صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
109. باب الربا - ذكر البيان بأن بيع الأشياء التي وصفناها بأجناسها وبينهما فضل ربا-
سود کا بیان - بیان کہ مذکورہ اشیاء کو اپنی جنس کے بدلے کمی یا زیادتی کے ساتھ بیچنا سود ہے
حدیث نمبر: 5013
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ الْتَمَسَ صَرْفًا بِمِئَةِ دِينَارٍ: قَالَ: فَدَعَانِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَتَرَاوَضْنَا حَتَّى اصْطَرَفَ مِنِّي وَأَخَذَ الذَّهَبَ يُقَلِّبُهَا فِي يَدِهِ، وَقَالَ: حَتَّى يَأْتِيَ خَازِنِي مِنَ الْغَابَةِ، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَسْمَعُ، فَقَالَ عُمَرُ: وَاللَّهِ لا تُفَارِقُهُ حَتَّى تَأْخُذَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلا هَاءً وَهَاءً، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلا هَاءً وَهَاءً، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلا هَاءً وَهَاءً، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلا هَاءً وَهَاءً" .
سیدنا مالک بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک سو دینار کی بیعِ صرف کرنا چاہی، وہ کہتے ہیں کہ سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے مجھے بلوایا، ہم دونوں نے سودا طے کر لیا، انہوں نے میرے ساتھ بیعِ صرف کر لی اور سونا حاصل کر لیا، وہ اسے اپنے ہاتھ میں الٹ پلٹ رہے تھے، انہوں نے کہا: میرا منشی غابہ (جنگل) سے آتا ہے (تو میں تمہیں ادائیگی کرتا ہوں)۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ بات سن لی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! تم اس سے اس وقت تک جدا نہیں ہو گے جب تک تم اس سے وصولی نہیں کر لیتے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”چاندی کے عوض میں سونے کا لین دین سود ہے ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو، گندم کے عوض میں گندم کا لین دین سود ہے ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو، کھجور کے عوض میں کھجور کا لین دین سود ہے ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو، اور جو کے عوض میں جو کا لین دین سود ہے ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5013]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2134، 2170، 2174، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1586، ومالك فى (الموطأ) برقم: 2336، وابن الجارود فى "المنتقى"، 708، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5013، 5019، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4572، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3348، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1243، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2253، 2259، 2260، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10585، وأحمد فى (مسنده) برقم: 164، والحميدي فى (مسنده) برقم: 12، 762» «رقم طبعة با وزير 4992»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «ابن ماجه» (2253): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
110. باب الربا - ذكر الزجر عن بيع الفضة بالفضة والذهب بالذهب إلا مثلا بمثل-
سود کا بیان - چاندی کو چاندی اور سونا کو سونا کے بدلے برابری کے بغیر بیچنے سے روک کا بیان
حدیث نمبر: 5014
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرَةَ :" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبْتَاعَ الْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ وَالذَّهَبَ بِالذَّهَبِ، إِلا سَوَاءً بِسَوَاءٍ، وَأَمَرَ أَنْ يَبْتَاعَ الْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ كَيْفَ شَاءَ، وَالذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ كَيْفَ شَاءَ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ شَاءَ أَرَادَ بِهِ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ.
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ ”چاندی کے عوض میں چاندی کو یا سونے کے عوض میں سونے کو فروخت کیا جائے، البتہ برابر برابر (لین دین ہو، تو جائز ہے)“ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا ہے کہ ”سونے کے عوض میں چاندی کو جیسے چاہے فروخت کر دیا جائے یا چاندی کے عوض سونے کو جیسے چاہے فروخت کر دیا جائے“۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”جیسے چاہے“ اس سے مراد یہ ہے کہ جب وہ لین دین دست بدست ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5014]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2175، 2182، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1590، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5014، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4592، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10613، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20723» «رقم طبعة با وزير 4993»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «أحاديث البيوع»: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
111. باب الربا - ذكر الزجر عن بيع الأشياء المعلومة بأجناسها إلا مثلا بمثل-
سود کا بیان - معلوم اجناس کو اپنی جنس کے بدلے برابری کے بغیر بیچنے سے روک کا بیان
حدیث نمبر: 5015
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ ، قَالَ: كَانَ أُنَاسٌ يَتَبَايَعُونَ آنِيَةَ فِضَّةٍ فِي مَغْنَمٍ إِلَى الْعَطَاءِ، فَقَالَ عُبَادَةُ :" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ، وَالْبُرِّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ، وَالْمِلْحِ بِالْمِلْحِ، إِلا مِثْلا بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ، فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى" .
ابو اشعث بیان کرتے ہیں کہ پہلے لوگ مالِ غنیمت میں سے چاندی کے کسی برتن کی، تنخواہ ملنے تک خرید و فروخت کر لیتے تھے، تو سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”سونے کے عوض میں سونے، چاندی کے عوض میں چاندی، گندم کے عوض میں گندم، جو کے عوض میں جو، کھجور کے عوض میں کھجور اور نمک کے عوض میں نمک کا لین دین کرنے سے منع کیا ہے، ماسوائے اس کے جو برابر برابر ہو اور دست بدست ہو؛ جو شخص زیادہ ادائیگی کرے یا زیادہ ادائیگی کا طلب گار ہو، وہ سود کا کام کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5015]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1587، وابن الجارود فى "المنتقى"، 707، 709، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5015، 5018، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4574، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3349، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1240، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 18، 2254، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10587، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2854، 2876، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23123، والحميدي فى (مسنده) برقم: 394» «رقم طبعة با وزير 4994»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م نحوه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
112. باب الربا - ذكر الزجر عن بيع هذه الأشياء بأجناسها مثلا بمثل وأحدهما غائب-
سود کا بیان - ان چیزوں کو اپنی ہی جنس کے بدلے برابری کے ساتھ بیچنے مگر ایک کا ہاتھ میں نہ ہونا (یعنی ادھار ہونا) سے روک کا بیان
حدیث نمبر: 5016
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلا مِثْلا بِمِثْلٍ، وَلا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلا مِثْلا بِمِثْلٍ، وَلا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلا تَبِيعُوا شَيْئًا مِنْهَا غَائِبًا بِنَاجِزٍ" .
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سونے کے عوض سونے کو صرف برابر برابر فروخت کرو، تم اس میں سے کسی ایک پہلو کو دوسرے کے مقابلے میں کم نہ کرو، چاندی کے عوض چاندی کو صرف برابر برابر فروخت کرو، تم اس میں سے کسی ایک طرف سے کم ادائیگی نہ کرو اور تم ان میں سے کسی موجود چیز کو غیر موجود کے عوض میں فروخت نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5016]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2176، 2177، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1584، ومالك فى (الموطأ) برقم: 2333، وابن الجارود فى "المنتقى"، 705، 706، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5016، 5017، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2295، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4579، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1241، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10586، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2879، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11162» «رقم طبعة با وزير 4995»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما بعده. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
113. باب الربا - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن نافعا لم يسمع هذا الخبر من أبي سعيد الخدري-
سود کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس قول کو باطل کرتی ہے جس میں یہ گمان کیا گیا کہ نافع نے یہ حدیث ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے نہیں سنی
حدیث نمبر: 5017
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ بِحِمْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ رَجُلا حَدَّثَ ابْنَ عُمَرَ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ نَافِعٌ: فَانْطَلَقَ ابْنُ عُمَرَ وَذَلِكَ الرَّجُلُ وَأَنَا مَعَهُمْ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ لأَبِي سَعِيدٍ: أَرَأَيْتَ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ هَذَا الرَّجُلُ، أَنَّكَ تُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَسَمِعْتَهُ؟ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: وَمَا هُوَ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: بَيْعُ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ، وَالْوَرِقِ بِالْوَرِقِ، فَأَشَارَ أَبُو سَعِيدٍ بِأُصْبُعِهِ إِلَى عَيْنَيْهِ وَإِلَى أُذُنَيْهِ، فَقَالَ: بَصُرَ عَيْنِي، وَسَمِعَ أُذُنِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلا مِثْلا بِمِثْلٍ، وَلا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلا مِثْلا بِمِثْلٍ، وَلا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلا تَبِيعُوا مِنْهَا شَيْئًا غَائِبًا بِنَاجِزٍ" .
نافع بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو بتایا کہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کی ہے۔ نافع بیان کرتے ہیں کہ پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور وہ شخص تشریف لے گئے اور میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ یہاں تک کہ ہم سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ اس حدیث سے واقف ہیں جو اس شخص نے مجھے بیان کی ہے؟ کیا آپ نے وہ روایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے نقل کی ہے؟ کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے؟ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ وہ کیا بات ہے؟ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: سونے کے عوض میں سونے اور چاندی کے عوض میں چاندی کو فروخت کرنے والی روایت۔ تو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے اپنی انگلیوں کے ذریعے اپنی آنکھوں اور کانوں کی طرف اشارہ کیا اور یہ بات بیان کی کہ میری آنکھوں نے یہ بات دیکھی اور میرے کانوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا جب آپ نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”سونے کے عوض میں سونے کو صرف برابر برابر فروخت کرو، ان میں سے کسی ایک طرف سے کم ادائیگی نہ کرو اور چاندی کے عوض میں چاندی کو صرف برابر برابر فروخت کرو، ان میں کسی ایک طرف سے کم ادائیگی نہ کرو اور تم ان میں سے کسی بھی غیر موجود کو موجود چیز کے عوض میں فروخت نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5017]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2176، 2177، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1584، ومالك فى (الموطأ) برقم: 2333، وابن الجارود فى "المنتقى"، 705، 706، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5016، 5017، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2295، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4579، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1241، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10586، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2879، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11162» «رقم طبعة با وزير 4996»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (5/ 189)، «أحاديث البيوع»: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
114. باب الربا - ذكر البيان بأن هذه الأجناس إذا بيعت بغير أجناسها وبينها التفاضل كان ذلك جائزا إذا لم يكن إلا يدا بيد-
سود کا بیان - بیان کہ اگر یہ اجناس دوسری اجناس کے بدلے کمی بیشی کے ساتھ بیچی جائیں تو جب تک نقد ہاتھوں ہاتھ ہو، یہ جائز ہے
حدیث نمبر: 5018
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، مِثْلا بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ، فَإِذَا اخْتَلَفَتْ هَذِهِ الأَصْنَافُ فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ" .
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سونے کے عوض میں سونا، چاندی کے عوض میں چاندی، گندم کے عوض میں گندم، جو کے عوض میں جو (کا لین دین) صرف برابر برابر اور دست بدست ہوگا، جب ان کی اصناف میں اختلاف ہو، تو پھر جیسے تم چاہو اسے فروخت کرو، البتہ جبکہ وہ دست بدست لین دین ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5018]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1587، وابن الجارود فى "المنتقى"، 707، 709، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5015، 5018، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4574، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3349، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1240، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 18، 2254، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10587، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2854، 2876، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23123، والحميدي فى (مسنده) برقم: 394» «رقم طبعة با وزير 4997»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى نحوه (4994). تنبيه!! رقم (4994) = (5015) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
115. باب الربا - ذكر البيان بأن هذه الأجناس إذا بيع أحدها بغير جنسها إلا يدا بيد كان ذلك ربا-
سود کا بیان - بیان کہ اگر یہ اجناس دوسری اجناس کے بدلے بیچی جائیں اور ادھار ہو تو یہ سود ہے
حدیث نمبر: 5019
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الأَوْزَاعِيُّ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ مَالِكَ بْنَ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ حَدَّثَهُ، قَالَ: انْطَلَقْتُ بِمِائَةِ دِينَارٍ، فَلَقِيتُ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بِظِلِّ جِدَارٍ فَاسْتَامَهَا مِنِّي إِلَى أَنْ يَأْتِيَهُ خَادِمُهُ مِنَ الْغَابَةِ، فَسَمِعَ ذَلِكَ عُمَرُ، فَسَأَلَ طَلْحَةَ عَنْهُ، فَقَالَ: دَنَانِيرُ أَرَدْتُهَا إِلَى أَنْ يَأْتِيَ خَادِمِي مِنَ الْغَابَةِ، فَقَالَ عُمَرُ لا تُفَارِقْهُ، لا تُفَارِقْهُ حَتَّى تُنْقِدَهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلا هَاءً وَهَاتِ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلا هَاءً وَهَاتِ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلا هَاءً وَهَاتِ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلا هَاءً وَهَاتِ" .
سیدنا مالک بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں ایک سو دینار لے کر نکلا، میری ملاقات سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی جو ایک دیوار کے سائے میں موجود تھے، انہوں نے میرے ساتھ اس کا بھاؤ طے کیا اور یہ بات بیان کی کہ جب ان کا خادم غابہ سے آئے گا تو وہ ادائیگی کر دیں گے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات سنی، انہوں نے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا: کچھ دینار ہیں (جو میں خرید رہا ہوں) میں یہ چاہتا ہوں کہ جب میرا خادم غابہ سے آئے گا (تو میں ادائیگی کر دوں گا)۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم اس سے جدا نہ ہونا، تم اس سے جدا نہ ہونا جب تک تم اسے ادائیگی نہیں کر دیتے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”چاندی کے عوض میں سونے کا لین دین سود ہے، ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو، گندم کے عوض میں گندم کا لین دین سود ہے، ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو، جو کے عوض میں جو کا لین دین سود ہے، ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو، کھجور کے عوض میں کھجور کا لین دین سود ہے، ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5019]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2134، 2170، 2174، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1586، ومالك فى (الموطأ) برقم: 2336، وابن الجارود فى "المنتقى"، 708، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5013، 5019، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4572، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3348، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1243، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2253، 2259، 2260، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10585، وأحمد فى (مسنده) برقم: 164، والحميدي فى (مسنده) برقم: 12، 762» «رقم طبعة با وزير 4998»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - مضى (4992). تنبيه!! رقم (4992) = (5013) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
116. باب الربا - ذكر الزجر عن بيع الصاع من التمر بالصاعين وإن كان أحدهما أردأ من الآخر-
سود کا بیان - ایک صاع کھجور کو دو صاع کھجور کے بدلے بیچنے سے روک کا بیان اگرچہ ایک دوسری سے کمتر ہو
حدیث نمبر: 5020
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِتَمْرٍ رَيَّانَ، وَكَانَ تَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْلا فِيهِ يُبْسٌ، فَقَالَ:" أَنَّى لَكُمْ هَذَا؟" قَالُوا: ابْتَعْنَاهُ صَاعًا بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرِنَا، قَالَ: " فَلا تَفْعَلْ إِنَّ هَذَا لا يَصْلُحُ، وَلَكِنْ بِعْ تَمْرَكَ، ثُمَّ اشْتَرِ مِنْ هَذَا حَاجَتَكَ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تازہ کھجوریں لائی گئیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کھجوریں دوسری قسم کی تھیں جن میں کچھ خشک تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”یہ کہاں سے آئی ہیں؟“ لوگوں نے بتایا: ہم نے اپنی کھجوروں کے دو صاع کے عوض میں اس کا ایک صاع خریدا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایسا نہ کرو یہ درست نہیں ہے بلکہ تم اپنی کھجوروں کو (کسی اور چیز کے عوض میں) فروخت کرو (پھر اس چیز کے عوض میں) اپنی ضرورت کی چیز کو خرید لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5020]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2201، 2302، 4244، 7350، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1593، ومالك فى (الموطأ) برقم: 2311، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5020، 5021، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4567، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10629، 10654، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2849، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11588» «رقم طبعة با وزير 4999»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «أحاديث البيوع»: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
117. باب الربا - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم بع تمرك أراد به بالدراهم-
سود کا بیان - بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان «بع تمرك» (اپنی کھجور بیچو) سے مراد دراہم (نقد) کے بدلے بیچنا ہے
حدیث نمبر: 5021
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلا عَلَى خَيْبَرَ فَجَاءَهُ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَكَلَ تَمْرَكَ هَكَذَا؟" قَالَ: لا، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ، وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلاثِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَلا تَفْعَلْ، بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ، ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا" .
سیدنا ابوسعید خدری اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو خیبر کا نگران مقرر کیا، وہ شخص عمدہ قسم کی کھجوریں لے کر آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا وہاں کی تمام کھجوریں اسی طرح کی ہوتی ہیں؟“ اس نے عرض کی: جی نہیں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم! ہم نے دو صاع کھجوروں کے عوض میں اس کا ایک صاع حاصل کیا ہے اور تین صاع کے عوض میں دو صاع حاصل کیے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم ایسا نہ کرو، تم کھجوروں کو درہم کے عوض میں فروخت کرو اور پھر درہم کے عوض میں اچھی قسم کی کھجوریں خرید لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5021]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2201، 2302، 4244، 7350، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1593، ومالك فى (الموطأ) برقم: 2311، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5020، 5021، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4567، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10629، 10654، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2849، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11588» «رقم طبعة با وزير 5000»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (1340)، «أحاديث البيوع»: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
118. باب الربا - ذكر البيان بأن بيع الصاع من التمر بالصاعين يكون ربا-
سود کا بیان - بیان کہ ایک صاع کھجور کو دو صاع کھجور کے بدلے بیچنا سود ہے
حدیث نمبر: 5022
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ بَرْنِيٍّ، فَقَالَ: " مَا هَذَا؟" قَالَ: اشْتَرَيْتُهُ صَاعًا بِصَاعَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوَّهْ عَيْنُ الرِّبَا لا تَفْعَلْ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں برنی کھجور لے کر آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”یہ کہاں سے آئی ہیں؟“ اس نے بتایا: میں نے دو صاع کے عوض میں اس کا ایک صاع خریدا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” «أَوِّهْ» ”افوہ!“ یہ تو عین سود ہے، تم ایسا نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5022]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2312، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1594، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5022، 5024، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4571، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 6104، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11774، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 5774» «رقم طبعة با وزير 5000/*»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق. *قال الناشر: هذا الحديث ساقط - بتبويبه - من «الأصل»، واستدركناه من «طبعة المؤسسة». فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح