سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. باب فِي ثَوَابِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ
باب: قرآن پڑھنے کے ثواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 1456
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي الصُّفَّةِ، فَقَالَ:" أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يَغْدُوَ إِلَى بُطْحَانَ، أَوْ الْعَقِيقِ فَيَأْخُذَ نَاقَتَيْنِ كَوْمَاوَيْنِ زَهْرَاوَيْنِ بِغَيْرِ إِثْمٍ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَا قَطْعِ رَحِمٍ؟" قَالُوا: كُلُّنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" فَلَأَنْ يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ كُلَّ يَوْمٍ إِلَى الْمَسْجِدِ فَيَتَعَلَّمَ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرٌ لَهُ مِنْ نَاقَتَيْنِ، وَإِنْ ثَلَاثٌ فَثَلَاثٌ مِثْلُ أَعْدَادِهِنَّ مِنَ الْإِبِلِ".
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے ہم صفہ (چبوترے) پر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کون یہ پسند کرتا ہے کہ صبح کو بطحان یا عقیق جائے، پھر بڑی کوہان والے موٹے تازے دو اونٹ بغیر کوئی گناہ یا قطع رحمی کئے لے کر آئے؟“، صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول! ہم میں سے سبھوں کی یہ خواہش ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تم میں سے کوئی اگر روزانہ صبح کو مسجد جائے اور قرآن مجید کی دو آیتیں سیکھے تو یہ اس کے لیے ان دو اونٹنیوں سے بہتر ہے اور اسی طرح سے تین آیات سیکھے تو تین اونٹنیوں سے بہتر ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1456]
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے جبکہ ہم صُفہ میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کون پسند کرتا ہے کہ بطحان یا وادیِ عقیق میں جائے اور وہاں سے موٹی تازی، خوبصورت، اونچے کوہان والی دو اونٹنیاں لے آئے اور اس میں کسی گناہ یا قطع رحمی کا مرتکب بھی نہ ہو؟“ ہم نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم سب یہ چاہتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا ہر روز مسجد جا کر کتاب اللہ سے دو آیتیں سیکھ لینا، دو اونٹنیوں کے حصول سے بہتر ہے، اگر تین آیتیں سیکھے تو تین اونٹنیوں سے بہتر ہے۔ اسی طرح مزید آیتوں کی تعداد کے مطابق اونٹنیوں سے بہتر ہے۔“ جناب ابو عبید رحمہ اللہ نے «كَوْمَاء» کا ترجمہ بیان کیا کہ ”اونچے کوہان والی اونٹنی۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1456]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 41 (803)، (تحفة الأشراف:9942)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/154) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (803)
15. باب فَاتِحَةِ الْكِتَابِ
باب: سورۃ فاتحہ کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1457
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ أُمُّ الْقُرْآنِ، و أُمُّ الْكِتَابِ، و السَّبْعُ الْمَثَانِي".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الحمد لله رب العالمين» ام القرآن اور ام الکتاب ہے اور سبع مثانی ۱؎ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1457]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [سورة الفاتحة: 2] ام القرآن ہے، ام الکتاب اور السبع المثانی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1457]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تفسیر القرآن 3 (4704)، سنن الترمذی/فضائل القرآن 1 (2825)، وتفسیر القرآن 16 (3124)، (تحفة الأشراف:13014)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الافتتاح 26 (915)، مسند احمد (2/448)، سنن الدارمی/فضائل القرآن 12 (3417) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: سبع اس لئے کہ اس میں سات آیتیں ہیں اور مثانی اس لئے کہ وہ ہر نماز میں دہرائی جاتی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (4704)
حدیث نمبر: 1458
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ حَفْصَ بْنَ عَاصِمٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ يُصَلِّي فَدَعَاهُ، قَالَ: فَصَلَّيْتُ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ، قَالَ: فَقَالَ:" مَا مَنَعَكَ أَنْ تُجِيبَنِي؟"، قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي، قَالَ:" أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ سورة الأنفال آية 24، لَأُعَلِّمَنَّكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ، أَوْ فِي الْقُرْآنِ شَكَّ خَالِدٌ، قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ" قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَوْلُكَ، قَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي الَّتِي أُوتِيتُ وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ".
ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ سے کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ان کے پاس سے ہوا وہ نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ نے انہیں بلایا، میں (نماز پڑھ کر) آپ کے پاس آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم نے مجھے جواب کیوں نہیں دیا؟“، عرض کیا: میں نماز پڑھ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: ”اے مومنو! جواب دو اللہ اور اس کے رسول کو، جب رسول اللہ تمہیں ایسے کام کے لیے بلائیں، جس میں تمہاری زندگی ہے“ میں تمہیں قرآن کی سب سے بڑی سورۃ سکھاؤں گا اس سے پہلے کہ میں مسجد سے نکلوں“، (جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے نکلنے لگے) تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ابھی آپ نے کیا فرمایا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سورۃ «الحمد لله رب العالمين» ہے اور یہی سبع مثانی ہے جو مجھے دی گئی ہے اور قرآن عظیم ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1458]
سیدنا ابوسعید بن معلیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے جب کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلایا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی نماز مکمل کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم کو مجھے جواب دینے سے کیا چیز مانع ہوئی۔“ (حاضر کیوں نہیں ہوئے؟) انہوں نے کہا: میں نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اللہ نے یہ نہیں فرمایا: ﴿اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کو جواب دو جب وہ تمہیں بلائیں ایسی چیز کی طرف جو تمہیں زندگی دے﴾ [سورة الأنفال: 24] ۔“ (جو وہ حکم دیں اس پر فوراً عمل پیرا ہو جاؤ۔) (پھر فرمایا) ”میں تمہیں مسجد سے جانے سے پہلے اعظم (افضل) سورت سکھاؤں گا۔“ خالد کو شک ہوا ہے کہ حدیث کے لفظ «مِنَ الْقُرْآنِ» ہیں یا «فِي الْقُرْآنِ» (پھر کچھ دیر گزری تو) میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا، (پھر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(وہ سورت) «الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ» ہے۔ یہ «السَّبْعُ الْمَثَانِيْ» ہے جو مجھے دی گئی ہے اور القرآن العظیم ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1458]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تفسیر الفاتحة 1 (4474)، وتفسیر الأنفال 3 (4648)، وتفسیر الحجر 3 (4703)، وفضائل القرآن 9 (5006)، سنن النسائی/الافتتاح 26 (914)، سنن ابن ماجہ/الأدب 52 (3785)، (تحفة الأشراف:12047)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 7 (37)، مسند احمد (3/450، 4/211)، سنن الدارمی/الصلاةٔ 172 (1533)، وفضائل القرآن 12 (3414) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (4474)
16. باب مَنْ قَالَ هِيَ مِنَ الطُّوَلِ
باب: سورۃ فاتحہ لمبی سورتوں میں سے ہے اس کے قائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 1459
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أُوتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي الطُّوَلِ، وَأُوتِيَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام سِتًّا، فَلَمَّا أَلْقَى الْأَلْوَاحَ رُفِعَتْ ثِنْتَانِ وَبَقِيَ أَرْبَعٌ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سات لمبی سورتیں دی گئیں ہیں ۱؎ اور موسیٰ (علیہ السلام) کو چھ دی گئی تھیں، جب انہوں نے تختیاں (جن پر تورات لکھی ہوئی تھی) زمین پر ڈال دیں تو دو آیتیں اٹھا لی گئیں اور چار باقی رہ گئیں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1459]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سات آیتیں دی گئی ہیں جو بار بار دہرائی جاتی ہیں اور بڑی لمبی ہیں اور موسیٰ علیہ السلام کو چھ دی گئی تھیں، جب انہوں نے تختیوں کو زمین پر ڈال دیا تو ان میں سے دو کو اٹھا لیا گیا اور چار باقی رہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1459]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الافتتاح 26 (916، 917)، (تحفة الأشراف:5617) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: معنی کے اعتبار سے لمبی ہیں ورنہ ان کے الفاظ مختصر ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (916)
الأ عمش عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 58
إسناده ضعيف
نسائي (916)
الأ عمش عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 58
17. باب مَا جَاءَ فِي آيَةِ الْكُرْسِيِّ
باب: آیت الکرسی کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1460
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ إِيَاسٍ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبَا الْمُنْذِرِ، أَيُّ آيَةٍ مَعَكَ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ أَعْظَمُ؟" قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" أَبَا الْمُنْذِرِ، أَيُّ آيَةٍ مَعَكَ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ أَعْظَمُ؟" قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ سورة البقرة آية 255، قَالَ: فَضَرَبَ فِي صَدْرِي، وَقَالَ:" لِيَهْنَ لَكَ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ الْعِلْمُ".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابومنذر! ۱؎ کتاب اللہ کی کون سی آیت تمہارے نزدیک سب سے باعظمت ۲؎ ہے؟“، میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”ابومنذر! کتاب اللہ کی کون سی آیت تمہارے نزدیک سب سے بڑی ہے؟“، میں نے عرض کیا: «الله لا إله إلا هو الحي القيوم»، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے کو تھپتھپایا اور فرمایا: ”اے ابومنذر! تمہیں علم مبارک ہو“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1460]
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”اے ابو منذر! تمہیں کتاب اللہ میں سے کون سی آیت یاد ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پھر) فرمایا: ”اے ابو منذر! تمہیں کتاب اللہ میں سے کون سی آیت یاد ہے جو سب سے اعظم ہو؟“ میں نے عرض کیا: ﴿اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ [سورة البقرة: 255] اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے میں مارا اور فرمایا: ”اے ابو منذر! تمہیں علم مبارک ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1460]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 44 (810)، (تحفة الأشراف:38)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/141) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے۔
۲؎: باعظمت سے مراد الفاظ کی کثرت ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے معانی کی عظمت مراد ہے یعنی اس آیت کے معنی بہت عظیم ہیں نیز ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے درجہ کی بڑائی مراد ہے یعنی اس آیت کا درجہ بڑا ہے کیونکہ اس میں اللہ کی عظمت، اس کی وحدانیت اور اس کی صفات کاملہ کا ذکر ہے۔
۲؎: باعظمت سے مراد الفاظ کی کثرت ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے معانی کی عظمت مراد ہے یعنی اس آیت کے معنی بہت عظیم ہیں نیز ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے درجہ کی بڑائی مراد ہے یعنی اس آیت کا درجہ بڑا ہے کیونکہ اس میں اللہ کی عظمت، اس کی وحدانیت اور اس کی صفات کاملہ کا ذکر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (810)
18. باب فِي سُورَةِ الصَّمَدِ
باب: سورۃ الاخلاص کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1461
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَجُلًا سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ يُرَدِّدُهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ لَهُ، وَكَأَنَّ الرَّجُلَ يَتَقَالُّهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے دوسرے شخص کو «قل هو الله أحد» باربار پڑھتے سنا، جب صبح ہوئی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے اس کا تذکرہ کیا، گویا وہ اس سورت کو کمتر سمجھ رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ (سورۃ) ایک تہائی قرآن کے برابر ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1461]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کو سنا کہ وہ ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] بار بار پڑھ رہا تھا۔ صبح ہوئی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس بات کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا، اور وہ گویا اس کو کم سمجھ رہا تھا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، بیشک یہ تہائی قرآن کے برابر ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1461]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/فضائل القرآن 13 (5013)، والأیمان والنذور 3 (6643)، والتوحید 1 (7374)، سنن النسائی/الافتتاح 69 (996)، وعمل الیوم واللیلة 204 (698)، (تحفة الأشراف:4104)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القرآن 6 (17)، مسند احمد (3/35، 43) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5013)
19. باب فِي الْمُعَوِّذَتَيْنِ
باب: سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1462
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ الْقَاسِمِ مَوْلَى مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: كُنْتُ أَقُودُ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ لِي:" يَا عُقْبَةُ، أَلَا أُعَلِّمُكَ خَيْرَ سُورَتَيْنِ قُرِئَتَا؟" فَعَلَّمَنِي: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ قَالَ: فَلَمْ يَرَنِي سُرِرْتُ بِهِمَا جِدًّا، فَلَمَّا نَزَلَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ صَلَّى بِهِمَا صَلَاةَ الصُّبْحِ لِلنَّاسِ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ الْتَفَتَ إِلَيَّ، فَقَالَ:" يَا عُقْبَةُ كَيْفَ رَأَيْتَ؟".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ کی نکیل پکڑ کر چل رہا تھا، آپ نے فرمایا: ”عقبہ! کیا میں تمہیں دو بہترین سورتیں نہ سکھاؤں؟“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» سکھائیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان دونوں (کے سیکھنے) سے بہت زیادہ خوش ہوتے نہ پایا، چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کے لیے (سواری سے) اترے تو لوگوں کو نماز پڑھائی اور یہی دونوں سورتیں پڑھیں، پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”عقبہ! تم نے انہیں کیا سمجھا ہے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1462]
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی نکیل پکڑے چل رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے عقبہ! کیا میں تمہیں دو بہترین پڑھی گئی سورتیں نہ سکھا دوں؟“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] اور ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس: 1] سکھائیں۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس کیا کہ میں ان پر کوئی بہت زیادہ خوش نہیں ہوا ہوں۔ کہتے ہیں کہ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر کے لیے اترے اور لوگوں کو نماز پڑھائی تو نماز میں یہی دو سورتیں تلاوت کیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اے عقبہ! کیسا پایا؟“ (ان سورتوں کو؟)۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1462]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف:9946)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 46 (814)، سنن الترمذی/فضائل القرآن 12 (2902)، قیام اللیل (1337)، ن الکبری/الاستعاذة (7848)، مسند احمد (4/144، 149، 151، 153)، سنن الدارمی/فضائل القرآن 24 (3482) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: انہیں معمولی اور حقیر سمجھ رہے ہو، حالانکہ یہ بڑے کام کی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بلاؤں اور جادو سے نجات پانے کے لئے یہ سورتیں پڑھتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (848)
أخرجه النسائي (5438 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (848)
أخرجه النسائي (5438 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 1463
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا أَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْجُحْفَةِ، وَالْأَبْوَاءِ، إِذْ غَشِيَتْنَا رِيحٌ وَظُلْمَةٌ شَدِيدَةٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ بِ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ، وَيَقُولُ:" يَا عُقْبَةُ، تَعَوَّذْ بِهِمَا، فَمَا تَعَوَّذَ مُتَعَوِّذٌ بِمِثْلِهِمَا" قَالَ: وَسَمِعْتُهُ يَؤُمُّنَا بِهِمَا فِي الصَّلَاةِ.
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں حجفہ اور ابواء کے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا کہ اسی دوران اچانک ہمیں تیز آندھی اور شدید تاریکی نے ڈھانپ لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» پڑھنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”اے عقبہ! تم بھی ان دونوں کو پڑھ کر پناہ مانگو، اس لیے کہ ان جیسی سورتوں کے ذریعہ پناہ مانگنے والے کی طرح کسی پناہ مانگنے والے نے پناہ نہیں مانگی“۔ عقبہ کہتے ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ انہیں دونوں کے ذریعہ ہماری امامت فرما رہے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1463]
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا، ہم جحفہ اور ابواء کے درمیان تھے کہ آندھی آئی اور سخت اندھیرا چھا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] اور ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس: 1] پڑھنے لگے اور فرمانے لگے: ”اے عقبہ! ان کی تلاوت سے تعوذ کیا کرو۔ (اللہ سے پناہ مانگا کرو۔) کسی پناہ مانگنے والے نے ان سے بڑھ کر افضل کلمات سے پناہ نہیں مانگی۔“ عقبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”میں نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہی سورتوں کے ساتھ نماز میں ہماری امامت فرماتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1463]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:9952) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن إسحاق مدلس وعنعن
والحديث السابق (الأصل : 1462) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 58
إسناده ضعيف
ابن إسحاق مدلس وعنعن
والحديث السابق (الأصل : 1462) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 58
20. باب اسْتِحْبَابِ التَّرْتِيلِ فِي الْقِرَاءَةِ
باب: قرآت میں ترتیل کے مستحب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1464
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ اقْرَأْ وَارْتَقِ وَرَتِّلْ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْيَا، فَإِنَّ مَنْزِلَكَ عِنْدَ آخِرِ آيَةٍ تَقْرَؤُهَا".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صاحب قرآن (حافظ قرآن یا ناظرہ خواں) سے کہا جائے گا: پڑھتے جاؤ اور چڑھتے جاؤ اور عمدگی کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر پڑھو جیسا کہ تم دنیا میں عمدگی سے پڑھتے تھے، تمہاری منزل وہاں ہے، جہاں تم آخری آیت پڑھ کر قرآت ختم کرو گے ۲؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1464]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صاحبِ قرآن سے کہا جائے گا کہ پڑھتا جا اور چڑھتا جا، اور اسی طرح ٹھہر ٹھہر کر پڑھ، جیسے کہ دنیا میں پڑھا کرتا تھا، جہاں آخری آیت ختم کرے گا وہیں تیرا مقام ہو گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1464]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/فضائل القرآن 18 (2914)، ن الکبری / فضائل القرآن (8056)، (تحفة الأشراف:8627)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/192) (حسن صحیح)»
وضاحت: وضاحت: قواعد تجوید کی رعایت کرتے ہوئے قرآن مجید کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے کا نام ترتیل ہے۔
۲؎: یعنی ایک آیت پڑھ کر ایک درجہ طے کرو گے پھر دوسری آیت سے دوسرا درجہ، اسی طرح جتنی آیتیں پڑھتے جاؤ گے اتنے درجے اور مراتب اوپر اٹھتے چلے جاؤ گے جہاں آخری آیت پڑھو گے وہیں تمہارا مقام ہو گا۔
۲؎: یعنی ایک آیت پڑھ کر ایک درجہ طے کرو گے پھر دوسری آیت سے دوسرا درجہ، اسی طرح جتنی آیتیں پڑھتے جاؤ گے اتنے درجے اور مراتب اوپر اٹھتے چلے جاؤ گے جہاں آخری آیت پڑھو گے وہیں تمہارا مقام ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2134)
مشكوة المصابيح (2134)
حدیث نمبر: 1465
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا عَنْ قِرَاءَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" كَانَ يَمُدُّ مَدًّا".
قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم مد کو کھینچتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1465]
قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم الفاظ کو مد کے ساتھ (کھینچ کر، لمبا کر کے) پڑھا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1465]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/فضائل القرآن 29 (5045)، سنن النسائی/الافتتاح 82 (1015)، سنن الترمذی/الشمائل (315)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 179 (1353)، (تحفة الأشراف: 1145)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/119، 127، 131، 192، 198، 289) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5045)