المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
56. الْأَمْرُ بِخَلْعِ النِّعَالِ فِي الْقُبُورِ
قبروں میں جوتے اتارنے کا حکم۔
حدیث نمبر: 1399
أخبرَناه بكر بن محمد بن حَمْدان الصَّيْرفي، حدثنا عبد الصمد بن الفَضْل البَلْخي، حدثنا عبد الله بن يزيد المُقرئ، حدثنا حَيْوَةُ، أخبرني رَبيعةُ بن سَيفٍ المَعافِري، عن أبي عبد الرحمن الحُبُليّ، عن عبد الله بن عمرو: أنَّ رسول الله ﷺ أبصَرَ امرأةً منصرِفةً من جنازةٍ، فسألها:"من أينَ جِئتِ؟" فقالت: من تَعزيةِ أهل هذا الميِّت، فقال رسولُ الله ﷺ:"واللهِ لو بَلَغتِ معهم الكُدَى ما رأيتِ الجنةَ حتى يراها جَدُّ أبيكِ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو دیکھا جو جنازے سے واپس آ رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”تم کہاں سے آئی ہو؟“ اس نے کہا: اس میت کے گھر والوں سے تعزیت کر کے آ رہی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر تم ان کے ساتھ قبرستان تک چلی جاتیں تو تم جنت نہ دیکھتیں یہاں تک کہ تمہارے باپ کا دادا اسے دیکھ لیتا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1399]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1399]
حدیث نمبر: 1400
أخبرني أبو بكر أحمد بن كامل بن خَلَف القاضي، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو الوليد ومسلم بن إبراهيم، قالا: حدثنا شُعبة. وحدثنا أبو بكر محمد بن أحمد (2) بن بالَوَيه، حدثنا أبو المُثنَّى العَنْبري، حدثنا يحيى بن مَعِين، حدثنا يحيى بن سعيد ومحمد بن جعفر، قالا: حدثنا شعبة، عن محمد بن جُحَادة، عن أبي صالح، عن ابن عباس قال: لَعَنَ رسولُ الله ﷺ زائراتِ القُبور والمتَّخِذِين عليها المساجدَ والسُّرُج (1) . قال الحاكم: أبو صالح هذا ليس بالسَّمَّان المحتجِّ به، إنما هو باذانُ، ولم يَحتجَّ به الشيخان، لكنه حديثٌ متداوَلٌ فيما بين الأئمة، ووجدتُ له متابعًا من حديث سفيان الثوري في متن الحديث فخرَّجته:
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر اور ان (قبروں) پر مسجدیں بنانے اور چراغ جلانے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔
امام حاکم فرماتے ہیں: یہ ابوصالح وہ ”سمان“ نہیں ہیں جن سے احتجاج کیا جاتا ہے بلکہ یہ باذان ہیں جن سے شیخین نے احتجاج نہیں کیا، لیکن یہ حدیث ائمہ کے درمیان مقبول و متداول ہے، اور مجھے متن میں سفیان ثوری کی حدیث سے اس کا متابع ملا ہے تو میں نے اسے درج کر دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1400]
امام حاکم فرماتے ہیں: یہ ابوصالح وہ ”سمان“ نہیں ہیں جن سے احتجاج کیا جاتا ہے بلکہ یہ باذان ہیں جن سے شیخین نے احتجاج نہیں کیا، لیکن یہ حدیث ائمہ کے درمیان مقبول و متداول ہے، اور مجھے متن میں سفیان ثوری کی حدیث سے اس کا متابع ملا ہے تو میں نے اسے درج کر دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1400]
57. الرُّخْصَةُ فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ
قبروں کی زیارت کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1401
حدَّثَناه أبو العباس أحمد بن هارون الفقيه إملاءً، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا أبو حذيفة، حدثنا سفيان، عن عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، عن عبد الرحمن بن بَهْمان، عن عبد الرحمن بن حسَّان بن ثابت، عن أبيه قال: لَعَنَ رسولُ الله ﷺ زوَّاراتِ القُبور (2) . وهذه الأحاديث المرويَّة في النهي عن زيارة القبور منسوخة، والناسخُ لها حديثُ علقمة بن مَرثَد، عن سليمان بن بُرَيدة، عن أبيه، عن النبي ﷺ:"قد كنتُ قد نهيتُكم عن زيارة القُبور، ألا فزُورُوها، فقد أَذِنَ الله تعالى لنبيِّهِ ﷺ في زيارة قبرِ أُمِّه". وهذا الحديث مخرَّج في الكتابين الصحيحين للشيخين ﵄ (1) .
سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی۔
امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: قبروں کی زیارت کی ممانعت کے بارے میں مروی یہ احادیث منسوخ ہیں، اور ان کو منسوخ کرنے والی حدیث علقمہ بن مرثد کی ہے جو انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، خبردار! اب ان کی زیارت کیا کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی اجازت عطا فرما دی ہے۔“ اور یہ حدیث شیخین کی دونوں صحیح کتب میں موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1401]
امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: قبروں کی زیارت کی ممانعت کے بارے میں مروی یہ احادیث منسوخ ہیں، اور ان کو منسوخ کرنے والی حدیث علقمہ بن مرثد کی ہے جو انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، خبردار! اب ان کی زیارت کیا کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی اجازت عطا فرما دی ہے۔“ اور یہ حدیث شیخین کی دونوں صحیح کتب میں موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1401]
حدیث نمبر: 1402
وقد حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان. وحدثنا أبو العباس، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم؛ قالا: أخبرنا عبد الله بن وَهْب، أخبرني أسامة بن زيد، أنَّ محمد بن يحيى بن حَبّان الأنصاري أخبره، أنَّ واسعَ بنَ حَبَّان حدّثه، أنَّ أبا سعيدٍ الخُدْري حدثه، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"نَهيتُكم عن زيارة القُبور فزُوروها، فإنَّ فيها عِبرةً، ونهيتُكم عن النَّبيذ، ألا فانْبِذُوا، ولا أُحِلُّ مُسكِرًا، ونهيتُكم عن لحوم الأضاحيِّ، فكُلُوا وادَّخِروا" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، اب تم ان کی زیارت کیا کرو کیونکہ اس میں عبرت ہے، اور میں نے تمہیں نبیذ (پھلوں کے شربت) سے منع کیا تھا، پس اب تم اسے بنا لیا کرو لیکن میں کسی بھی نشہ آور چیز کو حلال نہیں کرتا، اور میں نے تمہیں قربانی کا گوشت (ذخیرہ کرنے) سے منع کیا تھا، اب تم اسے کھاؤ اور ذخیرہ بھی کرو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1402]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1402]
حدیث نمبر: 1403
وحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وَهْب، أخبرني ابن جُرَيج، عن أيوب بن هانئ، عن مسروق بن الأجْدَع، عن عبد الله بن مسعود، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إنِّي كنتُ نهيتُكم عن زيارة القُبور، وأكلِ لُحومِ الأضاحيِّ فوقَ ثلاثٍ، وعن نَبيذِ الأوعية، ألا فزُورُوا القُبور فإنها تُزهِّد في الدنيا وتُذكِّر الآخرة، وكلوا لحومَ الأضاحيِّ وأَبقُوا ما شِئتُم، فإنما نهيتُكم عنه إذِ الخيرُ قليلٌ، تَوسِعةً على الناس، ألا إنَّ وعاءً لا يُحرِّم شيئًا، فإِنَّ كلَّ مُسكِرٍ حرامٌ" (1) .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے، تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے اور مخصوص برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع کیا تھا، خبردار! اب قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ دنیا سے بے رغبتی پیدا کرتی ہے اور آخرت کی یاد دلاتی ہے، اور قربانی کا گوشت کھاؤ اور جتنا چاہو بچا کر رکھو، میں نے تو تمہیں اس وقت منع کیا تھا جب (تنگدستی کی وجہ سے) خیر کم تھی تاکہ لوگوں کے لیے وسعت پیدا ہو، خبردار! کوئی برتن خود سے کسی چیز کو حرام نہیں کرتا بلکہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1403]
حدیث نمبر: 1404
حدثنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن عمرو البزّاز ببغداد، حدثنا محمد بن شاذانَ الجَوهَريُّ، حدثنا زكريا بن عَدِيٍّ، حدثنا سَلَّام بن سُلَيم، عن يحيى الجابر، عن عمرو بن عامر، عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله ﷺ:"نَهيتُكم عن زيارة القُبور فزُورُوها، فإنها تُذكِّركم الموتَ" (2) .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، اب تم ان کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ تمہیں موت کی یاد دلاتی ہیں۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1404]
58. زِيَارَةُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - قَبْرَ أُمِّهِ
رسولُ اللہ ﷺ کا اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کرنا۔
حدیث نمبر: 1405
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفَّار، حدثنا أبو بكر بن أبي الدُّنيا، حدثنا أحمد بن عِمْران الأخْنَسي، حدثنا يحيى بن يَمَان، عن سفيان، عن علقمة بن مَرْثَد، عن سليمان بن بُرَيدة، عن أبيه قال: زار النبيُّ ﷺ قبرَ أُمِّه في ألفِ مُقنَّعٍ، فلم يُرَ باكيًا أكثرَ من يومِئذٍ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہزار نقاب پوش سواروں کے جھرمٹ میں اپنی والدہ کی قبر کی زیارت فرمائی، اور اس دن سے بڑھ کر کبھی کسی کو روتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1405]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1405]
حدیث نمبر: 1406
حدثنا أبو عبد الله محمدُ بنُ يعقوب الحافظ وأبو الفَضْل الحسن بن عقوب العَدْل، قالا: حدثنا محمد بن عبد الوهاب الفَرَّاء، أخبرنا يعلى بن عُبَيد، حدثنا أبو مُنَيْن يَزيدُ بن كَيْسان، عن أبي حازم، عن أبي هريرةَ، قال: زارَ رسولُ الله ﷺ قبر أُمِّه فبكى وأَبكَى مَن حولَه، ثم قال:"استأذنتُ ربِّي أن أَزورَ قبرَها فأذِنَ لي، واستأذنتُه أن أستغفِرَ لها فلم يُؤذَن لي، فزُورُوا القبورَ فإنها تُذكِّر الموت" (1) . وهذا الحديث صحيحٌ على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت فرمائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رو پڑے اور اپنے ارد گرد موجود لوگوں کو بھی رلا دیا، پھر فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے ان کی قبر کی زیارت کی اجازت مانگی تو اس نے مجھے اجازت دے دی، اور میں نے ان کے لیے بخشش کی دعا کرنے کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت نہیں دی گئی، پس تم قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ موت کی یاد دلاتی ہیں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1406]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1406]
حدیث نمبر: 1407
أخبرنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا أبو شُعيب عبد الله بن الحسن الحَرَّاني، حدثنا عبد الله بن محمد النُّفَيلي، حدثنا زهير، حدثنا زُبَيد، عن مُحارِب بن دِثَار، عن ابن بُريدةَ، عن أبيه قال: كنَّا مع رسول الله ﷺ قريبًا من ألفِ راكبٍ، فنزل بنا فصلَّى بنا ركعتين، ثم أقبَلَ علينا بوَجهِه وعيناه تَذْرِفان، فقام إليه عمر ففدَّاه بالأم والأب يقول: ما لك يا رسول الله؟ قال:"إنِّي استأذنتُ ربِّي ﷿ في الاستغفار لأُمِّي، فلم يأذَنْ لي، فدَمَعَ عينايَ رحمةً لها، واستأذنتُ ربِّي في زيارتها فأَذِنَ لي، وإنِّي كنتُ قد نَهيتُكم عن زيارةِ القبور فزُورُوها، ولْيزِدْكُم زيارتُها خيرًا" (1) . و
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تقریباً ایک ہزار سواروں کی معیت میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس اترے اور ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف اپنا رخِ انور پھیرا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھے اور اپنے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا کرتے ہوئے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کو کیا ہوا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب عزوجل سے اپنی والدہ کے لیے استغفار کی اجازت مانگی تو اس نے مجھے اجازت نہیں دی، اس لیے ان کی محبت میں میری آنکھیں بھر آئیں، اور میں نے ان کی زیارت کی اجازت مانگی تو اس نے مجھے اجازت دے دی، اور میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، اب تم ان کی زیارت کیا کرو، اور ان کی زیارت تمہارے لیے خیر میں اضافے کا باعث ہونی چاہیے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1407]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1407]
حدیث نمبر: 1408
حدثنا أبو بكر أحمد (2) بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المثنَّى معاذُ بن المثنَّى، حدثنا محمد بن مِنْهالٍ الضَّرير، حدثنا يزيد بن زُرَيع، حدثنا بِسْطام بن مُسلِم، عن أبي التَّيَّاح يزيد بن حُمَيد، عن عبد الله بن أبي مُلَيكةَ: أنَّ عائشةَ أقبلَتْ ذات يومٍ من المقابر، فقلتُ لها: يا أُمَّ المؤمنين، من أين أقبلتِ؟ قالت: مِن قبرِ أخي عبدِ الرحمن بن أبي بكر، فقلتُ لها: أليس كان رسولُ الله ﷺ نَهَى عن زيارة القبور؟ قالت: نعم، كان نَهَى ثم أمَر بزيارتها (1) .
سیدنا عبداللہ بن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ایک دن قبرستان کی طرف سے آ رہی تھیں، میں نے ان سے عرض کیا: اے ام المؤمنین! آپ کہاں سے آ رہی ہیں؟ انہوں نے فرمایا: اپنے بھائی عبدالرحمن بن ابوبکر کی قبر سے۔ میں نے عرض کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت سے منع نہیں فرمایا تھا؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا لیکن بعد میں ان کی زیارت کا حکم دے دیا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1408]