🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
654. باب فرض متابعة الإمام - ذكر الأمر لمن أم الناس بالتخفيف لوجود أصحاب العلل خلفه
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ جو شخص لوگوں کی امامت کرتا ہے اسے بیمار لوگوں کی موجودگی کی وجہ سے تخفیف کرنی چاہیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2136
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ بِالنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ، فَإِنَّ فِي النَّاسِ الضَّعِيفَ، وَالسَّقِيمَ، وَذَا الْحَاجَةِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کوئی شخص لوگوں کو نماز پڑھائے، تو اسے مختصر نماز پڑھانی چاہیے، کیونکہ لوگوں میں کمزور، بیمار اور کام کاج والے لوگ بھی ہوتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2136]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 703، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 467، ومالك فى (الموطأ) برقم: 442، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1760، 2136، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 822، وأبو داود فى (سننه) برقم: 794، 795، والترمذي فى (جامعه) برقم: 236، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7592، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1017» «رقم طبعة با وزير 2133»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (759 - 760)، «الإرواء» (2/ 290 / 512): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2137
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لأَتَأَخَّرُ عَنْ صَلاةِ الْغَدَاةِ مِمَّا يُطِيلُ بِنَا فُلانٌ. فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا رَأَيْتُهُ فِي مَوْعِظَةٍ أَشَدَّ غَضَبًا مِنْهُ يَوْمَئِذٍ، فَقَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ، فَأَيُّكُمْ مَا صَلَّى بِالنَّاسِ فَلْيَتَجَوَّزْ، فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ، وَالْكَبِيرَ، وَذَا الْحَاجَةِ" .
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں صبح کی نماز میں اس لیے شریک نہیں ہوتا، کیونکہ فلاں صاحب ہمیں طویل نماز پڑھاتے ہیں؛ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے، (راوی کہتے ہیں) وعظ کرتے ہوئے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دن سے زیادہ شدید غصے میں کبھی نہیں دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! تم میں سے کچھ لوگ (دوسروں کو) متنفر کرتے ہیں، تم میں سے جو بھی شخص لوگوں کو نماز پڑھائے اسے مختصر نماز پڑھانی چاہیے کیونکہ لوگوں میں کمزور، عمر رسیدہ اور بوسیدہ اور کام کاج والے لوگ بھی ہوتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2137]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 90، 702، 704، 6110، 7159، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 466، وابن الجارود فى "المنتقى"، 356، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1605، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2137، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5860، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1294، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 984، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5347، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17339، والحميدي فى (مسنده) برقم: 458» «رقم طبعة با وزير 2134»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (759): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
655. باب فرض متابعة الإمام - ذكر ما يستحب للإمام أن تكون صلاته بالقوم خفيفة في تمام
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس بات کا ذکر کہ امام کے لیے مستحب ہے کہ وہ لوگوں کے ساتھ اپنی نماز کو مکمل طور پر ہلکی رکھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2138
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: " مَا صَلَّيْتُ خَلْفَ إِمَامٍ قَطُّ أَخَفَّ صَلاةً، وَلا أَتَمَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے کبھی کسی ایسے امام کے پیچھے نماز ادا نہیں کی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مختصر اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مکمل نماز ادا کرتا ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2138]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 469، 473، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1604، 1717، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1759، 1856، 2138، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 789، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 823، وأبو داود فى (سننه) برقم: 853، والترمذي فى (جامعه) برقم: 237، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12148» «رقم طبعة با وزير 2135»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - مضى (1853). تنبيه!! رقم (1853) = (1856) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
656. باب فرض متابعة الإمام - ذكر الإباحة للمرء أن يخفف صلاته إذا علم أن خلفه من له شغل يحتاج أن يرجع إليه
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ آدمی اپنی نماز کو ہلکی کر سکتا ہے اگر اسے معلوم ہو کہ اس کے پیچھے کوئی ایسا شخص ہے جسے اپنے کام کی طرف لوٹنے کی ضرورت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2139
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لأَدْخُلُ فِي الصَّلاةِ أُرِيدُ أَنْ أُطِيلَهَا، فَأَسْمَعَ بُكَاءَ الصَّبِيِّ، فَأُخَفِّفَ مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ شِدَّةِ وَجْدِ أُمِّهِ بِهِ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب میں نماز شروع کرتا ہوں تو بعض اوقات میرا ارادہ ہوتا ہے کہ میں طویل نماز ادا کروں گا، لیکن پھر میں کسی بچے کے رونے کی آواز سن لیتا ہوں تو میں نماز کو مختصر کر دیتا ہوں، کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ اس کی وجہ سے اس کی والدہ کو کتنی پریشانی ہوتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2139]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 709، 710، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 470، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1609، 1610، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2139، والترمذي فى (جامعه) برقم: 376، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 989، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4111، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1875، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12249» «رقم طبعة با وزير 2136»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (755): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده على شرطهما، سعيد: هو ابن أبي عروبة، وهو من أثبت الناس في قتادة.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
657. باب فرض متابعة الإمام - ذكر ما يستحب للإمام أن يطول الأوليين من صلاته ويقصر في الأخريين منها
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس بات کا ذکر کہ امام کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنی نماز کی پہلی دو رکعتوں کو لمبا کرے اور آخری دو کو مختصر کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2140
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ لِسَعْدٍ : قَدْ شَكَاكَ أَهْلُ الْكُوفَةِ فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى فِي الصَّلاةِ، فَقَالَ: " أُطِيلُ الأُولَيَيْنِ، وأَحْذِمُ فِي الأُخْرَيَيْنِ، وَمَا آلُو مِنْ صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" . فَقَالَ: ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ. أَبُو عَوْنٍ اسْمُهُ: مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ.
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: اہل کوفہ نے ہر معاملے میں آپ کی شکایت کی ہے، یہاں تک کہ نماز کے بارے میں بھی کی ہے، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں پہلی دو رکعات طویل ادا کرتا ہوں اور آخری دو رکعات مختصر ادا کرتا ہوں اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز کے طریقے کے حوالے سے کوئی کوتاہی نہیں کرتا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ کے بارے میں یہی گمان تھا۔ ابوعون نامی راوی کا نام محمد بن عبیداللہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2140]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 755، 770، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 453، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 508، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1859، 1937، 2140، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1001، وأبو داود فى (سننه) برقم: 803، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2523، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1529» «رقم طبعة با وزير 2137»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (1934). تنبيه!! رقم (1934) = (1937) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، وهو مكرر (1937)، وانظر (1859).
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
658. باب فرض متابعة الإمام - ذكر الإباحة للمرء أن يصلي بغيره ويطول صلاته
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ آدمی دوسرے کے ساتھ نماز پڑھے اور اپنی نماز کو لمبا کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2141
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَطَالَ حَتَّى هَمَمْتُ بِأَمْرِ سُوءٍ". قَالَ: قِيلَ: وَمَا هَمَمْتَ بِهِ؟. قَالَ: هَمَمْتُ أَنْ أَجْلِسَ وَأَدَعَهُ.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل نماز ادا کی، یہاں تک کہ میں نے ایک برا خیال دل میں سوچ لیا۔ راوی کہتے ہیں: ان سے دریافت کیا گیا: آپ نے کیا ارادہ کیا تھا؟ انہوں نے کہا: میں نے یہ ارادہ کیا تھا، میں بیٹھ جاتا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز ادا کرنے دیتا ہوں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2141]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1135، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 773، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1154، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2141، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1418، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3720» «رقم طبعة با وزير 2138»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «مختصر الشمائل» (234). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، أبو خيثمة: هو زهير بن حرب، وجرير: هو ابن عبد الحميد.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
659. باب فرض متابعة الإمام - ذكر جواز صلاة الإمام على مكان أرفع من المأمومين إذا أراد تعليم القوم الصلاة
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس بات کی جواز کا ذکر کہ امام مأموموں سے بلند مقام پر نماز پڑھائے اگر وہ لوگوں کو نماز سکھانا چاہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2142
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، أَنَّ رِجَالا أَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ ، وَقَدِ امْتَرَوْا فِي الْمِنْبَرِ: مِمَّ عُودُهُ؟ فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لأَعْرِفُ مِمَّ هُوَ؟ وَلَقَدْ رَأَيْتُ أَوَّلَ يَوْمٍ جَلَسَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى فُلانَةً، امْرَأَةٌ سَمَّاهَا سَهْلٌ، أَنْ مُرِي غُلامَكِ النَّجَّارَ أَنْ يَعْمَلَ لِي أَعْوَادًا أَجْلِسُ عَلَيْهَا إِذَا كَلَّمْتُ النَّاسَ، فَأَمَرَتْهُ فَعَمِلَهَا مِنْ طَرْفَاءِ الْغَابَةِ، ثُمَّ جَاءَ بِهَا، فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ بِهَا فَوَضَعَتْ هَاهُنَا، ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَيْهَا، وَكَبَّرَ وَهُوَ عَلَيْهَا، وَرَكَعَ وَهُوَ عَلَيْهَا، وَرَفَعَ وَهُوَ عَلَيْهَا، وَتَوَلَّى الْقَهْقَرِيَ، فَسَجَدَ وَرَقَى عَلَى الْمِنْبَرِ، ثُمَّ عَادَ، فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّمَا صَنَعْتُ هَذَا لِتَأْتَمُّوا، وَلِتَعْلَمُوا صَلاتِي".
ابوحازم بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کے درمیان منبر کے بارے میں بحث ہو گئی تھی کہ وہ کون سی لکڑی سے بنایا گیا تھا۔ ان لوگوں نے اس بارے میں سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں یہ بات جانتا ہوں کہ یہ کون سی لکڑی سے بنایا گیا تھا اور میں اس دن دیکھ رہا تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی مرتبہ منبر پر تشریف فرما ہوئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں خاتون کی طرف پیغام بھجوایا تھا، سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کا نام بھی بیان کیا تھا (بعد کا کوئی راوی اس کا نام بھول گیا)، پیغام یہ تھا: ”تم اپنے بڑے لڑکے سے کہو وہ ہمارے لیے لکڑیوں سے کوئی چیز بنا دے جس پر میں بیٹھ جایا کروں اس وقت جب میں نے لوگوں سے کلام کرنا ہوتا ہے“، تو اس خاتون نے اس لڑکے کو یہ ہدایت کی، اس نے جنگل کی لکڑیوں سے اسے بنا دیا، پھر وہ اس کو لے کر آیا، اس خاتون نے یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھجوایا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اسے وہاں رکھا گیا، پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز ادا کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اس پر موجود تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر موجود تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع سے سر اٹھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر موجود تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم الٹے قدموں پیچھے ہٹے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (زمین پر) سجدہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ منبر پر چڑھ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا اور جب نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! میں نے ایسا اس لیے کیا ہے تاکہ تم میری پیروی کرو اور تم میری نماز (کے طریقے) کے بارے میں جان لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2142]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 377، 448، 917، 2094، 2569، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 544، وابن الجارود فى "المنتقى"، 342، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1521، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2142، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 738، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1080، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1416، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23263، 23318، 23335، والحميدي فى (مسنده) برقم: 955» «رقم طبعة با وزير 2139»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صفة الصلاة» (ص 81). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، أبو حازم: هو سلمة بن دينار.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
660. باب فرض متابعة الإمام - ذكر خبر قد يوهم غير المتبحر في صناعة العلم أن صلاة الإمام على موضع أرفع من المأمومين غير جائزة
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو علم کی صنعت سے ناواقف کو یہ وہم دلاتا ہے کہ امام کا مأموموں سے بلند مقام پر نماز پڑھانا جائز نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2143
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنِ الشَّافِعِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامٍ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا حُذَيْفَةُ عَلَى دُكَّانٍ مُرْتَفِعٍ، فَسَجَدَ عَلَيْهِ، فَجَبَذَهُ أَبُو مَسْعُودٍ، فَتَابَعَهُ حُذَيْفَةُ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلاةَ، قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ" أَلَيْسَ قَدْ نُهِيَ عَنْ هَذَا؟". فَقَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ:" أَلَمْ تَرَنِي قَدْ تَابَعْتُكَ؟" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" إِذَا كَانَ الْمَرْءُ إِمَامًا، وَأَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ بِقَوْمٍ حَدِيثٍ عَهْدُهُمْ بِالإِسْلامِ، ثُمَّ قَامَ عَلَى مَوْضِعٍ مُرْتَفِعٍ مِنَ الْمَأْمُومِينَ لِيُعَلِّمَهُمْ أَحْكَامَ الصَّلاةِ عِيَانًا"، كَانَ ذَلِكَ جَائِزًا عَلَى مَا فِي خَبَرِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، وَإِذَا كَانَتْ هَذِهِ الْعِلَّةُ مَعْدُومَةً لَمْ يُصَلِّ عَلَى مَقَامٍ أَرْفَعَ مِنْ مَقَامِ الْمَأْمُومِينَ عَلَى مَا فِي خَبَرِ أَبِي مَسْعُودٍ، حَتَّى لا يَكُونَ بَيْنَ الْخَبَرَيْنِ تَضَادٌّ وَلا تَهَاتُرٌ.
ہمام بیان کرتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز ایک بلند چبوترے پر پڑھائی، انہوں نے اس پر سجدہ کیا تو سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے انہیں کھینچ لیا، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ان کی بات مان لی اور نماز مکمل کی، جب انہوں نے نماز مکمل کی تو سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا اس سے منع نہیں کیا گیا؟ تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ نے مجھے دیکھا نہیں، میں نے آپ کی بات مان لی ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جب آدمی امام ہو اور وہ لوگوں کو نماز پڑھانے کا ارادہ کرے، وہ لوگ جنہوں نے نیا نیا اسلام قبول کیا ہو، پھر وہ شخص کسی ایسی جگہ پر کھڑا ہو جائے جو مقتدیوں سے بلند ہو اور اس کا مقصد یہ ہو کہ لوگوں کو واضح طور پر نماز کے احکام کی تعلیم دے تو یہ بات جائز ہو گی، جیسا کہ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہما سے منقول روایت میں یہ بات مذکور ہے، لیکن جب یہ علت معدوم ہو تو پھر امام مقتدیوں کی جگہ سے بلند جگہ پر کھڑا ہو کر نماز ادا نہیں کرے گا، جیسا کہ سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں یہ بات مذکور ہے، اس طرح ان دونوں روایات کے درمیان کوئی تضاد اور اختلاف باقی نہیں ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2143]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 343، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1523، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2143، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 765، 766، وأبو داود فى (سننه) برقم: 597، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5314، 5315» «رقم طبعة با وزير 2140»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (610). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، إبراهيم: هو ابن يزيد النخعي، وهمام: هو ابن الحارث النخعي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
661. باب فرض متابعة الإمام - ذكر الزجر عن أن يؤم الزائر المزور في بيته إلا بإذنه
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ مہمان اپنے میزبان کے گھر میں اس کی اجازت کے بغیر امامت کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2144
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، وَابْنُ كَثِيرٍ ، وَالْحَوْضِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْبَدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَؤُمُّ الْقَوْمُ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ، فَإِنْ كَانَتْ قِرَاءَتُهُمْ سَوَاءً، فَلْيَؤُمَّهُمْ أَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً، فَلْيَؤُمَّهُمْ أَكْبَرُهُمْ سِنًّا، وَلا يَؤُمُّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي بَيْتِهِ، وَلا فِي فُسْطَاطِهِ، وَلا يَقْعُدُ عَلَى تَكْرِمَتِهِ إِلا بِإِذْنِهِ" . قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ لإِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ: مَا تَكْرِمَتُهُ؟ قَالَ: فِرَاشُهُ. وَلَمْ يَذْكُرُهُ الْحَوْضِيُّ: فَقُلْتُ لإِسْمَاعِيلَ.
سیدنا ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لوگوں کی امامت وہ شخص کرے جو اللہ کی کتاب کا سب سے زیادہ علم رکھتا ہو، اگر وہ لوگ قرأت کے حوالے سے برابر ہوں تو ان کی امامت وہ شخص کرے جس نے پہلے ہجرت کی ہو، اگر وہ ہجرت کے حوالے سے بھی برابر ہوں، تو ان کی امامت وہ شخص کرے جو عمر میں زیادہ ہو، اور کوئی بھی شخص کسی دوسرے کے گھر میں یا خیمے میں اس کی امامت نہ کرے اور اس کے بیٹھنے کی مخصوص جگہ پر نہ بیٹھے، البتہ اس کی اجازت کا حکم مختلف ہے۔“ شعبہ کہتے ہیں: میں نے اسماعیل سے دریافت کیا کہ لفظ «تَقْرِمَة» سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ”اس کا بچھونا۔“ حوضی نامی راوی نے یہ بات نقل نہیں کی ہے کہ میں نے اسماعیل سے دریافت کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2144]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 673، وابن الجارود فى "المنتقى"، 338، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1507، 1516، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2127، 2133، 2144، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 893، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 779، والترمذي فى (جامعه) برقم: 235، 2772، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 980، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1086، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17337» «رقم طبعة با وزير 2141»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (2130). تنبيه!! رقم (2130) = (2133) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، أبو الوليد: هو هشام بن عبد الملك الطيالسي، وابن كثير: هو حفص بن عمر.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
662. باب فرض متابعة الإمام - ذكر الأمر بالسكينة لمن أتى المسجد للصلاة وقضاء ما فاته منها
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ جو شخص مسجد میں نماز اور اس کی فوت شدہ رکعتوں کو پورا کرنے کے لیے آتا ہے اسے سکون سے رہنا چاہیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2145
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَتَيْتُمُ الصَّلاةَ، فَلا تَأْتُوهَا تَسْعَوْنَ، وَائْتُوهَا وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا فَاتَكُمْ فَاقْضُوا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب تم نماز کے لیے آؤ تو دوڑتے ہوئے اس کی طرف نہ آؤ بلکہ تم اس حالت میں آؤ کہ تم پر سکون ہو، جتنی نماز تمہیں ملے اتنی ادا کر لو اور جو گزر چکی ہو اس کو بعد میں پورا کر لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2145]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 636، 908، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 602، ومالك فى (الموطأ) برقم: 221، وابن الجارود فى "المنتقى"، 334، 335، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1065، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2145، 2146، 2148، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 860، وأبو داود فى (سننه) برقم: 572، 573، والترمذي فى (جامعه) برقم: 327، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 775، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1947، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7350» «رقم طبعة با وزير 2142»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (580): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں