🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
98. باب بدء الخلق - ذكر الخبر الدال على أن هذا الزجر زجر ندب لا حتم-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یہ منع رہنمائی کی ہے نہ کہ لازمی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6238
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ: أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کسی بھی بندے کے لیے یہ کہنا مناسب نہیں ہے کہ میں سیدنا یونس بن متی علیہ السلام سے بہتر ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6238]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2411، 3408، 3414، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2373، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6238، 7311، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4144، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7710، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4671، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3245، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4274، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7701» «رقم طبعة با وزير 6205»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الطحاوية» (رقم 162). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
99. باب بدء الخلق - ذكر العلة التي من أجلها زجر عن هذا الفعل-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر وجہ جس کی بنا پر اس فعل سے منع کیا گیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6239
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ، فَإِِنَّمَا أَنَا عَبْدٌ، فَقُولُوا: عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ" .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم مجھے یوں نہ بڑھا دینا جس طرح عیسائیوں نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو بڑھا دیا تھا، میں بندہ ہوں تو تم یہ کہو (سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6239]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3445، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6239، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2826، وأحمد فى (مسنده) برقم: 156، والحميدي فى (مسنده) برقم: 27» «رقم طبعة با وزير 6206»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «غاية المرام» (123). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
100. باب بدء الخلق - ذكر الخبر الدال على صحة ما تأولنا خبر أبي سعيد الخدري بأن هذا الفعل إنما زجر عنه إذا كان ذلك على التفاخر لا على التداين-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر جو ہماری ابو سعید خدری کی خبر کی تاویل کی صحت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یہ فعل اس وقت منع ہے جب فخر کی بنا پر ہو نہ کہ قرض دینے کی بنا پر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6240
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًَا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا خَيْرَنَا وَابْنَ خَيْرِنَا، وَيَا سَيِّدَنَا وَابْنَ سَيِّدِنَا. فَقَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، قُولُوا بِقَوْلِكُمْ وَلا يَسْتَفِزَّنَّكُمُ الشَّيْطَانُ، أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أَضْمَرَ فِيهِ، لأَنَّ الْقَائِلَ قَالَ: وَيَا ابْنَ سَيِّدِنَا، فَتَفَاخَرَ بِالآبَاءِ الْكُفَّارِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے ہمارے سب سے بہتر فرد اور اے سب سے بہتر فرد کے صاحب زادے، اے ہمارے سردار اور اے ہمارے سردار کے صاحب زادے! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! اپنے محاورے کے مطابق بات چیت کیا کرو اور شیطان تمہیں غلط فہمی کا شکار نہ کر دے، میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس میں یہ بات پوشیدہ ہے کہ قائل نے یہ کہا تھا: اے ہمارے سردار، تو یہ کفار آباؤ اجداد پر فخر کرنے کا مفہوم لیے ہوئے تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6240]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6240، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10006، 10007، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12746» «رقم طبعة با وزير 6207»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «غاية المرام» (99/ 127). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
101. باب بدء الخلق - ذكر خبر أوهم عالما من الناس أنه مضاد لخبر أنس الذي ذكرناه-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر جو کسی عالم کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ انس کی ہمارے ذکر کردہ خبر کے خلاف ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6241
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى السِّخْتِيَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ: أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى" ، نَسَبَهُ إِِلَى أَبِيهِ.
ابوالعالیہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد رضی اللہ عنہما کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہوئے سنا ہے: ”کسی بندے کے لیے یہ کہنا مناسب نہیں ہے کہ میں سیدنا یونس علیہ السلام سے بہتر ہوں۔“ (راوی کہتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نسبت ان کے والد کی طرف کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6241]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3395، 3413، 4630، 7539، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2377، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6241، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4669، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2201» «رقم طبعة با وزير 6208»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الطحاوية» (111): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
102. باب بدء الخلق - ذكر الخبر المصرح بأن هذا القول إنما زجر عنه من أجل التفاخر كما ذكرنا قبل-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر جو واضح کرتی ہے کہ یہ قول فخر کی وجہ سے منع کیا گیا جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6242
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَدَّادُ أَبُو عَمَّارٍ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى كِنَانَةَ مِنْ وَلَدِ إِِسْمَاعِيلَ، وَاصْطَفَى قُرَيْشًا مِنْ كِنَانَةَ، وَاصْطَفَى بَنِي هَاشِمٍ مِنْ قُرَيْشٍ، وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ، فَأَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ وَلا فَخْرَ، وَأَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الأَرْضُ، وَأَوَّلُ شَافِعٍ، وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ" .
سیدنا واثلہ بن الاسقع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کنانہ کو منتخب کیا، کنانہ کی اولاد میں سے قریش کو منتخب کیا، قریش میں سے بنو ہاشم کو منتخب کیا، بنو ہاشم میں سے مجھے منتخب کیا، تو میں اولادِ آدم کا سردار ہوں اور یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا بلکہ (قیامت کے دن) سب سے پہلے میرے لیے زمین کو شق کیا جائے گا اور میں سب سے پہلے شفاعت کروں گا اور سب سے پہلے میری شفاعت قبول کی جائے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6242]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2276، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6242، 6333، 6475، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3605، 3606، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13196، 13877، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17260» «رقم طبعة با وزير 6209»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «فقه السيرة» (56)، «الصحيحة» (302). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الصحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
103. باب بدء الخلق - ذكر البيان بأنه ما صدق من الأنبياء أحد ما صدق المصطفى صلى الله عليه وسلم-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر بیان کہ انبیاء میں سے کسی نے وہ صداقت نہ دکھائی جو مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھائی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6243
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا صُدِّقَ نَبِيٌّ مَا صُدِّقْتُ، إِِنَّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ مَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُ مِنْ أُمَّتِهِ إِِلا رَجُلٌ وَاحِدٌ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کسی بھی نبی کی اتنی تصدیق نہیں کی گئی جتنی میری تصدیق کی گئی اور کچھ انبیاء تو ایسے تھے کہ ان کی امت میں سے صرف ایک ہی شخص نے ان کی تصدیق کی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6243]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 196، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6243، والدارمي فى (مسنده) برقم: 52، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17787، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12614» «رقم طبعة با وزير 6210»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (397): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الصحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
104. باب بدء الخلق - ذكر الموضع الذي سر فيه جملة من الأنبياء بالحجاز-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر وہ مقام جہاں حجاز میں کئی انبیاء گزرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6244
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدِّيلِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ: عَدَلَ إِِلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَأَنَا نَازِلٌ تَحْتَ سَرْحَةٍ بِطَرِيقِ مَكَّةَ، فَقَالَ: مَا أَنْزَلَكَ تَحْتَ هَذِهِ السَّرْحَةِ؟ فَقُلْتُ: أَرَدْتُ ظِلَّهَا، فَقَالَ: هَلْ غَيْرُ ذَلِكَ؟ فَقُلْتُ: لا، مَا أَنْزَلَنِي غَيْرُ ذَلِكَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِِذَا كُنْتَ بَيْنَ الأَخْشَبَيْنِ مِنْ مِنًى، وَنَفَخَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ، فَإِِنَّ هُنَاكَ وَادِيًا يُقَالُ لَهُ السُّرَرُ، بِهِ شَجَرَةٌ سُرَّ تَحْتَهَا سَبْعُونَ نَبِيًّا" .
محمد بن عمران انصاری اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مڑ کر میری طرف دیکھا، میں اس وقت مکہ کے راستے میں ایک بڑے درخت کے نیچے پڑاؤ کیے ہوئے تھا۔ انہوں نے دریافت کیا: ”تم اس بڑے کے نیچے کیوں پڑاؤ کیے ہوئے ہو؟“ میں نے کہا: میں اس کے سائے میں آنا چاہ رہا تھا۔ انہوں نے دریافت کیا: ”کیا اس کے علاوہ کوئی اور وجہ بھی ہے؟“ میں نے کہا: جی نہیں، اس کے علاوہ کسی اور چیز نے مجھے پڑاؤ پر مجبور نہیں کیا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ ”جب تم منی کے دو پہاڑوں کے درمیان ہو،“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے مشرق کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ”وہاں ایک وادی ہے جس کا نام «سَرَر» ہے۔ وہاں ایک درخت ہے جس کے نیچے ستر [70] انبیاء نے پڑاؤ کیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6244]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 1602، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6244، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2995، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3972، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9712، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6342، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 5723» «رقم طبعة با وزير 6211»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «الضعيفة» (2701). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
105. باب بدء الخلق - ذكر السبب الذي من أجله هلك من كان قبلنا من الأمم-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر وجہ جس کی بنا پر ہم سے پہلے کی امتیں ہلاک ہوئیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6245
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ، وَاخْتِلافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، لا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِِلا أُحَدِّثُكُمْ بِهِ"، فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ بْنِ قَيْسٍ السَّهْمِيُّ، فَقَالَ: مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" أَبُوكَ حُذَافَةُ" ، فَرَجَعَ إِِلَى أُمِّهِ، فَقَالَتْ لَهُ أُمُّهُ: مَا حَمَلَكَ عَلَى الَّذِي صَنَعْتَ؟ إِِنَّا كُنَّا أَهْلَ جَاهِلِيَّةٍ وَأَعْمَالٍ قَبِيحَةٍ، فَقَالَ: مَا كُنْتُ لأَدَعَ حَتَّى أَعْرِفَ مَنْ كَانَ أَبِي مِنَ النَّاسِ، قَالَ: وَكَانَ فِيهِ دُعَابَةٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم سے پہلے کے لوگ اپنے انبیاء سے بکثرت (غیر ضروری) سوالات کرنے اور اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے، تو تم مجھ سے جس بھی چیز کے بارے میں دریافت کرو گے میں تمہیں اس کے بارے میں بتا دوں گا۔“ سیدنا عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا باپ کون ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا باپ حذافہ ہے۔“ وہ اپنی والدہ کے پاس واپس گئے۔ ان کی والدہ نے ان سے کہا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ ہم لوگ زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھتے تھے اور برے کام کیا کرتے تھے (لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ تم اس طرح کے سوالات کرو) تو انہوں نے کہا: میں نے اس بارے میں ضرور معلوم کرنا تھا تاکہ مجھے پتہ چل جائے میرا باپ کون ہے۔ راوی کہتے ہیں: ان کے مزاج میں مذاق کا عنصر پایا جاتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6245]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 7288، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1337، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2508، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 18، 19، 20، 21، 2105، 2106، 3704، 3705، 6245، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2618، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3585، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2679، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1، 2، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1046، 1855، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2705، 2706، 2707، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7484، 7617، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1159» «رقم طبعة با وزير 6212»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى نحوه من حديث أنس (106). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
106. باب بدء الخلق - ذكر البيان بأن أهل الكتاب هم الذين ضلوا وغضب عليهم نعوذ بالله منهما-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر بیان کہ اہل کتاب وہ ہیں جو گمراہ ہوئے اور جن پر غضب نازل ہوا، نعوذ باللہ دونوں سے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6246
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ سِمَاكَ بْنَ حَرْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ حُبَيْشٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمَغْضُوبُ عَلَيْهِمُ: الْيَهُودُ، وَالضَّالُّونَ: النَّصَارَى" .
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” «الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ» ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ﴾ [سورة الفاتحة: 7] ”جن لوگوں پر غضب کیا گیا“ ان سے مراد یہودی ہیں اور «الضَّالِّينَ» ﴿وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] ”گمراہ لوگوں“ سے مراد عیسائی ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6246]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1413، 1417، 3595، 6023، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1016، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2428، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 473، 666، 2804، 3311، 6246، 6679، 7206، 7365، 7373، 7374، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8677، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2551، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2415 م، 2953 م 2، 2954، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 185، 1843، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 179، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2437، 2438، 2439، 2463، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18535» «رقم طبعة با وزير 6213»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «تخريج الطحاوية» (594)، «الصحيحة» (3263)، وهو الطرف الأخير من حديثه الآتي (7162). تنبيه!! رقم (7162) = (7206) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
107. باب بدء الخلق - ذكر افتراق اليهود والنصارى فرقا مختلفة-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر کہ یہود اور نصاریٰ مختلف فرقوں میں بٹ گئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6247
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُرَيْجٍ النَّقَّالُ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " افْتَرَقَتِ الْيَهُودُ عَلَى إِِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَافْتَرَقَتِ النَّصَارَى عَلَى اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہودی 71 فرقوں میں تقسیم ہوئے، عیسائی 72 فرقوں میں تقسیم ہوئے اور میری امت 73 فرقوں میں تقسیم ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6247]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6247، 6731، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 10، 440، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4596، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2640، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3991، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20962، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8512» «رقم طبعة با وزير 6214»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں