صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
139. باب الديون - ذكر البيان بأن هذا الرجل لم يعمل خيرا قط إلا التجاوز عن المعسرين-
قرض و ادائیگی کا بیان - بیان کہ اس شخص کا واحد نیک عمل تنگدستوں پر رعایت کرنا تھا
حدیث نمبر: 5043
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ بِالْفُسْطَاطِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ رَجُلا لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ وَكَانَ يُدَاينُ النَّاسُ، فَيَقُولُ لِرَسُولِهِ: خُذْ مَا تَيَسَّرَ، وَاتْرُكْ مَا تَعَسَّرَ، وَتَجَاوَزْ لَعَلَّ اللَّهَ، قَالَ: فَلَمَّا هَلَكَ، قَالَ اللَّهُ: هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ قَالَ: لا، إِلا أَنَّهُ كَانَ لِي غُلامٌ، وَكُنْتُ أُدَاينُ النَّاسَ، فَإِذَا بَعَثْتُهُ لِيَتَقَاضَى، قُلْتُ لَهُ: خُذْ مَا تَيَسَّرَ، وَاتْرُكْ مَا تَعَسَّرَ، وَتَجَاوَزْ لَعَلَّ اللَّهَ يَتَجَاوزُ عَنَّا، قَالَ اللهُ تَعَّالى: قَدْ تَجَاوَزْتُ عَنْكَ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ أَرَادَ بِهِ سِوَى الإِسْلامِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک شخص نے کبھی کوئی نیک کام نہیں کیا تھا۔ وہ لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا وہ اپنے نمائندوں سے یہ کہتا تھا، جو شخص خوشحال ہو اس سے قرض واپس لے لینا اور جو تنگ دست ہو اسے چھوڑ دینا اور درگزر کرنا تاکہ اللہ تعالیٰ بھی ہم سے درگزر کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب اس کا انتقال ہوا تو اللہ تعالیٰ نے دریافت کیا: کیا تم نے کبھی کوئی نیکی کی؟ اس نے جواب دیا: جی نہیں، البتہ میرا ایک غلام تھا میں لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا۔ جب میں اس غلام کو تقاضا کرنے کے لیے بھیجتا تھا، تو میں اس سے یہ کہتا تھا جو شخص آسانی سے دے دے اس سے وصول کر لینا اور جو شخص تنگ دست ہو اسے چھوڑ دینا اور اس سے درگزر کرنا تاکہ اللہ تعالیٰ بھی ہم سے درگزر کرے، تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: تحقیق میں نے بھی تم سے درگزر کیا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”اس نے کبھی کوئی نیکی نہیں کی تھی“ اس سے مراد یہ ہے: اسلام قبول کرنے کے علاوہ اور کوئی نیکی نہیں کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5043]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2078، 3480، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1562، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5042، 5043، 5046، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2236، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4708، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11085، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7694» «رقم طبعة با وزير 5021»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «التعليق الرغيب» (2/ 36). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
140. باب الديون - ذكر إظلال الله جل وعلا في القيامة في ظله من أنظر معسرا أو وضع له-
قرض و ادائیگی کا بیان - قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا اپنے عرش کے سایہ میں جگہ دینا اس شخص کو جو تنگدست پر آسانی کرے یا اس سے کچھ کم کردے
حدیث نمبر: 5044
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حُرَزَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: خَرَجْتُ أَنَا وَأَبِي نَطْلُبُ الْعِلْمَ فِي هَذَا الْحَيِّ مِنَ الأَنْصَارِ قَبْلَ أَنْ يَهْلِكُوا، فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ لَقِيَنَا أَبُو الْيَسَرِ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ غُلامٌ لَهُ، وَعَلَى أَبِي الْيَسَرِ بُرْدَةٌ وَمَعَافِرِيٌّ، وَعَلَى غُلامِهِ بُرْدَةٌ وَمَعَافِرِيٌّ، فَقَالَ لَهُ أَبِي: إِنِّي أَرَى فِي وَجْهِكَ شَيْئًا مِنْ غَضَبٍ، قَالَ: أَجَلْ كَانَ لِي عَلَى فُلانِ بْنِ فُلانٍ الْحَرَامِيِّ مَالٌ، فَأَتَيْتُ أَهْلَهُ، فَقُلْتُ: أَثِمْتُ؟ قَالُوا: لا، فَخَرَجَ عَلَيَّ ابْنٌ لَهُ، فَقُلْتُ: أَيْنَ أَبُوكَ؟ فَقَالَ: سَمِعَ صَوْتَكَ فَدَخَلَ، فَقُلْتُ: اخْرُجْ إِلَيَّ، فَقَدْ عَلِمْتُ أَيْنَ أَنْتَ، فَخَرَجَ عَلَيَّ، فَقُلْتُ: مَا حَمَلَكَ عَلَى أَنِ اخْتَبَأْتَ؟ قَالَ: أَنَا وَاللَّهِ أُحَدِّثُكَ، ثُمَّ لا أَكْذِبُكَ، خَشِيتُ وَاللَّهِ أَنْ أُحَدِّثَكَ فَأَكْذِبَكَ، وَأَعِدَكَ فَأُخْلِفَكَ، وَكُنْتُ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُنْتُ وَاللَّهِ مُعْسِرًا، قَالَ: قُلْتُ: آللَّهِ؟ قَالَ: اللَّهِ، قَالَ: قُلْتُ: آللَّهِ؟ قَالَ: اللَّهِ، قَالَ: فَقَالَ: بِصَحِيفَتِهِ فَمَحَاهَا، وَقَالَ: إِنْ وَجَدْتَ قَضَاءً فَاقْضِ، وَإِلا فَأَنْتَ فِي حِلٍّ، فَأَشْهَدُ بَصُرَ عَيْنَايَ هَاتَانِ وَوَعَاهُ قَلْبِي، وَأَشَارَ إِلَى نِيَاطِ قَلْبِهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ لَهُ أَظَلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ" ، أَبُو الْيَسَرِ: اسْمُهُ كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو.
عبادہ بن ولید بیان کرتے ہیں: میں اور میرے والد علم کے حصول کے لیے انصار کے پاس آئے، اس سے پہلے کہ وہ لوگ انتقال کر جائیں تو ہماری ملاقات سب سے پہلے سیدنا ابویسر رضی اللہ عنہ سے ہوئی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں۔ ان کے ساتھ ان کا غلام بھی تھا۔ سیدنا ابویسر رضی اللہ عنہ نے ایک چادر اور ایک معافری چادر پہنی ہوئی تھی، ان کے غلام نے بھی ایک چادر اور ایک معافری چادر پہنی ہوئی تھی۔ میرے والد نے ان سے کہا: مجھے آپ کے چہرے پر غصے کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! میں نے فلاں بن فلاں سے کچھ رقم لینی تھی، میں اس کے گھر آیا، میں نے دریافت کیا: کیا وہ یہاں ہے؟ گھر والوں نے جواب دیا: جی نہیں، پھر اس کا بیٹا نکل کر میرے پاس آیا، میں نے دریافت کیا: تمہارا باپ کہاں ہے؟ اس نے کہا: اس نے آپ کی آواز سن لی تھی، وہ اندر چلا گیا ہے۔ میں نے (اس آدمی کو مخاطب کر کے) کہا: تم نکل کر میرے پاس آؤ، مجھے پتہ ہے تم کہاں ہو، وہ نکل کر میرے پاس آیا، میں نے دریافت کیا: تم کس وجہ سے چھپنے پر مجبور ہوئے؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں آپ کو بتاتا ہوں، میں آپ کے ساتھ غلط بیانی نہیں کروں گا۔ اللہ کی قسم! مجھے اس بات کا اندیشہ تھا کہ اگر (میں آپ کے سامنے آیا) اور میں نے آپ کے ساتھ بات چیت کی تو مجھے آپ کے ساتھ جھوٹ بولنا پڑے گا، میں آپ کے ساتھ کوئی وعدہ کر لوں گا پھر اس کی خلاف ورزی کرنی پڑے گی۔ آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں (اب میں آپ کے ساتھ اس طرح کرتا ہوا اچھا تو نہیں لگتا)، اللہ کی قسم! میں ایک تنگ دست شخص ہوں۔ سیدنا ابویسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے دریافت کیا: کیا اللہ کی قسم! ایسا ہی ہے؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! ایسا ہی ہے۔ سیدنا ابویسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پھر انہوں نے اپنا صحیفہ لیا اور اسے مٹا دیا اور بولے: اگر تمہیں ادائیگی کی گنجائش مل جائے تو ادا کر دینا ورنہ میری طرف سے یہ معاف ہے، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میری ان دونوں آنکھوں نے (اسے) دیکھا، میرے کانوں نے سنا اور میرے دل نے اس بات کو محفوظ رکھا (انہوں نے اپنے دل کی طرف اشارہ کر کے یہ بات کہی) کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص کسی تنگ دست کو مہلت دیتا ہے یا اسے ادائیگی (مکمل یا جزوی طور پر) معاف کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنا خاص سایہ عطا کرے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا ابویسر رضی اللہ عنہ کا نام کعب بن عمرو ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5044]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 3014، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5044، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2237، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2630، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2419، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11087، 11254، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15760» «رقم طبعة با وزير 5022»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الروض النضير» (844): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
141. باب الديون - ذكر تيسير الله جل وعلا الأمور في الدنيا والآخرة على الميسر على المعسرين-
قرض و ادائیگی کا بیان - اللہ تعالیٰ کا دنیا و آخرت میں اس شخص کے لیے آسانیاں پیدا فرمانا جو تنگدست پر آسانی کرے
حدیث نمبر: 5045
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَاضِرٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کسی تنگ دست کو آسانی فراہم کرے، اللہ تعالیٰ اسے دنیا اور آخرت میں آسانی فراہم کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5045]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2590، 2590، 2699، 2699، وابن الجارود فى "المنتقى"، 866، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 534، 5029، 5030، 5045، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2304، 8251، 8252، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3460، 4946، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1425، 1425 م، 1930، 2945، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 225، 2199، 2417، 2544، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7545» «رقم طبعة با وزير 5023»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق الرغيب» (1/ 51 - 52): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح وإسناده حسن
142. باب الديون - ذكر رجاء تجاوز الله جل وعلا عمن تجاوز عن المعسر-
قرض و ادائیگی کا بیان - اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس شخص کے لیے معافی کی امید جو تنگدست سے درگزر کرے
حدیث نمبر: 5046
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " كَانَ رَجُلٌ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَإِذَا أَعْسَرَ الْمُعْسِرُ، قَالَ لِفَتَاهُ: تَجَاوَزْ عَنْهُ، لَعَلَّ اللَّهَ يَتَجَاوَزُ عَنَّا، فَلَقِيَ اللَّهَ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ایک شخص لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا، جب وہ کسی تنگ دست شخص کو پاتا تو اپنے اہلکاروں سے یہ کہتا: تم اس سے درگزر کرو تاکہ اللہ تعالیٰ بھی ہم سے درگزر کرے، جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے درگزر کیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5046]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2078، 3480، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1562، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5042، 5043، 5046، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2236، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4708، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11085، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7694» «رقم طبعة با وزير 5024»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - وهو مكرر (5020). تنبيه!! رقم (5020) = (5042) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
143. باب الديون - ذكر البيان بأن هذا الرجل لم توجد له حسنة خلا تجاوزه عن المعسرين-
قرض و ادائیگی کا بیان - بیان کہ اس شخص کے پاس کوئی نیکی نہ تھی سوائے تنگدستوں سے درگزر کرنے کے
حدیث نمبر: 5047
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حُوسِبَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ مِنَ الْخَيْرِ شَيْءٌ إِلا أَنَّهُ كَانَ رَجُلا مُوسِرًا، فَكَانَ يُخَالِطُ النَّاسَ، فَيَقُولُ لِغُلامِهِ: تَجَاوَزْ عَنِ الْمُعْسِرِ، فَقَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا لِمَلائِكَتِهِ: نَحْنُ أَحَقُّ بِذَلِكَ تَجَاوَزُوا عَنْهُ" .
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک شخص سے حساب لیا گیا تو اس کے حق میں کوئی بھی نیکی نہیں ملی، صرف یہ نیکی تھی کہ وہ ایک خوشحال شخص تھا، لوگوں سے لین دین کیا کرتا تھا، وہ اپنے غلام سے یہ کہتا تھا: تم تنگ دست شخص سے درگزر کرنا، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں سے فرمایا: ہم اس بات کے زیادہ حق دار ہیں، تم لوگ اس سے درگزر کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5047]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2077، 2391، 3450، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1560، 2934، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 651، 5047، 6799، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2239، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2079، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4315، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1307، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2588، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2420، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17338» «رقم طبعة با وزير 5025»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق الرغيب» (2/ 36)، «أحاديث البيوع»: م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
144. باب الديون - ذكر ما يستحب لمن تنازع هو وأخوه المسلم في دين أن يضع الموسر بعض دينه للمعسر-
قرض و ادائیگی کا بیان - مستحب ہے کہ مسلمان بھائیوں میں قرض کے جھگڑے کی صورت میں صاحبِ حیثیت قرض خواہ کچھ رقم معاف کردے
حدیث نمبر: 5048
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا كَانَ لَهُ عَلَيْهِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِهِ، وَنَادَى كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ: يَا كَعْبُ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَشَارَ بِيَدِهِ أَنْ ضَعِ الشَّطْرَ مِنْ دَيْنِكَ، قَالَ كَعْبٌ: قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" قُمْ فَاقْضِهِ" .
عبداللہ بن کعب بن مالک اپنے والد (سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے ابن ابوحدرد رضی اللہ عنہ سے قرض کا تقاضا کیا جس کی ادائیگی ان کے ذمے تھی، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس کی بات ہے اور یہ مسجد کا واقعہ ہے۔ ان دونوں کی آواز بلند ہو گئی یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر میں موجود رہتے ہوئے ان کی آواز سن لی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرے کا پردہ ہٹایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو بلند آواز میں پکارا: ”اے کعب بن مالک!“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں حاضر ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست اقدس کے ذریعے اشارہ کیا کہ ”تم اپنے قرض کا نصف حصہ معاف کر دو۔“ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے ایسا ہی کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوسرے فریق سے فرمایا): ”تم اٹھو اور (باقی رہ جانے والی رقم) ادا کر دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5048]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 457، 471، 2418، 2710، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1558، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5048، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3595، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2429، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11464، 11465، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2889، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16007» «رقم طبعة با وزير 5026»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (5/ 251 - 252/ 1422): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم