🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
627. باب فرض متابعة الإمام - ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما أومأنا إليه
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو ہمارے اشارہ کردہ کی صحت کو واضح کرتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2106
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِسُؤَالِهِمْ وَاخْتِلافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، فَمَا أُمِرْتُمْ فَأَتَوْا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ، وَمَا نَهَيْتُ عَنْهُ فَانْتَهُوا" . قَالَ ابْنُ عَجْلانَ : حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَزَادَ فِيهِ:" وَمَا أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّهُ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ فَهُوَ الَّذِي لا شَكَّ فِيهِ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ أَنَّ النَّوَاهِيَ عَنِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّهَا عَلَى الْحَتْمِ وَالإِيجَابِ، حَتَّى تَقُومَ الدَّلالَةُ عَلَى نُدْبِيَّتِهَا، وَأَنَّ أَوَامِرَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَسْبِ الطَّاقَةِ وَالْوُسْعِ عَلَى الإِيجَابِ، حَتَّى تَقُومَ الدَّلالَةُ عَلَى نُدْبِيَّتِهَا، قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا سورة الحشر آية 7، ثُمَّ نَفَى الإِيمَانَ، عَنْ مَنْ لَمْ يُحَكِّمْ رَسُولَهُ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ مِنْ حَيْثُ لا يَجِدُونُ فِي أَنْفُسِهِمْ مِمَّا قَضَى وَحَكَمَ حَرَجًا، وَيُسَلِّمُوا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْلِيمًا بِتَرْكِ الآرَاءِ الْمَعْكُوسَةِ وَالْمُقَايَسَاتِ الْمَنْكُوسَةِ، فَقَالَ: فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا سورة النساء آية 65.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جن معاملات میں، میں تمہیں رہنے دوں تم بھی مجھے رہنے دو، تم سے پہلے والے لوگ اپنے انبیاء سے (غیر ضروری) سوالات کرنے اور اختلاف رکھنے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے تھے، جس چیز کا میں تمہیں حکم دوں تم اپنی استطاعت کے مطابق اس پر عمل کرو اور جس چیز سے میں تمہیں منع کر دوں اس سے باز آ جاؤ۔“ ابن عجلاں نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے، یہ روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، جس میں یہ الفاظ زائد ہیں: ”جس چیز کے بارے میں، میں تمہیں اطلاع دوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، تو اس کے بارے میں کوئی شک نہیں ہوگا۔“ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: (یہ روایت اس بات کا واضح بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے منقول نہی کی تمام روایات حتمی اور لازم قرار دینے کے طور پر ہیں جب تک ان کے مستحب ہونے کے بارے میں دلیل ثابت نہیں ہو جاتی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام احکام پر عمل کرنا اپنی طاقت اور وسعت کے مطابق لازم ہے، جب تک ان کے مستحب ہونے پر دلیل قائم نہیں ہو جاتی۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا﴾ [سورة الحشر: 7] ”رسول تمہیں جو دیں اسے حاصل کر لو اور جس چیز سے تمہیں منع کر دیں اس سے باز آ جاؤ۔“ پھر اللہ تعالیٰ نے اس شخص سے ایمان کی نفی کر دی ہے جو اس کے رسول کو آپس کے اختلافی معاملات میں ثالث تسلیم نہیں کرتا اور رسول نے جو فیصلہ دیا ہوا ہو اس کے بارے میں اپنے ذہن میں کوئی الجھن محسوس کرتا ہے، اور وہ (اپنے معاملات کو) اللہ اور اس کے رسول کے مکمل طور پر سپرد نہیں کر دیتا اور معکوس آراء کو ترک نہیں کرتا اور منحوس قیاس کو ترک نہیں کرتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ [سورة النساء: 65] ”تمہارے پروردگار کی قسم یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک آپس کے اختلافی معاملات میں تم کو ثالث نہ بنائیں اور پھر وہ اس چیز کے بارے میں اپنے ذہن میں کوئی حرج محسوس نہ کریں جو تم نے فیصلہ دیا ہے اور وہ اسے مکمل طور پر تسلیم کر لیں۔“) [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2106]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 7288، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1337، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2508، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 18، 19، 20، 21، 2105، 2106، 3704، 3705، 6245، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2618، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3585، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2679، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1، 2، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2705، 2706، 2707، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7484» «رقم طبعة با وزير 2103»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
628. باب فرض متابعة الإمام - ذكر خبر ثالث يدل على أن هذا الأمر هو أمر حتم لا ندب
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - تیسری خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ حکم واجب ہے، نہ کہ مستحب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2107
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَلا تَخْتَلِفُوا عَلَيْهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَدْ زَجَرَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْخَبَرِ الْمَأْمُومِينَ عَنِ الاخْتِلافِ عَلَى إِمَامِهِمْ إِذَا صَلَّى قَاعِدًا، وَهُوَ مِنَ الضَّرْبِ الَّذِي ذَكَرْتُ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كُتُبِنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ يَزْجُرُ عَنِ الشَّيْءِ بِلَفْظِ الْعُمُومِ، ثُمَّ يَسْتَثْنِي بَعْضَ ذَلِكَ الشَّيْءِ الْمَزْجُورِ عَنْهُ، فَيُبِيحُهُ لِعِلَّةٍ مَعْلُومَةٍ كَمَا نَهَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ بِلَفْظٍ مُطْلَقٍ، ثُمَّ اسْتَثْنَى بَعْضَهَا، وَهُوَ الْعَرِيَّةُ فَأَبَاحَهَا بِشَرْطٍ مَعْلُومٍ لِعِلَّةٍ مَعْلُومَةٍ وَكَذَلِكَ يَأْمُرُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الأَمْرَ بِلَفْظِ الْعُمُومِ، ثُمَّ يَسْتَثْنِي بَعْضَ ذَلِكَ الْعُمُومِ، فَيَحْظُرُهُ لِعِلَّةٍ مَعْلُومَةٍ كَمَا أَمَرَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَأْمُومِينَ، وَالأَئِمَّةَ جَمِيعًا أَنْ يُصَلُّوا قِيَامًا إِلا عِنْدَ الْعَجْزِ عَنْهُ، ثُمَّ اسْتَثْنَى بَعْضَ هَذَا الْعُمُومِ، وَهُوَ إِذَا صَلَّى إِمَامُهُمْ قَاعِدًا فَزَجَرَهُمْ، عَنِ اسْتِعْمَالِهِ مَسْتَثْنًى مِنْ جُمْلَةِ الأَمْرِ الْمُطْلَقِ، وَلِهَذَا نَظَائِرُ كَثِيرَةٌ مِنَ السُّنَنِ سَنَذْكُرُهَا فِي مَوَاضِعِهَا مِنْ هَذَا الْكِتَابِ إِنْ قَضَى اللَّهُ ذَلِكَ وَشَاءَهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”امام کو اس لیے مقرر کیا گیا ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے، تم اس سے اختلاف نہ کرو؛ جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو، جب وہ رکوع میں جائے تو تم بھی رکوع میں جاؤ اور جب وہ «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» پڑھے تو تم لوگ «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» پڑھو، جب وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس روایت میں ان لوگوں کو منع کیا ہے جو اپنے امام سے مختلف طور پر نماز ادا کرتے ہیں، اس وقت جب امام بیٹھ کر نماز ادا کر رہا ہو۔ یہ وہ قسم ہے جس کا ذکر میں نے اپنی کتاب میں دوسری جگہوں پر کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات لفظ کے عموم کے ذریعے کسی چیز سے منع کرتے ہیں اور پھر اس میں سے کچھ حصے کو مستثنیٰ کر لیتے ہیں جس سے منع کیا گیا ہے اور کسی متعین علت کی وجہ سے اس حصے کو مباح قرار دیتے ہیں، جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مطلق لفظ کے ذریعے بیع مزابنہ سے منع کیا ہے، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کچھ حصے کا استثنیٰ کر دیا اور وہ حصہ عریہ ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعین علت کی وجہ سے متعین شرط کے ہمراہ اسے مباح قرار دیا ہے۔ اس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لفظ کے عموم کے ذریعے کوئی حکم دیتے ہیں، پھر اس عموم کے کچھ حصے کا استثنیٰ کر لیتے ہیں اور کسی متعین علت کی وجہ سے اسے ممنوع قرار دے دیتے ہیں۔ اس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتدیوں اور ائمہ سب کو حکم دیا ہے کہ وہ کھڑے ہو کر نماز ادا کریں، البتہ اگر کوئی شخص قیام سے عاجز ہو تو اس کا حکم مختلف ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے عموم کے بعض حصے کا استثنیٰ کیا اور وہ صورت یہ ہے کہ اگر امام بیٹھ کر نماز ادا کر رہا ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس سے منع کر دیا کہ (وہ کھڑے ہو کر نماز ادا کریں) تو یہ حکم اس عمومی مطلق حکم سے مستثنیٰ ہو گیا۔ اس کی مثالیں احادیث میں بہت ساری ہیں جن کو ہم ان کے مخصوص مقام پر اس کتاب میں ذکر کریں گے اگر اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2107]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 722، 734، 780، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 409، ومالك فى (الموطأ) برقم: 289، وابن الجارود فى "المنتقى"، 213، 352، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 569، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1804، 1907، 1909، 1911، 2107، 2115، 4556، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 920، وأبو داود فى (سننه) برقم: 603، 936، 2757، والترمذي فى (جامعه) برقم: 250، 267، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3، 846، 851، 852، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1243، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7265» «رقم طبعة با وزير 2104»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (2/ 119 - 120): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
629. باب فرض متابعة الإمام - ذكر خبر رابع يدل على أن هذا الأمر أمر فريضة وإيجاب على ما ذكرناه قبل
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - چوتھی خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ حکم ہمارے بیان کردہ کے مطابق فرض اور واجب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2108
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ فَرَسًا، فَصُرِعَ عَنْهُ، فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ، قَالَ أَنَسٌ: فَصَلَّى لَنَا يَوْمَئِذٍ صَلاةً مِنَ الصَّلَوَاتِ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ قُعُودًا، ثُمَّ قَالَ حِينَ سَلَّمَ:" إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا صَلَّى الإِمَامُ قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے پر سوار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے گر گئے، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دایاں پہلو زخمی ہو گیا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک نماز بیٹھ کر پڑھائی اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو ارشاد فرمایا: ”امام کو اس لیے مقرر کیا گیا ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے۔ جب امام کھڑا ہو کر نماز ادا کرے تو تم لوگ بھی کھڑے ہو کر نماز ادا کرو، جب وہ رکوع میں جائے تو تم بھی رکوع میں جاؤ، جب وہ رکوع سے سر اٹھائے تو تم بھی اٹھاؤ، جب وہ سجدے میں جائے تو تم بھی سجدے میں جاؤ، جب وہ «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی پکار سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ پڑھے تو تم «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ”اے ہمارے رب! اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں“ پڑھو اور جب وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2108]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 378، 689، 732، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 411، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 977، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1908، 2102، 2103، 2108، 2111، 2113، 4277، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 793،، وأبو داود فى (سننه) برقم: 601، والترمذي فى (جامعه) برقم: 361، 690، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 876، 1238،وأحمد فى (مسنده) برقم: 12257» «رقم طبعة با وزير 2105»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر (2099). تنبيه!! رقم (2099) = (2102) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، رجاله ثقات رجال الشيخين غير عمرو بن عثمان وأبيه، وهما ثقتان.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
630. باب فرض متابعة الإمام - ذكر خبر خامس يدل على أن هذا الأمر أمر فريضة لا فضيلة
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - پانچویں خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ حکم فرض ہے، نہ کہ فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2109
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَوْثَرَةُ بْنُ أَشْرَسَ الْعَدَوِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ أَبِي الصَّهْبَاءِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ:" أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ؟" قَالُوا: بَلَى، نَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ. قَالَ:" أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَمِنْ طَاعَةِ اللَّهِ طَاعَتِي؟" قَالُوا: بَلَى، نَشْهَدُ أَنَّهُ مَنْ أَطَاعَكَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَمِنْ طَاعَةِ اللَّهِ طَاعَتُكَ. قَالَ:" فَإِنَّ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ أَنْ تُطِيعُونِي، وَمِنْ طَاعَتِي أَنْ تُطِيعُوا أُمَرَاءَكُمْ، وَإِنْ صَلُّوا قُعُودًا فَصَلُّوا قُعُودًا" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان موجود تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم لوگ یہ بات نہیں جانتے ہو، میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں؟“ ان لوگوں نے عرض کی: جی ہاں، ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں، آپ اللہ کے رسول ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم لوگ یہ بات نہیں جانتے ہو جو شخص میری اطاعت کرتا ہے وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے اور میری اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا حصہ ہے؟“ ان لوگوں نے عرض کی: جی ہاں، ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں، جو شخص آپ کی اطاعت کرتا ہے وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے اور آپ کی فرمانبرداری کرنا اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا حصہ ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں یہ بات شامل ہے، تم میری اطاعت کرو اور میری اطاعت میں یہ بات شامل ہے، تم امراء کی اطاعت کرو اگر وہ بیٹھ کر نماز ادا کرتے ہیں، تو تم لوگ بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2109]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2109، 2110، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5783، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 5450، والبزار فى (مسنده) برقم: 6093، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 2351، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 5644، والطبراني فى(الكبير) برقم: 13238» «رقم طبعة با وزير 2106»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (2/ 122). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن، حوثرة بن أشرس: روى عنه جمع، وذكره المؤلف في «الثقات» 8/ 215، وأورده ابن أبي حاتم 3/ 283 فلم يذكر فيه جرحاً ولا تعديلاً، وقد توبع، وباقي رجاله ثقات.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2110
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَوْثَرَةُ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، إِلا أَنَّهُ قَالَ:" وَمِنْ طَاعَتِي أَنْ تُطِيعُوا أَئِمَّتَكُمْ". أَخْبَرْنَاهُ أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي الصَّهْبَاءِ، فَقَالَ: ثِقَةٌ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ، أَنَّ صَلاةَ الْمَأْمُومِينَ قُعُودًا إِذَا صَلَّى إِمَامُهُمْ قَاعِدًا مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا الَّتِي أَمَرَ عِبَادَهُ وَهُوَ عِنْدِي ضَرْبٌ مِنَ الإِجْمَاعِ الَّذِي أَجْمَعُوا عَلَى إِجَازَتِهِ، لأَنَّ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَةٌ أَفْتَوْا بِهِ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ، وَأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ، وَقَيْسُ بْنُ قَهْدٍ، وَالإِجْمَاعُ عِنْدَنَا إِجْمَاعُ الصَّحَابَةِ الَّذِينَ شَهِدُوا هُبُوطَ الْوَحْيِ وَالتَّنْزِيلِ وَأُعِيذُوا، مِنَ التَّحْرِيفِ وَالتَّبْدِيلِ حَتَّى حَفِظَ اللَّهُ بِهِمُ الدِّينَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، وَصَانَهُ عَنْ ثَلْمِ الْقَادِحِينَ، وَلَمْ يُرْوَ عَنْ أَحَدٍ مِنَ الصَّحَابَةِ خِلافٌ لِهَؤُلاءِ الأَرْبَعَةِ لا بِإِسْنَادٍ مُتَّصِلٍ وَلا مُنْقَطِعٍ، فَكَأَنَّ الصَّحَابَةَ أَجْمَعُوا عَلَى أَنَّ الإِمَامَ إِذَا صَلَّى قَاعِدًا كَانَ عَلَى الْمَأْمُومِينَ أَنْ يُصَلُّوا قُعُودًا، وَقَدْ أَفْتَى بِهِ مِنَ التَّابِعِينَ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ أَبُو الشَّعْثَاءِ، وَلَمْ يُرْوَ عَنْ أَحَدٍ مِنَ التَّابِعِينَ أَصْلا بِخِلافِهِ لا بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ وَلا وَاهٍ، فَكَأَنَّ التَّابِعِينَ أَجْمَعُوا عَلَى أَجَازَتِهِ، وَأَوَّلُ مَنْ أَبْطَلَ فِي هَذِهِ الأُمَّةِ صَلاةَ الْمَأْمُومِ قَاعِدًا إِذَا صَلَّى إِمَامُهُ جَالِسًا الْمُغِيرَةُ بْنُ مِقْسَمٍ صَاحِبُ النَّخَعِيِّ، وَأَخَذَ عَنْهُ حَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ثُمَّ أَخَذَ عَنْ حَمَّادٍ أَبُو حَنِيفَةَ وَتَبِعَهُ عَلَيْهِ مَنْ بَعْدَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ وَأَعْلَى شَيْءٍ احْتَجُّوا بِهِ فِيهِ شَيْءٌ رَوَاهُ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا يَؤُمَّنَّ أَحَدٌ بَعْدِي جَالِسًا". وَهَذَا لَوْ صَحَّ إِسْنَادُهُ لَكَانَ مُرْسَلا وَالْمُرْسَلُ مِنَ الْخَبَرِ وَمَا لَمْ يُرْوَ سِيَّانِ فِي الْحُكْمِ عِنْدَنَا، لأَنَّا لَوْ قَبْلِنَا إِرْسَالَ تَابِعِيٍّ، وَإِنْ كَانَ ثِقَةً فَاضِلا عَلَى حُسْنِ الظَّنِّ، لَزِمَنَا قَبُولُ مِثْلِهِ، عَنْ أَتْبَاعِ التَّابِعِينَ، وَمَتَى قَبْلِنَا ذَلِكَ لَزِمَنَا قَبُولُ مِثْلِهِ عَنْ تَبَعِ الأَتْبَاعِ، وَمَتَى قَبْلِنَا ذَلِكَ لَزِمَنَا قَبُولُ مِثْلِ ذَلِكَ عَنْ تُبَّاعِ التَّبَعِ، وَمَتَى قَبْلِنَا ذَلِكَ لَزِمَنَا أَنْ نَقْبَلَ مِنْ كُلِّ إِنْسَانٍ إِذَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي هَذَا نَقْضُ الشَّرِيعَةِ، وَالْعَجَبُ مِمَّنْ يَحْتَجُّ بِمِثْلِ هَذَا الْمُرْسَلِ وَقَدْ قَدَحَ فِي رِوَايَتِهِ زِعِيمُهُمْ فِيمَا أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحَوَارِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا يَحْيَى الْحِمَّانِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَنِيفَةَ، يَقُولُ: مَا رَأَيْتُ فِيمَنْ لَقِيتُ أَفْضَلَ مِنْ عَطَاءٍ وَلا لَقِيتُ فِيمَنْ لَقِيتُ أَكْذَبَ مِنْ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ، مَا أَتَيْتُهُ بِشَيْءٍ قَطُّ مِنْ رَأْيٍ إِلا جَاءَنِي فِيهِ بِحَدِيثٍ، وَزَعَمَ أَنَّ عِنْدَهُ كَذَا وَكَذَا أَلْفَ حَدِيثٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْطِقْ بِهَا، فَهَذَا أَبُو حَنِيفَةَ يُجَرِّحُ جَابِرًا الْجُعْفِيَّ، وَيُكَذِّبُهُ ضِدَّ قَوْلِ مَنِ انْتَحَلَ مِنْ أَصْحَابِهِ مَذْهَبَهُ، وَزَعَمَ أَنَّ قَوْلَ أَئِمَّتِنَا فِي كُتُبِهِمْ: فُلانٌ ضَعِيفٌ غِيبَةٌ، ثُمَّ لَمَّا اضْطَرُّهُ الأَمْرُ جَعَلَ يَحْتَجُّ بِمَنْ كَذَّبَهُ شَيْخُهُ فِي شَيْءٍ يَدْفَعُ بِهِ سُنَّةً مِنْ سُنَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَأَمَّا جَابِرٌ الْجُعْفِيَّ فَقَدْ ذَكَرْنَا قِصَّتَهُ فِي كِتَابِ الْمَجْرُوحِينَ مِنَ الْمُحَدِّثِينَ بِالْبَرَاهِينِ الْوَاضِحَةِ الَّتِي لا يَخْفَى عَلَى ذِي لُبٍّ صِحَّتُهَا فَأَغْنَى ذَلِكَ عَنْ تِكْرَارِهَا فِي هَذَا.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔ تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ”میری اطاعت میں یہ بات شامل ہے، تم اپنے ائمہ کی اطاعت کرو۔“ یہ روایت امام ابویعلٰی نے نقل کی ہے وہ کہتے ہیں میں نے یحییٰ بن معین سے عقبہ نامی راوی کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: یہ ثقہ ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ جب امام بیٹھ کر نماز ادا کر رہا ہو تو مقتدیوں کا بیٹھ کر نماز ادا کرنا اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کا حصہ ہے جس کا اس نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے اور میرے نزدیک یہ اس اجماع کی ایک قسم ہے جس کو جائز قرار دینے پر سب کا اتفاق ہے۔ کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے چار حضرات نے اس کے مطابق فتویٰ دیا ہے: سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا قیس بن قہد رضی اللہ عنہ۔ ہمارے نزدیک اصل اجماع صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اجماع ہوتا ہے جنہوں نے وحی کے نزول کا مشاہدہ کیا اور انہیں تحریف اور تبدیلی سے بچا لیا گیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعے مسلمانوں کے لیے ان کے دین کو محفوظ کر لیا اور انہیں تنقید کرنے والوں کی خرابی سے بچا لیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں کسی ایک حوالے سے بھی ان چار حضرات کے خلاف رائے نقل نہیں کی گئی نہ کسی متصل سند کے ذریعے اور نہ ہی کسی منقطع سند کے ذریعے، تو گویا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اس بات پر اتفاق ہو گیا کہ جب امام بیٹھ کر نماز ادا کر رہا ہو، تو مقتدیوں پر یہ بات لازم ہو گی کہ وہ بیٹھ کر نماز ادا کریں۔ تابعین نے بھی اس کے مطابق فتویٰ دیا ہے جن میں جابر بن زید اور ابوشعثاء شامل ہیں۔ اور تابعین میں سے بھی کسی ایک تابعی کے حوالے سے بھی اس کے برخلاف رائے منقول نہیں ہے۔ نہ ہی کسی صحیح سند کے ہمراہ منقول ہے اور نہ ہی کسی واہی سند کے ہمراہ منقول ہے۔ گویا تابعین کا بھی اس کو جائز قرار دینے پر اتفاق ہو گیا کہ مقتدی بیٹھ کر نماز ادا کرے جبکہ امام بیٹھ کر نماز ادا کر رہا ہو۔ سب سے پہلے اس امت میں مغیرہ بن مقسم نے اسے غلط قرار دیا ہے، یہ ابراہیم نخعی کے شاگرد ہیں۔ ان سے یہ حکم حماد بن ابوسلیمان نے حاصل کیا (جو امام ابوحنیفہ کے استاد ہیں) پھر حماد سے یہ حکم امام ابوحنیفہ نے اور ان کے بعد ان کے پیروکار اصحاب نے یہ حاصل کیا۔ یہ حضرات اس بارے میں جو دلیل پیش کرتے ہیں ان میں سے سب سے بلند دلیل وہ روایت ہے جسے جابر جعفی نے امام شعبی کے حوالے سے نقل کیا ہے اور وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے بعد کوئی بھی شخص بیٹھ کر امامت نہ کرے۔“ اس روایت کی سند کو اگر مستند بھی تسلیم کر لیا جائے تو یہ روایت مرسل ہے۔ اور وہ روایت جو مرسل ہو اور وہ روایت جو نقل نہیں ہوئی، ہمارے نزدیک حکم میں برابر ہوں گی، اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ہم کسی تابعی کی مرسل روایت کو قبول کر لیں۔ اگرچہ وہ تابعی ثقہ اور فاضل ہو۔ اور ہم حسن ظن کی وجہ سے ایسا کر لیں تو ہم پر یہ بات لازم آئے گی کہ ہم اس کی مانند کسی تبع تابعی سے بھی (منقول مرسل روایت کو) قبول کر لیں۔ اور جب ہم اس کو قبول کریں گے تو ہم پر یہ بات لازم آئے گی کہ ہم اس طرح کی روایت تبع تابعی سے بھی قبول کر لیں۔ جب ہم اسے قبول کر لیں گے تو ہم پر یہ بات لازم آئے گی کہ ہم اسے تبع تابعین کے شاگردوں سے بھی قبول کر لیں۔ اور جب ہم اسے قبول کر لیں گے تو ہمارے لیے یہ بات ضروری ہو گی کہ ہم ہر شخص سے (مرسل روایت) قبول کر لیں۔ جب بھی وہ شخص یہ بات بیان کرے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ تو اس صورت میں شریعت کالعدم ہو جائے گی اور حیرانگی اس شخص پر ہوتی ہے جو اس طرح کی مرسل روایت کو دلیل کے طور پر پیش کرتا ہے حالانکہ اس روایت کے بارے میں ان کے بڑوں نے اعتراضات کیے ہیں۔ حسین بن عبداللہ نے اپنی سند کے ساتھ یہ بات بیان کی ہے۔ ابویحییٰ حمانی بیان کرتے ہیں میں نے امام ابوحنیفہ کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے: میری جن لوگوں سے بھی ملاقات ہوئی ہے ان میں سے عطاء بن ابی رباح سے زیادہ فضیلت والا کوئی شخص نہیں دیکھا اور میری جن لوگوں سے بھی ملاقات ہوئی ہے میں نے ان میں سے جابر جعفی سے زیادہ بڑا جھوٹا اور کوئی نہیں دیکھا جب بھی میں اس کے پاس اپنی رائے سے کوئی مسئلہ لے کر آیا تو اس نے اس بارے میں کوئی حدیث سنا دی اور اس نے یہ بات بھی بیان کی کہ اس کے پاس اتنے اتنے ہزار احادیث ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے منقول ہیں جن کو ابھی اس نے بیان ہی نہیں کیا۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ کہتے ہیں: تو یہ امام ابوحنیفہ ہیں جو جابر جعفی پر تنقید کر رہے اور جھوٹا قرار دے رہے ہیں، تو یہ بات اس شخص کے موقف کے برخلاف ہے جو خود کو امام ابوحنیفہ کے مسلک کا پیروکار ظاہر کرتا ہے اور اس بات کا قائل ہے کہ ہمارے ائمہ کا اپنی کتابوں میں یہ بات کہنا کہ فلاں راوی ضعیف ہے، یہ چیز غیبت ہوتی ہے۔ لیکن جب خود اسے ضرورت پیش آئی تو اس نے اس شخص سے استدلال کرنا شروع کر دیا جسے اس کے شیخ نے جھوٹا قرار دیا ہے اور اس نے اس شخص سے استدلال ایک ایسی چیز کے بارے میں کیا جس کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل ترک ہو رہا ہے۔ جہاں تک جابر جعفی کا تعلق ہے تو ہم نے اس کا واقعہ کتاب «الْمَجْرُوحِين» ”المجروحین“ میں واضح براہین کے ہمراہ ذکر کر دیا ہے جس کا مستند ہونا کسی بھی سمجھدار سے مخفی نہیں ہو گا، تو یہاں اس کو دوبارہ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2110]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2109، 2110، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5783، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 5450، والبزار فى (مسنده) برقم: 6093، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 2351، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 5644، والطبراني فى(الكبير) برقم: 13238» «رقم طبعة با وزير 2107»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (620). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط هو مكرر ما قبله.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
631. باب فرض متابعة الإمام - ذكر خبر أوهم عالما من الناس أن هذا الأمر الذي ذكرناه أمر فضيلة لا فريضة
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو بعض علماء کو یہ وہم دلاتا ہے کہ ہمارے بیان کردہ حکم فضیلت کا ہے، نہ کہ فرض
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2111
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ الْقَوْمُ وَحَضَرَتِ الصَّلاةُ، فَصَلَّى بِهِمْ قَاعِدًا وَهُمْ قِيَامٌ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الصَّلاةُ الأُخْرَى ذَهَبُوا يَقُومُونَ، فَقَالَ: " ائْتَمُّوا بِإِمَامِكُمْ، وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا، وَإِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور نماز کا وقت ہو گیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بیٹھ کر نماز پڑھانا شروع کی۔ وہ لوگ کھڑے رہے، جب اگلی نماز کا وقت آیا تو وہ لوگ کھڑے ہونے لگے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے امام کی پیروی کرو، اگر وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم لوگ بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو، اگر وہ کھڑا ہو کر نماز ادا کرے تو تم لوگ بھی کھڑے ہو کر نماز ادا کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2111]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 378، 689، 732، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 411، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 977، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1908، 2102، 2103، 2108، 2111، 2113، 4277، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 793،، وأبو داود فى (سننه) برقم: 601، والترمذي فى (جامعه) برقم: 361، 690، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 876، 1238،وأحمد فى (مسنده) برقم: 12257» «رقم طبعة با وزير 2108»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (2/ 119). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير محمد بن عبد الأعلى، فإنه من رجال مسلم وحده.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
632. باب فرض متابعة الإمام - ذكر الخبر المدحض تأويل هذا المتأول لهذه اللفظة التي في خبر حميد الطويل
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو حمید الطویل کی خبر میں اس لفظ کی اس متأول کی تأویل کو رد کرتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2112
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا بِالْمَدِينَةِ، فَصَرَعَهُ عَلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ، فَانْفَكَّتْ قَدَمُهُ فَأَتَيْنَاهُ نَعُودُهُ فَوَجَدْنَاهُ فِي مَشْرَبَةٍ لِعَائِشَةَ يُسَبِّحُ جَالِسًا، فَقُمْنَا خَلْفَهُ فَتَنَكَّبَ عَنا، ثُمَّ أَتَيْنَاهُ مَرَّةً أُخْرَى فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ، فَقُمْنَا خَلْفَهُ فَأَشَارَ إِلَيْنَا فَقَعَدْنَا، فَلَمَّا قَضَى الصَّلاةَ، قَالَ: " إِذَا صَلَّى الإِمَامُ جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا، وَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَلا تَفْعَلُوا كَمَا يَفْعَلُ أَهْلُ فَارِسٌ بِعُظَمَائِهَا" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ أَنَّ اللَّفْظَةَ الَّتِي فِي خَبَرِ حُمَيْدٍ حَيْثُ صَلَّى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِمْ قَاعِدًا وَهُمْ قِيَامٌ إِنَّمَا كَانَتْ تِلْكَ سُبْحَةً، فَلَمَّا حَضَرَتِ الصَّلاةُ الْفَرِيضَةُ أَمَرَهُمْ أَنْ يُصَلُّوا قُعُودًا كَمَا صَلَّى هُوَ، فَفِي هَذَا أَوْكَدُ الأَشْيَاءِ أَنَّ الأَمْرَ مِنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَا وَصَفْنَا أَمْرُ فَرِيضَةٍ لا فَضِيلَةٍ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں گھوڑے پر سوار ہوئے، آپ اس سے ایک کھجور کے تنے پر گر گئے جس کی وجہ سے آپ کے پاؤں میں موچ آ گئی، ہم آپ کی عیادت کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم نے آپ کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بالا خانے میں پایا، آپ بیٹھ کر نوافل ادا کر رہے تھے، ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے، تو آپ ہم سے ہٹ گئے، پھر ہم دوسری مرتبہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ کو فرض نماز پڑھتے ہوئے پایا، ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے، تو آپ نے ہماری طرف اشارہ کیا، تو ہم بیٹھ گئے، جب آپ نے نماز مکمل کی تو ارشاد فرمایا: ”جب امام بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو، جب وہ کھڑے ہو کر نماز ادا کرے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز ادا کرو، تم لوگ اس طرح نہ کرو جس طرح اہل فارس اپنے بادشاہوں کے لیے کرتے ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ حمید کے حوالے سے منقول روایت کے وہ الفاظ کہ اس میں یہ مذکور ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو بیٹھ کر نماز پڑھائی، اور وہ لوگ کھڑے ہوئے تھے، یہ نفل نماز تھی، جب فرض نماز کا وقت ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یہ ہدایت کی کہ وہ بیٹھ کر نماز ادا کریں، جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی تھی، تو یہ چیز سب سے زیادہ تاکید والی ہو جائے گی (اور اس بات کو ثابت کر دے گی) کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم جس کا ہم نے ذکر کیا ہے لازم قرار دینے کے طور پر حکم ہے، فضیلت کے اظہار کا حکم نہیں تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2112]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1487، 1615، 2660، 2661، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2112، 2114، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2848، وأبو داود فى (سننه) برقم: 602، 3863، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3082، 3485، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1562، 1563، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14425» «رقم طبعة با وزير 2109»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (2/ 122)، «صحيح أبي داود» (615). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي على شرط مسلم، أبو سفيان: هو طلحة بن نافع الواسطي، ويقال: المكي صاحب جابر، قال أحمد، والنسائي: ليس به بأس، ابن أبي خيثمة عن ابن معين: ليس بشيء، وقال أبو حاتم: أبو الزبير أحب إلي منه، وقال ابن عدي: أحاديث الأعمش عنه مستقيمة، وقال ابن عيينة: حديثه عن جابر صحيفة، وقال شعبة: لم يسمع من جابر إلا أربعة أحاديث، وكذا قال ابن المديني في العلل عن معلى بن منصور، عن ابن أبي زائدة مثله، أخرج له البخاري أربعة أحاديث، وهو مقرون فيها عنده بغيره، واحتج به الباقون، وقال في «التقريب»: صدوق.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
633. باب فرض متابعة الإمام - ذكر خبر تأوله بعض الناس بما ينطق عموم الخبر بضده
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس خبر کا ذکر جسے بعض لوگوں نے اس کے عمومی معنی کے برخلاف تأویل کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2113
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهِبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: خَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ، فَصَلَّى لَنَا قَاعِدًا فَصَلَّيْنَا مَعَهُ قُعُودًا، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَالَ:" إِنَّمَا الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: زَعَمَ بَعْضُ الْعِرَاقِيِّينَ مِمَّنْ كَانَ يَنْتَحِلُ مَذْهَبَ الْكُوفِيِّينَ أَنَّ قَوْلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا، أَرَادَ بِهِ وَإِذَا تَشَهَّدَ قَاعِدًا فَتَشَهَّدُوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ، فَحَرَّفَ الْخَبَرَ عَنْ عُمُومِ مَا وَرَدَ الْخَبَرُ فِيهِ بِغَيْرِ دَلِيلٍ يَثْبُتُ لَهُ عَلَى تَأْوِيلِهِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر کر زخمی ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی، ہم نے آپ کی اقتدا میں بیٹھ کر نماز ادا کی۔ جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”امام کو اس لیے مقرر کیا گیا ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے، جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو، جب وہ رکوع میں جائے تو تم بھی رکوع میں جاؤ، جب وہ (رکوع سے سر) اٹھائے تو تم بھی اٹھاؤ، جب وہ «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہے تو تم لوگ «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ”اے ہمارے رب! اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں“ کہو، جب وہ سجدے میں جائے تو تم بھی سجدے میں جاؤ اور جب وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) بعض اہل عراق جو اہل کوفہ کے مسلک کے قائل ہیں، وہ یہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”جب وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم لوگ بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو“ اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ جب وہ بیٹھ کر تشہد پڑھے تو تم لوگ بھی بیٹھ کر تشہد پڑھو۔ تو اس شخص نے اس روایت کو اس کے اس عمومی مفہوم سے پھیر دیا ہے جس کے بارے میں وہ روایت منقول ہوئی تھی اور اس نے کسی دلیل کے بغیر ایسا کیا ہے جس دلیل سے اس کی بیان کردہ تاویل ثابت ہوتی ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2113]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 378، 689، 732، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 411، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 977، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1908، 2102، 2103، 2108، 2111، 2113، 4277، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 793،، وأبو داود فى (سننه) برقم: 601، والترمذي فى (جامعه) برقم: 361، 690، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 876، 1238،وأحمد فى (مسنده) برقم: 12257» «رقم طبعة با وزير 2110»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر (2099). تنبيه!! رقم (2099) = (2102) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، رجاله رجال الشيخين غير يزيد بن موهب، وهو يزيد بن خالد بن يزيد بن عبد الله بن موهب، فإنه لم يخرجا له ولا أحدهما، وهو ثقة.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
634. باب فرض متابعة الإمام - ذكر الخبر المدحض تأويل هذا المتأول لهذا الأمر المطلق
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس متأول کی اس مطلق حکم کی تأویل کو رد کرتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2114
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: صُرِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَرَسٍ لَهُ، فَوَقَعَ عَلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ، فَانْفَكَّتْ قَدَمُهُ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ نَعُودُهُ وَهُوَ يُصَلِّي فِي مَشْرَبَةٍ لِعَائِشَةَ جَالِسًا فَصَلَّيْنَا بِصَلاتِهِ وَنَحْنُ قِيَامٌ، ثُمَّ دَخَلْنَا عَلَيْهِ مَرَّةً أُخْرَى وَهُوَ يُصَلِّي جَالِسًا فَصَلَّيْنَا بِصَلاتِهِ وَنَحْنُ قِيَامٌ، فَأَوْمَأَ إِلَيْنَا أَنِ اجْلِسُوا، فَلَمَّا صَلَّى قَالَ:" إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِنْ صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا وَلا تَقُومُوا وَهُوَ جَالِسٌ كَمَا يَصْنَعُ أَهْلُ فَارِسٍ بِعُظَمَائِهَا" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِي قَوْلِ جَابِرٍ: فَصَلَّيْنَا بِصَلاتِهِ وَنَحْنُ قِيَامٌ، بَيَانٌ وَاضِحٌ عَلَى دَحْضِ قَوْلِ هَذَا الْمُتَأَوِّلِ إِذِ الْقَوْمُ لَمْ يَتَشَهَّدُوا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ قِيَامٌ، وَكَذَلِكَ قَوْلُهُ فِي الصَّلاةِ الأُخْرَى: فَصَلَّيْنَا بِصَلاتِهِ وَنَحْنُ قِيَامٌ فَأَوْمَأَ إِلَيْنَا أَنِ اجْلِسُوا، أَرَادَ بِهِ الْقِيَامَ الَّذِي هُوَ فَرْضُ الصَّلاةِ لا التَّشَهُّدَ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے تنے پر گرے تھے جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں پر چوٹ آئی، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بالا خانے میں بیٹھ کر نماز ادا کر رہے تھے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی پیروی شروع کی اور ہم کھڑے ہوئے تھے، پھر جب ہم دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز ادا کر رہے تھے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی پیروی کی اور ہم اس وقت بھی کھڑے ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اشارہ کیا کہ تم لوگ بیٹھ جاؤ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”امام کو اس لیے مقرر کیا گیا ہے، تاکہ اس کی پیروی کی جائے جب وہ کھڑا ہو کر نماز ادا کرے تو تم لوگ بھی کھڑے ہو کر نماز ادا کرو اور اگر وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم لوگ بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو۔ وہ بیٹھا ہوا ہو، تو تم لوگ کھڑے نہ ہو، جس طرح اہل فارس اپنے بادشاہوں کے لیے کرتے ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ ہم نے آپ کی نماز کی پیروی کی اور ہم اس وقت کھڑے ہوئے تھے، اس بات کا واضح بیان موجود ہے جو تاویل کرنے والے شخص کے موقف کو پرے کر دیتا ہے، کیونکہ ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے قیام کی حالت میں تشہد نہیں پڑھا تھا۔ اسی طرح دوسری نماز کے بارے میں راوی کا یہ کہنا کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی پیروی میں نماز ادا کی اور ہم کھڑے ہوئے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اشارہ کیا کہ تم لوگ بیٹھ جاؤ، اس کے ذریعے ان کی مراد وہ قیام ہے جو نماز میں فرض ہے، اس سے مراد تشہد نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2114]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1487، 1615، 2660، 2661، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2112، 2114، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2848، وأبو داود فى (سننه) برقم: 602، 3863، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3082، 3485، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1562، 1563، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14425» «رقم طبعة با وزير 2111»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: وهو مكرر (2109). تنبيه!! رقم (2109) = (2112) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
635. باب فرض متابعة الإمام - ذكر خبر ثان يدل على فساد تأويل هذا المتأول لهذا الخبر
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو اس متأول کی اس خبر کی تأویل کے فساد کی دلیل ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2115
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّمَا الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِي تَقْرِيرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الأَمْرَ لِلْمَأْمُومِينَ أَنْ يُصَلُّوا قِيَامًا إِذَا صَلَّى إِمَامُهُمْ قَائِمًا بِالأَمْرِ بِالصَّلاةِ قُعُودًا إِذَا صَلَّى إِمَامُهُمْ جَالِسًا، أَعْظَمُ الْبَيَانِ أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُرِدْ بِهِ التَّشَهُّدَ فِي الأَمْرَيْنِ جَمِيعًا، وَإِنَّمَا أَرَادَ الْقِيَامَ الَّذِي هُوَ فَرْضُ الصَّلاةِ أَنْ يُؤْتَى بِهِ كَمَا يَأْتِي الإِمَامُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”امام کو اس لیے مقرر کیا گیا ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے، جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو، جب وہ رکوع میں جائے تو تم بھی رکوع میں جاؤ، جب وہ (رکوع سے سر) کو اٹھائے تو تم بھی اٹھاؤ، جب وہ «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ پڑھے، تو تم «اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» ”اے اللہ! اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں“ پڑھو، جب وہ کھڑا ہو کر نماز ادا کرے تو تم لوگ کھڑے ہو کر نماز ادا کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقتدیوں کے لیے حکم کو پختہ کر دینا کہ جب ان کا امام کھڑا ہو کر نماز ادا کر رہا ہو، تو وہ کھڑے ہو کر نماز ادا کریں اور جب ان کا امام بیٹھ کر نماز ادا کر رہا ہو، تو وہ بیٹھ کر نماز ادا کریں، اس بات کا سب سے بڑا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں احکام میں تشہد مراد نہیں لیا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ قیام مراد لیا ہے جو نماز میں فرض ہے کہ آدمی اسے اسی طرح بجا لائے گا جس طرح امام اسے ادا کرتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2115]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 722، 734، 780، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 409، ومالك فى (الموطأ) برقم: 289، وابن الجارود فى "المنتقى"، 213، 352، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 569، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1804، 1907، 1909، 1911، 2107، 2115، 4556، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 920، وأبو داود فى (سننه) برقم: 603، 936، 2757، والترمذي فى (جامعه) برقم: 250، 267، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3، 846، 851، 852، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1243، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7265» «رقم طبعة با وزير 2112»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق، وتقدم (2104). تنبيه!! رقم (2104) = (2107) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي على شرط مسلم، أبو يونس: اسمه سليم بن جبير وهو مولى أبي هريرة.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں