🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
312. باب الهدي - ذكر البيان بأن لا يعطى الجازر من الهدي على أجرته شيئا
ہدی (قربانی) کا بیان - اس بات کا بیان کہ ہدی سے قصاب کو اس کی اجرت کے طور پر کچھ نہ دیا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4022
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْبَحْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، أَنْ مُجَاهِدًا أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَرَهُ أَنْ يُقِيمَ عَلَى بُدُنِهِ، وَأَمَرَهُ أَنْ يُقَسِّمَ بُدْنَهُ كُلَّهَا لُحُومَهَا، وَجُلُودَهَا، وَجِلالَهَا لِلْمَسَاكِينِ، وَلا يُعْطِي فِي جِزَارَتِهَا مِنْهَا شَيْئًا" .
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا کہ ”وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کی نگہبانی کریں“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا کہ ”وہ ان قربانی کے جانوروں کے سارے گوشت کو، ان کی کھالوں کو اور ان کے جھولوں کو غریبوں میں تقسیم کر دیں اور قصائی کو اس میں سے کوئی بھی چیز (معاوضے کے طور پر) نہ دیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 4022]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1707، 1716، 2299، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1317، وابن الجارود فى "المنتقى"، 530، 531، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2919، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4021، 4022، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1764، 1769، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3099، 3157، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10296، وأحمد فى (مسنده) برقم: 603» «رقم طبعة با وزير 4011»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (1161)، «صحيح أبي داود» (1552): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
313. باب الهدي - ذكر الأمر لمن ساق البدن وأرادت أن تعطب أن ينحرها ثم يجعلها للوارد والصادر
ہدی (قربانی) کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ جو بدنہ لے جائے اور وہ مرنے والی ہو تو اسے نحر کرے اور اسے آنے جانے والوں کے لیے چھوڑ دے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4023
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ نَاجِيَةَ الْخُزَاعِيِّ وَكَانَ صَاحِبَ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا عَطِبَ مِنَ الْبُدْنِ؟، قَالَ:" انْحَرْهَا، ثُمَّ أَلْقِ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا، ثُمَّ خَلِّ بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ، فَلْيَأْكُلُوهَا" .
سیدنا ناجیہ خزاعی رضی اللہ عنہ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کے جانوروں کے نگران تھے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قربانی کے ان جانوروں میں سے جو جانور تھک جائے (یا ہلاک ہونے لگے) میں اس کے ساتھ کیا کروں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے ذبح کر کے اس کا ہار اس کے خون میں تر کر کے اسے لوگوں کے لیے چھوڑ دو، وہ خود ہی اسے کھا لیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 4023]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2577، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4023، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4123، 6605، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1762، والترمذي فى (جامعه) برقم: 910، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1950، 1951، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3106، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10363، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19246» «رقم طبعة با وزير 4012»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود». فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
314. باب الهدي - ذكر الزجر عن أكل سائر البدن إذا زحفت عليه منها إذا نحرها
ہدی (قربانی) کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ بدنہ کا سائس اسے کھائے اگر وہ اس پر زخمی ہو جائے جب اسے نحر کیا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4024
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعُمَرِيُّ بِالْمَوْصِلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ مَهْدِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الأَسْلَمِيَّ، وَبَعَثَ مَعَهُ ثَمَانَ عَشْرَةَ بَدَنَةً، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ أُزْحِفَ عَلَيَّ مِنْهَا شَيْءٌ؟، قَالَ:" انْحَرْهَا، ثُمَّ اصْبِغْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا، ثُمَّ اضْرِبْ بِهِ صَفْحَتَهَا، وَلا تَأْكُلُ مِنْهَا أَنْتَ، وَلا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا اسلمی رضی اللہ عنہ کو بھیجا، آپ نے ان کے ہمراہ قربانی کے اٹھارہ اونٹ بھیجے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کا کیا خیال ہے، اگر ان میں سے کوئی جانور سفر کے قابل نہ رہے (تو میں کیا کروں؟) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے قربان کر دو، پھر اس کے جوتے (یعنی وہ جوتے جو ہار کے طور پر اس کے گلے میں ڈالے گئے) اس کے خون میں رنگ کر اس کے ذریعے اس کے پہلو پر نشان لگا دو، تم خود اس میں سے کچھ نہ کھانا اور تمہارے ساتھیوں میں سے بھی کوئی شخص اس کا گوشت نہ کھائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 4024]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1325، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1416، وابن الجارود فى "المنتقى"، 468، وابن خزيمة فى (صحيحه) 4/262، بدون ترقيم، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4024، 4025، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4122، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1763، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10358، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1894، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 15578» «رقم طبعة با وزير 4013»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1547). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
315. باب الهدي - ذكر الإخبار عن نفي جواز أكل سائق البدن المنحورة إذا بقيت وأهل رفقته كذلك
ہدی (قربانی) کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ بدنہ کے سائس اور اس کے رفقاء کے لیے نحر کیے ہوئے بدنہ کا کھانا جائز نہیں اگر وہ باقی رہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4025
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا، وَسِنَانٌ معتمرين، وانطلق سنان معه ببدنة يسوقها، فأزحفت عليه في الطريق، فقال لئن قدمنا البلد لأستفتين عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَأَصْبَحْتُ، فَلَمَّا نَزَلْنَا الْبَطْحَاءَ، قَالَ: انْطَلَقْ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَانْطَلَقْنَا، فَذَكَرَ لَهُ شَأْنَ بَدَنَتِهِ، فَقَالَ: عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطَتْ، بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسِتَّ عَشْرَةَ بَدَنَةً مَعَ رَجُلٍ، وَأَمَرَهُ فِيهَا، فَمَضَى، ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا يُبْدِعُ عَلَيَّ مِنْهَا؟، قَالَ:" انْحَرْهَا، ثُمَّ اصْبِغْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا، ثُمَّ اجْعَلْهُ عَلَى صَفْحَتِهَا، وَلا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ، وَلا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ" .
موسیٰ بن سلمہ بیان کرتے ہیں: میں اور سنان عمرہ کرنے کے لیے روانہ ہوئے، سنان اپنے ہمراہ قربانی کا جانور بھی لے کر گئے تھے جسے وہ ساتھ لے کر چل رہے تھے، راستے میں کسی مقام پر وہ جانور آگے چلنے کے قابل نہ رہا تو سنان نے کہا: اگر ہم کسی شہر پہنچ گئے تو ہم اس بارے میں مسئلہ دریافت کر لیں گے۔ راوی کہتے ہیں: اگلے دن ہم نے وادیِ بطحاء میں پڑاؤ کیا، انہوں نے کہا: آپ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس چلیں، تو ہم لوگ گئے، ہم نے ان کے قربانی کے جانور کا معاملہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے ذکر کیا، تو انہوں نے فرمایا: تم نے صاحبِ علم شخص سے دریافت کیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاحب کے ہمراہ سولہ اونٹ بھیجے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں اس صاحب کو ہدایت کی، وہ صاحب چلے گئے پھر وہ واپس آئے اور انہوں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر ان میں سے کوئی جانور میرے لیے بوجھ بن جائے (یعنی آگے جانے کے قابل نہ رہے) تو میں کیا کروں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے قربان کرو، پھر اس کے (گلے میں موجود ہار کے) جوتے اس کے خون میں رنگین کر کے اس کے ذریعے اس کے پہلو پر نشان لگا دو، تم خود اس کے گوشت کو نہ کھانا اور تمہارے ساتھیوں میں سے بھی کوئی اس کا گوشت نہ کھائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 4025]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1325، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1416، وابن الجارود فى "المنتقى"، 468، وابن خزيمة فى (صحيحه) 4/262، بدون ترقيم، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4024، 4025، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4122، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1763، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10358، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1894، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 15578» «رقم طبعة با وزير 4014»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں