🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
329. ذكر البيان بأن هذا الحكم إنما هو مخصوص في بول الصبي دون الصبية
اس وضاحت کا ذکر کہ یہ حکم خاص طور پر لڑکے کے پیشاب کے بارے میں ہے، لڑکی کے بارے میں نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1377
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ مُصَحِّحٍ الْعَسْقَلانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلَمْ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، وَكِلاهُمَا، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الْمِسْكِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُلَبِّي" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں موجود مشک کی چمک کا منظر گویا آج بھی میری نگاہ میں ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تلبیہ پڑھ رہے تھے (یعنی آپ حالتِ احرام میں تھے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1377]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 271، 1537، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1190، وابن الجارود فى "المنتقى"، 456، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2585، 2586، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1376، 1377، 3767، 3769، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2692، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1746، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2927، 2928، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24741» «رقم طبعة با وزير 1374»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح. داود بن مصحح ترجمه المؤلف في "الثقات" 8/ 236، فقال: من أهل عسقلان: روى، عن أبي خالد الأحمر (سليمان بن حبان)، حدثنا عنه محمد بن الحسين بن قتيبة، مات سنة اثنتين وثلاثين ومئتين، مستقيم الحديث وباقي رجال إسناده على شرطهما وسليمان بن حيان قد توبع.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
330. باب النجاسة وتطهيرها - ذكر خبر ثالث يصرح بأن المسك طاهر غير نجس
نجاست اور اس کے پاک کرنے کا بیان - تیسری خبر کا ذکر جو واضح کرتی ہے کہ مشک طاہر ہے، نجس نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1378
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا فِياضُ بْنُ زُهَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خُلَيْدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْمِسْكُ هُوَ أَطْيَبُ الطِّيبِ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مشک سب سے زیادہ پاکیزہ خوشبو ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1378]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1738، 2252، وابن الجارود فى "المنتقى"، 945، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1699، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 275، 278، 1378، 3221، 5591، 5592، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1339، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3158، 4344، والترمذي فى (جامعه) برقم: 991، 992، 2174، 2191، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2873، 4000، 4007، 4011، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11173» «رقم طبعة با وزير 1375»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح، فياض بن زهير: ذكره المؤلف في "الثقات" 9/ 11، وقد توبع عليه، وباقي رجاله ثقات.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
331. باب النجاسة وتطهيرها - ذكر الإباحة للمرء أن يصلي في الثوب الذي أصابه المني وإن لم يغسله
نجاست اور اس کے پاک کرنے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے جائز ہے کہ وہ اس کپڑے میں نماز پڑھے جسے منی لگے، خواہ اسے نہ دھویا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1379
أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ ، بِوَاسِطَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَالأَسْوَدِ ، أَنَّ رَجُلا نَزَلَ بِعَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، فَأَصْبَحَ يَغْسِلُ ثَوْبَهُ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ :" إِنَّمَا كَانَ يُجْزِيكَ إِنْ رَأَيْتَهُ أَنْ تَغْسِلَ مَكَانَهُ، وَإِنْ لَمْ تَرَهُ نَضَحْتَ حَوْلَهُ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَفْرُكُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرْكًا، فِيصَلِّي فِيهِ" .
علقمہ اور اسود رحمہما اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں مہمان کے طور پر ٹھہرا۔ صبح کے وقت اس نے اپنے کپڑے (یعنی بچھونے) کو دھو لیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تمہارے لیے یہ بھی جائز تھا کہ اگر تمہیں نجاست نظر آئی ہے، تو تم صرف اس کی جگہ کو دھو دو اور اگر وہ تمہیں نظر نہیں آ رہی تو تم اس کے آس پاس کی جگہ پر پانی چھڑک دو۔ مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے (منی کو) کھرچ دیتی تھی، اور آپ اس کپڑے میں نماز ادا کر لیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1379]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 229، 230، 231، 232، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 288، وابن الجارود فى "المنتقى"، 152، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 287، 288، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1379، 1380، 1381، 1382، 2332، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 294،، وأبو داود فى (سننه) برقم: 371، 372، 373، والترمذي فى (جامعه) برقم: 116، 117، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 536، 537، 538، 539، والدارقطني فى (سننه) برقم: 449، 450، 451، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24698» «رقم طبعة با وزير 1376»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (397 - 398): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم. خالد (الأول): هو خالد بن عبد الله الواسطي، وخالد (الثاني): هو خالد بن مهران الحذاء، وأبو معشر: هو زياد بن كليب التميمي الحنظلي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
332. باب النجاسة وتطهيرها - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن المني نجس غير طاهر
نجاست اور اس کے پاک کرنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ منی نجس ہے، طاہر نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1380
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلانَ ، بِأَذَنَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا لُوَيْنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَفْرُكُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فِيهِ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کو کھرچ دیتی تھی اور آپ اس کپڑے میں نماز ادا کر لیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1380]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 229، 230، 231، 232، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 288، وابن الجارود فى "المنتقى"، 152، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 287، 288، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1379، 1380، 1381، 1382، 2332، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 294،، وأبو داود فى (سننه) برقم: 371، 372، 373، والترمذي فى (جامعه) برقم: 116، 117، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 536، 537، 538، 539، والدارقطني فى (سننه) برقم: 449، 450، 451، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24698» «رقم طبعة با وزير 1377»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح بلفظ: ثم يصلي فيه «الصحيحة» (3172). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح. لُوَيْن: لقب محمد بن سليمان بن حبيب الأسدي، ثم المصيصي، أخرج له أبو داود والنسائي، وباقي رجال السند رجال الصحيح.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
333. باب النجاسة وتطهيرها - ذكر خبر قد يوهم غير المتبحر في صناعة العلم أنه مضاد للخبرين اللذين ذكرناهما قبل
نجاست اور اس کے پاک کرنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو علم کی صنعت میں مہارت نہ رکھنے والے کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ ہمارے پہلے ذکر کردہ دو خبروں کے مخالف ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1381
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ الْجَزَرِيُّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كُنْتُ أَغْسِلُ الْجَنَابَةَ مِنْ ثَوْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيخْرُجُ إِلَى الصَّلاةِ، وَإِنَّ بُقْعَ الْمَاءِ لَفِي ثَوْبَهِ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَغْسِلُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ رَطْبًا، لأَنَّ فِيهِ اسْتِطَابَةً لِلنَّفَسِ، وَتَفْرِكُهُ إِذَا كَانَ يَابِسًا، فِيصَلِّي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ، هَكَذَا نَقُولُ وَنَخْتَارُ: إِنَّ الرَّطْبَ مِنْهُ يُغْسَلُ لِطِيبِ النَّفْسِ، لا أَنَّهُ نَجِسٌ، وَإِنَّ الْيَابِسَ مِنْهُ يُكْتَفَى مِنْهُ بِالْفَرْكِ اتِّبَاعًا لِلسُّنَّةِ".
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے جنابت کو دھو دیتی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے تشریف لے جاتے تھے حالانکہ پانی کا نشان آپ کے کپڑے پر موجود ہوتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1381]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 229، 230، 231، 232، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 288، وابن الجارود فى "المنتقى"، 152، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 287، 288، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1379، 1380، 1381، 1382، 2332، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 294،، وأبو داود فى (سننه) برقم: 371، 372، 373، والترمذي فى (جامعه) برقم: 116، 117، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 536، 537، 538، 539، والدارقطني فى (سننه) برقم: 449، 450، 451، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24698» «رقم طبعة با وزير 1378»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (399): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، عبد الله: هو ابن المبارك.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
334. باب النجاسة وتطهيرها - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن سليمان بن يسار لم يسمع هذا الخبر من عائشة
نجاست اور اس کے پاک کرنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ سلیمان بن یسار نے یہ خبر عائشہ رضی اللہ عنہا سے نہیں سنی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1382
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، بِبُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ:" كُنْتُ أَغْسِلُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيخْرُجُ إِلَى الصَّلاةِ، وَإِنَّهُ لِيُرَى أَثَرُ الْبُقَعِ فِي ثَوْبِهِ" ، قَالَ الْحُلْوَانِيُّ فِي حَدِيثِهِ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے جنابت (یعنی منی) کو دھو دیتی تھی، آپ نماز کے لیے تشریف لے جاتے تھے، تو پانی کا نشان آپ کے کپڑے پر موجود ہوتا تھا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کو اس وقت دھوتی تھیں جب وہ تر ہوتی تھی کیونکہ اس صورت میں آدمی کو زیادہ پاکیزگی محسوس ہوتی ہے اور جب وہ خشک ہوتی تھی، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اسے کھرچ دیتی تھیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کپڑے میں نماز ادا کر لیتے تھے۔ ہم بھی اس کے مطابق فتویٰ دیتے ہیں اور ہم اس قول کو اختیار کرتے ہیں کہ جب منی تر ہو گی، ذہن کے اطمینان کے لیے اس کو دھو لیں گے اس وجہ سے نہیں کہ وہ ناپاک ہے اور جب منی خشک ہو تو سنت کی پیروی کرتے ہوئے اسے کھرچنے پر اکتفا کیا جائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1382]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 229، 230، 231، 232، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 288، وابن الجارود فى "المنتقى"، 152، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 287، 288، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1379، 1380، 1381، 1382، 2332، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 294،، وأبو داود فى (سننه) برقم: 371، 372، 373، والترمذي فى (جامعه) برقم: 116، 117، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 536، 537، 538، 539، والدارقطني فى (سننه) برقم: 449، 450، 451، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24698» «رقم طبعة با وزير 1379»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، وهو مكرر ما قبله.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
335. باب النجاسة وتطهيرها - ذكر الخبر الدال على أن فرث ما يؤكل لحمه غير نجس
نجاست اور اس کے پاک کرنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اس جانور کا گوبر جس کا گوشت کھایا جاتا ہے، نجس نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1383
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمْ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلالٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قِيلَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : حَدِّثْنَا مِنْ شَأْنِ الْعُسْرَةِ، قَالَ: خَرَجْنَا إِلَى تَبُوكَ فِي قَيْظٍ شَدِيدٍ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلا، أَصَابَنَا فِيهِ عَطَشٌ، حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّ رِقَابَنَا سَتَنْقَطِعُ، حَتَّى إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَذْهَبُ يَلْتَمِسُ الْمَاءَ، فَلا يَرْجِعُ حَتَّى نَظُنَّ أَنَّ رَقَبَتَهُ سَتَنْقَطِعُ، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَنْحَرُ بَعِيرَهُ فِيعْصِرُ فَرْثَهُ فِيشْرَبُهُ، وَيَجْعَلُ مَا بَقِيَ عَلَى كَبِدِهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ عَوَّدَكَ اللَّهُ فِي الدُّعَاءِ خَيْرًا، فَادْعُ لَنَا، فَقَالَ:" أَتُحِبُّ ذَلِكَ؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " فَرَفَعَ يَدَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يُرْجِعْهُمَا حَتَّى أَظَلَّتْ سَحَابَةٌ، فَسَكَبَتْ، فَمَلئُوا مَا مَعَهُمْ، ثُمَّ ذَهَبْنَا نَنْظُرُ، فَلَمْ نَجِدْهَا جَاوَزَتِ الْعَسْكَرَ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ:" فِي وَضْعِ الْقَوْمِ عَلَى أَكْبَادِهِمْ مَا عَصَرُوا مِنْ فَرْثِ الإِبِلِ وَتَرْكِ أَمْرِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهُمْ بَعْدَ ذَلِكَ بِغَسْلِ مَا أَصَابَ ذَلِكَ مِنْ أَبْدَانِهِمْ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ أَرْوَاثَ مَا يُؤْكَلُ لُحُومُهَا طَاهِرَةٌ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے یہ کہا گیا کہ آپ ہمیں غزوہ تبوک کے بارے میں کچھ بتائیے، تو انہوں نے بتایا کہ ہم شدید گرمی کے موسم میں تبوک کی طرف روانہ ہوئے، ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا، وہاں ہمیں پیاس لاحق ہو گئی یہاں تک کہ ہمیں یوں محسوس ہوا جیسے ہماری گردنیں کٹ جائیں گی (یعنی ہم پیاس کی شدت سے مر جائیں گے)، یہاں تک کہ یہ عالم ہو گیا کہ ایک شخص پانی کی تلاش میں جاتا اور وہ واپس نہ آتا تو ہم یہ گمان کرتے کہ شاید وہ مر گیا ہے، ایک شخص اپنے اونٹ کو قربان کرتا، وہ اس کے گوبر کو نچوڑ کر اسے پیتا تھا اور باقی بچ جانے والے حصے کو اپنے جگر پر رکھ لیتا تھا۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا میں بھلائی رکھی ہے، تو آپ ہمارے لیے دعا کیجئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تم یہ چاہتے ہو؟“ انہوں نے عرض کی: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کر دیے، ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ واپس نہیں آئے تھے کہ بادل نے سایہ کر دیا اور بارش شروع ہو گئی۔ لوگوں نے اپنے پاس موجود سب چیزیں بھر لیں، پھر اس کے بعد ہم نے اس بات کا جائزہ لیا تو لشکر سے آگے کہیں بارش نہیں ہوئی تھی (یعنی صرف لشکر کے اوپر بارش ہوئی تھی)۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) لوگوں کا اونٹ کے گوبر کا نچوڑے ہوئے پانی کو اپنے جگر پر رکھ لینا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان لوگوں کو اپنے جسم پر لگی ہوئی اس چیز کو دھونے کا حکم نہ دینا اس بات کی دلیل ہے کہ جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کا گوبر پاک ہوتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1383]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 101، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1383، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 570، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19702، والبزار فى (مسنده) برقم: 214، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 3292» «رقم طبعة با وزير 1380»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «التعليق على ابن خزيمة» (1/ 22 / 101)، «فقه السيرة» (407 / التحقيق الثاني)، «التعليق على كشف الأستار» (2/ 354 / 1841). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله رجال الشيخين خلا حرملة بن يحيى، فإنه من رجال مسلم فقط.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
336. باب النجاسة وتطهيرها - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن أبوال ما يؤكل لحومها نجسة
نجاست اور اس کے پاک کرنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے، ان کا پیشاب نجس ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1384
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، بِبُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا لَمْ تَجِدُوا إِلا مَرَابِضَ الْغَنَمِ، وَمَعَاطِنَ الإِبِلِ فَصَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، وَلا تُصَلُّوا فِي مَعَاطِنِ الإِبِلِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تمہیں (نماز ادا کرنے کے لیے) صرف بکریوں کا باڑا اور اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ ملے، تو تم بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کر لو، لیکن اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ پر نماز ادا نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1384]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 3444، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 795، 796، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1384، 1700، 1701، 2314، 2317، والترمذي فى (جامعه) برقم: 348، 349، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1431، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 768، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9756، 9960» «رقم طبعة با وزير 1381»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (176)، «المشكاة» (739). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح؛ سويد بن نصر بن سويد المروزي، راوية ابن المبارك، ثقة، أخرج له الترمذي والنسائي، وباقي رجال الإسناد على شرطهما.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
337. باب النجاسة وتطهيرها - ذكر جواز الصلاة للمرء على المواضع التي أصابها أبوال ما يؤكل لحومها وأرواثها
نجاست اور اس کے پاک کرنے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے جائز ہے کہ وہ اس جگہ پر نماز پڑھے جسے اس جانور کا پیشاب یا گوبر لگے جس کا گوشت کھایا جاتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1385
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ" . أَبُو التَّيَّاحِ يَزِيدُ بْنُ حُمَيْدٍ الضُّبَعِيُّ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کر لیا کرتے تھے۔ امام ابوحاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابوتیاح یزید بن حمید ضبعی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1385]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 234، 428، 429، 1868، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 524، 524، 524، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 788، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1385، 2328، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 701، وأبو داود فى (سننه) برقم: 453، والترمذي فى (جامعه) برقم: 350، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 742، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12361» «رقم طبعة با وزير 1382»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
338. باب النجاسة وتطهيرها - ذكر الخبر المصرح بأن أبوال ما يؤكل لحومها غير نجسة
نجاست اور اس کے پاک کرنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو واضح کرتی ہے کہ جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے، ان کا پیشاب نجس نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1386
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمْةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَدِمَ أَعْرَابٌ مِنْ عُرَيْنَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَوَوَا الْمَدِينَةَ، " فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا، فَشَرِبُوا حَتَّى صَحُّوا، فَقَتَلُوا رُعَاتَهَا وَاسْتَاقُوا الإِبِلَ، فَبَعَثَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ، فَأُتِيَ بِهِمْ، فَقَطَعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ" . قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ لأَنَسٍ: وَهُوَ يُحَدِّثُهُ بِكُفْرٍ أَوْ بِذَنْبٍ؟ قَالَ: بِكُفْرٍ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عرینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے کچھ دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ مدینہ منورہ کی آب و ہوا انہیں موافق نہیں آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی کہ ”وہ اونٹوں کا دودھ اور ان کا پیشاب پئیں“، ان لوگوں نے وہ پیا تو وہ صحت مند ہو گئے۔ انہوں نے اونٹوں کے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو ہانک کر لے گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں لوگ روانہ کیے، انہیں پکڑ کر لایا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دیے اور ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروا دیں۔ عبدالملک نامی راوی نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا ان کے کفر کی وجہ سے ایسا کیا گیا تھا یا ان کے گناہ (قتل) کی وجہ سے؟ تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان کے کفر کی وجہ سے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1386]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 233، 1501، 3018، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1671، وابن الجارود فى "المنتقى"، 913، 914، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 115، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1386، 1387، 1388، 4467، 4468، 4469، 4470، 4471، 4472، 4474، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8189، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4364، والترمذي فى (جامعه) برقم: 72، 73، 1845، 2042، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2578، 3503، والدارقطني فى (سننه) برقم: 476، 3263، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12224» «رقم طبعة با وزير 1383»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (177): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح. محمد بن وهب بن أبي كريمة: صدوق أخرج له النسائي، وباقي الإسناد رجاله رجال الصحيح. أبو عبد الرحيم: هو خالد بن أبي يزيد الحراني.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں