🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
64. باب ما يجوز أكله وما لا يجوز - ذكر البيان بأن القوم كانوا محتاجين إلى أكل لحوم الحمر الأهلية لما نهاهم المصطفى صلى الله عليه وسلم عن أكلها-
جن چیزوں کا کھانا جائز ہے اور جن کا جائز نہیں، کا بیان - یہ بیان کہ لوگ ضرورت میں گھریلو گدھے کا گوشت کھانے پر مجبور تھے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5276
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَيْ عَامِرٌ، لَوْ مَتَّعْتَنَا مِنْ هَنَاتِكَ، فَنَزَلَ يَحْدُو لَهُمْ، فَذَكَرَ اللَّهَ، وَذَكَرَ شِعْرًا لَمْ أَحْفَظْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ هَذَا السَّائِقُ؟ قَالُوا: عَامِرُ بْنُ الأَكْوَعِ، قَالَ: يَرْحَمُهُ اللَّهُ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ مَتَّعْتَنَا بِهِ، فَلَمَّا أَصَابُوا الْقَوْمَ قَاتَلُوهُمْ وَأُصِيبَ عَامِرٌ، فَلَمَّا أَمْسَوْا أَوْقَدُوا نَارًا كَثِيرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا هَذِهِ النَّارُ؟ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ تُوقَدُ؟ قَالُوا: عَلَى الْحُمُرِ الإِنْسِيَّةِ، فَقَالَ: أَهْرِيقُوا مَا فِيهَا وَكَسِّرُوهَا، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلا نُهَرِيقُ مَا فِيهَا وَنَغْسِلُهَا؟ فَقَالَ: فَذَاكَ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَهْرِيقُوا مَا فِيهَا" أَمْرُ حَتْمٍ، وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَكَسِّرُوهَا": أَمْرُ تَشْدِيدٍ وَتَغْلِيظٍ دُونَ الْحُكْمِ، أَلا تَرَى الرَّجُلَ مِمَّنْ أَمَرَهُمْ بِكَسْرِهَا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلا نُهَرِيقُ مَا فِيهَا وَنَغْسِلُهَا؟ قَالَ:" فَذَاكَ".
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ خیبر کی طرف روانہ ہوئے، حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا: اے عامر! اگر آپ اپنے نغمے کے ذریعے ہمیں لطف اٹھانے کا موقع دیں (تو یہ مناسب ہو گا) تو سیدنا عامر رضی اللہ عنہما لوگوں کو حدی سنانے کے لیے سواری سے نیچے اتر آئے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا پھر ایک شعر ذکر کیا جو مجھے یاد نہیں رہا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: جانور کو لے کر چلنے والا شخص کون ہے؟ لوگوں نے بتایا: یہ عامر بن اکوع ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «يَرْحَمُهُ اللَّهُ» اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے۔ حاضرین میں سے ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ ہمیں اس سے (لطف اندوز ہونے کا موقع دیں تو عنایت ہو گی)۔ جب ان لوگوں نے دشمنوں پر حملہ کیا اور ان کے ساتھ لڑائی کی تو سیدنا عامر رضی اللہ عنہما زخمی ہو گئے، جب شام کا وقت ہوا تو انہوں نے ڈھیر ساری آگ جلا لی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: یہ آگ کس وجہ سے ہے اور یہ کیا چیز پکائی جا رہی ہے؟ لوگوں نے بتایا: گدھے کا گوشت پکایا جا رہا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہانڈیوں میں موجود چیزوں کو انڈیل دو اور انہیں توڑ دو۔ ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم ایسا نہ کریں کہ ان میں موجود چیز کو انڈیل کر ان کو دھو لیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا کر لو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: «أَهْرِيقُوهَا» اس میں جو کچھ موجود ہے اسے بہا دو یہ ایک لازمی حکم ہے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: «وَاكْسِرُوهَا» تم اسے توڑ دو یہ شدت اور سختی ظاہر کرنے کا حکم ہے، لازمی حکم نہیں ہے۔ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ملاحظہ نہیں کی کہ جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہانڈی توڑنے کا حکم دیا تھا، اس شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم اس موجود چیز کو بہا کر انہیں دھو نہ لیں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا ہی کر لو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5276]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2477، 2960، 2975، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1802، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1153، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3196، 4529، 5276، 6935، 7173، 7175، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4362، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2538، 2752، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1592، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3195، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11669، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16766» «رقم طبعة با وزير 5252»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
65. باب ما يجوز أكله وما لا يجوز - ذكر الأمر بمجانبة لحوم الحمر الأهلية عند الأكل-
جن چیزوں کا کھانا جائز ہے اور جن کا جائز نہیں، کا بیان - یہ حکم کہ گھریلو گدھے کے گوشت سے پرہیز کیا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5277
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَصَابُوا حُمُرًا، فَذَبَحُوهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اكْفِئُوا الْقُدُورَ" .
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، انہیں کچھ گدھے ملے، انہوں نے انہیں ذبح کر لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہنڈیاؤں کو الٹ دو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5277]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4221، 4223، 4225، 4226، 5525، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1938، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5277، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4349، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3194، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19513، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18872» «رقم طبعة با وزير 5253»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (4221 و 4223).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
66. باب ما يجوز أكله وما لا يجوز - ذكر الزجر عن أكل ذي الأنياب من السباع-
جن چیزوں کا کھانا جائز ہے اور جن کا جائز نہیں، کا بیان - یہ زجر کہ گوشت دار جانوروں کے شکار کے گوشت نہ کھایا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5278
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ سُفْيَانَ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَكْلُ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، حَرَامٌ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ہر نوکیلے دانت والے درندے (کا گوشت کھانا) حرام ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5278]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1933، 1933، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1822، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5278، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2263، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4335، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1479، 1795، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3233، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19415، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7344» «رقم طبعة با وزير 5254»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (2488): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
67. باب ما يجوز أكله وما لا يجوز - ذكر الخبر المدحض قول من أباح أكل بعض ذي الأنياب من السباع-
جن چیزوں کا کھانا جائز ہے اور جن کا جائز نہیں، کا بیان - یہ خبر مدحض کہ کسی نے بعض شکار شدہ گوشت کھانے کو جائز سمجھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5279
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيِّ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ" .
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نوکیلے دانت والے درندے (کا گوشت کھانے) سے منع کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5279]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5527، 5530، 5780، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1932، وابن الجارود فى "المنتقى"، 957، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4846، 5279، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4336، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3802، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1477، 1477 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3232، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19412، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18012» «رقم طبعة با وزير 5255»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
68. باب ما يجوز أكله وما لا يجوز - ذكر الزجر عن أكل كل ذي مخلب وناب من الطير والسباع-
جن چیزوں کا کھانا جائز ہے اور جن کا جائز نہیں، کا بیان - یہ زجر کہ ہر شکار اور پنجے دار جانور کا گوشت نہ کھایا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5280
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ النِّيلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ مَيْمُونَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَكُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ" ، النِّيلُ: قَرْيَةٌ بِوَاسِطَ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نوکیلے دانت والے درندے اور نوکیلے پنجوں والے پرندے (کا گوشت کھانے) سے منع کیا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نیل، واسط میں ایک بستی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5280]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1934، وابن الجارود فى "المنتقى"، 792، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5280، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4359، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3803، 3805، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3234، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 92، 10960، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3051، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2227» «رقم طبعة با وزير 5256»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
69. باب الضيافة-
مہمان نوازی کا بیان -
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5281
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ عَلَى رَاعِي إِبِلٍ، فَلْيُنَادِي: يَا رَاعِيَ الإِبِلِ، ثَلاثًا، فَإِنْ أَجَابَهُ، وَإِلا فَلْيَحْلِبْ وَلْيَشْرَبْ، وَلا يَحْمِلَنَّ، وَإِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ عَلَى حَائِطٍ فَلْيُنَادِ، ثَلاثًا: يَا أَصْحَابَ الْحَائِطِ، فَإِنْ أَجَابَهُ، وَإِلا فَلْيَأْكُلْ وَلا يَحْمِلَنَّ" . قَالَ: قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الضِّيَافَةُ ثَلاثَةُ أَيَّامٍ، فَمَا زَادَ فَصَدَقَةٌ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أُضْمِرَ فِي هَذَا الْخَبَرِ عِلَّةُ الأَمْرِ، وَهِيَ اضْطِرَارُ الْمَرْءِ وَحَاجَتُهُ إِلَيْهِ دُونَ تَلَفِ النَّفْسِ، دُونَ الْقُدْرَةِ وَالسَّعَةِ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جب کوئی شخص اونٹوں کے چرواہے (یعنی چرنے والے اونٹوں) کے پاس آئے تو بلند آواز میں تین مرتبہ پکارے: اے اونٹوں کے چرواہے! اگر وہ اسے جواب دے دے تو ٹھیک ہے، ورنہ ان کا دودھ دوہ کر پی لے، اور جب کوئی شخص کسی باغ کے پاس آئے تو تین مرتبہ بلند آواز میں پکارے: اے باغ والو! اگر وہ اس کا جواب دیں تو ٹھیک ہے، ورنہ وہ (اس باغ میں سے کھجوریں) کھا لے، لیکن وہ اٹھا کر ہرگز نہ لے جائے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے: مہمان نوازی تین دن ہوتی ہے، جو اس سے زیادہ ہو وہ صدقہ ہوتا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ کہتے ہیں:) اس روایت میں اس حکم کی علت پوشیدہ ہے اور وہ آدمی کا اضطراری حالت میں مبتلا ہونا اور ان چیزوں کا حاجت مند ہونا ہے تاکہ اس کی جان ضائع نہ ہو، اگر آدمی کے پاس قدرت اور گنجائش ہو (تو پھر وہ مالکان کی اجازت کے بغیر ان چیزوں کو حاصل نہیں کر سکتا۔) [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5281]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5281، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7273، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2300، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18758، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11202» «رقم طبعة با وزير 5257»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «الإرواء» (8/ 160 - 161)، «البيوع».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
70. باب الضيافة - ذكر الخبر الدال على أن الأمر ليس بإباحة على العموم بل إذا كان المرء مضطرا يخاف على نفسه التلف-
مہمان نوازی کا بیان - یہ خبر کہ مہمان نوازی کا حکم عام نہیں بلکہ جب انسان اپنے لیے خوف محسوس کرے تب جائز ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5282
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا يَحْتَلِبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ إِلا بِإِذْنِهِ، أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تُؤْتَى مَشْرَبَتُهُ، فَتُكْسَرَ خِزَانَتُهُ، فَيُنْتَثَلَ طَعَامُهُ، إِنَّمَا ضُرُوعُ مَوَاشِيهِمْ أَطْعِمَتُهُمْ، فَلا يَحْتَلِبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ إِلا بِإِذْنِهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی بھی شخص کسی دوسرے کے جانور کو اس کی اجازت کے بغیر ہرگز نہ دوہ لے، کیا کوئی شخص یہ بات پسند کرے گا کہ اس کے گودام کے پاس کوئی آئے، اس کا خزانہ توڑ کر اس کا اناج منتقل کر لے؟ لوگوں کے جانوروں کے تھن اور ان کی خوراک (ایک ہی طرح قابل احترام ہے) تو کوئی شخص کسی دوسرے کے جانور کا دودھ اس کی اجازت کے بغیر ہرگز نہ دوہ لے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5282]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2435، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1726، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5171، 5282، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2623، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2302، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11614، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4557» «رقم طبعة با وزير 5258»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (2522): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
71. باب الضيافة - ذكر الأمر للحالب إذا حلب أن يترك داعي اللبن-
مہمان نوازی کا بیان - یہ حکم کہ دودھ دینے والے کو دودھ دوڑانے کے بعد داعی دودھ چھوڑ دے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5283
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ بَحِيرٍ ، عَنْ ضِرَارِ بْنِ الأَزْوَرِ ، قَالَ: بَعَثَنِي أَهْلِي بِلَقُوحٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَأَمَرَنِي أَنْ أَحْلُبَهَا فَحَلَبْتُهَا، فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعْ دَاعِيَ اللَّبَنِ" .
سیدنا ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے اہل خانہ نے ایک حاملہ اونٹنی کے ہمراہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ میں اسے ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کا دودھ دوہ لوں۔ میں نے اس کا دودھ دوہ لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: دودھ کے داعی کے لیے (تھوڑا سا دودھ) چھوڑ دو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5283]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5283، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2379، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15921، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19094» «رقم طبعة با وزير 5259»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «الصحيحة» (1860).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
72. باب الضيافة - ذكر الإخبار عن حد الضيافة الذي يجب على الضيف أن لا يتعداه حذر دخوله في المتصدقين عليه-
مہمان نوازی کا بیان - یہ بیان کہ مہمان کو حد میں رہنا چاہیے اور صدقہ دینے والوں میں دخل اندازی نہ کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5284
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الضِّيَافَةُ ثَلاثَةُ أَيَّامٍ، فَمَا وَرَاءَهَا، فَهُوَ صَدَقَةٌ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مہمان نوازی تین دن تک ہوتی ہے، جو اس سے زیادہ ہو وہ صدقہ ہو گی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5284]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5284، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3749، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18759، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7988» «رقم طبعة با وزير 5260»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «التعليق الرغيب» (3/ 242).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الصحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
73. باب الضيافة - ذكر الاستحباب للمرء تقديم ما حضر للأضياف وإن لم يشبعهم في الظاهر-
مہمان نوازی کا بیان - یہ مستحب کہ حاضر چیز مہمانوں کو پیش کرے چاہے وہ ظاہری طور پر انہیں نہ سیر کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5285
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ، وَثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ،" أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ، رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَاوِيًا، فَأَتَى أُمَّ سُلَيْمٍ، فَقَالَ: هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ؟ فَقَالَتْ: مَا عِنْدَنَا إِلا نَحْوُ مُدٍّ مِنْ دَقِيقِ شَعِيرٍ، قَالَ: فَاعْجِنِيهِ، وَأَصْلِحِيهِ، عَسَى أَنْ نَدْعُوَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَأْكُلَ عِنْدَنَا، قَالَ: فَعَجَنَتْهُ وَخَبَزَتْهُ، فَجَاءَ قُرْصًا، فَقَالَ: ادْعُ لِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ نَاسٌ، قَالَ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ: أَحْسِبُهُ بَضْعَةً وَثَمَانِينَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: أَبُو طَلْحَةَ يَدْعُوكَ، فَقَالَ لأَصْحَابِهِ: أَجِيبُوا أَبَا طَلْحَةَ، فَجِئْتُ مُسْرِعًا حَتَّى أَخْبَرْتُهُ أَنَّهُ قَدْ جَاءَ وَأَصْحَابُهُ، قَالَ بَكْرٌ: فَقَفَدَنِي قَفْدًا، وَقَالَ ثَابِتٌ: قَالَ أَبُو طَلْحَةَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمُ بِمَا فِي بَيْتِي مِنِّي، وَقَالا جَمِيعًا عَنْ أَنَسٍ: فَاسْتَقْبَلَهُ أَبُو طَلْحَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا عِنْدَنَا شَيْءٌ إِلا قُرْصٌ، رَأَيْتُكَ طَاوِيًا، فَأَمَرْتُ أُمَّ سُلَيْمٍ، فَجَعَلَتْ ذَلِكَ قُرْصًا، قَالَ: فَدَعَا بِالْقُرْصِ، وَدَعَا بِجَفْنَةٍ فَوَضَعَهُ فِيهَا، وَقَالَ: هَلْ مِنْ سَمْنٍ؟ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ: وَكَانَ فِي الْعُكَّةِ شَيْءٌ، فَجَاءَ بِهَا، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو طَلْحَةَ يَعْصِرَانِهَا، حَتَّى خَرَجَ شَيْءٌ، فَمَسَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ سَبَّابَتَهُ، ثُمَّ مَسَحَ الْقُرْصَ فَانْتَفَخَ، وَقَالَ: بِسْمِ اللَّهِ، فَانْتَفَخَ الْقُرْصُ، فَلَمْ يَزَلْ يَصْنَعُ ذَلِكَ وَالْقُرْصُ يَنْتَفِخُ، حَتَّى رَأَيْتُ الْقُرْصَ فِي الْجَفْنَةِ يَتَمَيَّعُ، فَقَالَ: ادْعُ عَشْرَةً مِنْ أَصْحَابِي، فَدَعَوْتُ لَهُ عَشْرَةً، قَالَ: فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِي وَسَطِ الْقُرْصِ، وَقَالَ: كُلُوا بِسْمِ اللَّهِ، فَأَكَلُوا حَوَالَيِ الْقُرْصِ، حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ قَالَ: ادْعُ لِي عَشْرَةً، فَلَمْ يَزَلْ يَدْعُو عَشْرَةً عَشْرَةً، يَأْكُلُونَ مِنْ ذَلِكَ الْقُرْصِ، حَتَّى أَكَلَ مِنْهُ بَضْعَةٌ وَثَمَانُونَ مِنْ حَوَالَيِ الْقُرْصِ، حَتَّى شَبِعُوا، وَإِنَّ وَسَطَ الْقُرْصِ حَيْثُ وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ كَمَا هُوَ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھوک کے عالم میں دیکھا تو وہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور بولے: تمہارے پاس کچھ کھانے کے لیے ہے؟ انہوں نے عرض کی: میرے پاس تو صرف جو کے آٹے کا ایک مد ہے۔ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم اسے گوندھ لو اور اسے تیار کر لو، ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کرتے ہیں تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس کھانا کھائیں؟ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اس خاتون نے آٹا گوندھ لیا اور روٹی پکا لی، پھر سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ روٹیوں کے پاس آئے اور بولے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے ہاں بلا لاؤ۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ کے ہمراہ کچھ لوگ بھی تھے۔ یہاں مبارک بن فضالہ نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: میرا خیال ہے وہ 80 سے زیادہ لوگ تھے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے آپ کو بلایا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے کہا: ابوطلحہ کی دعوت کو قبول کرو۔ (سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں تیزی سے چلتا ہوا آیا اور سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب تشریف لا رہے ہیں۔ یہاں بکر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: میں تیزی سے چلتا ہوا آیا، اور ثابت نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس بارے میں مجھ سے زیادہ بہتر جانتے ہیں جو کچھ میرے گھر میں ہے۔ پھر اس کے بعد دونوں راویوں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا۔ انہوں نے عرض کی: ہمارے پاس تو صرف ایک تھال (جتنا) کھانا ہے، میں نے آپ کو بھوکا دیکھا تھا تو میں نے ام سلیم سے کہا، اس نے یہ کھانا تیار کر دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تھال منگوایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالہ منگوا کر وہ روٹی اس میں رکھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس گھی ہے؟ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ایک کپی میں تھوڑا سا ہے، وہ اسے لے کر آگئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اسے نچوڑنے لگے یہاں تک کہ تھوڑا سا گھی نکل آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی شہادت کی انگلی کے ذریعے لگایا اور اسے روٹی پر لگا دیا تو وہ پھول گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «بِسْمِ اللّٰهِ» اللہ کے نام سے پڑھا تو روٹی اور پھول گئی۔ اس کے بعد مسلسل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے رہے یہاں تک کہ وہ روٹی پھولتی ہوئی اس پوری پرات کے اوپر غالب آگئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے اصحاب میں سے دس آدمیوں کو بلاؤ۔ میں نے دس آدمیوں کو بلوایا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک روٹی کے درمیان میں رکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے کھانا شروع کرو۔ انہوں نے اطراف سے روٹی کھانا شروع کی یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس دس آدمیوں کو بلا کر لاؤ۔ اس کے بعد سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ دس کر کے آدمیوں کو بلاتے رہے یہاں تک کہ ان سب لوگوں نے، جو 80 سے زیادہ افراد تھے، روٹی کے اطراف میں سے کھا لیا، یہاں تک کہ وہ سب سیر ہوگئے اور روٹی کا درمیان کا وہ حصہ جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک رکھا ہوا تھا، وہ اسی طرح تھا جیسے پہلے تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5285]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 422، 3578، 5381، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2040، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3431، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5285، 6534، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 6582، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3630، والدارمي فى (مسنده) برقم: 44، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3342، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14708، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12686» «رقم طبعة با وزير 5261»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر (6500). تنبيه!! رقم (6500) = (6534) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں