَاغْتَسَلَ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ"، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ حَسُنَ إِسْلامُ صَاحِبِكُمْ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ثمامہ حنفی کو قید کر لیا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملنے کے لیے آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اے ثمامہ! تمہارے پاس کیا ہے؟“ اس نے کہا: اگر آپ قتل کر دیتے ہیں، تو پھر ایک خون والے شخص کو قتل کریں گے اور اگر آپ احسان کریں گے تو ایک شکر گزار شخص پر احسان کریں گے اور اگر آپ مال حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو جو آپ چاہتے ہیں وہ آپ کو دے دیا جائے گا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے فدیہ لینے والی صورت کو پسند کیا، انہوں نے کہا: اس کو قتل کر کے ہمیں کیا ملے گا؟ پھر ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے تو اس نے اسلام قبول کر لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے باغ کی طرف بھیجا اور یہ ہدایت کی کہ وہ غسل کر لے، انہوں نے غسل کر کے دو رکعات نماز ادا کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارے ساتھی کا اسلام عمدہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1238]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 462، 469، 2422، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1764، 1764، وابن الجارود فى "المنتقى"، 15، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 252، 253، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1238، 1239، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 189، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2679، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7478» «رقم طبعة با وزير 1235»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (1/ 164). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط سناده صحيح على شرطهما، عبد الله بن عمر – وإن كان ضعيفاً- تابعه عليه عبيد الله بن عمر، وهو ثقة روى له الشيخان.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
196. باب غسل الكافر إذا أسلم - ذكر البيان بأن ثمامة ربط إلى سارية في وقت أسره
جمعہ کے دن کے غسل کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ ثمامہ کو اس کے قید کے وقت ستون سے باندھا گیا تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1239
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَيْلا قِبَلَ نَجْدٍ، فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ يُقَالُ لَهُ: ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ سَيِّدُ أَهْلِ الْيَمَامَةِ، فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ"؟ قَالَ: عِنْدِي يَا مُحَمَّدُ خَيْرٌ، إِنْ تَقْتُلْنِي تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ، وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ، تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ، فَتَرَكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى كَانَ الْغَدُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ:" مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ"؟ قَالَ: مَا قُلْتُ لَكَ: إِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ، وَإِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ، فَتَرَكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَانَ بَعْدَ الْغَدِ، فَقَالَ لَهُ:" مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ"؟ فَقَالَ: عِنْدِي مَا قُلْتُ لَكَ، إِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ، وَإِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَطْلِقُوا ثُمَامَةَ" فَانْطَلَقَ إِلَى نَخْلٍ قَرِيبٍ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، يَا مُحَمَّدُ وَاللَّهِ مَا كَانَ عَلَى الأَرْضِ وَجْهٌ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ وَجْهِكَ، فَقَدْ أَصْبَحَ وَجْهُكَ أَحَبَّ الْوُجُوهِ كُلِّهَا إِلَيَّ، وَاللَّهِ مَا كَانَ مِنْ دِينٍ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ دِينِكَ، فَقَدْ أَصْبَحَ أَحَبَّ الدِّينِ كُلِّهِ إِلَيَّ، وَاللَّهِ مَا كَانَ بَلَدٌ أَبْغَضَ عَلَيَّ مِنْ بَلَدِكَ، فَقَدَ أَصْبَحَ بَلَدُكَ أَحَبَّ الْبِلادِ إِلَيَّ، وَإِنَّ خَيْلَكَ أَخَذَتْنِي وَأَنَا أُرِيدُ الْعُمْرَةَ، فَمَاذَا تَرَى؟ فَبَشَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَمِرَ، فَلَمْا قَدِمَ مَكَّةَ، قَالَ لَهُ قَائِلٌ: صَبَوْتَ؟ قَالَ: لا، وَلَكِنْ أَسْلَمْتُ مَعَ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلا وَاللَّهِ لا تَأْتِيكُمْ مِنَ الْيَمَامَةِ حَبَّةُ حِنْطَةٍ، حَتَّى يَأْذَنَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلِيلٌ عَلَى إِبَاحَةِ التِّجَارَةِ إِلَى دُورِ الْحَرْبِ لأَهْلِ الْوَرَعِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی سمت میں ایک مہم روانہ کی، وہ لوگ بنو حنیفہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو پکڑ کر لے آئے جس کا نام ثمامہ بن اثال تھا، یہ اہل یمامہ کا سردار تھا۔ لوگوں نے اسے مسجد کے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے من میں کیا ہے، اے ثمامہ؟“ وہ بولا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس بھلائی ہے، اگر آپ مجھے قتل کر دیتے ہیں تو آپ ایک خون والے شخص کو قتل کریں گے اور اگر آپ انعام کرتے ہیں تو آپ ایک شکر گزار شخص پر احسان کریں گے اور اگر آپ مال حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ مانگیں، جو مانگیں گے آپ کو دیا جائے گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا، یہاں تک کہ اگلا دن آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: ”اے ثمامہ! تمہارے ذہن میں کیا ہے؟“ وہ بولا: وہی ہے جو میں نے آپ کو کہا تھا کہ اگر آپ انعام کریں گے تو ایک شکر گزار پر کریں گے اور اگر قتل کرتے ہیں تو ایک خون والے شخص کو قتل کرتے ہیں اور اگر آپ مال حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ مانگیے، آپ جو مانگیں گے آپ کو مل جائے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسے چھوڑ دیا، پھر اگلا دن آ گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: ”اے ثمامہ! تمہارے ذہن میں کیا ہے؟“ وہ بولا: میرے ذہن میں وہی ہے جو میں آپ کو بتا چکا ہوں، اگر آپ انعام کریں گے تو شکر گزار شخص پر انعام کریں گے، اگر آپ قتل کریں گے تو ایک خون والے شخص کو قتل کریں گے اور اگر آپ مال حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ مانگیے، جو چاہیں وہ آپ کو دیا جائے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ثمامہ کو چھوڑ دو۔“ پھر وہ مسجد کے قریب کھجوروں کے باغ میں چلے گئے، انہوں نے وہاں غسل کیا پھر وہ مسجد میں آئے اور بولے: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم! روئے زمین پر کسی بھی شخص کا چہرہ میرے نزدیک آپ کے چہرے سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں تھا لیکن اب میری یہ حالت ہے کہ آپ کا چہرہ میرے نزدیک تمام چہروں سے زیادہ محبوب ہے۔ اللہ کی قسم! آپ کے دین سے زیادہ ناپسندیدہ دین اور کوئی نہیں تھا لیکن اب میری یہ حالت ہے کہ آپ کا دین میرے نزدیک تمام ادیان سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ اللہ کی قسم! آپ کے شہر سے زیادہ ناپسندیدہ میرے نزدیک اور کوئی شہر نہیں تھا لیکن اب یہ حالت ہے کہ آپ کا شہر میرے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ آپ کے گھڑ سواروں نے مجھے پکڑ لیا، میں عمرے کے لیے جا رہا تھا اب آپ کی کیا رائے ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خوشخبری دی (مبارک باد دی) اور اسے عمرہ کرنے کی ہدایت کی۔ جب وہ مکہ آیا تو کسی نے اس سے کہا: تم بے دین ہو گئے ہو؟ اس نے جواب دیا: جی نہیں، بلکہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اسلام قبول کیا ہے جو اللہ کے رسول ہیں، اللہ کی قسم! ثمامہ کی طرف سے تمہارے پاس گندم کا ایک دانہ بھی اس وقت تک نہیں آئے گا جب تک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کی اجازت نہیں دیں گے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ پرہیزگار لوگ (مسلمان) حربیوں کے علاقے میں تجارت کر سکتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1239]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 462، 469، 2422، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1764، 1764، وابن الجارود فى "المنتقى"، 15، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 252، 253، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1238، 1239، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 189، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2679، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7478» «رقم طبعة با وزير 1236»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (1/ 164 و 5/ 41 - 42): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
197. باب غسل الكافر إذا أسلم - ذكر الاستحباب للكافر إذا أسلم أن يكون اغتساله بماء وسدر
جمعہ کے دن کے غسل کا بیان - اس بات کا ذکر کہ کافر کے لیے مستحب ہے کہ جب وہ اسلام لائے تو پانی اور سدر سے غسل کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1240
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفِيانُ ، عَنِ الأَغَرِّ بْنِ الصَّبَّاحِ ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ ، أَنَّهُ أَسْلَمْ" فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَغْتَسِلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ" .
خلیفہ بن حصین، سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے جب اسلام قبول کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی کہ: ”وہ پانی اور بیری کے پتوں کے ذریعے غسل کریں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1240]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 14، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 254، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1240، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 188، وأبو داود فى (سننه) برقم: 355، والترمذي فى (جامعه) برقم: 605، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20942، 20946» «رقم طبعة با وزير 1237»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (382)، «الإرواء» (163 - 164). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
198. باب المياه
پانی کے احکام کا بیان -
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1241
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ الْقُطَيْعِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْمَاءُ لا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1241]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 53، 54، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 91، 109، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1241، 1242، 1248، 1261، 1269، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 324، وأبو داود فى (سننه) برقم: 68، والترمذي فى (جامعه) برقم: 65، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 370، 371، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2131» «رقم طبعة با وزير 1238»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (61)، «الإرواء» (14 و 25). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح سماك: هو ابن حرب، صدوق إلا أن روايته عن عكرمة خاصة مضطربة، وباقي رجاله ثقات، وأبو معمر هو: إسماعيل بن إبراهيم بن معمر بن الحسن الهلالي القطيعي الهروي، أخرج له الشيخان، وأبو الأحوص هو: سلام بن سليم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
199. باب المياه - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر ورد في المياه الجارية دون المياه الراكدة
پانی کے احکام کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ یہ خبر بہتے پانی کے بارے میں ہے، نہ کہ ٹھہرے ہوئے پانی کے بارے میں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1242
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ سُفِيانَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْتَسَلَتْ مِنْ جَنَابَةٍ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَتَوَضَّأُ مِنْ فَضْلِهَا، فَقَالَتْ لَهُ، فَقَالَ:" إِنَّ الْمَاءَ لا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے ایک خاتون نے غسلِ جنابت کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان کے بچائے ہوئے پانی سے وضو کرنے لگے، ان خاتون نے آپ کی خدمت میں عرض کی: (یہ ان کے غسل کا بچا ہوا پانی ہے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1242]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 53، 54، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 91، 109، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1241، 1242، 1248، 1261، 1269، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 324، وأبو داود فى (سننه) برقم: 68، والترمذي فى (جامعه) برقم: 65، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 370، 371، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2131» «رقم طبعة با وزير 1239»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - المصدر نفسه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده كسابقه، عبد الله" هو ابن المبارك.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
200. باب المياه - ذكر الخبر المدحض قول من نفى جواز الوضوء بماء البحر
پانی کے احکام کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ سمندر کے پانی سے وضو جائز نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1243
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمْةَ ، مِنْ آلِ بَنِي الأَزْرَقِ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ ، وَهُوَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنْا الْقَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ، فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا، أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ؟ فَقَالَ:" هُوَ الطُّهُورُ مَاؤُهُ، الْحِلُّ مَيْتَتُهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! ہم سمندری سفر پر جاتے ہیں، ہم اپنے ساتھ بہت تھوڑا سا پانی لے کر جاتے ہیں، اگر ہم اس کے ذریعے وضو کر لیتے ہیں، تو ہم پیاسے رہ جاتے ہیں، کیا ہم سمندری پانی کے ذریعے وضو کر لیا کریں؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس کا پانی پاک ہے، اور اس کا مردار حلال ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1243]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 60، وابن الجارود فى "المنتقى"، 46، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 111، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1243، 5258، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 492، 493، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 59، وأبو داود فى (سننه) برقم: 83، والترمذي فى (جامعه) برقم: 69، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 386، 3246، والدارقطني فى (سننه) برقم: 80، 81، 82، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7353» «رقم طبعة با وزير 1240»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (480)، «صحيح أبي داود» (76). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، رجاله كلهم ثقات.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
201. باب المياه - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذه السنة تفرد بها سعيد بن سلمة
پانی کے احکام کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ یہ سنت سعید بن سلمہ نے تنہا بیان کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1244
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي إِسْحَاقُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنِ ابْنِ مِقْسَمٍ يَعْنِي عُبَيْدَ اللَّهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ مَاءِ الْبَحْرِ، فَقَالَ:" هُوَ الطُّهُورُ مَاؤُهُ، الْحِلُّ مَيْتَتُهُ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سمندر کے پانی کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”اس کا پانی پاک ہے، اور اس کا مردار حلال ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1244]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 947، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 112، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1244، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 502، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 388، والدارقطني فى (سننه) برقم: 68، 69، 70، 71، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15243، والطبراني فى(الكبير) برقم: 1759» «رقم طبعة با وزير 1241»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (76). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
202. باب المياه - ذكر إباحة الاغتسال من الماء الذي خالطه بعض المأكول ما لم يغلب على الماء كثرته
پانی کے احکام کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اس پانی سے غسل کرنا جائز ہے جس میں کچھ کھانے کی چیز مل جائے، بشرطیکہ اس کی کثرت پانی پر غالب نہ آئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1245
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُشْكَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ أَنَّ مَيْمُونَةَ، وَرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اغْتَسَلا فِي قَصْعَةٍ فِيهَا أَثَرُ الْعَجِينِ" .
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی برتن میں (موجود پانی) سے غسل کیا تھا، جس میں آٹے کا نشان موجود تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1245]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 240، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1245، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 240، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 237، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 378، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27537، والطبراني فى(الكبير) برقم: 1051» «رقم طبعة با وزير 1242»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (1/ 64). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط محمد بن مشكان ذكره المؤلف في «الثقات» 9/ 127، فقال: محمد بن مشكان السَّرْخَسي يروي عن يزيد بن هارون وعبد الرزاق، حدثنا عنه محمد بن عبد الرحمن الدغولي وغيره، مات سنة تسع وخمسين ومئتين، وكان ابن حنبل يكاتبه، وفي «إكمال ابن ماكولا» 7/ 256: محمد بن مشكان: شيخ من أهل سرخس يحدث عن زيد بن الحباب، ويزيد بن أبي حكيم وغيرهما، ونحوه في"توضيح المشتبه" 3/ الورقة36، وباقي رجال الإسناد على شرط مسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
203. باب المياه - ذكر ما يعمل المرء عند وقوع ما لا نفس له تسيل في مائه أو مرقته
پانی کے احکام کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کیا کرے جب اس کے پانی یا شوربے میں کوئی ایسی چیز گر جائے جس میں سانس نہ ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1246
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ دَاءً، وَفِي الآخَرِ شِفَاءً، وَإِنَّهُ يَتَّقِي بِجَنَاحِهِ الَّذِي فِيهِ الدَّاءُ، فَلْيَغْمِسْهُ كُلَّهُ، ثُمَّ لِيَنْزِعْهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب مکھی کسی برتن میں گر جائے، تو اس مکھی کے ایک پر میں بیماری ہوتی ہے اور دوسرے پر میں شفا ہوتی ہے، وہ اپنے اس پر کو بچا کے رکھتی ہے جس میں بیماری ہوتی ہے، تو آدمی کو چاہیے کہ مکمل طور پر اسے ڈبو کر باہر نکالے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1246]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3320، 5782، وابن الجارود فى "المنتقى"، 62، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 105، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1246، 5250، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3844، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3505، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7262» «رقم طبعة با وزير 1243»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (38): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله رجال الصحيح، خلا ابن عجلان، وهو محمد، فقد أخرج له مسلم في المتابعات، وهو صدوق حسن الحديث، فالسند حسن.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں