المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
9. الِاسْتِعَانَةُ بِطَعَامِ السَّحَرِ عَلَى الصِّيَامِ وَبِالْقَيْلُولَةِ عَلَى الْقِيَامِ
روزے کے لیے سحری کے کھانے سے مدد لینے اور قیامِ اللیل کے لیے قیلولہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1566
حدثنا أبو النَّضْر الفقيه، حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا عبد الأعلى بن حمَّاد النَّرْسي، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرةَ قال: قال رسولُ الله ﷺ:"إذا سَمِع أحدُكم النِّداءَ والإناءُ على يَدِه، فلا يَضَعْه حتى يَقضِيَ حاجتَه منه" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی (فجر کی) اذان سنے اور برتن اس کے ہاتھ میں ہو، تو وہ اسے اس وقت تک نہ رکھے جب تک اپنی ضرورت پوری نہ کر لے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1566]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1566]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن عمرو» [ترقيم الرساله 1566] [ترقيم الشركة 1557]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
10. الْإِفْطَارُ مِنَ الْقَيْءِ
قے آنے سے روزہ ٹوٹنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1567
أخبرني أحمد بن عثمان بن يحيى الأَدَمي المُقرئ ببغداد وبَكْرُ بن محمد الصَّيرَفي بمَرْو، قالا: حدثنا أبو قِلابةَ الرَّقَاشي، حدثنا عبد الصَّمد بن عبد الوارث. وحدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل - واللفظ له - حدثنا الحسين بن محمد بن زياد، حدثنا محمد بن المُثنَّى العَنَزي، حدثنا عبد الصَّمد بن عبد الوارث، قال: سمعتُ أَبي يقول: حدثنا الحسين - وهو المُعلِّم - حدثنا يحيى بن أبي كَثِير، أنَّ أبا عمرٍو الأوزاعيَّ حدَّثه، أن يَعِيشَ بن الوليد حدَّثه، أن مَعْدانَ بن أبي طلحةَ حدَّثه، أنَّ أبا الدَّرداء حدَّثه: أنَّ النبيَّ ﷺ قاءَ فَأَفطَرَ، فلقيتُ ثَوبانَ في مسجد دمشق، فذكرتُ ذلك له، فقال: صَدَقَ، أنا صَبَبتُ له وَضوءَه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه لخلافٍ بين أصحاب عبد الصمد فيه، قال بعضُهم: عن يعيش بن الوليد عن أبيه عن معدان، وهذا وهمٌ من قائله، فقد رواه حرب بن شَدّاد وهشام الدَّستُوائي عن يحيى بن أبي كثير على الاستقامة. أما حديث حرب بن شدَّاد:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه لخلافٍ بين أصحاب عبد الصمد فيه، قال بعضُهم: عن يعيش بن الوليد عن أبيه عن معدان، وهذا وهمٌ من قائله، فقد رواه حرب بن شَدّاد وهشام الدَّستُوائي عن يحيى بن أبي كثير على الاستقامة. أما حديث حرب بن شدَّاد:
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قے ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ افطار فرما لیا۔ (راوی کہتے ہیں کہ) پھر میں دمشق کی مسجد میں سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: ”انہوں نے سچ کہا، میں نے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے لیے پانی ڈالا تھا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اس میں عبد الصمد کے شاگردوں کے اختلاف کی وجہ سے اسے روایت نہیں کیا۔ بعض نے «يعيش بن وليد عن ابيه عن معدان» روایت کیا ہے جو کہ وہم ہے، جبکہ حرب بن شداد اور ہشام دستوائی نے اسے «يعيش بن وليد عن معدان» کی درست سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1567]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اس میں عبد الصمد کے شاگردوں کے اختلاف کی وجہ سے اسے روایت نہیں کیا۔ بعض نے «يعيش بن وليد عن ابيه عن معدان» روایت کیا ہے جو کہ وہم ہے، جبکہ حرب بن شداد اور ہشام دستوائی نے اسے «يعيش بن وليد عن معدان» کی درست سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1567]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وهو وإن حصل فيه اضطراب كثير كما قال البيهقي، إلّا أنَّ البخاري قال: إنَّ حسينًا المعلم قد جوَّده، نقل ذلك عنه الترمذي في "العلل الكبير" (57)، وقال ابن التركماني في "الجوهر النقي" 1/ 144: وإذا أقام ثقةٌ إسنادًا اعتُمد، ولم يبال بالاختلاف، وكثير من أحاديث "الصحيحين" لم تسلم ...» [ترقيم الرساله 1567] [ترقيم الشركة 1558]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1568
حدَّثَناه علي بن حَمْشاذ، حدثنا هشام بن عليّ السَّدُوسي، حدثنا عبد الله بن رَجَاء، حدثنا حرب بن شدَّاد، عن يحيى بن أبي كثير، عن عبد الرحمن بن عمرو، عن يَعِيش بن الوليد، عن مَعدانَ بن أبي طلحة، عن أبي الدَّرداء: أنَّ النبيَّ ﷺ قاءَ فأفطَرَ (1) . وأما حديث هشام:
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قے ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ افطار فرما لیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1568]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل عبد الله بن رجاء» [ترقيم الرساله 1568] [ترقيم الشركة 1559]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 1569
فحدَّثَناه علي بن حَمْشاذ، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا بُنْدار، حدثنا أبو بَحْرٍ البَكْراوي، حدثنا هشام الدَّستُوائي، عن يحيى بن أبي كثير، قال: حدَّثني رجل من إخواننا - قال أبو بكر محمد بن إسحاق: يريد به الأوزاعيَّ - عن يَعِيش بن الوليد بن هشام، حدثني مَعْدان بن أبي طلحة، عن أبي الدَّرداء: أنَّ رسول الله ﷺ قاءَ فأفطَرَ (2) .
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قے ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ افطار فرما لیا۔ (ابوبکر بن اسحاق کہتے ہیں کہ یحییٰ بن ابی کثیر نے جس ”اپنے بھائی“ کا تذکرہ کیا ہے اس سے مراد امام اوزاعی ہیں)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1569]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي بحر البكراوي - واسمه: عبد الرحمن بن عثمان بن أمية - وباقي رجاله ثقات. بندار: هو محمد بن بشار، وأخرجه النسائي (3110) و (3111) من طريق النضر بن شميل، و (3114) من طريق معاذ بن هشام، و (3115) من طريق ابن أبي عدي، ...» [ترقيم الرساله 1569] [ترقيم الشركة 1560]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
11. إِذَا اسْتَقَاءَ الصَّائِمُ أَفْطَرَ وَإِذَا ذَرَعَهُ الْقَيْءُ لَمْ يُفْطِرْ
اگر روزہ دار جان بوجھ کر قے کرے تو اس کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اور اگر بے اختیار قے آئے تو روزہ نہیں ٹوٹتا۔
حدیث نمبر: 1570
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن أبي داود البُرُلُّسي، حدثنا أبو سعيد يحيى بن سليمان الجُعْفي، حدثنا حفص بن غِيَاث، حدثنا هشام بن حسان، عن محمد بن سِيرِين، عن أبي هريرةَ قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا استَقاءَ الصائمُ أفطَرَ، وإذا ذَرَعَه القَيءُ لم يُفطِرْ" (1) . تابعه عيسى بن يونس عن هشام.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جان بوجھ کر قے کی اس کا روزہ ٹوٹ گیا، اور جسے خود بخود قے آ جائے اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا۔“
عیسیٰ بن یونس نے ہشام سے اس کی متابعت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1570]
عیسیٰ بن یونس نے ہشام سے اس کی متابعت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1570]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل يحيى بن سليمان الجعفي، وقد توبع.» [ترقيم الرساله 1570] [ترقيم الشركة 1561]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
12. مَنْ ذَرَعَهُ الْقَيْءُ فَلَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءٌ وَمَنِ اسْتَقَاءَ فَلْيَقْضِ
جس کو بے اختیار قے آ جائے اس پر قضا نہیں، اور جو جان بوجھ کر قے کرے وہ قضا کرے۔
حدیث نمبر: 1571
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المُثنَّى، حدثنا مُسدَّد. وحدثنا أبو الوليد الفقيه، حدثنا الحسن بن سفيان وجعفر بن أحمد بن نصْر، قالا: حدثنا علي بن حُجْر؛ قالا: حدثنا عيسى بن يونس، عن هشام بن حسان، عن ابن سِيرين، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن ذَرَعَه القيءُ فليس عليه قضاءٌ، ومن استَقَاءَ فَلْيَقْضِ" (2) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے (روزے کی حالت میں) خود بخود قے آ جائے اس پر (اس روزے کی) قضا نہیں ہے، اور جس نے جان بوجھ کر قے کی وہ اس کی قضا کرے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1571]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1571]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو بكر بن إسحاق: اسمه أحمد، وأبو المثنى: هو معاذ بن المثنى، وأبو الوليد الفقيه: اسمه حسان بن محمد.» [ترقيم الرساله 1571] [ترقيم الشركة 1562]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
13. أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ
پچھنا لگانے والا اور جسے پچھنا لگایا گیا دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 1572
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن الوليد بن مَزْيَد البَيْروتي، حدثني أبي، حدثنا الأوزاعي، حدثني يحيى بن أبي كثير، حدثني أبو قِلابةَ، حدثني أبو أسماءَ، حدثني ثَوْبان قال: خرجتُ مع رسول الله ﷺ لثماني عشرةَ ليلةً خَلَتْ من شهر رمضان، فلمّا كان بالبَقيع نَظَرَ رسولُ الله ﷺ إلى رجلٍ يَحتجمُ، فقال رسول الله ﷺ:"أفطَرَ الحاجِمُ والمَحجُوم" (1) . قد أقام الأوزاعيُّ هذا الإسناد فجوَّده، وبيَّن سماعَ كلِّ واحدٍ من الرواة من صاحبه، وتابعه على ذلك شَيْبان بن عبد الرحمن النَّحْوي وهشام بن أبي عبد الله الدَّستُوائي، وكلُّهم ثقات، فإذًا الحديث صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. أما حديث شَيبان:
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رمضان کے مہینے کی اٹھارہ راتیں گزرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع کے مقام پر پہنچے تو ایک شخص کو پچھنے لگواتے (حجامت کرواتے) ہوئے دیکھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پچھنے لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔“
امام اوزاعی نے اس سند کو انتہائی عمدگی اور پختگی کے ساتھ بیان کیا ہے اور ہر راوی کا اپنے استاد سے سماع بھی واضح کیا ہے، اسی طرح ثقہ رواۃ کی ایک جماعت نے ان کی متابعت کی ہے، لہٰذا یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1572]
امام اوزاعی نے اس سند کو انتہائی عمدگی اور پختگی کے ساتھ بیان کیا ہے اور ہر راوی کا اپنے استاد سے سماع بھی واضح کیا ہے، اسی طرح ثقہ رواۃ کی ایک جماعت نے ان کی متابعت کی ہے، لہٰذا یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1572]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، إلّا أنَّه قد ثبت عند الأئمة نسخه، وقد وقع اضطراب في إسناده، قال الترمذي في "العلل الكبير" (208): قلت للبخاري: كيف بما فيه من الاضطراب؟ فقال: كلاهما عندي صحيح. انتهى، يعني حديثي ثوبان هذا وحديث شداد بن أوس الآتي بعد قليل، بل نقل الترمذي عن البخاري قوله: ليس ...» [ترقيم الرساله 1572] [ترقيم الشركة 1563]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1573
فأخبرَناه أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن عَمرَوَيهِ الصفَّار ببغدادَ من أصل كتابه، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا الحسن بن موسى الأشْيَب. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وعليُّ بن حَمْشاذَ العدلُ، قالا: حدثنا عبد الله ابن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا الحسن، عن (1) شَيْبان بن عبد الرحمن، عن يحيى بن أبي كثير، أخبرني أبو قِلابةَ، أنَّ أبا أسماءَ الرَّحَبيَّ حدثه، أنَّ ثَوبانَ مولى رسول الله ﷺ أخبره قال: بينما رسولُ الله ﷺ يمشي في البقيع في رمضان، إذ رأى رجلًا يحتجم، فقال:"أفطَرَ الحاجِمُ والمَحجُوم" (2) . قال أحمد بن حنبل: وهو أصحُّ ما رُويَ في هذا الباب. وأما حديث هشام الدَّستُوائي:
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں بقیع سے گزر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو پچھنے لگواتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: ”پچھنے لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔“
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس باب میں یہ سب سے صحیح ترین روایت ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1573]
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس باب میں یہ سب سے صحیح ترین روایت ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1573]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 1573] [ترقيم الشركة 1564]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1574
فأخبرنا أبو عمرو إسماعيل بن نُجَيد، حدثنا محمد بن أيوب، حدثنا أبو عمر الحَوْضي، حدثنا هشام. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، حدثنا أبو المُثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى، عن هشام، عن يحيى بن أبي كثير، عن أبي قِلَابة، أنَّ أبا أسماء الرَّحَبي حدثه، أنَّ ثوبان أخبره قال: بينما رسولُ الله ﷺ يمشي بالبَقِيع في رمضان، إذ رأى رجلًا يَحتجِم، فقال:"أفطَرَ الحاجمُ والمحجومُ" (3) . فهذه الأسانيد المبيَّن فيها سماعُ الرواة الذين هم ناقِلوها والثقاتِ الأثبات، لا تُعلَّل بخلافٍ يكون فيه بين المجروحين على أبي قلابة وغيره فيه. وعند يحيى بن أبي كثير فيه إسنادٌ آخر صحيحٌ على شرط الشيخين:
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں بقیع میں تشریف فرما تھے کہ ایک شخص کو حجامت (پچھنے) کرواتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: ”پچھنے لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔“
یہ اسانید جن میں ثقہ رواۃ کا سماع بالکل واضح ہے، ان پر ان لوگوں کے اختلاف کی وجہ سے کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا جو ابو قلابہ وغیرہ سے روایت کرنے میں مجروح (کمزور) رواۃ کے زمرے میں آتے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1574]
یہ اسانید جن میں ثقہ رواۃ کا سماع بالکل واضح ہے، ان پر ان لوگوں کے اختلاف کی وجہ سے کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا جو ابو قلابہ وغیرہ سے روایت کرنے میں مجروح (کمزور) رواۃ کے زمرے میں آتے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1574]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،محمد بن أيوب: هو ابن يحيى بن الضريس الرازي، وأبو عمر الحوضي: هو حفص بن عمر بن الحارث، وأبو المثنى: هو معاذ بن المثنى العنبري، ومسدد: هو ابن مسرهد، وشيخه يحيى: هو ابن سعيد القطان، وهشام: هو ابن أبي عبد الله الدستوائي، وأخرجه أبو داود (2367) عن مسدد، بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 1574] [ترقيم الشركة 1565]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1575
أخبرَناه أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عبّاد، حدثنا عبد الرزاق. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق. وحدثني أبو بكر محمد بن جعفر المُزكِّي، حدثنا أبو بكر محمد بن إسحاق، حدثنا العباس بن عبد العظيم العَنْبري، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن يحيى بن أبي كثير، عن إبراهيم بن عبد الله بن قارِظ، عن السائب بن يزيد، عن رافع بن خَدِيج قال: قال رسول الله ﷺ:"أفطَرَ الحاجمُ والمحجومُ" (1) . وفي حديث إسحاق الدَّبَري: والمُستَحجِم. وقال أبو بكر محمد بن إسحاق في حديثه: سمعتُ العباس بن عبد العظيم يقول: سمعتُ عليَّ بن المَديني يقول: لا أعلمُ في الحاجم والمحجوم حديثًا أصحَّ من هذا (2) . تابعه معاويةُ بن سلَّام عن يحيى بن أبي كثير:
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پچھنے لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔“ اسحاق دبری کی روایت میں ”پچھنے کی طلب کرنے والے“ کے الفاظ بھی منقول ہیں۔ ابوبکر بن اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے عباس بن عبدالعظیم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے علی بن مدینی کو یہ فرماتے ہوئے سنا: پچھنے لگانے اور لگوانے والے کے متعلق میں اس سے زیادہ صحیح کوئی حدیث نہیں جانتا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1575]
تخریج الحدیث: «إسناده جيد من أجل إبراهيم بن عبد الله بن قارظ. وهو في "مسند أحمد" 25/ (15828).» [ترقيم الرساله 1575] [ترقيم الشركة 1566]
الحكم على الحديث: إسناده جيد