صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1184. باب المسافر - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن خبر أبي الزبير الذي ذكرناه تفرد به حماد بن سلمة
سفر کے دوران نماز کے احکام کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ ہمارے بیان کردہ ابو الزبیر کی خبر کو صرف حماد بن سلمہ نے روایت کیا
حدیث نمبر: 2696
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرَ ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيًّا الأَسَدِيَّ ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَلَّمَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَوَى عَلَى بَعِيرِهِ خَارِجًا إِلَى سَفَرٍ كَبَّرَ ثَلاثًا، وَقَالَ: سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ سورة الزخرف آية 13،" اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا، وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الأَهْلِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ، وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الأَهْلِ وَالْمَالِ وَالْوَلَدِ"، فَإِذَا رَجَعَ قَالَهُنَّ، وَزَادَ فِيهِنَّ:" آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ" .
علی اسدی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں یہ تعلیم دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر پر روانہ ہونے کے وقت اپنی سواری پر سوار ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ تکبیر کہتے اور پھر یہ پڑھتے تھے: ﴿سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ﴾ [سورة الزخرف: 13] ”پاک ہے وہ ذات جس نے (اس سواری کو) ہمارے لیے مسخر کیا ورنہ ہم اسے قابو میں لانے والے نہیں تھے۔“ «اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا، وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ، وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ» ”اے اللہ! ہم تجھ سے اس سفر میں نیکی اور پرہیزگاری کا سوال کرتے ہیں اور ایسے عمل کا سوال کرتے ہیں جس سے تو راضی ہو جائے۔ اے اللہ! ہمارے لیے اس سفر کو آسان کر دے اور ہمارے لیے اس کی مسافت کو سمیٹ دے۔ اے اللہ! سفر میں تو ہی ساتھی ہے اور گھر والوں کا تو ہی نگران ہے۔ اے اللہ! میں سفر کی مشقت، (سفر کے دوران یا واپسی پر) کسی ناپسندیدہ منظر کو دیکھنے اور واپسی پر اپنے اہل خانہ، مال یا اولاد کے بارے میں کسی برے منظر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لاتے تھے، تو یہی کلمات پڑھتے تھے اور ان میں یہ الفاظ زائد پڑھتے تھے: «آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ» ”(ہم) رجوع کرنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں اور اپنے پروردگار کی حمد بیان کرنے والے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2696]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1797، 2995، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1342، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2542، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2695، 2696، 2707، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3022، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2599، 2770، والترمذي فى (جامعه) برقم: 950، 3447، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4583» «رقم طبعة با وزير 2685»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2340). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
1185. باب المسافر - ذكر الإباحة للمرء أن يزيد في هذا الدعاء كلمات أخر
سفر کے دوران نماز کے احکام کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ آدمی اس دعا میں دیگر الفاظ کا اضافہ کر سکتا ہے
حدیث نمبر: 2697
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَوْفَلٍ عَلِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الأَسَدِيِّ ، قَالَ: رَكِبَ عَلِيٌّ دَابَّةً، فَقَالَ: " بِسْمِ اللَّهِ"، فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَيْهَا، قَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَكْرَمَنَا، وَحَمَلَنَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ، وَرَزَقَنَا مِنَ الطَّيِّبَاتِ، وَفَضَّلَنَا عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَهُ تَفْضِيلا: سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ، وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ سورة الزخرف آية 14 - 14"، ثُمَّ كَبَّرَ ثَلاثًا، ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، إِنَّهُ لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ غَيْرُكَ" ، ثُمَّ قَالَ: فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ هَذَا، وَأَنَا رِدْفُهُ.
علی بن ربیعہ اسدی بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ سواری پر سوار ہوئے تو آپ نے «بِسْمِ اللهِ» ”اللہ کے نام سے“ پڑھی، پھر جب آپ اس پر سوار ہو گئے، تو آپ نے یہ پڑھا: ” «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے“، ﴿وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَىٰ كَثِيرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا﴾ [سورة الإسراء: 70] ”جس نے ہمیں عزت عطا کی، ہمیں خشکی اور سمندری راستوں پر چلنے کا موقع دیا۔ ہمیں پاکیزہ رزق عطا کیا، اور ہمیں اپنی مخلوق میں سے بہت سے لوگوں پر فضیلت دی۔“ ﴿سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ * وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ﴾ [سورة الزخرف: 13-14] ”پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لیے (اس سواری کو) مسخر کیا ورنہ ہم تو اسے قابو میں نہیں کر سکتے تھے۔ بے شک ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹا دیے جائیں گے۔“ پھر انہوں نے تین مرتبہ «اللهُ أَكْبَرُ» ”تکبیر“ کہی، پھر یہ کہا: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ» ”اے اللہ! تو میری مغفرت کر دے، بے شک تیرے علاوہ کوئی اور گناہوں کی مغفرت نہیں کر سکتا۔“ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا ہی کیا تھا اور میں اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2697]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2697، 2698، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2496، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2602، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3446، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10426، وأحمد فى (مسنده) برقم: 764» «رقم طبعة با وزير 2686»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2342). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
1186. باب المسافر - ذكر ما يحمد العبد ربه جل وعلا عند الركوب لسفر يريده
سفر کے دوران نماز کے احکام کا بیان - اس بات کا ذکر کہ بندہ اپنے رب جل وعلا کی حمد کرتا ہے جب وہ سفر کے لیے سوار ہوتا ہے
حدیث نمبر: 2698
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيًّا أُتِيَ بِدَابَّةٍ لِيَرْكَبَهَا، فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ، قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ، فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَى ظَهْرِهِ، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ ثَلاثًا، ثُمَّ قَالَ: (سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ) إِلَى قَوْلِهِ: (وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ سورة الزخرف آية 13 - 14) ، ثُمَّ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ ثَلاثًا، اللَّهُ أَكْبَرُ ثَلاثًا، سُبْحَانَكَ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي، فَاغْفِرْ لِي، إِنَّهُ لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ، ثُمَّ ضَحِكَ، قُلْتُ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ كَمَا صَنَعْتُ ثُمَّ ضَحِكَ، فَقُلْتُ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" إِنَّ رَبَّكَ لَيَعْجَبُ مِنْ عَبْدِهِ إِذَا قَالَ: رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، قَالَ: عَلِمَ عَبْدِي أَنَّهُ لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ غَيْرِي" .
علی بن ربیعہ بیان کرتے ہیں: میں اس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا جب ایک جانور لایا گیا تاکہ وہ اس پر سوار ہوں، جب انہوں نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا تو «بِسْمِ اللهِ» ”اللہ کے نام سے“ پڑھی، جب وہ اس جانور کی پشت پر سیدھے بیٹھ گئے، تو انہوں نے تین مرتبہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں“ کہا، پھر یہ پڑھا: ﴿سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ * وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ﴾ [سورة الزخرف: 13-14] ”پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لیے (اس سواری کو) مسخر کیا ورنہ ہم اس پر قابو نہیں پا سکتے تھے“ یہ آیت یہاں تک ہے، ”بے شک ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹا دیے جائیں گے۔“ پھر انہوں نے تین مرتبہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں“ پھر تین مرتبہ «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا: «سُبْحَانَكَ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ» ”(اے اللہ) تو پاک ہے میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے، تو میری مغفرت کر دے، گناہوں کی مغفرت صرف تو ہی کر سکتا ہے“ پھر وہ مسکرا دیے، میں نے دریافت کیا: اے امیر المؤمنین! آپ کس بات پر مسکرائے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے اسی طرح کیا جس طرح میں نے کیا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کس بات پر مسکرائے ہیں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارا پروردگار اس بندے سے خوش ہوتا ہے، جب وہ یہ کہتا ہے: اے میرے پروردگار! تو میری مغفرت کر دے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرا بندہ یہ بات جانتا ہے، میرے علاوہ کوئی اور گناہوں کی مغفرت نہیں کر سکتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2698]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2697، 2698، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2496، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2602، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3446، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10426، وأحمد فى (مسنده) برقم: 764» «رقم طبعة با وزير 2687»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله ثقات رجال الشيخين
1187. باب المسافر - ذكر البيان بأن دعوة المسافر لا ترد ما دام في سفره
سفر کے دوران نماز کے احکام کا بیان - اس بات کا بیان کہ مسافر کی دعا اس وقت تک رد نہیں ہوتی جب تک وہ سفر میں ہو
حدیث نمبر: 2699
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " ثَلاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لا شَكَّ فِيهِنَّ: دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ، وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ، وَدَعْوَةُ الْوَالِدِ عَلَى وَلَدِهِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: اسْمُ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ.
امام محمد الباقر رحمہ اللہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تین طرح کی دعاؤں کے مستجاب ہونے کے بارے میں کوئی شک نہیں ہے: مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا اور والد کی اپنی اولاد کے لیے کی گئی دعا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) امام ابوجعفر نامی راوی کا نام محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابوطالب ہے یعنی (یہ امام باقر ہیں) [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2699]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2699، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1536، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1905، 3448، 3448 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3862، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7626» «رقم طبعة با وزير 2688»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - «صحيح أبي داود» (1374). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث حسن
1188. باب المسافر - ذكر الشيء الذي إذا قال المسافر في منزله أمن الضرر في كل شيء حتى يرتحل منه
سفر کے دوران نماز کے احکام کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اگر مسافر اپنے ٹھکانے پر یہ کہے تو ہر چیز میں نقصان سے محفوظ رہتا ہے یہاں تک کہ وہ وہاں سے کوچ کرے
حدیث نمبر: 2700
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ ، وَالْحَارِثَ بْنَ يَعْقُوبَ ، حَدَّثَاهُ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ السُّلَمِيَّةِ ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا نَزَلَ أَحَدُكُمْ مَنْزِلا فَلْيَقُلْ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، فَإِنَّهُ لا يَضُرُّهُ شَيْءٌ حَتَّى يَرْتَحِلَ مِنْهُ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ أَخُو بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ، وَالْحَارِثُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ، وَالْحَارِثُ بْنُ يَعْقُوبَ هُوَ وَالِدُ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ مِصْرِيٌّ.
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ، سیدہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب کوئی شخص کسی جگہ پر پڑاؤ کرے اور یہ کلمات پڑھ لے: «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ» ”میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں اس چیز کے شر سے جسے اس نے پیدا کیا ہے“، (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:) تو جب تک وہ شخص وہاں سے روانہ نہیں ہو جاتا، اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی“۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یعقوب بن عبداللہ نامی راوی بکیر بن عبداللہ بن اشج کے بھائی ہیں، اور حارث نامی راوی حارث بن یعقوب بن عبداللہ بن اشج ہے، حارث بن یعقوب نامی راوی عمرو بن حارث مصری کا باپ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2700]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2708، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2566، 2567، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2700، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10318، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3437، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3547، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10431، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27764» «رقم طبعة با وزير 2689»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
1189. باب المسافر - ذكر ما يقول المسافر إذا أسحر في سفر
سفر کے دوران نماز کے احکام کا بیان - اس بات کا ذکر جو مسافر کہتا ہے جب وہ سفر میں سحری کرتا ہے
حدیث نمبر: 2701
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا سَافَرَ وَجَاءَ سَحَرًا يَقُولُ:" سَمِعَ سَامِعٌ بِحَمْدِ اللَّهِ وَحُسْنِ بَلائِهِ، رَبَّنَا صَاحِبْنَا، فَأَفْضِلْ عَلَيْنَا عَائِذٌ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے اور سحری کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے تو یہ کہتے تھے: «سَمِعَ سَامِعٌ بِحَمْدِ اللهِ وَحُسْنِ بَلَائِهِ عَلَيْنَا، رَبَّنَا صَاحِبْنَا وَأَفْضِلْ عَلَيْنَا، عَائِذًا بِاللهِ مِنَ النَّارِ» ”سننے والے نے اللہ تعالیٰ کی حمد کو سن لیا اور اس کی آزمائش کی خوبی کو بھی۔ اے ہمارے پروردگار! تو ہمارے ساتھ رہ اور ہم پر اپنا فضل کر! ہم جہنم سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2701]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2718، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2571، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2701، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1642، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8777، 10293، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5086، والبزار فى (مسنده) برقم: 9077» «رقم طبعة با وزير 2690»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2638): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
1190. باب المسافر - ذكر الأمر بالتكبير لله جل وعلا على كل شرف للمسافر في سفره
سفر کے دوران نماز کے احکام کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ مسافر اپنے سفر میں ہر بلند مقام پر اللہ جل وعلا کی تکبیر کرے
حدیث نمبر: 2702
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ ، بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ يُرِيدُ سَفَرًا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْصِنِي، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ"، فَلَمَّا وَلَّى الرَّجُلُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ ازْوِ لَهُ الأَرْضَ، وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص سفر پر جانا چاہتا تھا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے نصیحت کیجیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے اور ہر بلندی پر چڑھتے ہوئے «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہنے کی تلقین کرتا ہوں۔“ جب وہ شخص چلا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: «اللَّهُمَّ اطْوِ لَهُ الْأَرْضَ، وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ» ”اے اللہ! اس کے لیے زمین کو لپیٹ دے اور اس کے سفر کو آسان کر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2702]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2561، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2692، 2702، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1639، 2495، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10266، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3445، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2771، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10422، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8426» «رقم طبعة با وزير 2691»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - مكرر (2681). تنبيه!! رقم (2681) = (2692) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
1191. باب المسافر - ذكر الأمر بالإسراع في السير على ذوات الأربع إذا سافر المرء في السنة عليها
سفر کے دوران نماز کے احکام کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ آدمی چوپایوں پر تیز چلے جب وہ سال میں ان پر سفر کرے
حدیث نمبر: 2703
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْخِصْبِ فَأَعْطُوا الإِبِلَ حَقَّهَا، وَإِذَا سَافَرْتُمْ فِي السَّنَةِ فَأَسْرِعُوا السَّيْرَ عَلَيْهَا، وَإِذَا عَرَّسْتُمْ فَاجْتَنِبُوا الطَّرِيقَ، فَإِنَّهَا مَأْوَى الْهَوَامِّ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم شادابی کے زمانے میں سفر کرو تو اونٹ کو اس کا حق دو (یعنی اس کو چرنے کا موقع دو) اور جب تم قحط سالی کے زمانے میں سفر کرو تو تیزی سے سفر کرو اور جب تم رات کے وقت پڑاؤ کرو، تو راستے میں پڑاؤ کرنے سے اجتناب کرو کیونکہ وہ حشرات الارض کا ٹھکانہ ہوتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2703]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1926،وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2550، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2703، 2705، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8763، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2569، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2858، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10449، 10450، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8558» «رقم طبعة با وزير 2692»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2315)، «الصحيحة» (1359): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
1192. باب المسافر - ذكر الزجر عن سفر المرء وحده بالليل
سفر کے دوران نماز کے احکام کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ آدمی رات کو اکیلے سفر کرے
حدیث نمبر: 2704
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي الْوَحْدَةِ مَا سَارَ رَاكِبٌ بِلَيْلٍ أَبَدًا" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اگر ان لوگوں کو پتا چل جائے، اکیلے سفر کرنے میں (کتنا نقصان ہے) تو کبھی کوئی سوار رات کے وقت اکیلا سفر نہ کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2704]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2998، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2569، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2704، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2507، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8799، 8800، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1673، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2721، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3768، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10457، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4839» «رقم طبعة با وزير 2693»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (61): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
1193. باب المسافر - ذكر الزجر عن التعريس على جواد الطريق
سفر کے دوران نماز کے احکام کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ آدمی سڑک کے کنارے پڑاؤ کرے
حدیث نمبر: 2705
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْخِصْبِ فَأَعْطُوا الإِبِلَ حَقَّهَا، وَإِذَا سَافَرْتُمْ فِي السَّنَةِ فَأَسْرِعُوا السَّيْرَ، وَإِذَا عَرَّسْتُمْ بِاللَّيْلِ فَاجْتَنِبُوا الطَّرِيقَ، فَإِنَّهَا مَأْوَى الْهَوَامِّ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب تم شادابی کے علاقے میں سفر کرو تو اونٹوں کو ان کا حق دو (یعنی انہیں چرنے کا موقع دو)، جب تم بنجر جگہ پر سفر کرو تو تیزی سے سفر کرو اور جب تم رات کے وقت پڑاؤ کرو تو راستے میں پڑاؤ کرنے سے اجتناب کرو کیونکہ وہ حشرات الارض کا ٹھکانہ ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2705]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1926،وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2550، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2703، 2705، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8763، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2569، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2858، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10449، 10450، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8558» «رقم طبعة با وزير 2694»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر (2692): م. تنبيه!! رقم (2692) = (2703) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم