صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1146. باب سجود السهو - ذكر تسمية المصطفى صلى الله عليه وسلم سجدتي السهو المرغمتين
سجدہ سهو کرنے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ سہو کے دو سجدوں کو "مُرَغِّمَتَین" (ناک رگڑنے والے) کہا
حدیث نمبر: 2656
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، بِتُسْتُرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةً زَادَ فِيهَا، أَوْ نَقَصَ مِنْهَا، فَلَمَّا أَتَمَّ قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَدَثَ فِي الصَّلاةِ شَيْءٌ؟ قَالَ: فَثَنَى رِجْلَهُ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ:" لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلاةِ شَيْءٌ لأَخْبَرْتُكُمْ بِهِ، وَلَكِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي، وَإِذَا أَحَدُكُمْ شَكَّ فِي صَلاتِهِ فَلْيَتَحَرَّى الصَّوَابَ وَلْيَبْنِ عَلَيْهِ، ثُمَّ لْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک نماز پڑھائی۔ آپ نے اس میں کچھ اضافہ کیا یا شاید کچھ کمی کر دی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم آیا ہے؟ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک ٹانگ بچھائی، آپ نے دو مرتبہ سجدہ سہو کیا۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ”اگر نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم آیا ہوتا تو میں تمہیں اس کے بارے میں بتا دیتا، لیکن میں بھی ایک انسان ہوں، میں اسی طرح بھول جاتا ہوں، جس طرح تم بھول جاتے ہو اور جب میں بھول جاؤں، تو تم مجھے یاد کروا دو اور جب کسی انسان کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو، تو وہ درست چیز کے بارے میں اندازہ لگانے کی کوشش کرے اس پر بنیاد قائم کرے اور پھر (آخر میں) دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2656]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 401، 404، 1226، 6671، 7249، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 572، وابن الجارود فى "المنتقى"، 270، 272، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1028، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2656، 2657، 2658، 2659، 2660، 2661، 2662، 2681، 2682، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1019، والترمذي فى (جامعه) برقم: 392، 393، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1203، 1205، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1408، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3636» «رقم طبعة با وزير 2646»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (935)، «الإرواء» (2/ 45 - 46): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
1147. باب سجود السهو - ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه
سجدہ سهو کرنے کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ کی صحت کو واضح کرتی ہے
حدیث نمبر: 2657
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَحْمُودٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَزَادَ، أَوْ نَقَصَ، فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ حَدَثَ فِي الصَّلاةِ شَيْءٌ؟ قَالَ:" لَوْ حَدَثَ شَيْءٌ لَنَبَّأْتُكُمُوهُ، وَلَكِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَأَيُّكُمْ شَكَّ فِي صَلاتِهِ فَلْيَنْظُرْ أَحْرَى ذَلِكَ إِلَى الصَّوَابِ، فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ، ثُمَّ يَقُومُ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُغِيرَةِ هَذَا خَتَنُ ابْنِ الْمُبَارَكِ عَلَى ابْنَتِهِ، ثِقَةٌ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھاتے ہوئے کچھ اضافہ کر دیا یا شاید کمی کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم آیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر کوئی نیا حکم آیا ہوتا تو میں تم لوگوں کو اس بارے میں بتا دیتا، لیکن میں بھی ایک انسان ہوں، میں اسی طرح بھول جاتا ہوں جس طرح تم بھول جاتے ہو، پس تم میں سے جس شخص کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو، تو وہ اس بات کا جائزہ لے کہ کون سی صورت درست ہونے کے زیادہ قریب ہے اور پھر اسی کی بنیاد پر وہ اپنی نماز کو مکمل کرے اور پھر دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابراہیم بن مغیرہ نامی راوی عبداللہ بن مبارک کا داماد ہے اور یہ ثقہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2657]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 401، 404، 1226، 6671، 7249، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 572، وابن الجارود فى "المنتقى"، 270، 272، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1028، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2656، 2657، 2658، 2659، 2660، 2661، 2662، 2681، 2682، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1019، والترمذي فى (جامعه) برقم: 392، 393، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1203، 1205، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1408، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3636» «رقم طبعة با وزير 2647»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
1148. باب سجود السهو - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم سجد سجدتي السهو في هذه الصلاة بعد السلام لا قبل
سجدہ سهو کرنے کا بیان - اس بات کا بیان کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نماز میں سجدہ سہو کے دو سجدے سلام کے بعد کیے، نہ کہ پہلے
حدیث نمبر: 2658
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ ، بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ صَلَّى الظُّهْرَ خَمْسًا، فَقِيلَ: زِيدَ فِي الصَّلاةِ شَيْءٌ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَمَا ذَاكَ؟" قَالُوا: إِنَّكَ صَلَّيْتَ خَمْسًا، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَمَا سَلَّمَ .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: آپ نے ظہر کی نماز میں پانچ رکعات پڑھا دیں، آپ کی خدمت میں عرض کی گئی: کیا نماز میں کچھ اضافہ ہو گیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا ہوا ہے؟“ انہوں نے عرض کی: آپ نے پانچ رکعات پڑھائی ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرنے کے بعد دو مرتبہ سجدہ سہو کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2658]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 401، 404، 1226، 6671، 7249، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 572، وابن الجارود فى "المنتقى"، 270، 272، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1028، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2656، 2657، 2658، 2659، 2660، 2661، 2662، 2681، 2682، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1019، والترمذي فى (جامعه) برقم: 392، 393، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1203، 1205، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1408، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3636» «رقم طبعة با وزير 2648»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (934): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
1149. باب سجود السهو - ذكر البيان بأن الأمر بسجدتي السهو للتحري في شكه في الصلاة إنما أمر بها بعد السلام لا قبل
سجدہ سهو کرنے کا بیان - اس بات کا بیان کہ سجدہ سہو کے دو سجدوں کا حکم، جو نماز میں شک کی صورت میں تحقیق کے لیے ہے، سلام کے بعد کیا جاتا ہے، نہ کہ پہلے
حدیث نمبر: 2659
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاتِهِ، فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ، ثُمَّ لْيُسَلِّمْ، ثُمَّ لْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کسی شخص کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو، تو وہ درست صورت کا اندازہ لگانے کی کوشش کرے اور پھر سلام پھیرے اور پھر دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2659]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 401، 404، 1226، 6671، 7249، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 572، وابن الجارود فى "المنتقى"، 270، 272، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1028، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2656، 2657، 2658، 2659، 2660، 2661، 2662، 2681، 2682، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1019، والترمذي فى (جامعه) برقم: 392، 393، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1203، 1205، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1408، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3636» «رقم طبعة با وزير 2649»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر (2646): ق. تنبيه!! رقم (2646) = (2656) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
1150. باب سجود السهو - ذكر البيان بأن المتحري الصواب في صلاته إذا سها فيها عليه أن يسجد سجدتي السهو بعد السلام الأول
سجدہ سهو کرنے کا بیان - اس بات کا بیان کہ جو شخص اپنی نماز میں صحیح طریقے کی تحقیق کرتا ہو اور اس میں سہو ہو جائے، اسے سلام کے پہلے سجدہ سہو کے دو سجدے کرنے چاہئیں
حدیث نمبر: 2660
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزَادَ أَوْ نَقَصَ، وَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ حَدَثَ فِي الصَّلاةِ شَيْءٌ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ حَدَثَ شَيْءٌ لَنَبَّأْتُكُمُوهُ، وَلَكِنِّي إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَأَيُّكُمْ شَكَّ فِي صَلاتِهِ، فَلْيَنْظُرْ أَحْرَى ذَلِكَ إِلَى الصَّوَابِ، وَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ، ثُمَّ لْيُسَلِّمْ، وَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھاتے ہوئے کچھ اضافہ کر دیا یا کچھ کمی کر دی تو عرض کی گئی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم آ گیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر کوئی نیا حکم آیا ہوتا تو میں تمہیں اس کے بارے میں بتا دیتا، لیکن میں ایک انسان ہوں، میں بھی اسی طرح بھول جاتا ہوں جس طرح تم بھول جاتے ہو، تو تم میں سے جس کسی کو بھی اپنی نماز کے بارے میں شک ہو، تو وہ اس بات کا جائزہ لے کہ کون سی صورت درست ہونے کے زیادہ قریب ہے اور وہ اسی کی بنیاد پر نماز کو مکمل کرے، پھر وہ سلام پھیرے اور دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2660]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 401، 404، 1226، 6671، 7249، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 572، وابن الجارود فى "المنتقى"، 270، 272، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1028، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2656، 2657، 2658، 2659، 2660، 2661، 2662، 2681، 2682، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1019، والترمذي فى (جامعه) برقم: 392، 393، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1203، 1205، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1408، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3636» «رقم طبعة با وزير 2650»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
1151. باب سجود السهو - ذكر البيان بأن مصلي الظهر خمسا ساهيا من غير جلوس في الرابعة لا يوجب عليه إعادة الصلاة بفعله ذلك
سجدہ سهو کرنے کا بیان - اس بات کا بیان کہ ظہر کی پانچ رکعتیں بھول کر پڑھنے والا، اگر وہ چوتھی رکعت میں نہ بیٹھا ہو، اس پر اس عمل کی وجہ سے نماز کی دوبارہ ادائیگی لازم نہیں
حدیث نمبر: 2661
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا عَلْقَمَةُ الظُّهْرَ خَمْسًا، فَقَالَ لَهُ إِبْرَاهِيمُ، فَقَالَ: وَأَنْتَ يَا أَعْوَرُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ" ، ثُمَّ حَدَّثَ عَلْقَمَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ.
ابراہیم بن سوید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: علقمہ رحمہ اللہ نے ہمیں ظہر کی نماز میں پانچ رکعات پڑھا دیں تو ابراہیم رحمہ اللہ نے ان سے کہا: (آپ نے غلطی کی ہے) انہوں نے فرمایا: اے کانے! کیا تم بھی یہ کہتے ہو؟ ابراہیم رحمہ اللہ نے جواب دیا: جی ہاں! تو راوی بیان کرتے ہیں: انہوں نے دو مرتبہ سجدہ سہو کیا، پھر علقمہ رحمہ اللہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مانند حدیث بیان کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2661]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 401، 404، 1226، 6671، 7249، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 572، وابن الجارود فى "المنتقى"، 270، 272، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1028، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2656، 2657، 2658، 2659، 2660، 2661، 2662، 2681، 2682، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1019، والترمذي فى (جامعه) برقم: 392، 393، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1203، 1205، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1408، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3636» «رقم طبعة با وزير 2651»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
1152. باب سجود السهو - ذكر البيان بأن المتحري في الصلاة عند شكه عليه أن يسجد سجدتي السهو بعد السلام
سجدہ سهو کرنے کا بیان - اس بات کا بیان کہ جو شخص نماز میں شک کرے اور تحقیق کرے، اسے سلام کے بعد سجدہ سہو کے دو سجدے کرنے چاہئیں
حدیث نمبر: 2662
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةً، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: لا أَدْرِي أَزَادَ نَقَصَ، فَلَمَّا سَلَّمَ قِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَدَثَ فِي الصَّلاةِ شَيْءٌ؟ قَالَ:" لا، وَمَا ذَاكَ؟" قَالُوا: صَلَّيْتَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَثَنَى رِجْلَهُ، وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، فَلَمَّا أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ قَالَ:" إِنَّهُ لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلاةِ شَيْءٌ أَنْبَأْتُكُمْ بِهِ، وَلَكِنِّي إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ، أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي، وَإِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاتِهِ، فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ، وَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ، ثُمَّ لْيُسَلِّمْ، ثُمَّ لْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ" .
علقمہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ ابراہیم (نامی راوی) بیان کرتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اضافہ کیا تھا یا کوئی کمی کی تھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو آپ کی خدمت میں عرض کی گئی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم آیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں، کیا ہوا ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: آپ نے اس اس طرح نماز پڑھائی ہے۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ٹانگ کو بچھایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف رخ کیا، دو مرتبہ سجدہ سہو کیا، پھر سلام پھیر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم آیا ہوتا تو میں تم لوگوں کو اس بارے میں بتا دیتا، لیکن میں بھی تم لوگوں کی طرح ایک انسان ہوں، میں بھی اسی طرح بھول جاتا ہوں جس طرح تم لوگ بھول جاتے ہو؛ تو جب میں بھول جاؤں تو تم لوگ مجھے یاد کروا دیا کرو۔ جب کسی شخص کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو تو وہ درست اندازہ لگانے کی کوشش کرے، اسی کی بنیاد پر نماز کو مکمل کرے، پھر سلام پھیر کر دو مرتبہ سجدہ سہو کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2662]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 401، 404، 1226، 6671، 7249، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 572، وابن الجارود فى "المنتقى"، 270، 272، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1028، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2656، 2657، 2658، 2659، 2660، 2661، 2662، 2681، 2682، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1019، والترمذي فى (جامعه) برقم: 392، 393، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1203، 1205، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1408، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3636» «رقم طبعة با وزير 2652»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر (2646). تنبيه!! رقم (2646) = (2656) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
1153. باب سجود السهو - ذكر البيان بأن الباني على الأقل في صلاته عند شكه عليه أن يسجد سجدتي السهو قبل السلام لا بعده
سجدہ سهو کرنے کا بیان - اس بات کا بیان کہ جو شخص اپنی نماز میں کم پر عمل کرے اور شک کرے، اسے سلام سے پہلے سجدہ سہو کے دو سجدے کرنے چاہئیں، نہ کہ بعد میں
حدیث نمبر: 2663
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ، فَلَمْ يَدْرِ ثَلاثًا صَلَّى أَمْ أَرْبَعًا، فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً، وَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ السَّلامِ، فَإِنْ كَانَتْ ثَالِثَةً شَفَعَتْهَا السَّجْدَتَانِ، وَإِنْ كَانَتْ رَابِعَةً فَالسَّجْدَتَانِ تَرْغِيمٌ لِلشَّيْطَانِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: رَوَى هَذَا الْخَبَرَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ صَالِحٍ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص نماز ادا کرے اور اسے یہ پتا نہ چلے کہ اس نے تین رکعات ادا کی ہیں یا چار رکعات، تو وہ ایک رکعت ادا کر لے اور سلام پھیرنے سے پہلے دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے، اگر وہ تین رکعات تھیں تو دو سجدے انہیں جفت کر دیں گے اور اگر وہ چار تھیں تو یہ دو سجدے شیطان کو رسوا کر دیں گے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت کو امام أحمد بن حنبل نے صفوان بن صالح کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2663]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 571، وابن الجارود فى "المنتقى"، 267، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 29، 1025، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2663، 2664، 2665، 2666، 2667، 2669، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 463، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1024، 1026، والترمذي فى (جامعه) برقم: 396، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 514، 1204، 1210، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1396، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11241» «رقم طبعة با وزير 2653»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (942): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله ثقات رجال الشيخين غير صفوان بن صالح وهو ثقة
1154. ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه
ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کی صحت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے
حدیث نمبر: 2664
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاتِهِ، فَلْيُلْقِ الشَّكَّ، وَلْيَبْنِ عَلَى الْيَقِينِ، فَإِنِ اسْتَيْقَنَ التَّمَامَ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، فَإِنْ كَانَتْ صَلاتُهُ تَامَّةً كَانَتِ الرَّكْعَةُ نَافِلَةً، وَالسَّجْدَتَانِ نَافِلَةً، وَإِنْ كَانَتْ نَاقِصَةً كَانَتِ الرَّكْعَةُ تَمَامًا لِصَلاتِهِ، وَالسَّجْدَتَانِ تُرْغِمَانِ أَنْفَ الشَّيْطَانِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَدْ يَتَوَهَّمُ مَنْ لَمْ يُحْكِمْ صِنَاعَةَ الأَخْبَارِ، وَلا تَفَقَّهَ مِنْ صَحِيحِ الآثَارِ، أَنَّ التَّحَرِّيَ فِي الصَّلاةِ وَالْبِنَاءَ عَلَى الْيَقِينِ وَاحِدٌ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ، لأَنَّ التَّحَرِّيَ هُوَ أَنْ يَشُكَّ الْمَرْءُ فِي صَلاتِهِ، فَلا يَدْرِي مَا صَلَّى، فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ عَلَيْهِ أَنْ يَتَحَرَّى الصَّوَابَ، وَلْيَبْنِ عَلَى الأَغْلَبِ عِنْدَهُ، وَيَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلامِ عَلَى خَبَرِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَالْبِنَاءُ عَلَى الْيَقِينِ: هُوَ أَنْ يَشُكَّ الْمَرْءُ فِي الثِّنْتَيْنِ وَالثَّلاثِ، أَوِ الثَّلاثِ وَالأَرْبَعِ، فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ عَلَيْهِ أَنْ يَبْنِيَ عَلَى الْيَقِينِ وَهُوَ الأَقَلُّ، وَلْيُتِمَّ صَلاتَهُ، ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَبْلَ السَّلامِ عَلَى خَبَرِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، سُنَّتَانِ غَيْرُ مُتَضَادَّتَيْنِ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کسی شخص کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو جائے، تو وہ شک کو ایک طرف رکھے اور یقین پر بنا قائم کرے، اگر اسے نماز مکمل ہونے کا یقین ہو، تو دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے، اگر اس کی نماز مکمل ہوئی، تو یہ رکعت نفل ہو جائے گی اور دو سجدے بھی نفل ہو جائیں گے اور اگر اس کی نماز نامکمل تھی، تو وہ رکعت اس کی نماز کو مکمل کر دے گی اور یہ دو سجدے شیطان کی ناک کو خاک آلود کر دیں گے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جو شخص علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا اور مستند روایات کی سمجھ بوجھ نہیں رکھتا، وہ اس غلط فہمی کا شکار ہوا کہ نماز کے بارے میں تحری کرنا اور یقین پر بنا قائم کرنا ایک ہی چیز ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ تحری یہ ہے کہ آدمی کو اپنی نماز میں شک لاحق ہو جائے تو یہ پتا نہ چلے کہ اس نے کتنی نماز ادا کی ہے، جب اس طرح کی صورت حال درپیش ہو، تو یہ بات لازم ہو گی کہ وہ درست صورت کے بارے میں تحری کرے جو اس کے نزدیک غالب گمان ہو۔ اس پر بنا قائم کر لے اور سلام پھیرنے کے بعد دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے۔ جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں یہ بات ہے۔ اور یقین پر بنا قائم کرنے کی صورت یہ ہے کہ آدمی کو دو یا تین رکعات، یا تین یا چار رکعات کے بارے میں شک ہوتا ہے۔ تو جب اس طرح کی صورت حال ہو گی تو وہ یقین پر بنا قائم کرے اور وہ سب سے کم مقدار ہے، پھر وہ اپنی نماز کو مکمل کر کے سلام پھیرنے سے پہلے دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے گا، جیسا کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہما سے منقول روایت میں یہ بات مذکور ہے، یہ دونوں طریقے سنت ہیں اور ان دونوں میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2664]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 571، وابن الجارود فى "المنتقى"، 267، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 29، 1025، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2663، 2664، 2665، 2666، 2667، 2669، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 463، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1024، 1026، والترمذي فى (جامعه) برقم: 396، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 514، 1204، 1210، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1396، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11241» «رقم طبعة با وزير 2654»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «صحيح أبي داود» (939). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي على شرط مسلم
1155. باب سجود السهو - ذكر لفظة أمر بقول مرادها استعماله بالقلب دون النطق باللسان
سجدہ سهو کرنے کا بیان - اس لفظ کا ذکر جس کے معنی دل سے استعمال کرنے کے ہیں، نہ کہ زبان سے بولنے کے
حدیث نمبر: 2665
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِيَاضٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ، فَلَمْ يَدْرِ ثَلاثًا صَلَّى أَمْ أَرْبَعًا، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، وَإِذَا أَتَى أَحَدَكُمُ الشَّيْطَانُ فَقَالَ: إِنَّكَ قَدْ أَحْدَثْتَ، فَلْيَقُلْ: كَذَبْتَ، إِلا مَا سَمِعَ صَوْتَهُ بِأُذُنِهِ، أَوْ وَجَدَ رِيحَهُ بِأَنْفِهِ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کوئی شخص نماز ادا کرے اور اسے یہ اندازہ نہ ہو پائے کہ اس نے تین رکعات ادا کی ہیں یا چار ادا کی ہیں، تو وہ جب بیٹھا ہوا ہو تو اس وقت دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے کیونکہ شیطان کسی شخص کے پاس آتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ تم بے وضو ہو گئے ہو، تو اس آدمی کو یہ کہنا چاہیے کہ تم جھوٹ کہہ رہے ہو، البتہ اگر وہ اپنے کانوں کے ذریعے (ہوا خارج ہونے کی) آواز سن لے یا اپنی ناک کے ذریعے (ہوا خارج ہونے کی) بو محسوس کر لے (تو اس کا حکم مختلف ہے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2665]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 571، وابن الجارود فى "المنتقى"، 267، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 29، 1025، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2663، 2664، 2665، 2666، 2667، 2669، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 463، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1024، 1026، والترمذي فى (جامعه) برقم: 396، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 514، 1204، 1210، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1396، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11241» «رقم طبعة با وزير 2655»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «ضعيف أبي داود» (187). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله ثقات رجال الشيخين غير عياض فإنه لم يوثقه غير المؤلف