صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1156. باب سجود السهو - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم فليقل كذبت أراد به في نفسه لا بلسانه
سجدہ سهو کرنے کا بیان - اس بات کا بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "وہ کہے کہ میں نے جھوٹ بولا" سے مراد دل میں کہنا ہے، نہ کہ زبان سے
حدیث نمبر: 2666
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، بِبُسْتَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ هِلالٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الشَّيْطَانُ فَقَالَ: إِنَّكَ قَدْ أَحْدَثْتَ، فَلْيَقُلْ فِي نَفْسِهِ: كَذَبْتَ، حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا بِأُذُنِهِ، أَوْ يَجِدَ رِيحًا بِأَنْفِهِ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب شیطان تم میں سے کسی ایک کے پاس آئے اور یہ کہے: تم بے وضو ہو گئے ہو، تو اسے اپنے ذہن میں یہ کہنا چاہیے: تم جھوٹ کہہ رہے ہو، جب تک آدمی اپنے کان کے ذریعے (ہوا خارج ہونے کی) آواز نہیں سنتا یا اپنی ناک کے ذریعے اس کی بو کو محسوس نہیں کرتا (اس وقت تک اسے دوبارہ وضو نہیں کرنا چاہیے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2666]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 571، وابن الجارود فى "المنتقى"، 267، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 29، 1025، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2663، 2664، 2665، 2666، 2667، 2669، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 463، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1024، 1026، والترمذي فى (جامعه) برقم: 396، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 514، 1204، 1210، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1396، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11241» «رقم طبعة با وزير 2656»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله ثقات رجال الشيخين غير عياض بن هلال وهو مجهول
1157. باب سجود السهو - ذكر البيان بأن الباني على الأقل إذا شك في صلاته عليه أن يسجد سجدتي السهو قبل الصلاة لا بعد
سجدہ سهو کرنے کا بیان - اس بات کا بیان کہ جو شخص اپنی نماز میں کم پر عمل کرے اور شک کرے، اسے نماز سے پہلے سجدہ سہو کے دو سجدے کرنے چاہئیں، نہ کہ بعد میں
حدیث نمبر: 2667
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاتِهِ فَلْيُلْقِ الشَّكَّ، وَلْيَبْنِ عَلَى الْيَقِينِ، فَإِنِ اسْتَيْقَنَ التَّمَامَ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، فَإِنْ كَانَتْ صَلاتُهُ تَامَّةً كَانَتِ الرَّكْعَةُ نَافِلَةً، وَالسَّجْدَتَانِ نَافِلَةً، وَإِنْ كَانَتْ نَاقِصَةً كَانَتِ الرَّكْعَةُ تَمَامًا بِصَلاتِهِ، وَالسَّجْدَتَانِ تُرْغِمَانِ أَنْفَ الشَّيْطَانِ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کسی شخص کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو جائے، تو وہ شک کو ایک طرف رکھے اور یقین پر بنیاد قائم کرے، جب اسے نماز مکمل ہونے کا یقین ہو جائے، تو دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے۔ اگر اس کی نماز مکمل ہوگی، تو وہ ایک رکعت نفل ہوگی اور دو سجدے بھی نفل ہوں گے، اور اگر اس کی نماز ناقص تھی، تو وہ رکعت اس کی نماز کو مکمل کر دے گی اور دو سجدے شیطان کی ناک کو خاک آلود کر دیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2667]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 571، وابن الجارود فى "المنتقى"، 267، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 29، 1025، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2663، 2664، 2665، 2666، 2667، 2669، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 463، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1024، 1026، والترمذي فى (جامعه) برقم: 396، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 514، 1204، 1210، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1396، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11241» «رقم طبعة با وزير 2657»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - انظر (2654). تنبيه!! رقم (2654) = (2664) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي على شرط مسلم
1158. باب سجود السهو - ذكر الخبر المصرح بصحة ما قلنا إن الباني على الأقل في صلاته يجب أن يسجد سجدتي السهو قبل السلام لا بعد
سجدہ سهو کرنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو ہمارے کہے کی صحت کو واضح کرتی ہے کہ جو شخص اپنی نماز میں کم پر عمل کرے، اسے سلام سے پہلے سجدہ سہو کے دو سجدے کرنے چاہئیں، نہ کہ بعد میں
حدیث نمبر: 2668
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَمْ يَدْرِ ثَلاثًا صَلَّى أَمْ أَرْبَعًا، فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً، وَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ السَّلامِ، فَإِنْ كَانَتْ رَابِعَةً فَالسَّجْدَتَانِ تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ، وَإِنْ كَانَتْ خَامِسَةً شَفَعَتْهَا السَّجْدَتَانِ" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: وَهِمَ فِي هَذَا الإِسْنَادِ الدَّرَاوَرْدِيُّ حَيْثُ قَالَ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَإِنَّمَا هُوَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَكَانَ إِسْحَاقُ يُحَدِّثُ مِنْ حِفْظِهِ كَثِيرًا، فَلَعَلَّهُ مِنْ وَهْمِهِ أَيْضًا.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص نماز ادا کرے اور اسے یہ پتا نہ چل سکے اس نے تین رکعات ادا کی ہیں، یا چار ادا کی ہیں، تو اسے ایک رکعت ادا کرنی چاہیے اور سلام پھیرنے سے پہلے دو مرتبہ سجدہ سہو کر لینا چاہیے، اگر وہ چوتھی رکعت ہو گی تو دو سجدے شیطان کو رسوا کر دیں گے اور اگر وہ پانچویں رکعت ہو گی تو دو سجدے اسے جفت بنا دیں گے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) دراوردی نامی راوی کو اس کی سند میں وہم ہوا ہے۔ انہوں نے یہ کہا ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول ہے، حالانکہ یہ روایت سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے۔ سعد بن ابراہیم نامی راوی چونکہ اکثر اپنے حافظے کے حوالے سے احادیث بیان کیا کرتے تھے تو ہو سکتا ہے کہ یہ ان کو وہم ہوا ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2668]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2668، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 587، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1401، والبزار فى (مسنده) برقم: 5285» «رقم طبعة با وزير 2658»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م - انظر (2653). تنبيه!! رقم (2653) = (2663) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
1159. باب سجود السهو - ذكر البيان بأن الباني على الأقل من صلاته إذا شك فيها أن يحسن ركوع تلك الركعة وسجودها
سجدہ سهو کرنے کا بیان - اس بات کا بیان کہ جو شخص اپنی نماز میں کم پر عمل کرے اور شک کرے، اسے اس رکعت کا رکوع اور سجدہ اچھی طرح کرنا چاہیے
حدیث نمبر: 2669
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ، فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى ثَلاثًا أَوْ أَرْبَعًا، فَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً يُتِمُّ رُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا، ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَإِنْ كَانَ قَدْ صَلَّى خَمْسًا، شَفَعَ بِالسَّجْدَتَيْنِ، وَإِنْ كَانَ قَدْ صَلَّى أَرْبَعًا كَانَتِ السَّجْدَتَانِ تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: خَبَرُ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، مِمَّا قَدْ يُوهِمُ عَالِمًا مِنَ النَّاسِ أَنَّ التَّحَرِّيَ فِي الصَّلاةِ وَالْبِنَاءَ عَلَى الْيَقِينِ وَاحِدٌ، وَحُكْمَاهُمَا مُخْتَلِفَانِ، لأَنَّ فِي خَبَرِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي ذِكْرِ التَّحَرِّي أَمَرَ بِسَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلامِ، وَفِي خَبَرِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي الْبِنَاءِ عَلَى الْيَقِينِ: أَمَرَ بِسَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَبْلَ السَّلامِ، وَالْفَصْلُ بَيْنَ التَّحَرِّي وَالْبِنَاءِ عَلَى الْيَقِينِ: أَنَّ الْبِنَاءَ عَلَى الْيَقِينِ هُوَ أَنْ يَشُكَّ الْمَرْءُ فِي صَلاتِهِ، فَلا يَدْرِي ثَلاثًا صَلَّى أَمْ أَرْبَعًا، فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ فَلْيَبْنِ عَلَى مَا اسْتَيْقَنَ وَهُوَ الثَّلاثُ، وَيُتِمَّ صَلاتَهُ، وَيَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَبْلَ السَّلامِ، وَأَمَّا التَّحَرِّي: فَهُوَ أَنْ يَدْخُلَ الْمَرْءُ فِي صَلاتِهِ، ثُمَّ اشْتَغَلَ بِقَلْبِهِ بِبَعْضِ أَسْبَابِ الدِّينِ أَوِ الدُّنْيَا حَتَّى مَا يَدْرِي أَيَّ شَيْءٍ صَلَّى أَصْلا، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ تَحَرَّى عَلَى الأَغْلَبِ عِنْدَهُ، وَيَبْنِي عَلَى مَا صَحَّ لَهُ مِنَ التَّحَرِّي مِنْ صَلاتِهِ، وَيُتِمُّهَا، وَيَسْجُدُ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلامِ حَتَّى يَكُونَ مُسْتَعْمِلا لِلْخَبَرَيْنِ مَعًا.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کسی شخص کو شک ہو جائے اور اسے یہ پتہ نہ چلے کہ اس نے تین رکعات ادا کی ہیں یا چار، تو اسے اٹھ کر ایک رکعت ادا کرنی چاہیے، اس میں رکوع اور سجدے کو مکمل ادا کرے، پھر جب وہ بیٹھا ہوا ہو تو دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے، اگر اس نے پانچ رکعات ادا کی تھیں تو دو سجدے انہیں جفت بنا دیں گے اور اگر وہ چار رکعات ادا کر چکا تھا تو یہ دو سجدے شیطان کو رسوا کر دیں گے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول روایت وہ روایت ہے جس نے عالم شخص کو اس غلط فہمی کا شکار کیا کہ نماز کے دوران تحری کرنا اور یقین پر بنا قائم کرنا ایک ہی چیز ہے، حالانکہ ان دونوں کا حکم مختلف ہے؛ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول روایت میں تحری کا حکم ہے جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرنے کے بعد دو مرتبہ سجدہ سہو کرنے کا حکم دیا ہے، جبکہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں یقین پر بنا قائم کرنے کا حکم ہے جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرنے سے پہلے سجدہ سہو کرنے کا حکم دیا ہے، تو تحری کرنے اور یقین پر بنا قائم کرنے کے درمیان فرق ہے، کیونکہ یقین پر بنا قائم کرنے سے مراد یہ ہے کہ جس شخص کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو جائے اور اس کو یہ پتہ نہ چل سکے کہ اس نے تین رکعات ادا کی ہیں یا چار؟ جب اس طرح کی صورت حال درپیش ہو، پھر وہ اس چیز پر بنا قائم کرے گا جس کا اس کو یقین ہو اور وہ تین رکعات ہوں، پھر وہ اپنی نماز کو مکمل کرے، پھر سلام پھیرنے سے پہلے دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے گا، جہاں تک تحری کا تعلق ہے، تو اس کی صورت یہ ہے کہ آدمی نماز شروع کرتا ہے، پھر اس کا ذہن کسی دنیاوی یا دینی معاملے میں مشغول ہو جاتا ہے یہاں تک کہ اسے یہ پتہ نہیں چل پاتا کہ اس نے کتنی نماز ادا کی ہے؟ جب اس طرح کی صورت حال درپیش ہو، تو وہ غالب گمان کے مطابق تحری کر لے گا اور تحری کے نتیجے میں جو چیز اس کے لیے ثابت ہو گی اس پر بنا قائم کرے اور پھر اپنی نماز کو مکمل کر کے سلام پھیرنے کے بعد دو مرتبہ سجدہ سہو کرے گا، اس صورت میں ان دونوں روایات پر ایک ساتھ عمل ہو جائے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2669]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 571، وابن الجارود فى "المنتقى"، 267، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 29، 1025، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2663، 2664، 2665، 2666، 2667، 2669، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 463، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1024، 1026، والترمذي فى (جامعه) برقم: 396، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 514، 1204، 1210، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1396، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11241» «رقم طبعة با وزير 2659»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
1160. باب سجود السهو - ذكر البيان بأن الساجد سجدتي السهو بعد السلام عليه أن يتشهد ثم يسلم ثانيا
سجدہ سهو کرنے کا بیان - اس بات کا بیان کہ جو شخص سلام کے بعد سجدہ سہو کے دو سجدے کرے، اسے ان کے بعد تشہد پڑھنا چاہیے پھر دوبارہ سلام کرنا چاہیے
حدیث نمبر: 2670
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْكَبِيرِ بْنُ عُمَرَ الْخَطَّابِيُّ ، بِالْبَصْرَةِ، أَبُو سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَوَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، ثُمَّ تَشَهَّدَ وَسَلَّمَ" ، تَفَرَّدَ بِهِ الأَنْصَارِيُّ، مَا رَوَى ابْنُ سِيرِينَ، عَنْ خَالِدٍ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ، وَخَالِدٌ تِلْمِيذُهُ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو نماز پڑھائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ سجدہ سہو کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تشہد پڑھا اور سلام پھیر دیا۔ اس روایت کو نقل کرنے میں انصاری نامی راوی منفرد ہے، ابن سیرین رحمہ اللہ نے خالد کے حوالے سے اس حدیث کے علاوہ اور کوئی روایت نقل نہیں کی ہے، ویسے خالد ان کے شاگرد ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2670]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 574، وابن الجارود فى "المنتقى"، 271، 273، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1054، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2654، 2670، 2671، 2672، 2673، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1211، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1018، 1039، والترمذي فى (جامعه) برقم: 395، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1215، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20142» «رقم طبعة با وزير 2660»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني شاذ بذكر التشهد - «ضعيف أبي داود» (193)، «الإرواء» (403). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي
حدیث نمبر: 2671
أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالا: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَّمَ فِي ثَلاثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ، فَقَالَ لَهُ الْخِرْبَاقُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَسِيتَ أَمْ قُصِرَتِ الصَّلاةُ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَصَدَقَ الْخِرْبَاقُ؟" فَقَالُوا: نَعَمْ، فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَةً، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز میں تین رکعات پڑھنے کے بعد سلام پھیر دیا، تو سیدنا خرباق رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ بھول گئے ہیں؟ یا پھر نماز مختصر ہو گئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا خرباق ٹھیک کہہ رہا ہے؟“ انہوں نے عرض کی: جی ہاں! آپ کھڑے ہوئے، آپ نے ایک رکعت ادا کی، آپ نے دو مرتبہ سجدہ سہو کیا، پھر سلام پھیر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2671]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 574، وابن الجارود فى "المنتقى"، 271، 273، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1054، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2654، 2670، 2671، 2672، 2673، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1211، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1018، 1039، والترمذي فى (جامعه) برقم: 395، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1215، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20142» «رقم طبعة با وزير 2661»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (933): م. تنبيه!! هذا الحديث لم يرد في «طبعة باوزير» إلا في هذا الموضع بينما في «طبعة المؤسسة» ورد في هذا الموضع وورد أيضا برقم (2654). وهو مكرر ولا فرق بينهما. - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
1161. باب سجود السهو - ذكر البيان بأن المرء إذا سجد سجدتي السهو في الحال التي وصفناها بعد السلام عليه أن يتشهد بعدها ثم يسلم
سجدہ سهو کرنے کا بیان - اس بات کا بیان کہ اگر آدمی ہمارے بیان کردہ حالت میں سلام کے بعد سجدہ سہو کے دو سجدے کرے، تو اسے ان کے بعد تشہد پڑھنا چاہیے پھر سلام کرنا چاہیے
حدیث نمبر: 2672
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْكَبِيرِ بْنُ عُمَرَ الْخَطَّابِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَوَابٍ الْحُصْرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، ثُمَّ تَشَهَّدَ وَسَلَّمَ" .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھاتے ہوئے دو مرتبہ سجدہ سہو کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تشہد پڑھا پھر سلام پھیر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2672]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 574، وابن الجارود فى "المنتقى"، 271، 273، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1054، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2654، 2670، 2671، 2672، 2673، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1211، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1018، 1039، والترمذي فى (جامعه) برقم: 395، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1215، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20142» «رقم طبعة با وزير 2662»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني شاذ - انظر (2660). تنبيه!! رقم (2660) = (2670) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي
1162. باب سجود السهو - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن سجدتي السهو يجب أن تكونا في كل الأحوال قبل السلام
سجدہ سهو کرنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ سجدہ سہو کے دو سجدے ہر حال میں سلام سے پہلے کرنے چاہئیں
حدیث نمبر: 2673
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ خَتَنُ الْمُقْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلاةَ الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ ثَلاثَ رَكَعَاتٍ، فَقِيلَ لَهُ، فَقَالَ:" أَكَذَلِكَ؟" قَالُوا: نَعَمْ، فَصَلَّى رَكْعَةً، ثُمَّ تَشَهَّدَ وَسَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، ثُمَّ سَلَّمَ .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز میں تین رکعات پڑھائیں (اور سلام پھیر دیا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس بارے میں گزارش کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا اسی طرح سے؟“ لوگوں نے عرض کی: ”جی ہاں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت پڑھی پھر تشہد پڑھا اور سلام پھیر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ سجدہ سہو کیا، پھر سلام پھیرا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2673]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 574، وابن الجارود فى "المنتقى"، 271، 273، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1054، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2654، 2670، 2671، 2672، 2673، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1211، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1018، 1039، والترمذي فى (جامعه) برقم: 395، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1215، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20142» «رقم طبعة با وزير 2663»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (933)، «الإرواء» (2/ 126 / 400): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
1163. باب سجود السهو - ذكر خبر قد يوهم من لم يحكم صناعة الحديث أنه مضاد لخبر عمران بن حصين الذي ذكرناه
سجدہ سهو کرنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو حدیث کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتا ہے کہ یہ عمران بن حصین کی خبر سے متعارض ہے جو ہم نے بیان کی
حدیث نمبر: 2674
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ ، يُحَدِّثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ ، قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ، فَسَهَا، فَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ"، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ سَهَوْتَ فَسَلَّمْتَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ، " فَأَمَرَ بِلالا، فَأَقَامَ الصَّلاةَ، ثُمَّ أَتَمَّ تِلْكَ الرَّكْعَةَ" ، وَسَأَلْتُ النَّاسَ عَنِ الرَّجُلِ الَّذِي قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ سَهَوْتَ، فَقِيلَ لِي: تَعْرِفُهُ؟ فَقُلْتُ: لا، إِلا أَنْ أُرَاهُ، وَمَرَّ بِي رَجُلٌ، فَقُلْتُ: هُوَ هَذَا، فَقَالُوا: هَذَا طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ.
سیدنا معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں مغرب کی نماز ادا کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سہو ہوا اور آپ نے دو رکعات ادا کرنے کے بعد سلام پھیر دیا۔ جب آپ نے نماز مکمل کی تو ایک صاحب نے آپ کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو سہو ہو گیا ہے، آپ نے دو رکعات پڑھنے کے بعد سلام پھیر دیا ہے، تو آپ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے نماز کے لیے اقامت کہی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ایک رکعت کو مکمل کیا۔ میں نے لوگوں سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا جس نے یہ عرض کی تھی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو سہو ہو گیا ہے۔ مجھ سے دریافت کیا گیا: کیا آپ اسے جانتے ہیں؟ میں نے جواب دیا: جی نہیں، البتہ اگر میں انہیں (دیکھوں گا، تو پہچان جاؤں گا)، پھر ایک صاحب میرے پاس سے گزرے تو میں نے بتایا: یہ وہ صاحب ہیں، انہوں نے بتایا: یہ سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2674]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1052، 1053، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2674، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 966، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1023، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3984، 3985، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27895» «رقم طبعة با وزير 2664»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (938). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي
1164. باب سجود السهو - ذكر خبر ثالث قد يوهم غير المتبحر في صناعة العلم أنه مضاد لخبر عمران بن حصين وخبر معاوية بن حديج اللذين ذكرناهما قبل
سجدہ سهو کرنے کا بیان - تیسری خبر کا ذکر جو علم کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتا ہے کہ یہ عمران بن حصین اور معاویہ بن حدیج کی خبروں سے متعارض ہے جو ہم نے پہلے بیان کیں
حدیث نمبر: 2675
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلاتَيِ الْعَشِيِّ، وَأَظُنُّ أَنَّهَا الظُّهْرُ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ إِلَى خَشَبَةٍ فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَيْهَا، إِحْدَاهُمَا عَلَى الأُخْرَى، وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ، وَقَالُوا: قُصِرَتِ الصَّلاةُ، وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا، فَهَابَا أَنْ يُكَلِّمَاهُ، قَالَ: وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ إِمَّا قَصِيرُ الْيَدَيْنِ، وَإِمَّا طَوِيلُهُمَا، يُقَالُ لَهُ: ذُو الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: أَقُصِرَتِ الصَّلاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمْ تُقْصَرِ الصَّلاةُ وَلَمْ أَنَسَ"، فَقَالَ: بَلْ نَسِيتَ، فَقَالَ:" أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ؟" فَقَالُوا: نَعَمْ، فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ، وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ ، قَالَ: وَنُبِّئْتُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّهُ قَالَ:" ثُمَّ سَلَّمَ"، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذِهِ الأَخْبَارُ الثَّلاثَةُ قَدْ تُوهِمُ غَيْرَ الْمُتَبَحِّرِ فِي صِنَاعَةِ الْعِلْمِ أَنَّهَا مُتَضَادَّةٌ، لأَنَّ فِي خَبَرِ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ ذَا الْيَدَيْنِ: هُوَ الَّذِي أَعْلَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ، وَفِي خَبَرِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ الْخِرْبَاقَ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ، وَفِي خَبَرِ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ، أَنَّ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ لَهُ ذَلِكَ، وَلَيْسَ بَيْنَ هَذِهِ الأَحَادِيثِ تَضَادٌّ وَلا تَهَاتُرٌ، وَذَلِكَ أَنَّ خَبَرَ ذِي الْيَدَيْنِ: سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ مِنْ صَلاةِ الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ، وَخَبَرَ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: أَنَّهُ سَلَّمَ مِنَ الرَّكْعَةِ الثَّالِثَةِ مِنْ صَلاةِ الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ، وَخَبَرَ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ: أَنَّهُ سَلَّمَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ مِنْ صَلاةِ الْمَغْرِبِ، فَدَلَّ مِمَّا وَصَفْنَا عَلَى أَنَّهَا ثَلاثَةُ أَحْوَالٍ مُتَبَايِنَةٍ فِي ثَلاثِ صَلَوَاتٍ لا فِي صَلاةٍ وَاحِدَةٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دوپہر کی نمازوں میں سے کوئی ایک نماز پڑھائی، میرا خیال ہے وہ ظہر کی نماز تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں دو رکعات پڑھائیں (اور پھر سلام پھیر دیا)، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں قبلہ کی سمت رکھی ہوئی لکڑی کے پاس آ کر کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اس پر رکھ دیے، ان دونوں میں سے ایک ہاتھ دوسرے پر تھا۔ جلد باز لوگ (مسجد) سے باہر چلے گئے، وہ یہ کہہ رہے تھے: نماز مختصر ہو گئی ہے۔ حاضرین میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما موجود تھے لیکن انہوں نے رعب کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارش نہیں کی۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ حاضرین میں سے ایک صاحب تھے جن کے ہاتھ شاید چھوٹے تھے یا شاید لمبے تھے، انہیں ذوالیدین کہا جاتا تھا۔ انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا نماز مختصر ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نماز مختصر نہیں ہوئی اور میں بھی بھولا نہیں ہوں۔“ انہوں نے عرض کی: شاید آپ بھول گئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا ذوالیدین ٹھیک کہہ رہا ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعات پڑھائیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عام سجدوں کی مانند یا شاید اس سے کچھ طویل سجدہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور اپنے عام سجدوں کی مانند تھا یا شاید اس سے کچھ طویل سجدہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور تکبیر کہی۔ راوی بیان کرتے ہیں: مجھے یہ بات بتائی گئی ہے، سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت منقول ہے اور اس میں یہ الفاظ بھی ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ تینوں روایات اس شخص کو غلط فہمی کا شکار کرتی ہیں جو علمِ حدیث میں مہارت نہیں رکھتا اور وہ اس بات کا قائل ہے کہ یہ ایک دوسرے کی متضاد ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں یہ بات ہے کہ سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع دی تھی، جبکہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں یہ بات مذکور ہے کہ سیدنا خرباق رضی اللہ عنہ نے یہ بات کہی تھی۔ جبکہ سیدنا معاویہ بن خدیج رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں یہ بات ہے کہ سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا تھا۔ حالانکہ ان روایات میں کوئی تضاد اور کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول روایت میں یہ بات مذکور ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز میں دو رکعات پڑھنے کے بعد سلام پھیر دیا تھا۔ جبکہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں یہ بات مذکور ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز میں تیسری رکعت پڑھنے کے بعد سلام پھیر دیا تھا، جبکہ سیدنا معاویہ بن خدیج رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں یہ بات مذکور ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی دو رکعات پڑھنے کے بعد سلام پھیر دیا تھا۔ تو جو چیز ہم نے ذکر کی ہے وہ اس بات کی طرف ہماری رہنمائی کرتی ہے کہ یہ تین مختلف مواقع پر تین مختلف نمازوں کے واقعات ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ایک ہی نماز کے بارے میں یہ تینوں روایات مذکور ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2675]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 482، 714، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 573، وابن الجارود فى "المنتقى"، 269، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 860، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2249، 2251، 2252، 2253، 2254، 2255، 2256، 2675، 2684، 2685، 2686، 2687، 2688، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1008، والترمذي فى (جامعه) برقم: 394، 399، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1214، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1378، 1379، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5046» «رقم طبعة با وزير 2665»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (923): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما