صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1. باب
ہدی (قربانی) کا بیان -
حدیث نمبر: 4026
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا، وَابْنُ مَسْعُودٍ نمشي بالمدينة، قَالَ: فَلَقِيَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، فَأَخَذَ بِيَدِهِ، قَالَ: فَقَامَا، وَتَنَحَّيْتُ عَنْهُمَا، فَلَمَّا رَأَى عَبْدُ اللَّهِ أَنْ لَيْسَ لَهُ حَاجَةٌ يَسِرُّهَا، قَالَ: ادْنُ عَلْقَمَةُ، قَالَ: فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ، يَقُولُ: أَلا نُزَوِّجُكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ جَارِيَةً لَعَلَّهَا أَنْ تُذَكِّرَكَ مَا فَاتَكَ؟ قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَئِنْ قُلْتَ ذَلِكَ، فَإِنَّا قَدْ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَابًا، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَصُمْ، فَإِنَّهُ لَهُ وَجَاءٌ" ، وَهُوَ الإِخْصَاءُ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: الأَمْرُ بِالتَّزْوِيجِ فِي هَذَا الْخَبَرِ، وَسَبَبُهُ اسْتِطَاعَةُ الْبَاءَةِ، وَعِلَّتُهُ غَضُّ الْبَصَرِ، وَتَحْصِينُ الْفَرْجِ، وَالأَمْرُ الثَّانِي هُوَ الصَّوْمُ عِنْدَ عُدْمِ السَّبَبِ، وَهُوَ الْبَاءَةُ، وَالْعِلَّةُ الأُخْرَى هُوَ قَطْعُ الشَّهْوَةِ.
علقمہ بن قیس بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں کہیں جا رہے تھے تو سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہو گئی، انہوں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا۔ راوی کہتے ہیں: یہ دونوں صاحبان اٹھے اور ذرا ایک طرف ہو گئے، جب سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے (دور جا کر) یہ بات نوٹ کی کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو ان سے کوئی ایسا کام نہیں ہے جسے پوشیدہ رکھا جائے، تو انہوں نے فرمایا: علقمہ! تم آگے آ جاؤ۔ راوی کہتے ہیں: میں ان کے پاس گیا تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ یہ کہہ رہے تھے: اے عبداللہ! ہم آپ کی شادی کسی لڑکی سے نہ کروا دیں تاکہ وہ آپ کو گزرے ہوئے (جوانی کے زمانے) کی یاد دلا دے۔ راوی کہتے ہیں، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر آپ یہ بات کہتے ہیں (تو میں آپ کو بتاتا ہوں) ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں نوجوان تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص نکاح کی استطاعت رکھتا ہو اسے شادی کر لینی چاہیے کیونکہ یہ نگاہ کو زیادہ جھکا کر رکھتی ہے اور شرم گاہ کی زیادہ حفاظت کرتی ہے اور تم میں سے جو شخص شادی کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا اسے روزے رکھنے چاہئیں، کیونکہ یہ اس کی شہوت کو ختم کر دیں گے۔“ (راوی کہتے ہیں: روایت کے متن میں استعمال ہونے والے لفظ) «وِجَاءٌ» سے مراد شہوت کو ختم کرنا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں شادی کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس کا سبب شادی کرنے کی استطاعت ہے اور اس کی علت نکاح کو جھکانا اور شرم گاہ کی حفاظت کرنا ہے جبکہ دوسرا حکم یہ ہے: جب یہ سبب موجود نہ ہو تو روزے رکھے جائیں اور وہ سبب شادی کی استطاعت نہ ہونا ہے اور اس کی دوسری علت شہوت کو ختم کرنا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4026]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1905، 5065، 5066، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1400، وابن الجارود فى "المنتقى"، 729، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4026، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2238، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2046، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1081، 1081 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1845، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 489، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8544، وأحمد فى (مسنده) برقم: 418، والحميدي فى (مسنده) برقم: 115» «رقم طبعة با وزير 4015»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1785): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح وإسناده قوي
2. - ذكر الزجر عن التبتل إذ تبتل هذه الأمة الجهاد في سبيل الله
- ذکر اس ممانعت کا کہ اس امت کے لیے تبتل جہاد فی سبیل اللہ کے مقابلے میں منع ہے
حدیث نمبر: 4027
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: " أَرَادَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ أَنْ يَتَبَتَّلَ، فَنَهَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ" ، قَالَ سَعْدٌ: فَلَوْ أَجَازَ لَهُ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لاخْتَصَيْنَا.
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے مجرد رہنے کا ارادہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے منع کر دیا۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اجازت دے دیتے تو ہم خود کو خصی کروا لیتے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4027]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5073، 5074، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1402، وابن الجارود فى "المنتقى"، 731، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4027، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3212، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5304، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1083، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1848، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13592، 13593، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1533» «رقم طبعة با وزير 4016»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
3. - ذكر العلة التي من أجلها نهى عن التبتل
- ذکر اس وجہ کا جس کی بنا پر تبتل سے منع کیا گیا
حدیث نمبر: 4028
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ ، عَنْ حَفْصِ ابْنِ أَخِي أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِالْبَاءَةِ، وَيَنْهَى عَنِ التَّبَتُّلِ نَهْيًا شَدِيدًا، وَيَقُولُ: " تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ، فَإِنِّي مُكَاثِرٌ الأَنْبِيَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نکاح کرنے کا حکم دیتے تھے اور مجرد رہنے سے سختی سے منع کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے: ”محبت کرنے والی اور اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والی خواتین کے ساتھ شادی کرو۔ کیونکہ میں قیامت کے دن انبیاء کے سامنے تمہاری کثرت پر فخر کروں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4028]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4028، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 1888، 1889، 1890، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 490، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13606، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12808، 13776، والبزار فى (مسنده) برقم: 6456، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 5099» «رقم طبعة با وزير 4017»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «آداب الزفاف» (89)، «المشكاة» (3091)، «الإرواء» (1784).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح لغيره
4. - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن قوله جل وعلا ذلك أدنى ألا تعولوا أراد به كثرة العيال
- ذکر اس خبر کا جو اس قول کو رد کرتی ہے کہ جس نے دعویٰ کیا کہ اللہ تعالیٰ کے قول "ذلك أدنى ألا تعولوا" سے مراد کثرت عیال ہے
حدیث نمبر: 4029
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ الْعُمَرِيِّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ: ذَلِكَ أَدْنَى أَلا تَعُولُوا سورة النساء آية 3، قَالَ:" أَنْ لا تَجُورُوا" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ﴿ذٰلِكَ أَدْنَىٰ أَلَّا تَعُولُوا﴾ [سورة النساء: 3] ”یہ اس بات کے زیادہ لائق ہے کہ تم عول نہ کرو۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اس سے مراد یہ ہے کہ تم ظلم نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4029]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4029، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 5730» «رقم طبعة با وزير 4018»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3222).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
5. - ذكر معونة الله جل وعلا القاصد في نكاحه العفاف والناوي في كتابته الأداء
- ذکر اللہ تعالیٰ کی مدد کا جو شادی میں عفت اور کتابت میں ادائیگی کے ارادہ رکھنے والے کے لیے ہے
حدیث نمبر: 4030
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلاثَةٌ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُعِينَهُمُ: الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالنَّاكِحُ يُرِيدُ أَنْ يَسْتَعِفَّ، وَالْمُكَاتَبُ يُرِيدُ الأَدَاءَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تین لوگ ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ذمے یہ بات ہے کہ وہ ان کی مدد کرے: اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا مجاہد، اور نکاح کرنے والا ایسا شخص جو پاک دامنی اختیار کرنا چاہتا ہو، اور ایسا مکاتب غلام جو ادائیگی کرنے کا ارادہ کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4030]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 1052، 1053، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4030، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2693، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1655، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2518، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13586، 21650، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7534» «رقم طبعة با وزير 4019»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «غاية المرام» (210).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
6. - ذكر البيان بأن المرأة الصالحة للمؤمن خير متاع الدنيا
- ذکر اس بیان کا کہ مومن کے لیے صالحہ عورت دنیا کا بہترین متاع ہے
حدیث نمبر: 4031
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، وَذَكَرَ ابْنُ خُزَيْمَةَ آخَرَ مَعَهُ، قَالا: حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ ،، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الدُّنْيَا كُلَّهَا مَتَاعٌ، وَخَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”دنیا ساری کی ساری ساز و سامان ہے اور دنیا کے ساز و سامان میں سب سے بہترین چیز نیک بیوی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4031]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1467، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4031، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3232، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5325، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1535، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1980، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1855، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13598، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6678» «رقم طبعة با وزير 4020»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الضعيفة» تحت الحديث (5177): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
7. - ذكر الإخبار عن الأشياء التي هي من سعادة المرء في الدنيا
- ذکر اس خبر دینے کا کہ دنیا میں انسان کی سعادت کچھ چیزوں سے ہے
حدیث نمبر: 4032
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْبَعٌ مِنَ السَّعَادَةِ: الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ، وَالْمَسْكَنُ الْوَاسِعُ، وَالْجَارُ الصَّالِحُ، وَالْمَرْكَبُ الْهَنِيءُ، وَأَرْبَعٌ مِنَ الشَّقَاوَةِ: الْجَارُ السُّوءُ، وَالْمَرْأَةُ السُّوءُ، وَالْمَسْكَنُ الضِّيقُ، وَالْمَرْكَبُ السُّوءُ" .
اسمٰعیل بن محمد اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا (سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے: ”چار چیزیں خوش بختی (کی علامت) ہیں: نیک بیوی، کشادہ گھر، اچھا ہمسایہ اور اچھی سواری؛ اور چار چیزیں بدبختی (کی علامت) ہیں: برا ہمسایہ، بری بیوی، تنگ گھر اور بری سواری۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4032]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4032، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 1048، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2655، 2699، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1462» «رقم طبعة با وزير 4021»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (282).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
8. - ذكر الإخبار بأن في أشياء معلومة يوجد الشؤم والبركة معا
- ذکر اس خبر دینے کا کہ بعض معلوم چیزوں میں نحوست اور برکت ایک ساتھ پائی جاتی ہے
حدیث نمبر: 4033
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ، فَفِي الرَّبْعِ، وَالْفَرَسِ، وَالْمَرْأَةِ" يَعْنِي: الشُّؤْمَ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اگر وہ (نحوست) کسی چیز میں ہو، تو یا گھر میں ہو گی یا گھوڑے میں یا بیوی میں۔“ (راوی کہتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد نحوست تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4033]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2227، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4033، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3572، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4396، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14798، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 7099، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 782» «رقم طبعة با وزير 4022»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
9. - ذكر الإخبار عن وصف خير النساء للمتزوج من الرجال
- ذکر خبر دینے کے بارے میں کہ بہترین عورتوں کی کیا خصوصیات ہیں شادی کرنے والے مردوں کے لیے
حدیث نمبر: 4034
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُهُنَّ أَيْسَرُهُنَّ صَدَاقًا" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ان (بیویوں میں) سب سے بہتر وہ ہے جس کا مہر کم ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4034]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4034، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 150، 151، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 1562، وأخرجه الطبراني فى(الكبير) برقم: 11100، 11101» «رقم طبعة با وزير 4023»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «الضعيفة» (3584).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف
10. - ذكر ما يستحب للمرء عند التزويج أن يطلب الدين دون المال في العقد على ولده أو على نفسه
- ذکر اس بات کا کہ شادی کے وقت انسان کے لیے مستحب ہے کہ وہ دین کو ترجیح دے نہ کہ مال کو، جب وہ اپنے بچے یا خود کے لیے عقد کرے
حدیث نمبر: 4035
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ : أَنَّ جُلَيْبِيبًا كَانَ امْرَأً مِنَ الأَنْصَارِ، وَكَانَ يَدْخُلُ عَلَى النِّسَاءِ، وَيُتَحَدَّثُ إِلَيْهِنَّ، قَالَ أَبُو بَرْزَةَ: فَقُلْتُ لامْرَأَتِي لا يَدْخُلَنَّ عَلَيْكُمْ جُلَيْبِيبٌ، قَالَ: فَكَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ لأَحَدِهِمْ أَيِّمٌ لَمْ يُزَوِّجْهَا حَتَّى يَعْلَمَ أَلِرَسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا حَاجَةٌ أَمْ لا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ لِرَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ:" يَا فُلانُ، زَوَّجَنِي ابْنَتَكَ"، قَالَ: نَعَمْ وَنُعْمَى عَيْنٍ، قَالَ: " إِنِّي لَسْتُ لِنَفْسِي أُرِيدُهَا"، قَالَ: فَلِمَنْ؟، قَالَ:" لِجُلَيْبِيبٍ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَتَّى أَسْتَأْمِرَ أُمَّهَا، فَأَتَاهَا، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ابْنَتَكِ، قَالَتْ: نَعَمْ وَنُعْمَى عَيْنٍ، قَالَ: إِنَّهُ لَيْسَتْ لِنَفْسِهِ يُرِيدُهَا، قَالَتْ: فَلِمَنْ يُرِيدُهَا؟، قَالَ: لِجُلَيْبِيبٍ، قَالَتْ: حَلْقِي أَلِجُلَيْبِيبٍ!، قَالَتْ: لا لَعَمْرُ اللَّهِ، لا أُزَوِّجُ جُلَيْبِيبًا، فَلَمَّا قَامَ أَبُوهَا لَيَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتِ الْفَتَاةُ مِنْ خِدْرِهَا لأُمِّهَا: مَنْ خَطَبَنِي إِلَيْكُمَا، قَالا: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَتَرُدُّونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ أَمْرَهُ، ادْفَعُونِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّهُ لَنْ يُضَيِّعَنِي، فَذَهَبَ أَبُوهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، شَأْنُكَ بِهَا، فَزَوَّجَهَا جُلَيْبِيبًا" ، قَالَ حَمَّادٌ: قَالَ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ: هَلْ تَدْرِي مَا دَعَا لَهَا بِهِ؟، قَالَ: وَمَا دَعَا لَهَا بِهِ، قَالَ:" اللَّهُمَّ صَبَّ الْخَيْرَ عَلَيْهِمَا صَبًّا، وَلا تَجْعَلْ عَيْشَهُمَا كَدًّا". قَالَ قَالَ ثَابِتٌ : فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ، فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، قَالَ:" تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ؟"، قَالُوا: لا، قَالَ:" لَكِنِّي أَفْقِدُ جُلَيْبِيبًا، فَاطْلُبُوهُ فِي الْقَتْلَى"، فَوَجَدُوهُ إِلَى جَنْبِ سَبْعَةٍ، قَدْ قَتَلَهُمْ، ثُمَّ قَتَلُوهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَقَتَلَ سَبْعَةً، ثُمَّ قَتَلُوهُ?!، هَذَا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ"، يَقُولُهَا سَبْعًا، فَوَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَاعِدَيْهِ، مَا لَهُ سَرِيرٌ إِلا سَاعِدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى وَضَعَهُ فِي قَبْرِهِ ، قَالَ ثَابِتٌ: وَمَا كَانَ فِي الأَنْصَارِ أَيِّمٌ أَنْفَقُ مِنْهَا.
سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جلیبیب ایک انصاری شخص تھا، وہ خواتین کے ہاں جایا کرتا تھا اور ان کے ساتھ بات چیت کیا کرتا تھا۔ سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنی بیوی سے کہا: جلیبیب تمہارے پاس نہ آئے۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کا یہ معمول تھا کہ جب ان کے ہاں کی خواتین میں سے کوئی بیوہ یا طلاق یافتہ ہو جاتی، تو وہ اس خاتون کی آگے شادی اس وقت تک نہیں کرتے تھے جب تک یہ بات نہیں جان لیتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو اس کے ساتھ شادی نہیں کرنا چاہتے۔ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری سے فرمایا: ”اے فلاں شخص! تم اپنی بیٹی کی شادی کروا دو۔“ اس نے عرض کی: جی ہاں! سر آنکھوں پر۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں خود اس کے ساتھ شادی نہیں کرنا چاہتا۔“ اس انصاری نے دریافت کیا: پھر کس کے ساتھ کروں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جلیبیب کے ساتھ۔“ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! (آپ مجھے موقع دیں) تاکہ میں لڑکی کی ماں کے ساتھ مشورہ کر لوں، پھر وہ شخص اس عورت کے پاس آیا اور یہ بات بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری بیٹی کے لیے نکاح کا پیغام بھجوایا ہے، اس عورت نے کہا: ٹھیک ہے سر آنکھوں پر۔ اس شخص نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے پیغام نہیں دیا، تو عورت نے دریافت کیا: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کس کے لیے نکاح کا پیغام بھجوایا ہے؟ اس شخص نے بتایا: جلیبیب کے لیے۔ اس عورت نے کہا: اس نالائق جلیبیب کے لیے؟ پھر اس عورت نے کہا: نہیں اللہ کی قسم! میں جلیبیب کے ساتھ (اپنی بیٹی کی) شادی نہیں کروں گی۔ جب لڑکی کا باپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جانے کے لیے اٹھنے لگا، تو لڑکی نے پردے کے پیچھے سے اپنی ماں سے کہا: میری شادی کے بارے میں آپ کو نکاح کا پیغام کس نے بھجوایا ہے؟ ان دونوں نے جواب دیا: اللہ کے رسول نے۔ اس لڑکی نے دریافت کیا: تو کیا آپ لوگ اللہ کے رسول کے حکم پر عمل نہیں کریں گے؟ آپ مجھے اللہ کے رسول کے سپرد کر دیں، وہ مجھے ضائع نہیں کریں گے۔ پھر اس بچی کا باپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی: اس بچی کا معاملہ آپ کے سپرد ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچی کی شادی جلیبیب رضی اللہ عنہ سے کروا دی۔ حماد نامی راوی کہتے ہیں: اسحاق بن عبداللہ رحمہ اللہ نے یہ بات بیان کی ہے: کیا تم جانتے ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچی کے لیے کیا دعا کی تھی؟ راوی نے دریافت کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے کیا دعا کی تھی؟ تو اسحاق نے بتایا: (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی تھی) «اللَّهُمَّ صُبَّ عَلَيْهِمَا الْخَيْرَ صَبًّا، وَلَا تَجْعَلْ عَيْشَهُمَا كَدًّا كَدًّا» ”اے اللہ! ان دونوں پر بھلائی کو اچھی طرح انڈیل دے اور ان کی زندگی میں کوئی سختی نہ آنے دینا۔“ یہاں ثابت رحمہ اللہ نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی کی شادی ان صاحب سے کروا دی، ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی جنگ میں حصہ لینے کے لیے تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم کسی کو غیر موجود پاتے ہو؟“ ان لوگوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لیکن مجھے جلیبیب غیر موجود محسوس ہو رہا ہے، تو تم لوگ مقتولین میں اسے تلاش کرو۔“ تو ان لوگوں نے جلیبیب رضی اللہ عنہ کو ایسی حالت میں پایا کہ وہ سات مشرکین کے پاس موجود تھے، انہوں نے ان سات مشرکین کو قتل کیا تھا اور پھر خود شہید ہوئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا اس نے سات آدمیوں کو قتل کیا ہے اور پھر خود شہید ہوا ہے؟ یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں“، یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات مرتبہ ارشاد فرمائی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے بازوؤں پر اٹھا لیا، ان کی چارپائی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صرف بازو ہی تھے، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خود ان کی قبر میں اتارا۔ ثابت رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: انصار میں کوئی بیوہ عورت ایسی نہیں تھی جو اس (جلیبیب کی اہلیہ) سے زیادہ خرچ کرنے والی ہو (یعنی ان سے زیادہ مال دار ہو)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4035]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2472، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4035، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8189، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6943، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20092» «رقم طبعة با وزير 4024»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «أحكام الجنائز» (ص 73).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح