صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
253. باب الأسآر - ذكر البيان بأن المرء مأمور عند غسله الإناء من ولوغ الكلب فيه أن يجعل أول الغسلات بالتراب
بچے ہوئے پانی (آثارِ استعمال) کے احکام کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ آدمی کو حکم دیا گیا کہ کتے کے منہ لگانے سے برتن دھوتے وقت پہلی دھلائی مٹی سے کرے
حدیث نمبر: 1297
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " طَهُورُ إِنَاءِ أَحَدِكُمْ إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ، أَنْ يُغْسَلَ سَبْعَ مَرَّاتٍ أُولاهُنَّ بِالتُّرَابِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”کسی شخص کے برتن کو پاک کرنے کا طریقہ جبکہ کتے نے اس میں منہ ڈال دیا ہو یہ ہے، اس کو سات مرتبہ دھو لیا جائے جس میں سے پہلی مرتبہ مٹی کے ساتھ دھویا جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1297]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 172، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 279، ومالك فى (الموطأ) برقم: 90، وابن الجارود فى "المنتقى"، 55، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 95، 96، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1294، 1295، 1296، 1297، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 573، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 63، وأبو داود فى (سننه) برقم: 71، 73، والترمذي فى (جامعه) برقم: 91، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 363، 364، والدارقطني فى (سننه) برقم: 181، 182، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7463، 7464، والحميدي فى (مسنده) برقم: 997، 998» «رقم طبعة با وزير 1294»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (66). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، أبو خيثمة: هو زهير بن حرب.
254. باب الأسآر - ذكر البيان بأن المرء يستحب له عند غسله الإناء من ولوغ الكلب أن يعفر الإناء بالتراب عند الثامنة
بچے ہوئے پانی (آثارِ استعمال) کے احکام کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ کتے کے منہ لگانے سے برتن دھوتے وقت آٹھویں دھلائی پر برتن کو مٹی سے رگڑے
حدیث نمبر: 1298
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي الإِنَاءِ فَاغْسِلُوهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ، وَعَفِّرُوا الثَّامِنَةَ بِالتُّرَابِ" .
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کتا کسی برتن میں منہ ڈال دے، تو اسے سات مرتبہ دھو لو اور آٹھویں مرتبہ اسے مٹی کے ذریعے مانجھ لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1298]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 280، 280، 1573، 1573، وابن الجارود فى "المنتقى"، 59، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1298، 5650، 5655، 5656، 5659، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 67، وأبو داود فى (سننه) برقم: 74، 2845، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1486، 1489، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 365، 3200، 3201، 3205، والدارقطني فى (سننه) برقم: 191، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17061» «رقم طبعة با وزير 1295»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (77) و «الإرواء» (24): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، محمد بن عبد الأعلى: هو الصنعاني البصري، ثقة، أخرج له مسلم، وباقي رجال السند على شرطهما، أبو التياح: اسمه يزيد بن حميد الضبعي.
255. باب الأسآر - ذكر الخبر الدال على أن أسآر السباع كلها طاهرة
بچے ہوئے پانی (آثارِ استعمال) کے احکام کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ تمام درندوں کا سؤر طاہر ہے
حدیث نمبر: 1299
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، وَكَانَتْ تَحْتَ ابْنِ أَبِي قَتَادَة، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ " دَخَلَ عَلَيْهَا، فَسَكَبَتْ لَهُ وُضُوءًا، فَجَاءَتْ هِرَّةٌ تَشْرَبُ، فَأَصْغَى أَبُو قَتَادَةَ الإِنَاءَ، فَشَرِبَتْ، قَالَتْ كَبْشَةُ: فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَتَعْجَبِينَ يَا ابْنَةَ أَخِي؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ، إِنَّمَا هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ وَالطَّوَّافَاتِ" .
سیدہ کبشہ بنت کعب رضی اللہ عنہا، جو سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کی اہلیہ ہیں، وہ بیان کرتی ہیں: سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ ان کے ہاں تشریف لائے، انہوں نے ان کے لیے وضو کا پانی رکھا، ایک بلی آئی اور اس میں سے پینے لگی، سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے برتن اس کی طرف کر دیا، اس بلی نے پانی پی لیا، سیدہ کبشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے میری طرف دیکھا، میں ان کی طرف غور سے دیکھ رہی تھی، تو انہوں نے دریافت کیا: اے میری بھتیجی! کیا تم حیران ہو رہی ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، تو انہوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”یہ (یعنی بلی) ناپاک نہیں ہے، یہ تمہارے ہاں گھر میں آنے جانے والے جانوروں میں سے ایک ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1299]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 61، وابن الجارود فى "المنتقى"، 67، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 103، 104، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1299، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 571، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 68، وأبو داود فى (سننه) برقم: 75، والترمذي فى (جامعه) برقم: 92، والدارمي فى (مسنده) برقم: 763، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 367، والدارقطني فى (سننه) برقم: 219، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22964، والحميدي فى (مسنده) برقم: 434» «رقم طبعة با وزير 1296»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «صحيح أبي داود» (68)، «الإرواء» (173). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حميدة: روى عنها اثنان، وذكرها المؤلف في «الثقات» 6/ 250، وكبشة: عدها المؤلف في «الثقات» 3/ 357 من الصحابة، وتبعه المستغفري، والزبير بن بكار، وأبو موسى المديني كما في «الإصابة» 4/ 383، و «التهذيب» 12/ 447، وباقي رجاله ثقات.
256. باب التيمم
تیمم کا بیان -
حدیث نمبر: 1300
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ، انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي، فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْتِمَاسِهِ، فَأَقَامَ مَعَهُ النَّاسُ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، فَجَاءَ نَاسٌ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، فَقَالُوا: أَلا تَرَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ؟ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِالنَّاسِ مَعَهُ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي قَدْ نَامَ، فَقَالَ: حَبَسْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسَ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ؟ فَعَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ، وَقَالَ: مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، وَجَعَلَ يَطْعُنُ بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي، فَلا يَمْنَعُنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلا مَكَانُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَصْبَحَ، " فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ، فَتَيَمَّمُوا" . قَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَهُوَ أَحَدُ النُّقَبَاءِ: مَا هَذَا بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ! قَالَتْ عَائِشَةُ:" فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتُ عَلَيْهِ فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تَحْتَهُ".
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں کہ ہم ایک سفر پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے۔ جب ہم «بَيْدَاءَ» یا «ذَاتِ الْجَيْشِ» (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) کے مقام پر پہنچے تو میرا ہار گر گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاش میں وہاں ٹھہر گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوگ بھی ٹھہر گئے، وہاں آس پاس پانی نہیں تھا اور لوگوں کے پاس بھی پانی نہیں تھا۔ کچھ لوگ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے: ”کیا آپ نے دیکھا ہے، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما نے کیا کیا ہے؟ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کے ہمراہ لوگوں کو ٹھہرنے پر مجبور کر دیا ہے حالانکہ یہاں آس پاس پانی نہیں ہے، اور لوگوں کے پاس بھی پانی نہیں ہے۔“ تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما (کے پاس) آئے، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر میرے زانوں پر رکھ کر سو رہے تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اور لوگوں کو رکنے پر مجبور کیا ہے حالانکہ یہاں آس پاس پانی نہیں ہے، اور لوگوں کے پاس بھی پانی نہیں ہے۔“ (سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں) سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھ پر ناراضگی کا اظہار کیا اور جو اللہ کو منظور تھا وہ کہا، وہ اپنے ہاتھ کے ساتھ میرے پہلو پر مارتے رہے، لیکن میں نے حرکت اس لیے نہیں کی، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (میرے زانوں پر سر رکھ کر آرام فرما رہے تھے)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوئے رہے، یہاں تک کہ صبح کا وقت ہو گیا، تو اللہ تعالیٰ نے تیمم سے متعلق آیت نازل کر دی تو لوگوں نے تیمم کر لیا۔ اس وقت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ، جو نقیبوں میں سے ایک تھے، انہوں نے یہ کہا: ”اے ابوبکر کی آل! یہ آپ کی پہلی برکت نہیں ہے۔“ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں کہ جب ہم نے اس اونٹ کو اٹھایا جس پر میں سوار تھی، تو ہمیں اس کے نیچے سے ہار بھی مل گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1300]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 334، 336، 3672، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 367، ومالك فى (الموطأ) برقم: 169، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 261، 262، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1300، 1317، 1709، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 309، وأبو داود فى (سننه) برقم: 317، والدارمي فى (مسنده) برقم: 773، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 568، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24937، والحميدي فى (مسنده) برقم: 165» «رقم طبعة با وزير 1297»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (335 و 337): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما.
257. باب التيمم - ذكر البيان بأن التيمم بالكحل والزرنيخ وما أشبههما دون الصعيد الذي هو التراب وحده غير جائز
تیمم کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ کحل، زرنیخ اور اس جیسی چیزوں سے تیمم جائز نہیں، صرف مٹی سے جو کہ صعید ہے
حدیث نمبر: 1301
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، وَإِنَّا سِرْنَا لَيْلَةً، حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ وَقَعْنَا تِلْكَ الْوَقْعَةَ وَلا وَقْعَةَ أَحْلَى عِنْدَ الْمُسَافِرِ مِنْهَا، فَمَا أَيْقَظَنَا إِلا حَرُّ الشَّمْسِ، قَالَ: وَكَانَ أَوَّلُ مَنِ اسْتَيْقَظَ فُلانٌ، ثُمَّ فُلانٌ، ثُمَّ فُلانٌ، وَكَانَ يُسَمِّيهِمْ أَبُو رَجَاءٍ وَنَسِيَهُمْ عَوْفٌ، ثُمَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الرَّابِعُ، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ لَمْ نُوقِظْهُ حَتَّى يَكُونَ هُوَ يَسْتَيْقِظُ، لأَنَّا لا نَدْرِي مَا يَحْدُثُ لَهُ فِي نَوْمِهِ، قَالَ: فَلَمْا اسْتَيْقَظَ عُمَرُ وَرَأَى مَا أَصَابَ النَّاسَ، قَالَ: وَكَانَ رَجُلا أَجْوَفَ جَلِيدًا، قَالَ: فَكَبَّرَ وَرَفَعَ صَوْتَهُ، فَمَا زَالَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ حَتَّى اسْتَيْقَظَ بِصَوْتِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْا اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، شَكَوَا الَّذِي أَصَابَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا ضَيْرَ، أَوْ لا يَضِيرُ ارْتَحِلُوا"، فَسَارَ غَيْرَ بَعِيدٍ، ثُمَّ نَزَلَ فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ، وَنُودِيَ بِالصَّلاةِ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَلَمْا انْفَتَلَ مِنْ صَلاتِهِ، إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ مُعْتَزِلٍ لَمْ يُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ، قَالَ: مَا مَنَعَكَ يَا فُلانُ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ؟ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ وَلا مَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ، ثُمَّ سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاشْتَكَى إِلَيْهِ النَّاسُ الْعَطَشَ، قَالَ: فَنَزَلَ فَدَعَا فُلانًا وَكَانَ يُسَمِّيهِ أَبُو رَجَاءٍ وَنَسِيَهُ عَوْفٌ وَدَعَا عَلِيًّا، فَقَالَ: اذْهَبَا فَابْغِيَا لَنَا الْمَاءَ، فَلَقِيَا امْرَأَةً بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ أَوْ سَطِيحَتَيْنِ مِنْ مَاءٍ عَلَى بَعِيرٍ لَهَا، فَقَالا لَهَا: أَيْنَ الْمَاءُ؟ قَالَتْ: عَهْدِي بِالْمَاءِ أَمْسِ هَذِهِ السَّاعَةَ، وَنَفَرُنَا خُلُوفٌ، قَالَ: فَقَالا لَهَا: انْطَلِقِي إِذًا، قَالَتْ: إِلَى أَيْنَ؟ قَالا: إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: هَذَا الَّذِي يُقَالُ لَهُ الصَّابِي؟ قَالا: هُوَ الَّذِي تَعْنِينَ، فَانْطَلِقِي إِذًا، فَجَاءَا بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَدَّثَاهُ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَاسْتَنْزَلُوهَا عَنْ بَعِيرِهَا، وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِإِنَاءٍ، فَأَفْرَغَ فِيهِ مِنْ أَفْوَاهِ الْمَزَادَتَيْنِ، أَوِ السَّطِيحَتَيْنِ، وَأَوْكَأَ أَفْوَاهَهُمَا وَأَطْلَقَ الْعَزَالِي، وَنُودِيَ فِي النَّاسِ، أَنِ اسْتَقُوا وَاسْقُوا، قَالَ: فَسَقَى مَنْ شَاءَ وَاسْتَقَى مَنْ شَاءَ، وَكَانَ آخِرُ ذَلِكَ أَنْ أُعْطِيَ الَّذِي أَصَابَتْهُ الْجَنَابَةُ إِنَاءً مِنْ مَاءٍ، فَقَالَ: اذْهَبْ فَأَفْرِغْهُ عَلَيْكَ، قَالَ: وَهِيَ قَائِمَةٌ تَنْظُرُ إِلَى مَا يَفْعَلُ بِمَائِهَا، قَالَ: وَايْمُ اللَّهِ لَقَدْ أُقْلِعَ عَنْهَا حِينَ أُقْلِعَ، وَإِنَّهُ لَيُخَيَّلُ لَنَا أَنَّهَا أَشَدُّ مَلْئًا مِنْهَا حِينَ ابْتُدِئَ فِيهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اجْمَعُوا لَهَا طَعَامًا"، قَالَ: فَجَمَعَ لَهَا مِنْ بَيْنِ عَجْوَةٍ وَدَقِيقَةٍ وَسَوِيقَةٍ، حَتَّى جَمَعُوا لَهَا طَعَامًا كَثِيرًا، وَجَعَلُوهُ فِي ثَوْبٍ، وَحَمَلُوهَا عَلَى بَعِيرِهَا، وَوَضَعُوا الثَّوْبَ بَيْنَ يَدَيْهَا، قَالَ: فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَعْلَمْينَ أَنَّا وَاللَّهِ مَا رُزِئْنَا مِنْ مَائِكَ شَيْئًا، وَلَكِنَّ اللَّه هُوَ سَقَانَا"، قَالَ: فَأَتَتْ أَهْلَهَا وَقَدِ احْتَبَسَتْ عَلَيْهِمْ، فَقَالُوا: مَا حَبَسَكِ يَا فُلانَةُ؟ قَالَتِ: الْعَجَبُ، لَقِيَنِي رَجُلانِ، فَذَهَبَا بِي إِلَى هَذَا الَّذِي يُقَالُ لَهُ: الصَّابِي، فَفَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا، الَّذِي قَدْ كَانَ، فَوَاللَّهِ إِنَّهُ لأَسْحَرُ مَنْ بَيْنَ هَذِهِ إِلَى هَذِهِ، أَوْ إِنَّهُ لِرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَقًّا، قَالَ: فَكَانَ الْمُسْلِمُونَ بَعْدَ ذَلِكَ يُغِيرُونَ عَلَى مَنْ حَوْلَهَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَلا يُصِيبُونَ الصِّرْمَ الَّذِي هِيَ فِيهِ، فَقَالَتْ لِقَوْمِهَا: وَاللَّهِ هَؤُلاءِ الْقَوْمُ يَدَعُونَكُمْ عَمْدًا، فَهَلْ لَكُمْ فِي الإِسْلامِ؟ فَأَطَاعُوهَا فَدَخَلُوا فِي الإِسْلامِ" .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ ہم رات بھر سفر کرتے رہے، جب رات کا آخری حصہ ہوا تو ہمیں نیند نے آ لیا اور مسافر کے نزدیک نیند سے پیاری اور کوئی چیز نہیں ہوتی۔ ہمیں سورج کی تپش نے بیدار کیا۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بیدار ہونے والوں میں سے سب سے پہلے فلاں شخص تھے، پھر فلاں صاحب تھے اور پھر فلاں صاحب تھے۔ ابورجاء نامی راوی نے ان کے نام بھی بیان کیے تھے لیکن عوف نامی راوی ان کے ناموں کو بھول گئے، پھر چوتھے بیدار ہونے والے فرد سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (سوئے) ہوتے تھے، تو ہم آپ کو بیدار نہیں کرتے تھے، یہاں تک کہ آپ خود ہی بیدار ہوتے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم یہ نہیں جان سکتے تھے کہ نیند کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا صورتحال پیش آ رہی ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے اور انہوں نے صورت حال کو دیکھا تو (راوی بیان کرتے ہیں:) وہ بلند آواز کے مالک ایک سخت مزاج شخص تھے۔ راوی کہتے ہیں انہوں نے بلند آواز میں تکبیر کہی اور مسلسل تکبیر کہتے رہے۔ ان کی تکبیر کی آواز بلند رہی، یہاں تک کہ ان کی آواز کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو گئے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، تو لوگوں نے پیش آنے والی صورت حال کی شکایت آپ کی خدمت میں کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی نقصان نہیں ہے۔“ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) ”تم لوگ روانہ ہو جاؤ۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑا آگے گئے، پھر آپ سواری سے نیچے اترے، پھر آپ نے پانی منگوایا، وضو کیا، نماز کے لیے اذان دی گئی۔ آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو ایک شخص الگ موجود تھا۔ اس نے لوگوں کے ساتھ نماز ادا نہیں کی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اے فلاں! کیا وجہ ہے، تم نے لوگوں کے ساتھ نماز ادا نہیں کی؟“ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے جنابت لاحق ہو گئی تھی، اور (غسل کرنے کے لیے) پانی نہیں ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم پر مٹی کو استعمال کرنا لازم ہے، یہ تمہارے لیے کافی ہو گی۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے، لوگوں نے آپ کی خدمت میں پیاسے ہونے کی شکایت کی۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے نیچے اترے، آپ نے فلاں صاحب کو بلوایا (اس شخص کا نام ابورجاء نامی نے بیان کیا تھا لیکن عوف نامی راوی اسے بھول گئے) اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھی بلایا اور ارشاد فرمایا: ”تم دونوں جاؤ اور ہمارے لیے پانی تلاش کرو۔“ (یہ دونوں حضرات روانہ ہو گئے) ان دونوں حضرات کا سامنا ایک خاتون سے ہوا جو اپنے اونٹ پر دو مشکیزوں کے درمیان سوار تھی۔ ان دونوں حضرات نے اس خاتون سے دریافت کیا کہ پانی کہاں ہے۔ اس نے جواب دیا: گزشتہ کل اسی وقت میں پانی کے پاس تھی (یعنی ایک دن کے فاصلے پر ہے) اور ہمارے مرد قبیلے میں موجود نہیں تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ان دونوں حضرات نے اس خاتون سے کہا: پھر تم (ہمارے ساتھ) چلو۔ اس نے دریافت کیا: کہاں؟ ان دونوں حضرات نے جواب دیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف۔ اس نے دریافت کیا: کیا یہی وہ شخص ہے جسے بے دین کہا جاتا ہے؟ ان دونوں صاحبان نے فرمایا: وہ وہی ہیں، جو تم مراد لے رہی ہو۔ اب تم چل پڑو۔ پھر یہ دونوں اس خاتون کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو پورے واقعے کے بارے میں بتایا۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس خاتون کو اس کے اونٹ سے نیچے اتار لیا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوایا اور مشکیزوں کے منہ سے اس میں پانی انڈیلا (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) آپ نے مشکیزے کے منہ کو بند رکھا اور اس کے نیچے کے سوراخ کو کھول دیا اور لوگوں میں یہ اعلان کر دیا گیا کہ: ”تم لوگ خود بھی پانی حاصل کرو اور (اپنے جانوروں وغیرہ کو) بھی پلاؤ۔“ راوی بیان کرتے ہیں، پھر جس نے چاہا اس نے پی لیا، جس نے چاہا اس نے (غسل وغیرہ کے لیے) حاصل کر لیا۔ سب سے آخر میں اس شخص کو پانی का برتن دیا گیا جسے جنابت لاحق ہوئی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم جاؤ اور اسے اپنے جسم پر انڈیل لو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: وہ عورت کھڑی دیکھتی رہی کہ اس کے پانی کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! جب اس میں سے اتنا سارا پانی نکال لیا گیا، تو پھر بھی ہمیں یوں محسوس ہوا کہ شاید یہ مشکیزے پہلے سے زیادہ بھرے ہوئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس عورت کے لیے کھانے کا سامان جمع کرو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: تو اس عورت کے لیے عجوہ کھجوریں اور ستو جمع کر لیے گئے، یہاں تک کہ اس کے لیے بہت سا اناج جمع ہو گیا اور لوگوں نے اسے ایک کپڑے میں ڈال دیا۔ اسے اس کے اونٹ پر سوار کر دیا، اور وہ کپڑا اس کے آگے رکھ دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا: ”تم یہ بات جانتی ہو؟ اللہ کی قسم! ہم نے تمہارے پانی میں کوئی کمی نہیں کی، لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں سیراب کر دیا ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: وہ عورت اپنے گھر والوں کے پاس آئی جبکہ وہ کچھ تاخیر سے گئی تھی، ان لوگوں نے دریافت کیا: اے فلاں! تم کہاں رہ گئی تھی؟ اس نے جواب دیا: بڑی حیرانگی کی بات ہے، مجھے دو لوگ ملے وہ مجھے ساتھ لے کر ان صاحب کے پاس چلے گئے جن کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ بے دین ہیں۔ انہوں نے میرے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا یعنی اس چیز کے بارے میں بتایا جو ہو چکی تھی، اور کہا: اللہ کی قسم! وہ یہاں سے لے کر یہاں تک کے درمیانی حصے کے سب سے بڑے جادوگر ہیں یا پھر وہ واقعی اللہ کے رسول ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس کے بعد وہاں کے مسلمانوں نے آس پاس کے مشرکین پر حملے کیے، لیکن اس بستی پر حملہ نہیں کیا جہاں وہ عورت رہتی تھی۔ اس عورت نے اپنی قوم سے کہا: اللہ کی قسم! یہ لوگ جان بوجھ کر تمہیں چھوڑ رہے ہیں، تو کیا تم لوگ اسلام میں دلچسپی رکھتے ہو؟ تو ان لوگوں نے اس عورت کی بات مان لی اور اسلام میں داخل ہو گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1301]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 344، 348، 3571، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 682، وابن الجارود فى "المنتقى"، 136، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 113، 271، 987، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1301، 1302، 1461، 2650، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1021، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 320، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 306، وأبو داود فى (سننه) برقم: 443، والدارقطني فى (سننه) برقم: 771، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20189» «رقم طبعة با وزير 1298»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (156): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، عوف: هو ابن أبي جميلة الأعرابي، وأبو رجاء: هو عمران بن ملحان العطاردي البصري.
حدیث نمبر: 1302
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو رَجَاءٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، قَالَ:" كُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا كُنَّا فِي آخِرِ اللَّيْلِ، وَقَعْنَا تِلْكَ الْوَقْعَةَ وَلا وَقْعَةَ أَحْلَى عِنْدَ الْمُسَافِرِ مِنْهَا، فَمَا أَيْقَظَنَا إِلا حَرُّ الشَّمْسِ، فَاسْتَيْقَظَ فُلانٌ وَفُلانٌ وَكَانَ يُسَمِّيهِمْ أَبُو رَجَاءٍ وَنَسِيَهُمْ عَوْفٌ، ثُمَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ الرَّابِعُ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ لَمْ يُوقَظْ حَتَّى يَكُونَ هُوَ يَسْتَيْقِظُ، لأَنَّا لا نَدْرِي مَا يَحْدُثُ لَهُ فِي النَّوْمِ، فَلَمْا اسْتَيْقَظَ عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَرَأَى مَا أَصَابَ النَّاسَ، وَكَانَ رَجُلا جَلِيدًا، فَكَبَّرَ وَرَفَعَ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ، فَمَا زَالَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ حَتَّى اسْتَيْقَظَ بِصَوْتِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْا اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكَوْا إِلَيْهِ الَّذِي أَصَابَهُمْ، فَقَالَ: لا يَضِيرُ، فَارْتَحِلُوا، وَارْتَحَلَ، فَسَارَ غَيْرَ بَعِيدٍ، ثُمَّ نَزَلَ فَدَعَا بِالْوَضُوءِ فَتَوَضَّأَ، فَنُودِيَ بِالصَّلاةِ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَلَمْا انْفَتَلَ مِنْ صَلاتِهِ، فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ مُعْتَزِلٍ لَمْ يُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ، فَقَالَ: مَا مَنَعَكَ يَا فُلانُ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ؟ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ، وَلا مَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ"، ثُمَّ سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَكَا النَّاسُ إِلَيْهِ الْعَطَشَ، فَنَزَلَ فَدَعَا فُلانًا وَكَانَ يُسَمِّيهِ أَبُو رَجَاءٍ وَنَسِيَهُ عَوْفٌ، وَدَعَا عَلِيًّا رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَقَالَ: اذْهَبَا فَأَتَيَا بِالْمَاءِ، فَانْطَلَقَا امْرَأَةٌ بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ، أَوْ سَطِيحَتَيْنِ مِنْ مَاءٍ عَلَى بَعِيرٍ لَهَا، وَقَالا لَهَا: أَيْنَ الْمَاءُ؟ فَقَالَتْ: عَهْدِي بِالْمَاءِ أَمْسِ هَذِهِ السَّاعَةَ، وَنَفَرُنَا خُلُوفٌ، قَالا لَهَا: انْطَلِقِي، قَالَتْ: إِلَى أَيْنَ؟ قَالا: إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: هَذَا الَّذِي يُقَالُ لَهُ: الصَّابِي؟ قَالا: هُوَ الَّذِي تَعْنِينَ، فَانْطَلِقِي، وَجَاءَا بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَنْزَلُوهَا عَنْ بَعِيرِهَا، وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ، فَأَفْرَغَ فِيهِ مِنْ أَفْوَاهِ الْمَزَادَتَيْنِ، أَوِ السَّطِيحَتَيْنِ، وَأَوْكَأَ أَفْوَاهَهُمَا، وَأَطْلَقَ الْعَزَالِي، وَنُودِيَ فِي النَّاسِ: أَنِ اسْتَقُوا وَاسْقُوا، قَالَ: فَسَقَى مَنْ شَاءَ، وَاسْتَسْقَى مَنْ شَاءَ، وَكَانَ آخِرُ ذَلِكَ أَنْ أَعْطَى الَّذِي أَصَابَتْهُ الْجَنَابَةُ إِنَاءً مِنْ مَاءٍ، فَقَالَ:" اذْهَبْ فَأَفْرِغْهُ عَلَيْكَ"، قَالَ: وَهِيَ قَائِمَةٌ تَنْظُرُ إِلَى مَا يَفْعَلُ بِمَائِهَا، قَالَ: وَايْمُ اللَّهِ، لَقَدْ أُقْلِعَ عَنْهَا حِينَ أُقْلِعَ، وَإِنَّهُ لَيُخَيَّلُ إِلَيْنَا أَنَّهَا أَشَدُّ مَلْئًا مِنْهَا حِينَ ابْتُدِئَ فِيهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اجْمَعُوا لَهَا طَعَامًا، فَجَمَعَ لَهَا مِنْ تَمْرٍ وَعَجْوَةٍ وَدَقِيقَةٍ وَسَوِيقَةٍ، حَتَّى جَمَعُوا لَهَا طَعَامًا كَثِيرًا، وَجَعَلُوهُ فِي ثَوْبٍ وَحَمَلُوهَا عَلَى بَعِيرِهَا، وَوَضَعُوا الثَّوْبَ الَّذِي فِيهِ الطَّعَامُ بَيْنَ يَدَيْهَا، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَعْلَمْينَ وَاللَّهِ مَا رَزَأْنَا مِنْ مَائِكِ شَيْئًا، وَلَكِنَّ اللَّهَ هُوَ الَّذِي سَقَانَا، فَأَتَتْ أَهْلَهَا وَقَدِ احْتَبَسَتْ عَنْهُمْ، قَالُوا: مَا حَبَسَكِ يَا فُلانَةُ؟ قَالَتِ: الْعَجَبُ، لَقِيَنِي رَجُلانِ، فَذَهَبَا بِي إِلَى هَذَا الَّذِي يُقَالُ لَهُ: الصَّابِي، فَفَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا الَّذِي قَدْ كَانَ وَاللَّهِ إِنَّهُ لأَسْحَرُ مَنْ بَيْنَ هَذِهِ وَهَذِهِ، وَقَالَتْ: بِأُصْبُعَيْهَا السَّبَّابَةُ الْوُسْطَى، فَرَفَعَتْهُمَا إِلَى السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، أَوْ إِنَّهُ لَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا، فَكَانَ الْمُسْلِمُونَ بَعْدُ يُغِيرُونَ عَلَى مَنْ حَوْلَهَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، وَلا يُصِيبُونَ الصِّرْمَ الَّذِي هِيَ فِيهِمْ، قَالَتْ يَوْمًا لِقَوْمِهَا: مَا أَرَى هَؤُلاءِ الْقَوْمُ يَدَعُونَكُمْ إِلا عَمْدًا، فَهَلْ لَكُمْ فِي الإِسْلامِ؟ فَأَطَاعُوهَا فَدَخَلُوا فِي الإِسْلامِ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ عِمْرَانُ بْنُ تَيْمٍ، مَاتَ وَهُوَ ابْنُ مِائَةٍ وَعِشْرِينَ سَنَةً.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ جب رات کا آخری حصہ آیا تو ہمیں نیند آ گئی اور مسافر کے نزدیک نیند سے زیادہ پیاری کوئی اور چیز نہیں ہوتی۔ ہمیں سورج کی تپش نے بیدار کیا، فلاں، فلاں اور فلاں بیدار ہوئے—ابورجاء نامی راوی نے ان کا نام بیان کیا تھا لیکن عوف نامی راوی ان کا نام بھول گئے—پھر چوتھے بیدار ہونے والے شخص سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سویا کرتے تھے، تو آپ کو بیدار نہیں کیا جاتا تھا، یہاں تک کہ آپ خود ہی بیدار ہوتے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم یہ نہیں جان سکتے تھے کہ نیند کے دوران آپ کے ساتھ کیا صورت حال پیش آ رہی ہے۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے اور انہوں نے وہ چیز دیکھی جو لوگوں کو پیش آئی ہے، وہ بلند آواز کے مالک تھے۔ انہوں نے تکبیر کہی اور تکبیر کہتے ہوئے آواز کو بلند کیا۔ وہ مسلسل تکبیر کہتے رہے اور بلند آواز میں تکبیر کہتے رہے یہاں تک کہ ان کی آواز کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو گئے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، تو لوگوں نے پیش آنے والی صورت حال کی شکایت آپ کے سامنے کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں تم لوگ روانہ ہو جاؤ۔“ پھر آپ روانہ ہوئے، تھوڑا آگے جانے کے بعد آپ سواری سے اترے، پھر آپ نے وضو کے لیے پانی منگوایا، وضو کیا اور نماز کے لیے اذان دی گئی۔ آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب آپ لوگوں کو نماز پڑھا کر فارغ ہوئے، تو ایک شخص الگ موجود تھا، جس نے لوگوں کے ساتھ نماز ادا نہیں کی تھی۔ آپ نے دریافت کیا: ”اے فلاں! کیا بات ہے، تم نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں ادا کی؟“ اس نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے جنابت لاحق ہو گئی تھی، اور پانی موجود نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پر مٹی استعمال کرنا لازم ہے، وہ تمہارے لیے کفایت کرے گی۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے، لوگوں نے آپ کی خدمت میں پیاسے ہونے کی شکایت کی، تو آپ سواری سے نیچے اترے اور فلاں کو بلایا—رجاء نامی راوی نے ان کا نام بیان کیا تھا لیکن عوف نامی راوی اسے بھول گئے—راوی بیان کرتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھی بلایا اور فرمایا: ”تم دونوں جاؤ اور پانی لے کر آؤ۔“ دونوں حضرات رضی اللہ عنہما روانہ ہوئے، ان کا سامنا ایک عورت سے ہوا جو اپنے اونٹ پر دو مشکیزوں کے درمیان سوار تھی (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)۔ ان دونوں حضرات رضی اللہ عنہما نے اس سے دریافت کیا: پانی کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا: گزشتہ دن اسی وقت میں پانی کے پاس موجود تھی، ہمارے قبیلے کے مرد موجود نہیں ہیں (اس لیے میں اتنی دور سے پانی لے کر آئی ہوں)۔ ان دونوں حضرات رضی اللہ عنہما نے اس سے کہا: تم چلو! اس نے دریافت کیا: کہاں؟ ان دونوں حضرات رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: اللہ کے رسول کی طرف۔ اس نے دریافت کیا: کیا یہ وہی صاحب ہیں، جن کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ بے دین ہیں؟ ان دونوں حضرات رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: یہ وہی ہیں، جو تم مراد لے رہی ہو، تم چلو۔ یہ دونوں حضرات رضی اللہ عنہما اس عورت کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ لوگوں نے اس عورت کو اس کے اونٹ سے نیچے اتارا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزوں کے منہ سے پانی انڈیلا (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے منہ کو بند کر دیا اور ان کے نیچے والے سوراخ کھول دیے۔ لوگوں میں اعلان کر دیا گیا کہ وہ پانی حاصل کر لیں اور (جانوروں وغیرہ کو بھی) پانی پلائیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر جس نے چاہا اس نے پلایا اور جس نے چاہا پانی پی لیا، سب سے آخر میں اس شخص کو پانی دیا گیا جسے جنابت لاحق ہوئی تھی۔ پانی کا برتن دیا گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جاؤ اور اسے اپنے اوپر بہا لو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: وہ عورت کھڑی دیکھتی رہی کہ اس کے پانی کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! اس میں سے جتنا بھی پانی نکلا، اس کے بعد بھی ہمیں یوں محسوس ہوا تھا شاید وہ مشکیزے پہلے سے زیادہ بھرے ہوئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس عورت کے لیے کھانے کا سامان اکٹھا کرو۔“ تو اس عورت کے لیے عجوہ کھجوریں، آٹا اور ستو اکٹھے کیے گئے، یہاں تک کہ لوگوں نے اس کے لیے بہت سا اناج اکٹھا کر لیا۔ لوگوں نے اسے ایک کپڑے میں رکھا اور اس عورت کو اس کے اونٹ پر سوار کر کے وہ تھیلا اس کے آگے رکھ دیا جس میں اناج موجود تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا: ”تم یہ بات جانتی ہو، اللہ کی قسم! ہم نے تمہارے پانی میں کوئی کمی نہیں کی لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں سیراب کیا ہے۔“ پھر وہ عورت اپنے اہل خانہ کے پاس آئی، وہ تاخیر سے ان کے پاس پہنچی تھی، تو ان لوگوں نے دریافت کیا: اے فلانہ! تمہیں کس چیز نے روک لیا تھا؟ وہ بولی: بڑی حیران کن بات ہے، مجھے دو آدمی ملے، وہ مجھے ساتھ لے گئے اور ان صاحب کے پاس لے گئے جنہیں بے دین کہا جاتا ہے، پھر انہوں نے میرے ساتھ اس اس طرح کا سلوک کیا، یعنی جو کچھ ہوا تھا (اس کو اس نے بیان کیا)۔ اللہ کی قسم! یہاں سے لے کر یہاں تک کے درمیان موجود اس جگہ میں وہ سب سے بڑے جادوگر ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس عورت نے اپنی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو پہلے آسمان کی طرف اٹھایا، پھر زمین کی طرف کیا (اور یہ بات کہی) یا پھر وہ واقعی اللہ کے سچے رسول ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس کے بعد مسلمانوں نے اس کے آس پاس کے علاقوں میں موجود مشرکین پر حملے کیے لیکن اس بستی پر حملہ نہیں کیا جہاں وہ عورت رہتی تھی۔ ایک دن اس عورت نے اپنی قوم سے کہا: میرا یہ خیال ہے کہ یہ لوگ تم لوگوں کو جان بوجھ کر چھوڑ رہے ہیں، تو کیا تم لوگ اسلام میں دلچسپی رکھتے ہو؟ تو لوگوں نے اس کی بات مان لی اور اسلام میں داخل ہو گئے۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابورجاء عطاردی کا نام عمران بن تیم ہے، ان کا انتقال 120 سال کی عمر میں ہوا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1302]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 344، 348، 3571، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 682، وابن الجارود فى "المنتقى"، 136، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 113، 271، 987، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1301، 1302، 1461، 2650، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1021، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 320، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 306، وأبو داود فى (سننه) برقم: 443، والدارقطني فى (سننه) برقم: 771، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20189» «رقم طبعة با وزير 1299»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - المصدر نفسه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما سوى مسدد، فإنه من رجال البخاري.
258. باب التيمم - ذكر وصف التيمم الذي يجوز أداء الصلاة به عند إعواز الماء
تیمم کا بیان - اس تیمم کی حالت کا ذکر جو پانی کی عدم موجودگی میں نماز ادا کرنے کے لیے جائز ہے
حدیث نمبر: 1303
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الِمَنْهَالِ الضَّرِيرُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ التَّيَمُّمِ " فَأَمَرَنِي بِالْوَجْهِ وَالْكَفِينِ ضَرْبَةً وَاحِدَةً" ، وَكَانَ قَتَادَةُ بِهِ يُفْتِي.
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تیمم کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ نے مجھے ”چہرے اور دونوں بازوؤں کے لیے ایک ضرب (زمین پر) مارنے“ کی ہدایت کی۔ قتادہ اس کے مطابق فتویٰ دیتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1303]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 338، 339، 340، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 368، وابن الجارود فى "المنتقى"، 139، 140، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 266، 267، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1267، 1303، 1306، 1308، 1309، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 311، وأبو داود فى (سننه) برقم: 322، 327، 328، والترمذي فى (جامعه) برقم: 144، والدارمي فى (مسنده) برقم: 772، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 569، والدارقطني فى (سننه) برقم: 693، 696، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18605، والحميدي فى (مسنده) برقم: 144» «رقم طبعة با وزير 1300»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (158)، «صحيح أبي داود» (351): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، عزرة- بفتح العين المهملة، وإسكان الزاي، وفتح الراء-هو ابن عبد الرحمن بن زرارة الخزاعي الكوفي.
259. باب التيمم - ذكر خبر ثان يصرح بأن مسح الذراعين في التيمم غير واجب
تیمم کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو واضح کرتی ہے کہ تیمم میں بازوؤ ں کا مسح کرنا واجب نہیں
حدیث نمبر: 1304
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرَّجُلُ يُجْنِبُ فَلا يَجِدُ الْمَاءَ أَيُصَلِّي؟ فَقَالَ: لا، فَقَالَ: أَمَا تَذْكُرُ قَوْلَ عَمَّارٍ لِعُمَرَ:" بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَا وَأَنْتَ فَأَجْنَبْتُ فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" كَانَ يَكْفِيكَ هَكَذَا: وَضَرَبَ بِيَدِهِ الأَرْضَ، فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَكَفِيهِ" ، فَقَالَ: لَمْ أَرَ عُمَرَ قَنَعَ بِذَلِكَ، قَالَ: فَمَا تَصْنَعُ بِهَذِهِ الآيَةِ: فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا سورة النساء آية 43، فَقَالَ: أَمَا إِنَّا لَوْ رَخَّصْنَا لَهُمْ فِي هَذَا، لَكَانَ أَحَدُهُمْ إِذَا وَجَدَ بَرْدَ الْمَاءِ تَيَمَّمَ بِالصَّعِيدِ، زَادَ يَعْلَى: قَالَ الأَعْمَشُ: فَقُلْتُ لِشَقِيقٍ فَلَمْ يَكُنْ هَذَا إِلا لِهَذَا.
شقیق بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابوعبدالرحمن! ایک شخص کو جنابت لاحق ہو جاتی ہے اور اسے پانی نہیں ملتا، تو کیا وہ نماز ادا کرے گا؟ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: جی نہیں۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ کو یہ بات یاد نہیں ہے کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا تھا کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور آپ کو کسی جگہ بھیجا تھا، تو مجھے جنابت لاحق ہو گئی تھی، تو میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گیا، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے اس طرح کر لینا کافی تھا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے اور انہیں اپنے چہرے اور دونوں بازوؤں پر پھیر لیا۔ تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو نہیں دیکھا کہ انہوں نے اس بیان پر قناعت کی ہو۔ تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر آپ اس آیت ﴿فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا﴾ [سورة المائدة: 6] کے بارے میں کیا کہیں گے: ”اور تمہیں پانی نہیں ملتا تو تم پاک مٹی سے تیمم کر لو۔“؟ تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر ہم اس بارے میں لوگوں کو رخصت دینا شروع کر دیں تو ان میں سے کسی ایک شخص کو پانی ٹھنڈا لگے گا تو وہ مٹی کے ذریعے تیمم کر لیا کرے گا۔ یعلیٰ نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے، اعمش نے یہ بات بیان کی ہے، میں نے شقیق سے کہا: یہ حکم صرف اس کے لیے ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1304]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 345، 346، 347، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 368، 368، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 270، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1304، 1305، 1307، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 319، وأبو داود فى (سننه) برقم: 321، والدارقطني فى (سننه) برقم: 684، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18618» «رقم طبعة با وزير 1301»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» -أيضا-، «الصحيح» برقم (344). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، أبو معاوية: هو محمد بن خازم الكوفي، وهو أحفظ الناس لحديث الأعمش.
260. باب التيمم - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن مسح الذراعين في التيمم واجب لا يجوز تركه
تیمم کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ تیمم میں بازوؤں کا مسح کرنا واجب ہے اور اسے ترک کرنا جائز نہیں
حدیث نمبر: 1305
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمْةَ ، قَالَ: قَالَ أَبُو مُوسَى لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: لَوْ أَنَّ جُنُبًا لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا لَمْ يُصَلِّ؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لا، قَالَ أَبُو مُوسَى: أَمَا تَذْكُرُ حِينَ قَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ لِعُمَرَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَلا تَتَّقِي اللَّهَ، أَلا تَذْكُرُ حِينَ بَعَثَنِي وَإِيَّاكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الإِبِلِ، فَأَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ، فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ، فَلَمْا رَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ هَكَذَا: وَضَرَبَ بِيَدِهِ إِلَى الأَرْضِ، وَمَسَحَ وَجْهَهُ وَكَفِيهِ" ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لا جَرَمَ مَا رَأَيْتُ عُمَرَ قَنَعَ بِذَلِكَ، قَالَ أَبُو مُوسَى: فَكَيْفَ بِهَذِهِ الآيَةِ فِي سُورَةِ النِّسَاءِ، فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا سورة النساء آية 43، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: إِنَّا لَوْ رَخَّصْنَا لَهُمْ فِي ذَلِكَ يُوشِكُ إِذَا بَرَدَ عَلَى جِلْدِ أَحَدِهِمُ الْمَاءُ أَنْ يَتَيَمَّمَ، قَالَ الأَعْمَشُ: فَقُلْتُ لِشَقِيقٍ: أَمَا كَانَ لِعَبْدِ اللَّهِ غَيْرُ ذَلِكَ؟ قَالَ: لا.
شقیق بن سلمہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اگر کسی جنبی کو ایک مہینے تک پانی نہیں ملتا تو کیا وہ نماز ادا نہیں کرے گا؟“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نہیں۔“ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا آپ کو یہ بات یاد نہیں ہے، سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ کہا تھا کہ اے امیر المؤمنین! کیا آپ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں ہیں؟ کیا آپ کو یہ بات یاد نہیں ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور آپ کو (اونٹوں) کے باڑے میں بھیجا تھا، تو مجھے جنابت لاحق ہو گئی تھی، تو میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گیا، جب میں واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَصْنَعَ هَكَذَا» ”تمہارے لیے یہ کافی تھا کہ تم اس طرح کر لو۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک زمین پر مارا اور اپنے چہرے اور بازوؤں پر پھیر لیا۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ بات طے ہے، میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا تھا کہ انہوں نے اس پر قناعت نہیں کی تھی۔“ تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”پھر آپ سورۃ النساء میں موجود اس آیت ﴿فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا﴾ [سورة النساء: 43] ”اور تمہیں پانی نہیں ملتا تو تم پاک مٹی کے ذریعے تیمم کر لو“ کے بارے میں کیا کہیں گے؟“ اس پر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر ہم لوگوں کو اس بارے میں رخصت دینا شروع کر دیں تو عنقریب ایسا وقت آ جائے گا کہ جب ان میں سے کسی ایک کو پانی ٹھنڈا لگے گا، تو وہ تیمم کر لیا کرے گا۔“ اعمش نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے کہ میں نے شقیق سے کہا: ”کیا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ (کی اس مسئلے کے بارے میں) کوئی اور دلیل بھی ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”جی نہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1305]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 345، 346، 347، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 368، 368، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 270، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1304، 1305، 1307، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 319، وأبو داود فى (سننه) برقم: 321، والدارقطني فى (سننه) برقم: 684، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18618» «رقم طبعة با وزير 1302»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 1306
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: إِنِّي أَجْنَبْتُ، فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ، فَقَالَ عُمَرُ: لا تُصَلِّ، فَقَالَ عَمَّارٌ : أَمَا تَذْكُرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ أَنْتَ وَأَنَا فِي سَرِيَّةٍ، فَأَجْنَبْنَا، فَلَمْ نَجْدِ الْمَاءَ، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، وَأَمَّا أَنَا، فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ، فَصَلَّيْتُ، فَلَمْا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ: وَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى الأَرْضِ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا، وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفِيهِ" .
سیدنا عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: مجھے جنابت لاحق ہوگئی ہے اور مجھے پانی نہیں ملا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نماز نہ پڑھو۔ اس پر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المؤمنین! کیا آپ کو یہ بات یاد نہیں ہے کہ میں اور آپ ایک جنگ میں تھے اور ہمیں جنابت لاحق ہوگئی اور پانی نہیں ملا، آپ نے تو نماز ادا نہیں کی اور میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گیا تھا اور میں نے نماز ادا کر لی تھی۔ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہیں اتنا کافی تھا۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک زمین پر مارا، اس پر پھونک ماری اور ان دونوں ہاتھوں کو اپنے چہرے اور بازوؤں پر پھیر لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1306]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 338، 339، 340، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 368، وابن الجارود فى "المنتقى"، 139، 140، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 266، 267، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1267، 1303، 1306، 1308، 1309، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 311، وأبو داود فى (سننه) برقم: 322، 327، 328، والترمذي فى (جامعه) برقم: 144، والدارمي فى (مسنده) برقم: 772، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 569، والدارقطني فى (سننه) برقم: 693، 696، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18605، والحميدي فى (مسنده) برقم: 144» «رقم طبعة با وزير 1303»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (345): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، وهو مكرر (1267) الذي أورده المؤلف طريق يزيد بن زريع، عن شعبة، به.