صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
126. باب بدء الخلق - ذكر السبب الذي من أجله قال صلى الله عليه وسلم هذا القول-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر وجہ جس کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات کہی
حدیث نمبر: 6268
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَتْ: إِِنِّي قَدْ كَبِرْتُ وَلِي عِيَالٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الإِِبِلَ نِسَاءُ قُرَيْشٍ، أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدِهِ فِي صِغَرِهِ، وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ، وَلَمْ تَرْكَبْ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ بَعِيرًا قَطُّ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام ہانی بنت ابوطالب رضی اللہ عنہا کو شادی کا پیغام بھیجا، انہوں نے عرض کی: میری عمر بھی زیادہ ہو گئی ہے اور میں بال بچے دار بھی ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اونٹوں پر سوار ہونے والی خواتین (یعنی عرب خواتین) میں قریش کی خواتین سب سے بہتر ہیں جو اپنے بچوں کے لیے ان کی کم سنی میں بڑی مہربان ہوتی ہیں اور اپنے شوہر (کے گھر بار) کا خیال رکھتی ہیں۔“ (شاید سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ کہا:) سیدہ مریم بنت عمران رضی اللہ عنہا بھی اونٹ پر سوار نہیں ہوئی تھیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6268]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5082، 5365، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2527، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6267، 6268، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 9085، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14833، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7765» «رقم طبعة با وزير 6235»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
127. باب بدء الخلق - ذكر إهانة الله جل وعلا من أهان غير الفاسق من قريش-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر کہ اللہ جل وعلا اس شخص کو ذلیل کرتا ہے جو غیر فاسق قرشی کو ذلیل کرتا ہے
حدیث نمبر: 6269
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِسْمَاعِيلَ الطَّالْقَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَفْصٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي مُحَمَّدَ بْنَ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمِّيَ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ بْنِ مُوسَى ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، قَالَ: قَالَ لِي أَبِي عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ : أَيْ بُنَيَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَهَانَ قُرَيْشًا، أَهَانَهُ اللَّهُ" .
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عمرو بیان کرتے ہیں: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: اے میرے بیٹے! اگر تم مسلمانوں کے کسی معاملے (یعنی حکومت یا سرکاری عہدے) کے نگران بنو، تو قریش کی عزت افزائی کرنا کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص قریش کی توہین کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے ذلت کا شکار کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6269]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6269، وأحمد فى (مسنده) برقم: 467، والبزار فى (مسنده) برقم: 373» «رقم طبعة با وزير 6236»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «الصحيحة» (1178). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
128. باب بدء الخلق - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن أبا طالب كان مسلما-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ ابو طالب مسلمان تھے
حدیث نمبر: 6270
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنَ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَبِي طَالِبٍ حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ: " قُلْ لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ أَشْفَعْ لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، لَوْلا أَنْ تُعَيِّرَنِيَ قُرَيْشٌ لأَقْرَرْتُ عَيْنَيْكَ بِهَا، فَنَزَلَتْ: إِنَّكَ لا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ سورة القصص آية 56 .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب جناب ابوطالب کی موت کا وقت قریب آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”آپ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ پڑھ لیجیے، میں اس کی وجہ سے قیامت کے دن آپ کے حق میں شفاعت کروں گا۔“ تو جناب ابوطالب نے فرمایا: ”اے میرے بھتیجے! اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ قریش مجھے عار دلائیں گے تو میں اس کلمے کے ذریعے تمہاری آنکھوں کو ٹھنڈا کر دیتا۔“ (راوی کہتے ہیں:) اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ﴾ [سورة القصص: 56] ”بے شک تم اسے ہدایت نہیں دیتے جسے تم پسند کرتے ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6270]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 25، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6270، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3188، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9741» «رقم طبعة با وزير 6237»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م (1/ 41). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
حدیث نمبر: 6271
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ خَبَّابٍ حَدَّثَهُمْ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، وَذُكِرَ عِنْدَهُ عَمُّهُ أَبُو طَالِبٍ، فَقَالَ: " لَعَلَّهُ أَنْ تُصِيبَهُ شَفَاعَتِي، فَتَجْعَلَهُ فِي ضَحْضَاحٍ مِنَ النَّارِ تَبْلُغُ كَعْبَيْهِ، يَغْلِي مِنْهَا دِمَاغُهُ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ کے سامنے آپ کے چچا جناب ابوطالب کا ذکر کیا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں میری شفاعت نصیب ہو گی، جس کے نتیجے میں ان کے ٹخنوں تک آگ پہنچے گی، لیکن اس کی وجہ سے ان کا دماغ کھول رہا ہو گا (یعنی ان کے باقی جسم تک آگ نہیں پہنچے گی)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6271]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3885، 3885 م، 6564، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 210، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6271، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11215» «رقم طبعة با وزير 6238»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (54): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
129. باب بدء الخلق - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن النبي صلى الله عليه وسلم كان على دين قومه قبل أن يوحى إليه-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وحی سے پہلے اپنی قوم کے دین پر تھے
حدیث نمبر: 6272
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا هَمَمْتُ بِقَبِيحٍ مِمَّا يَهُمُّ بِهِ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ إِِلا مَرَّتَيْنِ مِنَ الدَّهْرِ، كِلْتَاهُمَا عَصَمَنِي اللَّهُ مِنْهُمَا، قُلْتُ لَيْلَةً لِفَتًى كَانَ مَعِي مِنْ قُرَيْشٍ بِأَعْلَى مَكَّةَ فِي غَنَمٍ لأَهْلِنَا نَرْعَاهَا: أَبْصِرْ لِي غَنَمِي حَتَّى أَسْمُرَ هَذِهِ اللَّيْلَةَ بِمَكَّةَ كَمَا يَسْمُرُ الْفِتْيَانُ، قَالَ: نَعَمْ، فَخَرَجْتُ، فَلَمَّا جِئْتُ أَدْنَى دَارٍ مِنْ دُورِ مَكَّةَ سَمِعْتُ غِنَاءً، وَصَوْتَ دُفُوفٍ، وَمَزَامِيرَ، قُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: فُلانٌ تَزَوَّجَ فُلانَةَ، لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشِ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ قُرَيْشٍ، فَلَهَوْتُ بِذَلِكَ الْغِنَاءِ، وَبِذَلِكَ الصَّوْتِ حَتَّى غَلَبَتْنِي عَيْنِي، فَنِمْتُ، فَمَا أَيْقَظَنِي إِِلا مَسُّ الشَّمْسِ، فَرَجَعْتُ إِِلَى صَاحِبِي، فَقَالَ: مَا فَعَلْتَ؟ فَأَخْبَرْتُهُ، ثُمَّ فَعَلْتُ لَيْلَةً أُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، فَخَرَجْتُ، فَسَمِعْتُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقِيلَ لِي: مِثْلُ مَا قِيلَ لِي، فَسَمِعْتُ كَمَا سَمِعْتُ، حَتَّى غَلَبَتْنِي عَيْنِي، فَمَا أَيْقَظَنِي إِِلا مَسُّ الشَّمْسِ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِِلَى صَاحِبِي، فَقَالَ لِي: مَا فَعَلْتَ؟ فَقُلْتُ: مَا فَعَلْتُ شَيْئًا"، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَوَاللَّهِ، مَا هَمَمْتُ بَعْدَهُمَا بِسُوءٍ مِمَّا يَعْمَلُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ، حَتَّى أَكْرَمَنِي اللَّهُ بِنُبُوَّتِهِ" .
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”میں نے کبھی بھی کسی ایسی برائی کرنے کا ارادہ نہیں کیا جو زمانہ جاہلیت کے لوگ کیا کرتے تھے، البتہ دو مرتبہ ارادہ کیا اور دونوں مرتبہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے بچا لیا۔ (پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا:) ایک مرتبہ میں ایک قریشی نوجوان کے ساتھ اپنے گھر والوں کی بکریاں مکہ کے بالائی حصے میں چرا رہا تھا، میں نے اپنے ساتھی نوجوان سے کہا: تم نے آج میری بکریوں کا دھیان رکھنا ہے، آج رات میں مکہ میں اسی طرح وقت بسر کروں گا جس طرح نوجوان گزارتے ہیں۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے۔ میں وہاں سے روانہ ہوا، جب میں مکہ کے آخری کونے میں موجود گھر کے پاس پہنچا تو وہاں مجھے گانے، دف بجانے اور موسیقی کے آلات کی آواز آئی، میں نے دریافت کیا: یہ کیا ہے؟ تو لوگوں نے بتایا: فلاں شخص نے فلاں عورت کے ساتھ شادی کی ہے (انہوں نے قریش کے ایک شخص کی قریش کی ایک خاتون کے ساتھ شادی کرنے کے بارے میں بتایا)۔ میں اس گانے اور آواز کو سننے لگا، اسی دوران میری آنکھ لگ گئی اور میں سو گیا، یہاں تک کہ مجھے دھوپ کی تپش نے بیدار کیا، پھر میں اپنے ساتھی کے پاس واپس آیا، اس نے دریافت کیا: تم نے کیا کیا؟ میں نے اسے اس بارے میں بتایا۔ پھر دوسری رات بھی اسی طرح ہوا، میں وہاں سے روانہ ہوا اور میں نے اسی طرح کی آواز سنی، مجھ سے وہی بات کہی گئی جو پہلے کہی گئی تھی، میں نے اسی طرح کی آواز سنی جس طرح پہلے سنی تھی، یہاں تک کہ میری آنکھ لگ گئی اور پھر مجھے سورج کی تپش نے بیدار کیا، میں پھر اپنے ساتھی کے پاس آیا، اس نے دریافت کیا: تم نے کیا کیا؟ میں نے کہا: میں نے کچھ نہیں کیا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: «فَوَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم! اس کے بعد میں نے کبھی کسی ایسی برائی کا ارادہ نہیں کیا جو زمانہ جاہلیت کے لوگ کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی نبوت کے ذریعے مجھے سرفراز فرمایا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6272]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6272، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7714، والبزار فى (مسنده) برقم: 640، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 4212» «رقم طبعة با وزير 6239»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «تخريج فقه السيره» (70). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
130. باب بدء الخلق - ذكر إحصاء المصطفى صلى الله عليه وسلم من كان تلفظ بالإسلام في أول الإسلام-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کی گنتی کی جو ابتدائی اسلام میں کلمہ پڑھ چکے تھے
حدیث نمبر: 6273
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَحْصُوا كُلَّ مَنْ كَانَ تَلَفَّظَ بِالإِِسْلامِ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَخَافُ وَنَحْنُ بَيْنَ السِّتِّ مِائَةٍ إِِلَى السَّبْعِ مِائَةٍ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنَّكُمْ لا تَدْرُونَ، لَعَلَّكُمْ تُبْتَلَونَ" ، قَالَ: فَابْتُلِيَنَا، حَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا لا يُصَلِّي إِِلا سِرًّا.
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ ان لوگوں کی گنتی کرو جو اسلام قبول کر چکے ہیں۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ کو اندیشہ ہے، جب کہ ہماری تعداد چھ سو سے لے کر سات سو تک ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم نہیں جانتے ہو، ہو سکتا ہے تمہیں آزمائش میں مبتلا کر دیا جائے۔“ راوی کہتے ہیں: تو ہمیں آزمائش میں مبتلا کیا گیا، (یہاں تک کہ ایسی نوبت آ گئی کہ) ہم میں سے ہر شخص صرف پوشیدہ طور پر ہی نماز ادا کر سکتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6273]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3060، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 149، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6273، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8824، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4029، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13192، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23731» «رقم طبعة با وزير 6240»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (246): م، خ نحوه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
131. باب بدء الخلق - ذكر وصف بيعة الأنصار رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة العقبة بمنى-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر وصف کہ انصار نے منیٰ کی رات عقیقہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی
حدیث نمبر: 6274
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ سَبْعَ سِنِينَ، يَتَتَبَّعُ النَّاسَ فِي مَنَازِلِهِمْ بِعُكَاظَ وَمَجَنَّةَ وَالْمَوَاسِمِ بِمِنًى، يَقُولُ: " مَنْ يُؤْوِينِي وَيَنْصُرَنِي حَتَّى أُبَلِّغَ رِسَالاتِ رَبِّي؟"، حَتَّى إِِنَّ الرَّجُلَ لِيَخْرُجُ مِنَ الْيَمَنِ أَوْ مِنْ مِصْرَ فَيَأْتِيهُ قَوْمُهُ، فَيَقُولُونَ: احْذَرْ غُلامَ قُرَيْشٍ، لا يَفْتِنُكَ، وَيَمْشِي بَيْنَ رِحَالِهِمْ وَهُمْ يُشِيرُونَ إِِلَيْهِ بِالأَصَابِعِ، حَتَّى بَعَثَنَا اللَّهُ مِنْ يَثْرِبَ، فَآوَيْنَاهُ وَصَدَّقْنَاهُ، فَيَخْرُجُ الرَّجُلُ مِنَّا وَيُؤْمِنُ بِهِ وَيُقْرِئُهُ الْقُرْآنَ، وَيَنْقَلِبُ إِِلَى أَهْلِهِ فَيُسْلِمُونَ بِإِِسْلامِهِ، حَتَّى لَمْ يَبْقَ دَارٌ مِنْ دُورِ الأَنْصَارِ إِِلا فِيهَا رَهْطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُظْهِرُونَ الإِِسْلامَ، ثُمَّ إِِنَّا اجْتَمَعْنَا، فَقُلْنَا: حَتَّى مَتَى نَتْرُكُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطْرَدُ فِي جِبَالِ مَكَّةَ وَيَخَافُ؟ فَرَحَلَ إِِلَيْهِ مِنَّا سَبْعُونَ رَجُلا، حَتَّى قَدِمُوا عَلَيْهِ فِي الْمَوْسِمِ، فَوَاعَدْنَاهُ بَيْعَةَ الْعَقَبَةِ، فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَهَا مِنْ رَجُلٍ وَرَجُلَيْنِ، حَتَّى تَوَافَيْنَا، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلامَ نُبَايِعُكَ؟ قَالَ:" تُبَايعُونِي عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي النَّشَاطِ وَالْكَسَلِ، وَالنَّفَقَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ، وَعَلَى الأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَأَنْ يَقُولَهَا لا يُبَالِي فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لائِمٍ، وَعَلَى أَنْ تَنْصُرُونِيَ، وَتَمْنَعُونِي إِِذَا قَدِمْتُ عَلَيْكُمْ مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ وَأَزْوَاجَكُمْ وَأَبْنَاءَكُمْ، وَلَكُمُ الْجَنَّةُ"، فَقُمْنَا إِِلَيْهِ فَبَايَعْنَاهُ، وَأَخَذَ بِيَدِهِ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ وَهُوَ مِنْ أَصْغَرِهِمْ، فَقَالَ: رُوَيْدًا يَا أَهْلَ يَثْرِبَ، فَإِِنَّا لَمْ نَضْرِبْ أَكْبَادَ الإِِبِلِ إِِلا وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَّ إِِخْرَاجَهُ الْيَوْمَ مُنَازَعَةُ الْعَرَبِ كَافَّةً، وَقَتْلُ خِيَارِكُمْ، وَأَنْ تَعَضَّكُمُ السُّيُوفُ، فَإِِمَّا أَنْ تَصْبِرُوا عَلَى ذَلِكَ وَأَجْرُكُمْ عَلَى اللَّهِ، وَإِِمَّا أَنْتُمْ تَخَافُونَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ جُبْنًا، فَبَيِّنُوا ذَلِكَ فَهُوَ أَعْذَرُ لَكُمْ، فَقَالُوا: أَمِطْ عَنَّا، فَوَاللَّهِ لا نَدَعُ هَذِهِ الْبَيْعَةَ أَبَدًا، فَقُمْنَا إِِلَيْهِ، فَبَايَعْنَاهُ، فَأَخَذَ عَلَيْنَا، وَشَرَطَ أَنْ يُعْطِيَنَا عَلَى ذَلِكَ الْجَنَّةَ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سات سال تک مکہ میں مقیم رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عکاظ، مجنہ اور حج کے موقع پر منیٰ میں موجود لوگوں کی رہائش گاہوں پر جاتے تھے (اور فرماتے تھے): ”کون مجھے پناہ دے گا اور کون میری مدد کرے گا تاکہ میں اپنے پروردگار کے اس پیغام کی تبلیغ کر سکوں؟“ یہاں تک کہ ایک شخص جس کا تعلق یمن یا شاید مصر سے تھا وہ نکلا اور اپنی قوم کے پاس آ کر بولا: ”قریش کے اس نوجوان سے بچو، کہیں یہ تمہیں آزمائش میں مبتلا نہ کر دے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی رہائش گاہوں کے درمیان چلتے اور وہ لوگ اپنی انگلیوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یثرب سے بھیجا، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پناہ دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی۔ ہم میں سے ایک شخص نکلا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قرآن کی تلاوت سکھائی۔ وہ شخص اپنے اہل خانہ کے پاس واپس گیا، تو اس کے اسلام قبول کرنے کی وجہ سے اہل خانہ نے بھی اسلام قبول کر لیا، یہاں تک کہ انصار کے ہر محلے میں کچھ نہ کچھ مسلمان ہو گئے۔ انہوں نے اسلام کو ظاہر کیا پھر ہم اکٹھے ہو گئے۔ ہم نے کہا: ”ہم کب تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی حالت میں رہنے دیں گے؟ کیا آپ مکہ کے پہاڑوں کے درمیان ادھر ادھر آتے جاتے رہیں اور پریشانی کا شکار رہیں؟“ تو ہم میں سے ستر افراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جانے کے لیے روانہ ہوئے۔ وہ حج کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ طے کیا کہ ہم عقبہ (گھاٹی) کے پاس آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کریں گے۔ لوگ ایک ایک دو دو کر کے وہاں اکٹھے ہوئے، یہاں تک کہ جب ہماری تعداد پوری ہو گئی تو ہم نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم کس بات پر آپ کی بیعت کریں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم چاک و چوبند ہونے، سست ہونے (ہر حالت میں) اطاعت و فرمانبرداری کرنے، تنگی اور خوشحالی میں خرچ کرنے، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے پر میری بیعت کرو اور یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کرو گے، اور اس بات پر بیعت کرو کہ تم میری مدد کرو گے اور جب میں تمہارے پاس آؤں گا تو تم میری مدد کرو گے، اسی طرح جس طرح تم اپنا خیال رکھتے ہو، اپنی بیویوں اور بچوں کا خیال رکھتے ہو؛ اس کے عوض تمہیں جنت ملے گی۔“ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آئے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کر لی۔ سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ، جو ان تمام افراد میں کم سن تھے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دستِ مبارک پکڑا اور بولے: ”اے اہل یثرب! آگے آؤ، ہم نے اونٹوں کے جگر پر نہیں مارا (یعنی سفر نہیں کیا) مگر یہ کہ ہم نے یہ بات جان لی ہے کہ یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا (مدینہ منورہ کی طرف) نکلنا تمام عربوں سے جھگڑا کرنے کا باعث بنے گا، اس کے نتیجے میں تمہارے بہترین لوگ قتل ہو سکتے ہیں، تلواریں تمہیں کاٹ سکتی ہیں؛ یا تو یہ ہے کہ تم نے اس صورتِ حال پر صبر سے کام لینا ہے تو تمہارا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو جائے گا، یا پھر یہ ہے کہ تم بزدلی دکھاتے ہوئے اپنی ذات کے حوالے سے اندیشے کا شکار ہو جاؤ گے، (اگر تم نے ایسا کرنا ہے) تو تم اس بات کو بیان کر دو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تم لوگوں کا عذر قبول کر لیں گے۔“ ان لوگوں نے کہا: ”تم ایک طرف ہو جاؤ، اللہ کی قسم! ہم اس بیعت کو کبھی ترک نہیں کریں گے۔“ پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہوئے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیعت لی اور ساتھ یہ شرط عائد کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کرنے کی صورت میں ہمیں جنت عطا کریں گے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6274]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6274، 7012، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4274، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16652، 17808، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14680» «رقم طبعة با وزير 6241»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «تخريج فقه السيرة»، «الصحيحة» (63). * [مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ سَبْعَ] قال الشيخ: كذا! والصواب: «عشر»، وهو في الرواية الآتية (6973). تنبيه!! رقم (6973) = (7012) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
132. فصل في هجرته صلى الله عليه وسلم إلى المدينة وكيفية أحواله فيها-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ کی طرف ہجرت اور وہاں کے حالات کے بیان میں ایک فصل -
حدیث نمبر: 6275
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ، وَالْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " رَأَيْتُ فِيَ الْمَنَامِ أَنِّي أُهَاجِرُ مِنْ مَكَّةَ إِِلَى أَرْضِ نَخْلٍ، فَذَهَبَ وَهْلِي أَنَّهَا الْيَمَامَةُ، أَوْ هَجَرُ، فَإِِذَا هِيَ الْمَدِينَةُ يَثْرِبُ، وَرَأَيْتُ فِيَ رُؤْيَايَ هَذِهِ أَنِّي هَزَزْتُ سَيْفًا فَانْقَطَعَ، فَإِِذَا هُوَ مَا أُصِيبَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ أُحُدٍ، ثُمَّ هَزَزْتُ أُخْرَى فَعَادَ أَحْسَنَ مَا كَانَ، فَإِِذَا هُوَ مَا جَدَّدَ اللَّهُ مِنَ الْمَغْنَمِ وَاجْتِمَاعِ الْمُؤْمِنِينَ" .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میں نے خواب میں دیکھا میں مکہ سے ہجرت کر کے کھجوروں کی سرزمین کی طرف جا رہا ہوں۔ میرا ذہن اس طرف گیا کہ وہ یمامہ یا ہجر ہو سکتے ہیں، لیکن وہ مدینہ تھا یعنی یثرب تھا اور میں نے خواب میں دیکھا میں نے تلوار لہرائی تو وہ ٹوٹ گئی۔ اس سے مراد غزوہ احد کے موقع پر مسلمانوں کو لاحق ہونے والا نقصان ہے، پھر میں نے دوسری مرتبہ تلوار لہرائی تو وہ پہلے سے زیادہ اچھی صورت میں آ گئی۔ اس سے مراد وہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ مال غنیمت کی شکل میں عطا کرے گا اور اہل ایمان کا اجتماع (یعنی ان کی تعداد کا زیادہ ہونا) مراد ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6275]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3622، 3987، 4081، 7035، 7041، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2272، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6275، 6276، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7603، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2204، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3921، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 7298» «رقم طبعة با وزير 6242»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «مختصر البخاري» (المناقب / علامات النبوة). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
133. فصل في هجرته صلى الله عليه وسلم إلى المدينة وكيفية أحواله فيها - ذكر الإخبار عما أرى الله جل وعلا صفيه صلى الله عليه وسلم موضع هجرته في منامه-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ کی طرف ہجرت اور وہاں کے حالات کے بیان میں ایک فصل - ذکر خبر کہ اللہ جل وعلا نے اپنے برگزیدہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں ہجرت کا مقام دکھایا
حدیث نمبر: 6276
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " رَأَيْتُ فِيَ الْمَنَامِ أَنِّي أُهَاجِرُ مِنْ مَكَّةَ إِِلَى أَرْضٍ بِهَا نَخْلٌ، فَذَهَبَ وَهْلِي إِِلَى أَنَّهَا الْيَمَامَةُ، وَهَجَرُ، فَإِِذَا هِيَ الْمَدِينَةُ يَثْرِبُ، وَرَأَيْتُ فِيَ رُؤْيَايَ هَذِهِ أَنِّي هَزَزْتُ سَيْفًا فَانْقَطَعَ، فَإِِذَا هُوَ مَا أُصِيبَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَهَزَزْتُهُ مَرَّةً أُخْرَى فَعَادَ أَحْسَنَ مَا كَانَ، فَإِِذَا هُوَ مَا جَاءَ اللَّهُ بِهِ مِنَ الْفَتْحِ وَاجْتِمَاعِ الْمُؤْمِنِينَ" .
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ سے ہجرت کر کے ایسی سرزمین کی طرف جا رہا ہوں جہاں کھجوروں کے باغات ہیں، میرا ذہن اس طرف گیا کہ یہ یمامہ یا ہجر ہو سکتے ہیں، لیکن یہ مدینہ یعنی یثرب تھا۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نے تلوار لہرائی تو وہ ٹوٹ گئی، اس سے مراد غزوۂ احد کے موقع پر لاحق ہونے والا نقصان ہے، پھر میں نے اسے دوسری مرتبہ لہرایا تو وہ پہلے سے زیادہ اچھی حالت میں آ گئی، اس کے ذریعے وہ فتح اور اہل ایمان کا اجتماع (یعنی ان کی تعداد میں اضافہ) مراد ہے جو اللہ تعالیٰ نے عطا کیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6276]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3622، 3987، 4081، 7035، 7041، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2272، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6275، 6276، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7603، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2204، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3921، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 7298» «رقم طبعة با وزير 6243»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
134. فصل في هجرته صلى الله عليه وسلم إلى المدينة وكيفية أحواله فيها - ذكر وصف كيفية خروج المصطفى صلى الله عليه وسلم من مكة لما صعب الأمر على المسلمين بها-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ کی طرف ہجرت اور وہاں کے حالات کے بیان میں ایک فصل - ذکر وصف کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے کیسے نکلے جب حالات مسلمانوں پر سخت ہوگئے
حدیث نمبر: 6277
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " لَمْ أَعْقِلْ أَبَوَيَّ قَطُّ إِِلا وَهُمَا يَدِينَانِ الدِّينَ، لَمْ يَمُرَّ عَلَيْنَا يَوْمٌ إِِلا يَأْتِينَا فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَفَيِ النَّهَارِ بُكْرَةً وَعَشِيًّا، فَلَمَّا ابْتُلِيَ الْمُسْلِمُونَ، خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ رِضْوَانُ اللَّهُ عَلَيْهِ مُهَاجِرًا قِبَلَ أَرْضِ الْحَبَشَةِ، فَلَقِيَهُ ابْنُ الدَّغِنَةِ سَيِّدُ الْقَارَةِ، فَقَالَ: أَيْنَ يَا أَبَا بَكْرٍ؟ قَالَ: أَخْرَجَنِي قَوْمِي فَأَسِيحُ فِي الأَرْضِ، وَأَعْبُدُ رَبِّي، فَقَالَ لَهُ ابْنُ الدَّغِنَةِ: إِِنَّ مِثْلَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ لا يَخْرُجُ، وَلا يُخْرَجُ، إِِنَّكَ تُكْسِبُ الْمَعْدُومَ، وَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ، وَأَنَا لَكَ جَارٌ، فَارْتَحَلَ ابْنُ الدَّغِنَةِ، وَرَجَعَ أَبُو بَكْرٍ مَعَهُ، فَقَالَ لَهُمْ وَطَافَ فِي كُفَّارِ قُرَيْشٍ: أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، لا يَخْرُجُ، وَلا يُخْرَجُ مِثْلُهُ، إِِنَّهُ يُكْسِبُ الْمَعْدُومَ، وَيَصِلُ الرَّحِمَ، وَيَحْمِلُ الْكَلَّ، وَيَقْرِي الضَّيْفَ، وَيُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ، فَأَنْفَذَتْ قُرَيْشٌ جِوَارَ ابْنِ الدَّغِنَةِ، فَأَمَّنُوا أَبَا بَكْرٍ، وَقَالُوا لابْنِ الدَّغِنَةِ: مُرْ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يَعْبُدَ رَبَّهُ فِي دَارِهِ، وَيُصَلِّيَ مَا شَاءَ، وَيَقْرَأَ مَا شَاءَ، وَلا يُؤْذِينَا، وَلا يَسْتَعْلِنْ بِالصَّلاةِ وَالْقِرَاءَةِ فِي غَيْرِ دَارِهِ، فَفَعَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَلِكَ، ثُمَّ بَدَا لأَبِي بَكْرٍ، فَابْتَنَى مَسْجِدًا بِفِنَاءِ دَارِهِ، فَكَانَ يُصَلِّي فِيهِ، وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ، فَيَقِفُ عَلَيْهِ نِسَاءُ الْمُشْرِكِينَ وَأَبْنَاؤُهُمْ، فَيَعْجَبُونَ مِنْهُ، وَيَنْظُرُونَ إِِلَيْهِ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَجُلا بَكَّاءً لا يَمْلِكُ دَمْعَهُ إِِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ، فَأَرْسَلُوا إِِلَى ابْنِ الدَّغِنَةِ، فَقَدِمَ عَلَيْهِمْ، فَقَالُوا: إِِنَّمَا أَجَرْنَا أَبَا بَكْرٍ أَنْ يَعْبُدَ رَبَّهُ فِي دَارِهِ، وَإِِنَّهُ ابْتَنَى مَسْجِدًا، وَإِِنَّهُ أَعْلَنَ الصَّلاةَ وَالْقِرَاءَةَ، وَإِِنَّا خَشِينَا أَنْ يَفْتِنَ نِسَاءَنَا وَأَبْنَاءَنَا، فَأْتِهِ، فَقُلْ لَهُ: أَنْ يَقْتَصِرَ عَلَى أَنْ يَعْبُدَ رَبَّهُ فِي دَارِهِ، وَإِِنْ أَبَى إِِلا أَنْ يُعْلِنَ ذَلِكَ، فَلْيَرُدَّ عَلَيْنَا ذِمَّتَكَ، فَإِِنَّا نَكْرَهُ أَنْ نُخْفِرَ ذِمَّتَكَ، وَلَسْنَا بِمُقِرِّينَ لأَبِي بَكْرٍ الاسْتِعْلانَ، فَأَتَى ابْنُ الدَّغِنَةِ أَبَا بَكْرٍ، فَقَالَ: قَدْ عَلِمْتَ الَّذِي عَقَدْتُ لَكَ عَلَيْهِ، فَإِِمَّا أَنْ تَقْتَصِرَ عَلَى ذَلِكَ، وَإِِمَّا أَنْ تُرْجِعَ إِِلَيَّ ذِمَّتِي، فَإِِنِّي لا أُحِبُّ أَنْ تَسْمَعَ الْعَرَبُ أَنِّي أُخْفِرْتُ فِي عَقْدِ رَجُلٍ عَقَدْتُ لَهُ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَإِِنِّي أَرْضَى بِجِوَارِ اللَّهِ وَجِوَارِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ بِمَكَّةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُسْلِمِينَ: أُرِيتُ دَارَ هِجْرَتِكُمْ، أُرِيتُ سَبَخَةً ذَاتَ نَخْلٍ بَيْنَ لابَتَيْنِ، وَهُمَا حَرَّتَانِ، فَهَاجَرَ مَنْ هَاجَرَ قِبَلَ الْمَدِينَةِ حِينَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ، وَرَجَعَ إِِلَى الْمَدِينَةِ بَعْضُ مَنْ كَانَ هَاجَرَ إِِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَتَجَهَّزَ أَبُو بَكْرٍ مُهَاجِرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَى رِسْلِكَ يَا أَبَا بَكْرٍ، فَإِِنِّي أَرْجُو أَنْ يُؤَذَنَ لِي، فَقَالَ: فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، أَوَ تَرْجُو ذَلِكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَحَبَسَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَفْسَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِصَحَابَتِهِ، وَعَلَفَ رَاحِلَتَيْنِ كَانَتَا لَهُ وَرَقَ السَّمُرِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: قَالَ عُرْوَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ: إِِذْ قَائِلٌ يَقُولُ لأَبِي بَكْرٍ: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلا مُتَقَنِّعًا فِي سَاعَةٍ لَمْ يَكُنْ يَأْتِينَا فِيهَا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِدًى لَهُ أَبِي وَأُمِّي، إِِنْ جَاءَ بِهِ هَذِهِ السَّاعَةُ لأَمْرٌ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَأْذَنَ، فَأُذِنَ لَهُ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ، أَخْرِجْ مَنْ عِنْدَكَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنَّمَا هُمْ أَهْلُكَ، قَالَ: فَنَعَمْ، قَالَ: قَدْ أُذِنَ لِي، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَالصُّحْبَةُ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَخُذْ إِِحْدَى رَاحِلَتِي هَاتَيْنِ، فَقَالَ: نَعَمْ، بِالثَّمَنِ، قَالَتْ: فَجَهَّزْنَاهُمَا أَحَثَّ الْجِهَازِ، وَصَنَعْنَا لَهُمَا سُفْرَةً فِي جِرَابٍ، فَقَطَعَتْ أَسْمَاءُ مِنْ نِطَاقِهَا، وَأَوْكَتْ بِهِ الْجِرَابَ، فَلِذَلِكَ كَانَتْ تُسَمَّى: ذَاتَ النِّطَاقِ، فَلَحِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ فِي جَبَلٍ يُقَالُ لَهُ: ثَوْرٌ، فَمَكَثْنَا فِيهِ ثَلاثَ لَيَالٍ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب سے میں نے ہوش سنبھالا میں نے اپنے والدین کو مسلمان دیکھا، روزانہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں صبح و شام تشریف لایا کرتے تھے۔ جب مسلمانوں کو آزمائش کا شکار کیا جانے لگا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ حبشہ کی سرزمین کی طرف ہجرت کرنے کے لیے روانہ ہوئے۔ ان کی ملاقات قارہ قبیلے کے سردار ابن دغنہ سے ہوئی۔ اس نے دریافت کیا: ”اے ابوبکر! کہاں جا رہے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”میری قوم نے مجھے نکلنے پر مجبور کر دیا ہے، اب میں زمین میں سفر کروں گا اور اپنے پروردگار کی عبادت کروں گا۔“ ابن دغنہ نے ان سے کہا: ”اے ابوبکر! آپ جیسا شخص (اپنے علاقے سے) نہ تو نکل سکتا ہے اور نہ ہی اسے نکالا جا سکتا ہے۔ آپ ضرورت مند کی مدد کرتے ہیں، رشتہ داری کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں، دوسروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، حق کے کاموں میں مدد کرتے ہیں، میں آپ کو پناہ دیتا ہوں۔“ پھر ابن دغنہ وہاں سے سوار ہو کر آیا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ واپس آ گئے۔ وہ کفارِ قریش کے پاس گیا اور اس نے ان سے کہا: ”ابوبکر جیسا شخص (اپنے علاقے سے) نہ تو نکل سکتا ہے اور نہ اس جیسے شخص کو نکالا جا سکتا ہے۔ وہ ضرورت مند کی مدد کرتا ہے، ان کا خیال رکھتا ہے، دوسروں کا وزن اٹھاتا ہے، مہمان نوازی کرتا ہے، حق کے کاموں میں مدد کرتا ہے۔“ تو قریش نے ابن دغنہ کی دی ہوئی پناہ کو برقرار رکھا۔ انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امان دے دی۔ انہوں نے ابن دغنہ سے کہا کہ وہ ابوبکر سے کہے: ”وہ اپنے گھر میں اپنے پروردگار کی عبادت کرے اور وہاں جتنی چاہے نماز ادا کرے اور جتنی چاہے تلاوت کرے، لیکن ہمیں تکلیف نہ پہنچائے۔ وہ اعلانیہ طور پر اپنے گھر سے باہر نماز ادا نہ کرے اور تلاوت نہ کرے۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ایسا ہی کرتے رہے، پھر ان کو مناسب لگا تو انہوں نے اپنے صحن میں مسجد بنا لی۔ وہاں وہ نماز ادا کیا کرتے تھے اور قرآن کی تلاوت کرتے تھے، تو مشرکین کی خواتین اور بچے وہاں آ جاتے اور حیران ہوتے تھے اور ان کی طرف دیکھتے رہتے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بہت زیادہ رویا کرتے تھے، جب قرآن کی تلاوت کرتے تھے تو ان کی آنکھوں پر قابو نہیں رہتا تھا۔ قریش نے ابن دغنہ کو پیغام بھیجا کہ وہ ان کے پاس آئے۔ قریش نے کہا: ”ہم نے ابوبکر کو اس شرط پر پناہ دی تھی کہ وہ اپنے گھر میں اپنے پروردگار کی عبادت کرے گا۔ اب اس نے مسجد بنا لی ہے اور وہ اعلانیہ طور پر نماز پڑھتا ہے اور تلاوت کرتا ہے۔ ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ وہ ہمارے نوجوان بچوں کو آزمائش کا شکار کر دے گا، تم اس کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ وہ اپنے گھر میں اپنے پروردگار کی عبادت کرنے پر اکتفا کرے۔ اگر وہ نہیں مانتا اور اعلانیہ طور پر ایسا کرنا چاہتا ہے تو پھر وہ تمہاری دی ہوئی پناہ واپس کر دے، کیونکہ ہمیں یہ بات پسند نہیں ہے کہ ہم تمہاری دی ہوئی پناہ کی خلاف ورزی کریں اور ہم ابوبکر کو اعلانیہ طور پر ایسا کرنے کی اجازت بھی نہیں دے سکتے۔“ ابن دغنہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: ”آپ یہ بات جانتے ہیں کہ میں نے آپ کے بارے میں ایک بات کا ذمہ لیا تھا، یا تو آپ اس پر اکتفا کریں یا پھر میری دی ہوئی پناہ مجھے واپس کر دیں، کیونکہ مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ عرب یہ بات سنیں کہ میں نے ایک شخص کو پناہ دینے کے بعد اس سے واپس لے لی۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں اللہ اور اس کے رسول کی پناہ سے راضی ہوں۔“ (راوی کہتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں مقیم تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے فرمایا: ”تمہارا ہجرت کا مقام مجھے (خواب میں) دکھایا گیا ہے۔ مجھے دکھایا گیا ہے کہ وہ ایک شور والی زمین ہے جس میں کھجوروں کے باغات بہت ہیں اور اس کے دونوں کناروں پر پتھریلی زمین ہے۔“ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا تذکرہ کیا تو جن لوگوں نے ہجرت کرنی تھی وہ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کر گئے اور حبشہ کی سرزمین کی طرف جن لوگوں نے ہجرت کی تھی ان میں سے کچھ لوگ مدینہ آ گئے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی ہجرت کے لیے ساز و سامان تیار کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوبکر! ابھی انتظار کرو، مجھے یہ امید ہے کہ مجھے بھی اس کی اجازت مل جائے گی۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیا آپ کو یہ امید ہے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں۔“ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دینے کے لیے خود کو روک لیا۔ وہ اپنی دو اونٹنیوں کو چارہ کھلاتے رہے، وہ انہیں ببول کے پتے کھلایا کرتے تھے۔ ایسا چار ماہ تک ہوتا رہا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک دن کسی نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منہ ڈھانپ کر تشریف لائے تھے اور یہ ایک ایسا وقت تھا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم عام طور پر ہمارے ہاں نہیں آتے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، اگر آپ اس وقت میں تشریف لائے ہیں تو ضرور کسی اہم کام کے سلسلے میں آئے ہوں گے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی، آپ کی خدمت میں اجازت پیش کی گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے۔ آپ نے فرمایا: ”اے ابوبکر! اپنے پاس موجود لوگوں کو باہر نکال دو۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! صرف میرے اہل خانہ ہی ہیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے، پھر آپ نے بتایا مجھے اجازت دے دی گئی ہے۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”میرے والد آپ پر قربان ہوں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں ساتھ دوں؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے والد آپ پر قربان ہوں، آپ ان دونوں میں سے ایک اونٹنی لے لیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے، لیکن یہ قیمت کے عوض ہو گی۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم نے ان دونوں کے لیے بہترین زادِ راہ تیار کیا۔ ہم نے ان دونوں کے لیے چمڑے کے کھانے کا تھیلا تیار کیا۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے اپنے ازار بند کو کاٹ کر اس کے ذریعے اس تھیلے کا منہ باندھا، اسی وجہ سے ان کا نام «ذَاتُ النِّطَاقَيْنِ» ”دو پٹکوں والی“ پڑ گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک پہاڑ پر موجود غار تک پہنچ گئے جس کا نام ثور تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین دن تک وہاں قیام پذیر رہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6277]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 476، 2138، 2263، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 265، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6277، 6868، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4285، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4083، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10465، وأحمد فى (مسنده) برقم: 26265» «رقم طبعة با وزير 6244»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ - «مختصر البخاري». فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين