المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
35. الْمُؤْمِنُ يَمُوتُ بِعَرَقِ الْجَبِينِ
مؤمن کی موت پیشانی کے پسینے کے ساتھ ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 1349
حدثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق، حدثنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد. وأخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبَري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن المثنَّى ومحمد بن بشار وعُبيد الله بن سعيد؛ قالوا: حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا المثنَّى بن سعيد، عن قتادة، عن عبد الله بن بُريدَة، عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ:"المؤمنُ يموتُ بعَرَق الجَبِين" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی موت ماتھے پر پسینہ آنے کے ساتھ ہوتی ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1349]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1349]
36. تَقْبِيلُ الْمَيِّتِ
میت کو بوسہ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1350
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمَّاك، حدثنا الحسن بن سلَّام، حدثنا قَبِيصة بن عُقبة، حدثنا سفيان. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرحمن، عن سفيان، عن عاصم بن عُبيد الله، عن القاسم بن محمد، عن عائشة: أنَّ النبي ﷺ قبَّل عثمانَ بن مَظْعون وهو ميت وهو يبكي، قال: وعيناه تُهْراقانِ (1) .
هذا حديث مُتداوَلٌ بين الأئمة إلّا أنَّ الشيخين لم يحتجّا بعاصم بن عُبيد الله، وشاهدُه الصحيح المعروف حديث عبد الله بن عباس، وجابر بن عبد الله، وعائشة: أنَّ أبا بكرٍ الصدِّيق قبَّل النبيَّ ﷺ وهو ميتٌ (2) .
هذا حديث مُتداوَلٌ بين الأئمة إلّا أنَّ الشيخين لم يحتجّا بعاصم بن عُبيد الله، وشاهدُه الصحيح المعروف حديث عبد الله بن عباس، وجابر بن عبد الله، وعائشة: أنَّ أبا بكرٍ الصدِّيق قبَّل النبيَّ ﷺ وهو ميتٌ (2) .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا بوسہ لیا جبکہ وہ فوت ہو چکے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم (غم سے) رو رہے تھے، راوی بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔
یہ حدیث ائمہ کے ہاں متداول اور مقبول ہے لیکن شیخین نے عاصم بن عبید اللہ سے احتجاج نہیں کیا، جبکہ اس کی معروف صحیح شاہد حدیث سیدنا عبداللہ بن عباس، سیدنا جابر بن عبداللہ اور سیدہ عائشہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بوسہ لیا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا چکے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1350]
یہ حدیث ائمہ کے ہاں متداول اور مقبول ہے لیکن شیخین نے عاصم بن عبید اللہ سے احتجاج نہیں کیا، جبکہ اس کی معروف صحیح شاہد حدیث سیدنا عبداللہ بن عباس، سیدنا جابر بن عبداللہ اور سیدہ عائشہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بوسہ لیا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا چکے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1350]
37. الْمِسْكُ أَطْيَبُ الطِّيبِ
مشک سب خوشبوؤں میں سب سے عمدہ ہے۔
حدیث نمبر: 1351
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب حدثنا محمد بن سِنَان القزَّاز، حدثنا أبو داود الطيالسي، حدثنا شُعبة. وحدثنا علي بن حَمْشاذ العدل، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا أبو عمر الحَوْضي ومسلم بن إبراهيم، قالا: حدثنا شعبة. وأخبرنا أبو علي الحافظ، حدثنا علي بن العباس البَجَلي، حدثنا أبو كُرَيب، حدثنا وكيع، عن شعبة، عن خُلَيد بن جعفر، عن أبي نَضْرة، عن أبي سعيد الخُدْري قال: قال رسول الله ﷺ:"أطيبُ الطِّيبِ المِسْكُ" (1) . تابعه المستمِرُّ بن الرَّيّان عن أبي نَضْرة:
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین خوشبو کستوری ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1351]
حدیث نمبر: 1352
أخبرَناه عبد الصمد بن علي البزَّاز ببغداد، حدثنا حامد بن سَهْل، حدثنا أبو مَعمَر، حدثنا عبد الوارث عن المُستمِرِّ بن الرَّيّان، عن أبي نَضْرة، عن أبي سعيد الخُدْرِي: أنَّ النبي ﷺ سُئِل عن المِسْك، فقال:"هو أطيَبُ طِيبِكم" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ خُلَيدَ بن جعفر والمُستَمِرَّ بن الرَّيّانِ عِدادُهما في الثِّقات، ولم يُخرجا عنهما. وله شاهدٌ عن علي بن أبي طالب، وإليه ذهب أحمد بن حنبل:
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ خُلَيدَ بن جعفر والمُستَمِرَّ بن الرَّيّانِ عِدادُهما في الثِّقات، ولم يُخرجا عنهما. وله شاهدٌ عن علي بن أبي طالب، وإليه ذهب أحمد بن حنبل:
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کستوری کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تمہاری خوشبوؤں میں سے بہترین خوشبو ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، کیونکہ خلید بن جعفر اور مستمر بن ریان کا شمار ثقہ راویوں میں ہوتا ہے، اگرچہ شیخین نے ان سے روایت نہیں کی۔ اس کی ایک شاہد حدیث سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے اور امام احمد بن حنبل کا بھی یہی مسلک ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1352]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، کیونکہ خلید بن جعفر اور مستمر بن ریان کا شمار ثقہ راویوں میں ہوتا ہے، اگرچہ شیخین نے ان سے روایت نہیں کی۔ اس کی ایک شاہد حدیث سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے اور امام احمد بن حنبل کا بھی یہی مسلک ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1352]
حدیث نمبر: 1353
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن أيوب، حدثنا إبراهيم بن موسى، حدثنا حُمَيد بن عبد الرحمن الرُّؤَاسي، حدثنا الحسن بن صالح، عن هارون بن سعد، عن أبي وائل قال: كان عند عليٍّ مِسكٌ، فأوصَى أن يُحنَّط به. قال: وقال علي وهو فَضْلُ حَنوط رسول الله ﷺ (1) .
سیدنا ابو وائل بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس کستوری تھی، انہوں نے وصیت فرمائی کہ انہیں اسی سے حنوط (میت کی خوشبو) لگائی جائے، اور علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حنوط کا بچا ہوا حصہ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1353]
حدیث نمبر: 1354
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا أبو معاوية. وحدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيه، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيبة، حدثنا أبو معاوية، حدثنا أبو بُرْدة، عن عَلْقَمة بن مَرْثَد، عن ابن بُرَيدة، عن أبيه قال: لما أَخَذوا في غَسْل رسول الله ﷺ، ناداهم مُنادٍ من الدَّاخل: لا تَنزِعُوا عن رسول الله ﷺ قَميصَه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه. وأبو بُرْدةَ هذا: هو بُريدُ بن عبد الله بن أبي بردة بن أبي موسى الأشعري، محتجٌّ به في"الصحيحين" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه. وأبو بُرْدةَ هذا: هو بُريدُ بن عبد الله بن أبي بردة بن أبي موسى الأشعري، محتجٌّ به في"الصحيحين" (2) .
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینا شروع کیا تو اندر سے ایک پکارنے والے نے آواز دی: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قمیص مبارک نہ اتارنا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور ان راویوں میں موجود ابو بردہ دراصل برید بن عبداللہ بن ابی بردہ بن ابی موسیٰ اشعری ہیں جو کہ صحیحین کے مرکزی راوی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1354]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور ان راویوں میں موجود ابو بردہ دراصل برید بن عبداللہ بن ابی بردہ بن ابی موسیٰ اشعری ہیں جو کہ صحیحین کے مرکزی راوی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1354]
حدیث نمبر: 1355
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا مَعمَر، عن الزُّهري، عن سعيد بن المسيّب قال: قال عليُّ بن أبي طالب: غسلتُ رسول الله ﷺ، فذهبتُ أنظُرُ ما يكون من الميِّت فلم أرَ شيئًا، وكان طيِّبًا ﵌ حيًّا وميتًا. وَلِيَ دَفْنَه وإجنانَه دون الناس أربعةٌ: عليٌّ، والعباسُ، والفضلُ، وصالحٌ مولى رسول الله ﷺ، ولُحِدَ لرسولِ الله ﷺ لَحْدًا، ونُصِبَ عليه اللَّبِنَ نصبًا (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجا منه غيرَ اللَّحد (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجا منه غيرَ اللَّحد (1) .
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دیا، میں وہ (آثار) دیکھنا چاہتا تھا جو میت کے معاملے میں پیش آتے ہیں مگر مجھے ایسی کوئی چیز نظر نہ آئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی اور وفات دونوں حالتوں میں پاکیزہ اور معطر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین اور قبر میں اتارنے کی سعادت لوگوں کے بجائے ان چار افراد کے حصے میں آئی: علی، عباس، فضل اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام صالح رضی اللہ عنہم۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بغلی قبر (لحد) تیار کی گئی اور اس پر کچی اینٹیں (لبن) کھڑی کی گئیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس میں سے صرف لحد والا حصہ ہی روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1355]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس میں سے صرف لحد والا حصہ ہی روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1355]
38. فَضِيلَةُ ثَلَاثَةِ صُفُوفٍ فِي صَلَاةِ الْجِنَازَةِ
نمازِ جنازہ میں تین صفیں قائم ہونے کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 1356
أخبرنا أبو محمد عبد الله بن محمد بن إسحاق الخُزاعي بمكة، حدثنا عبد الله بن أحمد بن أبي مَسَرّة، حدثنا عبد الله بن يزيد المُقرئُ، حدثنا سعيد بن أبي أيوب، عن شُرَحْبيل بن شَرِيكَ المَعافِري، عن عُلَيِّ بن رباح اللَّخْمي، عن أبي رافع قال: قال رسول الله ﷺ:"من غَسّل ميّتًا فكَتَم عليه، غُفِر له أربعين مرةً، ومن كفَّن ميتًا، كَسَاه الله من سُندسِ وإسْتَبرقِ الجنة، ومن حَفَر لميتٍ قبرًا وأَجنَّه فيه، أُجريَ له من الأجر كأجرِ مَسْكَنٍ سَكَّنه إلى يوم القيامة" (1) .
هذا حديث صحيحٌ على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيحٌ على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی میت کو غسل دیا اور اس کے عیوب کی پردہ پوشی کی، اللہ تعالیٰ اس کی چالیس مرتبہ مغفرت فرمائے گا، اور جس نے کسی میت کو کفن پہنایا، اللہ تعالیٰ اسے جنت کے باریک اور دبیز ریشم کے لباس پہنائے گا، اور جس نے کسی میت کے لیے قبر کھودی اور اسے اس میں دفن کیا، تو اس کے لیے قیامت تک ایسے اجر کا سلسلہ جاری کر دیا جاتا ہے جیسے اس نے اسے رہنے کے لیے مکان دے دیا ہو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1356]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1356]
حدیث نمبر: 1357
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون حدثنا محمد بن إسحاق. وأخبرنا يحيى بن منصور القاضي، حدثنا محمد بن محمد بن رجاء بن السِّنْدي، حدثنا يعقوب بن إبراهيم، حدثنا إسماعيل ابن عُلَيّة، عن محمد بن إسحاق، عن يزيد بن أبي حَبِيب، عن مَرْثَد بن عبد الله اليَزَني، عن مالك بن هُبَيرة - وكانت له صحبة - قال: كان إذا أُتي بجنازةٍ ليُصلِّي عليها، فتقالَّ أهلَها، جزّأَهم صفوفًا ثلاثة، فصلَّى بهم عليها، ويقول: إنَّ رسول الله ﷺ قال:"ما صَفَّ صفوفٌ ثلاثةٌ من المسلمين على جنازةٍ، إلَّا أَوجَبَته". هذا لفظ حديث ابن عُلَيّة، وفي حديث المحبوبي:"إلّا غُفِر له" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا مالک بن ہبیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ان کے پاس کوئی جنازہ لایا جاتا اور شرکاء کم ہوتے تو وہ ان کی تین صفیں بنا دیتے، پھر ان پر نماز جنازہ پڑھاتے اور فرماتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جس مسلمان کے جنازے پر تین صفیں بن جائیں، اس کے لیے (جنت) واجب ہو گئی۔“ ابن علیہ کی روایت کے لفظ «اوجبته» ہیں جبکہ محبوبی کی روایت میں «الا غفر له» (مگر اس کی مغفرت کر دی گئی) کے الفاظ ہیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1357]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1357]
حدیث نمبر: 1358
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيه حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا محمد بن سعيد الأصبهاني، حدثنا شَرِيك، عن عبد الله بن عيسى بن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن عبد الله بن جَبْر (1) ، عن أنس بن مالكٍ، قال: كان غلامٌ يهوديٌّ يَخدُمُ النبي ﷺ، فمَرِض فعاده، وقال:"قل: أشهدُ أن لا إله إلّا الله وأنكَ رسول الله" فنظر الغلامُ إلى أبيه فقال: قل ما يقولُ لك محمد. قال: فلمَّا مات، قال رسول الله ﷺ:"صَلُّوا على أخيكُم" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی لڑکا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا، وہ بیمار ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے اور فرمایا: ”کہو کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور (میرے متعلق کہو) کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔“ اس لڑکے نے اپنے باپ کی طرف دیکھا تو باپ نے کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) جو کہہ رہے ہیں اسے مان لو۔ جب وہ لڑکا (کلمہ پڑھ کر) فوت ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے اس بھائی کی نمازِ جنازہ پڑھو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1358]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1358]