🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
38. فَضِيلَةُ ثَلَاثَةِ صُفُوفٍ فِي صَلَاةِ الْجِنَازَةِ
نمازِ جنازہ میں تین صفیں قائم ہونے کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1359
أخبرنا أحمد بن سَلْمان بن الحسن الفقيه، حدثنا الحسن بن مُكْرَم، حدثنا رَوْح بن عُبادة، حدثنا سعيد بن عبيد الله بن جُبَير بن حَيَّة، حدثني عمِّي زياد بن جُبَير بن حيَّة، حدثني أبي جُبَير بن حيَّة الثقفي، أنه سَمِع المغيرة بن شعبةَ يقول: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"الراكبُ خلفَ الجنازةِ، والماشي قريبًا منها، والطفل يُصلَّى عليه (3) . رواه يونس بن عُبيد عن زياد بن جُبَير:
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: سوار جنازے کے پیچھے چلے، اور پیدل چلنے والا اس کے قریب رہے، اور بچے کی بھی نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1359]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1360
أخبرَناه علي بن حمشاذَ العَدْل، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن بشار، حدثنا أبو همَّام محمد بن الزِّبْرِقان، حدثنا يونس بن عُبيد، عن زياد بن جُبَير بن حيَّة، عن أبيه، عن المغيرة بن شعبة - قال يونس: وحدثني بعضُ أهله أنه رَفَعَه إلى النبي ﷺ قال: الراكبُ يَسيرُ خلفَ الجنازةِ، والماشي عن يَمينِها وشِمالِها قريبًا (1) ، والسِّقْط يُصلَّى عليه ويُدعَى لوالديه بالعافيةِ والرَّحمة (2) . قال إبراهيم بن أبي طالب في عَقِب هذا الحديث: قولُ (3) يُونُس بن عُبيد:"وحدثني بعضُ أهله أنه رَفَعه إلى النبي ﷺ" روايةٌ ليونُسَ بن عُبيد عن سعيد بن عُبيدِ الله بن جُبير بن حَيَّة.
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، فقد احتجَّ في"الصحيح" بحديث المعتمِر، عن سعيد بن عُبيد الله، عن زياد بن جُبَير، عن جُبَير بن حيَّة، عن المغيرة، الحديث الطويل (4) . وشاهد هذه الأحاديث حديثُ إسماعيل بن مُسلِم المكي عن أبي الزُّبير:
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوار جنازے کے پیچھے چلے، اور پیدل چلنے والا اس کے دائیں اور بائیں طرف سے قریب ہو کر چلے، اور «سقط» (ناتمام بچہ جو مردہ پیدا ہو) کی بھی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور اس کے والدین کے لیے عافیت اور رحمت کی دعا کی جائے گی۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے، کیونکہ انہوں نے اپنی صحیح میں معتمر کی روایت سے اسی سند کے ساتھ ایک طویل حدیث نقل کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1360]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
39. إِذَا اسْتَهَلَّ الصَّبِيُّ وُرِثَ وَصُلِّيَ عَلَيْهِ
اگر بچہ پیدائش کے وقت آواز نکالے (زندہ پیدا ہو) تو وہ وارث ہوگا اور اس کی نمازِ جنازہ بھی پڑھی جائے گی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1361
أخبرَناه عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا إسماعيل المكِّي، عن أبي الزُّبير، عن جابر، قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا استَهَلَّ الصبيُّ وُرِّثَ وصُلِّيَ عليه" (1) . الشيخان لم يحتجَّا بإسماعيل بن مسلم.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بچہ (پیدا ہوتے ہی) چیخ مارے تو وہ وارث بھی بنے گا اور اس کی نمازِ جنازہ بھی پڑھی جائے گی۔
شیخین نے اسماعیل بن مسلم سے احتجاج نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1361]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1362
حدثنا أحمد بن إسحاق بن أيوب الفقيه، حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُمَيدي، حدثنا سفيان، حدثنا يحيى بن سعيد، عن محمد بن يحيى بن حَبّان، عن أبي عَمْرةَ، عن زيد بن خالد الجُهَنيِّ قال: كنّا مع النبي ﷺ بخَيبَر، فمات رجلٌ منّا من أشجَعَ، فقال رسول الله ﷺ:"صَلُّوا عليه"، فذهبنا ننظُرُ، فوجدنا خَرَزًا من خَرَزِ يهودَ، ما يُساوي دِرهَمَين (1) . رواه الناس عن يحيى بن سعيد. أبو عَمْرةَ هذا: رجلٌ من جُهَينةَ معروفٌ بالصِّدق، ولم يُخرجاه.
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم خیبر (کی جنگ) کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، تو ہم میں سے قبیلہ اشجع کا ایک شخص فوت ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے اس ساتھی کی نمازِ جنازہ پڑھ لو (میں نہیں پڑھوں گا)۔ ہم نے جب اس کی وجہ جاننے کے لیے تلاشی لی تو اس کے سامان سے یہودیوں کے (مالِ غنیمت کے) منکوں میں سے کچھ منکے ملے جن کی قیمت دو درہم کے برابر بھی نہ تھی۔
اس حدیث کو لوگوں نے یحییٰ بن سعید سے روایت کیا ہے، اور یہ ابو عمرہ جہنی نامی شخص ہیں جو سچائی میں مشہور ہیں، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1362]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1363
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الأصبهاني، حدثنا أحمد بن مِهْران بن خالد الأصبهاني، حدثنا عُبيد الله بن موسى، حدثنا إسرائيل، عن سِمَاك بن حَرْب، عن جابر بن سَمُرة قال: مات رجلٌ على عهد النبي ﷺ فأتاه رجلٌ، فقال: مات فلان، فقال له النبي ﷺ:"لم يَمُتْ"، ثم أتاه الثانيةَ، فقال: مات فلان، فقال رسول الله ﷺ:"لم يَمُتْ"، ثم أتاه الثالثةَ، فقال: مات فلان، فقال رسول الله ﷺ:"كيف مات؟" قال: نَحَرَ نفسَه بمِشْقَصٍ كان معه، فلم يُصلِّ عليه النبيُّ ﷺ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک شخص کا انتقال ہوا تو ایک آدمی نے آ کر عرض کیا: فلاں شخص فوت ہو گیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: وہ نہیں مرا۔ وہ شخص دوسری بار آیا اور عرض کیا کہ فلاں فوت ہو گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: وہ نہیں مرا۔ جب وہ تیسری مرتبہ آیا اور کہا کہ فلاں فوت ہو گیا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: وہ کیسے مرا؟ اس نے بتایا کہ اس نے اپنے پاس موجود چوڑے پھل والے تیر «مِشْقَصٍ» کے ذریعے خودکشی کر لی ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھائی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا! [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1363]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1364
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سُلَيمان المُرَاديّ، حدثنا أَسَدُ بن موسى. وأخبرنا جعفر بن محمد بن نُصَير الخُلْدي ببغداد، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا سليمان بن داود الهاشمي؛ قالا: حدثنا إبراهيم بن سعد، عن أبيه، عن عبد الله بن أبي قتادةَ، عن أبيه أبي قتادةَ قال: كان النبيُّ ﷺ إذا دُعِي إلى جنازةٍ سأل عنها، فإن أُثني عليها خيرٌ صلَّى عليها، وإن أُثني عليها غيرُ ذلك قال لأهلها:"شأنَكم بها"، ولم يُصلِّ عليها (1) .
هذا حديثٌ صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی جنازے کے لیے بلایا جاتا تو آپ اس (میت) کے بارے میں دریافت فرماتے، اگر اس کی تعریف خیر کے ساتھ کی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نمازِ جنازہ پڑھاتے، اور اگر اس کے علاوہ کچھ اور (برائی) بیان کی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے گھر والوں سے فرما دیتے: تم ہی اس کا معاملہ دیکھو، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اس کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھاتے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1364]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1365
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب بن يوسف الحافظ إملاءً، حدثنا أبو أحمد محمد بن عبد الوهاب العَبْدي، حدثنا أبو الحسين سُرَيج بن النُّعمان الجَوْهَري، حدثنا فُلَيح بن سليمان، عن سعيد بن عُبيد بن السَّبَّاق، عن أبي سعيد الخُدْري قال: قد كنَّا مَقْدَمَ النبيِّ ﷺ إذا حُضِر منّا الميتُ، آذنَّا النبيَّ ﷺ فَحَضَرَه واستغفَرَ له، حتى إذا قُبِض انصرَفَ النبيُّ ﷺ ومن معه حتى يُدفَن، وربما طالَ حَبْسُ ذلك على نبيِّ الله ﷺ، فلما خَشِينا مشقَّةَ ذلك عليه قال بعضُ القوم لبعض: لو كنا لا نُؤذِنُ النبيَّ ﷺ بأحدٍ حتى يُقبَضَ، فإذا قُبِضَ آذنّاه، فلم يكن عليه في ذلك مشقَّةٌ ولا حبسٌ، ففعلنا ذلك، وكنا نُؤذِنُه بالميت بعد أن يموت، فيأتيهِ فيصلِّي عليه، فربما انصَرَفَ، وربما مَكَثَ حتى يُدفَنَ الميت، فكنا على ذلك حِينًا، ثم قلنا: لو لم نُشخِصِ النبيَّ ﷺ وحملنا جنازتَنا إليه حتى يصلِّيَ عليه عند بيته، لكان ذلك أرفَقَ به، ففعلنا، فكان ذلك الأمرُ إلى اليوم (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وقد أمليتُه فيما مضى مختصرًا.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ) تشریف لائے تو ہمارا طریقہ یہ تھا کہ جب ہم میں سے کسی کی وفات کا وقت قریب آتا تو ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مطلع کرتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے اور اس کے لیے استغفار کرتے یہاں تک کہ جب اس کی روح قبض ہو جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی تدفین تک وہیں رہتے، بسا اوقات اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں بہت دیر تک رکنا پڑتا، جب ہمیں اس بات سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مشقت کا اندیشہ ہوا تو بعض لوگوں نے بعض سے کہا: اگر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت تک اطلاع نہ دیں جب تک کہ روح قبض نہ ہو جائے، اور روح قبض ہونے کے بعد آپ کو بتائیں تو اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر مشقت اور طویل انتظار کا بوجھ نہیں ہوگا، چنانچہ ہم نے ایسا ہی کرنا شروع کر دیا اور میت کے فوت ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مطلع کرتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے اور اس کی نمازِ جنازہ پڑھاتے، پھر کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے جاتے اور کبھی تدفین تک وہیں رکتے، ہم ایک عرصے تک اسی طریقے پر رہے، پھر ہم نے آپس میں کہا: اگر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف نہ دیں اور اپنے جنازے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جائیں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے پاس ہی ان کی نمازِ جنازہ پڑھا دیا کریں تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے زیادہ سہولت کی بات ہوگی، چنانچہ ہم نے یہی طریقہ اپنا لیا اور وہ معاملہ آج تک اسی طرح چلا آ رہا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور میں نے اسے پہلے مختصراً املاء کروایا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1365]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
40. صَلَاةُ الْجِنَازَةِ فِي الْبَيْتِ
نمازِ جنازہ گھر میں ادا کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1366
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الحسن بن مُهاجِر، حدثنا أبو الطّاهر وهارون بن سعيد، قالا: حدثنا عبد الله بن وَهْب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن عُمَارة بن غَزِيَّة، عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة، عن أبيه: أنَّ أبا طلحةَ دعا رسولَ الله ﷺ إلى عُمير بن أبي طلحة، حين تُوفِّي، فأتاهم رسولُ الله ﷺ، فصلَّى عليه في منزلهم، فتقدَّم رسولُ الله ﷺ، وكان أبو طلحة وراءَه وأمُّ سُليم وراءَ أبي طلحة، ولم يكن معهم غيرُهم (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، وسُنَّةٌ غريبةٌ في إباحة صلاة النساء على الجنائز، ولم يُخرجاه.
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (اپنے بیٹے) عمیر بن ابی طلحہ کی وفات پر بلایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور ان کے گھر میں ہی اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے کھڑے ہوئے، ابوطلحہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اور امِ سلیم ابوطلحہ کے پیچھے کھڑی ہوئیں، اور ان کے علاوہ وہاں کوئی اور موجود نہ تھا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اور یہ ایک نایاب (غریب) سنت ہے جو عورتوں کے جنازے کی نماز پڑھنے کے جواز پر دلالت کرتی ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1366]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
41. ذِكْرُ شَهَادَةِ حَمْزَةَ وَالصَّلَاةِ عَلَيْهِ
سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت اور ان پر نماز پڑھنے کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1367
أخبرنا أبو محمد عبد الله بن إسحاق بن إبراهيم العدلُ ببغداد، حدثنا عبد الله بن رَوْح المَدائني، حدثنا عثمان بن عمر. وأخبرنا عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا رَوْح بن عُبادة، قالا: حدثنا أسامة بن زيد، عن الزُّهري، عن أنسٍ، قال: لما كان يومُ أُحدٍ، مرَّ رسول الله ﷺ بحمزةَ بنِ عبد المطلب وقد جُدِعَ ومُثِّلَ [به] (2) ، فقال:"لولا أن تَجِدَ صفيّةُ تركتُه حتى يَحشُرَه الله من بُطون الطير والسِّباع"، فكفَّنه في نَمِرةٍ إذا خُمِّر رأسُه بَدَتْ رِجْلاه، وإذا خُمِّرت رجلاه بَدَا رأسُه، فخَمَّر رأسَه، ولم يُصلِّ على أحدٍ من الشهداء غيرِه، وقال:"أنا شاهدٌ عليكم اليومَ"، وكان يَجمَع الثلاثةَ والاثنين في قبرٍ واحدٍ، ويَسألُ:"أيُّهم أكثر قرآنًا؟" فيقدِّمُه في اللَّحْد، وكَفَّن الرَّجُلين والثلاثةَ في الثوب الواحد (1) .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب احد کا دن تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے جبکہ ان کے کان ناک وغیرہ کاٹ کر ان کا مثلہ کر دیا گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر صفیہ (حمزہ کی بہن) کے رنجیدہ ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں اسی طرح چھوڑ دیتا یہاں تک کہ اللہ انہیں پرندوں اور درندوں کے پیٹ سے (قیامت کے دن) اٹھاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک کملی «نَمِرَةٍ» میں کفن دیا جس سے اگر سر ڈھانپا جاتا تو پاؤں کھل جاتے اور اگر پاؤں ڈھانپے جاتے تو سر کھل جاتا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا سر ڈھانپ دیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علاوہ کسی اور شہید پر نماز نہیں پڑھی، اور فرمایا: میں آج تم پر گواہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو اور تین افراد کو ایک ہی قبر میں جمع فرما دیتے تھے اور دریافت فرماتے: ان میں سے کسے قرآن زیادہ یاد ہے؟ تو اسے لحد میں آگے رکھتے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو اور تین آدمیوں کو ایک ہی کپڑے میں کفن دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1367]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
42. الصَّلَاةُ عَلَى شُهَدَاءِ أُحُدٍ
اُحد کے شہداء پر نماز پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1368
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني أسامة بن زيد اللَّيثي، أنَّ ابن شهاب حدَّثه، أنَّ أنس بن مالك حدَّثه: أنَّ شهداء أُحدٍ لم يُغَسَّلوا، ودُفِنوا بدِمائِهم، ولم يُصلَّ عليهم (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، قد أخرج البخاريُّ وحده (1) حديث الزهري، عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك، عن جابر: أنَّ النبي ﷺ لم يصلِّ عليهم، ليس فيه هذه الألفاظ المجموعة التي تفرَّدَ بها أسامة بن زيد الليثي عن الزهري، قد اتفقا جميعًا (2) على إخراج حديث الليث بن سعد، عن يزيد بن أبي حَبيب، عن أبي الخَير، عن عُقْبة بن عامر الجُهَني: أنَّ النبيَّ ﷺ صلَّى على قتلى أُحدٍ صلاتَه على الميِّت، فالله أعلم. حدثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً، في شوَّال سنةَ خَمْسٍ وتسعين وثلاث مئة:
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ شہدائے احد کو غسل نہیں دیا گیا، انہیں ان کے خون سمیت ہی دفن کر دیا گیا اور ان پر نمازِ جنازہ نہیں پڑھی گئی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، امام بخاری نے تنہا زہری کے واسطے سے جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر نماز نہیں پڑھی، لیکن اس میں وہ جامع الفاظ نہیں ہیں جنہیں اسامہ بن زید لیثی نے زہری سے روایت کرنے میں انفرادیت حاصل کی ہے، اور ان دونوں (بخاری و مسلم) نے لیث بن سعد کی عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی اس حدیث پر اتفاق کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہدائے احد پر اس طرح نماز پڑھی جیسے میت پر پڑھی جاتی ہے، پس اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1368]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں