🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
135. فصل في هجرته صلى الله عليه وسلم إلى المدينة وكيفية أحواله فيها - ذكر ما خاطب الصديق المصطفى صلى الله عليه وسلم وهما في الغار-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ کی طرف ہجرت اور وہاں کے حالات کے بیان میں ایک فصل - ذکر کہ صدیق نے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے غار میں کیا کہا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6278
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُمْ، قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي الْغَارِ لَوْ أَرَادَ أَحَدُهُمْ أَنْ يَنْظُرَ إِِلَى قَدَمَيْهِ لأَبْصَرَنَا تَحْتَ قَدَمِهِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا ظَنُّكَ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا؟" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو بتایا: ہم جب غار میں موجود تھے، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: اگر ان میں سے کوئی ایک شخص اپنے پاؤں کی طرف دیکھ لے تو وہ اپنے پاؤں کے نیچے ہمیں دیکھ لے گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسے دو آدمیوں کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ تعالیٰ ہو؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6278]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3653، 3922، 4663، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2381، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6278، 6869، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3096، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12» «رقم طبعة با وزير 6245»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
136. فصل في هجرته صلى الله عليه وسلم إلى المدينة وكيفية أحواله فيها - ذكر ما كان يروح على المصطفى صلى الله عليه وسلم والصديق رضي الله عنه بالمنحة أيام مقامهما في الغار-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ کی طرف ہجرت اور وہاں کے حالات کے بیان میں ایک فصل - ذکر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور صدیق رضی اللہ عنہ پر غار میں قیام کے دنوں میں کیا گزرتی تھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6279
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتِ: اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخُرُوجِ مِنْ مَكَّةَ حِينَ اشْتَدَّ عَلَيْهِ الأَمْرُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اصْبِرْ"، فَقَالُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَطْمَعُ أَنْ يُؤْذَنَ لَكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنِّي لأَرْجُو"، فَانْتَظَرَهُ أَبُو بَكْرٍ، فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ظُهْرًا، فَنَادَاهُ، فَقَالَ لَهُ:" أَخْرِجْ مَنْ عِنْدَكَ"، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِِنَّمَا هُمَا ابْنَتَايَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ:" أَشَعَرْتَ أَنَّهُ قَدْ أُذِنَ لِي فِي الْخُرُوجِ؟"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الصُّحْبَةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الصُّحْبَةُ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عِنْدِي نَاقَتَانِ قَدْ كُنْتُ أَعْدَدْتُهُمَا لِلْخُرُوجِ، قَالَتْ: فَأَعْطَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِحْدَاهُمَا وَهِيَ الْجَدْعَاءُ، فَرَكِبَا حَتَّى أَتَيَا الْغَارَ وَهُوَ بِثَوْرٍ، فَتَوَارَيَا فِيهِ، وَكَانَ عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ غُلامًا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الطُّفَيْلِ بْنِ سَخْبَرَةَ أَخُو عَائِشَةَ لأُمِّهَا، وَكَانَ لأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْحَةٌ، فَكَانَ يَرُوحُ بِهَا وَيَغْدُو عَلَيْهِمْ، وَيُصْبِحُ، فَيَدَّلِجُ إِِلَيْهِمَا، ثُمَّ يَسْرَحُ، فَلا يَفْطِنُ بِهِ أَحَدٌ مِنَ الرِّعَاءِ، فَلَمَّا خَرَجَا، خَرَجَ مَعْهُمَا يُعْقِبَانِهِ حَتَّى قَدِمُوا الْمَدِينَةَ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مکہ سے چلے جانے کی اجازت مانگی، جب حالات خراب ہو گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم صبر سے کام لو۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ کو یہ توقع ہے کہ آپ کو بھی اجازت مل جائے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے یہ امید ہے۔“ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتے رہے، یہاں تک کہ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کے وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور ان سے فرمایا: ”اپنے پاس موجود لوگوں کو باہر نکال دو۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! صرف میری دو بیٹیاں یہاں ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں پتا چلا کہ مجھے روانگی (ہجرت) کرنے کی اجازت مل گئی ہے؟“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں آپ کے ساتھ رہوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ساتھ رہو۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس دو اونٹنیاں ہیں، میں نے انہیں روانگی کے لیے تیار کیا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں میں سے ایک اونٹنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی، وہ «الْجَدْعَاءُ» ”جدعاء“ تھی، یہ دونوں حضرات اس پر سوار ہو کر ایک غار میں آ گئے جو ثور نامی پہاڑ میں تھا، دونوں حضرات اس میں چھپ گئے۔ عبداللہ بن طفیل کا غلام عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ، جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ کی طرف سے بھائی تھا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا زیرِ احسان تھا، تو چرواہوں میں سے کسی کو اس بارے میں اندازہ نہیں ہو سکا، وہ صبح ان حضرات کے پاس جاتا، شام کو مکہ آ جاتا اور پھر رات کے آخری حصے میں ان حضرات کے پاس آ جاتا۔ جب یہ دونوں حضرات وہاں سے روانہ ہوئے تو وہ بھی ان دونوں کے ہمراہ تیزی سے چلتا ہوا آیا، یہاں تک کہ یہ لوگ مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6279]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4093، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2518، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6279، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 4548» «رقم طبعة با وزير 6246»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ - «مختصر البخاري». فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
137. فصل في هجرته صلى الله عليه وسلم إلى المدينة وكيفية أحواله فيها - ذكر ما يمنع الله جل وعلا كيد كفار قريش عن المصطفى صلى الله عليه وسلم والصديق عند خروجهما من مكة إلى المدينة-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ کی طرف ہجرت اور وہاں کے حالات کے بیان میں ایک فصل - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے کفار قریش کے مکر کو مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور صدیق سے مکہ سے مدینہ جاتے وقت روکا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6280
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَالِكٍ الْمُدْلِجِيُّ ، وَهُوَ ابْنُ أُخْتِ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ سُرَاقَةَ ، يَقُولُ:" جَاءَتْنَا رُسُلُ كُفَّارِ قُرَيْشٍ يَجْعَلُونَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ دِيَةَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا لِمَنْ قَتَلَهُمَا أَوْ أَسَرَهُمَا، قَالَ: فَبَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ فِي مَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ قَوْمِي بَنِي مُدْلِجٍ، أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْهَا حَتَّى قَامَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: يَا سُرَاقَةُ، إِِنِّي رَأَيْتُ آنِفًا أَسْوِدَةً بِالسَّاحِلِ لا أُرَاهَا إِِلا مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ، قَالَ سُرَاقَةُ: فَعَرَفْتُ أَنَّهُمْ هُمْ، فَقُلْتُ: إِِنَّهُمْ لَيْسُوا بِهِمْ، وَلَكِنَّكَ رَأَيْتَ فُلانًا وَفُلانًا، انْطَلِقُوا بِنَا، ثُمَّ لَبِثْتُ فِي الْمَجْلِسِ سَاعَةً، ثُمَّ قُمْتُ، فَدَخَلْتُ بَيْتِي، فَأَمَرْتُ جَارِيَتِي أَنْ تُخْرِجَ لِي فَرَسِي وَهِيَ مِنْ وَرَاءِ أَكَمَةٍ فَتَحْبِسَهَا عَلَيَّ، وَأَخَذْتُ رُمْحِي، فَخَرَجْتُ بِهِ مِنْ ظَهْرِ الْبَيْتِ، فَخَطَطْتُ بِهِ الأَرْضَ، فَأَخْفَضْتُ عَالِيَةَ الرُّمْحِ حَتَّى أَتَيْتُ فَرَسِي فَرَكِبْتُهَا، وَرَفَعْتُهَا تُقَرِّبُ بِي حَتَّى إِِذَا رَأَيْتُ أَسْوِدَتَهُمْ، فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنْ حَيْثُ يَسْمِعُهُمُ الصَّوْتُ، عَثَرَ بِي فَرَسِي، فَخَرَرْتُ عَنْهَا، فَأَهْوَيْتُ بِيَدِي إِِلَى كِنَانَتِي، فَاسْتَخْرَجْتُ الأَزْلامَ، فَاسْتَقْسَمْتُ بِهَا، فَخَرَجَ الَّذِي أَكْرَهُ، فَعَصَيْتُ الأَزْلامَ، وَرَكِبْتُ فَرَسِي، وَرَفَعْتُهَا تُقَرِّبُ بِي، حَتَّى إِِذَا سَمِعْتُ" قِرَاءَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ لا يَلْتَفِتُ وَأَبُو بَكْرٍ يُكْثِرُ الالْتِفَاتَ، سَاخَتْ يَدَا فَرَسِي فِي الأَرْضِ، حَتَّى بَلَغَتَا الرُّكْبَتَيْنِ، فَخَرَرْتُ عَنْهَا، فَزَجَرْتُهَا، فَنَهَضْتُ وَلَمْ تَكَدْ تُخْرِجُ يَدَيْهَا، فَلَمَّا اسْتَوَتْ قَائِمَةً، إِِذَا عُثَانٌ سَاطِعٌ فِي السَّمَاءِ، قَالَ مَعْمَرٌ: قُلْتُ لأَبِي عَمْرِو بْنِ الْعَلاءِ: مَا الْعُثَانُ؟ فَسَكَتَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: هُوَ الدُّخَانُ مِنْ غَيْرِ نَارٍ، قَالَ مَعْمَرٌ: قَالَ الزُّهْرِيُّ فِي حَدِيثِهِ: فَاسْتَقْسَمْتُ بِالأَزْلامِ، فَخَرَجَ الَّذِي أَكْرَهُ أَنْ لا أَضُرَّهُمْ، فَنَادَيْتُهُمَا بِالأَمَانِ، فَوَقَفَا، فَرَكِبْتُ فَرَسِي حَتَّى جِئْتُهُمْ، وَوَقَعَ فِي نَفْسِي، حَتَّى لَقِيتُ مِنَ الْحَبْسِ عَنْهُمْ أَنَّهُ سَيَظْهَرُ أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِِنَّ قَوْمَكَ قَدْ جَعَلُوا فِيكَ الدِّيَةَ، وَأَخْبَرْتُهُمْ مِنْ أَخْبَارِ أَسْفَارِهِمْ وَمَا يُرِيدُ النَّاسُ بِهِمْ، وَعَرَضْتُ عَلَيْهِمُ الزَّادَ وَالْمَتَاعَ، فَلَمْ يَرْزَءُونِي شيئًَا، وَلَمْ يَسْأَلُونِي، إِِلا أَنْ قَالُوا: أَخْفِ عَنَّا، فَسَأَلْتُهُ أَنْ يَكْتُبَ لِي كِتَابَ مُوَادَعَةٍ، فَأَمَرَ بِهِ عَامِرَ بْنَ فُهَيْرَةَ، فَكَتَبَ لِي فِي رُقْعَةٍ مِنْ أَدَمٍ بَيْضَاءَ" .
عبدالرحمن بن مالک، جو سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کے بھانجے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے یہ بات بتائی ہے کہ انہوں نے سیدنا سراقہ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ کفارِ قریش کے پیغام رساں ہمارے پاس آئے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ دونوں کو قتل کرنے یا قید کرنے والے شخص کے لیے انعام مقرر کیا تھا۔ سیدنا سراقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اپنی قوم بنو مدلج کی محفل میں بیٹھا ہوا تھا کہ اسی دوران ایک شخص آیا اور ہمارے پاس آ کر کھڑا ہو گیا، اس نے کہا: ”اے سراقہ! میں نے کچھ دیر پہلے ساحل کی طرف آدمیوں کا ہیولیٰ دیکھا ہے، میرا خیال ہے وہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھی ہوں گے۔“ سراقہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے بھی اندازہ ہو گیا کہ وہ وہی ہوں گے، میں نے (اسے ٹالنے کے لیے) کہا: ”وہ لوگ وہ نہیں ہوں گے، تم نے فلاں اور فلاں کو دیکھا ہو گا جو ہمارے پاس سے گئے ہیں۔“ پھر میں اس محفل میں تھوڑی دیر ٹھہرا رہا، پھر میں اٹھا اور اپنے گھر آگیا، میں نے اپنی کنیز سے کہا کہ وہ میرا گھوڑا نکالے، وہ ایک ٹیلے کے پیچھے تھا، اس نے وہ میرے لیے تیار کر کے رکھا، میں نے اپنا نیزہ پکڑا اور گھر کے پیچھے کی طرف سے نکل گیا، میں نے اس کے ذریعے زمین پر لکیریں لگائیں اور میں نے نیزے کے اوپر والے حصے کو نیچے کر دیا یہاں تک کہ میں اپنے گھوڑے کے پاس آ کر اس پر سوار ہوا، میں اپنا گھوڑا دوڑاتا رہا یہاں تک کہ مجھے ان لوگوں کا ہیولیٰ نظر آیا۔ جب میں اتنا قریب ہوا کہ میری آواز ان تک جا سکتی تھی، تو میرے گھوڑے کو ٹھوکر لگی اور میں اس پر سے نیچے گر گیا، میں نے اپنا ہاتھ اپنے ترکش کی طرف بڑھایا اور اس میں سے پانسے نکالنے والے تیر نکالے، میں نے اس میں سے پانسے کا تیر نکالا تو وہ نتیجہ سامنے آیا جسے میں پسند نہیں کرتا تھا، میں نے پانسے کے فیصلے کو نہیں مانا اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو گیا، پھر میں نے ایڑھ لگائی یہاں تک کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کی آواز سنی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ادھر ادھر نہیں دیکھ رہے تھے لیکن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بہت زیادہ ادھر ادھر دیکھ رہے تھے۔ میرے گھوڑے کے دونوں پاؤں زمین میں دھنس گئے، یہاں تک کہ وہ گھٹنوں تک زمین میں چلے گئے اور میں اس پر سے نیچے گر گیا، میں نے اسے ڈانٹا اور پھر میں اٹھ گیا لیکن اس کے دونوں پاؤں زمین سے نہیں نکل رہے تھے، پھر جب وہ سیدھا کھڑا ہوا تو اسی دوران آسمان میں ایک چمک دار دھواں نظر آیا۔ معمر نامی راوی کہتے ہیں: انہوں نے ابوعمرو نامی راوی سے دریافت کیا کہ یہاں لفظ «عُثَان» سے کیا مراد ہے؟ وہ کچھ دیر خاموش رہے پھر بولے: ”اس سے مراد وہ دھواں ہے جو آگ کی وجہ سے نہ ہو۔“ معمر بیان کرتے ہیں کہ زہری رحمہ اللہ نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں۔ میں نے پھر تیروں کے ذریعے پانسہ نکالا تو وہی نتیجہ سامنے آیا جو میں پسند نہیں کرتا تھا، وہ یہ کہ میں ان لوگوں کو نقصان نہ پہنچاؤں، میں نے امان کے ساتھ ان دونوں صاحبان کو پکارا تو وہ دونوں صاحبان ٹھہر گئے، میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر ان کے پاس آیا، جب میں ان حضرات کے پاس پہنچنے سے رک گیا تھا (یعنی میرا گھوڑا آگے بڑھنے کے قابل نہیں رہا تھا) تو میرے ذہن میں یہ خیال آ گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ عنقریب غالب آ جائے گا۔ میں نے کہا: ”آپ کی قوم کے افراد نے آپ کے بارے میں انعام مقرر کیا ہے“، میں نے ان حضرات کو ان کے معاملے کے بارے میں بتایا اور لوگوں کا ان کے بارے میں جو ارادہ ہے وہ بھی بتایا اور انہیں زاد سفر اور ساز و سامان کی پیش کش کی لیکن انہوں نے اسے قبول نہیں کیا اور مجھ سے صرف یہ کہا: ”ہمارے معاملے کو پوشیدہ رکھنا۔“ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ میرے لیے ایک امن کی تحریر لکھ دیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے سفید چمڑے کے ایک ٹکڑے پر مجھے تحریر لکھ کر دے دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6280]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3906، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6280، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4292، 4451، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17865، والطبراني فى(الكبير) برقم: 6601» «رقم طبعة با وزير 6247»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ - «مختصر البخاري»، «تخريج فقه السيرة» (ص 129). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
138. فصل في هجرته صلى الله عليه وسلم إلى المدينة وكيفية أحواله فيها - ذكر وصف قدوم المصطفى صلى الله عليه وسلم وأصحابه المدينة عند هجرتهم إلى يثرب-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ کی طرف ہجرت اور وہاں کے حالات کے بیان میں ایک فصل - ذکر وصف کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب یثرب ہجرت کرتے وقت مدینہ پہنچے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6281
أَخْبَرَنِي الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْغُدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولُ: اشْتَرَى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ عَازِبٍ رَحْلا بِثَلاثَةَ عَشَرَ دِرْهَمًا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعَازِبٍ: مُرِ الْبَرَاءَ فَلْيَحْمِلْهُ إِِلَى أَهْلِي، فَقَالَ لَهُ عَازِبٌ: لا، حَتَّى تُحَدِّثُنِي كَيْفَ صَنَعْتَ أَنْتَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ خَرَجْتُمَا مِنْ مَكَّةَ، وَالْمُشْرِكُونَ يَطْلُبُونَكُمْ؟، فَقَالَ: " ارْتَحَلْنَا مِنْ مَكَّةَ فَأَحْيَيْنَا لَيْلَتَنَا حَتَّى أَظْهَرْنَا، وَقَامَ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ، فَرَمَيْتُ بِبَصَرِي: هَلْ نَرَى ظِلا نَأْوِي إِِلَيْهِ؟ فَإِِذَا أَنَا بِصَخْرَةٍ، فَانْتَهَيْتُ إِِلَيْهَا، فَإِِذَا بَقِيَّةُ ظِلِّهَا، فَسَوَّيْتُهُ، ثُمَّ فَرَشْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قُلْتُ: اضْطَجِعْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَاضْطَجَعَ، ثُمَّ ذَهَبْتُ أَنْظُرُ، هَلْ أَرَى مِنَ الطَّلَبِ أَحَدًا؟ فَإِِذَا أَنَا بِرَاعِي غَنَمٍ يَسُوقُ غَنَمَهُ إِِلَى الصَّخْرَةِ، يُرِيدُ مِنْهَا مِثْلَ الَّذِي أُرِيدُ، يَعْنِي: الظِّلَّ، فَسَأَلْتُهُ، فَقُلْتُ: لِمَنْ أَنْتَ يَا غُلامُ؟، قَالَ الْغُلامُ: لِفُلانِ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فَعَرَفْتُهُ، فَقُلْتُ: هَلْ فِي غَنَمِكَ مِنْ لَبَنٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: هَلْ أَنْتَ حَالِبٌ لِي؟، قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرْتُهُ، فَاعْتَقَلَ شَاةً مِنْ غَنَمِهِ، وَأَمَرْتُهُ أَنْ يَنْفُضَ ضَرْعَهَا مِنَ الْغُبَارِ، ثُمَّ أَمَرْتُهُ أَنْ يَنْفُضَ كَفَّيْهِ، فَقَالَ هَكَذَا، وَضَرَبَ إِِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الأُخْرَى، فَحَلَبَ لِي كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ، وَقَدْ رَوَيْتُ مَعِي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِدَاوَةً عَلَى فَمِهَا خِرْقَةٌ، فَصَبَبْتُ عَلَى اللَّبَنِ حَتَّى بَرُدَ أَسْفَلُهُ، فَانْتَهَيْتُ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَافَقْتُهُ قَدِ اسْتَيْقَظَ، فَقُلْتُ: اشْرَبْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَشَرِبَ، فَقُلْتُ: قَدْ آنَ الرَّحِيلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَارْتَحَلْنَا وَالْقَوْمُ يَطْلُبُونَنَا، فَلَمْ يُدْرِكْنَا أَحَدٌ مِنْهُمْ غَيْرُ سُرَاقَةِ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ عَلَى فَرَسٍ لَهُ، فَقُلْتُ: هَذَا الطَّلَبُ قَدْ لَحِقَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَبَكَيْتُ، فَقَالَ: لا تَحْزَنْ إِِنَّ اللَّهَ مَعَنَا، فَلَمَّا دَنَا مِنَّا، وَكَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ قِيدُ رُمْحَيْنِ أَوْ ثَلاثٍ، قُلْتُ: هَذَا الطَّلَبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ لَحِقَنَا، فَبَكَيْتُ، قَالَ: مَا يُبْكِيكَ؟، قُلْتُ: أَمَا وَاللَّهِ مَا عَلَى نَفْسِي أَبْكِي، وَلَكِنْ أَبْكِي عَلَيْكَ، فَدَعَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ اكْفِنَاهُ بِمَا شِئْتَ، قَالَ: فَسَاخَتْ بِهِ فَرَسُهُ فِي الأَرْضِ إِِلَى بَطْنِهَا، فَوَثَبَ عَنْهَا، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ هَذَا عَمَلُكَ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يُنَجِّينِي مِمَّا أَنَا فِيهِ، فَوَاللَّهِ لأُعَمِّيَنَّ عَلَى مَنْ وَرَائِي مِنَ الطَّلَبِ، وَهَذِهِ كِنَانَتِي، فَخُذْ مِنْهَا سَهْمًا، فَإِِنَّكَ سَتَمُرُّ عَلَى إِِبِلِي وَغَنَمِي فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا، فَخُذْ مِنْهَا حَاجَتَكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لا حَاجَةَ لَنَا فِي إِِبِلِكَ، وَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقَ رَاجِعًا إِِلَى أَصْحَابِهِ، وَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَيْنَا الْمَدِينَةَ لَيْلا، فَتَنَازَعَهُ الْقَوْمُ أَيُّهُمْ يَنْزِلُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِِنِّي أَنْزِلُ اللَّيْلَةَ عَلَى بَنِي النَّجَّارِ أَخْوَالِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أُكْرِمُهُمْ بِذَلِكَ، فَخَرَجَ النَّاسُ حِينَ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فِي الطُّرُقِ، وَعَلَى الْبُيُوتِ مِنَ الْغِلْمَانِ وَالْخَدَمِ يَقُولُونَ: جَاءَ مُحَمَّدٌ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ، انْطَلَقَ، فَنَزَلَ حَيْثُ أُمِرَ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَلَّى نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ أَنْ يُوَجَّهَ نَحْوَ الْكَعْبَةِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا: قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ سورة البقرة آية 144، قَالَ: وَقَالَ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ وَهُمُ الْيَهُودُ: مَا وَلاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا سورة البقرة آية 142، فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا: قُلْ لِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ سورة البقرة آية 142، قَالَ: وَصَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَخَرَجَ بَعْدَمَا صَلَّى، فَمَرَّ عَلَى قَوْمٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَهُمْ رُكُوعٌ فِي صَلاةِ الْعَصْرِ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَقَالَ: هُوَ يَشْهَدُ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَّهُ قَدْ وُجِّهَ نَحْوَ الْكَعْبَةِ، فَانْحَرَفَ الْقَوْمُ حَتَّى تَوَجَّهُوا إِِلَى الْكَعْبَةِ، قَالَ الْبَرَاءُ: وَكَانَ أَوَّلُ مَنْ قَدِمَ عَلَيْنَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ أَخُو بَنِي عَبْدِ الدَّارِ بْنِ قُصَيٍّ، فَقُلْنَا لَهُ: مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: هُوَ مَكَانَهُ وَأَصْحَابُهُ عَلَى أَثَرِي، ثُمَّ أَتَى بَعْدَهُ عَمْرُو بْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ الأَعْمَى أَخُو بَنِي فِهْرٍ، فَقُلْنَا: مَا فَعَلَ مَنْ وَرَاءَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ؟ قَالَ: هُمُ الآنَ عَلَى أَثَرِي، ثُمَّ أَتَانَا بَعْدَهُ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، وَبِلالٌ، ثُمَّ أَتَانَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي عِشْرِينَ مِنْ أَصْحَابِهِ رَاكِبًا، ثُمَّ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَهُمْ، وَأَبُو بَكْرٍ مَعَهُ، قَالَ الْبَرَاءُ: فَلَمْ يَقْدَمْ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَرَأْتُ سُوَرًا مِنَ الْمُفَصَّلِ، ثُمَّ خَرَجْنَا نَلْقَى الْعِيرَ، فَوَجَدْنَاهُمْ قَدْ حَذِرُوا" .
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے (میرے والد سے) تیرہ درہم کے عوض میں ایک پالان خریدا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عازب رضی اللہ عنہ سے کہا: ”آپ براء کو ہدایت کریں کہ وہ اسے اٹھا کر میرے گھر پہنچا دے“، تو سیدنا عازب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”ایسا اس وقت تک نہیں ہو گا، جب تک آپ ہمیں یہ نہیں بتاتے کہ جب آپ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے نکلے اور مشرکین آپ کی تلاش میں تھے تو آپ کے ساتھ کیا صورت حال پیش آئی۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بتایا: ”ہم لوگ مکہ سے روانہ ہوئے۔ ہم رات بھر سفر کرتے رہے، یہاں تک کہ جب دن چڑھ گیا تو میں نے اس بات کا جائزہ لیا کہ کیا ہمیں کوئی سایہ دار جگہ نظر آ رہی ہے، جس کی پناہ میں ہم چلے جائیں۔ وہاں ایک چٹان موجود تھی۔ میں اس کے پاس آیا جس کا تھوڑا سا سایہ تھا۔ میں نے وہاں زمین کو درست کیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بچھونا بچھا دیا، پھر میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ لیٹ جائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے، پھر میں نے اس بات کا جائزہ لیا کہ کیا مجھے کوئی ایسا شخص نظر آ رہا ہے جو ہماری تلاش میں ہو، وہاں مجھے بکریوں کا ایک چرواہا نظر آیا جو اپنی بکریاں لے کر چٹان کی طرف آ رہا تھا۔ وہ بھی چٹان سے وہی فائدہ حاصل کرنا چاہتا تھا جو میں چاہتا تھا یعنی سائے میں آنا چاہتا تھا۔ میں نے اس سے دریافت کیا۔ میں نے کہا: تم کس کے (ملازم یا غلام) ہو؟ نوجوان نے کہا: میں فلاں شخص کا (غلام ہوں)۔ اس نے قریش کے ایک شخص کا نام لیا جس سے میں واقف تھا۔ میں نے دریافت کیا: کیا تمہاری بکریوں میں دودھ ہے؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں! میں نے کہا: کیا تم میرے لیے اسے دوہ دو گے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ میں نے اسے ہدایت کی تو اس نے اپنی بکریوں میں سے ایک بکری لے لی۔ میں نے اسے ہدایت کی کہ وہ اس کے تھنوں سے غبار کو صاف کر دے، پھر میں نے اسے ہدایت کی کہ وہ اپنے دونوں ہاتھ جھاڑ لے، پھر راوی نے اس طرح کر کے دکھایا یعنی ایک ہاتھ دوسرے پر مار کر دکھایا، پھر اس نے دودھ کا ایک پیالہ مجھے دوہ کر دیا۔ میں اپنے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک برتن لے کر آیا تھا جس کے منہ پر کپڑا بندھا ہوا تھا۔ میں نے وہ (پانی) دودھ پر انڈیلا، یہاں تک کہ اس کے نیچے کا حصہ ٹھنڈا ہو گیا۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے آپ کو پایا کہ آپ بیدار ہو چکے تھے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اسے پی لیجیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! روانگی کا وقت ہو گیا، پھر ہم لوگ روانہ ہوئے۔ لوگ ہماری تلاش میں تھے، ان میں سے کوئی ہم تک نہیں پہنچ سکا۔ صرف سراقہ بن مالک اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر ہم تک آ گیا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایک تلاش کرنے والا شخص ہم تک پہنچ چکا ہے، تو میں رو پڑا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا﴾ [سورة التوبة: 40] ”تم غمگین نہ ہو، بے شک اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔“ جب وہ ہمارے قریب ہوا اور ہمارے اور اس کے درمیان دو یا تین نیزوں جتنا فاصلہ رہ گیا تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ تلاش میں آنے والا شخص ہمارے قریب پہنچ چکا ہے۔ میں پھر رو پڑا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم کیوں رو رہے ہو؟ میں نے عرض کی: اللہ کی قسم! میں اپنی ذات کے حوالے سے نہیں رو رہا بلکہ میں آپ کی وجہ سے رو رہا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دعائے ضرر کی، آپ نے فرمایا: «اللَّهُمَّ اكْفِنَاهُ بِمَا شِئْتَ» ”اے اللہ! تو اس کے حوالے سے ہمارے لیے جیسے تو چاہے کافی ہو جا۔“ راوی کہتے ہیں: تو اس شخص کا گھوڑا پیٹ تک زمین میں دھنس گیا۔ وہ شخص اس سے اترا اور بولا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں یہ بات جانتا ہوں کہ یہ آپ کا کام ہے، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ میں جس مصیبت کا شکار ہوا ہوں وہ مجھے اس سے نجات عطا کر دے۔ اللہ کی قسم! میں اپنے پیچھے موجود آپ کی تلاش میں آنے والے لوگوں کو بھٹکا دوں گا، یہ میرا ترکش ہے آپ اس میں سے ایک تیر لے لیجیے؛ آپ کا گزر فلاں مقام پر میرے اونٹوں اور بکریوں کے پاس سے ہو گا، وہاں آپ اپنی ضرورت کے مطابق چیزیں حاصل کر لیجیے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہمیں تمہارے اونٹوں کی ضرورت نہیں ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے حق میں دعا کی تو وہ اپنے ساتھیوں کے پاس واپس چلا گیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے روانہ ہو گئے، یہاں تک کہ ہم رات کے وقت مدینہ منورہ پہنچے، لوگوں کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہو گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کس کے ہاں پڑاؤ کریں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آج رات میں بنو نجار کے ہاں پڑاؤ کروں گا، وہ جناب عبدالمطلب کے ننھیال ہیں، میں اس حوالے سے ان کی عزت افزائی کروں گا۔“ (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) جب ہم لوگ مدینہ منورہ پہنچے تو لوگ راستوں میں نکل آئے۔ گھروں کے اوپر بچے اور خادم موجود تھے، وہ یہ کہہ رہے تھے: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے یہاں تک کہ آپ نے اس جگہ پڑاؤ کیا جہاں آپ کو حکم دیا گیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سولہ یا شاید سترہ ماہ تک بیت مقدس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے رہے۔ آپ کی یہ خواہش تھی کہ آپ کا رخ خانہ کعبہ کی طرف کر دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ﴾ [سورة البقرة: 144] ”ہم آسمان کی طرف تمہارے چہرے کا اٹھنا دیکھ رہے ہیں، ہم عنقریب تمہیں اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے، جس سے تم راضی ہو، تو تم اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر لو۔“ راوی کہتے ہیں: کچھ بے وقوف لوگوں نے (راوی کہتے ہیں: اس سے مراد یہودی ہیں) یہ کہا: ﴿مَا وَلَّاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا﴾ [سورة البقرة: 142] ”ان لوگوں کو اس قبلہ سے کس نے پھیر دیا جس پر یہ پہلے تھے۔“ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿قُلْ لِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ﴾ [سورة البقرة: 142] ”تم یہ فرما دو مشرق اور مغرب اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، وہ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت نصیب کرتا ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک شخص نے نماز ادا کی۔ وہ نماز ادا کرنے کے بعد وہاں سے نکلا، اس کا گزر کچھ انصاریوں کے پاس سے ہوا جو عصر کی نماز میں رکوع کی حالت میں بیت مقدس کی طرف رخ کیے ہوئے تھے۔ اس نے گواہی دیتے ہوئے یہ بات کہی کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز ادا کی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ خانہ کعبہ کی طرف کر دیا گیا ہے تو وہ لوگ اسی وقت پلٹ پڑے۔ انہوں نے اپنا رخ خانہ کعبہ کی طرف کر لیا۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مہاجرین میں سے سب سے پہلے سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے جن کا تعلق بنو عبددار سے تھا۔ ہم نے ان سے دریافت کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنی جگہ پر ہیں، البتہ آپ کے ساتھی میرے پیچھے پیچھے آ رہے ہیں۔ ان کے بعد سیدنا عمرو بن ام مکتوم نابینا رضی اللہ عنہ آئے جن کا تعلق بنو فہر سے تھا۔ ہم نے ان سے دریافت کیا: آپ کے پیچھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کا کیا حال ہے؟ تو انہوں نے بتایا: وہ میرے پیچھے آ رہے ہیں۔ اس کے بعد سیدنا عمار اور سعد رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ اور بلال رضی اللہ عنہما ہمارے پاس آئے، پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے بیس ساتھیوں کے ہمراہ سوار ہو کر ہمارے پاس آئے، پھر ان کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے۔ آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ کی تشریف آوری سے پہلے میں مفصل سورتوں کا علم حاصل کر چکا تھا، پھر ہم (دشمن کے) قافلے کا مقابلہ کرنے کے لیے نکلے تو ہم نے انہیں ایسی حالت میں پایا کہ وہ اپنا بچاؤ کر چکے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6281]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2439، 3615، 3652، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2009، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6281، 6870، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4277، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11602، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17811، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3، 18763» «رقم طبعة با وزير 6248»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (3615). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
139. فصل في هجرته صلى الله عليه وسلم إلى المدينة وكيفية أحواله فيها - ذكر مواساة الأنصار بالمهاجرين مما ملكوا من هذه الفانية الزائلة رضي الله عنهم-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ کی طرف ہجرت اور وہاں کے حالات کے بیان میں ایک فصل - ذکر کہ انصار نے مہاجرین کی اس فانی دنیا کی چیزوں سے مدد کی، رضی اللہ عنہم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6282
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ مِنْ مَكَّةَ إِِلَى الْمَدِينَةِ، قَدِمُوا وَلَيْسَ بِأَيْدِيهِمْ شَيْءٌ، وَكَانَ الأَنْصَارُ أَهْلَ الأَرْضِ وَالْعَقَارِ، قَالَ: فَقَاسَمَهُمُ الأَنْصَارِ عَلَى أَنْ يُعْطُوهُمْ أَنْصَافَ ثِمَارِ أَمْوَالِهِمْ كُلَّ عَامٍ، فَيَكْفُوهُمُ الْعَمَلَ، قَالَ: وَكَانَتْ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَعْطَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْذَاقًا لَهَا،" فَأَعْطَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ أَيْمَنَ مَوْلاتَهُ أُمَّ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قِبَلِ أَهْلِ خَيْبَرَ، وَانْصَرَفَ إِِلَى الْمَدِينَةِ، رَدَّ الْمُهَاجِرُونَ إِِلَى الأَنْصَارِ مَنَائِحَهُمُ الَّتِي كَانُوا مَنَحُوهُمْ مِنْ ثِمَارِهِمْ، قَالَ: فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلَى أُمِّي أَعْذَاقَهَا، وَأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ أَيْمَنَ مَكَانَهَا مِنْ حَائِطِهِ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب مہاجرین مکہ سے مدینہ منورہ آئے وہ ایسی حالت میں آئے کہ ان کے پاس کوئی بھی چیز نہیں تھی، جب کہ انصار کے پاس زمینیں بھی تھیں اور جائیدادیں بھی تھیں۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصار نے ان کے ساتھ یہ طے کیا کہ وہ ہر سال اپنی زمینوں کی پیداوار کا نصف پھل مہاجرین کو دیں گے اور مہاجرین ان کی جگہ کام کاج کر لیا کریں گے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ نے اپنی کھجوروں کے کچھ خوشے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اپنی کنیز سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کو عطا کر دیے جو سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی والدہ تھیں، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اہل خیبر کی طرف سے فارغ ہوئے اور واپس مدینہ منورہ تشریف لائے تو مہاجرین نے انصار کے عطیات انہیں واپس کر دیے جو انہوں نے اپنے پھل وغیرہ انہیں عطیے کے طور پر دیے تھے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری والدہ کو ان کے کھجوروں کے خوشے بھی واپس کر دیے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کو اس کی جگہ اپنا باغ عطا کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6282]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2630، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1771، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6282، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8262، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11747، 11748» «رقم طبعة با وزير 6249»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (2630)، م (5/ 162). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
140. فصل في هجرته صلى الله عليه وسلم إلى المدينة وكيفية أحواله فيها - ذكر عدد غزوات المصطفى صلى الله عليه وسلم-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ کی طرف ہجرت اور وہاں کے حالات کے بیان میں ایک فصل - ذکر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی غزوات کی تعداد
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6283
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، وَابْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِِسْحَاقَ ، قَالَ: خَرَجَ النَّاسُ يَسْتَسْقُونَ وَفِيهِمْ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، مَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ إِِلا رَجُلٌ، قَالَ: قُلْتُ: كَمْ غَزَا؟ وَقَالَ ابْنُ كَثِيرٍ: يَا أَبَا عَمْرٍو ، " كَمْ غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: تِسْعَ عَشْرَةَ"، قُلْتُ: كَمْ غَزَوْتَ مَعَهُ؟ قَالَ: سَبْعَ عَشْرَةَ. قُلْتُ:" مَا أَوَّلُ مَا غَزَا؟ قَالَ: ذُو الْعُشَيْرَةِ أَوِ الْعُسَيْرَةِ"، فَصَلَّى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ .
ابواسحاق بیان کرتے ہیں کہ لوگ نمازِ استسقاء ادا کرنے کے لیے نکلے، ان میں سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ میرے اور ان کے درمیان صرف ایک شخص تھا، میں نے دریافت کیا: آپ نے کتنے غزوات میں شرکت کی ہے؟ یہاں ابن کثیر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: اے ابوعمرو! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے غزوات میں شرکت کی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: 19 غزوات میں۔ میں نے دریافت کیا: آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کتنے غزوات میں شرکت کی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: سترہ (17) میں۔ میں نے دریافت کیا: سب سے پہلا غزوہ کون سا تھا؟ انہوں نے بتایا: «ذُو الْعُشَيْرَةِ» ”ذوعشیرہ“ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) یا «عُسَيْرَةُ» ”عسیرہ“۔ پھر سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو دو رکعات نماز پڑھائی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6283]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3949، 4404، 4471، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1254، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6283، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6327، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1676، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1827، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 2868، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6499، 8800، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19590» «رقم طبعة با وزير 6250»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (4404)، م (4/ 60). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
141. باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب -
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6284
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَوْضِيُّ ، وَابْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلا " مَرْبُوعًا، بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ، لَهُ شَعَرٌ يَبْلُغُ شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ، رَأَيْتُهُ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ، لَمْ أَرَ قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم درمیانے قد کے مالک تھے، آپ کا سینہ چوڑا تھا، آپ کے بال کانوں کی لو تک آتے تھے، میں نے آپ کو سرخ حلے میں دیکھا ہے، میں نے آپ سے زیادہ خوبصورت کوئی نہیں دیکھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6284]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3549، 3551، 5848، 5901، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2337، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6284، 6285، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5075، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4072، 4183، 4184، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1724، 2811 م، 3635، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3599، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18765» «رقم طبعة با وزير 6251»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «مختصر الشمائل» (14/ 3): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
142. باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر وصف قامة المصطفى صلى الله عليه وسلم-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر وصف کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی قامت کیسی تھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6285
أَخْبَرَنَا السِّخْتِيَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ أَبِي إِِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَحْسَنَ النَّاسِ وَجْهًا، وَأَحْسَنَهُمْ خَلْقًا وَخُلُقًا، لَيْسَ بِالطَّوِيلِ الذَّاهِبِ وَلا بِالْقَصِيرِ" .
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ خوبصورت تھے، آپ اپنی شکل و صورت اور اخلاق کے اعتبار سے سب سے اچھے تھے، آپ نہ بہت زیادہ لمبے تھے اور نہ ہی چھوٹے قد کے مالک تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6285]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3549، 3551، 5848، 5901، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2337، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6284، 6285، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5075، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4072، 4183، 4184، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1724، 2811 م، 3635، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3599، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18765» «رقم طبعة با وزير 6252»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «مختصر الشمائل» -أيضاً- (13/ 1 و 2 و 296): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
143. باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر لون المصطفى صلى الله عليه وسلم-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ کیسا تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6286
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ " لَوْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَرَ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ گندمی تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6286]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6286، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1754، وأحمد فى (مسنده) برقم: 13923» «رقم طبعة با وزير 6253»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «المختصر» (14/ 2). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
144. باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر ما كان يشبه به وجه المصطفى صلى الله عليه وسلم-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کی تشبیہ کس سے دی جاتی تھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6287
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِِسْحَاقَ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلْبَرَاءِ : كَانَ " وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ السَّيْفِ؟، قَالَ: لا، وَلَكِنْ مِثْلَ الْقَمَرِ" .
ابواسحاق بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک تلوار کی مانند (چمکدار تھا؟) انہوں نے جواب دیا: جی نہیں! بلکہ چاند کی مانند (چمکدار تھا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6287]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3552، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6287، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3636، والدارمي فى (مسنده) برقم: 65، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18770، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 762، والترمذي فى "الشمائل"، 11» «رقم طبعة با وزير 6254»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «المختصر» (27/ 9): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں