سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب الْقُنُوتِ فِي الْوِتْرِ
باب: نماز وتر میں قنوت پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1426
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ فِي آخِرِهِ، قَالَ: هَذَا يَقُولُ فِي الْوِتْرِ فِي الْقُنُوتِ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَقُولُهُنَّ فِي الْوِتْرِ أَبُو الْحَوْرَاءِ رَبِيعَةُ بْنُ شَيْبَانَ.
اس طریق سے بھی ابواسحاق سے اسی سند کے ساتھ اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے لیکن اس کے آخر میں ہے کہ اسے وہ وتر کی قنوت میں کہتے تھے اور «أقولهن في الوتر» کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوالحوراء کا نام ربیعہ بن شیبان ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1426]
ابواسحاق رحمہ اللہ نے اپنی سند سے مذکورہ حدیث کے ہم معنی بیان کیا، اس روایت کے آخر میں ہے کہ ”اسے وتر کے قنوت میں کہے“ اور یہ جملہ نہیں کہا کہ ”میں انہیں وتر میں کہوں“، ابو الحوراء رحمہ اللہ کا نام ربیعہ بن شیبان رحمہ اللہ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1426]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف:3404) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (1425)
انظر الحديث السابق (1425)
حدیث نمبر: 1427
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَمْرٍو الْفَزَارِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي آخِرِ وِتْرِهِ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سُخْطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ". قَالَ أَبُو دَاوُد: هِشَامٌ أَقْدَمُ شَيْخٍ لِحَمَّادٍ، وَبَلَغَنِي عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ، أَنَّهُ قَالَ: لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَنَتَ، يَعْنِي فِي الْوِتْرِ، قَبْلَ الرُّكُوعِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى عِيسَى بْنُ يُونُسَ هَذَا الْحَدِيثَ أَيْضًا، عَنْ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ، وَرُوِيَ عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَنَتَ فِي الْوِتْرِ قَبْلَ الرُّكُوعِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ. رَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يَذْكُرِ الْقُنُوتَ، وَلَا ذَكَرَ أُبَيًّا، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الْأَعْلَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، وَسَمَاعُهُ بِالْكُوفَةِ مَعَ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، وَلَمْ يَذْكُرُوا الْقُنُوتَ، وَقَدْ رَوَاهُ أَيْضًا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، وَشُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، وَلَمْ يَذْكُرَا الْقُنُوتَ، وَحَدِيثُ زُبَيْدٍ. رَوَاهُ وَشُعْبَةُ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، وَجَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ كُلُّهُمْ، سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ، عَنْ زُبَيْدٍ، لَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمُ الْقُنُوتَ، إِلَّا مَا رُوِيَ عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ زُبَيْدٍ، فَإِنَّهُ قَالَ فِي حَدِيثِهِ" إِنَّهُ قَنَتَ قَبْلَ الرُّكُوعِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَلَيْسَ هُوَ بِالْمَشْهُورِ مِنْ حَدِيثِ حَفْصٍ نَخَافُ أَنْ يَكُونَ عَنْ حَفْصٍ، عَنْ غَيْرِ مِسْعَرٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَيُرْوَى أَنَّ أُبَيًّا كَانَ يَقْنُتُ فِي النِّصْفِ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ.
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے آخر میں یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم إني أعوذ برضاك من سخطك، وبمعافاتك من عقوبتك، وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» ”اے اللہ! میں تیری ناراضگی سے تیری رضا کی، تیری سزا سے تیری معافی کی اور تجھ سے تیری پناہ چاہتا ہوں، میں تیری تعریف شمار نہیں کر سکتا، تو اسی طرح ہے جیسے تو نے خود اپنی تعریف کی ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہشام حماد کے سب سے پہلے استاذ ہیں اور مجھے یحییٰ بن معین کے واسطہ سے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں کہا ہے کہ ہشام سے سوائے حماد بن سلمہ کے کسی اور نے روایت نہیں کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عیسیٰ بن یونس نے سعید بن ابی عروبہ سے، سعید نے قتادہ سے، قتادہ نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزی سے، سعید نے اپنے والد عبدالرحمٰن بن ابزی سے اور ابن ابزی نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر میں قنوت رکوع سے پہلے پڑھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عیسیٰ بن یونس نے اس حدیث کو فطر بن خلیفہ سے بھی روایت کیا ہے اور فطر نے زبید سے، زبید نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزی سے، سعید نے اپنے والد عبدالرحمٰن بن ابزی سے، ابن ابزی نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے اور ابی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ نیز حفص بن غیاث سے مروی ہے، انہوں نے مسعر سے، مسعر نے زبید سے، زبید نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے، سعید نے اپنے والد عبدالرحمٰن سے اور عبدالرحمٰن نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر میں رکوع سے قبل قنوت پڑھی“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سعید کی حدیث قتادہ سے مروی ہے، اسے یزید بن زریع نے سعید سے، سعید نے قتادہ سے، قتادہ نے عزرہ سے، عزرہ نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزی سے، سعید نے اپنے والد عبدالرحمٰن بن ابزی سے اور ابن ابزی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، اس میں قنوت کا ذکر نہیں ہے اور نہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا۔ اور اسی طرح اسے عبدالاعلی اور محمد بن بشر العبدی نے روایت کیا ہے، اور ان کا سماع کوفہ میں عیسیٰ بن یونس کے ساتھ ہے، انہوں نے بھی قنوت کا تذکرہ نہیں کیا ہے۔ نیز اسے ہشام دستوائی اور شعبہ نے قتادہ سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے بھی قنوت کا ذکر نہیں کیا ہے۔ زبید کی روایت کو سلیمان اعمش، شعبہ، عبدالملک بن ابی سلیمان اور جریر بن حازم سبھی نے روایت کیا ہے، ان میں سے کسی ایک نے بھی قنوت کا ذکر نہیں کیا ہے، سوائے حفص بن غیاث کی روایت کے جسے انہوں نے مسعر کے واسطے سے زبید سے نقل کیا ہے، اس میں رکوع سے پہلے قنوت کا ذکر ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حفص کی یہ حدیث مشہور نہیں ہے، ہم کو اندیشہ ہے کہ حفص نے مسعر کے علاوہ کسی اور سے روایت کی ہو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ بھی مروی ہے کہ ابی بن کعب قنوت رمضان کے نصف میں پڑھا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1427]
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وتر کے آخر میں یہ کہا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سُخْطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ» ”اے اللہ! میں تیری ناراضی سے بچتے ہوئے تیری رضا کی پناہ میں آتا ہوں۔ تیرے مواخذے سے بچتے ہوئے تیرے عفو و کرم کی پناہ لیتا ہوں۔ میں تجھ سے (یعنی تیرے غیظ و غضب سے) تیری (رحمت کی) امان چاہتا ہوں۔ میں تیری تعریفیں شمار نہیں کر سکتا۔ تو ویسا ہی ہے جیسے کہ تو نے خود اپنی صفات بیان فرمائی ہیں۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہشام، حماد کے قدیم ترین استاذ ہیں۔ اور یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ان (ہشام) سے سوائے حماد بن سلمہ کے اور کسی نے روایت نہیں کی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: عیسیٰ بن یونس نے سعید بن ابی عروبہ سے، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع سے پہلے قنوت پڑھی۔“ یعنی وتر میں۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: عیسیٰ بن یونس نے یہ حدیث بھی فطر بن خلیفہ سے، انہوں نے زبید سے، انہوں نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزی سے، وہ اپنے والد سے، وہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ بالا حدیث کے مثل روایت کی ہے۔ اور حفص بن غیاث سے مروی ہے، وہ مسعر سے، وہ زبید سے، وہ سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے، وہ اپنے والد سے، وہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر میں رکوع سے پہلے قنوت پڑھی۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سعید بن ابی عروبہ کی (مذکورہ بالا) روایت جو انہوں نے قتادہ سے روایت کی ہے اس کو یزید بن زریع نے سعید سے، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے عزرہ سے، انہوں نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، مگر اس میں قنوت کا ذکر کیا نہ ابی بن کعب کا (یعنی مرسل ہے)۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس کو عبدالاعلیٰ اور محمد بن بشر عبدی نے بھی ایسے ہی روایت کیا ہے۔ اور ان (محمد بن بشر) کا سماع عیسیٰ بن یونس کے ساتھ کوفہ میں ثابت ہے۔ انہوں نے قنوت کا ذکر نہیں کیا ہے۔ اور اس کو ہشام دستوائی اور شعبہ نے بھی قتادہ سے روایت کیا ہے اور ان دونوں نے قنوت کا ذکر نہیں کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: اور حدیث زبید کو سلیمان اعمش، شعبہ، عبدالملک بن ابی سلیمان اور جریر بن حازم سبھی نے زبید سے روایت کیا ہے، مگر ان میں سے کسی نے بھی قنوت کا ذکر نہیں کیا سوائے حفص بن غیاث کے جسے انہوں نے بواسطہ مسعر، زبید سے روایت کیا ہے کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع سے پہلے قنوت پڑھی۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حفص کی یہ حدیث مشہور نہیں ہے، اندیشہ ہے کہ مسعر کے علاوہ کسی اور سے روایت ہو گی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں، روایت ہے کہ ”سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نصف رمضان میں قنوت پڑھا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1427]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تخريج: سنن الترمذی/الدعوات 113 (3566)، سنن النسائی/قیام اللیل 42 (1748)، سنن النسائی/قیام اللیل 41 (1739) سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 117 (1179)، (تحفة الأشراف:10207)، وقد أخرجہ: حم (1/96، 118، 150) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1276)
أخرجه الترمذي (3566 وسنده صحيح) ورواه النسائي (1448 وسنده صحيح) وابن ماجه (1179)
مشكوة المصابيح (1276)
أخرجه الترمذي (3566 وسنده صحيح) ورواه النسائي (1448 وسنده صحيح) وابن ماجه (1179)
حدیث نمبر: 1428
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ، أَنَّ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ أَمَّهُمْ، يَعْنِي فِي رَمَضَانَ، وَكَانَ يَقْنُتُ فِي النِّصْفِ الْآخِرِ مِنْ رَمَضَانَ.
محمد بن سیرین اپنے بعض اصحاب سے روایت کرتے ہیں کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے رمضان میں ان کی امامت کی اور وہ رمضان کے نصف آخر میں قنوت پڑھتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1428]
محمد بن سیرین رحمہ اللہ اپنے بعض اصحاب سے روایت کرتے ہیں کہ ”سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے ان کی رمضان میں امامت کرائی اور وہ رمضان کے نصف آخر میں قنوت پڑھا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1428]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:79) (ضعیف)» (ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے بعض اصحاب مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
’’ بعض أصحابه ‘‘ مجهول
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 57
إسناده ضعيف
’’ بعض أصحابه ‘‘ مجهول
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 57
حدیث نمبر: 1429
حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ الْحَسَنِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ جَمَعَ النَّاسَ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فَكَانَ يُصَلِّي لَهُمْ عِشْرِينَ لَيْلَةً وَلَا يَقْنُتُ بِهِمْ إِلَّا فِي النِّصْفِ الْبَاقِي، فَإِذَا كَانَتِ الْعَشْرُ الْأَوَاخِرُ تَخَلَّفَ فَصَلَّى فِي بَيْتِهِ، فَكَانُوا يَقُولُونَ: أَبَقَ أُبَيٌّ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الَّذِي ذُكِرَ فِي الْقُنُوتِ لَيْسَ بِشَيْءٍ، وَهَذَانِ الْحَدِيثَانِ يَدُلَّانِ عَلَى ضَعْفِ حَدِيثِ أُبَيٍّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَنَتَ فِي الْوِتْرِ".
حسن بصری سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی امامت پر جمع کر دیا، وہ لوگوں کو بیس راتوں تک نماز (تراویح) پڑھایا کرتے تھے اور انہیں قنوت نصف اخیر ہی میں پڑھاتے تھے اور جب آخری عشرہ ہوتا تو مسجد نہیں آتے اپنے گھر ہی میں نماز پڑھا کرتے، لوگ کہتے کہ ابی بھاگ گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ دلیل ہے اس بات کی کہ قنوت کے بارے میں جو کچھ ذکر کیا گیا وہ غیر معتبر ہے اور یہ دونوں حدیثیں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کے ضعف پر دلالت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر میں قنوت پڑھی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1429]
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ پر جمع فرما دیا، وہ انہیں بیس رات نماز پڑھاتے تھے اور قنوت نہ کرتے تھے، مگر نصف اخیر میں قنوت کرتے تھے، اور جب آخری عشرہ آ جاتا تو جماعت کرانا چھوڑ دیتے اور اپنے گھر میں پڑھتے تھے تو لوگ کہتے کہ ”ابی بھاگ گئے“۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”یہ دلیل ہے کہ قنوت کے بارے میں جو ذکر ہوا وہ صحیح نہیں ہے، اور یہ دونوں حدیثیں سیدنا ابی رضی اللہ عنہ سے مروی اس حدیث کے ضعیف ہونے کی دلیل ہیں جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں قنوت پڑھا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1429]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:10) (ضعیف)» (حسن بصری اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے درمیان سند میں انقطاع ہے)
وضاحت: ۱؎: جب یہ دونوں حدیثیں ضعیف ہیں تو ان سے استدلال درست نہیں ہے، جب کہ وتر میں قنوت والی حدیث سندا صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الحسن البصري لم يسمع من أبي بن كعب رضي اللّٰه عنه والحديث ضعفه الحافظ في الدراية (194/1ح245) والنووي في الخلاصة (565/1 ح 1915) وقال العيني: ’’ أن فيه انقطاعًا فإن الحسن لم يدرك عمر بن الخطاب ‘‘ (شرح سنن أبي داود 343/5 ح 1399)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 57
إسناده ضعيف
الحسن البصري لم يسمع من أبي بن كعب رضي اللّٰه عنه والحديث ضعفه الحافظ في الدراية (194/1ح245) والنووي في الخلاصة (565/1 ح 1915) وقال العيني: ’’ أن فيه انقطاعًا فإن الحسن لم يدرك عمر بن الخطاب ‘‘ (شرح سنن أبي داود 343/5 ح 1399)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 57
6. باب فِي الدُّعَاءِ بَعْدَ الْوِتْرِ
باب: وتر کے بعد کی دعا کا بیان۔
حدیث نمبر: 1430
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ طَلْحَةَ الْأَيَامِيِّ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ فِي الْوِتْرِ، قَالَ:" سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب وتر میں سلام پھیرتے تو «سبحان الملك القدوس» کہتے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1430]
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب وتر سے سلام پھیرتے تو کہتے: «سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ» ”پاک ہے وہ ذات جو حاکم مطلق ہے اور ہر اعتبار سے پاک ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1430]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/قیام اللیل 48 (1733)، (تحفة الأشراف:55) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (1274)
أخرجه النسائي (1735 وسنده صحيح)
مشكوة المصابيح (1274)
أخرجه النسائي (1735 وسنده صحيح)
حدیث نمبر: 1431
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي غَسَّانَ مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ الْمَدَنِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ،عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ نَامَ عَنْ وِتْرِهِ أَوْ نَسِيَهُ فَلْيُصَلِّهِ إِذَا ذَكَرَهُ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص وتر پڑھے بغیر سو جائے یا اسے پڑھنا بھول جائے تو جب بھی یاد آ جائے اسے پڑھ لے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1431]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے وتر پڑھنے سے سو جائے (اور نہ پڑھ سکے) یا بھول جائے تو جب یاد آئے پڑھ لے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1431]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 225 (الوتر 9) (465)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 122 (1188)، (تحفة الأشراف:4168)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/31، 44) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ حکم مستحب ہے واجب نہیں، جیسا کہ بعض روایتوں میں رات کے وظیفہ کے بارے میں آیا ہے کہ اگر رات کو نہ پڑھ سکے تو دن میں قضا کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1279)
وللحديث شواھد كثيرة عند البخاري (1178، 1981) ومسلم (721) وغيرھما
مشكوة المصابيح (1279)
وللحديث شواھد كثيرة عند البخاري (1178، 1981) ومسلم (721) وغيرھما
7. باب فِي الْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ
باب: سونے سے پہلے وتر پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1432
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مِنْ أَزْدِ شَنُوءَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ فِي سَفَرٍ وَلَا حَضَرٍ: رَكْعَتَيِ الضُّحَى، وَصَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ، وَأَنْ لَا أَنَامَ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل (یار، صادق، محمد) صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں کی وصیت کی ہے، جن کو میں سفر اور حضر کہیں بھی نہیں چھوڑتا: چاشت کی دو رکعتیں، ہر ماہ تین دن کے روزے اور وتر پڑھے بغیر نہ سونے کی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1432]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ”میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین باتوں کی وصیت فرمائی، میں انہیں سفر و حضر میں نہیں چھوڑتا، چاشت کی دو رکعتیں، ہر مہینے میں تین روزے اور یہ کہ وتر پڑھے بغیر نہ سوؤں۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1432]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف:14940)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التہجد 33 (1178)، والصیام60 (1981)، صحیح مسلم/المسافرین 13 (721)، سنن النسائی/قیام اللیل 26 (1678)، والصیام 70 (2371)، 81 (2407)، مسند احمد (2/229، 233، 254، 258، 260، 265، 271، 277، 329)، سنن الدارمی/الصلاة 151 (1495)، والصوم 38 (1786) (صحیح) دون قولہ: ”في سفر ولاحضر‘‘»
وضاحت: ۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ نصیحت اس وجہ سے فرمائی کہ وہ بڑی رات تک حدیثوں کے سننے میں مشغول رہتے تھے اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اندیشہ ہوا کہ سو جانے کے بعد ان کی وتر قضا نہ ہو جایا کرے، اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سو جانے سے پہلے وتر پڑھ لینے کی نصیحت کی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح ق دون قوله في سفر ولا حضر
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة عنعن و أبو سعيد الأزدي مجھول الحال
و أحاديث البخاري (1178،1981) و مسلم (721) تغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 58
إسناده ضعيف
قتادة عنعن و أبو سعيد الأزدي مجھول الحال
و أحاديث البخاري (1178،1981) و مسلم (721) تغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 58
حدیث نمبر: 1433
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ السَّكُونِيِّ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ:" أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ لِشَيْءٍ: أَوْصَانِي بِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَلَا أَنَامُ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ، وَبِسُبْحَةِ الضُّحَى فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ".
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل (محمد) صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں کی وصیت کی ہے، میں انہیں کسی صورت میں نہیں چھوڑتا، ایک تو مجھے ہر ماہ تین دن روزے رکھنے کی وصیت کی دوسرے وتر پڑھے بغیر نہ سونے کی اور تیسرے حضر ہو کہ سفر، چاشت کی نماز پڑھنے کی۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1433]
سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین باتوں کی وصیت فرمائی تھی، میں انہیں کسی صورت نہیں چھوڑتا۔ مجھے وصیت فرمائی کہ ہر مہینے تین دن کے روزے رکھوں، وتر پڑھ کر سویا کروں اور ضحٰی کے نفل پڑھوں سفر اور حضر میں۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1433]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف:10925)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 13(722)، مسند احمد (6/440، 451) (صحیح)» (مگر «حضر و سفر» کا لفظ صحیح نہیں ہے، اور یہ مسلم میں موجود نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله في الحضر والسفر
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
صفوان سمعه من بعض المشيخة عن أبي إدريس كما في مسند أحمد (6/ 440) وحديث مسلم (722) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 58
إسناده ضعيف
صفوان سمعه من بعض المشيخة عن أبي إدريس كما في مسند أحمد (6/ 440) وحديث مسلم (722) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 58
حدیث نمبر: 1434
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ:" مَتَى تُوتِرُ"، قَالَ: أُوتِرُ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ، وَقَالَ لِعُمَرَ:" مَتَى تُوتِرُ"، قَالَ: آخِرَ اللَّيْلِ، فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ:" أَخَذَ هَذَا بِالْحَزْمِ"، وَقَالَ لِعُمَرَ:" أَخَذَ هَذَا بِالْقُوَّةِ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”تم وتر کب پڑھتے ہو؟“، انہوں نے عرض کیا: میں اول شب میں وتر پڑھتا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”تم کب پڑھتے ہو؟“، انہوں نے عرض کیا: آخر شب میں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر سے فرمایا کہ انہوں نے احتیاط پر عمل کیا، اور عمر سے فرمایا کہ انہوں نے مشکل کام اختیار کیا جو طاقت و قوت کا متقاضی ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1434]
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”تم وتر کس وقت پڑھتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”میں رات کے اول حصے میں پڑھتا ہوں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ وتر کس وقت پڑھتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ”میں رات کے آخری حصے میں پڑھتا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا: ”اس نے احتیاط کو اختیار کیا ہے۔“ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: ”اس نے عزم و قوت کو اختیار کیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1434]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:12092) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جس کو اپنے اوپر اعتماد ہو کہ اخیر رات میں جاگ جائے گا اس کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ اخیر رات میں وتر پڑھے، لیکن جسے اخیر رات میں جاگنے پر بھروسہ نہ ہو اس کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ سونے سے پہلے وتر پڑھ لے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
صححه ابن خزيمة (1084 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (1329)
صححه ابن خزيمة (1084 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (1329)
8. باب فِي وَقْتِ الْوِتْرِ
باب: وتر کے وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1435
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: مَتَى كَانَ يُوتِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ:" كُلَّ ذَلِكَ قَدْ فَعَلَ أَوْتَرَ أَوَّلَ اللَّيْلِ، وَوَسَطَهُ، وَآخِرَهُ، وَلَكِنْ انْتَهَى وِتْرُهُ حِينَ مَاتَ إِلَى السَّحَرِ".
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کب پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: سبھی وقتوں میں آپ نے پڑھا ہے، شروع رات میں بھی پڑھا ہے، درمیان رات میں بھی اور آخری رات میں بھی لیکن جس وقت آپ کی وفات ہوئی آپ کی وتر صبح ہو چکنے کے قریب پہنچ گئی تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1435]
مسروق بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کس وقت وتر پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب ہی اوقات میں وتر پڑھے ہیں۔ رات کے شروع میں، درمیان میں اور آخر میں بھی۔ لیکن آخری زندگی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر سحر کے وقت ہونے لگے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1435]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوتر2(996)، صحیح مسلم/المسافرین17 (745)، (تحفة الأشراف:17639)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 218 (الوتر 4) (457)، سنن النسائی/قیام اللیل30 (1682)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 121(1186)، مسند احمد (6/ 46، 100، 107، 129، 205، 206)، سنن الدارمی/الصلاة 211 (1628) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (745)