المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
6. مَنْ صَامَ الشَّكَّ فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ -
جس نے شک کے دن روزہ رکھا اس نے ابو القاسم ﷺ کی نافرمانی کی۔
حدیث نمبر: 1556
أخبرنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيبةَ، حدثنا أبو خالد الأحمر، عن عمرو بن قيس المُلَائي، عن أبي إسحاق، عن صِلَةَ بن زُفَرَ قال: كنَّا عند عمَّار بن ياسر فأمَرَ بشاةٍ مَصْليَّةٍ، فقال: كُلُوا، فتنحَّى بعضُ القوم فقال: إنِّي صائم، فقال عمّار: مَن صامَ يومَ الشَّكِّ فقد عَصَى أبا القاسم ﷺ (2) .
هذا حديث صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
صلہ بن زفر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے، انہوں نے بھنی ہوئی بکری لانے کا حکم دیا اور فرمایا: ”کھاؤ“، تو مجمع میں سے کچھ لوگ پیچھے ہٹ گئے اور کہا کہ ہم روزے سے ہیں، اس پر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جس نے شک والے دن روزہ رکھا، اس نے یقیناً ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1556]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1556]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي، من أجل أبي خالد الأحمر: وهو سليمان بن حيان. أبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السَّبيعي.» [ترقيم الرساله 1556] [ترقيم الشركة 1547]
الحكم على الحديث: إسناده قوي
حدیث نمبر: 1557
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو البَخْتَري عبدُ الله بن محمد بن شاكر، حدثنا الحسين بن علي الجُعْفي، حدثنا زائدة، عن سِمَاك بن حَرْب، عن عِكرِمة، عن ابن عباسٍ قال: جاء أعرابيٌّ إلى النبي ﷺ فقال: إِنِّي رأيتُ الهلال - يعني هلالَ رمضان - فقال:"أتشهدُ أن لا إلهَ إِلَّا الله؟" قال: نعم، قال:"أتشهدُ أنَّ محمدًا رسولُ الله؟" قال: نعم، قال:"يا بلالُ، أذِّن في الناس أن يَصُوموا غدًا" (1) . تابعه سفيانُ الثَّوريُّ وحمَّاد بن سَلَمة عن سِمَاك بن حرب. أما حديث الثوري:
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے چاند یعنی رمضان کا چاند دیکھ لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں؟“ اس نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم گواہی دیتے ہو کہ محمد اللہ کے رسول ہیں؟“ اس نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بلال! لوگوں میں اعلان کر دو کہ وہ کل روزہ رکھیں۔“
امام سفیان ثوری اور حماد بن سلمہ نے سماک بن حرب سے اس کی متابعت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1557]
امام سفیان ثوری اور حماد بن سلمہ نے سماک بن حرب سے اس کی متابعت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1557]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات إلّا أنَّ في بعض روايات سماك عن عكرمة اضطرابًا، وقد اختُلف عليه في هذا الحديث، فرواه بعضهم مرسلًا وبعضهم موصولًا، ورجَّح الأكثر المرسل، إلَّا أنَّ له شاهدًا من حديث ابن عمر سلف قبلُ بحديثين. زائدة: هو ابن قدامة.» [ترقيم الرساله 1557] [ترقيم الشركة 1548]
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 1558
فحدَّثَناه عبد الباقي بن قانِع الحافظ، حدثنا الحسن بن علي بن شَبِيب المَعْمَري، حدثنا محمد بن بكَّار العَيْشي (2) ، حدثنا أبو عاصم، عن سفيان، عن سِمَاك، عن عِكْرِمة، عن ابن عباسٍ قال: جاء رجلٌ أعرابيٌّ ليلةَ هلالِ رمضان، فقال: يا رسول الله، إنِّي قد رأيتُ الهلال، فقال:"تشهدُ أن لا إله إلَّا الله، وتشهدُ أنَّ محمدًا رسولُ الله؟" قال: نعم، قال:"فنادِ في الناس أن يَصُوموا" (3) . وهكذا رواه الفضل بن موسى عن سفيان الثوري:
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رمضان کے چاند کی رات ایک اعرابی حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے چاند دیکھ لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں؟“ اس نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر لوگوں میں پکار دو کہ وہ روزہ رکھیں۔“
اسی طرح فضل بن موسیٰ نے سفیان ثوری سے اسے روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1558]
اسی طرح فضل بن موسیٰ نے سفیان ثوری سے اسے روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1558]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره كسابقه. أبو عاصم: هو الضحاك بن مخلد النبيل.» [ترقيم الرساله 1558] [ترقيم الشركة 1549]
الحكم على الحديث: حسن لغيره ك
حدیث نمبر: 1559
أخبرَناه الحسن بن حَلِيم، أخبرنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا الفضل بن موسى، حدثنا سفيان الثَّوري، عن سِمَاك، عن عِكْرِمة، عن ابن عباس قال: جاء أعرابيٌّ ليلةَ هلالِ رمضان، فقال: يا رسولَ الله، قد رأيتُ الهلال، فقال:"أتشهدُ أن لا إله إلَّا الله، وأني رسولُ الله؟" قال: نعم، قال:"فنادِ أن يَصُوموا" (1) . أما حديث حماد بن سَلَمة:
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رمضان کے چاند کی رات ایک اعرابی حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے چاند دیکھ لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں؟“ اس نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پس اعلان کر دو کہ لوگ روزہ رکھیں۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1559]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره كسابقيه. أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفزاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان بن جبلة، وعبدان لقبه.» [ترقيم الرساله 1559] [ترقيم الشركة 1550]
الحكم على الحديث: حسن لغيره كسابقيه. أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفزاري
حدیث نمبر: 1560
فأخبرَناه أحمد بن محمد بن سَلَمَة العَنَزي، عن عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن سِمَاك، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنهم شَكُّوا في هلال رمضان، فأرادوا أن لا يَقومُوا ولا يَصومُوا، فجاء أعرابيٌّ من الحَرّةِ فشَهِدَ أنه رأى الهلال، فأمرَ النبيُّ ﷺ بلالًا فنادى في الناس: أن يقوموا ويصوموا (2) . قد احتجَّ البخاريُّ بأحاديث عكرمة، واحتجَّ مسلمٌ بأحاديث سِمَاك بن حرب وحمّاد بن سَلَمة، وهذا الحديث صحيح، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ لوگوں کو رمضان کے چاند کے متعلق شک ہوا اور انہوں نے ارادہ کیا کہ (ثبوت نہ ہونے کی بنا پر) نہ تو قیام کریں گے اور نہ ہی روزہ رکھیں گے، اتنے میں حرہ کے علاقے سے ایک اعرابی آیا اور اس نے گواہی دی کہ اس نے چاند دیکھا ہے، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے لوگوں میں پکار کر اعلان کیا کہ وہ قیام بھی کریں اور روزہ بھی رکھیں۔
امام بخاری نے عکرمہ کی احادیث سے استدلال کیا ہے اور امام مسلم نے سماک بن حرب اور حماد بن سلمہ کی احادیث سے، اور یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1560]
امام بخاری نے عکرمہ کی احادیث سے استدلال کیا ہے اور امام مسلم نے سماک بن حرب اور حماد بن سلمہ کی احادیث سے، اور یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1560]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره كسابقه. موسى بن إسماعيل: هو أبو سلمة التَّبوذكي.» [ترقيم الرساله 1560] [ترقيم الشركة 1551]
الحكم على الحديث: حسن لغيره ك
حدیث نمبر: 1561
أخبرنا أبو بكر أحمد بن كامل بن خَلَف القاضي، حدثنا عبد الملك بن محمد بن عبد الله الرَّقاشي، حدثنا أبو غسان يحيى بن كَثِير العَنْبَري، حدثنا شعبة، عن سِمَاك قال: دخلتُ على عِكرِمةَ في اليوم الذي يُشَكُّ فيه من رمضان وهو يأكل، فقال: ادْنُ فكُلْ، قلت: إنِّي صائم، قال: واللهِ لَتدنُوَنَّ، قلت: فحدِّثْني، قال: حدَّثَني ابن عباسٍ، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لا تَستقبِلوا الشَّهرَ استِقبالًا، صُومُوا لِرُؤيتِهِ، وأفطِرُوا لِرُؤيتِه، فإن حالَ بينَكم وبينَ مَنظَرِه سحابةٌ أو قَتَرةٌ، فأكمِلُوا العِدّةَ ثلاثين" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
سماک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں رمضان کے شک والے دن عکرمہ رحمہ اللہ کے پاس گیا تو وہ کھانا کھا رہے تھے۔ انہوں نے کہا: ”قریب آؤ اور کھاؤ۔“ میں نے عرض کیا: ”میں روزے سے ہوں۔“ انہوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! تمہیں قریب آ کر کھانا ہی پڑے گا۔“ میں نے کہا: ”تو پھر مجھے کوئی حدیث سنائیے۔“ انہوں نے کہا: ”مجھ سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینے کا پیشگی استقبال نہ کرو، بلکہ چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر ہی افطار کرو، پھر اگر تمہارے اور چاند کے درمیان بادل یا غبار حائل ہو جائے تو تیس دن کی گنتی پوری کرو۔““
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1561]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1561]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، سماك - وهو ابن حرب الذهلي، وإن كان في بعض رواياته عن عكرمة كلام - قد توبع، وباقي رجاله ثقات. عبد الملك بن محمد الرقاشي: هو المشهور بأبي قلابة الرقاشي.» [ترقيم الرساله 1561] [ترقيم الشركة 1552]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
7. أَحْصُوا هِلَالَ شَعْبَانَ لِرَمَضَانَ
رمضان کے لیے شعبان کا چاند گننے (نظر رکھنے) کا حکم۔
حدیث نمبر: 1562
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا أبو معاوية، عن محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هريرةَ، قال: قالَ رسولُ الله ﷺ:"أَحصُوا هلالَ شعبانَ لِرمضان" (1) . صحيح علي شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان (کی تاریخوں کے تعین) کے لیے شعبان کے چاند کا حساب رکھا کرو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1562]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1562]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،من أجل محمد بن عمرو: وهو ابن علقمة الليثي، لكن قد أعل هذا الحديث أبو حاتم الرازي والترمذي كما سيأتي. يحيى بن يحيى: هو النيسابوري، وأبو معاوية: هو محمد بن خازم الضرير، وأبو سلمة: هو ابن عبد الرحمن.» [ترقيم الرساله 1562] [ترقيم الشركة 1553]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
8. الْفَجْرُ الْأَوَّلُ لَا يُحَرِّمُ الطَّعَامَ وَلَا يُحِلُّ الصَّلَاةَ
پہلا فجر کھانا حرام نہیں کرتا اور نہ ہی نماز کو حلال کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 1563
حدثنا أبو النَّضر الفقيه في آخَرِين من مشايخنا؛ قال أبو النَّضر: حدثنا إمامُ المسلمين في عصره أبو بكر محمد بن إسحاق بن خُزَيمة، أسكَنَه الله جنّتَه، حدثنا محمد بن علي بن مُحْرِز البغداديُّ بالفُسْطاط بخبرٍ غريبٍ، حدثنا أبو أحمد الزُّبيري، حدثنا سفيان، عن ابن جُرَيج، عن عطاء، عن ابن عباس قال: قالَ رسولُ الله ﷺ:"الفجرُ فجرانِ: فأما الأولُ فإنَّه لا يُحرِّم الطعامَ ولا يُحِلُّ الصلاة، وأما الثاني فإنه يُحرِّم الطعامَ، ويُحِلُّ الصلاة" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدُه:
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدُه:
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فجر دو طرح کی ہے: پہلی وہ جو (روزہ دار کے لیے) کھانا حرام نہیں کرتی اور نہ ہی اس سے (فجر کی) نماز حلال ہوتی ہے، اور دوسری وہ جو کھانا حرام کر دیتی ہے اور نماز کو حلال کر دیتی ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کا ایک شاہد درج ذیل حدیث ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1563]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کا ایک شاہد درج ذیل حدیث ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1563]
تخریج الحدیث: «صحيح موقوفًا على ابن عباس. أبو أحمد الزُّبيري: هو محمد بن عبد الله بن الزبير، وسفيان: هو الثوري، وابن جريج: هو عبد الملك بن عبد العزيز، وعطاء: هو ابن أبي رباح.» [ترقيم الرساله 1563] [ترقيم الشركة 1554]
الحكم على الحديث: صحيح موقوفًا على ابن عباس. أبو أحمد الزُّبيري: هو محمد بن عبد الله بن الزبير
حدیث نمبر: 1564
ما حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المُثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا ابن عُلَيَّة، عن عبد الله بن سَوَادةَ، عن أبيه، عن سَمُرةَ قال: قال النبيُّ ﷺ:"لا يَغُرَّنَّكم أذانُ بلالٍ، ولا هذا البياضُ لِعَمود الصُّبح، حتى يَستَطير" (2) .
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں بلال کی اذان دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ ہی صبح کا وہ لمبائی میں نظر آنے والا سفیدہ (بیاضِ عمودی) یہاں تک کہ وہ چوڑائی میں پھیل جائے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1564]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل سوادة والد عبد الله، وهو ابن حنظلة القشيري، فقد روى له مسلم هذا الحديث الواحد، وهو صدوق أبو بكر بن إسحاق: هو أحمد بن إسحاق، وأبو المثنى: هو معاذ بن المثنى العنبري، وابن علية: هو إسماعيل بن إبراهيم، وصحابيه سمرة: هو ابن جندب.» [ترقيم الرساله 1564] [ترقيم الشركة 1555]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
9. الِاسْتِعَانَةُ بِطَعَامِ السَّحَرِ عَلَى الصِّيَامِ وَبِالْقَيْلُولَةِ عَلَى الْقِيَامِ
روزے کے لیے سحری کے کھانے سے مدد لینے اور قیامِ اللیل کے لیے قیلولہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1565
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن سِنَان القَزَّاز، حدثنا أبو عامرٍ العَقَديُّ، حدثنا زَمْعةُ بن صالح، عن سَلَمة بن وَهْرام، عن عِكرِمة، عن ابن عباس قال: قال رسولُ الله ﷺ:"استَعِينوا بطعام السَّحَر على صيامِ النَّهار، وبقَيْلُولة النَّهار على قيام الليل" (1) . زَمعةُ بن صالح وسَلَمَةُ بن وَهْرامَ ليسا بالمتروكَين اللَّذَين لا يُحتَجُّ بهما، لكنَّ الشيخين لم يُخرجا عنهما، وهذا من غُرَر الحديث في هذا الباب.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دن کے روزے کے لیے سحری کے کھانے سے مدد لو، اور رات کے قیام کے لیے دوپہر کے آرام (قیلولہ) سے مدد حاصل کرو۔“
زمعہ بن صالح اور سلمہ بن وہرام ایسے متروک راوی نہیں ہیں جن سے احتجاج نہ کیا جا سکے، لیکن شیخین نے ان سے روایت نہیں لی، اور یہ اس باب کی بہترین احادیث میں سے ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1565]
زمعہ بن صالح اور سلمہ بن وہرام ایسے متروک راوی نہیں ہیں جن سے احتجاج نہ کیا جا سکے، لیکن شیخین نے ان سے روایت نہیں لی، اور یہ اس باب کی بہترین احادیث میں سے ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1565]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف زمعة بن صالح أبو عامر العقدي: هو عبد الملك بن عمرو.» [ترقيم الرساله 1565] [ترقيم الشركة 1556]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف