🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. - ذكر الزجر عن تزويج الرجل من النساء من لا تلد
- ذکر اس ممانعت کا کہ مرد کو ایسی عورتوں سے شادی نہیں کرنی چاہیے جو اولاد نہ دیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4056
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمِ بْنِ خَالِدٍ الْبِرْتِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ امْرَأَةً ذَاتَ حَسَبٍ وَجَمَالٍ، وَلَكِنَّهَا لا تَلِدُ أَفَأَتَزَوَّجُهَا؟ فَنَهَاهُ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ: فَنَهَاهُ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ: فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمْ" .
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے ایک ایسی خاتون کے ساتھ شادی کرنے کا ارادہ کیا ہے جو مالدار بھی ہے اور خوبصورت بھی ہے لیکن وہ بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، کیا میں اس کے ساتھ شادی کر لوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منع کر دیا، وہ دوسری مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہی بات بیان کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منع کر دیا، وہ تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہی بات بیان کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایسی عورت کے ساتھ شادی کرو جو محبت کرنے والی ہو اور بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو کیونکہ میں (قیامت کے دن) تمہاری کثرت پر فخر کروں گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4056]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4056، 4057، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2700، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3227، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5323، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2050، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13605، والطبراني فى(الكبير) برقم: 508» «رقم طبعة با وزير 4044»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «صحيح أبي داود» (1789).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
30. - ذكر الزجر عن أن يتزوج المرء من النساء من لا تلد
- ذکر اس ممانعت کا کہ کوئی شخص ایسی عورتوں سے شادی نہ کرے جو اولاد نہ دیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4057
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ رَجُلا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ امْرَأَةً ذَاتَ جَمَالٍ، وَإِنَّهَا لا تَلِدُ، قَالَ: أَأَتَزَوَّجُهَا؟ فَنَهَاهُ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ، فَنَهَاهُ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ، فَنَهَاهُ، وَقَالَ: " تَزَوَّجِ الْوَدُودَ الْوَلُودَ، فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمْ" .
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ایک خوبصورت عورت کے ساتھ شادی کرنا چاہتا ہوں، لیکن وہ بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، کیا میں اس کے ساتھ شادی کر لوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منع کر دیا۔ وہ پھر دوسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسے منع کر دیا۔ وہ تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھر منع کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: محبت کرنے والی اور بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والی خاتون کے ساتھ شادی کرو کیونکہ میں (قیامت کے دن) تمہاری کثرت پر فخر کروں گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4057]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4056، 4057، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2700، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3227، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5323، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2050، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13605، والطبراني فى(الكبير) برقم: 508» «رقم طبعة با وزير 4045»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
31. - ذكر إباحة تزويج المرء المرأة في شوال ضد قول من كرهه
- ذکر اس اجازت کا کہ شوال میں عورت سے شادی کرنا جائز ہے، اس قول کے برخلاف جو اسے ناپسند کرتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4058
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَزَوَّجَهَا فِي شَوَّالٍ، وَبَنَى بِهَا فِي شَوَّالٍ، فَأَيُّ نِسَائِهِ كَانَ أَحْظَى عِنْدَهُ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شوال کے مہینے میں ان کے ساتھ نکاح فرمایا تھا، شوال کے مہینے میں ہی ان کی رخصتی ہوئی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک مجھ سے زیادہ محبوب اور کون تھیں؟ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4058]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1423، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4058، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3236، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1093، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2257، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1990، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14818، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24910» «رقم طبعة با وزير 4046»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
32. - ذكر إباحة الإمام أن يخطب إلى من أحب على من أحب من رعيته
- ذکر اس اجازت کا کہ امام اپنی پسند کے شخص سے اپنی رعایا میں سے کسی کے لیے منگنی کر سکتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4059
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: " خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَى جُلَيْبِيبٍ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ إِلَى أَبِيهَا، قَالَ: حَتَّى أَسْتَأْمِرَ أُمَّهَا، قَالَ: فَنَعَمْ إِذًا، فَذَهَبَ إِلَى امْرَأَتِهِ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهَا، فَقَالَتْ: لا هَا اللَّهِ إِذًا، وَقَدْ مَنَعْنَاهَا فُلانًا وَفُلانًا، قَالَ: وَالْجَارِيَةُ فِي سِتْرِهَا تَسْمَعُ، فَقَالَتِ الْجَارِيَةُ: أَتَرُدُّونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ، إِنْ كَانَ قَدْ رَضِيَهُ لَكُمْ فَأَنْكِحُوهُ، قَالَ: فَكَأَنَّهَا حَلَّتْ عَنْ أَبَوَيْهَا، فَقَالا: صَدَقْتِ، فَذَهَبَ أَبُوهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنْ رَضِيتَهُ لَنَا رَضِينَاهُ؟، فَقَالَ: إِنِّي أَرْضَاهُ فَزَوَّجَهَا، فَفَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ، وَخَرَجَتْ امرأة جُلَيْبِيبٍ فِيهَا، فَوَجَدَتْ زَوْجَهَا وَقَدْ قُتِلَ، وَتَحْتَهُ قَتْلَى مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ قَتَلَهُمْ" قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: فَمَا رَأَيْتُ بِالْمَدِينَةِ ثَيِّبًا أَنْفَقَ مِنْهَا.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جلیبیب رضی اللہ عنہ کے لیے ایک انصاری خاتون کے ساتھ شادی کا پیغام اس خاتون کے باپ کو دیا، ان صاحب نے کہا: میں لڑکی کی والدہ سے مشورہ کر لوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ وہ شخص اپنی بیوی کے پاس گیا اور اس کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو اس عورت نے کہا: جی نہیں، اللہ کی قسم! یہ نہیں ہو سکتا، ہم نے تو اس لڑکی کے لیے فلاں اور فلاں شخص کے رشتے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ لڑکی اس وقت پردے کے پیچھے یہ بات سن رہی تھی، اس لڑکی نے کہا: کیا آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمائش کو قبول نہیں کریں گے؟ اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کے رشتے سے راضی ہیں تو آپ اس کے ساتھ شادی کروا دیں۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: گویا کہ اس لڑکی نے اپنے ماں باپ کی مشکل آسان کر دی۔ انہوں نے جواب دیا: تم نے ٹھیک کہا ہے۔ پھر اس کا والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی: اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کے لیے راضی ہیں تو ہم بھی اس سے راضی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس سے راضی ہوں۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی کے ساتھ (سیدنا جلیبیب رضی اللہ عنہ کی) شادی کروا دی۔ (اس کے کچھ عرصے بعد) اہل مدینہ گھبراہٹ کا شکار ہوئے (یعنی کوئی جنگ ہوئی) تو سیدنا جلیبیب رضی اللہ عنہ کی اہلیہ بھی اس میں گئیں، انہوں نے اپنے شوہر کو ایسی حالت میں پایا کہ وہ شہید ہو چکے تھے اور ان کے نیچے مشرکین سے تعلق رکھنے والے کچھ مقتولین بھی تھے جنہیں سیدنا جلیبیب رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے مدینہ منورہ میں ایسی کوئی بیوہ نہیں دیکھی جو اس خاتون سے زیادہ (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتی ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4059]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2139، 2165، 5142، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1412، وابن الجارود فى "المنتقى"، 621، 623، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4047، 4051، 4959، 4965، 4966، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3238، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2081، 3436، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1292، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1868، 2171، 2179، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10998، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2826، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4619» «رقم طبعة با وزير 4047»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر التعليق. * [أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ] قال الشيخ: في «المُصنَّف» (6/ 155 / - 156)، وعنه أحمد -أيضا- (3/ 136)، والبزار (3/ 275 - 276).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
33. - ذكر الأمر للمتزوج بالوليمة ولو بشاة
- ذکر اس حکم کا کہ شادی کرنے والے کو ولیمہ کرنا چاہیے، چاہے ایک بکری سے ہی ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4060
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالا: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ، فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَمْ سُقْتَ إِلَيْهَا؟"، قَالَ: زِنَةُ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان پر زرد رنگ کا نشان موجود تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے (اس نشان کے بارے میں) دریافت کیا تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ انہوں نے ایک انصاری خاتون کے ساتھ شادی کر لی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: تم نے اسے کتنا مہر دیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ایک گٹھلی کے وزن جتنا سونا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم ولیمہ کرو خواہ ایک بکری (قربانی کر کے دعوت کرو)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4060]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2049، 2293، 3781، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1427، وابن الجارود فى "المنتقى"، 775، 786، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4060، 4096، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 5383، 5384، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3351، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2109، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1094، 1933، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1907، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 609، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12645، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12882، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1252» «رقم طبعة با وزير 4048»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1923): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
34. - ذكر الخبر الدال على أن هذا الأمر أمر ندب لا حتم
- ذکر اس خبر کا جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ حکم مستحب ہے، لازمی نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4061
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ ، عَنِ ابْنِهِ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوْلَمَ عَلَى صَفِيَّةَ بِسَوِيقٍ وَتَمْرٍ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا (کے ساتھ شادی کے بعد) ولیمہ میں ستو اور کھجور کھلائے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4061]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5387، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4061، 4063، 4064، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 6566، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3744، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1095، 1096، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1909، 1910، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14621، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12134، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1218» «رقم طبعة با وزير 4049»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «مختصر الشمائل» (99/ 150).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
35. - ذكر ما أولم به صلى الله عليه وسلم على زينب بنت جحش حين بنى بها
- ذکر اس بات کا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش سے شادی کے موقع پر کیا ولیمہ کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4062
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " أَوْلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَوْسَعَ الْمُسْلِمِينَ خُبْزًا، وَلَحْمًا، كَمَا كَانَ يَصْنَعُ إِذَا تَزَوَّجَ، فَأَتَى حُجْرَ أُمِّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِنَّ وَيَدْعُونَ لَهُ، ثُمَّ رَجَعَ وَأَنَا مَعَهُ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى الْبَيْتِ إِذَا رَجُلانِ يَذْكُرَانِ بَيْنَهُمَا الْحَدِيثَ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ، فَلَمَّا أَبْصَرَهُمَا وَلَّى رَاجِعًا، وَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ الْحِجَابِ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ولیمہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے لیے روٹی اور گوشت کا بھرپور اہتمام کیا جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم شادی کرنے کے بعد کیا کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم امہات المؤمنین کے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا اور ان کے لیے دعائے خیر کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (اپنی نئی زوجہ محترمہ) کے گھر کے پاس پہنچے تو وہاں دو آدمی گھر کے ایک گوشے میں بیٹھے ہوئے بات چیت کر رہے تھے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے آئے، (اس موقع پر) اللہ تعالیٰ نے حجاب کے حکم سے متعلق آیت نازل کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4062]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4791، 4792، 4793، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1428، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4062، 5145، 5578، 5579، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6511، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3251، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3743، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3217، 3219، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1908، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13489، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12124» «رقم طبعة با وزير 4050»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3148): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
36. - ذكر استعمال المصطفى صلى الله عليه وسلم الحيس عند تزويجه صفية
- ذکر اس بات کا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ سے شادی کے موقع پر حیس کا استعمال کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4063
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ ، عَنْ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْتَقَ صَفِيَّةَ، وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا، وَأَوْلَمَ عَلَيْهَا بِحَيْسٍ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کر دیا تھا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ولیمے میں حیس (کی دعوت کی تھی)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4063]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5387، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4061، 4063، 4064، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 6566، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3744، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1095، 1096، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1909، 1910، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14621، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12134، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1218» «رقم طبعة با وزير 4051»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «آداب الزفاف» (70 - 71): ق، [وانظر ما يأتي برقم: (4079)] تنبيه!! رقم (4079) = (4091) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
37. - ذكر الشيء الذي اتخذ منه الحيس عند تزويج المصطفى صلى الله عليه وسلم صفية
- ذکر اس چیز کا جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ سے شادی کے موقع پر حیس بنایا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4064
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبِجَ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ بِطَرَسُوسَ شَيْخَانِ عَابِدَانِ فَاضِلانِ، قَالا: حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ ، عَنِ ابْنِهِ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوْلَمَ عَلَى صَفِيَّةَ بِسَوِيقٍ وَتَمْرٍ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا (کے ساتھ شادی کے بعد ولیمے میں) ستو اور کھجور (کھلائے تھے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4064]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5387، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4061، 4063، 4064، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 6566، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3744، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1095، 1096، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1909، 1910، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14621، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12134، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1218» «رقم طبعة با وزير 4052»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - وهو مكرر (4049). تنبيه!! رقم (4049) = (4061) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
38. - ذكر وصف تزويج المصطفى صلى الله عليه وسلم أم سلمة
- ذکر اس بات کا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ سے شادی کیسے کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4065
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، أَنَّ عَبْدَ الْحَمِيدِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، وَالْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِشَامٍ أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمَا سَمِعَا، أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ يُخْبِرُ أَنَّ، أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا لَمَّا قَدِمَتِ الْمَدِينَةَ أَخْبَرَتْهُمْ، أَنَّهَا بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةَ، فَكَذَّبُوهَا، وَجَعَلُوا يَقُولُونَ: مَا أَكْذَبَ الْغَرَائِبَ، ثُمَّ أَنْشَأَ نَاسٌ مِنْهُمُ الْحَجَّ، فَقَالُوا: تَكْتُبِينَ إِلَى أَهْلِكِ، فَكَتَبْتُ مَعَهُمْ، فَرَجَعُوا إِلَى الْمَدِينَةِ فَصَدَّقُوهَا، فَازْدَادَتْ عَلَيْهِمْ كَرَامَةً، فَقَالَتْ: لَمَّا وَضَعْتُ زَيْنَبَ، جَاءَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُنِي، فَقُلْتُ: مَثَلِي لا يُنْكَحُ، أَمَا أَنَّا، فَلا وَلَدَ فِيَّ، وَأَنَا غَيُورٌ ذَاتُ عِيَالٍ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا أَكْبَرُ مِنْكِ، وَأَمَّا الْغَيْرَةُ فَيُذْهِبُهَا اللَّهُ، وَأَمَّا الْعِيَالُ فَإِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ"، فَتَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" إِنِّي آتِيكُمُ اللَّيْلَةَ"، قَالَتْ: فَأَخْرَجْتُ حَبَّاتٍ مِنْ شَعِيرٍ كَانَتْ فِي جَرَّتِي، وَأَخْرَجْتُ شَحْمًا فَعَصَدْتُ لَهُ، قَالَ: فَبَاتَ ثُمَّ أَصْبَحَ، فَقَالَ حِينَ أَصْبَحَ:" إِنَّ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ كَرَامَةً إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ، وَإِنَّ أُسَبِّعْ لَكِ أُسَبِّعُ لِنِسَائِي" .
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب وہ مدینہ منورہ آئیں تو انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ وہ امیہ بن مغیرہ کی صاحب زادی ہیں، لوگوں نے ان کی اس بات کو تسلیم نہیں کیا اور وہ لوگ یہ کہنے لگے: یہ کیسی عجیب و غریب غلط بیانی ہے! پھر ان میں سے کچھ لوگوں نے حج پر جانے کا ارادہ کیا تو انہوں نے کہا: کیا تم اپنے گھر والوں کو کوئی خط لکھ دو گی؟ تو میں نے ان لوگوں کو خط لکھ کر دے دیا، جب وہ لوگ واپس آئے تو انہوں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بیان کی تصدیق کی تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے عزت و احترام میں اضافہ ہو گیا۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب میرے ہاں زینب کی پیدائش ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نکاح کا پیغام دیا، میں نے عرض کی: مجھ جیسی عورت کے ساتھ نکاح نہیں کیا جا سکتا کیونکہ میں اب بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی اور میرے مزاج میں کچھ تیزی بھی ہے، میں بال بچے دار بھی ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم سے عمر میں بڑا ہوں، جہاں تک مزاج کی تیزی کا تعلق ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ختم کر دے گا، جہاں تک بال بچوں کا تعلق ہے تو وہ اللہ اور اس کے رسول کے سپرد ہیں۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ شادی کر لی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں آج رات تمہارے پاس آؤں گا۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے اپنی تھیلی میں موجود کچھ جو کے دانے نکالے اور کچھ چربی نکالی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اسے تیار کر لیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات وہیں بسر کی اور صبح کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اپنے شوہر کے نزدیک معزز حیثیت کی مالک ہو، اگر تم چاہو تو میں سات دن تمہارے پاس رہتا ہوں، اگر میں سات دن تمہارے پاس رہا تو اپنی دوسری ازواج کے پاس بھی سات دن رہوں گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4065]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 918، 1460، وابن الجارود فى "المنتقى"، 766، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2949، 4065، 4210، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2750، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2122، 3119، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3511، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2256، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1598، 1917، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3733، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16602» «رقم طبعة با وزير 4053»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (2019).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں