المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
49. إِذَا تَزَوَّجَ الْعَبْدُ بِغَيْرِ إِذَنِ سَيِّدِهِ كَانَ عَاهِرًا
اگر غلام نے اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو وہ زانی شمار ہوگا
حدیث نمبر: 2823
أخبرنا أحمد بن سلمان الفقيه، قال: قُرئ على عبد الملك بن محمد وأنا أسمع، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثني أبي، حدثنا القاسم بن عبد الواحد، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن جابر بن عبد الله، قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا تَزوّج العبدُ بغير إذنِ سيّده، كان عاهرًا" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2787 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2787 - صحيح
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کوئی غلام اپنے آقا کی اجازت کے بغیر شادی کرے تو وہ زناکار ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2823]
حدیث نمبر: 2824
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أحمد بن محمد بن نصر، حدثنا أبو نُعيم وأبو غسان، قالا: حدثنا شَريك، عن أبي رَبيعة الإيادِي، عن ابن بُريدة، عن أبيه، قال: قال رسول الله ﷺ لعَليّ:"يا عليُّ، لا تُتْبعِ النَّظْرةَ النَّظْرَةَ، فَإِنَّ لك الأُولى وليست لك الآخرةُ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2788 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2788 - على شرط مسلم
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: (کسی غیرمحرمہ کی طرف) ایک نظر (جو اچانک پڑ جائے) کے بعد دوسری نظر (قصداً) مت ڈالو، کیونکہ پہلی (اچانک) نظر معاف ہے لیکن دوسری معاف نہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2824]
حدیث نمبر: 2825
أخبرنا أبو النضر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا عبد الله بن محمد النُّفَيلي، حدثنا مِسكين بن بُكير، حدثنا شعبة، عن يزيد بن خُمَير، عن عبد الرحمن بن جُبير بن نُفير، عن أبيه، عن أبي الدرداء: أنَّ رسول الله ﷺ كان في غزوة، فرأى امرأةً مُجِحَّة (1) ، فقال:"لعلَّ صاحبَها ألَمَّ بها؟" قالوا: نعم، قال:"لقد هَمَمتُ أن أَلْعنَه لعنةً تدخلُ معه في قبرِه، كيف يُورِّثه وهو لا يَحِلُّ له، وكيف يَستخدِمُه وهو لا يَحِلُّ له" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2789 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2789 - على شرط مسلم
سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ میں شریک تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خاتون کو دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لگتا ہے کہ اس کا شوہر اس کو تکالیف دیتا ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے جواب دیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا دل چاہتا ہے اس پر ایسی لعنت کروں جو قبر میں بھی اس کے ساتھ جائے۔ اس نے اس کو کس قدر بیماری میں مبتلا کر رکھا ہے حالانکہ یہ اس کے لیے جائز نہیں ہے اور یہ کس طرح اس سے خدمت لے رہا ہے حالانکہ یہ اس کے لیے جائز نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2825]
حدیث نمبر: 2826
أخبرَناهُ إسماعيلُ بن محمد بن الفضل، حدثنا جدي، حدثنا عمرو بن عَون، حدثنا شَريك، عن قيس بن وهب، عن أبي الوَدّاك، عن أبي سعيد الخُدْري، رفعه، أنه قال في سبايا أَوطاسٍ:"لا تُوطأُ حاملٌ حتى تَضَعَ، ولا غيرُ ذاتِ حَمْل حتى تَحيضَ حَيضة" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2790 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2790 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مرفوعاً بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ” اوطاس “ کی لونڈیوں کے متعلق ارشاد فرمایا: کسی حاملہ کے ساتھ بچہ پیدا ہونے سے پہلے وطی نہ کی جائے اور جس کو حمل نہ ہو اس کے ساتھ حیض آنے سے پہلے وطی نہ کی جائے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2826]
50. شَأْنُ نُزُولِ آيَةِ: (نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ)
آیت «تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں» کے نزول کا سبب
حدیث نمبر: 2827
أخبرنا أبو النضر الفقيه وأبو الحسن العَنَزي، قالا: حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا أبو الأصبَغ عبد العزيز بن يحيى الحرّاني، حدثنا محمد بن سلمة، عن محمد بن إسحاق، عن أبان بن صالح، عن مجاهد، عن ابن عباس، قال: إنَّ ابن عمر - واللهُ يغفرُ له - وَهِمَ، إنما كان هذا الحيُّ من الأنصار وهُم أهلُ وَثَن مع هذا الحي من اليهود وهم أهل كتاب، كانوا يَرَون لهم فضلًا عليهم، فكانُوا يَقتدُون بكثيرٍ من فِعْلهم، وكان مِن أمر أهل الكتاب أن لا يأتُوا النساءَ إلّا على حَرْفٍ واحدٍ، وذلك أستَرُ ما تكون المرأة، فكان هذا الحي من الأنصار قد أخذوا بذلك من فِعْلهم، وكان هذا الحي من قريش يَشْرَحُون النساء شَرْحًا منكرًا، ويتلذَّذون منهن مُقبِلاتٍ ومُدبِراتٍ ومُستلْقِياتٍ، فلما قَدِمَ المهاجرون المدينة، تزوج رجل منهم امرأةً من الأنصار، فذهب يصنعُ بها ذلك، فأنكرتْه عليه، وقالت: إنما كنا نُؤتى على حَرْفٍ، فاصنَعْ ذلك وإلّا فاجتَنِبْني، حتى شَرِيَ (1) أمرُهما، فبلغ ذاك رسولَ الله ﷺ، فأنزل الله ﵎: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾ [البقرة: 223] ، أي: مُقبِلات ومُدبِرات ومُستلْقِيات، يعني بذلك موضعَ الولد (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتفقا (2) على حديث محمد بن المُنكَدِر عن جابر في هذا الباب. هذا آخر كتاب النكاح، وأول كتاب الطلاق [كتاب الطلاق] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2791 - على شرط مسلم_x000D_ كِتَابُ الطَّلَاقِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتفقا (2) على حديث محمد بن المُنكَدِر عن جابر في هذا الباب. هذا آخر كتاب النكاح، وأول كتاب الطلاق [كتاب الطلاق] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2791 - على شرط مسلم_x000D_ كِتَابُ الطَّلَاقِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا وہم معاف فرمائے، انصاریوں کا یہ قبیلہ بت پرست تھا اور ان کے قریب اہل کتاب یہودیوں کا قبیلہ تھا، وہ لوگ اپنے آپ کو ان انصاریوں سے افضل سمجھتے تھے اور انصاری لوگ بہت سارے امور میں ان یہودیوں کی پیروی کیا کرتے تھے۔ اور اہلِ کتاب کی ایک عادت یہ تھی کہ وہ اپنی بیویوں سے صرف ایک ہی انداز میں ہمبستری کیا کرتے تھے اور وہ انداز ایسا تھا جس میں عورت کے پردہ کا انتہائی خیال رکھا جاتا تھا۔ تو انصاریوں کے اس قبیلے نے بھی ان کی اس عادت کو اپنا رکھا تھا جبکہ قریش کے اس قبیلے میں یہ عادت تھی کہ ان کے مرد عورتوں کو ناپسندیدہ طریقے سے بے پردہ کر لیا کرتے تھے۔ اور ان کو کبھی سیدھا لٹا کر، کبھی الٹا لٹا کر، کبھی اگلی جانب سے اور کبھی پچھلی جانب سے شرمگاہ سے لذت حاصل کرتے تھے۔ جب مکہ کے لوگ ہجرت کر کے مدینہ آئے تو ان میں سے ایک مرد کی ایک انصاری خاتون سے شادی ہو گئی، اس کے شوہر نے اپنے اسی طریقہ سے عورت سے مزہ لینا چاہا، تو اس عورت نے منع کر دیا اور بولی: ہمارے قبیلے میں عورتوں کے ساتھ صرف ایک ہی طریقے سے ہمبستری کی جاتی ہے۔ اس لیے ہمارے طریقہ کے مطابق ہمبستری کرنی ہے تو کرو ورنہ مجھے چھوڑ دو۔ یہاں تک کہ میں اپنے معاملہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لوں۔ یہ بات جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: (نِسَآؤُکُمْ حَرْثٌ لَّکُمْفَاْتُوْا حَرْثَکُمْ اَنّٰی شِئْتُمْ) (البقرۃ: 223) ” تمہاری عورتیں تمہارے لیے کھیتیاں ہیں تو آؤ اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو “۔ (یعنی ان کے آگے سے یا پیچھے سے یا لٹا کر لیکن بہرحال وطی اس مقام سے کرو جہاں سے بچہ پیدا ہوتا ہے۔) ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا، جبکہ شیخین نے اس باب میں محمد بن المنکدر کے حوالے سے جابر کی روایت نقل کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2827]