🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
57. - باب الولي - ذكر نفي جواز عقد الولي نكاح البالغة عليها إلا باستئمارها
ولی کے بیان کا باب - اس بات کی نفی کہ ولی بالغہ عورت کا نکاح اس کی مرضی کے بغیر کر سکتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4086
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى فِي عَقِبِهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: مَعْنَى هَذَا الْخَبَرِ: أَنَّ الْيَتِيمَةَ تُسْتَأْمَرُ قَبْلَ إِرَادَةِ عَقْدِ النِّكَاحِ عَلَيْهَا لِمَنْ تَخْتَارُ مِنَ الأَزْوَاجِ مَنْ شَاءَتْ، فَإِذَا سَكَتَتْ فَقَدْ أَذِنَتْ فِي عَقْدِ النِّكَاحِ عَلَيْهَا.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مانند منقول ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت کا مطلب یہ ہے: کنواری لڑکی کا نکاح کرنے سے پہلے اس کی مرضی معلوم کی جائے گی کہ وہ جس شخص کے ساتھ شادی کرنا چاہے اسے اختیار کر لے اور اگر وہ خاموش رہتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اس نے اپنا نکاح کروانے کی اجازت دے دی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4086]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4079، 4086، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3270، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2093، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1109، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13804، 13814، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7643» «رقم طبعة با وزير 4074»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - انظر (4067). تنبيه!! رقم (4067) = (4079) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4087
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا، وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا" أَرَادَ بِهِ: أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا بِأَنْ تَخْتَارَ مِنَ الأَزْوَاجِ مَنْ شَاءَتْ، فَتَقُولُ: أَرْضَى فُلانًا، وَلا أَرْضَى فُلانًا، لا أَنَّ عَقْدَ النِّكَاحِ إِلَيْهِنَّ دُونَ الأَوْلِيَاءِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: بیوہ عورت اپنی ذات کے بارے میں اپنے ولی سے زیادہ حق رکھتی ہے اور کنواری لڑکی کی ذات کے بارے میں اس سے اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی اس کی اجازت ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بیوہ عورت اپنی ذات کا زیادہ حق رکھتی ہے اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ وہ اپنے ولی کے مقابلے میں اپنی ذات کا زیادہ حق رکھتی ہے، وہ جس سے چاہے اس کے ساتھ شادی کر لے، وہ یہ کہے گی: میں فلاں کے ساتھ شادی کرنے کے لیے راضی ہوں اور میں فلاں سے شادی کرنے کے لیے راضی نہیں ہوں، اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ نکاح کا عقد منعقد کروانے کا معاملہ اس کے سپرد ہو گا اور اس کے اولیاء کے سپرد نہیں ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4087]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1421، وابن الجارود فى "المنتقى"، 769، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4084، 4087، 4088، 4089، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3260، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2098، 2100، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1108، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1870، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 556، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13778، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3575، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1913، والحميدي فى (مسنده) برقم: 527» «رقم طبعة با وزير 4075»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م - انظر (4072). تنبيه!! رقم (4072) = (4084) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
58. - باب الولي - ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه
ولی کے بیان کا باب - دوسری خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ کی صحت کو واضح کرتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4088
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ يَسْتَأْمِرُهَا أَبُوهَا فِي نَفْسِهَا، وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ثیبہ عورت اپنی ذات کے بارے میں اپنے ولی سے زیادہ حق رکھتی ہے اور کنواری لڑکی کی ذات کے بارے میں اس کا والد اس کی مرضی معلوم کرے گا اور اس کی اجازت اس کی خاموشی ہو گی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4088]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1421، وابن الجارود فى "المنتقى"، 769، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4084، 4087، 4088، 4089، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3260، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2098، 2100، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1108، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1870، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 556، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13778، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3575، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1913، والحميدي فى (مسنده) برقم: 527» «رقم طبعة با وزير 4076»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
59. - باب الولي - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به عبد الله بن الفضل عن نافع بن جبير بن مطعم
ولی کے بیان کا باب - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ یہ خبر عبد اللہ بن فضل نے نافع بن جبیر بن مطعم سے منفرد طور پر روایت کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4089
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَيْسَ لِوَلِيٍّ مَعَ الثَّيِّبِ أَمْرٌ، وَالْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ، وَصَمْتُهَا إِقْرَارُهَا" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ لِلْوَلِيِّ مَعَ الثَّيِّبِ أَمَرٌ"، يُبَيِّنُ لَكَ صِحَّةَ مَا ذَهَبْنَا إِلَيْهِ، أَنَّ الرِّضَا وَالاخْتِيَارَ إِلَى النِّسَاءِ، وَالْعَقْدُ إِلَى الأَوْلِيَاءِ، لِنَفْيِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوَلِيِّ انْفِرَادَ الأَمْرِ دُونَهَا إِذَا كَانَتْ ثَيِّبًا، لأَنَّ لَهَا الْخِيَارَ فِي بِضْعِهَا، وَالرِّضَا بِمَا يُعْقَدُ عَلَيْهَا، وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ" أَرَادَ بِهِ تُسْتَرْضَى فِيمَنْ عُزِمَ لَهُ عَلَى الْعَقْدِ عَلَيْهَا، فَإِنْ صَمَتَتْ فَهُوَ إِقْرَارُهَا، ثُمَّ يَتَرَبَّصُ بِالْعَقْدِ إِلَى الْبُلُوغِ، لأَنَّهَا وَإِنْ صَمَتَتْ وَأَذِنَتْ، لَيْسَ لَهَا أَمَرٌ وَلا إِذْنٌ، إِذِ الأَمْرُ وَالإِذْنُ لا يَكُونَا إِلا لِلْبَالِغَةِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ولی کو ثیبہ کے بارے میں کوئی اختیار نہیں ہے اور کنواری لڑکی سے مرضی معلوم کی جائے گی، اس کی خاموشی اس کا اقرار ہو گی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ولی کو ثیبہ کے بارے میں کوئی اختیار نہیں ہے یہ چیز آپ کے سامنے اس موقف کے درست ہونے کو بیان کر دے گی، جس کے ہم قائل ہیں کہ رضامندی اور اختیار کرنے کا معاملہ خواتین کے سپرد ہو گا اور نکاح کے عقد کو منعقد کروانے کا معاملہ اولیاء کے سپرد ہو گا، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ثیبہ عورت کی مرضی کے بغیر ولی کے انفرادی طور پر ایسا کرنے کی نفی کی ہے؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنی شادی کے بارے میں عورت کو اختیار حاصل ہے اور اسے اس بات کا حق حاصل ہے کہ جس کے ساتھ اس کا عقد نکاح کروایا جا رہا ہے اس پر رضامندی (کا اظہار کرے)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: کنواری لڑکی سے اس کی مرضی معلوم کی جائے گی اس سے مراد یہ ہے کہ جس شخص کے ساتھ اس کی شادی کرنے کا ارادہ ہے اس کے بارے میں اس کی مرضی معلوم کی جائے گی، اگر وہ خاموش رہتی ہے تو یہ اس کا اقرار شمار ہو گا، پھر اس کے عقد کے معاملے کو اس کے بالغ ہونے تک ایسے ہی رکھا جائے گا؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگرچہ وہ خاموش رہی ہے اور اس نے اجازت دے دی ہے، لیکن پھر بھی اسے ہدایت کرنے یا اجازت دینے کا حق حاصل نہیں ہے کیونکہ ہدایت کرنے یا اجازت دینے کا حق صرف بالغ لڑکی کو حاصل ہوتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4089]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1421، وابن الجارود فى "المنتقى"، 769، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4084، 4087، 4088، 4089، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3260، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2098، 2100، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1108، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1870، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 556، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13778، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3575، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1913، والحميدي فى (مسنده) برقم: 527» «رقم طبعة با وزير 4077»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1830).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
60. - باب الولي - ذكر الخبر الدال على صحة ما ذهبنا إليه في الجمع بين هذه الأخبار
ولی کے بیان کا باب - اس خبر کا ذکر جو ہمارے موقف کی صحت کی دلیل ہے کہ ان خبروں میں جمع کیا جا سکتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4090
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حِجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا نِكَاحَ إِلا بِوَلِيٍّ" .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4090]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 760، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4077، 4078، 4083، 4090، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2725، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2085، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1101، 1102 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1881، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 527، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13735، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3514، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3046» «رقم طبعة با وزير 4078»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - انظر (4065). تنبيه!! رقم (4065) = (4077) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
61. - باب الصداق
مہر کے بیان کا باب -
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4091
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْتَقَ صَفِيَّةَ، وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کر دیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4091]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 371، 610، 947، 2228، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 382، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 351، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4091، 4745، 4746، 5274، 6521، 7212، 7213، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2210، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2054، 2634، 2995، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1115، 1550، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1957، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 907، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1933، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3741، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12138» «رقم طبعة با وزير 4079»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1825): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4092
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَحَقُّ الشُّرُوطِ أَنْ يُوَفَّى بِهِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَبُو الْخَيْرِ: مَرْثَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيُّ.
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: پوری کیے جانے کی سب سے زیادہ حق دار وہ شرط ہے، جس کے ذریعے تم شرمگاہوں کو حلال کرتے ہو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوالخیر نامی راوی مرثد بن عبداللہ یزنی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4092]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2721، 5151، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1418، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4092، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3281، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2139، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1127،وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1954، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 658، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14540، 14541، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17575» «رقم طبعة با وزير 4080»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1856): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
62. - باب الصداق - ذكر البيان بأن جواز المهر للنساء يكون على أقل من عشرة
مہر کے بیان کا باب - اس بات کا بیان کہ عورتوں کے لیے مہر دس سے کم پر بھی جائز ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4093
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ وَهَبْتُ نَفْسِي لَكَ، فَقَامَتْ طَوِيلا، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، زَوِّجْنِيهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ حَاجَةٌ بِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ تُصْدِقُهَا إِيَّاهُ؟"، فَقَالَ: مَا عِنْدِي إِلا إِزَارِي هَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَعْطَيْتَهُ إِيَّاهَا جَلَسْتَ لا إِزَارَ لَكَ، فَالْتَمِسْ شَيْئًا"، فَقَالَ: مَا أَجِدُ، قَالَ:" فَالْتَمِسْ" فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ؟"، قَالَ: نَعَمْ، سُورَةُ كَذَا، وَسُورَةُ كَذَا، لِسُوَرٍ سَمَّاهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ" .
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک خاتون حاضر ہوئی، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ کو شادی کی پیشکش کرتی ہوں، وہ خاتون خاصی دیر کھڑی رہی، پھر ایک صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ کو اس کی ضرورت نہیں ہے تو میری شادی اس کے ساتھ کروا دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی ایسی چیز ہے جسے تم اسے مہر کے طور پر دے سکو؟ اس نے کہا: میرے پاس تو صرف میری یہ چادر ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم یہ اسے دے دیتے ہو تو تمہیں بغیر چادر کے بیٹھنا پڑے گا، تم کوئی چیز تلاش کرو۔ اس نے بتایا: مجھے کوئی چیز نہیں ملتی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم تلاش کرو۔ اسے پھر کوئی چیز نہیں ملی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں قرآن آتا ہے؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں، فلاں اور فلاں سورتیں آتی ہیں، اس نے ان سورتوں کے نام گنوائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں جو قرآن آتا ہے اس کے عوض میں، میں تمہاری شادی اس عورت کے ساتھ کرتا ہوں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4093]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2310، 5029، 5030، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1425، وابن الجارود فى "المنتقى"، 776، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4093، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3200، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2111، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1114، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2247، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1889، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 641، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13492، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3611، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23261، والحميدي فى (مسنده) برقم: 957» «رقم طبعة با وزير 4081»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1838)، «الإرواء» (6/ 345 / 1245): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
63. - باب الصداق - ذكر الإخبار عن كراهية الإكثار في الصداق بين الرجل وامرأته
مہر کے بیان کا باب - اس بات کی اطلاع کہ مرد اور اس کی بیوی کے درمیان مہر کی زیادتی ناپسند ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4094
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى السَّخْتِيَانِيُّ بِجَرْجَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ الْقُطَيْعِيُّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً، فَقَالَ: " كَمْ أَصْدَقْتَهَا؟"، فَقَالَ: أَرْبَعَ أَوَاقٍ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرْبَعَ أَوَاقٍ، كَأَنَّمَا تَنْحِتُونَ الْفِضَّةَ مِنْ عَرَضِ هَذَا الْجَبَلِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: میں نے ایک خاتون کے ساتھ شادی کر لی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: تم نے اسے کتنا مہر دیا ہے؟ اس نے جواب دیا: چار اوقیہ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چار اوقیہ تو یوں ہے جیسے تم نے اس پہاڑ کی چوڑائی سے چاندی کو تراش لیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4094]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1424، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4041، 4044، 4094، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2745، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3234، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 523، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13616، 14468، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3624، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7957» «رقم طبعة با وزير 4082»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «مشكلة الفقر» (48/ 85): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
64. - باب الصداق - ذكر البيان بأن تسهيل الأمر وقلة الصداق من يمن المرأة
مہر کے بیان کا باب - اس بات کا بیان کہ معاملے کی آسانی اور مہر کی کم مقدار عورت کی یمن کا حصہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4095
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جِبْرِيلَ الشَّهْرَزُورِيُّ بِطَرَسُوسَ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِنْ يُمْنِ الْمَرْأَةِ تَسْهِيلُ أَمْرِهَا، وَقِلَّةُ صَدَاقِهَا" ، قَالَ عُرْوَةُ: وَأَنَا أَقُولُ مِنْ عِنْدِي: وَمِنْ شُؤْمِهَا تَعْسِيرُ أَمْرِهَا، وَكَثْرَةُ صَدَاقِهَا.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: عورت کی برکت میں یہ بات شامل ہے کہ اس کا معاملہ آسان ہو اور اس کا مہر کم ہو۔ عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں اپنی طرف سے یہ بات کہتا ہوں کہ عورت کی نحوست میں یہ بات شامل ہے کہ اس کا معاملہ مشکل ہو اور اس کا مہر زیادہ ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4095]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4095، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2755، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14471، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25116، 25246، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 3612، والطبراني فى (الصغير) برقم: 469» «رقم طبعة با وزير 4083»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «الإرواء» (6/ 350).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں