المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
9. الِاسْتِعَانَةُ بِطَعَامِ السَّحَرِ عَلَى الصِّيَامِ وَبِالْقَيْلُولَةِ عَلَى الْقِيَامِ
روزے کے لیے سحری کے کھانے سے مدد لینے اور قیامِ اللیل کے لیے قیلولہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1566
حدثنا أبو النَّضْر الفقيه، حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا عبد الأعلى بن حمَّاد النَّرْسي، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرةَ قال: قال رسولُ الله ﷺ:"إذا سَمِع أحدُكم النِّداءَ والإناءُ على يَدِه، فلا يَضَعْه حتى يَقضِيَ حاجتَه منه" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب کوئی اذان سنے اور اس وقت برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو وہ اس کو نہ رکھے یہاں تک کہ اپنی حاجت کو پورا کر لے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1566]
10. الْإِفْطَارُ مِنَ الْقَيْءِ
قے آنے سے روزہ ٹوٹنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1567
أخبرني أحمد بن عثمان بن يحيى الأَدَمي المُقرئ ببغداد وبَكْرُ بن محمد الصَّيرَفي بمَرْو، قالا: حدثنا أبو قِلابةَ الرَّقَاشي، حدثنا عبد الصَّمد بن عبد الوارث. وحدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل - واللفظ له - حدثنا الحسين بن محمد بن زياد، حدثنا محمد بن المُثنَّى العَنَزي، حدثنا عبد الصَّمد بن عبد الوارث، قال: سمعتُ أَبي يقول: حدثنا الحسين - وهو المُعلِّم - حدثنا يحيى بن أبي كَثِير، أنَّ أبا عمرٍو الأوزاعيَّ حدَّثه، أن يَعِيشَ بن الوليد حدَّثه، أن مَعْدانَ بن أبي طلحةَ حدَّثه، أنَّ أبا الدَّرداء حدَّثه: أنَّ النبيَّ ﷺ قاءَ فَأَفطَرَ، فلقيتُ ثَوبانَ في مسجد دمشق، فذكرتُ ذلك له، فقال: صَدَقَ، أنا صَبَبتُ له وَضوءَه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه لخلافٍ بين أصحاب عبد الصمد فيه، قال بعضُهم: عن يعيش بن الوليد عن أبيه عن معدان، وهذا وهمٌ من قائله، فقد رواه حرب بن شَدّاد وهشام الدَّستُوائي عن يحيى بن أبي كثير على الاستقامة. أما حديث حرب بن شدَّاد:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه لخلافٍ بين أصحاب عبد الصمد فيه، قال بعضُهم: عن يعيش بن الوليد عن أبيه عن معدان، وهذا وهمٌ من قائله، فقد رواه حرب بن شَدّاد وهشام الدَّستُوائي عن يحيى بن أبي كثير على الاستقامة. أما حديث حرب بن شدَّاد:
سیدنا معدان بن ابوطلحہ رضی اللہ عنہ، ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کا بیان نقل کرتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قے کی، اس کے بعد روزہ ختم کر دیا۔ پھر میں جامع مسجد دمشق میں سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مِلا تو یہ بات ان سے ذکر کی تو انہوں نے جواباً کہا: (ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے) سچ کہا ہے۔ (کیونکہ) اس وقت پانی میں نے ہی بہایا تھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اور ان کی اس حدیث کو نقل نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ عبدالصمد کے شاگردوں کا اس کی سند میں اختلاف ہے۔ بعض نے اس کی سند یعیش بن ولید پھر ان کے والد کے واسطے سے معدان کے واسطے سے بیان کی ہے۔ اور یہ اس کے قائل کا وہم ہے کیونکہ اسی حدیث کو حرب بن شداد اور ہشام الدستوائی نے یحیی بن ابی کثیر سے استقامت کے ساتھ روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1567]
حدیث نمبر: 1568
حدَّثَناه علي بن حَمْشاذ، حدثنا هشام بن عليّ السَّدُوسي، حدثنا عبد الله بن رَجَاء، حدثنا حرب بن شدَّاد، عن يحيى بن أبي كثير، عن عبد الرحمن بن عمرو، عن يَعِيش بن الوليد، عن مَعدانَ بن أبي طلحة، عن أبي الدَّرداء: أنَّ النبيَّ ﷺ قاءَ فأفطَرَ (1) . وأما حديث هشام:
سیدنا حرب بن شداد کی سند کے ہمراہ سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قے کی اور روزہ چھوڑ دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1568]
حدیث نمبر: 1569
فحدَّثَناه علي بن حَمْشاذ، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا بُنْدار، حدثنا أبو بَحْرٍ البَكْراوي، حدثنا هشام الدَّستُوائي، عن يحيى بن أبي كثير، قال: حدَّثني رجل من إخواننا - قال أبو بكر محمد بن إسحاق: يريد به الأوزاعيَّ - عن يَعِيش بن الوليد بن هشام، حدثني مَعْدان بن أبي طلحة، عن أبي الدَّرداء: أنَّ رسول الله ﷺ قاءَ فأفطَرَ (2) .
سیدنا ہشام رضی اللہ عنہ کی سند کے ہمراہ سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قے کی اور روزہ چھوڑ دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1569]
11. إِذَا اسْتَقَاءَ الصَّائِمُ أَفْطَرَ وَإِذَا ذَرَعَهُ الْقَيْءُ لَمْ يُفْطِرْ
اگر روزہ دار جان بوجھ کر قے کرے تو اس کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اور اگر بے اختیار قے آئے تو روزہ نہیں ٹوٹتا۔
حدیث نمبر: 1570
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن أبي داود البُرُلُّسي، حدثنا أبو سعيد يحيى بن سليمان الجُعْفي، حدثنا حفص بن غِيَاث، حدثنا هشام بن حسان، عن محمد بن سِيرِين، عن أبي هريرةَ قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا استَقاءَ الصائمُ أفطَرَ، وإذا ذَرَعَه القَيءُ لم يُفطِرْ" (1) . تابعه عيسى بن يونس عن هشام.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب روزہ دار خود قے کرے تو روزہ چھوڑ دے اور جب بلا قصد و ارادہ قے آ جائے تو روزہ نہیں چھوڑے۔ ٭٭ اس حدیث کو ہشام سے روایت کرنے میں عیسیٰ بن یونس نے حفص بن غیاث کی متابعت کی ہے۔ (ان کی روایت کردہ حدیث درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1570]
12. مَنْ ذَرَعَهُ الْقَيْءُ فَلَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءٌ وَمَنِ اسْتَقَاءَ فَلْيَقْضِ
جس کو بے اختیار قے آ جائے اس پر قضا نہیں، اور جو جان بوجھ کر قے کرے وہ قضا کرے۔
حدیث نمبر: 1571
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المُثنَّى، حدثنا مُسدَّد. وحدثنا أبو الوليد الفقيه، حدثنا الحسن بن سفيان وجعفر بن أحمد بن نصْر، قالا: حدثنا علي بن حُجْر؛ قالا: حدثنا عيسى بن يونس، عن هشام بن حسان، عن ابن سِيرين، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن ذَرَعَه القيءُ فليس عليه قضاءٌ، ومن استَقَاءَ فَلْيَقْضِ" (2) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس کو ازخود قے آ جائے اس پر اس روزہ کی قضاء نہیں ہے اور جو جان بوجھ کر قے کرے وہ اس روزہ کی قضا کرے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1571]
13. أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ
پچھنا لگانے والا اور جسے پچھنا لگایا گیا دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 1572
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن الوليد بن مَزْيَد البَيْروتي، حدثني أبي، حدثنا الأوزاعي، حدثني يحيى بن أبي كثير، حدثني أبو قِلابةَ، حدثني أبو أسماءَ، حدثني ثَوْبان قال: خرجتُ مع رسول الله ﷺ لثماني عشرةَ ليلةً خَلَتْ من شهر رمضان، فلمّا كان بالبَقيع نَظَرَ رسولُ الله ﷺ إلى رجلٍ يَحتجمُ، فقال رسول الله ﷺ:"أفطَرَ الحاجِمُ والمَحجُوم" (1) . قد أقام الأوزاعيُّ هذا الإسناد فجوَّده، وبيَّن سماعَ كلِّ واحدٍ من الرواة من صاحبه، وتابعه على ذلك شَيْبان بن عبد الرحمن النَّحْوي وهشام بن أبي عبد الله الدَّستُوائي، وكلُّهم ثقات، فإذًا الحديث صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. أما حديث شَيبان:
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اٹھارھویں روزے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جنت البقیع میں گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ پچھنے لگوا رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچھنے لگانے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ چکا ہے۔ ٭٭ امام اوزاعی نے اس اسناد کو قائم کیا ہے اور اس کو عمدہ قرار دیا ہے اور اس کے تمام راویوں کا ہر ایک سے سماع ثابت کیا ہے اور اس سلسلے میں شیبان بن عبدالرحمن الخوی اور ہشام بن ابی عبداللہ الدستوائی نے امام اوزاعی کی متابعت کی ہے اور یہ تمام راوی ثقہ ہیں۔ چنانچہ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1572]
حدیث نمبر: 1573
فأخبرَناه أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن عَمرَوَيهِ الصفَّار ببغدادَ من أصل كتابه، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا الحسن بن موسى الأشْيَب. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وعليُّ بن حَمْشاذَ العدلُ، قالا: حدثنا عبد الله ابن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا الحسن، عن (1) شَيْبان بن عبد الرحمن، عن يحيى بن أبي كثير، أخبرني أبو قِلابةَ، أنَّ أبا أسماءَ الرَّحَبيَّ حدثه، أنَّ ثَوبانَ مولى رسول الله ﷺ أخبره قال: بينما رسولُ الله ﷺ يمشي في البقيع في رمضان، إذ رأى رجلًا يحتجم، فقال:"أفطَرَ الحاجِمُ والمَحجُوم" (2) . قال أحمد بن حنبل: وهو أصحُّ ما رُويَ في هذا الباب. وأما حديث هشام الدَّستُوائي:
سیدنا شیبان رضی اللہ عنہ کی سند کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ثوبان رضی اللہ عنہ کا بیان ہے: ایک مرتبہ ماہِ رمضان المبارک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع میں جا رہے تھے کہ ایک شخص کو دیکھا جو پچھنے لگوا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچھنے لگانے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا ہے۔ ٭٭ امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں: اس باب میں مروی احادیث میں سب سے زیادہ صحیح حدیث یہی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1573]
حدیث نمبر: 1574
فأخبرنا أبو عمرو إسماعيل بن نُجَيد، حدثنا محمد بن أيوب، حدثنا أبو عمر الحَوْضي، حدثنا هشام. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، حدثنا أبو المُثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى، عن هشام، عن يحيى بن أبي كثير، عن أبي قِلَابة، أنَّ أبا أسماء الرَّحَبي حدثه، أنَّ ثوبان أخبره قال: بينما رسولُ الله ﷺ يمشي بالبَقِيع في رمضان، إذ رأى رجلًا يَحتجِم، فقال:"أفطَرَ الحاجمُ والمحجومُ" (3) . فهذه الأسانيد المبيَّن فيها سماعُ الرواة الذين هم ناقِلوها والثقاتِ الأثبات، لا تُعلَّل بخلافٍ يكون فيه بين المجروحين على أبي قلابة وغيره فيه. وعند يحيى بن أبي كثير فيه إسنادٌ آخر صحيحٌ على شرط الشيخين:
سیدنا ہشام رضی اللہ عنہ نے اپنی سند کے ہمراہ ثوبان وہی بیان نقل کیا ہے۔ ٭٭ یہ وہ اسانید ہیں جن کے ناقل راویوں کا سماع بالکل واضح ہے۔ اور ثقہ و ثبت راویوں کی احادیث کو ان کی ایسی مخالف احادیث کی وجہ سے معلل نہیں کہا جا سکتا جس کے متعلق مجروحین کے مابین ابوقلابہ اور دیگر محدثین رحمۃ اللہ علیہم پر اختلاف ہو اور یحیی بن ابی کثیر نے اس کو ایک اور سند کے ہمراہ نقل کیا ہے جو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار پر صحیح ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1574]
حدیث نمبر: 1575
أخبرَناه أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عبّاد، حدثنا عبد الرزاق. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق. وحدثني أبو بكر محمد بن جعفر المُزكِّي، حدثنا أبو بكر محمد بن إسحاق، حدثنا العباس بن عبد العظيم العَنْبري، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن يحيى بن أبي كثير، عن إبراهيم بن عبد الله بن قارِظ، عن السائب بن يزيد، عن رافع بن خَدِيج قال: قال رسول الله ﷺ:"أفطَرَ الحاجمُ والمحجومُ" (1) . وفي حديث إسحاق الدَّبَري: والمُستَحجِم. وقال أبو بكر محمد بن إسحاق في حديثه: سمعتُ العباس بن عبد العظيم يقول: سمعتُ عليَّ بن المَديني يقول: لا أعلمُ في الحاجم والمحجوم حديثًا أصحَّ من هذا (2) . تابعه معاويةُ بن سلَّام عن يحيى بن أبي كثير:
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پچھنے لگانے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ ٭٭ اور اسحاق الدبری کی روایت کردہ حدیث میں ” والمستحجم “ کے الفاظ ہیں۔ اور ابوبکر محمد بن اسحاق نے اس حدیث کے متعلق عباس بن عبدالعظیم کے حوالے سے علی بن المدینی کا یہ بیان نقل کیا ہے: (علی بن المدینی کہتے ہیں) میری معلومات کے مطابق اس موضوع پر اس سے زیادہ صحیح حدیث کوئی نہیں ہے۔ اس حدیث کو یحیی بن ابی کثیر سے روایت کرنے میں معاویہ بن سلام نے معمر کی متابعت کی ہے (ان کی روایت کردہ متابع حدیث درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1575]