سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. باب اسْتِحْبَابِ التَّرْتِيلِ فِي الْقِرَاءَةِ
باب: قرآت میں ترتیل کے مستحب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1466
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ عَنْ قِرَاءَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَاتِهِ، فَقَالَتْ: وَمَا لَكُمْ وَصَلَاتَهُ؟" كَانَ يُصَلِّي، وَيَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّى، ثُمَّ يُصَلِّي قَدْرَ مَا نَامَ، ثُمَّ يَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّى حَتَّى يُصْبِحَ، وَنَعَتَتْ قِرَاءَتَهُ، فَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ قِرَاءَتَهُ حَرْفًا حَرْفًا".
یعلیٰ بن مملک سے روایت ہے کہ انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت اور نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: تم کہاں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کہاں؟ آپ نماز پڑھتے اور جتنی دیر پڑھتے اتنا ہی سوتے، پھر جتنا سو لیتے اتنی دیر نماز پڑھتے، پھر جتنی دیر نماز پڑھتے اتنی دیر سوتے یہاں تک کہ صبح ہو جاتی، پھر ام سلمہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت بیان کی تو دیکھا کہ وہ ایک ایک حرف الگ الگ پڑھ رہی تھیں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1466]
یعلیٰ بن مملک سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے کہا: ”تمہارا ان کی نماز سے کیا مقابلہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے پھر اسی قدر سو جاتے تھے جتنا کہ نماز پڑھی ہوتی تھی۔ پھر اٹھ کر نماز پڑھتے تھے جس قدر کہ سوئے ہوتے۔ پھر سو جاتے جس قدر نماز پڑھی ہوتی، حتیٰ کہ صبح ہو جاتی۔“ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کا انداز بھی بتایا کہ ”ایک ایک حرف الگ الگ ہوتا تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1466]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/فضائل القرآن 23 (2923)، سنن النسائی/الافتتاح 83(1023)، (تحفة الأشراف:18226)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/294، 297، 300، 308) (ضعیف)» (اس کے راوی یعلی لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1210، 2204)
أخرجه الترمذي (2923 وسنده حسن) يعلي بن مملك: حسن الحديث و ثقه الترمذي و ابن حبان
مشكوة المصابيح (1210، 2204)
أخرجه الترمذي (2923 وسنده حسن) يعلي بن مملك: حسن الحديث و ثقه الترمذي و ابن حبان
حدیث نمبر: 1467
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَهُوَ عَلَى نَاقَةٍ" يَقْرَأُ بِسُورَةِ الْفَتْحِ وَهُوَ يُرَجِّعُ".
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے روز ایک اونٹنی پر سوار دیکھا، آپ سورۃ الفتح پڑھ رہے تھے اور (ایک ایک آیت) کئی بار دہرا رہے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1467]
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے دن دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار سورۃ الفتح پڑھ رہے تھے اور ترجیع سے پڑھ رہے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1467]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 48 (4281)، صحیح مسلم/المسافرین 35 (794)، ت الشمائل (391)، ن الکبری/فضائل القرآن (8055)، (تحفة الأشراف:9666)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/85) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (7540) صحيح مسلم (794)
حدیث نمبر: 1468
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن کو اپنی آواز سے زینت دو ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1468]
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اپنی آوازوں سے قرآن کو زینت دو۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1468]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الافتتاح 83 (1016)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 176 (1342)، (تحفة الأشراف:1775)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التوحید 52، تعلیقاً، مسند احمد (4/283، 285، 296، 304)، سنن الدارمی/فضائل القرآن 34 (3544) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: خطابی وغیرہ نے اس کا ایک مفہوم یہ بتایا ہے کہ قرآن کے ذریعہ اپنی آواز کو زینت دو، یعنی اپنی آوازوں کو قرآن کی تلاوت میں مشغول رکھو، اس مفہوم کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے جس میں «زينوا أصواتكم بالقرآن» کے الفاظ ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (2199)
أخرجه النسائي (1016 وسنده صحيح) ورواه ابن ماجه (1342 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (1551 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (2199)
أخرجه النسائي (1016 وسنده صحيح) ورواه ابن ماجه (1342 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (1551 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 1469
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ بِمَعْنَاهُ، أَنَّ اللَّيْثَ حَدَّثَهُمْ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَهِيكٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، وَقَالَ يَزِيدُ: عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، وَقَالَ قُتَيْبَةُ: هُوَ فِي كِتَابِي عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ".
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص قرآن خوش الحانی سے نہ پڑھے، وہ ہم میں سے نہیں ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1469]
ابو الولید طیالسی کی سند سے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور یزید (راوی) کی سند میں سیدنا سعید بن ابی سعید رضی اللہ عنہ کی روایت ہے اور قتیبہ نے بھی یہی کہا کہ میری کتاب میں سعید بن ابی سعید ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص قرآن کو خوش الحانی سے نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1469]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف:3905، 18690)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/172، 175، 179)، سنن الدارمی/فضائل القرآن 34 (3531) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: امام خطابی نے اس کے تین معانی بیان کئے ہیں: ایک یہی ترتیل اور حسن آواز، دوسرے: قرآن کے ذریعہ دیگر کتب سے استغناء (دیکھئے نمبر: ۱۴۷۲)، تیسرے: عربوں میں رائج سواری پر حدی خوانی کے بدلے قرآن کی تلاوت۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أخرجه الحميدي (76 وسنده حسن، 77) وانظر الحديث الآتي (1470)
أخرجه الحميدي (76 وسنده حسن، 77) وانظر الحديث الآتي (1470)
حدیث نمبر: 1470
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،عَنْ عَمْرٍو، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَهِيكٍ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِثْلَهُ.
اس سند سے بھی سعد رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل حدیث مرفوعاً مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1470]
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اور ”مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی“ بیان کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1470]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف:3905، 18690) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أخرجه الحميدي (76 وسنده حسن، 77) وللحديث طرق كثيرة جدًا وھو من الأحاديث المتواترة
أخرجه الحميدي (76 وسنده حسن، 77) وللحديث طرق كثيرة جدًا وھو من الأحاديث المتواترة
حدیث نمبر: 1471
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْوَرْدِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، يَقُولُ: قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ: مَرَّ بِنَا أَبُو لُبَابَةَ فَاتَّبَعْنَاهُ حَتَّى دَخَلَ بَيْتَهُ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ، فَإِذَا رَجُلٌ رَثُّ الْبَيْتِ رَثُّ الْهَيْئَةِ، فَسَمِعْتُهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ"، قَالَ: فَقُلْتُ لِابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، أَرَأَيْتَ إِذَا لَمْ يَكُنْ حَسَنَ الصَّوْتِ؟ قَالَ: يُحَسِّنُهُ مَا اسْتَطَاعَ.
عبیداللہ بن ابی یزید کہتے ہیں ہمارے پاس سے ابولبابہ رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا تو ہم ان کے پیچھے ہو لیے یہاں تک کہ وہ اپنے گھر کے اندر داخل ہو گئے تو ہم بھی داخل ہو گئے تو دیکھا کہ ایک شخص بیٹھا ہوا ہے۔ بوسیدہ سا گھر ہے اور وہ بھی خستہ حال ہے، میں نے سنا: وہ کہہ رہا تھا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے: ”جو قرآن کو خوش الحانی سے نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔ عبدالجبار کہتے ہیں: میں نے ابن ابی ملیکہ سے کہا: اے ابو محمد! اگر کسی کی آواز اچھی نہ ہو تو کیا کرے؟ انہوں نے جواب دیا: جہاں تک ہو سکے اسے اچھی بنائے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1471]
عبیداللہ بن ابی یزید نے بیان کیا کہ سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس سے گزرے، ہم ان کے پیچھے ہو لیے، حتیٰ کہ وہ اپنے گھر میں داخل ہو گئے تو ہم بھی اندر گئے۔ ہم نے دیکھا کہ بڑا ہی پرانا گھر اور ان کی اپنی حالت بھی ازحد سادہ سی تھی۔ میں نے ان سے سنا، وہ کہتے تھے: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جو شخص قرآن کریم کو خوش الحانی سے نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں۔““ (راوی حدیث عبدالجبار نے) کہا: ”میں نے ابن ابی ملیکہ سے کہا: اگر وہ خوش آواز نہ ہو تو؟ انہوں نے کہا: جہاں تک ممکن ہو آواز کو عمدہ بنائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1471]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف:3905) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
وله شواھد عند البخاري (7527) وغيره
وله شواھد عند البخاري (7527) وغيره
حدیث نمبر: 1472
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، قَالَ: قَالَ وَكِيعٌ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ يَعْنِي يَسْتَغْنِي بِهِ.
محمد بن سلیمان انباری کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں وکیع اور ابن عیینہ نے کہا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے ذریعہ (دیگر کتب یا ادیان سے) بے نیاز ہو جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1472]
محمد بن سلیمان انباری بیان کرتے ہیں کہ سیدنا وکیع اور ابن عیینہ رضی اللہ عنہما مذکورہ حدیث کے معنی یہ لیتے تھے کہ اس سے مراد ”استغناء“ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1472]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3905) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1473
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مَالِكٍ، وَحَيْوَةُ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ حَسَنِ الصَّوْتِ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ يَجْهَرُ بِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کسی کی اتنی نہیں سنتا جتنی ایک خوش الحان رسول کی سنتا ہے جب کہ وہ قرآن کو خوش الحانی سے بلند آواز سے پڑھ رہا ہو“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1473]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل کسی چیز کو اس قدر کان لگا کر نہیں سنتا، جتنا کہ کسی خوش الحان نبی کے بلند آواز سے قرآن پڑھنے پر کان لگاتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1473]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/فضائل القرآن 19 (5024)، والتوحید 32 (7482)، 52 (7544)، صحیح مسلم/المسافرین 34 (792)، سنن النسائی/الافتتاح83 (1018)، (تحفة الأشراف:14997)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/271، 285، 450)، سنن الدارمی/الصلاة 171 (1529)، وفضائل القرآن 33 (3540) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (7544) صحيح مسلم (792)
21. باب التَّشْدِيدِ فِيمَنْ حَفِظَ الْقُرْآنَ ثُمَّ نَسِيَهُ
باب: قرآن یاد کر کے بھول جانے والے پر وارد وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 1474
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ فَائِدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنَ امْرِئٍ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ يَنْسَاهُ إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَجْذَمَ".
سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی آدمی قرآن پڑھتا ہو پھر اسے بھول جائے تو قیامت کے دن وہ اللہ سے مجذوم ۱؎ ہو کر ملے گا“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1474]
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص قرآن پڑھ کر بھلا دے، وہ قیامت کے روز اللہ سے اس حالت میں ملے گا کہ وہ جذام زدہ ہو گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1474]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف:3835)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/284، 285، 323)، سنن الدارمی/فضائل القرآن 3 (3383) (ضعیف)» (اس کے راوی یزید ضعیف ہیں، نیز:عیسیٰ نے اسے براہ راست سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا ہے)
وضاحت: ۱؎: کوڑھ کے سبب جس کے ہاتھ کٹ کر گر گئے ہوں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
يزيد ضعيف وعيسي بن فائد مجهول وروايته عن الصحابة مرسلة (تق :5319) ولم يسمع من سعد بن عبادة رضي اللّٰه عنه بينھما رجل مجهول
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 59
إسناده ضعيف
يزيد ضعيف وعيسي بن فائد مجهول وروايته عن الصحابة مرسلة (تق :5319) ولم يسمع من سعد بن عبادة رضي اللّٰه عنه بينھما رجل مجهول
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 59
22. باب أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ
باب: قرآن مجید کے سات حرف پر نازل ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1475
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ الْقَارِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَؤُهَا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَنِيهَا، فَكِدْتُ أَنْ أَعْجَلَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَمْهَلْتُهُ حَتَّى انْصَرَفَ، ثُمَّ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ، فَجِئْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأْتَنِيهَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَأْ" فَقَرَأَ الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَكَذَا أُنْزِلَتْ"، ثُمَّ قَالَ لِيَ:" اقْرَأْ" فَقَرَأْتُ، فَقَالَ:" هَكَذَا أُنْزِلَتْ"، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو سورۃ الفرقان پڑھتے سنا، وہ اس طریقے سے ہٹ کر پڑھ رہے تھے جس طرح میں پڑھتا تھا حالانکہ مجھے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا تھا تو قریب تھا کہ میں ان پر جلدی کر بیٹھوں ۱؎ لیکن میں نے انہیں مہلت دی اور پڑھنے دیا یہاں تک کہ وہ فارغ ہو گئے تو میں نے ان کی چادر پکڑ کر انہیں گھسیٹا اور انہیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے انہیں سورۃ الفرقان اس کے برعکس پڑھتے سنا ہے جس طرح آپ نے مجھے سکھائی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہشام سے فرمایا: ”تم پڑھو“، انہوں نے ویسے ہی پڑھا جیسے میں نے پڑھتے سنا تھا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اسی طرح نازل ہوئی ہے“، پھر مجھ سے فرمایا: ”تم پڑھو“، میں نے بھی پڑھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی طرح نازل ہوئی ہے“، پھر فرمایا: ”قرآن مجید سات حرفوں ۲؎ پر نازل ہوا ہے، لہٰذا جس طرح آسان لگے پڑھ“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1475]
عبدالرحمٰن بن عبدالقاری کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو سورۃ الفرقان پڑھتے سنا، مگر اس کی قراءت اس کے خلاف تھی جو میں پڑھتا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے مجھے یہ سورت پڑھائی تھی۔ قریب تھا کہ میں اس پر جلدی کرتا (اور جھپٹ پڑتا) مگر میں نے اس کو مہلت دی حتیٰ کہ وہ فارغ ہوا، پھر میں نے اس کی گردن اپنی چادر سے پکڑ لی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس کو سورۃ الفرقان پڑھتے سنا ہے اور یہ اس کے خلاف پڑھتا ہے جو آپ نے مجھے پڑھائی ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”پڑھو۔“ چنانچہ اس نے اسی قراءت میں پڑھی جو میں نے اس سے سنی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی طرح اتاری گئی ہے۔“ پھر مجھے فرمایا: ”پڑھو۔“ چنانچہ میں نے بھی پڑھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسے ہی اتاری گئی ہے۔“ پھر فرمایا: ”بلاشبہ یہ قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا ہے، تو اس سے جو آسان لگے پڑھو۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1475]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الخصومات 4 (2419)، وفضائل القرآن 5 (4992)، 27 (5041)، والمرتدین 9 (6936)، والتوحید 53 (7550)، صحیح مسلم/المسافرین 48 (818)، سنن الترمذی/القراء ات 11 (2943)، سنن النسائی/الافتتاح 37 (938، 939)، (تحفة الأشراف:10591)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ القرآن 4 (5)، مسند احمد (1/ 40، 42، 43، 263) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی انہیں قرات سے روک دوں۔
۲؎: علامہ سیوطی نے ”الاتقان“ میں اس کی تفسیر میں متعدد اقوال نقل کئے ہیں مثلاً سات حرفوں سے مراد سات لغات ہیں یا سات لہجے ہیں جو عرب کے مختلف قبائل میں مروج تھے یا سات قراتیں ہیں جنہیں قرات سبعہ کہا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔
۲؎: علامہ سیوطی نے ”الاتقان“ میں اس کی تفسیر میں متعدد اقوال نقل کئے ہیں مثلاً سات حرفوں سے مراد سات لغات ہیں یا سات لہجے ہیں جو عرب کے مختلف قبائل میں مروج تھے یا سات قراتیں ہیں جنہیں قرات سبعہ کہا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2419) صحيح مسلم (818)