🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. - ذكر الزجر عن خطبة المرء على خطبة أخيه أو أن يستام على سومه
- ذکر اس ممانعت کا کہ کوئی شخص اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی نہ کرے یا اس کے سودے پر سودا نہ کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4046
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ عَاصِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ فَرَاهِيجَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَسْتَامُ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ، وَلا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، وَلا تَسْأَلُ الْمَرْأَةَ طَلاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي صَحْفَتِهَا" ، قَالَ الشَّيْخُ ابْنُ زَيْدٍ: هَذَا مِنْ أَهْلِ الْمَزَارِ بَصْرِيٌّ ثِقَةٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی شخص اپنے بھائی کی بولی پر بولی نہ لگائے اور کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر نکاح کا پیغام نہ بھیجے، اور کوئی عورت اپنی بہن (یعنی سوکن) کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ اس کے حصے میں آنے والی نعمتیں بھی خود حاصل کر لے۔ شیخ بیان کرتے ہیں کہ ابن زید نامی یہ راوی اہل مزار میں سے ہے، یہ بصرہ کا رہنے والا ہے اور ثقہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4046]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2140، 2148، 2150، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1408، 1524، 2563، 2564، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4046، 4048، 4050، 4068، 4069، 4070، 4113، 4115، 4117، 4118، 4961، 4970، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2065، 2066، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1125 م، 1126، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1867، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 647، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10567، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3070، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7254» «رقم طبعة با وزير 4035»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1298)، «صحيح أبي داود» (1814 و 1815).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4047
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لا يَخْطُبْ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر نکاح کا پیغام نہ بھیجے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4047]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2139، 2165، 5142، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1412، وابن الجارود فى "المنتقى"، 621، 623، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4047، 4051، 4959، 4965، 4966، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3238، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2081، 3436، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1292، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1868، 2171، 2179، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10998، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2826، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4619» «رقم طبعة با وزير 4036»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1815): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا إخبار دون النهي
- ذکر اس خبر کا جو اس قول کو رد کرتی ہے کہ یہ صرف خبر ہے نہ کہ ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4048
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ نَهَى أَنْ يَسْتَامَ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ، أَوْ يَخْطُبَ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص اپنے بھائی کی بولی پر بولی لگائے یا اپنے بھائی کے نکاح کے پیغام پر نکاح کا پیغام بھیجے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4048]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2140، 2148، 2150، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1408، 1524، 2563، 2564، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4046، 4048، 4050، 4068، 4069، 4070، 4113، 4115، 4117، 4118، 4961، 4970، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2065، 2066، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1125 م، 1126، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1867، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 647، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10567، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3070، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7254» «رقم طبعة با وزير 4037»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1814): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. - ذكر الخبر الدال على أن هذا الزجر إنما زجر إذا ركن أحدهما إلى صاحبه وهو العلة التي ذكرناها
- ذکر اس خبر کا جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ ممانعت اس وقت ہے جب ایک شخص دوسرے پر بھروسہ کرے اور یہی وہ وجہ ہے جو ہم نے ذکر کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4049
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ، وَهُوَ غَائِبٌ بِالشَّامِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا وَكِيلَهُ بِشَعِيرٍ، فَسَخِطَتْهُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا لَكَ عَلَيْنَا مِنْ شَيْءٍ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " لَيْسَ لَكِ عَلَيْهِ نَفَقَةٌ"، وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ، ثُمَّ قَالَ:" تِلْكَ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي، فَاعْتَدِّي عِنْدَ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى، فَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي"، قَالَتْ: فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَكَرْتُ لَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، وَأَبَا جَهْمٍ خَطَبَانِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا أَبُو جَهْمٍ فَلا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ، وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لا مَالُ لَهُ، انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ"، قَالَتْ: فَكَرِهْتُهُ، ثُمَّ قَالَ:" انْكِحِي أُسَامَةَ" فَنَكَحْتُهُ، فَجَعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا، وَاغْتَبَطْتُ بِهِ .
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا ابوعمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے انہیں طلاقِ بتہ دے دی، وہ اس وقت شام گئے ہوئے تھے، انہوں نے اپنے وکیل کو کچھ جو دے کر اس خاتون کے پاس بھیجا، اس خاتون نے اس وکیل پر ناراضگی کا اظہار کیا، اس وکیل نے کہا: اللہ کی قسم! تمہیں دینے کے لیے ہمارے ذمے اس کے علاوہ کوئی اور چیز لازم نہیں ہے۔ وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ کے سامنے اس مسئلے کا ذکر کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں خرچ دینا اس پر لازم نہیں ہے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو ہدایت کی کہ وہ سیدہ ام شریک رضی اللہ عنہا کے ہاں عدت بسر کرے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ایک ایسی خاتون ہے جس کے ہاں میرے اصحاب آتے جاتے رہتے ہیں، تم ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے ہاں عدت بسر کرو کیونکہ وہ ایک نابینا شخص ہے، جب تمہاری عدت ختم ہو جائے گی، تو تم مجھے اطلاع دے دینا۔ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب میری عدت ختم ہوئی تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابوجہم رضی اللہ عنہ نے مجھے نکاح کا پیغام بھجوایا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جہاں تک ابوجہم کا تعلق ہے تو وہ اپنے کندھے سے لاٹھی کو رکھتا نہیں ہے اور جہاں تک معاویہ کا تعلق ہے تو وہ نادار آدمی ہے اس کے پاس مال نہیں ہے، تم اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکاح کر لو۔ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ مجھے وہ پسند نہیں تھے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اسامہ کے ساتھ شادی کر لو۔ تو میں نے ان کے ساتھ شادی کر لی، اللہ تعالیٰ نے اس شادی میں اتنی بھلائی رکھی کہ مجھ پر رشک کیا جاتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4049]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1480، وابن الجارود فى "المنتقى"، 821، 822، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4049، 4250، 4251، 4252، 4253، 4254، 4289، 4290، 4291، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6973، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3222، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1135، 1135 م، 1180، 1180 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1869، 2024، 2032، 2035، 2036، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 589، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3920، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27742» «رقم طبعة با وزير 4038»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (6/ 208 / 1804): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. - ذكر إحدى الحالتين اللتين قد أبيح هذا الفعل المزجور عنه فيهما
- ذکر ان دو حالتوں میں سے ایک کا جن میں اس ممنوعہ فعل کی اجازت دی گئی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4050
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَسْتَامُ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ حَتَّى يَشْتَرِيَ أَوْ يَتْرُكَ، وَلا يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَنْكِحَ أَوْ يَذَرَ" أَبُو كَثِيرٍ: اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُذَيْنَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی شخص اپنے بھائی کی بولی پر بولی نہ لگائے جب تک (وہ دوسرا شخص) اسے خرید نہیں لیتا یا سودے کو ترک نہیں کر دیتا اور کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر نکاح کا پیغام نہ بھیجے جب تک (وہ دوسرا شخص) نکاح نہیں کر لیتا یا اس رشتے کو چھوڑ نہیں دیتا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوکثیر نامی راوی کا نام یزید بن عبدالرحمن بن اذینہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4050]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2140، 2148، 2150، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1408، 1524، 2563، 2564، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4046، 4048، 4050، 4068، 4069، 4070، 4113، 4115، 4117، 4118، 4961، 4970، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2065، 2066، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1125 م، 1126، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1867، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 647، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10567، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3070، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7254» «رقم طبعة با وزير 4039»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر (4035). تنبيه!! رقم (4035) = (4046) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4051
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَتْرُكَ الْخَاطِبُ الأَوَّلُ، أَوْ يَأْذَنَ لَهُ فَيَخْطُبُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر نکاح کا پیغام نہ بھیجے جب تک پہلا پیغام دینے والا شخص اس کو ترک نہیں کر دیتا یا پھر اگر وہ اجازت دے دے تو پھر وہ نکاح کا پیغام بھیج دے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4051]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2139، 2165، 5142، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1412، وابن الجارود فى "المنتقى"، 621، 623، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4047، 4051، 4959، 4965، 4966، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3238، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2081، 3436، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1292، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1868، 2171، 2179، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10998، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2826، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4619» «رقم طبعة با وزير 4040»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر (4036). تنبيه!! رقم (4036) = (4047) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. - ذكر ما يقال للمتزوج إذا تزوج أو عزم على العقد عليه
- ذکر اس بات کا جو شادی کرنے والے سے کہا جاتا ہے جب وہ شادی کرے یا عقد کا ارادہ کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4052
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ الرَّجُلُ أَنْ يَتَزَوَّجَ، قَالَ لَهُ:" بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، وَبَارَكَ عَلَيْكَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب کوئی شخص شادی کرنے کا ارادہ کرتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے یہ فرماتے تھے: «بَارَكَ اللّٰهُ لَكَ، وَبَارَكَ عَلَيْكَ» اللہ تعالیٰ تمہیں برکت نصیب کرے اور تم پر برکتیں نازل کرے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4052]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4052، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2761، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10017، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2130، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1091، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2220، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1905، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 522، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13953، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9078» «رقم طبعة با وزير 4041»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1850).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. - ذكر تضعيف الأجر لمن تزوج بجاريته بعد حسن تأديبها وعتقها ولمن أسلم من أهل الكتاب
- ذکر اس بات کا کہ اپنی باندی کو اچھی تربیت اور آزادی دینے کے بعد اس سے شادی کرنے والے اور اہل کتاب میں سے ایمان لانے والے کے لیے اجر دوگنا ہوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4053
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا صَالِحُ بْنُ حَيٍّ ، أَنَّ رَجُلا مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ، قَالَ لِلشَّعْبِيِّ: إِنَّا نَقُولُ عِنْدَنَا: إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا أَعْتَقَ أُمَّ وَلَدِهِ، ثُمَّ تَزَوَّجَهَا، فَهُوَ كَالرَّاكِبِ هَدْيَهُ، قَالَ الشَّعْبِيُّ أَخْبَرَنِي أَبُو بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَدَّبَ الرَّجُلُ أَمَتَهُ، وَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهَا، وَعَلَّمَهَا فَأَحْسَنَ تَعْلِيمَهَا، ثُمَّ أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا، كَانَ لَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا آمَنَ الرَّجُلُ بِعِيسَى، ثُمَّ آمَنَ بِي، فَلَهُ أَجْرَانِ، وَالْعَبْدُ إِذَا اتَّقَى رَبَّهُ، وَأَطَاعَ مَوَالِيَهُ، فَلَهُ أَجْرَانِ" .
صالح بن حی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ خراسان سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے امام شعبی رحمہ اللہ سے کہا: ہمارے ہاں یہ کہا جاتا ہے کہ جب کوئی شخص اپنی ام ولد کو آزاد کر دے اور پھر اس کے ساتھ شادی کر لے، تو اس کی مثال ایسے شخص کی طرح ہے جو اپنی قربانی کے جانور پر سوار ہو جاتا ہے، تو امام شعبی رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا ابوبردہ رحمہ اللہ نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جب کوئی شخص اپنی کنیز کی تربیت کرے اور اچھی طرح سے تربیت کرے، اس کو تعلیم دے اور اچھی طرح سے تعلیم دے، پھر وہ اسے آزاد کر کے اس کنیز کے ساتھ شادی کر لے، تو اس شخص کو دگنا اجر ملے گا، اور جو شخص سیدنا عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان رکھتا ہو، پھر وہ مجھ پر بھی ایمان لے آئے، اسے بھی دگنا اجر ملے گا، اور وہ غلام جو اپنے پروردگار سے ڈرتا ہو اور اپنے آقا کی اطاعت کرتا ہو، اسے بھی دگنا اجر ملے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4053]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 97، 2544، 2547، 2551، 3011، 3446، 5083، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 154، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 227، 4053، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3344، 3345، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5476، 5477، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2053، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1116، 1116 م، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2290، 2291، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1956، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 912، 913، 914، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19841، والحميدي فى (مسنده) برقم: 786» «رقم طبعة با وزير 4042»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الروض النضير» (1033)، «صحيح أبي داود» (1792)، «الإرواء» (1825): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. - ذكر الإباحة للإمام أن يزوج بالمكاتبة إذا جعل صداقها أداء ما كوتبت عليه
- ذکر اس اجازت کا کہ امام مُکاتبہ کے ذریعے شادی کر سکتا ہے اگر مہر اس کی ادائیگی کو قرار دیا جائے جو اس پر مُکاتبہ کے تحت واجب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4054
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: لَمَّا سَبَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَايَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ، وَقَعَتْ جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ فِي السَّهْمِ لِثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ الشَّمَّاسِ، أَوْ لابْنِ عَمِّهِ، فَكَاتَبَتْ عَلَى نَفْسِهَا، وَكَانَتِ امْرَأَةً حُلْوَةً مُلاحَةً، لا يَكَادُ يَرَاهَا أَحَدٌ إِلا أَخَذَتْ بِنَفْسِهِ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَسْتَعِينُهُ فِي كِتَابَتِهَا، فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلا أَنْ وَقَفَتْ عَلَى بَابِ الْحُجْرَةِ فَرَأَيْتُهَا كَرِهْتُهَا، وَعَرَفْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيَرَى مِنْهَا مِثْلَ مَا رَأَيْتُ، فَقَالَتْ جُوَيْرِيَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَانَ مِنَ الأَمْرِ مَا قَدْ عَرَفْتَ فَكَاتَبْتُ نَفْسِي، فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَعِينُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوَ مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ؟"، فَقَالَتْ: وَمَا هُوَ؟، قَالَ:" أَتَزَوَّجُكِ وَأَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ"، فَقَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ:" قَدْ فَعَلْتُ"، قَالَتْ: فَبَلَغَ الْمُسْلِمِينَ ذَلِكَ، قَالُوا: أَصْهَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟! فَأَرْسَلُوا مَا كَانَ فِي أَيْدِيهِمْ مِنْ سَبَايَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ، قَالَتْ: فَلَقَدْ عُتِقَ بِتَزْوِيجِهِ مِائَةُ أَهْلِ بَيْتٍ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، قَالَتْ: فَمَا أَعْلَمُ امْرَأَةً كَانَتْ أَعْظَمَ بَرَكَةً عَلَى قَوْمِهَا مِنْهَا .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (جنگ کے بعد آزاد ہونے والے) بنو مصطلق کے افراد کو قیدی قرار دیا، تو جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئیں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے چچازاد بھائی کے حصے میں آئیں، انہوں نے کتابت کا معاہدہ کرنے کی پیشکش کی۔ وہ ایک خوبصورت اور دل کش خاتون تھیں، جو بھی شخص انہیں دیکھتا تھا مسحور ہو جاتا تھا۔ وہ اپنی کتابت کی ادائیگی کے بارے میں مدد حاصل کرنے کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ اللہ کی قسم! وہ حجرے کے دروازے پر رکی ہی تھیں، میں نے انہیں دیکھ لیا تو مجھے وہ اچھی نہیں لگیں، کیونکہ مجھے یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی انہیں اسی طرح پسند کریں گے جس طرح مجھے وہ اچھی لگی تھیں۔ جویریہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جو صورت حال ہے وہ آپ کے علم میں ہے، میں نے کتابت کا معاہدہ کیا ہے، اب میں اللہ کے رسول سے مدد حاصل کرنے کے لیے آئی ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا (تم اسے اختیار نہیں کرنا چاہو گی) جو اس سے زیادہ بہتر ہے؟ اس خاتون نے دریافت کیا: وہ کیا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے ساتھ شادی کر لیتا ہوں اور تمہاری طرف سے کتابت کی ادائیگی کر دیتا ہوں۔ اس خاتون نے کہا: ٹھیک ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر میں ایسا کر لیتا ہوں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اس بات کی اطلاع مسلمانوں کو ملی تو انہوں نے کہا: یہ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سسرالی عزیز بن گئے ہیں، تو ان لوگوں نے ان کے پاس جتنے بھی بنو مصطلق کے قیدی تھے ان سب کو آزاد کر دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شادی کی وجہ سے بنو مصطلق کے ایک سو گھرانے آزاد ہوئے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میرے علم کے مطابق کوئی اور عورت ایسی نہیں ہے جو اپنی قوم کے افراد کے لیے سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ برکت والی ثابت ہوئی ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4054]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 765، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4054، 4055، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6860، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3931، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18149، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27007» «رقم طبعة با وزير 4043»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «تخريج فقه السيرة». * [إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ] قال الشيخ: هو ابنُ رَاهويه، وقد أخرجه في «مسنده» (2/ 216 - 217 - مسند عائشة). وإسنادُه حَسنٌ؛ لتصريحِ ابنِ إِسحاقَ بالتحديث. وقد أخرجه جَماعَةٌ، ذَكرْتُهم في «تحريج السيرة»؛ فلا داعي للإعادة.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. - ذكر السبب الذي من أجله تزوج رسول الله صلى الله عليه وسلم جويرية بنت الحارث
- ذکر اس وجہ کا جس کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جویرہ بنت الحارث سے شادی کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4055
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ إِسْحَاقَ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: لَمَّا سَبَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَايَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ، وَقَعَتْ جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ فِي سَهْمٍ لِثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، أَوْ لابْنِ عَمِّهِ، فَكَاتَبَتْ عَلَى نَفْسِهَا، وَكَانَتِ امْرَأَةً حُلْوَةً، لا يَكَادُ يَرَاهَا أَحَدٌ إِلا أَخَذَتْ بِنَفْسِهِ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْتَعِينُهُ فِي كِتَابَتِهَا، فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلا أَنْ وَقَفَتْ عَلَى بَابِ الْحُجْرَةِ فَرَأَيْتُهَا كَرِهْتُهَا، وَعَرَفْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيَرَى مِنْهَا مَا رَأَيْتُ، فَقَالَتْ جُوَيْرِيَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَانَ مِنَ الأَمْرِ مَا قَدْ عَرَفْتَ، فَكَاتَبْتُ عَلَى نَفْسِي، فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَعِينُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوَ مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ؟"، فَقَالَتْ: وَمَا هُوَ؟، فَقَالَ:" أَتَزَوَّجُكِ وَأَقْضِي عَنْكِ كِتَابَكِ"، فَقَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ:" قَدْ فَعَلْتُ"، فَلَمَّا بَلَغَ الْمُسْلِمِينَ ذَلِكَ، قَالُوا: أَصْهَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلُوا مَا كَانَ بِأَيْدِيهِمْ مِنْ سَبَايَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ، فَلَقَدْ عُتِقَ بِتَزْوِيجِهِ مِائَةُ أَهْلِ بَيْتٍ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، قَالَتْ: فَمَا اعْلَمُ امْرَأَةً كَانَتْ أَعْظَمَ بَرَكَةً عَلَى قَوْمِهَا مِنْهَا .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق کے افراد کو قیدی بنا لیا تو جویریہ بنت حارث سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے حصے میں، یا شاید سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے چچازاد کے حصے میں آئیں، انہوں نے کتابت کا معاہدہ کر لیا، وہ ایک خوبصورت خاتون تھیں، جو بھی شخص انہیں دیکھتا ان کا گرویدہ ہو جاتا، وہ اپنی کتابت کے بارے میں مدد حاصل کرنے کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، اللہ کی قسم! ابھی وہ حجرے کے دروازے تک پہنچی ہی تھیں کہ میں نے انہیں دیکھ لیا اور مجھے وہ ناپسند ہوئیں، کیونکہ مجھے یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ جس طرح وہ مجھے خوبصورت لگی ہیں اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی محسوس ہوں گی۔ جویریہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! جو صورت حال ہے وہ آپ کے علم میں ہے، میں نے اپنے لیے کتابت کا معاہدہ کیا ہے، تو میں اللہ کے رسول کی خدمت میں مدد حاصل کرنے کے لیے آئی ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا (تم اس چیز کو اختیار نہیں کرو گی) جو اس سے زیادہ بہتر ہے؟ انہوں نے دریافت کیا: وہ کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے ساتھ شادی کر لیتا ہوں اور تمہاری طرف سے کتابت کے معاوضہ کی ادائیگی کر دوں گا۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر میں ایسا کرتا ہوں۔ جب اس بات کی اطلاع مسلمانوں کو پہنچی تو انہوں نے کہا: یہ لوگ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سسرالی عزیز ہیں، تو انہوں نے اپنے پاس موجود بنو مصطلق کے تمام قیدیوں کو آزاد کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس شادی کرنے کی وجہ سے بنو مصطلق کے ایک سو گھرانے آزاد ہو گئے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میرے علم کے مطابق کوئی اور عورت ایسی نہیں ہے جو اپنی قوم کے افراد کے لیے سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ برکت والی ثابت ہوئی ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4055]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 765، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4054، 4055، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6860، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3931، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18149، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27007» «رقم طبعة با وزير 4043 / م»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - انظر ما قبله. *قال الناشر: سقط هذا الحديث من «الأصل»، واثبتناه من «طبعة المؤسسة»؛ فإن رقم «التقاسيم والأنواع» مختلف.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں