🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
89. باب بدء الخلق - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن بين إسماعيل وداود ألف سنة-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ اسماعیل اور داود کے درمیان ایک ہزار سال تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6228
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الأَرْضِ أَوَّلُ؟، فَقَالَ:" الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ثُمَّ أَيُّ؟، قَالَ:" الْمَسْجِدُ الأَقْصَى"، قُلْتُ: فَكَمْ بَيْنَهُمَا؟، قَالَ:" أَرْبَعُونَ سَنَةً، ثُمَّ حَيْثُ مَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلاةُ، فَصَلِّ، فَهُوَ لَكَ مَسْجِدٌ" .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! زمین پر سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد حرام۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر کون سی بنائی گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد اقصیٰ۔“ میں نے دریافت کیا: ان کے درمیان کتنی مدت ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چالیس سال (پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) تمہیں جہاں بھی نماز کا وقت ہو جائے تم وہاں نماز ادا کر لو وہ تمہارے لئے مسجد ہی ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6228]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3366، 3425، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 520، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 787، 1290، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1598، 6228، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 689،، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 753، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4331، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21728» «رقم طبعة با وزير 6195»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (1596). تنبيه!! رقم (1596) = (1598) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
90. باب بدء الخلق - ذكر البيان بأن أيوب عند اغتساله أمطر عليه جراد من ذهب-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر بیان کہ ایوب جب غسل کر رہے تھے تو ان پر سونے کی ٹڈی برسائی گئی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6229
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْنَمَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا، أُمْطِرَ عَلَيْهِ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ أَيُّوبُ يَحْثِي فِي ثَوْبِهِ، فَنَادَاهُ رَبُّهُ: يَا أَيُّوبُ، أَلَمْ أُغْنِكَ عَمَّا تَرَى؟ قَالَ: بَلَى، وَلَكِنْ لا غِنَى لِي عَنْ رَحْمَتِكَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک مرتبہ سیدنا ایوب علیہ السلام برہنہ ہو کر غسل کر رہے تھے، اسی دوران ان پر سونے کی بنی ہوئی ٹڈیوں کی بارش ہوئی، سیدنا ایوب علیہ السلام نے انہیں اپنے کپڑے میں اکٹھا کرنا شروع کر دیا، ان کے پروردگار نے انہیں پکارا: اے ایوب! کیا میں نے تمہیں اس چیز سے بے نیاز نہیں کیا جو تم دیکھ رہے ہو؟ انہوں نے عرض کی: جی ہاں، لیکن میں تیری رحمت سے بے نیاز نہیں ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6229]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 279، 3391، 7493، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6229، 6230، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4138، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 407، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 975، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7429، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1091» «رقم طبعة با وزير 6196»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
91. باب بدء الخلق - ذكر خبر قد يوهم من لم يحكم صناعة العلم أنه مضاد لخبر همام بن منبه الذي ذكرناه-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر جو علم کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ ہمام بن منبہ کی ہمارے ذکر کردہ خبر کے خلاف ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6230
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أُمْطِرَ عَلَى أَيُّوبَ فَرَاشٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ يَأْخُذُهُ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِِلَيْهِ: أَلَمْ أُوَسِّعْ عَلَيْكَ؟، فَقَالَ: بَلَى يَا رَبِّ، وَلَكِنْ لا غِنَى لِي عَنْ فَضْلِكَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سیدنا ایوب علیہ السلام پر سونے کے بنے ہوئے پتنگوں کی بارش ہوئی، انہوں نے انہیں پکڑنا شروع کر دیا، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی: کیا میں نے تمہیں وسعت عطا نہیں کی؟ انہوں نے عرض کی: جی ہاں اے میرے پروردگار! لیکن میں تیرے فضل سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6230]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 279، 3391، 7493، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6229، 6230، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4138، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 407، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 975، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7429، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1091» «رقم طبعة با وزير 6197»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
92. باب بدء الخلق - ذكر وصف عيسى ابن مريم حيث أري صلى الله عليه وسلم إياه-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر وصف کہ عیسیٰ ابن مریم کی حالت جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6231
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " رَأَيْتُنِي اللَّيْلَةَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ، فَرَأَيْتُ رَجُلا آدَمَ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ، لَهُ لِمَّةٌ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنَ اللِّمَمِ، قَدْ رَجَّلَهَا، فَهِيَ تَقْطُرُ مَاءً، مُتَّكِئًا عَلَى رَجُلَيْنِ أَوْ عَلَى عَوَاتِقِ رَجُلَيْنِ، يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، فَسَأَلْتُ: مَنْ هَذَا؟، فَقَالُوا: عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، ثُمَّ إِِذَا أَنَا بِرَجُلٍ جَعْدٍ، قَطَطٍ، أَعْوَرَ الْعَيْنِ الْيَمِينِ، كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ، فَسَأَلْتُ: مَنْ هَذَا؟، فَقَالُوا: الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”گزشتہ رات میں نے خود کو خانہ کعبہ کے پاس دیکھا، میں نے گندمی رنگ کے ایک شخص کو دیکھا جو اتنے خوبصورت تھے جتنا تم نے گندمی رنگ کے سب سے زیادہ خوبصورت آدمی کو دیکھا ہو، ان کے لمبے بال تھے، تم نے سب سے خوبصورت بال جو بھی دیکھے ہوں (وہ ویسے ہی تھے)، انہوں نے ان بالوں میں کنگھی کی ہوئی تھی اور ان میں سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، وہ دو آدمیوں کے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: دو آدمیوں کے) کندھوں پر ٹیک لگا کر بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے۔ میں نے دریافت کیا: یہ کون صاحب ہیں؟ تو لوگوں نے بتایا: یہ سیدنا عیسیٰ بن مریم ہیں، پھر میں نے گھنگھریالے بالوں والے ایک شخص کو دیکھا جس کی دائیں آنکھ کانی تھی، اس کی آنکھ پھولے ہوئے انگور کی طرح تھی، میں نے دریافت کیا: یہ کون شخص ہے؟ تو لوگوں نے بتایا: یہ دجال ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6231]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3438، 3439، 3441، 7128، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 169، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3405، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6231، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4834» «رقم طبعة با وزير 6198»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (5902)، م (1/ 107). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
93. باب بدء الخلق - ذكر تشبيه المصطفى صلى الله عليه وسلم عيسى ابن مريم بعروة بن مسعود-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسیٰ ابن مریم کی تشبیہ عروة بن مسعود سے دی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6232
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " عُرِضَ عَلَيَّ الأَنْبِيَاءُ، فَإِِذَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ، وَرَأَيْتُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلامُ، فَإِِذَا أَقْرَبُ النَّاسِ وَأَشَدُّهُ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ، وَرَأَيْتُ إِِبْرَاهِيمَ، فَرَأَيْتُ أَقْرَبَ النَّاسِ شَبَهًا صَاحِبَكُمْ، يَعْنِي نَفْسَهُ، وَرَأَيْتُ جِبْرِيلَ، فَإِِذَا أَقْرَبُ النَّاسِ وَأَشْبَهُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا دِحْيَةُ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میرے سامنے انبیاء کو پیش کیا گیا، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام ایسے شخص تھے جیسے ان کا تعلق شنوءہ قبیلے سے ہو، پھر میں نے سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو دیکھا، تو وہ عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی شکل سے مشابہت رکھتے تھے، پھر میں نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، تو وہ تمہارے آقا کے ساتھ مشابہت رکھتے تھے۔“ (راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد آپ کی اپنی ذات تھی) ”میں نے جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا، تو ان کی شکل صورت دحیہ رضی اللہ عنہ جیسی تھی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6232]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 167، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6232، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3649، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14813» «رقم طبعة با وزير 6199»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «مختصر الشمائل» (11): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6233
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ زَيْدًا حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا سَلامٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ الْحَارِثَ الأَشْعَرِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا أَمَرَ يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ يَعْمَلُ بِهِنَّ، وَيَأْمُرُ بَنِي إِِسْرَائِيلِ أَنْ يَعْمَلُوا بِهِنَّ، وَإِِنَّ عِيسَى قَالَ لَهُ: إِِنَّ اللَّهَ قَدْ أَمَرَكَ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ تَعْمَلُ بِهِنَّ وَتَأْمُرُ بَنِي إِِسْرَائِيلَ أَنْ يَعْمَلُوا بِهِنَّ، فَإِِمَّا أَنْ تَأْمُرَهُمْ، وَإِِمَّا أَنْ آمُرَهُمْ، قَالَ: فَجَمَعَ النَّاسَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ حَتَّى امْتَلأَتْ، وَجَلَسُوا عَلَى الشَّرُفَاتِ، فَوَعَظَهُمْ، وَقَالَ: إِِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا أَمَرَنِي بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ أَعْمَلُ بِهِنَّ، وَآمُرُكُمْ أَنْ تَعْمَلُوا بِهِنَّ: أَوَّلُهُنَّ: أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَمَثَلُ ذَلِكَ، مَثَلُ رَجُلٍ اشْتَرَى عَبْدًا بِخَالِصِ مَالِهِ بِذَهَبٍ أَوْ وَرَقٍ، وَقَالَ لَهُ: هَذِهِ دَارِي، وَهَذَا عَمَلِي، فَجَعَلَ الْعَبْدُ يَعْمَلُ وَيُؤَدِّي إِِلَى غَيْرِ سَيِّدِهِ، فَأَيُّكُمْ يَسُرُّهُ أَنْ يَكُونَ عَبْدُهُ هَكَذَا، وَإِِنَّ اللَّهَ خَلَقَكُمْ وَرَزَقَكُمْ، فَاعْبُدُوهُ وَلا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَآمُرُكُمْ بِالصَّلاةِ، فَإِِذَا صَلَّيْتُمْ، فَلا تَلْتَفِتُوا، فَإِِنَّ الْعَبْدَ إِِذَا لَمْ يَلْتَفِتِ، اسْتَقْبَلَهُ جَلَّ وَعَلا بِوَجْهِهِ، وَآمُرُكُمْ بِالصِّيَامِ، وَإِِنَّمَا مَثَلُ ذَلِكَ، كَمَثَلِ رَجُلٍ مَعَهُ صُرَّةٌ فِيهَا مِسْكٌ، وَعِنْدَهُ عِصَابَةٌ يَسُرُّهُ أَنْ يَجِدُوا رِيحَهَا، فَإِِنَّ الصِّيَامَ عِنْدَ اللَّهِ أَطْيَبُ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، وَآمُرُكُمْ بِالصَّدَقَةِ، وَإِِنَّ مَثَلَ ذَلِكَ، كَمَثَلِ رَجُلٍ أَسَرَهُ الْعَدُو، فَأَوْثَقُوا يَدَهُ إِِلَى عُنُقِهِ، وَأَرَادُوا أَنْ يَضْرِبُوا عُنُقَهُ، فَقَالَ: هَلْ لَكُمْ أَنْ أَفْدِيَ نَفْسِي، فَجَعَلَ يُعْطِيهِمُ الْقَلِيلَ وَالْكَثِيرَ لِيَفُكَّ نَفْسَهُ مِنْهُمْ، وَآمُرُكُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ، فَإِِنَّ مَثَلَ ذَلِكَ، كَمَثَلِ رَجُلٍ طَلَبَهُ الْعَدُوُّ سِرَاعًا فِي أَثَرِهِ، فَأَتَى عَلَى حِصْنُ حُصَيْنٍ، فَأَحْرَزَ نَفْسَهُ فِيهِ، فَكَذَلِكَ الْعَبْدُ لا يُحْرِزُ نَفْسَهُ مِنَ الشَّيْطَانِ إِِلا بِذِكْرِ اللَّهِ"، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَأَنَا آمُرُكُمْ بِخَمْسٍ أَمَرَنِي اللَّهُ بِهَا: بِالْجَمَاعَةِ، وَالسَّمْعِ، وَالطَّاعَةِ، وَالْهِجْرَةِ، وَالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَمَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ قِيدَ شِبْرٍ، فَقَدْ خَلَعَ رِبَقَ الإِِسْلامِ مِنْ عُنُقِهِ إِِلا أَنْ يُرَاجِعَ، وَمَنْ دَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ فَهُوَ مِنْ جُثَا جَهَنَّمَ"، قَالَ رَجُلٌ: وَإِِنْ صَامَ وَصَلَّى؟، قَالَ:" وَإِِنْ صَامَ وَصَلَّى، فَادْعُوا بِدَعْوَى اللَّهِ الَّذِي سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ الْمُؤْمِنِينَ عِبَادَ اللَّهِ"، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: الأَمْرُ بِالْجَمَاعَةِ بِلَفْظِ الْعُمُومِ، وَالْمُرَادُ مِنْهُ الْخَاصُّ، لأَنَّ الْجَمَاعَةَ هِيَ إِِجْمَاعُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنْ لَزِمَ مَا كَانُوا عَلَيْهِ، وَشَذَّ عَنْ مَنْ بَعْدَهُمْ، لَمْ يَكُنْ بِشَاقٍّ لِلْجَمَاعَةِ، وَلا مُفَارِقٍ لَهَا، وَمَنْ شَذَّ عَنْهُمْ، وَتَبِعَ مَنْ بَعْدَهُمْ، كَانَ شَاقًّا لِلْجَمَاعَةِ، وَالْجَمَاعَةُ بَعْدَ الصَّحَابَةِ هُمْ أَقْوَامٌ اجْتَمَعَ فِيهِمُ الدِّينُ وَالْعَقْلُ وَالْعِلْمُ، وَلَزِمُوا تَرْكَ الْهَوَى فِيمَا هُمْ فِيهِ. وَإِِنْ قَلَّتْ أَعْدَادُهُمْ، لا أَوْبَاشُ النَّاسِ وَرِعَاعُهُمْ، وَإِِنْ كَثُرُوا، وَالْحَارِثُ الأَشْعَرِيُّ هَذَا: هُوَ أَبُو مَالِكٍ الأَشْعَرِيُّ، اسْمُهُ الْحَارِثُ بْنُ مَالِكٍ، مِنْ سَاكِنِي الشَّامِ .
سیدنا حارث اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے سیدنا یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کو پانچ باتوں کا حکم دیا کہ وہ ان پر عمل کریں اور بنی اسرائیل کو بھی اس بات کی ہدایت کریں کہ وہ لوگ ان پر عمل کریں۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا: بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ کو پانچ باتوں کا حکم دیا ہے کہ آپ ان پر عمل کریں اور بنی اسرائیل کو بھی ہدایت کریں کہ وہ ان پر عمل کریں، یا تو آپ بنی اسرائیل کو ان کا حکم دے دیں یا پھر میں حکم دے دیتا ہوں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”انہوں نے لوگوں کو بیت المقدس میں جمع کیا یہاں تک کہ وہ بھر گیا اور لوگ اس کے بالاخانوں میں بھی بیٹھ گئے۔ انہوں نے ان لوگوں کو وعظ کرنا شروع کیا اور یہ کہا: بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے پانچ باتوں کا حکم دیا ہے کہ میں ان پر عمل کروں اور تم لوگوں کو بھی اس بات کی ہدایت کروں کہ تم ان پر عمل کرو۔ ان میں سے پہلی بات یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ۔ اس کی مثال ایسے شخص کی طرح ہے جو خاص اپنے مال میں سے سونے یا چاندی کے عوض کوئی غلام خریدتا ہے اور اسے یہ کہتا ہے کہ یہ میرا گھر ہے اور یہ میرا کام ہے، لیکن وہ غلام کام کر کے (نفع) اپنے آقا کی بجائے کسی اور کے حوالے کر دیتا ہے، تو تم میں سے کون شخص اس بات کو پسند کرے گا کہ اس کا غلام اس طرح کا ہو؟ بے شک اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو پیدا کیا ہے اور اس نے تمہیں رزق عطا کیا ہے، لہٰذا تم اسی کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ۔ میں تمہیں نماز پڑھنے کی بھی ہدایت کرتا ہوں، جب تم نماز پڑھو تو ادھر ادھر توجہ نہ کرو کیونکہ بندہ جب (نماز پڑھ رہا ہوتا ہے) اور وہ ادھر ادھر توجہ نہیں کرتا، تو اس کا پروردگار اس کے سامنے ہوتا ہے اور میں تمہیں روزہ رکھنے کا حکم دیتا ہوں۔ اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے جس کے پاس ایک ایسی تھیلی ہو جس میں مشک موجود ہو اور اس کے پاس کچھ لوگ موجود ہوں، جنہیں یہ بات پسند ہو کہ وہ اس خوشبو کو حاصل کریں، تو روزہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔ میں تمہیں صدقہ کرنے کا حکم دیتا ہوں۔ اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے، جسے دشمن قید کر لیتے ہیں اور اس کے ہاتھ اس کی گردن پر باندھ دیتے ہیں اور وہ اس کی گردن اڑانے کا ارادہ کرتے ہیں، تو وہ شخص یہ کہتا ہے: کیا میں تمہیں اپنی ذات کا فدیہ دے دوں؟ تو وہ انہیں تھوڑا اور زیادہ (فدیہ دینے کی پیشکش) کرتا ہے، تاکہ ان لوگوں سے اپنے آپ کو چھڑا لے۔ میں تمہیں اللہ کا ذکر کرنے کا حکم دیتا ہوں کیونکہ اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے جس کے پیچھے دشمن تیز رفتاری سے لگا ہوا ہو اور پھر وہ شخص ایک قلعہ کے پاس آ جائے اور اپنے آپ کو اس میں داخل کر کے محفوظ کر لے۔ اسی طرح بندہ اپنے آپ کو شیطان سے صرف اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ذریعے ہی محفوظ کر سکتا ہے۔“ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں تمہیں پانچ باتوں کا حکم دیتا ہوں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے: مسلمانوں کی (جماعت کے ساتھ رہنا)، حاکم وقت کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا، ہجرت کرنا اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ جو شخص (مسلمانوں کی) جماعت سے ایک بالشت الگ ہوتا ہے وہ اپنی گردن سے اسلام کا پٹہ اتار دیتا ہے، اس وقت تک، جب تک وہ واپس نہیں آ جاتا اور جو شخص زمانہ جاہلیت کا سا دعویٰ کرتا ہے وہ جہنم میں جائے گا۔“ ایک شخص نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اگرچہ وہ روزہ رکھتا ہو اور نماز پڑھتا ہو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ وہ روزہ رکھتا ہو اور نماز پڑھتا ہو، تم لوگ (ایک دوسرے) کو اللہ تعالیٰ کے متعین کردہ نام کے ذریعے بلاؤ، اس نے تمہیں مسلمان اور مومن کا نام دیا ہے، اے اللہ کے بندو!“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جماعت کے ساتھ رہنے کا حکم الفاظ کے عموم کے ذریعے ہے، لیکن اس کے ذریعے خاص مفہوم مراد ہے کیونکہ جماعت سے مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کا متفق ہونا ہے، تو جو شخص اس چیز کو لازم پکڑے جس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اتفاق تھا اور ان کے بعد آنے والے لوگوں سے مختلف رائے اختیار کرے وہ جماعت سے علیحدہ ہونے والا یا اس کو ترک کرنے والا شمار نہیں ہوگا، لیکن جو شخص صحابہ کی جماعت سے علیحدہ ہو جائے اور ان کے بعد میں آنے والوں میں سے کسی کی پیروی کرے وہ جماعت سے الگ ہونے والا شمار ہوگا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بعد جماعت مختلف قسم کے لوگ ہیں جن میں دین، عقل اور علم کا اتفاق ہوا اور ان لوگوں نے خواہش نفس کی پیروی کو ترک کیا، اگرچہ ان کی تعداد بہت تھوڑی سی ہے، اس سے مراد عام اور فضول لوگ نہیں ہیں اگرچہ ان کی تعداد زیادہ ہے۔ حارث اشعری نامی راوی سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ ہیں، ان کا نام حارث بن مالک ہے اور یہ شام میں رہائش پذیر تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6233]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 483، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6233، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 403، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2863، 2864، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16710، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17443» «رقم طبعة با وزير 6200»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق الرغيب» (1/ 189 - 190)، «المشكاة» (3694). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
94. باب بدء الخلق - ذكر البيان بأن أولاد آدم يمسهم الشيطان عند ولادتهم إلا عيسى ابن مريم صلوات الله عليهما-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر بیان کہ آدم کی اولاد کو ولادت کے وقت شیطان چھوتا ہے سوائے عیسیٰ ابن مریم صلوات اللہ علیہما کے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6234
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كُلُّ بَنِي آدَمَ يَمَسُّهُ الشَّيْطَانُ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ، إِِلا مَرْيَمَ وَابْنَهَا عِيسَى، عَلَيْهِمَا السَّلامُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اولادِ آدم میں سے جس (بچے کو) اس کی والدہ جنم دیتی ہے تو شیطان اسے مس کرتا ہے، صرف سیدہ مریم رضی اللہ عنہا اور ان کے صاحب زادے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا معاملہ مختلف ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6234]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3286، 3431، 4548، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2366، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6234، 6235، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4180، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7303، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1072» «رقم طبعة با وزير 6201»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م (7/ 96). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
95. باب بدء الخلق - ذكر علامة مس الشيطان المولود عند ولادته-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر علامت کہ شیطان مولود کو ولادت کے وقت چھوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6235
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِِلا يَمَسُّهُ الشَّيْطَانُ، فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا، إِِلا مَرْيَمَ ابْنَةَ عِمْرَانَ وَابْنَهَا، إِِنْ شِئْتُمُ اقْرَؤُوا: وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ سورة آل عمران آية 36" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو بھی بچہ پیدا ہوتا ہے شیطان اسے مس کرتا ہے، جس کی وجہ سے وہ بلند آواز میں روتا ہے، صرف عمران کی صاحب زادی بی بی مریم اور ان کے صاحب زادے (سیدنا عیسیٰ علیہ السلام) کے ساتھ ایسا نہیں ہوا، اگر تم چاہو تو یہ آیت تلاوت کر لو: ﴿وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ﴾ [سورة آل عمران: 36] ”بے شک میں اسے اور اس کی اولاد کو مردود شیطان (کے شر) سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔“” [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6235]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3286، 3431، 4548، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2366، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6234، 6235، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4180، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7303، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1072» «رقم طبعة با وزير 6202»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (4548)، م (7/ 96). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
96. باب بدء الخلق - ذكر المدة التي بقيت فيها أمة عيسى على هديه صلى الله عليه وسلم-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر مدت کہ عیسیٰ کی امت ان کی ہدایت پر کتنی رہی صلی اللہ علیہ وسلم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6236
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الْهَيْثَمِ بْنِ حُمَيْدٍ ، عَنِ الْوَضِينِ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقَدْ قَبَضَ اللَّهُ دَاوُدَ مِنْ بَيْنِ أَصْحَابِهِ، فَمَا فُتِنُوا وَلا بَدَّلُوا، وَلَقَدْ مَكَثَ أَصْحَابُ الْمَسِيحِ عَلَى سُنَّتِهِ وَهَدْيِهِ مِائَتَيْ سَنَةٍ" .
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے سیدنا داؤد علیہ السلام کے ساتھیوں کے درمیان ان کی روح کو قبض کر لیا، تو وہ آزمائش میں مبتلا نہیں ہوئے اور انہوں نے (دین کے احکام میں) تبدیلی نہیں کی، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھی دو سو سال تک ان کی سنت اور ہدایت پر کاربند رہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6236]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6236، والبزار فى (مسنده) برقم: 4103» «رقم طبعة با وزير 6203»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف منكر - «الضعيفة» (5766). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
97. باب بدء الخلق - ذكر الزجر عن التخيير بين الأنبياء على سبيل المفاخرة-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر منع کہ انبیاء کے درمیان فخر کی بنا پر ترجیح دی جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6237
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لا تُخَيِّرُوا بَيْنَ الأَنْبِيَاءِ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”انبیاء کے درمیان کسی ایک کو دوسرے سے بہتر قرار نہ دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6237]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2412، 3398، 4638، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2373، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6237، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4668، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11437» «رقم طبعة با وزير 6204»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «تخريج الطحاوية» (108 و 405)، «مختصر العلو» (62): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں