🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
48. باب ما يجوز أكله وما لا يجوز - ذكر إباحة أكل المرء لحوم الطيور التي قد اصطيدت-
جن چیزوں کا کھانا جائز ہے اور جن کا جائز نہیں، کا بیان - یہ اجازت کہ آدمی شکار کی گئی پرندوں کا گوشت کھائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5256
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قُدَامَةَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَنَحْنُ حُرُمٌ، فَأُهْدِيَ لَنَا طَيْرٌ، وَطَلْحَةُ رَاقِدٌ، فَمِنَّا مَنْ أَكَلَ، وَمِنَّا مَنْ تَوَرَّعَ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ طَلْحَةُ وَافَقَ مَنْ أَكَلَهُ، وَقَالَ:" أَكَلْنَاهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
معاذ بن عبد الرحمن اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ہم لوگ سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، ہم نے احرام باندھا ہوا تھا، ہمیں ایک پرندے (کا گوشت) تحفے کے طور پر دیا گیا، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اس وقت سو رہے تھے، ہم میں سے کچھ لوگوں نے اسے کھا لیا اور کچھ نے پرہیز کیا، جب سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے تو انہوں نے ان لوگوں کا ساتھ دیا جنہوں نے اس کا گوشت کھا لیا تھا اور انہوں نے یہ بات بیان کی کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اس (پرندے کا گوشت) کھایا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5256]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1197، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2638، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3972، 3973، 5256، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2816، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10020، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1400» «رقم طبعة با وزير 5232»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (3962). تنبيه!! رقم (3962) = (3973) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم رجاله ثقات رجال الشيخين غير عبد الرحمن التيمي فمن رجال مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
49. باب ما يجوز أكله وما لا يجوز - ذكر الإباحة للمرء أن يأكل الجراد إذا لم يتقذره-
جن چیزوں کا کھانا جائز ہے اور جن کا جائز نہیں، کا بیان - یہ اجازت کہ آدمی ٹڈا کھائے اگر اسے ناپسند نہ کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5257
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي يَعْفُورَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ:" غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ أَوْ سِتَّ غَزَوَاتٍ شَكَّ شُعْبَةُ، فَكُنَّا نَأْكُلُ مَعَهُ الْجَرَادَ" .
سیدنا ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سات (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) چھ ایسے غزوات میں شرکت کی ہے جس میں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ٹڈی کھاتے رہے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5257]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5495، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1952، وابن الجارود فى "المنتقى"، 948، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5257، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4367، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3812، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1821، 1822، 1822 م، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19059، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19418» «رقم طبعة با وزير 5233»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
50. باب ما يجوز أكله وما لا يجوز - ذكر البيان بأن كل من قذفه البحر من الميتة أو ما اصطيد منه مما لا يعيش إلا فيه ميتة حلال أكله وإن باينت خلقها خلقة الحوت-
جن چیزوں کا کھانا جائز ہے اور جن کا جائز نہیں، کا بیان - یہ بیان کہ سمندر سے مردہ یا شکار شدہ جانور جو صرف سمندر میں زندہ رہتے ہیں، مردہ ہونے کے باوجود حلال ہیں اور ان کی شکل مچھلی کی شکل سے مختلف ہو سکتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5258
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ مِنْ آلِ ابْنِ الأَزْرَقِ، أَنَّ الْمُغِيرَةِ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ، وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ، فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ، عَطِشْنَا، أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ، الْحِلُّ مَيْتَتُهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم سمندری سفر کرتے ہیں، ہم اپنے ساتھ تھوڑا سا پانی لے جاتے ہیں، اگر ہم اس کے ذریعے وضو کریں تو خود پیاسے رہ جائیں، کیا ہم سمندر کے پانی کے ذریعے وضو کر لیا کریں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5258]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 60، وابن الجارود فى "المنتقى"، 46، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 111، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1243، 5258، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 492، 493، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 59، وأبو داود فى (سننه) برقم: 83، والترمذي فى (جامعه) برقم: 69، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 386، 3246، والدارقطني فى (سننه) برقم: 80، 81، 82، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7353» «رقم طبعة با وزير 5234»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (480)، «الإرواء» (1/ 42 / 9)، «صحيح أبي داود» (76). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5259
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلاثِ مِئَةِ رَاكِبٍ، وَأَمِيرُنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، نَرْصُدُ عِيرًا لِقُرَيْشٍ، فَأَقَمْنَا بِالسَّاحِلِ نِصْفَ شَهْرٍ، فَأَصَابَنَا جُوعٌ شَدِيدٌ، حَتَّى أَكَلْنَا الْخَبَطَ، قَالَ: فَسُمِّيَ ذَلِكَ الْجَيْشُ: جَيْشَ الْخَبَطِ، ثُمَّ أَلْقَى الْبَحْرُ دَابَّةً يُقَالُ لَهَا: الْعَنْبَرُ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ نِصْفَ شَهْرٍ حَتَّى ثَابَتْ أَجْسَامُنَا، وَادَّهَنَّا بِوَدَكِهِ، فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ضِلَعًا مِنْ أَضْلاعِهِ، وَنَظَرَ إِلَى أَطْوَلِ جَمَلٍ فِي الْجَيْشِ وَأَطْوَلِ رَجُلٍ، فَحَمَلَهُ عَلَيْهِ، فَمَرَّ تَحْتَهُ" . قَالَ: قَالَ: سُفْيَانُ : قَالَ أَبُو الزُّبَيْرٍ ، عَنْ جَابِرٍ : أَعْطَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِرَابًا فِيهِ تَمْرٌ، فَلَمَّا نَفِدَ، وَجَدْنَا فَقْدَهُ، فَجَعَلَ يَجِيءُ الرَّجُلُ بِالشَّيْءِ، قَالَ: وَأَخْرَجْنَا مِنْ عَيْنَيْهِ كَذَا وَكَذَا حُبًّا مِنْ وَدَكٍ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَنَا:" هَلْ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم تین سو سواروں کو (ایک مہم پر) روانہ کیا، ہمارے امیر سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تھے، ہم قریش کے قافلے کی گھات میں تھے، ہم نے پندرہ دن تک ساحل پر قیام کیا۔ ہمیں شدید بھوک لاحق ہو گئی یہاں تک کہ ہم پتے کھانے لگے۔ اسی وجہ سے اس لشکر کا نام پتوں والا لشکر رکھا گیا تھا، پھر سمندر نے ایک بڑے سے جانور کو باہر پھینک دیا جس کا نام عنبر تھا۔ ہم نے پندرہ دن تک اس کا گوشت کھایا یہاں تک کہ ہمارے جسم مضبوط ہو گئے۔ ہم نے اس کی چربی کو تیل کے طور پر استعمال کیا، پھر سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے اس کی ایک پسلی کو لیا۔ انہوں نے لشکر میں موجود سب سے اونچے اونٹ اور سب سے لمبے آدمی کا انتخاب کیا، اسے اس اونٹ پر سوار کیا تو وہ آدمی اس پسلی کے نیچے سے گزر گیا۔ ایک اور سند کے ساتھ یہ منقول ہے، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک تھیلا دیا تھا جس میں کھجوریں موجود تھیں، جب وہ ختم ہو گئیں تو ہمیں ان کی غیر موجودگی محسوس ہوئی، پھر کوئی آدمی کوئی چیز لے آیا کرتا تھا۔ اس روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: ہم نے اس (سمندری جانور) کی آنکھوں سے اتنی اتنی چربی نکالی، جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے دریافت فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اس کا کچھ (گوشت) ہے؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5259]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2483، 2983، 4360، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1935، وابن الجارود فى "المنتقى"، 946، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5259، 5260، 5261، 5262، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4362، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3840، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2475، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2055، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4159، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19026، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14477» «رقم طبعة با وزير 5235»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «غاية المرام» (23). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
51. باب ما يجوز أكله وما لا يجوز - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم أكل مما حمله أهل ذلك الجيش من العنبر الذي قذفه البحر لهم-
جن چیزوں کا کھانا جائز ہے اور جن کا جائز نہیں، کا بیان - یہ بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس چیز کو کھایا جو اُس لشکر کے لوگوں نے سمندر سے حاصل کی جو عنبر لے کر گئے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5260
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَّرَ عَلَيْنَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ يَتَلَقَّى عِيرًا لِقُرَيْشٍ، وَزَوَّدَنَا جِرَابَ تَمْرٍ لَمْ يَجِدْ لَنَا غَيْرَهُ، فَكَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ يُطْعِمُنَا تَمْرَةً تَمْرَةً، قُلْتُ: فَكَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ بِهَا؟ قَالَ: نَمُصُّهَا كَمَا يَمُصُّ الصَّبِيُّ، ثُمَّ نَشْرَبُ عَلَيْهَا مِنَ الْمَاءِ، فَيَكْفِينَا يَوْمَنَا إِلَى اللَّيْلِ، قَالَ: وَكُنَّا نَضْرِبُ بِعِصِيِّنَا الْخَبَطَ، ثُمَّ نَبُلُّهُ بِالْمَاءِ، فَنَأْكُلُهُ، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا، فَرُفِعَ لَنَا عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ كَهَيْئَةِ الْكَثِيبِ الضَّخْمِ، فَأَتَيْنَاهُ، فَإِذَا هُوَ دَابَّةٌ تُدْعَى الْعَنْبَرَ، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: مَيْتَةٌ، ثُمَّ قَالَ: لا، نَحْنُ رُسُلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَقَدِ اضْطُرِرْتُمْ فَكُلُوا، قَالَ: فَأَقَمْنَا عَلَيْهِ شَهْرًا، وَنَحْنُ ثَلاثُ مِئَةٍ، حَتَّى سَمِنَّا، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا نَغْتَرِفُ مِنْ وَقْبِ عَيْنَيْهِ بِالْقِلالِ، وَنَقْطَعُ مِنْهُ الْفِدَرَ كَالثَّوْرِ أَوْ كَقَدْرِ الثَّوْرِ، وَلَقَدْ أَخَذَ مِنَّا أَبُو عُبَيْدَةَ ثَلاثَةَ عَشَرَ رَجُلاً، فَأَقْعَدَهُمْ فِي وَقْبِ عَيْنِهِ، وَأَخَذَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلاعِهِ، فَأَقَامَهَا، ثُمَّ أَرْحَلَ أَعْظَمَ بَعِيرٍ مِنَّا، فَمَرَّ تَحْتَهَا، قَالَ: وَتَزَوَّدْنَا مِنْ لَحْمِهِ وَشَائِقَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ، أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " هُوَ رِزْقٌ أَخْرَجَهُ اللَّهُ لَكُمْ، فَهَلْ مِنْ لَحْمِهِ مَعَكُمْ شَيْءٌ تُطْعِمُونَا؟" فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهِ مِنْهُ، فَأَكَلَهُ .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک مہم پر روانہ کیا۔ آپ نے سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو ہمارا امیر مقرر کیا۔ ہمارا ارادہ قریش کے قافلے کو روکنے کا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زاد راہ کے طور پر کھجوروں کا ایک تھیلا ہمیں دے دیا۔ ہمیں اس کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں ملی۔ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اس میں سے ایک ایک کھجور ہمیں کھانے کے لیے دیا کرتے تھے۔ (راوی بیان کرتے ہیں) میں نے دریافت کیا آپ لوگ اس کا کیا کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہم اسے یوں چوستے تھے جس طرح کوئی بچہ چوستا ہے، پھر اس کے بعد ہم پانی پی لیا کرتے تھے تو وہ ہمارے لیے پورے دن کے لیے کافی ہوتی تھی۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم لوگ اپنے عصا کے ذریعے پتے اتارا کرتے تھے، انہیں پانی میں بھگویا کرتے تھے اور پھر انہیں کھا لیا کرتے تھے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم لوگ چلتے رہے یہاں تک کہ ساحل سمندر پر ہمارے سامنے بڑی چٹان جیسی کوئی چیز آ گئی، ہم اس کے پاس آئے تو وہ ایک جانور تھا جسے «الْعَنْبَرُ» ”عنبر“ کہا جاتا تھا۔ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ مردار ہے، پھر انہوں نے فرمایا: جی نہیں، ہم اللہ کے رسول کے بھیجے ہوئے لوگ ہیں اور اللہ کی راہ میں ہیں، تم لوگ اضطراری حالت میں ہو، تو تم لوگ اسے کھا لو۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ہم ایک ماہ وہاں مقیم رہے۔ ہم تین سو افراد تھے یہاں تک کہ ہم (اسے کھا کر) موٹے تازے ہو گئے۔ مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے ہم نے اس کی آنکھوں سے چربی کے کئی مٹکے نکالے تھے اور ہم نے اس سے خشک گوشت کاٹ لیا۔ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے ہم میں سے تیرہ آدمیوں کو لیا تو وہ اس کی آنکھ کے سوراخ میں بیٹھ گئے، پھر سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی ایک پسلی کو لے کر کھڑا کیا اور سب سے اونچے اونٹ پر آدمی کو سوار کیا تو وہ اس کے نیچے سے گزر گیا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: پھر ہم نے اس کے گوشت کو زاد راہ کے طور پر ساتھ رکھ لیا، جب ہم مدینہ منورہ آئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے آپ کے سامنے اس بات کا ذکر کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ وہ رزق ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے نکالا تھا، کیا تمہارے پاس اس کے گوشت میں سے کوئی چیز ہے جو تم ہمیں بھی کھلاؤ؟“ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس کا گوشت بھجوایا تو آپ نے اسے کھا لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5260]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2483، 2983، 4360، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1935، وابن الجارود فى "المنتقى"، 946، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5259، 5260، 5261، 5262، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4362، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3840، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2475، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2055، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4159، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19026، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14477» «رقم طبعة با وزير 5236»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
52. باب ما يجوز أكله وما لا يجوز - ذكر الخبر الدال على أن ما قذفه البحر مما لا يعيش إلا فيه حوت كله وإن كانت خلقها متباينة لخلقة الحوت-
جن چیزوں کا کھانا جائز ہے اور جن کا جائز نہیں، کا بیان - یہ خبر کہ سمندر سے حاصل شدہ چیز جو صرف سمندر میں زندہ رہتی ہے، حلال ہے، چاہے شکل مچھلی سے مختلف ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5261
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا إِلَى أَرْضِ جُهَيْنَةَ، وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ رَجُلاً، فَلَمَّا نَفَذَتْ أَزْوَادُهُمْ، أَمَرَ أَمِيرُهُمْ بِمَا بَقِيَ مِنْ أَزْوَادِهِمْ، فَجُمِعَتْ، فَجَعَلَ يُقَوِّتُنَا كُلَّ يَوْمٍ تَمْرَةً تَمْرَةً، قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، مَا كَانَتْ تُغْنِي عَنْكُمْ تَمْرَةٌ؟ قَالَ: وَاللَّهِ إِنَّهَا فُقِدَتْ، فَوَجَدْنَا فَقْدَهَا، كَانَ أَحَدُنَا يَضَعُهَا بَيْنَ أَسْنَانِهِ وَحَنَكِهِ فَيَمُصُّهَا، وَنُصِيبُ مِنْ وَرَقِ الشَّجَرِ، وَنَبَاتِ الأَرْضِ مَعَ ذَلِكَ، حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ، فَأَخْرَجَ اللَّهُ لَنَا حُوتًا أَلْقَاهُ الْبَحْرُ، فَأَكَلْنَا وَقَدَدْنَا، فَلَمَّا أَرَدْنَا أَنْ نَرْتَحِلَ، أَمَرَ أَمِيرُنَا بِضِلْعٍ مِنْ ضُلُوعِهِ، فَنَكَبَ طَرَفَاهُ فِي الأَرْضِ، ثُمَّ أَمَرَ بِبَعِيرٍ فَرُحِّلَ، فَمَرَّ تَحْتَهُ .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہینہ کی سرزمین کی طرف ایک مہم روانہ کی اور ایک شخص کو ان لوگوں کا امیر مقرر کیا۔ جب ان لوگوں کا زادِ راہ ختم ہو گیا تو ان کے امیر نے حکم دیا کہ باقی بچ جانے والا زادِ راہ جمع کیا جائے، وہ جمع کر دیا گیا تو امیر ہمیں روزانہ ایک ایک کھجور دیا کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے دریافت کیا: ایک کھجور سے آپ کا کیا بنتا تھا؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! جب وہ بھی ختم ہو گئی تو ہمیں اس کے ختم ہونے کا شدید احساس ہوا۔ ہم میں سے کوئی ایک شخص اسے اپنے دانتوں کے درمیان رکھ کر چوس لیا کرتا تھا، ہمیں درختوں کے پتے ملتے اور زمین کی نباتات اس کے ساتھ مل جاتی تھیں، یہاں تک کہ ہم سمندر کے ساحل تک آئے تو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے ایک مچھلی کو نکالا جسے سمندر نے باہر پھینک دیا تھا۔ ہم نے اسے کھایا اور اس کی چربی استعمال کی، جب ہم وہاں سے روانہ ہونے لگے تو ہمارے امیر نے حکم دیا کہ اس کی ایک پسلی کو زمین پر کھڑا کیا جائے، پھر ان کے حکم کے تحت ایک اونٹ پر سامان رکھا گیا تو وہ اونٹ اس کے نیچے سے گزر گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5261]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2483، 2983، 4360، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1935، وابن الجارود فى "المنتقى"، 946، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5259، 5260، 5261، 5262، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4362، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3840، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2475، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2055، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4159، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19026، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14477» «رقم طبعة با وزير 5237»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الصحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
53. باب ما يجوز أكله وما لا يجوز - ذكر البيان بأن العرب كانت تسمي ما قذفه البحر حوتا وإن لم يكن يشبه خلقته خلقة الحوت-
جن چیزوں کا کھانا جائز ہے اور جن کا جائز نہیں، کا بیان - یہ بیان کہ عرب اسے سمندر سے حاصل شدہ مچھلی کہتے تھے، چاہے شکل مچھلی کی طرح نہ ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5262
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ قَالَ: " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا قِبَلَ السَّاحِلِ، وَأَمَّرَ عَلَيْنَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ، وَهُمْ ثَلاثُ مِئَةٍ، وَأَنَا فِيهِمْ، قَالَ: فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ، فَنِيَ الزَّادُ، فَأَمَرَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِأَزْوَادِ ذَلِكَ الْجَيْشِ، فَجُمِعَ كُلُّهُ، فَكَانَ مِزْوَدَ تَمْرٍ، فَكَانَ يَقُوتُنَا كُلَّ يَوْمٍ قَلِيلاً قَلِيلاً، حَتَّى فَنِيَ وَلَمْ يُصِبْنَا إِلا تَمْرَةٌ تَمْرَةٌ، فَقُلْتُ: وَمَا تُغْنِي تَمْرَةٌ؟ قَالَ: لَقَدْ وَجَدْنَا فَقْدَهَا حَيْثُ فَنِيَتْ، قَالَ: ثُمَّ انْتَهَى إِلَى الْبَحْرِ، فَإِذَا حُوتٌ مِثْلُ الظَّرِبِ، فَأَكَلَ مِنْهُ ذَلِكَ الْجَيْشُ إِحْدَى عَشْرَةَ لَيْلَةً، ثُمَّ أَمَرَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِضِلْعَيْنِ مِنْ أَضْلاعِهِ، ثُمَّ أَمَرَ بِرَاحِلَةٍ، فَرُحِّلَتْ، ثُمَّ مَرَّتْ تَحْتَهُمَا وَلَمْ تُصِبْهُمَا .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ساحل کی سمت ایک مہم روانہ فرمائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو ہمارا امیر مقرر فرمایا۔ ہم تین سو افراد تھے اور میں بھی ان میں شامل تھا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ روانہ ہوئے، راستے میں ہمارا زادِ سفر ختم ہو گیا تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس لشکر کے تمام زادِ راہ کے بارے میں حکم دیا، ان سب کو جمع کیا گیا تو وہ کھجوروں کا ایک تھیلا بنا، تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اس میں سے روزانہ تھوڑی تھوڑی سی کھجوریں ہمیں دیا کرتے تھے یہاں تک کہ وہ بھی ختم ہو گئیں تو ہمیں ایک کھجور ملا کرتی تھی۔ (راوی کہتے ہیں:) ایک کھجور سے آپ کا کیا بنتا تھا؟ انہوں نے فرمایا: جب وہ بھی ختم ہو گئی تو پھر ہمیں اس کی غیر موجودگی محسوس ہوئی۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پھر ہم لوگ سمندر تک پہنچ گئے تو وہاں چھوٹے ٹیلے کی طرح ایک مچھلی تھی، اس لشکر نے گیارہ دن تک اس کا گوشت کھایا، پھر سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے حکم کے تحت اس کی دو پسلیوں کو کھڑا کیا گیا، پھر ایک اونٹ تیار کیا گیا تو وہ اونٹ ان پسلیوں کے نیچے سے گزر گیا اور اس نے انہیں چھوا نہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5262]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2483، 2983، 4360، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1935، وابن الجارود فى "المنتقى"، 946، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5259، 5260، 5261، 5262، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4362، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3840، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2475، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2055، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4159، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19026، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14477» «رقم طبعة با وزير 5238»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
54. باب ما يجوز أكله وما لا يجوز - ذكر الإباحة للمرء أكل الضباب ما لم يتقذرها-
جن چیزوں کا کھانا جائز ہے اور جن کا جائز نہیں، کا بیان - یہ اجازت کہ آدمی دھند (fog) کھائے اگر اسے ناپسند نہ کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5263
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، فَأُتِيَ بِضَبٍّ مَحْنُوذٍ، فَأَهْوَى إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ بَعْضُ النِّسْوَةِ اللاتِي فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ: أَخْبِرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا يُرِيدُ أَنْ يَأْكُلَ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ، قَالَ: فَقُلْتُ: أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " لا، وَلَكِنْ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي، فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ"، قَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ: فَاجْتَرَرْتُهُ، فَأَكَلْتُهُ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بنت حارث کے پاس آئے (جو میری اور سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کی خالہ بھی تھیں) بھنی ہوئی گوہ لائی گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک اس کی طرف بڑھایا تو گھر میں موجود خواتین میں سے کسی نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات تو بتا دو کہ آپ کیا کھانے لگے ہیں؟ (جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی گئی کہ یہ گوہ کا گوشت ہے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کھینچ لیا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ! کیا یہ حرام ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی نہیں، لیکن یہ میرے علاقے کی خوراک نہیں ہے، اس لیے میں اس سے بچتا ہوں۔“ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا اور میں نے کھا لیا، جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ملاحظہ فرما رہے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5263]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2575، 5389، 5391، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1945، وابن الجارود فى "المنتقى"، 962، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5221، 5223، 5263، 5267، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4327، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3730، 3793، 3794، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3455، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3241، 3322، 3426، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19472، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1929» «رقم طبعة با وزير 5239»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (8/ 147 / 2498): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
55. باب ما يجوز أكله وما لا يجوز - ذكر الإباحة للمرء أكل الضباب إذا لم يتقذرها-
جن چیزوں کا کھانا جائز ہے اور جن کا جائز نہیں، کا بیان - یہ اجازت کہ آدمی دھند کھائے اگر اسے ناپسند نہ کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5264
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ ، سَمِعَ الشَّعْبِيَّ ، سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ سَعْدٌ، فَأُتِيَ بِلَحْمِ ضَبٍّ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُوا، فَإِنَّهُ حَلالٌ، وَلَكِنَّهُ لَيْسَ مِنْ طَعَامِي" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آپ کے کچھ اصحاب بھی تھے جن میں سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ گوہ کا گوشت پیش کیا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے ایک خاتون نے عرض کی: یہ گوہ کا گوشت ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ اسے کھا لو یہ حلال ہے، لیکن یہ میری خوراک نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5264]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5536، 7267، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1943، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5264، 5265، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4325، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1790، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 26، 3242، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19469، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4584» «رقم طبعة با وزير 5240»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح الإسناد: م (6/ 67). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5265
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الضَّبِّ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَسْتُ بِآكِلِهِ وَلا مُحَرِّمِهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گوہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں اسے کھاتا بھی نہیں ہوں اور اسے حرام بھی قرار نہیں دیتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5265]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5536، 7267، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1943، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5264، 5265، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4325، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1790، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 26، 3242، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19469، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4584» «رقم طبعة با وزير 5241»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2970): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں