المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
44. حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ
بیوی پر شوہر کا حق
حدیث نمبر: 2803
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن المُغيرة السُّكّري بهَمَذان، حدثنا القاسم بن الحَكَم العُرَني، حدثنا سليمان بن داود اليَمَامي، عن يحيى بن أبي كثير، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة، قال: جاءت امرأةٌ إلى رسول الله ﷺ، فقالت: يا رسول الله، أنا فلانةُ بنت فلانٍ، قال:"قد عرفتُكِ، فما حاجتُك؟" قالت: حاجتي إلى ابن عمِّي فلانٍ العابِد، قال رسول الله ﷺ:"قد عرفتُه" قالت: يَخطُبني، فأخبِرْني ما حقُّ الزوج على الزوجةِ، فإن كان شيئًا أُطيقُه تزوّجتُه، وإن لم أُطِقْ لا أتزوّج، قال:"مِن حقِّ الزوج على الزوجةِ أن لو سالَ مَنْخِراهُ دمًا وقَيْحًا وصَديدًا فلَحِسَتْه بلسانها، ما أدَّت حقَّه، لو كانَ ينبغي لبشرٍ أن يَسجُدَ لبشرٍ، لأمرتُ المرأةَ أن تَسجُدَ لزوجِها إذا دخل عليها، لِمَا فضَّله اللهُ عليها"، قالت: والذي بعثك بالحقّ لا أتزوّجُ ما بقِيتُ في الدنيا (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2768 - بل منكر وسليمان واه والقاسم صدوق تكلم فيه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2768 - بل منكر وسليمان واه والقاسم صدوق تكلم فيه
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئی اور اپنا تعارف کروایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تجھے پہچان لیا ہے۔ تو کس کام سے آئی ہے؟ اس نے کہا: میں اپنے فلاں چچازاد بھائی جو کہ عبادت گزار ہے کے سلسلے میں بات کرنے آئی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس کو جانتا ہوں۔ اس خاتون نے کہا: مجھے اس نے پیغام نکاح بھیجا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بتایئے کہ بیوی پر شوہر کے کیا حقوق ہیں؟ کیونکہ اگر میرے اندر ان کی استطاعت ہے، تو میں شادی کروں ورنہ رہنے دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شوہر کے بیوی پر حقوق میں سے یہ بھی ہے کہ اگر اس کی رگوں سے خون بہہ رہا ہو، پیپ اور پانی بہہ رہا ہو اور وہ اپنی زبان کے ساتھ اسے چاٹے تب بھی اس کا حق ادا نہیں ہو سکتا۔ اگر کسی انسان کے لیے انسان کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ جب اس کا شوہر اس کے پاس آئے تو وہ اس کو سجدہ کرے کیونکہ خود اللہ نے شوہر کو عورت پر فضیلت دی ہے۔ (یہ سن کر) وہ عورت بولی: اس ذات کی قسم! جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق دے کر بھیجا ہے۔ میں تمام زندگی شادی نہیں کروں گی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2803]
حدیث نمبر: 2804
أخبرني أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا بِشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن يحيى بن سعيد، عن بُشَير بن يَسار، عن حُصين بن مِحْصَن قال: حدثتني عمّتي، قالت: أتيتُ النبي ﷺ في بعض الحاجة، فقال:"أيْ هذه، أذاتُ بَعْلٍ أنتِ؟" قلت: نعم، قال:"كيف أنتِ له؟" قالت: ما آلُوه إلّا ما عَجَزْتُ عنه، قال:"فأين أنتِ منه، فإنما هو جَنّتُكِ ونارُكِ" (1) . هكذا رواه مالك بن أنس، وحماد بن زيد، والدَّرَاوردي (2) ، عن يحيى بن سعيد، وهو صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2769 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2769 - صحيح
سیدنا حصین بن محصن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری پھوپھی نے مجھے بتایا کہ میں کسی کام سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اری! تو شادی شدہ ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرا اپنے شوہر کے ساتھ رویہ کیسا ہے؟ میں نے کہا: میں اس کی خدمت میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتی۔ سوائے ایسے کام کے جس سے میں عاجز ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اس کی خدمت کا حق ادا کر بھی نہیں سکتی؟ وہ تیری جنت بھی ہے اور تیری دوزخ بھی۔ ٭٭ اس حدیث کو مالک بن انس اور حماد دراوردی نے یحیی بن سعید سے روایت کیا ہے۔ اور یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2804]
حدیث نمبر: 2805
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب وأبو عبد الله علي بن عبد الله الحَكِيمي، قالا: حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا بِشر بن عمر الزَّهْراني، حدثنا شعيب بن رُزَيق الطائفي، حدثنا عطاء الخُراساني، عن مالك بن يُخَامر السَّكْسَكي، عن معاذ بن جبل، عن رسول الله ﷺ، قال:"لا يَحِلُّ لامرأةٍ تُؤمن بالله واليوم الآخر أن تأذَنَ في بيت زوجها وهو كارِهٌ، ولا تَخرُجَ وهو كارِهٌ، ولا تُطيعَ فيه أحدًا، ولا تُخَشِّنَ بصَدْرِه، ولا تعتزلَ فِراشَه، ولا تُصَرِّبَهُ (1) ، فإن كان هو أظلمَ، فلتأتِه حتى تُرضيَه، فإن كان هو قَبِلَ منها، فبِها ونِعْمَتْ، وقَبِلَ اللهُ عُذْرَها وأفْلَجَ حُجَّتَها، ولا إثمَ عليها، وإن هو أَبَى يَرضى عنها، فقد أبلغَتْ عند الله عُذْرَها" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2770 - بل منكر وإسناده منقطع
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2770 - بل منكر وإسناده منقطع
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو عورت اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہے، اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ: (1) شوہر کے گھر میں ایسے کسی آدمی کو داخل ہونے کی اجازت دے، جس کا گھر میں آنا شوہر کو ناگوار ہے۔ (2) شوہر کی ناراضگی کے عالم میں اس کے گھر سے باہر نکلنے۔ (3) شوہر کی مخالفت میں کسی کی بھی بات مانے۔ (4) اپنے دل میں اس کے متعلق نفرت رکھے۔ (5) اس کے بستر سے الگ ہو۔ (6) اس کو مارے۔ (7) اور اگر زیادتی شوہر کی جانب سے ہو تو بھی وہ خود اس کے پاس آ کر اس کو راضی کرے۔ اگر وہ (شوہر) اس کی معذرت قبول کرے گا تو ٹھیک ہے اور عورت کو انعام ملے گا اور اللہ تعالیٰ اس کا عذر قبول کرے گا اور اس کی حجت کامیاب ہو گی اور اگر وہ راضی نہیں ہو گا تو اللہ کی بارگاہ میں اس کا عذر بہرحال قابل قبول ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2805]
45. لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى امْرَأَةٍ لَا تَشْكَرُ لِزَوْجِهَا
اللہ اس عورت کی طرف نہیں دیکھتا جو اپنے شوہر کی ناشکری کرے
حدیث نمبر: 2806
حدثنا بكر بن محمد بن حَمْدان المروَزي، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا شاذُّ بن فَيّاض، حدثنا عمر بن إبراهيم، عن قَتَادة، عن سعيد بن المسيّب، عن عبد الله بن عمرو، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لا يَنظُرُ اللهُ إلى امرأةٍ لا تَشكُرُ لِزوجها وهي لا تَستغني عنه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2771 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2771 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ ایسی عورت کی طرف نگاہ رحمت نہیں کرتا جو اپنے شوہر کی شکرگزار نہیں ہوتی حالانکہ شوہر کے بغیر اس کا گزارا نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2806]
46. النِّسَاءُ أَكْثَرُ أَهْلِ جَهَنَّمَ
عورتیں دوزخ میں زیادہ ہوں گی
حدیث نمبر: 2807
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا سفيان، عن منصور والأَعمش، عن ذَرٍّ. وأخبرنا عبد الله بن محمد بن موسى العَدْل - واللفظُ له - حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا يحيى بن المغيرة السَّعْدي، حدثنا جَرير، عن منصور، عن ذَرٍّ، عن وائل بن مَهَانة السَّعدي، عن عبد الله بن مسعود، قال: قال رسول الله ﷺ:"يا معشرَ النساء، تَصدَّقْنَ ولو من حُلِيِّكُنَّ، فإنكنَّ أكثرُ أهلِ جهنَّم"، فقالت امرأةٌ ليست من عِلْية النساء: وبِمَ يا رسول الله نحن أكثرُ أهل جهنّم؟ قال:"إنكن تُكثِرنَ اللَّعْن، وتَكفُرنَ العَشِيرَ. وما وُجِدَ من ناقصِ الدِّين والرأي أغْلبَ للرجال ذوي الأمر على أُمورهم، مِن النساء" قالوا: وما نَقْصُ دينِهنّ ورأيِهنّ؟ قال:"أمَّا نَقْصُ رأيهِن، فجُعلَت شهادةُ امرأتَين بشهادة رجلٍ، وأما نَقْصُ دينِهِنّ، فإنَّ إحداهن تقعُد ما شاء اللهُ من يومٍ وليلةٍ لا تَسجُدُ لله سجدةً" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2772 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2772 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عورتو! تم صدقہ کیا کرو اگرچہ اپنے زیورات سے ہی کرو کیونکہ تمہاری اکثریت جہنمی ہے۔ ایک خاتون جو کہ کسی بڑے خاندان کی بھی نہیں تھی۔ بولی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی کیا وجہ ہے کہ ہماری اکثریت جہنمی ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس لیے کہ تم اکثر لعن طعن کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو، دین اور رائے کے اعتبار سے مردوں کی بہ نسبت عورتیں زیادہ ناقص ہیں۔ (مرد اپنے امور میں حاکم ہے) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے دین اور عقل کا نقص کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کی عقل کا نقص تو یہ ہے کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر رکھی گئی ہے۔ اور ان کے دین کا نقص یہ ہے کہ یہ کئی دن ایسے گزارتی ہے کہ ان میں ایک سجدہ نہیں کر پاتی (ماہواری کے ایام میں)۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2807]
حدیث نمبر: 2808
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن يحيى بن أبي كثير، عن زيد بن سلّام، عن جدِّه، قال: كتب معاويةُ إلى عبد الرحمن بن شِبْل: أَنْ عَلِّمِ الناسَ ما سمعتَ من رسول الله ﷺ، فقال: إني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"إِنَّ الفُسّاق هم أهلُ النار" قالوا: يا رسول الله، ومَن الفُسّاق؟ قال:"النساءُ" قالوا: يا رسول الله، ألسنَ أمهاتِنا وبناتِنا وأخواتِنا؟ قال:"بلى، ولكنهنَّ إذا أُعطِينَ لم يَشكُرنَ، وإذا ابتُلِينَ لم يَصبِرنَ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2773 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2773 - على شرط مسلم
سیدنا زید بن سلام رضی اللہ عنہ اپنے دادا کا بیان نقل کرتے ہیں کہ معاویہ بن عبدالرحمن بن شبل کی طرف ایک مکتوب لکھا کہ لوگوں کو وہ تعلیم دے جو تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ عبدالرحمن نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: بے شک فساق جہنمی ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! فساق کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خواتین۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا وہ ہماری مائیں اور بہن بیٹیاں نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں۔ لیکن وہ عطیہ ملنے پر شکر ادا نہیں کرتیں اور جب ان پر کوئی آزمائش آتی ہے تو صبر نہیں کرتیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2808]
حدیث نمبر: 2809
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا بشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن الزُّهْري، عن عبيد الله بن عبد الله بن عمر، عن إياس بن عبد الله ابن أبي ذُباب، قال: قال رسول الله ﷺ:"لا تضرِبُوا إماءَ الله" فجاء عمرُ إلى النبي ﷺ، فقال: يا رسول الله، قد ذَئِرنَ النساءُ على أزواجهنّ، فأَذِنَ رسولُ الله ﷺ أن يَضربوهنّ، قال: فأطافَ بآل محمد ﷺ سبعون امرأةً، كلُّهن يشتَكين أزواجَهنَّ، فقال رسول الله ﷺ:"ليس (1) أولئك خِيارَكم" (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهد بإسناد صحيح عن أم كُلثوم بنت أبي بكر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2774 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2774 - صحيح
سیدنا ایاس بن عبداللہ بن ابی ذباب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کی باندیوں کو مت مارا کرو۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوئے: یا رسول اللہ! عورتیں، مردوں پر دلیر ہو گئی ہیں۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مارنے کی اجازت دے دی (ایاس) فرماتے ہیں: ستر عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہلِ خانہ کے پاس آئیں اور سب کی زبان پر اپنے شوہروں کی شکایات تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تم سے زیادہ نیک نہیں ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ سیدہ ام کلثوم بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے مروی درج ذیل حدیث، مذکورہ حدیث کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2809]
حدیث نمبر: 2810
أخبرَناه أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل السُّلمي، حدثنا سعيد بن كَثير بن عُفَير وسعيد بن أبي مريم، قالا: حدثنا الليث بن سعد، عن يحيى بن سعيد، عن حُميد بن نافع، عن أم كُلثوم بنت أبي بكر، قالت: كان الرجالُ نُهوا عن ضَرْب النساءِ، ثم شَكَوهُنَّ إِلى رسول الله ﷺ، فخلَّى بينهم وبين ضربِهنَّ (3) ، ثم قال:"لقد أطافَ الليلةَ بآل محمد ﷺ سبعونَ امرأةً كلُّهن قد ضُربتْ". قال يحيى: وحسبتُ أنَّ القاسم قال: ثم قيل لهم بعدُ:"ولن يَضربَ خِيارُكم" (1) .
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیٹی ام کلثوم رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: مردوں کو عورتوں کے مارنے سے منع کیا گیا تھا تو مردوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عورتوں کی شکایت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ممانعت ختم فرما دی پھر تقریباً ستر عورتیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہلِ خانہ کے پاس آئیں تمام کی تمام شوہروں کی ستم زدہ تھیں اور میرا گمان یہ ہے کہ قاسم نے کہا: پھر اس کے بعد ان کو کہا گیا: تمہیں نیک آدمی ہرگز نہیں مارے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2810]
47. ضَرْبُ عُنُقِ مَنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ
جو شخص اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کرے اس کی گردن مارنے کا حکم
حدیث نمبر: 2811
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان العامري، حدثنا يحيى بن فَصِيل، حدثنا الحسن بن صالح، عن السُّدِّي، عن عَدي بن ثابت، عن البراء بن عازب، قال: لَقِيتُ خالي ومعه الرايةُ، قلت: أين تريدُ؟ قال: بَعَثَني النبيُّ ﷺ إلى رجلٍ تَزوّج امرأةَ أبيه من بعدِه، فأمرني أن أضربَ عُنقَه (2)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شواهد عن عَدِيّ بن ثابت، وعن البراء مِن غير حديث عَدِيِّ بن ثابت:
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شواهد عن عَدِيّ بن ثابت، وعن البراء مِن غير حديث عَدِيِّ بن ثابت:
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے ماموں سے ملا، اس وقت ان کے پاس جھنڈا تھا۔ میں نے پوچھا: کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے شخص کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے والد کے فوت ہونے کے بعد اس کی بیوی سے نکاح کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کے قتل کا حکم دیا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اور عدی بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت میں، مذکورہ حدیث کی متعدد شاہد احادیث موجود ہیں۔ اور عدی بن ثابت رضی اللہ عنہ کی حدیث کے علاوہ براء سے بھی احادیث مروی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2811]
حدیث نمبر: 2812
أخبرَناه أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن الرَّبيع بن الرُّكَين بن الرَّبيع بن عُمَيلة، قال: سمعتُ عديّ بن ثابت يحدِّث عن البراء بن عازب، قال: مَرَّ بنا ناسٌ يَنطلِقون، فقلنا لهم: أين تَذهبُون؟ قالوا: بعثَنا رسولُ الله ﷺ إلى رجلٍ يأتي امرأةَ أبيه أن نَقتُلَه (1) . وأما حديث أبي الجَهْم عن البراء:
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس سے کچھ لوگ چلتے ہوئے جا رہے تھے، میں نے ان سے پوچھا: کہاں جا رہے ہو؟ انہوں نے جواباً کہا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے شخص کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کیا ہے ہم اس کو قتل کرنے جا رہے ہیں۔ براء رضی اللہ عنہ سے ابوالجہم کی روایت کردہ حدیث۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2812]