🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
273. باب الكفارة - ذكر البيان بأن المرء مخير في الافتداء بما تيسر عليه من هذه الأشياء الثلاث
کفارہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ آدمی کو اختیار ہے کہ وہ ان تین چیزوں میں سے جو اس کے لیے آسان ہو، اس سے فدیہ ادا کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3982
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ: دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا كَعْب بن عُجْرَةَ أَتُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ؟"، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَمَرَنِي بِصِيَامٍ، أَوْ صَدَقَةٍ، أَوْ نُسُكٍ أَيُّمَا تَيَسَّرَ .
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اے کعب بن عجرہ! کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف دے رہی ہیں؟“ راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے روزہ رکھنے یا صدقہ کرنے یا قربانی کرنے کا حکم دیا کہ جو بھی ان میں سے آسانی سے ہو سکے (وہ فدیہ میں ادا کر دوں)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3982]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1814، 1815، 1816، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1201، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2676، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3978، 3979، 3980، 3981، 3982، 3983، 3984، 3985، 3986، 3987، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2851، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1856، 1857، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3079، 3080، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 289، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7811، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2780، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18388» «رقم طبعة با وزير 3971»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3983
أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ عَنْ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ: أَتَى عَلِيٌّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَأَنَا أُوقِدُ تَحْتَ بُرْمَةٍ لِي، وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي، فَقَالَ: " أَتُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ؟"، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" فَاحْلِقْ، وَصُمْ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، أَوِ انْسُكْ شَاةً" ، قَالَ أَيُّوبُ: فَلا أَدْرِي بِأَيِّ ذَلِكَ بَدَأَ.
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، یہ صلح حدیبیہ کے موقع کی بات ہے، میں اس وقت اپنی ہنڈیا کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور میری جوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف دے رہی ہیں؟“ میں نے عرض کی: ”جی ہاں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سر منڈوا دو اور تین دن روزے رکھ لو یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو یا ایک بکری قربان کر دو۔“ ایوب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: مجھے یہ معلوم نہیں ہے، ان میں سے کس کا ذکر پہلے ہوا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3983]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1814، 1815، 1816، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1201، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2676، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3978، 3979، 3980، 3981، 3982، 3983، 3984، 3985، 3986، 3987، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2851، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1856، 1857، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3079، 3080، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 289، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7811، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2780، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18388» «رقم طبعة با وزير 3972»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
274. باب الكفارة - ذكر وصف القدر الذي يطعم لكل مسكين في الكفارة التي ذكرناها
کفارہ کا بیان - ہمارے بیان کردہ کفارہ میں ہر مسکین کو کھلانے کی مقدار کی صفت کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3984
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ: أَتَى عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمِنُ الْحُدَيْبِيَةِ، وَأَنَا كَثِيرُ الشَّعْرِ، فَقَالَ: " كَأَنَّ هَوَامُّ رَأْسِكَ تُؤْذِيكَ؟"، فَقُلْتُ: أَجَلْ، قَالَ:" فَاحْلِقْهُ، وَاذْبَحْ شَاةً نَسِيكَةً، أَوْ صُمْ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ تَصَدَّقْ بِثَلاثَةِ آصُعِ تَمْرٍ بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ" .
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: صلح حدیبیہ کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، میرے بال بہت زیادہ تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تنگ کر رہی ہیں؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے منڈوا دو اور ایک بکری کی قربانی دے دو یا تین دن کے روزے رکھ لو یا کھجوروں کے تین صاع چھ مسکینوں کو صدقہ دے دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3984]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1814، 1815، 1816، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1201، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2676، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3978، 3979، 3980، 3981، 3982، 3983، 3984، 3985، 3986، 3987، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2851، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1856، 1857، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3079، 3080، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 289، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7811، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2780، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18388» «رقم طبعة با وزير 3973»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1624): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
275. باب الكفارة - ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه
کفارہ کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ کی صحت کو واضح کرتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3985
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، قَالَ: قَعَدْتُ إِلَى كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ فِي الْمَسْجِدِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196، فَقَالَ كَعْبٌ: فِيَّ نَزَلَتْ، كَانَ بِي أَذًى مِنْ رَأْسِي، فَحُمِلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا كِدْتُ أَرَى الْجَهْدَ بَلَغَ مِنْكَ مَا أَرَى، أَتَجِدُ شَاةً"، قُلْتُ: لا، قَالَ: فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ، فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196 فَالصَّوْمُ ثَلاثَةُ أَيَّامٍ، وَالصَّدَقَةُ عَلَى كُلِّ مِسْكِينٍ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ طَعَامٍ، وَالنُّسُكُ شَاةٌ .
عبداللہ بن معقل بیان کرتے ہیں: میں سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے پاس مسجد میں بیٹھا ہوا تھا، میں نے ان سے اس آیت ﴿فَفِدْيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ﴾ [سورة البقرة: 196] کے بارے میں دریافت کیا: ”تو اس کا فدیہ روزے رکھنا ہو گا یا صدقہ کرنا ہو گا یا قربانی کرنا ہو گا۔“ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے بتایا: یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی تھی، میرے سر میں تکلیف تھی (یعنی جوئیں زیادہ ہو گئی تھیں)، مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، میرے چہرے پر جوئیں آ رہی تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ تمہاری پریشانی اتنی بڑھ چکی ہو گی جو مجھے اب نظر آ رہی ہے، کیا تمہارے پاس بکری ہے؟“ میں نے عرض کی: جی نہیں۔ راوی کہتے ہیں: تو اس بارے میں یہ آیت ﴿فَفِدْيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ﴾ [سورة البقرة: 196] نازل ہوئی: ”تو اس کا فدیہ روزے رکھنا یا صدقہ کرنا یا قربانی کرنا ہو گا۔“ (راوی بیان کرتے ہیں:) تو روزے تین دن کے ہوں گے اور صدقے میں ہر مسکین کو اناج کا نصف صاع دیا جائے گا اور قربانی بکری کی ہو گی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3985]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1814، 1815، 1816، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1201، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2676، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3978، 3979، 3980، 3981، 3982، 3983، 3984، 3985، 3986، 3987، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2851، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1856، 1857، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3079، 3080، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 289، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7811، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2780، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18388» «رقم طبعة با وزير 3974»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (4/ 231): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
276. باب الكفارة - ذكر قدر الإطعام الذي يطعم المساكين الستة في الفدية
کفارہ کا بیان - اس کھانے کی مقدار کا ذکر جو فدیہ میں چھ مسکینوں کو کھلایا جاتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3986
أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ بِوَاسِطٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ زَمِنَ الْحُدَيْبِيَةِ، فَقَالَ:" قَدْ آذَاكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ؟"، قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" احْلِقْ، ثُمَّ اذْبَحْ شَاةً نُسُكًا، أَوْ صُمْ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ، أَوِ اطْعِمْ ثَلاثَةَ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينَ" .
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تنگ کر رہی ہیں؟“ انہوں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سر منڈوا دو اور بکری کی قربانی کر دو یا تین دن کے روزے رکھ لو یا کھجوروں کے تین صاع چھ مسکینوں کو کھلا دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3986]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1814، 1815، 1816، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1201، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2676، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3978، 3979، 3980، 3981، 3982، 3983، 3984، 3985، 3986، 3987، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2851، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1856، 1857، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3079، 3080، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 289، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7811، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2780، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18388» «رقم طبعة با وزير 3975»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر (3967). تنبيه!! رقم (3967) = (3978) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
277. باب الكفارة - ذكر البيان بأن هذا الحكم لكعب بن عجرة ومن كانت حالته حالته فيه سواء
کفارہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ یہ حکم کعب بن عجرہ اور اس جیسے حالات والوں کے لیے برابر ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3987
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَوْضِيُّ ، عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَصْبَهَانِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْقِلٍ ، قَالَ: قَعَدْتُ إِلَى كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا: فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196، قَالَ: حُمِلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي، فَقَالَ:" مَا كُنْتُ أَرَى الْجَهْدَ قَدْ بَلَغَ بِكَ مَا أَرَى، أَتَجِدُ شَاةً؟"، قُلْتُ: لا، قَالَ:" فَصُمْ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ، أَوِ اطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ لِكُلِّ مِسْكِينٍ نِصْفُ صَاعٍ"، قَالَ: فَنَزَلَتْ فِي خَاصَّةٍ، وَهِيَ لَكُمْ عَامَّةٌ .
عبداللہ بن معقل بیان کرتے ہیں: میں سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، میں نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿فَفِدْيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ﴾ [سورة البقرة: 196] ”تو اس کا فدیہ روزے رکھنا ہوگا یا صدقہ کرنا ہوگا یا قربانی کرنا ہوگا۔“ کے بارے میں دریافت کیا، تو سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے بتایا: مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، میری جوئیں میرے چہرے پر آ رہی تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ تمہاری تکلیف اتنی بڑھ گئی ہوگی جو مجھے اب نظر آ رہی ہے، کیا تمہارے پاس بکری ہے؟“ میں نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم تین دن کے روزے رکھ لو یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو، جس میں سے ہر مسکین کو نصف صاع دیا جائے۔“ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تو یہ آیت بطور خاص میرے بارے میں نازل ہوئی تھی، لیکن اس کا حکم تم سب کے لیے عام ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3987]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1814، 1815، 1816، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1201، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2676، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3978، 3979، 3980، 3981، 3982، 3983، 3984، 3985، 3986، 3987، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2851، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1856، 1857، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3079، 3080، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 289، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7811، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2780، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18388» «رقم طبعة با وزير 3976»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر (3974). تنبيه!! رقم (3974) = (3985) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
278. باب الحج والاعتمار عن الغير
دوسروں کی طرف سے حج و عمرہ کا بیان -
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3988
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلا، يَقُولُ: لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ شُبْرُمَةُ؟"، قَالَ: أَخٌ لِي، أَوْ قَرَابَةٌ، قَالَ: " هَلْ حَجَجْتَ قَطُّ؟"، قَالَ: لا، قَالَ:" فَاجْعَلْ هَذِهِ عَنْ نَفْسِكِ، ثُمَّ احْجُجْ عَنْ شُبْرُمَةَ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَاجْعَلْ هَذِهِ عَنْ نَفْسِكَ" أَرَادَ بِهِ الإِعْلامَ بِنَفْيِ جَوَازِ الْحَجِّ عَنِ الْغَيْرِ إِذَا لَمْ يَحُجَّ عَنْ نَفْسِهِ، وَقَوْلُهُ:" ثُمَّ احْجُجْ عَنْ شُبْرُمَةَ" أَمْرُ إِبَاحَةٍ لا حَتْمٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو «لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ» ”میں شبرمہ کی طرف سے حج کرنے کے لیے حاضر ہوں“ کہتے ہوئے سنا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”شبرمہ کون ہے؟“ اس نے جواب دیا: میرا بھائی ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) میرا رشتے دار ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تم نے خود حج کر لیا ہے؟“ اس نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اسے تم اپنی طرف سے کرو اور بعد میں شبرمہ کی طرف سے حج کر لینا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”اسے تم اپنی طرف سے کرو“ اس کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد اس بات کی اطلاع دینا تھی کہ جب کسی شخص نے خود حج نہ کیا ہو، تو اس کے لیے کسی دوسرے کی طرف سے حج کرنا جائز نہیں ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”پھر تم شبرمہ کی طرف سے حج کر لینا“ یہ حکم (اباحت) کے لیے ہے، لازمی قرار دینے کے لیے نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3988]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 548، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 3039، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3988، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1811، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2903، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8766، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2642، وأخرجه الطبراني فى(الكبير) برقم: 12419، وأخرجه الطبراني فى (الأوسط) برقم: 1440، 2300، 4495، وأخرجه الطبراني فى (الصغير) برقم: 630» «رقم طبعة با وزير 3977»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1589)، «المشكاة» (2529). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
279. باب الحج والاعتمار عن الغير - ذكر الأمر بالحج عن من وجب عليه فريضة الله فيه وهو غير مستطيع للركوب على الراحلة
دوسروں کی طرف سے حج و عمرہ کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ جو شخص اللہ کی فرض کردہ فریضہ پر قادر نہ ہو اور سواری پر نہ جا سکتا ہو، اس کے لیے حج کیا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3989
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ، قَالَ: كَانَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ تَسْتَفْتِيهِ، فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا، وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَى الشِّقِّ الآخَرِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى الرَّاحِلَةِ أَفَأَحُجَّ عَنْهُ؟، قَالَ:" نَعَمْ"، وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (سواری پر) بیٹھے ہوئے تھے، ایک خاتون جو خثعم قبیلے سے تعلق رکھتی تھی وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مسئلہ دریافت کرنے کے لیے حاضر ہوئی۔ سیدنا فضل رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف دیکھنا شروع کر دیا اور اس خاتون نے سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھنا شروع کر دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کے چہرے کو دوسری طرف موڑ دیا، اس خاتون نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر جو حج فرض کیا ہے وہ میرے بوڑھے عمر رسیدہ والد پر بھی لازم ہو گیا ہے، جو سواری پر بیٹھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، تو کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں“ (راوی کہتے ہیں) یہ حجۃ الوداع کے موقع کی بات ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3989]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1513، 1852، 1853، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1334، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1317، وابن الجارود فى "المنتقى"، 546، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3989، 3990، 3992، 3993، 3994، 3995، 3996، 3997، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2633، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1809، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2904، 2907، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8717، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2609، 2612، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1837» «رقم طبعة با وزير 3978»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1587)، «جلباب المرأة المسلمة» (ص 62). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
280. باب الحج والاعتمار عن الغير - ذكر تمثيل المصطفى صلى الله عليه وسلم الحج على من وجبت عليه بالدين إذا كان عليه
دوسروں کی طرف سے حج و عمرہ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کو اس شخص کے لیے قرض کی طرح قرار دیا جس پر فریضہ واجب ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3990
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، أَنْ رَجُلا سَأَلَ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، عَنِ امْرَأَةٍ أَرَادَتْ أَنْ تَعْتِقَ عَنْ أُمِّهَا، قَالَ سُلَيْمَانُ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، أَنْ رَجُلا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي دَخَلٍ فِي الإِسْلامِ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ، فَإِنْ أَنَا شَدَدْتُهُ عَلَى رَاحِلَتِي خَشِيتُ أَنْ أَقْتُلَهُ، وَإِنْ لَمْ أَشُدَّهُ لَمْ يَثْبُتْ عَلَيْهَا، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرَأَيْتَ لَوَ كَانَ عَلَى أَبِيكَ دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ عَنْهُ أَكَانَ يُجْزِئُ عَنْهُ؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَاحْجُجْ عَنْ أَبِيكَ" .
یحییٰ بن ابواسحاق بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے سلیمان بن یسار سے ایسی خاتون کے بارے میں دریافت کیا جو اپنی والدہ کی طرف سے غلام آزاد کرنے کا ارادہ کرتی ہے، تو سلیمان نے جواب دیا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے والد نے جب اسلام قبول کیا اس وقت وہ بوڑھے عمر رسیدہ ہو چکے تھے، اگر میں انہیں سواری پر باندھ دیتا ہوں تو مجھے ڈر ہے وہ فوت ہو جائیں گے اور اگر انہیں باندھتا نہیں ہوں تو وہ اس پر بیٹھ نہیں سکیں گے، کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے اگر تمہارے والد کے ذمے قرض ہوتا اور تم ان کی طرف سے اس کو ادا کر دیتے، تو کیا وہ ادا ہو جاتا؟“ اس نے جواب دیا: جی ہاں۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم اپنے والد کی طرف سے حج کر لو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں قیاس کرنے کی اجازت ہونے کی دلیل ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3990]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1513، 1852، 1853، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1334، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1317، وابن الجارود فى "المنتقى"، 546، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3989، 3990، 3992، 3993، 3994، 3995، 3996، 3997، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2633، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1809، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2904، 2907، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8717، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2609، 2612، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1837» «رقم طبعة با وزير 3979»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح؛ لكن قوله: رجلاً سأل ... شاذ، والمحفوظ في هذه القصة أن السائل: امرأة؛ كما في الذي قبله - «الإرواء» (993). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله ثقات رجال مسلم غير إبراهيم بن الحجاج السامي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
281. باب الحج والاعتمار عن الغير - ذكر الأمر بالعمرة عمن لا يستطيع ركوب الراحلة إذ فرضها كفرض الحج سواء
دوسروں کی طرف سے حج و عمرہ کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ جو شخص سواری پر جانے کی استطاعت نہ رکھتا ہو، اس کے لیے عمرہ کیا جائے، کیونکہ اس کا فرض حج کے فرض جیسا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3991
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ، وَالْعُمْرَةَ، وَالظَّعْنَ، فَقَالَ: " حَجَّ عَنْ أَبِيكَ واعْتَمِرْ" ، أَبُو رَزِينٍ لَقِيطُ بْنُ عَامِرٍ.
سیدنا ابورزین عقیلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے والد بوڑھے عمر رسیدہ آدمی ہیں، وہ حج یا عمرہ کرنے یا سواری پر بیٹھنے کی طاقت نہیں رکھتے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے والد کی طرف سے حج بھی کر لو اور عمرہ بھی کر لو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا ابورزین رضی اللہ عنہ کا نام لقیط بن عامر ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3991]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 549، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 3040، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3991، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1774، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2620، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1810، والترمذي فى (جامعه) برقم: 930، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2906، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8725، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2710، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16435» «رقم طبعة با وزير 3980»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1588)، «المشكاة» (2528 / التحقيق الثاني). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں