صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
636. باب فرض متابعة الإمام - ذكر خبر أوهم بعض أئمتنا أنه ناسخ لأمر النبي صلى الله عليه وسلم المأمومين بالصلاة قعودا إذا صلى إمامهم جالسا
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو ہمارے بعض ائمہ کو یہ وہم دلاتا ہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کو منسوخ کرتا ہے کہ مأموم اپنے امام کے بیٹھ کر نماز پڑھنے پر بیٹھ کر پڑھیں
حدیث نمبر: 2116
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ لَهَا: أَلا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: بَلَى، ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَصَلَّى النَّاسُ؟" فَقُلْتُ: لا، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ:" ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ". قَالَتْ: فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنْوِيَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ، فَقَالَ:" أَصَلَّى النَّاسُ؟" فَقُلْتُ: لا، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلاةِ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ، قَالَتْ: فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَنْ صَلِّ بِالنَّاسِ، فَأَتَاهُ الرَّسُولُ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ رَجُلا رَقِيقًا: يَا عُمَرُ صَلِّ بِالنَّاسِ. فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ. قَالَ: فَصَلَّى بِهِمْ أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الأَيَّامَ، قَالَتْ: ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً، فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ لِصَلاةِ الظُّهْرِ، وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، قَالَتْ: فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنْ لا يَتَأَخَّرَ، وَقَالَ لَهُمَا:" أَجْلِسَانِي إِلَى جَنْبِهِ". فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ، فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي وَهُوَ قَائِمٌ بِصَلاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاةِ أَبِي بَكْرٍ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ . قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: فَدَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ: أَلا أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: هَاتِ. فَعَرَضْتُ حَدِيثَهَا عَلَيْهِ، فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ شَيْئًا.
عبید اللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے ان سے گزارش کی: کیا آپ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے بارے میں نہیں بتائیں گی؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت خراب ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا لوگوں نے نماز ادا کر لی ہے؟“ میں نے عرض کی: جی نہیں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے لیے کسی ٹب میں پانی رکھو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہم نے ایسا ہی کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھنے لگے، تو آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوش آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا لوگوں نے نماز ادا کر لی؟“ میں نے عرض کی: جی نہیں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ لوگ اس وقت مسجد میں بیٹھے ہوئے عشاء کی نماز کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو پیغام بھجوایا: ”تم لوگوں کو نماز پڑھا دو۔“ پیغام رساں شخص سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا (اور کہا): اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو حکم دیا ہے، آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ جو ایک نرم دل آدمی تھے، انہوں نے فرمایا: اے عمر! تم لوگوں کو نماز پڑھاؤ۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ اس کے زیادہ حق دار ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: ان دنوں میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طبیعت میں بہتری محسوس ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو آدمیوں کے درمیان چلتے ہوئے ظہر کی نماز کے لیے تشریف لے گئے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس وقت لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ ”وہ پیچھے نہ ہٹیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں صاحبان سے فرمایا: ”مجھے اس کے پہلو میں بٹھا دو۔“ ان دونوں حضرات نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بٹھا دیا، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز ادا کرنے لگے، وہ کھڑے ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی پیروی کر رہے تھے اور لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی پیروی کر رہے تھے حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بیٹھے ہوئے تھے۔ عبیداللہ نامی راوی کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے کہا: کیا میں آپ کے سامنے وہ حدیث پیش کروں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بیان کی ہے؟ انہوں نے فرمایا: پیش کرو۔ میں نے وہ حدیث ان کے سامنے بیان کی تو انہوں نے اس کی کسی بھی بات کا انکار نہیں کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2116]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 198، 664، 665، 679، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 418، وابن الجارود فى "المنتقى"، 13، 359، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 123، 1621، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2116، 2117، 2118، 2119، 2120، 2121، 2124، 6588، 6591، 6596، 6599، 6600، 6601، 6602، 6614، 6616، 6617، 6618، 6873، 6874، 7116، والترمذي فى (جامعه) برقم: 362، 3496، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1232، 1233، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1483، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2083» «رقم طبعة با وزير 2113»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، زائدة: هو ابن قدامة.
637. باب فرض متابعة الإمام - ذكر خبر يعارض الخبر الذي تقدم ذكرنا له في الظاهر
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو ہمارے پہلے بیان کردہ خبر سے ظاہری طور پر متعارض ہے
حدیث نمبر: 2117
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ :" أَنَّ أَبَا بَكْرٍ صَلَّى بِالنَّاسِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّفِّ خَلْفَهُ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: خَالَفَ شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ زَائِدَةَ بْنَ قُدَامَةَ فِي مَتْنِ هَذَا الْخَبَرِ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، فَجَعَلَ شُعْبَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَأْمُومًا حَيْثُ صَلَّى قَاعِدًا وَالْقَوْمُ قِيَامٌ، وَجَعَلَ زَائِدَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِمَامًا حَيْثُ صَلَّى قَاعِدًا وَالْقَوْمُ قِيَامٌ، وَهُمَا مُتْقِنَانِ حَافِظَانِ، فَكَيْفَ يَجُوزُ أَنْ تُجْعَلُ إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ اللَّتَيْنِ تَضَادَّتَا فِي الظَّاهِرِ فِي فِعْلٍ وَاحِدٍ نَاسِخًا لأَمْرٍ مُطْلَقٍ مُتَقَدِّمٍ، فَمَنْ جَعَلَ أَحَدَ الْخَبَرَيْنِ نَاسِخًا لِمَا تَقَدَّمَ مِنْ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَرَكَ الآخَرَ مِنْ غَيْرِ دَلِيلٍ يَثْبُتُ لَهُ عَلَى صِحَّتِهِ سَوَّغَ لِخَصْمِهِ أَخْذَ مَا تَرَكَ مِنَ الْخَبَرَيْنِ وَتَرْكَ مَا أَخَذَ مِنْهُمَا.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے صف میں موجود تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) شعبہ بن حجاج نے اس روایت کا متن نقل کرنے میں زائدہ بن قدامہ کی مخالفت کی ہے، انہوں نے اسے موسیٰ بن ابوعائشہ کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ تو شعبہ نے اپنی روایت میں یہ بات نقل کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیٹھ کر نماز ادا کر رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقتدی کے طور پر شریک ہوئے تھے اور لوگ کھڑے ہوئے تھے۔ جبکہ زائدہ نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ بات نقل کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیٹھ کر نماز ادا کر رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم امام کے طور پر نماز ادا کر رہے تھے اور لوگ کھڑے ہو کر نماز ادا کر رہے تھے۔ یہ دونوں راوی متقی ہیں اور دونوں حافظ ہیں تو یہ بات کیسے جائز ہو سکتی ہے کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کی نقل کردہ روایت کو قبول کر لیا جائے حالانکہ یہ دونوں روایات ایک ہی فعل کے بارے میں منقول ہیں اور بظاہر ایک دوسرے کے متعارض ہیں۔ اور یہ پہلے موجود مطلق حکم کو ناسخ قرار دینے والی روایت بنتی ہیں تو جو شخص ان دونوں روایات میں سے کسی ایک کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلے موجود حکم کی ناسخ قرار دیتا ہے اور دوسری روایت کو ترک کر دیتا ہے اور کسی دلیل کے بغیر ایسا کرتا ہے جو دلیل اس کے صحیح ہونے کو ثابت کرتی ہو، تو وہ اپنے مدمقابل کو اس طرف جانے پر مجبور کرتا ہے کہ وہ اس دوسری روایت کو قبول کر لے جس روایت کو اس نے ان دونوں روایات میں سے ترک کیا ہے اور اس کا مدمقابل اس روایت کو ترک کر دے جسے اس نے قبول کیا ہے۔ احادیث میں اس نوعیت کی ایک مثال سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول روایت ہے جس میں یہ مذکور ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کی حالت میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کیا تھا۔ جبکہ سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ نے یہ بات نقل کی ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کے ساتھ نکاح کیا تھا، اس وقت آپ دونوں حالتِ احرام میں نہیں تھے۔ تو یہ دونوں روایات ایک ہی فعل کے بارے میں ایک دوسرے کے متعارض ہیں۔ حالانکہ ہمارے نزدیک بھی ان دونوں کے درمیان کوئی بھی تضاد نہیں ہے۔ محدثین کی ایک جماعت نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کے بارے میں منقول ان دونوں روایات کو ایک دوسرے کے متعارض قرار دیا ہے اور ان لوگوں نے اس روایت کے مطابق فتویٰ دیا ہے جو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: «لَا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ وَلَا يُنْكَحُ» ”احرام والا شخص نہ تو نکاح کر سکتا ہے اور نہ ہی کسی کا نکاح پڑھوا سکتا ہے۔“ محدثین نے اس روایت کو قبول کر لیا کیونکہ یہ ان دونوں روایات میں سے ایک روایت کے موافق ہے جو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کے بارے میں نقل کی گئی ہیں اور محدثین نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول اس روایت کو ترک کر دیا۔ جس میں یہ مذکور ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت حالتِ احرام میں تھے۔ جو شخص ایسا کرتا ہے، اس کے لیے یہ بات ضروری ہو گی کہ وہ یہ کہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز ادا کرنے کے بارے میں اس کی علت کے حوالے سے یہ دونوں روایات ایک دوسرے کی متضاد ہیں۔ جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا ہے۔ تو اب یہ بات ضروری ہو گی کہ ہم اس روایت کی طرف رجوع کریں جس میں مقتدیوں کو اس وقت بیٹھ کر نماز ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے جب ان کا امام بیٹھ کر نماز ادا کر رہا ہو، تو اب ہم اس روایت کے مطابق فتویٰ دے دیں گے کیونکہ یہ ان دو روایات میں سے ایک روایت کے موافق ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں نقل کی گئی ہیں جس میں اس کی علت کا تذکرہ ہے اور ہم اس روایت کو ترک کر دیں جو ان دونوں میں سے منفرد ہے، جس طرح سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کے بارے میں روایت کے بارے میں کیا گیا ہے۔ ہمارے نزدیک ان روایات میں کوئی تضاد اور اختلاف نہیں ہے اور نہ کوئی روایت ان میں سے ناسخ ہے اور نہ ہی منسوخ ہے۔ بلکہ ان میں سے ایک روایت مختصر ہے اور دوسری تفصیلی ہے، ایک مجمل ہے اور دوسری وضاحتی ہے۔ جب اس کے ایک حصے کو دوسرے کے ساتھ ملایا جائے گا تو ان دونوں کے درمیان موجود تضاد ختم ہو جائے گا اور ان میں سے ہر ایک روایت کو اس کے مخصوص موقع و محل پر محمول کر لیا جائے گا، جیسا کہ ہم عنقریب آگے چل کر یہ بات بیان کریں گے، اگر اللہ نے چاہا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2117]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 198، 664، 665، 679، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 418، وابن الجارود فى "المنتقى"، 13، 359، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 123، 1621، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2116، 2117، 2118، 2119، 2120، 2121، 2124، 6588، 6591، 6596، 6599، 6600، 6601، 6602، 6614، 6616، 6617، 6618، 6873، 6874، 7116، والترمذي فى (جامعه) برقم: 362، 3496، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1232، 1233، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1483، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2083» «رقم طبعة با وزير 2114»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري.
638. باب فرض متابعة الإمام - ذكر طريق آخر بخبر عائشة أوهم جماعة من أصحاب الحديث أنه ناسخ للأمر المتقدم الذي ذكرناه
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - عائشہ رضی اللہ عنہا کی خبر کے ایک اور طریق کا ذکر جو حدیث کے بعض اصحاب کو یہ وہم دلاتا ہے کہ یہ ہمارے بیان کردہ سابقہ حکم کو منسوخ کرتا ہے
حدیث نمبر: 2118
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْعَبْسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: أُغْمِيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَفَاقَ، فَقَالَ:" أَصَلَّى النَّاسُ؟". قُلْنَا: لا. قَالَ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسُ؟". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ إِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ. قَالَ عَاصِمٌ: وَالأَسِيفُ الرَّقِيقُ الرَّحِيمُ، قَالَ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ". قَالَ ذَلِكَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، كُلُّ ذَلِكَ أَرُدُّ عَلَيْهِ، قَالَتْ: فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ بِالنَّاسِ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ خِفَّةً مِنْ نَفْسِهِ، فَخَرَجَ بَيْنَ بَرِيرَةَ وَنُوبَةَ، إِنِّي لأَنْظُرُ إِلَى نَعْلَيْهِ تَخُطَّانِ فِي الْحَصَا وَأَنْظُرُ إِلَى بُطُونِ قَدَمَيْهِ، فَقَالَ لَهُمَا:" أَجْلِسَانِي إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ". فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنِ اثْبُتْ مَكَانَكَ، فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَهُوَ جَالِسٌ، وَأَبُو بَكْرٍ قَائِمٌ يُصَلِّي بِصَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاةِ أَبِي بَكْرٍ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر بے ہوشی طاری ہو گئی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوش آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا لوگوں نے نماز ادا کر لی ہے؟“ میں نے عرض کی: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر سے کہو، وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک نرم دل آدمی ہیں، جب وہ آپ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو وہ لوگوں کو نماز نہیں پڑھا سکیں گے۔ عاصم نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے۔ روایت کے متن میں استعمال ہونے والے لفظ «أَسِيفٌ» سے مراد ”نرم دل اور مہربان ہونا“ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر سے کہو، لوگوں کو نماز پڑھا دے۔“ یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ کہی اور ہر مرتبہ میں نے بھی وہی جواب دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو طبیعت میں بہتری محسوس ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بریرہ اور نوبہ (نامی کنیزوں) کے درمیان (یعنی ان کے ساتھ ٹیک لگا کر چلتے ہوئے) تشریف لے گئے، یہ منظر آج بھی میری نگاہ میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نعلین شریفین کنکریوں پر لکیر بنا رہے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کے تلووں کو دیکھ رہی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: ”تم مجھے ابوبکر کے پہلو میں بٹھا دو۔“ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا: ”اپنی جگہ پر رہو۔“ اور ان دونوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بٹھا دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز ادا کرتے رہے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی پیروی میں نماز ادا کرتے رہے، اور لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی پیروی میں نماز ادا کرتے رہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2118]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 198، 664، 665، 679، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 418، وابن الجارود فى "المنتقى"، 13، 359، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 123، 1621، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2116، 2117، 2118، 2119، 2120، 2121، 2124، 6588، 6591، 6596، 6599، 6600، 6601، 6602، 6614، 6616، 6617، 6618، 6873، 6874، 7116، والترمذي فى (جامعه) برقم: 362، 3496، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1232، 1233، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1483، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2083» «رقم طبعة با وزير 2115»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - انظر التعليق. * [عَنْ عَاصِمٍ] قال الشيخ: هو ابن بهدلة، أبي النَّجود، وهو حسن الحديث، كما تقَّدَم - مِراراً - وقد توبع كما يأتي، وبقيَّةُ الرجال ثقات معروفون. وعثمان بن أبي شيبة العَبْسِيُّ: هو صاحب «المسند» المعروف به، وهو أخو أبي بكر بن أبي شيبة صاحب «المصنَّف» المشهور به. وقد تابعه فيه، فقال فيه (2/ 331): حدثنا حسين بن عليٍّ به. ويأتي الحديث (2221) من طريق نُعيمِ بنِ أبِي هندٍ، عن أبي وائل (وهو شقيق) - أحسِبُه - عن مسروق به. ومن هذا الوجه أخرج الجملة الأخيرة، وهي مُخَالِفةٌ لرواية ابن بَهدلَه؛ لأنَّها صريحةٌ بأنَّهُ صلى الله عليه وسلم صَلَّى خَلفَ أبي بكرٍ: أخرجه البيهقيُّ (3/ 82)، وأحمد (6/ 159)، وكذا ابن أبي شيبة (2/ 332). وفي روايةِ ابن بَهدَلة: أن أبا بكرٍ صلَّى خَلفَ النَّبِي صلى الله عليه وسلم يقتدي به، ويقتدي الناس بصلاة أبي بكرٍ. وقد جَمَعَ المُؤلِّف بَينَ الرِّوَايَتَيْنِ على أنَّهُما صلاتان فراجعه. تنبيه!! رقم (2221) = (2224) من «طبعة المؤسسة». لكن الحديث ليس موجود بالرقم المشار إليه وإنما موجود برقم: (2121) الموافق لـ (2124) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن، عاصم: هو ابن بهدلة، حسن الحديث، أخرجا له في الصحيحين مقروناً، وباقي السند رجاله رجال الشيخين غير زائدة –وهو ابن قدامة الثقفي- فإنه من رجال البخاري.
639. باب فرض متابعة الإمام - ذكر خبر يعارض في الظاهر خبر أبي وائل الذي ذكرناه
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ ابو وائل کی خبر سے ظاہری طور پر متعارض ہے
حدیث نمبر: 2119
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ قَاعِدًا" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: خَالَفَ نُعَيْمُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَاصِمَ بْنَ أَبِي النَّجُودِ فِي مَتْنِ هَذَا الْخَبَرِ، فَجَعَلَ عَاصِمٌ أَبَا بَكْرٍ مَأْمُومًا، وَجَعَلَ نُعَيْمُ بْنُ أَبِي هِنْدَ أَبَا بَكْرٍ إِمَامًا، وَهُمَا ثِقَتَانِ حَافِظَانِ مُتْقِنَانِ، فَكَيْفَ يَجُوزُ أَنْ يُجْعَلَ خَبَرُ أَحَدِهِمَا نَاسِخًا لأَمْرٍ مُتَقَدِّمٍ، وَقَدْ عَارَضَهُ فِي الظَّاهِرِ مِثْلُهُ؟ وَنَحْنُ نَقُولُ بِمَشِيئَةِ اللَّهِ وَتَوْفِيقِهِ: إِنَّ هَذِهِ الأَخْبَارَ كُلَّهَا صِحَاحٌ، وَلَيْسَ شَيْءٌ مِنْهَا يُعَارِضُ الآخَرَ، وَلَكِنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَّى فِي عِلَّتِهِ صَلاتَيْنِ فِي الْمَسْجِدِ جَمَاعَةً، لا صَلاةً وَاحِدَةً، فِي إِحْدَاهُمَا كَانَ مَأْمُومًا، وَفِي الأُخْرَى كَانَ إِمَامًا. وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّهُمَا كَانَا صَلاتَيْنِ لا صَلاةً وَاحِدَةً أَنَّ فِي خَبَرِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ يُرِيدُ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسَ وَالآخَرَ عَلِيًّا، وَفِي خَبَرِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" خَرَجَ بَيْنَ بَرِيرَةَ وَنُوبَةَ"، فَهَذَا يَدُلَّكُ عَلَى أَنَّهَا كَانَتْ صَلاتَيْنِ لا صَلاةً وَاحِدَةً.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس بیماری کے دوران سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کی جس بیماری کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نعیم بن ابوہند نامی راوی نے اس روایت کے متن میں عاصم بن ابونجود سے مختلف رائے نقل کی ہے۔ عاصم نے یہ بات نقل کی ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مقتدی تھے جبکہ نعیم نے یہ بات نقل کی ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ امام تھے۔ یہ دونوں راوی ثقہ اور حافظ ہیں اور ”متفق“ ہیں۔ تو یہ بات کیسے جائز ہو سکتی ہے کہ ان دونوں میں سے کسی ایک خبر کو پہلے سے موجود حکم کی ناسخ بنا دیا جائے، جبکہ اسی کی مانند ایک روایت بظاہر اس کے مقابلے میں موجود ہے؟ تو اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کی توفیق کے ہمراہ ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ تمام روایات مستند ہیں اور ان میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو دوسری کے مدمقابل ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری کے دوران مسجد میں جماعت کے ساتھ دو مرتبہ نماز ادا کی، ایک نماز ادا نہیں کی تھی۔ ان دو میں سے ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقتدی کے طور پر شریک ہوئے تھے اور دوسری مرتبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم امام کے طور پر شریک ہوئے تھے۔ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو نمازوں میں شرکت کی تھی، ایک نماز میں نہیں کی تھی۔ ایک یہ روایت ہے کہ عبیداللہ بن عبداللہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو آدمیوں کے درمیان چلتے ہوئے تشریف لے گئے تھے، جن میں سے ایک سیدنا عباس اور دوسرے سیدنا علی رضی اللہ عنہما تھے۔ جبکہ مسروق نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بریرہ اور نوبہ رضی اللہ عنہما (نامی کنیزوں) کے درمیان چلتے ہوئے تشریف لے گئے تھے۔ تو یہ بات آپ کی رہنمائی اس چیز کی طرف کرے گی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو نمازیں ادا کی تھیں، ایک نماز ادا نہیں کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2119]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 198، 664، 665، 679، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 418، وابن الجارود فى "المنتقى"، 13، 359، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 123، 1621، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2116، 2117، 2118، 2119، 2120، 2121، 2124، 6588، 6591، 6596، 6599، 6600، 6601، 6602، 6614، 6616، 6617، 6618، 6873، 6874، 7116، والترمذي فى (جامعه) برقم: 362، 3496، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1232، 1233، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1483، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2083» «رقم طبعة با وزير 2116»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، رجاله ثقات رجال الشيخين غيرنعيم بن أبي هند، فإنه من رجال مسلم وحده.
640. باب فرض متابعة الإمام - ذكر الصلاة التي رويت فيها الأخبار المختصرة المجملة الذي تقدم ذكرنا لها
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس نماز کا ذکر جس میں ہمارے پہلے بیان کردہ مختصر اور مجمل خبریں روایت ہوئی ہیں
حدیث نمبر: 2120
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: لَمَّا مَرِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، جَاءَهُ بِلالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلاةِ، فَقَالَ: " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ". قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ وَمَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ يَبْكِ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ. قَالَ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ لِيُصَلِّيَ بِالنَّاسِ - ثَلاثَ مَرَّاتٍ - فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ". قَالَتْ: فَأَرْسَلْنَا إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَوَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً، فَخَرَجَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَرِجْلاهُ تَخُطَّانِ فِي الأَرْضِ، فَلَمَّا حَسَّ بِهِ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَكَانَكَ، قَالَ: فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَأْتَمُّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّاسُ يَأْتَمُّونَ بِأَبِي بَكْرٍ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذَا خَبَرٌ مُخْتَصَرٌ مُجْمِلٌ، فَأَمَّا اخْتِصَارُهُ، فَلَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الْمَوْضِعِ الَّذِي جَلَسَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَعَلَى يَمِينِ أَبِي بَكْرٍ أَوْ عَنْ يَسَارِهِ؟.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بیماری میں مبتلا ہوئے جس میں آپ کا وصال ہوا تھا، تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ کو نماز کے لیے بلانے کے لیے آئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر سے کہو لوگوں کو نماز پڑھا دے۔“ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک نرم دل آدمی ہیں، وہ آپ کی جگہ پر کھڑے ہوئے تو رونے لگ جائیں گے، اگر آپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ ہدایت کریں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں (تو یہ مناسب ہو گا)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر سے کہو لوگوں کو نماز پڑھا دے۔“ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی، پھر فرمایا: ”تم یوسف (علیہ السلام) کے زمانے کی خواتین کی طرح ہو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھجوایا، انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھانا شروع کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طبیعت میں بہتری محسوس ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو آدمیوں کے درمیان ٹیک لگا کر تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں زمین پر لکیر بنا رہے تھے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آپ کی آہٹ محسوس ہوئی تو وہ پیچھے ہٹنے لگے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ ”اپنی جگہ پر رہو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بیٹھ گئے، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کرتے رہے اور لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتدا کرتے رہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت مختصر اور مجمل ہے، جہاں تک اس کے مختصر ہونے کا تعلق ہے تو اس میں اس مقام کا ذکر نہیں ہے جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تھے کہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دائیں طرف بیٹھے تھے یا بائیں طرف بیٹھے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2120]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 198، 664، 665، 679، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 418، وابن الجارود فى "المنتقى"، 13، 359، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 123، 1621، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2116، 2117، 2118، 2119، 2120، 2121، 2124، 6588، 6591، 6596، 6599، 6600، 6601، 6602، 6614، 6616، 6617، 6618، 6873، 6874، 7116، والترمذي فى (جامعه) برقم: 362، 3496، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1232، 1233، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1483، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2083» «رقم طبعة با وزير 2117»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (2115). * [حَسَّ]: قال الشيخ: في الأصل: «أحس». تنبيه!! رقم (2115) = (2118) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، رجاله رجال الشيخين غير سلم بن جنادة، وهو ثقة.
641. باب فرض متابعة الإمام - ذكر الخبر المتقصي للفظة المختصرة التي ذكرناها
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ مختصر لفظ کی تحقیق کرتا ہے
حدیث نمبر: 2121
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" لَمَّا وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً، جَاءَ حَتَّى جَلَسَ عَنْ يَسَارِ أَبِي بَكْرٍ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ قَاعِدًا، وَأَبُو بَكْرٍ قَائِمًا" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَأَمَّا إِجْمَالُ الْخَبَرِ، فَإِنَّ عَائِشَةَ حَكَتْ هَذِهِ الصَّلاةَ إِلَى هَذَا الْمَوْضِعِ، وَآخِرُ الْقِصَّةِ عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُمْ بِالْقُعُودِ أَيْضًا فِي هَذِهِ الصَّلاةِ كَمَا أَمَرَهُمْ بِهِ عِنْدَ سُقُوطِهِ عَنِ فَرَسِهِ عَلَى حَسْبِ مَا ذَكَرْنَاهُ قَبْلُ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طبیعت میں بہتری محسوس ہوئی تو آپ تشریف لائے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بائیں طرف آ کر بیٹھ گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر (نماز پڑھا رہے تھے)۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جہاں تک اس روایت کے مجمل ہونے کا تعلق ہے، تو اس میں اجمال یہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس نماز کا تذکرہ کیا ہے جو اس مقام کے بارے میں ہے، جبکہ دوسرا واقعہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے منقول ہے جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو ”بیٹھنے کا حکم“ دیا تھا۔ وہ بھی اسی نماز کے بارے میں ہے جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس وقت حکم دیا تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر گئے تھے، جیسا کہ ہم اس سے پہلے اس روایت کو ذکر کر چکے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2121]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 198، 664، 665، 679، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 418، وابن الجارود فى "المنتقى"، 13، 359، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 123، 1621، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2116، 2117، 2118، 2119، 2120، 2121، 2124، 6588، 6591، 6596، 6599، 6600، 6601، 6602، 6614، 6616، 6617، 6618، 6873، 6874، 7116، والترمذي فى (جامعه) برقم: 362، 3496، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1232، 1233، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1483، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2083» «رقم طبعة با وزير 2118»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
642. باب فرض متابعة الإمام - ذكر الخبر المفسر للألفاظ المجملة التي تقدم ذكرنا لها في خبر عائشة
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو عائشہ رضی اللہ عنہا کی خبر میں ہمارے بیان کردہ مجمل الفاظ کی تفسیر کرتا ہے
حدیث نمبر: 2122
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهِبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَأَبُو بَكْرٍ يُكَبِّرُ يُسْمِعُ النَّاسَ تَكْبِيرَهُ، قَالَ: فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا فَرَآنَا قِيَامًا، فَأَشَارَ إِلَيْنَا فَقَعَدْنَا، فَصَلَّيْنَا بِصَلاتِهِ قُعُودًا، فَلَمَّا سَلَّمَ، قَالَ:" كِدْتُمْ أَنْ تَفْعَلُوا فِعْلَ فَارِسَ وَالرُّومَ يَقُومُونَ عَلَى مُلُوكِهِمْ وَهُمْ قُعُودٌ، فَلا تَفْعَلُوا ائْتَمُّوا بِإِمَامِكُمْ، إِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِي هَذَا الْخَبَرِ الْمُفَسِّرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَعَدَ عَنْ يَسَارِ أَبِي بَكْرٍ، وَتَحَوَّلَ أَبُو بَكْرٍ مَأْمُومًا يَقْتَدِي بِصَلاتِهِ، وَيُكَبِّرُ يُسْمِعُ النَّاسَ التَّكْبِيرَ لِيَقْتَدُوا بِصَلاتِهِ، أَمَرَهُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ بِالْقُعُودِ حِينَ رَآهُمْ قِيَامًا، وَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلاتِهِ أَمَرَهُمْ أَيْضًا بِالْقُعُودِ، إِذَا صَلَّى إِمَامُهُمْ قَاعِدًا، وَقَدْ شَهِدَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ صَلاتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَيْثُ سَقَطَ عَنْ فَرَسِهِ فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ، وَكَانَ سُقُوطُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْفَرَسِ فِي شَهْرِ ذِي الْحِجَّةِ آخِرَ سَنَةِ خَمْسٍ مِنَ الْهِجْرَةِ، وَشَهِدَ هَذِهِ الصَّلاةَ فِي عِلَّتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَدَّى كُلَّ خَبَرٍ بِلَفْظِهِ، أَلا تَرَاهُ يَذْكُرُ فِي هَذِهِ الصَّلاةِ رَفْعَ أَبِي بَكْرٍ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ لِيَقْتَدِيَ النَّاسُ بِهِ، وَتِلْكَ الصَّلاةُ الَّتِي صَلاهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ عِنْدَ سُقُوطِهِ عَنْ فَرَسِهِ، لَمْ يَحْتَجْ أَبُو بَكْرٍ إِلَى أَنْ يَرْفَعَ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ لَيُسْمِعَ النَّاسَ تَكْبِيرَهُ عَلَى صِغَرُ حُجْرَةُ عَائِشَةَ، وَإِنَّمَا رَفْعُهُ بِالصَّوْتِ بِالتَّكْبِيرِ فِي الْمَسْجِدِ الأَعْظَمِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عِلَّتِهِ، فَلَمَّا صَحَّ مَا وَصَفْنَا لَمْ يَجُزْ أَنْ يُجْعَلَ بَعْضُ هَذِهِ الأَخْبَارِ نَاسِخًا لِمَا تَقَدَّمَ عَلَى حَسْبِ مَا وَصَفْنَاهُ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے، ہم نے آپ کے پیچھے نماز ادا کی، آپ بیٹھ کر نماز ادا کر رہے تھے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کی تکبیر کی آواز لوگوں تک پہنچا رہے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف توجہ کی تو آپ نے ہمیں کھڑے ہوئے ملاحظہ کیا، آپ نے اشارہ کیا تو ہم بیٹھ گئے اور ہم نے بیٹھ کر وہ نماز ادا کی، آپ نے سلام پھیرا اور ارشاد فرمایا: ”قریب تھا کہ تم وہ عمل کرتے جو اہل فارس اور اہل روم کرتے ہیں۔ وہ لوگ اپنے بادشاہوں کے سامنے کھڑے رہتے ہیں اور بادشاہ بیٹھے رہتے ہیں، تم ایسا نہ کرو، تم اپنے امام کی پیروی کرو، اگر وہ کھڑا ہو کر نماز ادا کرے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز ادا کرو، اگر وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ وضاحتی روایت اس بات کا واضح بیان ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بائیں طرف بیٹھے تھے، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مقتدی بن گئے تھے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی پیروی کر رہے تھے۔ وہ تکبیر کہتے ہوئے تکبیر کی آواز لوگوں تک پہنچا رہے تھے تاکہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی پیروی کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قیام کی حالت میں دیکھا تو آپ نے ان کو بیٹھنے کا حکم دیا تھا۔ جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو پھر آپ نے ان کو یہی حکم دیا کہ جب ان کا امام بیٹھ کر نماز ادا کر رہا ہو، تو وہ بھی بیٹھ کر نماز ادا کریں۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نماز میں شریک ہوئے تھے جب آپ اپنے گھوڑے سے گر کر زخمی ہو گئے تھے اور آپ کا دایاں پہلو زخمی ہوا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گھوڑے سے گرنے کا واقعہ ذی الحجہ کے مہینے میں پیش آیا تھا، جو سن پانچ ہجری کے آخر میں پیش آیا تھا۔ اور سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے دوران ادا کی جانے والی نماز میں بھی شریک ہوئے تھے، تو انہوں نے دونوں میں سے ہر ایک روایت اپنے لفظوں میں بیان کر دی۔ کیا آپ نے یہ بات نوٹ نہیں کی کہ انہوں نے اس نماز کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بلند آواز میں تکبیر کہہ رہے تھے تاکہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں نماز ادا کریں؟ جہاں تک اس نماز کا تعلق ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے سے گرنے کے بعد اپنے گھر میں ادا کی تھی، تو اس میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلند آواز میں تکبیر کہنے کی ضرورت نہیں تھی تاکہ لوگوں تک اپنی تکبیر کی آواز پہنچائیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا حجرہ چھوٹا تھا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بلند آواز میں تکبیر مسجد میں کہی تھی جو بڑی تھی۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری کے دوران نماز ادا کی تھی تو ہم نے جو چیز ذکر کی ہے، اس سے وہ بات مستند طور پر ثابت ہو گئی ہے؛ اب یہ بات جائز نہیں ہو گی کہ ان روایات میں سے کسی ایک کو پہلے سے موجود حکم کی ناسخ قرار دیا جائے، جیسا کہ ہم نے یہ بات ذکر کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2122]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 413، وابن الجارود فى "المنتقى"، 241، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 486، 873، 886، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2122، 2123، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 797، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1240، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14814» «رقم طبعة با وزير 2119»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (619): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، يزيد بن موهب ثقة، وباقي السند من رجال الشيخين غير أبي الزبير، فمن رجال مسلم
643. باب فرض متابعة الإمام - ذكر خبر ثان يدل على صحة ما ذكرناه قبل
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو ہمارے پہلے بیان کردہ کی صحت کو ثابت کرتا ہے
حدیث نمبر: 2123
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَهْلٍ الْجَعْفَرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ أَبُو عَوْفٍ الرُّؤَاسِيُّ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الظُّهْرِ وَهُوَ جَالِسٌ وَأَبُو بَكْرٍ خَلْفَهُ، فَإِذَا كَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ أَبُو بَكْرٍ يُسْمِعُنَا، قَالَ: فَنَظَرَنَا قِيَامًا، فَقَالَ:" اجْلِسُوا"، أَوْمَأَ بِذَلِكَ إِلَيْهِمْ، قَالَ: فَجَلَسْنَا، فَلَمَّا قَضَى الصَّلاةَ قَالَ:" كِدْتُمْ تَفْعَلُوا فِعْلَ فَارِسَ وَالرُّومَ بِعُظَمَائِهِمِ، ائْتَمُّوا بِأَئِمَّتِكُمْ، فَإِنْ صَلُّوا جُلُوسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا، وَإِنْ صَلُّوا قِيَامًا فَصَلُّوا قِيَامًا" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھائی اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بلند آواز میں تکبیر کہی تاکہ ہم تک آواز آئے، راوی کہتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کھڑا ہوا دیکھا تو فرمایا: ”تم لوگ بیٹھ جاؤ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف اس کا اشارہ کیا (کہ تم لوگ بیٹھ جاؤ)، راوی کہتے ہیں: ہم بیٹھ گئے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم ایسا طرز عمل اختیار کرنے لگے تھے جو اہل فارس اور اہل روم اپنے بادشاہوں کے ساتھ کرتے ہیں، تم لوگ اپنے ائمہ کی پیروی کرو؛ اگر وہ بیٹھ کر نماز ادا کریں تو تم بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو اور اگر وہ کھڑے ہو کر نماز ادا کریں تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز ادا کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2123]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 413، وابن الجارود فى "المنتقى"، 241، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 486، 873، 886، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2122، 2123، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 797، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1240، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14814» «رقم طبعة با وزير 2120»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط الحسن بن سهل الجعفري: روى عنه الحسن بن سفيان، وأبو زرعة وغيرهما، وذكره ابن أبي حاتم 3/ 17 فلم يذكر فيه جرحاً ولا تعديلاً، وأورده المؤلف في «الثقات» 8/ 177، ونسبه الجعفي، ويغلب على الظن أنه تحريف من النساخ، وباقي رجال الصحيح.
644. باب فرض متابعة الإمام - ذكر الصلاة الأخرى التي توهم أكثر الناس أنها معارضة الأخبار الأخر التي ذكرناها
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس دوسری نماز کا ذکر جو اکثر لوگوں کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ ہمارے بیان کردہ دیگر خبروں سے متعارض ہے
حدیث نمبر: 2124
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، أَحْسَبُهُ عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: أُغْمِيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ:" هَلْ نُودِيَ بِالصَّلاةِ؟". فَقُلْنَا: لا. فَقَالَ:" مُرِي بِلالا فَلْيُبَادِرْ بِالصَّلاةِ، وَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ أَبُو بَكْرٍ". قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ لا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَقُومَ مَقَامَكَ. قَالَتْ: فَنَظَرَ إِلَيَّ حِينَ فَرَغَ مِنْ كَلامِهِ، ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ:" هَلْ نُودِيَ بِالصَّلاةِ؟". قَالَتْ: فَقُلْتُ: لا. قَالَ:" مُرِي بِلالا فَلْيُنَادِ بِالصَّلاةِ، وَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ أَبُو بَكْرٍ". قَالَتْ: فَأَوْمَأَتْ إِلَى حَفْصَةَ، فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ لا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَقْرَأَ إِلا يَبْكِي. قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيْهَا حِينَ فَرَغَتْ مِنْ كَلامِهَا، ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ:" هَلْ نُودِيَ بِالصَّلاةِ؟". قَالَتْ: فَقُلْتُ: لا فَقَالَ: " مُرِي بِلالا فَلْيُنَادِ بِالصَّلاةِ، وَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ أَبُو بَكْرٍ، فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ". ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَتْ: فَأَقَامَ بِلالٌ الصَّلاةَ، وَصَلَّى بِالنَّاسِ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ أَفَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ بِنُوبَةَ وَبَرِيرَةَ فَاحْتَمَلاهُ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَصَابِعِ قَدَمَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَخُطُّ فِي الأَرْضِ، قَالَتْ: فَلَمَّا أَحَسَّ أَبُو بَكْرٍ بِمَجِيءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَسْتَأْخِرَ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنْ يَثْبُتَ، قَالَتْ: وَجِيءَ بِنَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوُضِعَ بِحِذَاءِ أَبِي بَكْرٍ فِي الصَّفِّ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذَا خَبَرٌ يُوهِمُ مَنْ لَمْ يُحْكِمْ صِنَاعَةِ الأَخْبَارِ وَلا يَفْقَهُ فِي صَحِيحِ الآثَارِ أَنَّهُ يُضَادُّ سَائِرَ الأَخْبَارِ الَّتِي تَقَدَّمَ ذِكْرُنَا لَهَا، وَلَيْسَ بَيْنَ أَخْبَارِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَضَادٌّ وَلا تَهَاتُرٌ وَلا يُكَذِّبُ بَعْضُهَا بَعْضًا، وَلا يُنْسَخُ بِشَيْءٍ مِنْهَا الْقُرْآنُ بَلْ يُفَسَّرُ عَنْ مُجْمَلِ الْكِتَابِ وَمُبْهَمِهِ، وَيُبَيِّنُ عَنْ مُخْتَصَرِهِ وَمُشْكِلِهِ، وَقَدْ دَلَّلْنَا بِحَمْدِ اللَّهِ وَمَنِّهِ عَلَى أَنَّ هَذِهِ الأَخْبَارَ الَّتِي رُوِيَتْ كَانَتْ فِي صَلاتَيْنِ لا فِي صَلاةٍ وَاحِدَةٍ، عَلَى حَسْبِ مَا وَصَفْنَاهُ، فَأَمَّا الصَّلاةُ الأُولَى فَكَانَ خُرُوجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهَا بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَكَانَ فِيهَا إِمَامًا، وَصَلَّى بِهِمْ قَاعِدًا وَأَمَرَهُمْ بِالْقُعُودِ فِي تِلْكَ الصَّلاةِ، وَهَذِهِ الصَّلاةُ كَانَ خُرُوجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهَا بَيْنَ بَرِيرَةَ وَنُوبَةَ، وَكَانَ فِيهَا مَأْمُومًا وَصَلَّى قَاعِدًا فِي الصَّفِّ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر بے ہوشی طاری ہو گئی، جب آپ کو ہوش آیا تو آپ نے دریافت فرمایا: ”کیا نماز کے لیے اذان دے دی گئی ہے؟“ ہم نے عرض کی: جی نہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال سے کہو وہ نماز کے لیے جلدی کرے اور ابوبکر لوگوں کو نماز پڑھا دے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک نرم دل آدمی ہیں، وہ آپ کی جگہ پر کھڑے نہیں ہو سکیں گے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھا جب آپ کلام کر کے فارغ ہوئے تھے، پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی، جب آپ کو ہوش آیا تو آپ نے دریافت فرمایا: ”کیا نماز کے لیے اذان ہو گئی ہے؟“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کی: جی نہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال سے کہو نماز کے لیے اذان دے اور ابوبکر لوگوں کو نماز پڑھا دے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی طرف اشارہ کیا تو انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک نرم دل آدمی ہیں، وہ قرأت نہیں کر سکیں گے اور روتے رہیں گے، راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بات ختم ہونے پر ان کی طرف دیکھا، پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی، جب آپ کو ہوش آیا تو آپ نے دریافت فرمایا: ”کیا نماز کے لیے اذان دے دی گئی ہے؟“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کی: جی نہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال سے کہو نماز کے لیے اذان دے اور ابوبکر لوگوں کو نماز پڑھا دے، تم یوسف (علیہ السلام) کے زمانے کی عورتوں کی طرح ہو۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر بے ہوشی طاری ہو گئی، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے نماز کے لیے اقامت کہی، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھانا شروع کی، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوش آیا تو آپ نوبہ اور بریرہ رضی اللہ عنہما کے ساتھ تشریف لے گئے، ان دونوں نے آپ کو ٹیک دی ہوئی تھی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں پاؤں کی انگلیوں کا منظر آج بھی میری نگاہ میں ہے، وہ زمین پر نشان بنا رہی تھیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد محسوس ہوئی تو انہوں نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ وہ اپنی جگہ پر رہیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو لا کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ صف میں بٹھا دیا گیا، (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں): یہ روایت اس شخص کو غلط فہمی کا شکار کرتی ہے جو علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا اور مستند روایات کا فہم نہیں رکھتا اور وہ اس بات کا قائل ہے کہ یہ دیگر تمام روایات کے برخلاف ہے جو اس سے پہلے ہم ذکر کر چکے ہیں، حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول روایات میں کوئی تضاد اور کوئی اختلاف نہیں ہوتا اور نہ ان میں سے کوئی ایک کسی دوسری کی تکذیب کرتی ہے اور نہ ہی ان میں سے کسی ایک روایت کے ذریعے قرآن کے حکم کو منسوخ قرار دیا جا سکتا ہے بلکہ اس کے ذریعے کتاب کے مجمل اور مبہم حکم کی وضاحت کی جاتی ہے اور اس کے مشکل اور مختصر حکم کو بیان کیا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے تحت ہم اس بات کی طرف رہنمائی کر چکے ہیں کہ یہ تمام روایات جو نقل کی گئی ہیں، یہ دو نمازوں کے بارے میں ہیں، ایک نماز کے بارے میں نہیں جیسا کہ ہم نے پہلے یہ بات نقل کی ہے، جہاں تک پہلی نماز کا تعلق ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز کی ادائیگی کے لیے دو صاحبان کے درمیان چلتے ہوئے تشریف لے گئے تھے اور آپ امام کے طور پر اس نماز میں شامل ہوئے تھے، آپ نے بیٹھ کر لوگوں کو نماز پڑھائی تھی اور آپ نے اس نماز میں بھی لوگوں کو بیٹھ کر نماز ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ وہ نماز ہے جس کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ نوبہ رضی اللہ عنہا (نامی کنیزوں کے درمیان چلتے ہوئے) تشریف لے گئے تھے، آپ اس میں مقتدی کے طور پر شریک ہوئے تھے اور آپ نے اس میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف میں بیٹھ کر نماز ادا کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2124]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 198، 664، 665، 679، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 418، وابن الجارود فى "المنتقى"، 13، 359، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 123، 1621، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2116، 2117، 2118، 2119، 2120، 2121، 2124، 6588، 6591، 6596، 6599، 6600، 6601، 6602، 6614، 6616، 6617، 6618، 6873، 6874، 7116، والترمذي فى (جامعه) برقم: 362، 3496، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1232، 1233، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1483، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2083» «رقم طبعة با وزير 2121»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (2115). تنبيه!! رقم (2115) = (2118) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله رجال الشيخين غير نعيم بن أبي هند، فإنه من رجال مسلم وحده.
645. باب فرض متابعة الإمام - ذكر البيان بأن هذه الصلاة كانت آخر الصلاتين اللتين وصفناهما قبل
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس بات کا بیان کہ یہ نماز ہمارے بیان کردہ دونوں نمازوں میں سے آخری تھی
حدیث نمبر: 2125
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ الرَّمْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " آخِرُ صَلاةٍ صَلاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الْقَوْمِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ" يُرِيدُ قَاعِدًا خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذَا الْخَبَرُ يَنْفِي الارْتِيَابَ عَنِ الْقُلُوبِ أَنَّ شَيْئًا مِنْ هَذِهِ الأَخْبَارِ يُضَادُّ مَا عَارَضَهَا فِي الظَّاهِرِ وَلا يَتَوَهَّمَنَّ مُتَوَهِّمٌ أَنَّ الْجَمْعَ بَيْنَ الأَخْبَارِ عَلَى حَسْبِ مَا جَمَعْنَا بَيْنَهَا فِي هَذَا النَّوْعِ مِنْ أَنْوَاعِ السُّنَنِ يُضَادُّ قَوْلَ الشَّافِعِيِّ رَحْمَةُ اللَّهِ وَرِضْوَانُهُ عَلَيْهِ، وَذَلِكَ أَنَّ كُلَّ أَصْلٍ تَكَلَّمْنَا عَلَيْهِ فِي كُتُبِنَا، أَوْ فَرْعٍ اسْتَنْبَطْنَاهُ مِنَ السُّنَنِ فِي مُصَنَّفَاتِنَا، هِيَ كُلُّهَا قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَهُوَ رَاجِعٌ عَمَّا فِي كُتُبِهِ، وَإِنْ كَانَ ذَلِكَ الْمَشْهُورَ مِنْ قَوْلِهِ وَذَاكَ أَنِّي سَمِعْتُ ابْنَ خُزَيْمَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ، يَقُولُ: إِذَا صَحَّ لَكُمُ الْحَدِيثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخُذُوا بِهِ وَدَعُوا قُولِي. وَللِشَّافِعِيِّ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ فِي كَثْرَةِ عِنَايَتِهِ بِالسُّنَنِ، وَجَمْعِهِ لَهَا، وَتَفَقُّهِهِ فِيهَا، وَذَبِّهِ عَنْ حَرِيمِهَا، وَقَمْعِهِ مَنْ خَالَفَهَا، زَعَمَ أَنَّ الْخَبَرَ إِذَا صَحَّ فَهُوَ قَائِلٌ بِهِ، رَاجِعٌ عَمَّا تَقَدَّمَ مِنْ قَوْلِهِ فِي كُتُبِهِ، وَهَذَا مِمَّا ذَكَرْنَاهُ فِي كِتَابِ الْمُبَيِّنِ، أَنَّ لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ ثَلاثُ كَلِمَاتٍ، مَا تَكَلَّمُ بِهَا أَحَدٌ فِي الإِسْلامِ قَبْلَهُ، وَلا تَفَوَّهَ بِهَا أَحَدٌ بَعْدَهُ، إِلا وَالْمَأْخَذُ فِيهَا كَانَ عَنْهُ: إِحْدَاهَا: مَا وَصَفْتُ. وَالثَّانِيَةُ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ، يَقُولُ: مَا نَاظَرْتُ أَحَدًا قَطُّ فَأَحْبَبْتُ أَنْ يُخْطِئَ. وَالثَّالِثَةُ: سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ مُحَمَّدٍ الدَّيْلَمِيَّ بِأَنْطَاكِيَّةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الرَّبِيعَ بْنَ سُلَيْمَانَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ، يَقُولُ: وَدِدْتُ أَنَّ النَّاسَ تَعَلَّمُوا هَذِهِ الْكُتُبَ، وَلَمْ يَنْسِبُوهَا إِلَيَّ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے ساتھ جو آخری نماز ادا کی تھی، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی کپڑے میں ادا کی تھی جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «التَّوَشُّحُ» (توشیح) کے طور پر اوڑھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کی تھی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں) یہ روایت دلوں سے شک کو ختم کر دیتی ہے کہ ان روایات میں بظاہر کوئی تضاد پایا جاتا ہے اور کوئی بھی شخص اس غلط فہمی کا شکار نہ ہو کہ ہم نے ان روایات کے درمیان جو تطبیق دی ہے وہ امام شافعی رحمہ اللہ کے اس قول کے برخلاف ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر وہ بنیادی اصول جس کے بارے میں ہم نے اپنی کتابوں میں کلام کیا اور ہر وہ فروعی مسئلہ جس کے بارے میں ہم نے احادیث سے استنباط کیا اور ان سب کو اپنی تصنیفات میں ذکر کیا، وہ سارے کے سارے امام شافعی رحمہ اللہ کے اقوال ہی ہوں گے اور وہ اس بارے میں اس چیز کی طرف لوٹیں گے جو ان کی کتابوں میں مذکور ہیں، اگرچہ یہ بات ان کے مشہور قول کے طور پر ہی کیوں نہ ہو، اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے امام مزنی رحمہ اللہ کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ کو یہ بیان فرماتے ہوئے سنا کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی مستند حدیث تمہارے سامنے ثابت ہو جائے تو تم اس کو اختیار کر لو اور میرے قول کو چھوڑ دو۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے احادیث کے بارے میں بڑی کوشش کی، انہیں جمع کیا اور ان کا فہم حاصل کیا اور جس شخص نے ان کے خلاف رائے پیش کی اس کی بھرپور مخالفت کی، وہ یہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی روایت مستند طور پر ثابت ہو جائے وہ بھی اس حدیث کے مطابق مسئلے کے قائل ہوں گے اور اس چیز سے رجوع کرنے والے شمار ہوں گے جو (حدیث میں مذکور مسئلے کے خلاف ہو) اور اس سے پہلے ان کی کتابوں میں تحریر ہو چکا ہو، ہم اس سے پہلے اپنی کتاب ”المبین“ میں یہ بات بیان کر چکے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے تین کلمات ایسے ہیں جو ان سے پہلے اسلام میں کسی بھی شخص نے بیان نہیں کیے اور نہ ہی ان کے بعد کسی شخص نے کہے ہیں، اگر بعد میں بھی کسی نے بیان کیے ہوں تو اس کا ماخذ امام شافعی رحمہ اللہ ہی ہوں گے، ان میں سے ایک قول وہ ہے جو میں بیان کر چکا ہوں، دوسرا قول وہ ہے جسے محمد بن منذر نے حسن بن محمد کے حوالے سے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے جب بھی کسی کے ساتھ بحث کی تو میں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ وہ غلطی کر جائے، تیسرا قول وہ ہے جو موسیٰ بن محمد نے ربیع بن سلیمان کے حوالے سے نقل کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میری یہ خواہش ہے کہ لوگ ان کتابوں کا علم حاصل کریں لیکن ان کو میری طرف منسوب نہ کریں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2125]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2125، 2335، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 862، والترمذي فى (جامعه) برقم: 363، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12126» «رقم طبعة با وزير 2122»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر التعليق. * [إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ الرَّمْلِيُّ] قال الشيخ: هو ثقة بلا خِلاف، ومن فوقه ثِقات رجال الشيخين غير أيُّوب بن سُلَيمَان، وهو القرشي؛ فهو مِنْ رِجَال البخاري. وقولُ المُعَلِّق (5/ 496) أَنَّهُ من رجال الشيخين من أوهامه الكثيرة؛ انظر «الجمع بين رجال الصحيحين» (1/ 35)، وكتب التراجم؛ كالتهذيب وفروعه. وأبو بكر بن أبي أُويسٍ: هو عبد الحميد بن عبد الله الأصبحيُّ المدنيُّ. وقد أخرجه الترمذيُّ (2/ 36 / 363) من غير طريقه عن حُمَيد الطويل، وقال: «حديث حسن صحيح»، وهو كما قال. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، إسحاق بن إبراهيم بن سويد الرملي، ثقة، روى له أبو داود والنسائي، ومن فوقه من رجال الشيخين، وأبو بكر بن أبي أويس: هو عبد الحميد بن عبد الله الأصبحي.