صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
70. باب البيع المنهي عنه - ذكر الزجر عن بيع الشيء بمائة دينار نسيئة وبتسعين دينارا نقدا-
ممنوعہ بیوع کا بیان - ایک ہی چیز کو مؤجل (ادھار) اور نقد دو الگ الگ قیمتوں پر بیچنے سے ممانعت۔
حدیث نمبر: 4973
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ " نَهَى عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: آپ نے ”ایک بیع میں دو بیع کرنے“ سے منع کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4973]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 368، 584، 588، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 825، 1511، ومالك فى (الموطأ) برقم: 745، وابن الجارود فى "المنتقى"، 653، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1543، 1544، 2290، 3598، 4973، 4974، 4975، 5426، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2305، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 560، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3461، 4080، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1231، 1310، 1758، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1412، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1248، 2169، 3560، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8367» «رقم طبعة با وزير 4952»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «المشكاة» (2868)، «الإرواء» (5/ 149)، «الصحيحة» (2326)، «البيوع».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
71. باب البيع المنهي عنه - ذكر البيان بأن المشتري إذا اشترى بيعتين في بيعة على ما وصفنا وأراد مجانبة الربا كان له أوكسهما-
ممنوعہ بیوع کا بیان - بیان کہ اگر خریدار نے ایک ہی معاملے میں دو قیمتوں پر خریداری کی اور سود سے بچنا چاہا تو اسے کم قیمت والا اختیار ہوگا
حدیث نمبر: 4974
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ بَاعَ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ فَلَهُ أَوْكَسُهُمَا أَوِ الرِّبَا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ایک ہی سودے میں دو سودے کر لیتا ہے، تو اس کے حصے میں یا تو نقصان آئے گا یا سود آئے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4974]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 368، 584، 588، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 825، 1511، ومالك فى (الموطأ) برقم: 745، وابن الجارود فى "المنتقى"، 653، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1543، 1544، 2290، 3598، 4973، 4974، 4975، 5426، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2305، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 560، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3461، 4080، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1231، 1310، 1758، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1412، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1248، 2169، 3560، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8367» «رقم طبعة با وزير 4953»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - المصدر نفسه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
72. باب البيع المنهي عنه - ذكر الزجر عن بيع الملامسة والمنابذة-
ممنوعہ بیوع کا بیان - ملامسہ اور منابذہ کی بیع سے روک کا بیان
حدیث نمبر: 4975
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْمُلامَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ملامسہ اور منابذہ سے منع کیا ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4975]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 368، 584، 588، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 825، 1511، ومالك فى (الموطأ) برقم: 745، وابن الجارود فى "المنتقى"، 653، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1543، 1544، 2290، 3598، 4973، 4974، 4975، 5426، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2305، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 560، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3461، 4080، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1231، 1310، 1758، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1412، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1248، 2169، 3560، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8367» «رقم طبعة با وزير 4954»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «أحاديث البيوع»: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
73. باب البيع المنهي عنه - ذكر وصف بيع الملامسة وكيفية المنابذة-
ممنوعہ بیوع کا بیان - بیعِ ملامسہ کی صورت اور منابذہ کا طریقہ بیان کرنا
حدیث نمبر: 4976
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ بِعَسْقَلانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ الْمُلامَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ"، فَالْمُنَابَذَةُ هُوَ أَنْ يَقُولَ: إِذَا نَبَذْتُ إِلَيْكَ هَذَا الثَّوْبَ، فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ، وَالْمُلامَسَةُ أَنْ يَمَسَّهُ بِيَدِهِ، وَلا يَنْشُرُهُ، وَلا يُقَلِّبُهُ، يَقُولُ: إِذَا مَسَّهُ وَجَبَ الْبَيْعُ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: الْمُنَابَذَةُ أَنْ يَنْبِذَ الْمُشْتَرِي ثَوْبًا إِلَى الْبَائِعِ، وَيَنْبِذَ الْبَائِعُ إِلَى الْمُشْتَرِي ثَوْبًا لِيَبِيعَ أَحَدَهُمَا وَصَلَهُ عَلَى أَنَّهُمَا إِذَا وَقَفَا بَعْدَ ذَلِكَ عَلَى الطُّولِ وَالْعَرْضِ لا يَكُونُ لَهُمَا الْخِيَارُ إِلا ذَلِكَ النَّبْذُ فَقَطْ، وَالْمُلامَسَةُ أَنْ يَلْمِسَ الْمُشْتَرِي الثَّوْبَ، ثُمَّ يَشْتَرِيَهُ عَلَى أَنْ لا خِيَارَ بَعْدَ ذَلِكَ إِذَا نَشَرَهُ وَقَلَّبَهُ سِوَى ذَلِكَ اللَّمْسِ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کی بیع سے منع کیا ہے: ” «الْمُلَامَسَةُ» ”ملامسہ“ اور «الْمُنَابَذَةُ» ”منابذہ““۔ (راوی کہتے ہیں:) «الْمُنَابَذَةُ» ”منابذہ“ یہ ہے کہ آدمی یہ کہے کہ جب میں تمہاری طرف یہ کپڑا پھینکوں گا، تو سودا طے ہو جائے گا۔ «الْمُلَامَسَةُ» ”ملامسہ“ یہ ہے کہ آدمی اپنے ہاتھ کے ذریعے اسے چھوئے، اسے کھولے نہیں، اسے پلٹے نہیں اور یہ کہے کہ جیسے ہی اسے چھو لیا تو سودا لازم ہو جائے گا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) «الْمُنَابَذَةُ» ”منابذہ“ یہ ہے کہ خریدار کپڑے کو فروخت کرنے والے کی طرف پھینکے اور فروخت کرنے والا کپڑے کو خریدار کی طرف پھینکے تاکہ ان دونوں کا آپس میں سودا طے ہو جائے، اس شرط پر کہ جب وہ اس کے بعد کپڑے کی لمبائی اور چوڑائی پر واقف ہوں تو انہیں سودا ختم کرنے کا کوئی اختیار نہ ہو، صرف یہ پھینکنا ہی (سودا طے ہونے کی نشانی ہو)۔ «الْمُلَامَسَةُ» ”ملامسہ“ یہ ہے کہ خریدار کپڑے کو چھو لے تو پھر اسے خریدے اس شرط پر کہ اس کے بعد اس کے پاس اختیار باقی نہیں رہے گا، یعنی جب وہ اسے کھولے گا اور جب اسے الٹائے گا (تو اختیار نہیں ہو گا)، صرف چھونا کافی ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4976]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 367، 2144، 2147، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1512، وابن الجارود فى "المنتقى"، 645، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4976، 5427، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4522، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3377، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2170، 3559، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3256، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11179» «رقم طبعة با وزير 4955»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (2147).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
74. باب البيع المنهي عنه - ذكر الزجر عن بيع ما يقع عليه حصاة المشتري-
ممنوعہ بیوع کا بیان - اس بیع سے روک کا بیان جو خریدار کی پھینکی ہوئی کنکری پر موقوف ہو
حدیث نمبر: 4977
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْحَصَاةِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: بَيْعُ الْحَصَاةِ، أَنْ يَأْتِيَ الرَّجُلُ إِلَى قَطِيعِ غَنَمٍ أَوْ عَدَدِ دَوَابَّ أَوْ جَمَاعَةِ رَقِيقٍ، ثُمَّ يَقُولُ لِلْبَائِعِ: اخْذِفْ بِحَصَاتِي هَذِهِ، فَكُلُّ مَنْ وَقَعَ عَلَيْهِ حَصَاتِي هَذِهِ فَهُوَ لِي بِكَذَا وَكَذَا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کنکریوں والی بیع کرنے سے منع کیا ہے“۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) کنکریوں والی بیع یہ ہے، آدمی بکریوں کے ریوڑ کے پاس یا کچھ جانوروں کے گروہ کے پاس آتا ہے اور پھر وہ فروخت کرنے والے سے کہتا ہے: ”میں یہ کنکری پھینکوں گا، تو جس پر بھی یہ کنکری گری وہ اتنی، اتنی رقم کے عوض میں میرا ہو گا“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4977]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1416، وابن الجارود فى "المنتقى"، 643، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4951، 4977، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3338، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3376، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1230، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1884، 2194، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10528، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2842، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7529» «رقم طبعة با وزير 4956»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (4930). تنبيه!! رقم (4930) = (4951) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
75. باب البيع المنهي عنه - ذكر الزجر عن بيع الطعام المشترى قبل استيفائه-
ممنوعہ بیوع کا بیان - خریدے ہوئے کھانے کو قبضے سے پہلے بیچنے سے روک کا بیان
حدیث نمبر: 4978
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى الْجَوَالِيقِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ اشْتَرَى طَعَامًا، فَلا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَمْلَيْنَا هَذَا الْخَبَرَ فِي هَذَا النَّوْعِ، لأَنَّ لَهُ مَدْخَلَيْنِ، أَحَدُهُمَا أَنَّ الْمَرْءَ مَمْنُوعٌ أَبَدًا أَنْ يَبِيعَ الطَّعَامَ الَّذِي اشْتَرَاهُ قَبْلَ الْقَبْضِ لَهُ، وَالْمَدْخَلُ الثَّانِي أَنَّ الْمَرْءَ مَمْنُوعٌ عَنْ هَذَا الْفِعْلِ فِي بَعْضِ الأَحْوَالِ لا الْكَلِّ، وَهُوَ بَعْدَ اشْتِرَائِهِ قَبْلَ الْقَبْضِ لا قَبْلَ اشْتِرَائِهِ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کوئی شخص اناج خریدے، تو وہ اسے اس وقت تک آگے فروخت نہ کرے جب تک اسے پوری طرح (اپنے قبضے میں نہ لے)۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ہم نے یہ روایت اس قسم میں اس لیے املا کروائی ہے کیونکہ اس میں دو پہلو ہیں، ان میں سے ایک پہلو یہ ہے: آدمی کے لیے یہ بات ہمیشہ کے لیے ممنوع ہے کہ جو سودا اس نے خریدا ہے، اسے قبضے میں لینے سے پہلے آگے فروخت کرے، دوسرا پہلو یہ ہے: آدمی کو اس فعل سے بعض حالتوں میں منع کیا گیا ہے، ہر حالت میں یہ منع نہیں ہے اور اس سے مراد قبضے میں لینے سے پہلے خریدنا ہے، خریدنے سے پہلے ایسا کرنا مراد نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4978]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1529، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4978، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10788، 10789، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14734» «رقم طبعة با وزير 4957»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «الإرواء» (5/ 177)، «البيوع»: م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
76. باب البيع المنهي عنه - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم حتى يستوفيه أراد به حتى يقبضه-
ممنوعہ بیوع کا بیان - بیان کہ «حتى يستوفيه» سے مراد قبضہ کرنا ہے
حدیث نمبر: 4979
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلا يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کوئی اناج خریدے وہ اسے اس وقت تک (آگے) فروخت نہ کرے جب تک وہ اسے اپنے قبضے میں نہ لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4979]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2124، 2126، 2133، 2136، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1526، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4979، 4986، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4609، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3492، 3495، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2226، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10784، وأحمد فى (مسنده) برقم: 403» «رقم طبعة با وزير 4958»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1328)، «البيوع»: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
77. باب البيع المنهي عنه - ذكر خبر قد يوهم غير المتبحر في صناعة العلم أن خبر حماد بن سلمة الذي ذكرناه موهوم-
ممنوعہ بیوع کا بیان - ایک ایسی خبر کا ذکر جو کم علم رکھنے والے کو وہم میں ڈال سکتی ہے کہ حماد بن سلمہ کی روایت وہمی ہے
حدیث نمبر: 4980
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اشْتَرَى طَعَامًا فَلا يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ" ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَأَحْسِبُ كُلَّ شَيْءٍ بِمَنْزِلَةِ الطَّعَامِ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَسَمِعَهُ عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَهُمَا طَرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اناج خریدے وہ اسے اس وقت تک آگے فروخت نہ کرے، جب تک وہ اسے اپنے قبضے میں نہ لے۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میرا یہ خیال ہے کہ ہر چیز کی حیثیت اناج کی طرح ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عمرو بن دینار نے یہ روایت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی سنی ہے اور انہوں نے یہ روایت طاؤس کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی سنی ہے، تو اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4980]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2132، 2135، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1525، وابن الجارود فى "المنتقى"، 661، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4980، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4611، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3496، 3497، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1291، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2227، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10787، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1872» «رقم طبعة با وزير 4959»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (5/ 176 - 177): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
78. باب البيع المنهي عنه - ذكر الخبر الدال على أن خبر ابن عمر الذي ذكرناه لم يهم فيه حماد بن سلمة وأن الخبر من حديث ابن عمر له أصل-
ممنوعہ بیوع کا بیان - خبر کا بیان کہ ابن عمر کی روایت میں حماد بن سلمہ سے وہم نہیں ہوا اور یہ روایت اصل رکھتی ہے
حدیث نمبر: 4981
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَبِيعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاحُهَا، وَمَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلا يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پھل کو اس وقت تک فروخت نہ کرو جب تک اس کی صلاحیت ظاہر نہ ہو جائے اور جو شخص کوئی اناج خریدے وہ اسے اس وقت تک آگے فروخت نہ کرے جب تک اسے اپنے قبضے میں نہ لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4981]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1486، 2183، 2194، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1534، ومالك فى (الموطأ) برقم: 2289، وابن الجارود فى "المنتقى"، 658، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4981، 4989، 4991، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3931، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3367، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2597، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2214، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10675، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2993، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4629» «رقم طبعة با وزير 4960»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (5/ 176)، «البيوع»: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
79. باب البيع المنهي عنه - ذكر وصف القبض الذي يحل به بيع الطعام المشترى-
ممنوعہ بیوع کا بیان - اس قبضے کی وضاحت جس سے خریدے ہوئے کھانے کو بیچنا حلال ہو جاتا ہے
حدیث نمبر: 4982
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كُنَّا نَشْتَرِي الطَّعَامَ مِنَ الرُّكْبَانِ جُزَافًا، فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَبِيعَهُ حَتَّى نَنْقُلَهُ مِنْ مَكَانِهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم پہلے (تجارتی) سواروں سے اندازے کے تحت ڈھیر خرید لیا کرتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع کیا کہ ”ہم اسے اس وقت تک آگے فروخت نہ کریں جب تک اس کی جگہ سے اسے (دوسری جگہ) منتقل نہ کر دیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4982]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2123، 2131، 2137، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1526، وابن الجارود فى "المنتقى"، 662، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4982، 4987، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4620، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3494، 3498، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2229، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10802، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4605» «رقم طبعة با وزير 4961»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» -أيضا-، «البيوع»: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين