صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
60. ذكر العلة التي من أجلها زجر عن هذا الفعل
اس علت (سبب) کا ذکر جس کی بنا پر اس عمل سے روکا گیا ہے
حدیث نمبر: 4963
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَبِيعَنَّ حَاضِرٌ لِبَادٍ دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے ہرگز سودا نہ کرے، تم لوگوں کو (ان کے حال پر) رہنے دو، انہیں ایک دوسرے کے ذریعے رزق ملتا رہے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4963]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1522، وابن الجارود فى "المنتقى"، 625، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4960، 4963، 4964، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4507، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3442، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1223، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2176، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11016، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14512» «رقم طبعة با وزير 4942»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (4939). تنبيه!! رقم (4939) = (4960) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
61. باب البيع المنهي عنه - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم يرزق بعضهم بعضا أراد به أن الله يرزقهم على أيديهم-
ممنوعہ بیوع کا بیان - بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان «يرزق بعضهم بعضا» سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک کو دوسرے کے ذریعے رزق دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 4964
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ، دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقُ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے سودا نہ کرے، تم لوگوں کو (ان کے حال پر) رہنے دو، اللہ تعالیٰ انہیں ایک دوسرے کے ذریعے رزق عطا کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4964]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1522، وابن الجارود فى "المنتقى"، 625، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4960، 4963، 4964، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4507، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3442، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1223، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2176، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11016، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14512» «رقم طبعة با وزير 4943»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
62. باب البيع المنهي عنه - ذكر الزجر عن بيع المرء على بيع أخيه قبل أن يتفرق البائع والمشتري-
ممنوعہ بیوع کا بیان - کسی شخص کا اپنے مسلمان بھائی کے سودے پر سودے بازی کرنے سے ممانعت جب تک بائع و مشتری متفرق نہ ہوں۔
حدیث نمبر: 4965
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کوئی شخص کسی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4965]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2139، 2165، 5142، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1412، وابن الجارود فى "المنتقى"، 621، 623، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4047، 4051، 4959، 4965، 4966، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3238، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2081، 3436، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1292، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1868، 2171، 2179، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10998، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2826، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4619» «رقم طبعة با وزير 4944»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
63. باب البيع المنهي عنه - ذكر البيان بأن هذا الفعل إنما زجر عنه ما لم يأذن البائع الأول فيه-
ممنوعہ بیوع کا بیان - بیان کہ اس فعل سے ممانعت اس وقت تک ہے جب تک پہلا بیچنے والا اس کی اجازت نہ دے۔
حدیث نمبر: 4966
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا يَبِعْ أَحَدُكُمْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ إِلا بِإِذْنِهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے، البتہ اس کی اجازت کے ساتھ کر سکتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4966]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2139، 2165، 5142، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1412، وابن الجارود فى "المنتقى"، 621، 623، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4047، 4051، 4959، 4965، 4966، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3238، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2081، 3436، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1292، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1868، 2171، 2179، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10998، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2826، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4619» «رقم طبعة با وزير 4945»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1297)، «أحاديث البيوع»: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
64. باب البيع المنهي عنه - ذكر العلة التي من أجلها زجر عن هذا البيع-
ممنوعہ بیوع کا بیان - وہ علت بیان کی گئی جس کی وجہ سے اس بیع سے ممانعت کی گئی۔
حدیث نمبر: 4967
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، أَخْبَرَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ صَالِحِ بْنِ دِينَارٍ التَّمَّارُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ يَهُودِيًّا قَدِمَ زَمَنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلاثِينَ حِمْلِ شَعِيرٍ وَتَمْرٍ، فَسَعَّرَ مُدًّا بِمُدِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَيْسَ فِي النَّاسِ يَوْمَئِذٍ طَعَامٌ غَيْرُهُ، وَكَانَ قَدْ أَصَابَ النَّاسَ قَبْلَ ذَلِكَ جُوعٌ لا يَجِدُونَ فِيهِ طَعَامًا، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسُ يَشْكُونَ إِلَيْهِ غَلاءَ السِّعْرِ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " لا أَلْقَيَنَّ اللَّهَ مِنْ قَبْلِ أَنْ أُعْطِيَ أَحَدًا مِنْ مَالِ أَحَدٍ مِنْ غَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ، إِنَّمَا الْبَيْعُ عَنْ تَرَاضٍ، وَلَكِنَّ فِي بُيُوعِكُمْ خِصَالا أَذْكُرُهَا لَكُمْ، لا تُضَاغِنُوا، وَلا تَنَاجَشُوا، وَلا تَحَاسَدُوا، وَلا يَسُومُ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ، وَلا يَبِيعَنَّ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَالْبَيْعُ عَنْ تَرَاضٍ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک یہودی تئیس اونٹوں پر لاد کر جو اور کھجوریں لے آیا، اس نے ایک مد کی قیمت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مد سے زیادہ مقرر کر دی، ان دنوں لوگوں کے پاس اس کے علاوہ اناج حاصل کرنے کا اور کوئی ذریعہ نہیں تھا، اس سے پہلے وہ بھوک کا شکار ہو چکے تھے، انہیں اس دوران اناج نہیں ملتا تھا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے سامنے اس بات کی شکایت کی کہ قیمت زیادہ ہو گئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ”میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی حالت میں ہرگز حاضر نہیں ہوں گا کہ میں نے کسی کا مال اس کی ناپسندیدگی کے ساتھ کسی دوسرے کو دیا ہو۔ خرید و فروخت باہمی رضامندی سے ہوتی ہے، تاہم تمہاری خرید و فروخت میں کچھ چیزیں ہیں جن کے حوالے سے میں تمہیں نصیحت کرنا چاہتا ہوں: تم ایک دوسرے کے لیے کینہ نہ رکھو، ایک دوسرے کے مقابلے میں بولی نہ لگاؤ، آپس میں ایک دوسرے سے حسد نہ رکھو اور کوئی شخص اپنے بھائی کی بولی پر بولی نہ لگائے اور شہری شخص دیہاتی کے لیے ہرگز (کوئی چیز) فروخت نہ کرے۔ خرید و فروخت باہمی رضامندی سے ہوتی ہے، تم اللہ کے بندے اور بھائی بھائی بن کے رہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4967]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4967، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2185، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11194، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 1354، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 4229، 5513» «رقم طبعة با وزير 4946»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1283)، «البيوع».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
65. باب البيع المنهي عنه - ذكر الزجر عن مزايدة المرء على الشيء المبيع من غير قصده لشرائه-
ممنوعہ بیوع کا بیان - کسی چیز پر اس نیت کے بغیر بولی بڑھانے سے ممانعت کہ وہ خریدنا چاہتا ہے۔
حدیث نمبر: 4968
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ النَّجْشِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”مصنوعی بولی لگانے سے منع کیا ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4968]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2142، 6963، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1516، ومالك فى (الموطأ) برقم: 2521، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4968، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4517، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم:، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2173، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10993» «رقم طبعة با وزير 4947»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1318)، «غاية المرام» (335) «البيوع»: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
66. باب البيع المنهي عنه - ذكر الزجر عن تصرية ذوات الأربع عند بيعها-
ممنوعہ بیوع کا بیان - جانوروں کو دودھ روک کر (تصرِیہ) فروخت کرنے سے ممانعت۔
حدیث نمبر: 4969
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا بَاعَ أَحَدُكُمُ اللِّقْحَةَ أَوِ الشَّاةَ فَلا يُحَفِّلْهَا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کوئی شخص اونٹنی یا بکری کو فروخت کرنے لگے، تو وہ اس کا تصریہ نہ کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4969]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4969، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4498، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 6034، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7814، 10379، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 14864، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 21210» «رقم طبعة با وزير 4948»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «أحاديث البيوع»، «الصحيحة» (3236).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
67. باب البيع المنهي عنه - ذكر وصف الحكم في تصرية ذوات الأربع عند بيعها-
ممنوعہ بیوع کا بیان - تصرِیہ کی صورت میں بیع کا شرعی حکم بیان کیا گیا۔
حدیث نمبر: 4970
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا تُصَرُّوا الإِبِلَ وَالْغَنَمَ، فَمَنِ ابْتَاعَهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يَحْلُبَهَا، إِنْ رَضِيَهَا أَمْسَكَهَا، وَإِنْ سَخِطَهَا رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اونٹنیوں اور بکریوں کا «تَصْرِيَة» (تھنوں میں دودھ روکنا) نہ کرو، اور جو شخص اس کے بعد اسے خرید لے، اسے دو میں سے ایک چیز کا اختیار ہوگا؛ اس کا دودھ دوہ لینے کے بعد اگر وہ پسند کرے تو اس جانور کو اپنے پاس رہنے دے اور اگر ناپسند کرے تو اسے واپس کر دے اور کھجور کا ایک صاع بھی دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4970]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2140، 2148، 2150، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1408، 1524، 2563، 2564، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4046، 4048، 4050، 4068، 4069، 4070، 4113، 4115، 4117، 4118، 4961، 4970، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2065، 2066، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1125 م، 1126، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1867، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 647، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10567، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3070، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7254» «رقم طبعة با وزير 4949»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1320)، «البيوع»: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
68. باب البيع المنهي عنه - ذكر الزجر عن استثناء البائع الشيء المجهول من الشيء المبيع في نفس العقد-
ممنوعہ بیوع کا بیان - کسی بیع میں مبیع سے کوئی نامعلوم چیز مستثنیٰ کرنے سے ممانعت۔
حدیث نمبر: 4971
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الثُّنَيَّا، إِلا أَنْ تُعْلَمَ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ في غَيْرِ الزُّهْرِيُّ ثَبْتٌ، فَإِنَّمَا اخْتَلَطَ عَلَيْهِ صَحِيفَةُ الزُّهْرِيِّ، فَكَانَ يَهِمُ فِيهَا".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”(غیر متعین) استثناء سے منع کیا ہے، البتہ جب اس کے بارے میں تعین کر لیا جائے (تو حکم مختلف ہے)۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سفیان بن حصین نامی راوی زہری کے علاوہ نقل کرنے میں ثبت ہے، تاہم زہری کے صحیفے کے حوالے سے وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا، اس میں سے نقل کرتے ہوئے وہ وہم کا شکار ہو جاتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4971]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1487، 2189، 2196، 2381، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1534، وابن الجارود فى "المنتقى"، 650، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4957، 4971، 4992، 4995، 5000، 5031، 5192، 5193، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2287، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3887، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3370، 3373، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1290، 1313، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2216، 2218، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10709، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2912، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14542» «رقم طبعة با وزير 4950»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «المشكاة» (2861 / التحقيق الثاني)، «البيوع»: م دون الاستثناء.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الصحيح
69. باب البيع المنهي عنه - ذكر الزجر عن أن يقع بيع المرء على شيء مجهول أو إلى وقت غير معلوم-
ممنوعہ بیوع کا بیان - کسی مجہول چیز یا غیر معین وقت پر بیع کرنے سے ممانعت۔
حدیث نمبر: 4972
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى السَّخْتِيَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”دھوکے کی بیع سے منع کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4972]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4972، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10719، 10958، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6418» «رقم طبعة با وزير 4951»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1294): م - أبي هريرة.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم