🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1174. باب سجود السهو - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم أتم صلاته التي وصفناها بسجدتي السهو بعد السلام
سجدہ سهو کرنے کا بیان - اس بات کا بیان کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے بیان کردہ نماز کو سلام کے بعد سجدہ سہو کے دو سجدوں سے مکمل کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2686
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنَ اثْنَتَيْنِ، فَقَالَ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ: أَقُصِرَتِ الصَّلاةُ أَمْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ؟" فَقَالَ النَّاسُ: نَعَمْ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى اثْنَتَيْنِ أُخْرَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ، فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ كَبَّرَ، فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعات ادا کرنے کے بعد سلام پھیر دیا۔ سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا نماز مختصر ہو گئی ہے؟“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا ذوالیدین ٹھیک کہہ رہا ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: ”جی ہاں“، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی دو رکعات بھی ادا کیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور اپنے عام سجدوں کی مانند یا اس سے کچھ طویل سجدہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کو اٹھایا، پھر تکبیر کہی اور اپنے عام سجدوں کی مانند یا اس سے کچھ طویل سجدہ کیا، پھر اپنے (سر کو) اٹھایا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2686]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 482، 714، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 573، وابن الجارود فى "المنتقى"، 269، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 860، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2249، 2251، 2252، 2253، 2254، 2255، 2256، 2675، 2684، 2685، 2686، 2687، 2688، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1008، والترمذي فى (جامعه) برقم: 394، 399، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1214، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1378، 1379، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5046» «رقم طبعة با وزير 2676»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (924). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1175. باب سجود السهو - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن أبا هريرة لم يشهد هذه الصلاة مع المصطفى صلى الله عليه وسلم
سجدہ سهو کرنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ ابو ہریرہ نے اس نماز کو مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں دیکھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2687
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ضَمْضَمُ بْنُ جَوْسٍ الْهِفَّانِيُّ ، قَالَ لِي أَبُو هُرَيْرَةَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلاتَيِ الْعَشِيِّ، فَلَمْ يُصَلِّ بِنَا إِلا رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: ذُو الْيَدَيْنِ، مِنْ خُزَاعَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقُصِرَتِ الصَّلاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ:" كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا صَلَّيْتَ بِنَا رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟" وَأَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ تُصَلِّ بِنَا إِلا رَكْعَتَيْنِ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ الْبَاقِيَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ .
ضمضم بن جوس ہفانی بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں شام کی ایک نماز پڑھائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صرف دو رکعات پڑھائیں (اور سلام پھیر دیا)، ایک صاحب نے جن کا نام ذوالیدین تھا، جن کا تعلق خزاعہ قبیلے سے تھا، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا نماز مختصر ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دونوں میں سے کچھ بھی نہیں ہوا ہے۔“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے ہمیں دو رکعات پڑھائی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”ذوالیدین کیا کہہ رہا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حاضرین کی طرف متوجہ ہوئے، لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے ہمیں صرف دو رکعات پڑھائی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف رخ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی رہ جانے والی دو رکعات ادا کیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھنے کے دوران دو مرتبہ سجدہ سہو کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2687]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 482، 714، 715، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 573، وابن الجارود فى "المنتقى"، 269، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 860، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2249، 2251، 2252، 2253، 2254، 2255، 2256، 2675، 2684، 2685، 2686، 2687، 2688، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1008، والترمذي فى (جامعه) برقم: 394، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1214، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1378، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5046» «رقم طبعة با وزير 2677»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «صحيح أبي داود» (931). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1176. باب سجود السهو - ذكر خبر ثان يصرح بأن أبا هريرة شاهد هذه الصلاة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم
سجدہ سهو کرنے کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو واضح کرتی ہے کہ ابو ہریرہ نے اس نماز کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دیکھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2688
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلاتَيِ الْعَشِيِّ، إِمَّا قَالَ: الظُّهْرَ، وَإِمَّا قَالَ: الْعَصْرَ، قَالَ: وَأَكْبَرُ ظَنِّي أَنَّهَا الْعَصْرُ، فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، وَتَقَدَّمَ إِلَى خَشَبَةٍ فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ، فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَيْهَا، إِحْدَاهُمَا عَلَى الأُخْرَى، وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ فَجَعَلُوا يَقُولُونَ: قُصِرَتِ الصَّلاةُ، وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا، فَهَابَا أَنْ يَسْأَلا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ: أَقُصِرَتِ الصَّلاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْ نَسِيتَ؟ قَالَ: " مَا قُصِرَتِ الصَّلاةُ، وَلا نَسِيتُ"، قَالَ: بَلْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" أَكَذَلِكَ؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَرَجَعَ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، فَأَطَالَ نَحْوًا مِنْ سُجُودِهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ سَجَدَ الثَّانِيَةَ، فَأَطَالَ نَحْوًا مِنْ سُجُودِهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقِيلَ لِمُحَمَّدٍ: ثُمَّ سَلَّمَ؟ قَالَ: لَمْ أَحْفَظْ ذَلِكَ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأُنْبِئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، قَالَ: ثُمَّ سَلَّمَ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَخْبَارُ ذِي الْيَدَيْنِ مَعْنَاهَا: أَنَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكَلَّمَ فِي صَلاتِهِ عَلَى أَنَّ الصَّلاةَ قَدْ تَمَّتْ لَهُ، وَأَنَّهُ قَدْ أَدَّى فَرْضَهُ الَّذِي عَلَيْهِ، وَذُو الْيَدَيْنِ قَدْ تَوَهَّمَ أَنَّ الصَّلاةَ قَدْ رُدَّتْ إِلَى الْفَرِيضَةِ الأُولَى، فَتَكَلَّمَ عَلَى أَنَّهُ فِي غَيْرِ الصَّلاةِ، وَأَنَّ صَلاتَهُ قَدْ تَمَّتْ، فَلَمَّا اسْتَثْبَتَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ، كَانَ مِنَ اسْتِثْبَاتِهِ عَلَى يَقِينٍ أَنَّهُ قَدْ أَتَمَّ صَلاتَهُ، وَأَمَّا جَوَابُ الصَّحَابَةِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ لَهُ أَنْ: نَعَمْ، فَكَانَ الْوَاجِبُ عَلَيْهِمْ أَنْ يُجِيبُوهُ، وَإِنْ كَانُوا فِي نَفْسِ الصَّلاةِ، لِقَوْلِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ سورة الأنفال آية 24، فَأَمَّا الْيَوْمَ، فَقَدِ انْقَطَعَ الْوَحْيُ، وَأُقِرَّتِ الْفَرَائِضُ، فَإِنْ تَكَلَّمَ الإِمَامُ وَعِنْدَهُ أَنَّ الصَّلاةَ قَدْ تَمَّتْ بَعْدَ السَّلامِ لَمْ تَبْطُلْ صَلاتُهُ، وَإِنْ سَأَلَ الْمَأْمُومِينَ فَأَجَابُوهُ بَطَلَتْ صَلاتُهُمْ، وَإِنْ سَأَلَ بَعْضَ الْمَأْمُومِينَ الإِمَامَ عَنْ ذَلِكَ، بَطَلَتْ صَلاتُهُ لاسْتِحْكَامِ الْفَرَائِضِ، وَانْقِطَاعِ الْوَحْيِ، وَالْعِلَّةُ فِي سَهْوِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلاتِهِ أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُعِثَ مُعَلِّمًا قَوْلا وَفِعْلا، فَكَانَتِ الْحَالُ تَطْرَأُ عَلَيْهِ فِي بَعْضِ الأَحْوَالِ، وَالْقَصْدُ فِيهِ إِعْلامُ الأُمَّةِ مَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ عِنْدَ حُدُوثِ تِلْكَ الْحَالَةِ بِهِمْ بَعْدَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دوپہر کی ایک نماز پڑھائی (راوی کہتے ہیں) شاید انہوں نے ظہر کی نماز کا ذکر کیا تھا یا عصر کا ذکر کیا تھا، لیکن میرا غالب گمان یہ ہے، وہ عصر کی نماز تھی۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعات پڑھائیں اس کے بعد سلام پھیر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں آگے کی طرف رکھی ہوئی لکڑی کی طرف بڑھ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اس پر رکھ دیے ان میں سے ایک ہاتھ دوسرے پر تھا۔ جلد باز لوگ (مسجد سے) باہر نکل گئے وہ یہ کہہ رہے تھے نماز مختصر ہو گئی ہے۔ حاضرین میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے لیکن انہیں اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گزارش کرنے کی جرات نہیں ہوئی، ایک صاحب جن کا نام ذوالیدین رضی اللہ عنہ تھا انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا نماز مختصر ہو گئی ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز مختصر نہیں ہوئی اور میں بھی بھولا نہیں ہوں۔“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا اسی طرح ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعات پڑھائیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا پھر دو مرتبہ سجدہ سہو کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عام سجدوں جتنا طویل تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری مرتبہ سجدہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عام سجدوں جتنا طویل سجدہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا۔ محمد بن سیرین رحمہ اللہ نامی راوی سے دریافت کیا گیا: روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا، تو انہوں نے بتایا: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مجھے یہ الفاظ یاد نہیں ہیں، البتہ مجھے یہ بات بتائی گئی ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ کی اطلاع کا مطلب یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے دوران کلام کیا تھا، اس بنیاد پر کہ ان کی نماز مکمل ہو چکی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ فرض ادا کر لیا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے لازم تھا۔ سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ یہ سمجھے کہ شاید نماز اپنے پہلے والے فرض کی طرف لوٹا دی گئی ہے، انہوں نے اس صورت میں کلام کر دیا کہ وہ نماز کی حالت میں نہیں ہیں اور نماز مکمل ہو چکی ہے۔ لیکن جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے تصدیق چاہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا یقین ہو گیا تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز کو مکمل کر لیا۔ جہاں تک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دینے کا تعلق ہے کہ انہوں نے جی ہاں کہا: تو اب ان لوگوں پر یہ بات لازم تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیتے اگرچہ وہ نماز ادا کر رہے ہوتے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ﴾ [سورة الأنفال: 24] ”اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر جواب دو جب وہ تمہیں بلائیں تاکہ یہ چیز تم کو زندگی دے۔“ جہاں تک آج کے دن کا تعلق ہے، تو اب وحی کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے اور فرض برقرار ہو چکے ہیں۔ تو جب امام کلام کرے اور اس کا خیال یہ ہو کہ سلام پھیرنے کے بعد اس کی نماز مکمل ہو چکی ہے تو اس کی نماز باطل نہیں ہو گی۔ لیکن اگر وہ مقتدیوں سے سوال کرتا ہے اور مقتدی اس کو جواب دیتے ہیں، تو ان لوگوں کی نماز باطل ہو جائے گی اور اگر امام نے بعض مقتدیوں سے اس بارے میں دریافت کیا، تو امام کی نماز بھی باطل ہو جائے گی، کیونکہ اب فرائض مستحکم ہو چکے ہیں اور وحی کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز کے دوران سہو لاحق ہونے میں علت یہ تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تعلیم دینے والا بنا کر بھیجا گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قولی طور پر بھی اور عملی طور پر بھی تعلیم دیتے تھے۔ تو بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسی کیفیت طاری ہو جاتی تھی، جس کا مقصد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو اطلاع دینا ہوتا تھا کہ اس طرح کی صورتحال درپیش ہونے پر ان پر کیا چیز لازم ہو گی؟ یعنی وہ صورت حال جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان کو پیش آئے گی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2688]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 482، 714، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 573، وابن الجارود فى "المنتقى"، 269، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 860، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2249، 2251، 2252، 2253، 2254، 2255، 2256، 2675، 2684، 2685، 2686، 2687، 2688، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1008، والترمذي فى (جامعه) برقم: 394، 399، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1214، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1378، 1379، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5046» «رقم طبعة با وزير 2678»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر (2665). تنبيه!! رقم (2665) = (2675) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1177. ذكر تسمية المصطفى صلى الله عليه وسلم سجدتي السهو المرغمتين
اس بات کا ذکر کہ نبی مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو سجدوں (سجدۂ سہو) کو «سجدتان مرغمتان» (شیطان کو ذلیل کرنے والے دو سجدے) کا نام دیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2689
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمَّى سَجْدَتَيِ السَّهْوِ الْمُرْغِمَتَيْنِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سہو کے دو سجدوں کو ”(شیطان کو) رسوا کرنے والی دو چیزوں“ کا نام دیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2689]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1063، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2655، 2689، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 968، 1213، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1025، والطبراني فى(الكبير) برقم: 12050» «رقم طبعة با وزير 2645»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» تحت الحديث (940). تنبيه!! هذا الحديث لم يرد في «طبعة باوزير» في هذا الموضع وإنما ورد فيها برقم (2645) فقط وأما في «طبعة المؤسسة» ورد في هذا الموضع وورد أيضا برقم (2655). وهو مكرر ولا فرق بينهما. - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1178. باب المسافر
سفر کے دوران نماز کے احکام کا بیان -
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2690
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ الْقُرَشِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ زَبْرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُسْلِمَ بْنَ مِشْكَمٍ أَبَا عُبَيْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا أَبُو ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيُّ ، قَالَ: كَانَ النَّاسُ إِذَا نَزَلُوا مَنْزِلا تَفَرَّقُوا فِي الشِّعَابِ وَالأَوْدِيَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ تَفَرُّقَكُمْ فِي هَذِهِ الشِّعَابِ وَالأَوْدِيَةِ إِنَّمَا ذَلِكُمْ مِنَ الشَّيْطَانِ" ، قَالَ: فَلَمْ يَنْزِلُوا بَعْدُ مَنْزِلا إِلا انْضَمَّ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ حَتَّى لَوْ بُسِطَ عَلَيْهِمْ ثَوْبٌ لَعَمَّهُمْ.
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ لوگ جب کسی جگہ پڑاؤ کرتے تھے، تو وہ گھاٹیوں اور نشیبی علاقوں میں مختلف جگہ بکھر جاتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارا اس طرح گھاٹیوں اور نشیبی علاقوں میں بکھر جانا شیطان کی طرف سے ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد لوگ جب بھی کسی جگہ پڑاؤ کرتے تھے، تو وہ ایک جگہ یوں اکٹھے رہتے تھے کہ اگر ان پر کوئی کپڑا بچھایا جائے، تو وہ ان سب پر آ جائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2690]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2690، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2555، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8805، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2628، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18525، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18013، والطبراني فى(الكبير) برقم: 586» «رقم طبعة با وزير 2679»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2363)، «الجلباب» (ص 209). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1179. باب المسافر - ذكر الخبر المدحض قول من نفى جواز التزود للأسفار
سفر کے دوران نماز کے احکام کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ سفر کے لیے زاد راہ لینا جائز نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2691
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانُوا يَحُجُّونَ وَلا يَتَزَوَّدُونَ"، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى سورة البقرة آية 197 .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ پہلے لوگ حج پر جاتے تھے تو زادِ راہ ساتھ لے کر نہیں جاتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَىٰ﴾ [سورة البقرة: 197] ”اور تم زادِ راہ بھی ساتھ رکھو، بے شک سب سے بہتر زادِ راہ پرہیزگاری ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2691]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1523، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2691، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8739، 10966، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1730، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8742» «رقم طبعة با وزير 2680»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1180. باب المسافر - ذكر ما يدعو المرء به لأخيه إذا عزم على سفر يريد الخروج فيه
سفر کے دوران نماز کے احکام کا بیان - اس دعا کا ذکر جو آدمی اپنے بھائی کے لیے کرتا ہے جب وہ سفر کے ارادے سے نکلنے کا عزم کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2692
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَّ سَعِيدًا الْمَقْبُرِيَّ ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلا جَاءَهُ وَهُوَ يُرِيدُ سَفَرًا، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ"، حَتَّى إِذَا أَدْبَرَ الرَّجُلُ قَالَ:" اللَّهُمَّ ازْوِ لَهُ الأَرْضَ، وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ سفر پر جانا چاہتا تھا، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے کی اور ہر بلندی پر چڑھتے ہوئے «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہنے کی تلقین کرتا ہوں۔“ راوی کہتے ہیں کہ جب وہ شخص چلا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: «اللَّهُمَّ اطْوِ لَهُ الْأَرْضَ، وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ» ”اے اللہ! اس کے لیے زمین کو لپیٹ دے اور اس کے لیے سفر کو آسان کر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2692]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2561، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2692، 2702، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1639، 2495، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10266، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3445، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2771، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10422، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8426» «رقم طبعة با وزير 2681»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - «الصحيحة» (1730). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1181. باب المسافر - ذكر ما يقول المرء لأخيه عند الوداع فيحفظه الله في سفره
سفر کے دوران نماز کے احکام کا بیان - اس بات کا ذکر جو آدمی اپنے بھائی سے رخصتی کے وقت کہتا ہے تاکہ اللہ اسے اس کے سفر میں محفوظ رکھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2693
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدَّغَوْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الرَّازِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَائِذٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُطْعِمُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: خَرَجْتُ إِلَى الْعِرَاقِ أَنَا وَرَجُلٌ مَعِي، فَشَيَّعَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يُفَارِقَنَا، قَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ مَعِي شَيْءٌ أُعْطِيكُمَا، وَلَكِنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا اسْتَوْدَعَ اللَّهُ شَيْئًا حَفِظَهُ، وَإِنِّي أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكُمَا وَأَمَانَتَكُمَا، وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكُمَا" .
مجاہد بیان کرتے ہیں: میں عراق کے لیے روانہ ہونے لگا تھا اور میرے ساتھ ایک اور شخص تھا، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمیں رخصت کرنے کے لیے ہمارے ساتھ آئے، جب وہ ہم سے جدا ہونے لگے تو انہوں نے فرمایا: میرے پاس ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو میں تمہیں دوں، لیکن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات فرماتے ہوئے سنا ہے: «إِنَّ اللَّهَ إِذَا اسْتُودِعَ شَيْئًا حَفِظَهُ» ”جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کو کوئی چیز ودیعت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کرتا ہے،“ تو میں «أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكُمْ وَأَمَانَتَكُمْ وَخَوَاتِيمَ أَعْمَالِكُمْ» ”تمہارے دین، تمہاری امانت اور تم دونوں کے عمل کے خاتمے کو اللہ تعالیٰ کو ودیعت کرتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2693]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2531، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2693، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1623، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8754، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2600، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3442، 3443، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2826، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10420،وأحمد فى (مسنده) برقم: 4612، 4873» «رقم طبعة با وزير 2682»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (14). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1182. باب المسافر - ذكر الأمر بالتسمية لمن أراد ركوب الإبل لينفر الشياطين عن ظهورها بها
سفر کے دوران نماز کے احکام کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ اونٹوں پر سوار ہونے والے کے لیے تسمیہ پڑھنا تاکہ اس سے شیاطین ان کے پچھلے حصوں سے دور ہوں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2694
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الأَسْلَمِيَّ ، حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ حَمْزَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَى ظَهْرِ كُلِّ بَعِيرٍ شَيْطَانٌ، فَإِذَا رَكِبْتُمُوهَا فَسَمُّوا اللَّهَ، وَلا تَقْصُرُوا عَنْ حَاجَاتِكُمْ" .
سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ہر اونٹ کی پشت پر شیطان ہوتا ہے، جب تم اس پر سوار ہو، تو اللہ کا نام لو اور اپنی حاجت کے حوالے سے کوئی کوتاہی نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2694]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2546، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1703، 2694، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1632، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2709، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16285، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 30341» «رقم طبعة با وزير 2683»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - مضى (1700). تنبيه!! رقم (1700) = (1703) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1183. باب المسافر - ذكر ما يقول الرجل عند الركوب لسفر يريد الخروج فيه
سفر کے دوران نماز کے احکام کا بیان - اس بات کا ذکر جو آدمی کہتا ہے جب وہ سفر کے لیے سوار ہوتا ہے اور نکلنا چاہتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2695
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَارِقِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَافَرَ فَرَكِبَ رَاحِلَتَهُ كَبَّرَ ثَلاثًا، ثُمَّ قَالَ: سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ سورة الزخرف آية 13، يَقْرَأُ الآيَتَيْنِ، ثُمَّ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِي سَفَرِي هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ، وَاطْوِ لَنَا الأَرْضَ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الأَهْلِ، اللَّهُمَّ اصْحَبْنَا فِي سَفَرِنَا فَاخْلُفْنَا فِي أَهْلِنَا"، وَكَانَ إِذَا رَجَعَ قَالَ:" آيِبُونَ تَائِبُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر روانہ ہونے کے وقت جب اپنی سواری پر سوار ہوتے تو تین مرتبہ تکبیر «اللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ» کہتے تھے، پھر یہ پڑھتے تھے: ﴿سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ﴾ [سورة الزخرف: 13] ”پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لیے اس (سواری کو) مسخر کر دیا ورنہ ہم اس پر قابو پانے والے نہیں تھے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو آیات تلاوت کرتے تھے اور پھر یہ کہتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا، وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ اصْحَبْنَا فِي سَفَرِنَا وَاخْلُفْنَا فِي أَهْلِنَا» ”اے اللہ! میں اپنے اس سفر کے دوران نیکی اور پرہیزگاری کا تجھ سے سوال کرتا ہوں اور ایسے عمل کا بھی جس سے تو راضی ہو جائے۔ اے اللہ! ہمارے لیے سفر کو آسان کر دے اور ہمارے لیے زمین کو لپیٹ دے۔ اے اللہ! تو ہی سفر میں ساتھی ہے اور (ہماری غیر موجودگی میں) گھر والوں کا نگران ہے۔ اے اللہ! تو ہمارے اس سفر میں ہمارے ساتھ رہنا اور ہمارے گھر والوں کا بھی خیال رکھنا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب واپس آتے تھے، تو یہ کہتے تھے: «آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ» ”ہم رجوع کرنے والے ہیں اور توبہ کرنے والے ہیں اور اپنے پروردگار کی حمد بیان کرنے والے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2695]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1797، 2995، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1342، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2542، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2695، 2696، 2707، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3022، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2599، 2770، والترمذي فى (جامعه) برقم: 950، 3447، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4583» «رقم طبعة با وزير 2684»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2339): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں